Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
✍️ نوٹ از مصنفہ
یہ کہانی ایک عام محبت کی کہانی نہیں ہے۔
اس میں رومانس بھی ہے، شدت بھی ہے، لیکن ساتھ ہی اندھیرا، انتقام اور وہ کرب بھی ہے جو دل کو چیر دیتا ہے۔
"زہرِ عشق" ان دلوں کے لیے نہیں جو صرف نرم اور خوشگوار انجام چاہتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ایک مختلف اور طاقتور کہانی پڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک مضبوط قاری ہیں....
تو پھر "زہرِ عشق" آپ کا امتحان ہوگا۔
🔥
عشق جب حد سے گزر جائے… تو زہر بن جاتا ہے۔
اور زہر… دلوں کو بھی زندہ دفن کر دیتا ہے۔
"زہرِ عشق"
جنون، درد اور انتقام کا آغاز ہے۔
زہرِ عشق
قسط 1
از منزہ نیاز
پورا آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا تھا۔ پانی کی موٹی بوندیں وین کی ونڈ اسکرین پر کسی پتھر کی طرح گر رہی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا جیسے رات کی سیاہی نے دنیا کی ساری روشنی نگل لی ہو۔ وین کا ٹائر کسی پتھر سے ٹکرایا اور ایک زور کا جھٹکا لگا۔ اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے تھے۔ جھٹکا لگنے سے اس کا سر وین کی دیوار سے جا لگا۔ اس کے منہ پر بھی ٹیپ لگی تھی۔ تبھی آسمان پر زوردار بجلی چمکی اور اس کا خوبصورت چہرہ ہلکی سی روشنی میں تھوڑا واضح ہوا۔ اس کی سونے جیسی گندمی رنگت، کالی آنکھیں، جو خوف کی وجہ سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے لمبے بال جو کمر سے بھی نیچے تک تھے وہ کھلے اور بکھرے ہوئے تھے۔ کپڑوں پر جا بجا مٹی کے نشان تھے۔ باہر ہوا اور تیز ہو گئی تھی جیسے طوفان آگیا ہو۔ اس نے اپنے ہاتھ کھولنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی۔ تھک ہار کر وہ فرش پر ہی لیٹ گئی۔ دو خاموش آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر بہہ گئے۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا تھا۔ بس اتنا پتہ تھا کہ یہ رات اس کی زندگی کی سب سے خوفناک رات تھی۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ دو آدمی باہر نکلے اور اسے گھسیٹ کر باہر نکالا۔ بارش اسے تیزی سے بھگونے لگی۔ دونوں آدمی اسے مضبوطی سے پکڑے ایک حویلی جیسے محل کے بیسٹمنٹ میں لے گئے۔ نیچے، بہت نیچے۔ جہاں روشنی کا ہلکا سا ذرہ تک نہ تھا۔ انہوں نے اسے اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔ اس کے پیروں میں جوتا تک نہیں تھا۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں مگر کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ اس کے گیلے بال چہرے سے چپک چکے تھے۔ پانی کی بوندیں اس کے لمبے بالوں سے ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ ابھی اس نے ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ اسے بھاری قدموں کی آوازیں آنے لگیں ۔قریب۔۔۔۔بہت قریب، اور پھر دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ وہ دو تھے۔ ایک نے تیزی سے کمرہ روشن کیا اور دوسرا؟ وہ آنکھوں میں زہر اور دہشت لیے اس کی طرف بڑھا۔ لمبا سا، سیاہ کپڑوں میں ملبوس، سیاہ گھنے بال جو اس کی گردن کو پوری طرح ڈھکے ہوئے تھے۔ اس کا چہرہ سرد اور سپاٹ تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا بس سیدھا اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ ایک جھٹکے سے اس نے اس کے لبوں پر چپکی ٹیپ کھینچ کر اتار دی۔ وہ تڑپ کر پیچھے ہوئی۔
" کون ہو تم؟ مجھے یہاں کیوں بند کیا گیا ہے؟۔"
" جتنا جاننا ضروری ہوگا اتنا بتا دیا جائے گا۔"
سامنے والی کی آنکھوں میں ٹھنڈک، اور لہجہ ٹھہرا ہوا تھا۔
" میں کسی سے نہیں ڈرتی بتاؤں مجھے کون ہو تم جواب دو؟"
وہ غصے سے بولی وہ ایک قدم قریب آیا۔
" ڈر تو تب لگے گا جب میں تمہیں دکھاؤں گا۔۔۔ ابھی تو یہ سب ایک شروعات ہے۔"
وہ حیران ہوئی اور گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔
" میں کسی کی دشمن نہیں ہوں۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔"
اس آدمی نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی اور اپنے ساتھ کھڑے شخص کو اشارہ کیا۔ وہ شخص آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ کھول دیے۔
" اگر کوئی ہوشیاری کرے تو گولی مار دینا۔"
اس لڑکی کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ دونوں بنا کچھ اور کہے باہر نکل گئے اور دروازہ بند ہو گیا۔
" نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرو، دروازہ کھولو، مجھے جانے دو، میں نے کچھ نہیں کیا۔"
وہ حواس باختہ سی دروازہ پیٹنے لگی۔ اس کی صدائیں ٹھنڈی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔ بیسمنٹ کا اندھیرا اسے نگلنے لگا تھا۔ خوف سے اس کا جسم کانپنے لگا۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو اس کی صدائیں سنتا۔ روتے بلکتے، چیختے چلاتے وہ ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئی۔ گھٹنوں کے گرد دونوں بازو لپیٹے اس نے اپنا سر رکھا اور ہچکیوں سے رونے لگی۔
☆☆☆
کالج انٹرنس۔
وقت 45: 8 AM
اس نے گھڑی پر نظر ڈالی پھر گیٹ کی جانب دیکھا۔
" یہ لڑکی تو کبھی وقت پر نہیں آئے گی۔ عجیب مثال ہے لیٹ لطیفی کی۔"
وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔ پانچ منٹ مزید گزرے اس کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے فون بیگ سے نکال کر کال ملائی۔ پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔ مگر کوئی آواز نہیں آئی بس،
ہو ہااااااا۔۔۔۔۔۔
" روحی کی بچی تو ابھی تک بیڈ پر پڑی ہے۔" لایان نے چڑ کر کہا۔
" ابے نہیں یار بس دو منٹ رک، ایک رکشے والا آنکھ مار کر نکل گیا تھا اب دوسرا ڈھونڈ رہی ہوں۔"
دوسری طرف معصومیت سے کہا گیا۔
" اس نے تجھے آنکھ نہیں ماری ہوگی ضرور تو نے ہی چھیڑا ہوگا۔"
لایان ہنسی۔
" کیا کہا میں نے چھیڑا ہوگا؟ ابے کیوں میرے کریکٹر کی واٹ لگا رہی ہے۔ اچھا رک میں بس پانچ منٹ میں آئی۔"
مزید دس منٹ انتظار کرنے کے بعد روحا اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ اس کے منہ میں چپس کا پیکٹ، ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل، دوسرے میں فون اور بیگ کندھے سے لٹک رہا تھا۔ وہ تقریبا دوڑتی ہوئی آئی۔ لایان نے مسکراتے ہوئے دونوں بازو کھول دیے۔ وہ ٹھا کر کے اس سے لپٹ گئی۔
" بڑی جلدی آگئی۔۔۔ہاں؟"
لایان نے پانی کی بوتل لے لی۔
" ہاں میں نے سوچا تجھے زیادہ انتظار نہیں کرواتی۔"
روحا نے دانت نکالے۔
" چل جلدی کر پہلے ہی لیٹ ہو رہے ہیں۔"
لایان نے اس کا بازو کھینچا۔
" ہاں ہاں چل۔"
وہ دونوں بھاگ کر کلاس روم میں جا گھسیں۔
" یار یہ کالج اتنا دور کیوں ہے؟ کیا کوئی دشمنی ہے اس کی ہم سے؟"
اس کے ساتھ والی کرسی پر تقریبا گرتے روحا بولی۔
" کالج کی دشمنی نہیں ہے تیری نیند کی ہے۔ الارم بجتا ہوگا اور تو اسے سائلنٹ پہ ڈال کر خود سنوز پہ چلی جاتی ہوگی۔"
لایان نے طنزیہ کہا۔
" میں تو الارم لگاتے ہی نہیں ہوں میں تو ماما کی چپل سے اٹھتی ہوں۔"
روحا زور سے ہنسی۔ لایان نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
" پلیز چپ کر جا۔"
روحا نے ناک چڑھائی اور چپس کا پیکٹ کھول لیا۔
" تو نے ناشتہ کیا تھا؟"
لایان نے گھور کر اس سے پوچھا۔
" میں نے تیری طرح بھوکا تھوڑی نہ مرنا ہے جو ناشتہ نہ کروں۔ یہ لے تو بھی کھا ورنہ بریک ٹائم مجھے تجھے کینٹین گھسیٹ کر لے جانا پڑے گا۔"
روحا نے آنکھ مار کر چپس اس کی طرف بڑھائے۔
" میں آج ناشتہ کر کے آئی ہوں۔"
لایان نے ایک چپس نکال کر منہ میں ڈالا۔ روحا نے آنکھیں پھاڑ کر اس کو دیکھا۔ پوری کلاس بھن بھن کر رہی تھی۔
" یا اللہ تیرا شکر ہے ورنہ میں تو سوچ رہی تھی تیرا وقت قریب ہے۔"
روحا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر مزید چپس ہوں میں ڈالے۔
" ٹینشن نہ لے۔ اتنی آسانی سے تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔"
لایان نے نوٹ بک نکالی۔
" وعدہ کر۔"
لایان نے مسکرا کر اس کو دیکھا پھر ہلکے سے اس کے بال کھینچے۔
" وعدہ۔"
روحا مسکرا دی۔ ابھی وہ مزید کچھ بولتی ٹیچر اندر داخل ہوئی۔ ان دونوں کے ساتھ پوری کلاس بھی چپ ہو گئی۔ مگر ان دونوں کی باتیں آنکھوں سے بھی جاری تھیں۔
☆☆☆
کمرے میں مکمل خاموشی چھائی تھی۔ ایک سناٹا، جو طاقتور اور خطرناک لوگوں کے آس پاس رہتا ہے، ہمیشہ۔۔۔۔۔
دور کہیں تیز دوڑنے کی آواز آرہی تھی۔ جیسے کوئی اپنے اندر کے شور سے بھاگ رہا ہو۔ اور کہیں کف آستین درست کرنے کی آہٹ تھی۔ جیسے کوئی اپنے غصے کو تہذیب میں لپیٹ رہا ہو۔
اس نے آئینے میں موجود اپنے عکس پر نظر ڈالی پھر موبائل کان سے لگایا۔ دوسری طرف شیشے کی دیواروں میں گھرا ایک جم، جہاں یحیی میر بنا کسی وقفے کے ٹریڈ مل پر دوڑ رہا تھا۔
اس کی سانسوں کی رفتار تیز اور چہرے پر پسینہ تھا، لیکن وہ بالکل نارمل تھا اس کے لیے یہ ساری تھکن ایک عبادت تھی۔
دوسری طرف زاویان زرقاد، جس کے چہرے پر وہی سرد سکون تھا جو لاشوں کے درمیان بھی موجود ہوتا ہے۔
" دس بجے کی میٹنگ ہے اور تو ابھی تک abs گن رہا ہے۔"
رسٹ واچ پر نظر ڈالتے زاویان نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔
" کم از کم میں گھڑی سے زیادہ زندہ لگتا ہوں۔"
یحیی ٹریڈ مل سے اترتا، ٹاول سے پسینہ پونچھتے طنزیہ لہجے میں بولا۔
" زندہ رہنے کا شوق تو تب بھی تھا جب تو لاسٹ شارٹ آؤٹ میں مجھے لیٹ کروانے والا تھا۔"
زاویان نے ابرو اٹھا کر اسی کے لہجے میں کہا۔
یحیی مسکرایا۔
" اور اگر تجھے مرنا ہوتا تو تو ہیرو کیسے کہلاتا؟"
اس کی آنکھوں میں چیلنج تھا۔
" میں ہیرو بننے نہیں آیا، مجھے ولن کہہ کے یاد رکھا جاتا ہے۔"
ٹائی درست کرتے زاویان نے ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
" پھر بھی اسپاٹ لائٹ تجھے ہی ملتی ہے۔۔۔ امیزنگ!"
یحیی نے ٹاول کندھے سے ہٹایا۔ اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی۔
" اسپاٹ لائٹ اسے ملتی ہے جو اندھیرے میں رہتا ہو، تو روشنیوں کا آدمی ہے یحیی!"
زاویان نے پرفیوم گردن پر سپرے کیا۔
" تو پھر دیکھ، روشنی کبھی کبھی اندھیروں کو کھا بھی جاتی ہے۔"
یحیی نے مزے سے کہا۔ زاویان نے ایک آخری نظر خود پر ڈالی اور دروازے کی طرف بڑھا۔
" تو پھر چلیں؟"
" بس پہنچنے والے ہیں۔"
یحیی نے شیشے کی دیوار میں اپنا عکس دیکھا۔ بالوں میں ہاتھ پھیرا اور مسکرا کر پلٹ گیا۔
☆☆☆
" لالی تو کر سکتی ہے۔"
روحا چلائی۔ لایان نے لمحے بھر کو رک کر اس کی سمت دیکھا۔ وہ گراؤنڈ کے باہر ہجوم کے ساتھ کھڑی زور زور سے چلا رہی تھی۔
اس کے پاس سے بھاگتی لڑکی جیسے ہی اس سے ٹکرانے لگی وہ پھرتی سے سائیڈ پر ہوئی۔ کیپر لڑکی نے بال پوری طاقت سے مخالف سمت پھینکی۔ گراؤنڈ میں موجود دونوں ٹیموں نے بال کی طرف دوڑ لگا دی۔ سب سے آگے لایان کی ٹیم کی رنر الماس تھی۔ بال اب اس کے ہاتھ میں تھی گول صرف دو لڑکیاں کر سکتی تھیں ۔
لایان اور الماس۔۔۔
" الماس یس۔۔۔"
لایان تیزی سے اس کے پاس آئی۔ الماس نے بال اس کی طرف پھینک دی۔ پوری ٹیم ان کے پیچھے، اور وہ دونوں سب سے آگے تھیں۔ سارے اسٹوڈنٹس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔
" لایان گول کر دے۔"
روحا پھر سے چلائی۔ اس کی آواز پورے گراؤنڈ میں گونج گئی۔ لایان گول پول کے قریب ہوتی گئی۔ اس نے مخالف ٹیم کی کیپر کو دیکھا جس کا قد چھوٹا تھا۔ اس نے بھاگتے ہوئے نشانہ باندھا۔ بس ایک سیکنڈ میں۔۔۔اور پھر پول کے کونے کی طرف بال پھینک دی۔ کیپر لڑکی اچھلی، مگر بال اس کے اوپر سے ہوتی پول کے پار جا گری۔ پورا ہجوم چلا اٹھا۔ الماس بھاگتی ہوئی لایان سے لپٹ گئی۔
" کمال کر دیا۔"
لایان کا سانس پھول گیا تھا۔ مگر وہ ہنس رہی تھی۔ اس نے ہجوم کی جانب نظریں دوڑائیں۔ روحا کو تلاشنا چاہا۔ مگر وہ کہیں نہیں تھی۔
" یہ کہاں گئی؟"
دونوں ٹیموں نے پھر سے پوزیشنیں سنبھال لیں اور دوسرا گول بھی لایان کے ہاتھوں ہوا۔
پہلے ہاف میں ان کے دو سکور، جبکہ مخالف ٹیم کے صفر۔ ایمپائر نے وسل بجا کر پہلا ہاف ختم کر دیا۔ لایان جب ٹیم کے ساتھ کوچ کے پاس پہنچی روحا اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔
" یہ لو۔"
بوتل اس کی طرف بڑھاتے روحا تیز سانسوں کے ساتھ بولی۔ شاید وہ بھاگ کر پانی لائی تھی۔ لایان نے پانی پیا پھر اس کا گال چوما۔
" تھینک یو چڑیل۔۔۔"
دو منٹ گزرے اور بریک ٹائم ختم۔
" جیت کر آنا۔"
لایان کی پیٹھ پر روحا کی آواز گونجی۔
" تیری آواز سنتی رہی تو دو کیا سو گول کر دوں۔"
وہ ہنستے ہوئے بولی اور گراؤنڈ کی طرف بڑھ گئی۔ روحا گہری سانس بھر کر پلاسٹک چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
" بھاگ یہ لوگ رہے ہیں بھوک مجھے لگ رہی ہے۔۔۔۔عجیب!"
روحا نے گھور کر ان کو دیکھا جو پھر سے گیم شروع کر چکی تھیں۔
یہ ہینڈ بال کا فائنل تھا۔ دوسرے ہاف میں دس منٹ تک دونوں ٹیموں میں سے کوئی گول نہ کر سکا۔ لایان اور الماس کو مخالف ٹیم کی دو دو لڑکیوں نے کور کر رکھا تھا اور دونوں ہی گول نہیں کر پا رہی تھیں۔
" اب کیا کریں یار؟"
الماس اس کے پاس آ کر بولی۔
" بس ان کا گول نہیں ہونے دو۔"
لایان نے کہا اور بال پکڑ لی اور پھر دونوں ہی پورا وقت بال سے کھیلتی رہیں، نہ خود گول کیا نہ دوسری ٹیم کو کرنے دیا۔ مخالف ٹیم کا کوچ اپنی ٹیم پر بری طرح گرج رہا تھا۔ لڑکیاں پاگل ہونے لگیں۔ دوسرا ہاف ختم ہونے میں بس ایک منٹ بچا تھا۔ اچانک دو لڑکیاں تیزی سے بھاگتی ہوئی آئیں، بال لایان کے ہاتھ میں تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ اس سے بال جھپٹنے کی کوشش کی مگر لایان ان کو چکما دیتی تیزی سے دوسری طرف نکل گئی۔ تب ہی ایمپائر نے سیٹی بجا کر گیم روک دی۔ پورا کالج ایک ساتھ چیخ اٹھا۔ لایان کی ٹیم جیت چکی تھی اچانک کسی نے اس کو دھکا دے دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل گری۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا سامنے مخالف ٹیم کی کھلاڑی کھڑی تھی جو غصے سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ لایان دھیرے سے کھڑی ہوئی، ہاتھ جھاڑے اور اس کے بالکل سامنے کھڑی ہوگئی۔ روحا تیزی سے ان کے پاس آئی۔
" لالی تو ٹھیک تو ہے؟ چوٹ تو نہیں لگی؟"
اس نے بے قراری سے پوچھا، پھر قہر بار نظروں سے دوسری لڑکی کو دیکھا۔
" میں بالکل ٹھیک ہوں مگر کسی اور کو چوٹ لگی ہے اور بہت گہری لگی ہے۔"
لایان کے ہونٹوں پر تیکھی سی مسکراہٹ تھی۔
" تو خود کو بہت بڑی پلیئر سمجھتی ہے ہاں۔۔۔؟"
اس لڑکی نے لایان کو دھکا دیا تب ہی بالکل اچانک روحا کا ہاتھ گھوما اور ایک زور کا چاٹا اس لڑکی کے گال پر پڑا۔
" اب اگر تو نے میری دوست کو ہاتھ بھی لگایا تو ہاتھ توڑ دوں گی تیرا۔"
روحا بری طرح گرجی۔ لایان نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑا۔
" تیری اتنی ہمت۔۔۔"
وہ لڑکی اس کی طرف بڑھنے لگی مگر ٹیچرز اور کوچ وہاں آگئے۔ اگر اگلے دس سیکنڈ تک ان کو نہ روکا جاتا تو بات ہاتا پائی تک جا پہنچتی۔ مخالف ٹیم کی لڑکی کو اچھے کھلاڑی کے اوصاف یاد کروائے گئے اور روحا کو وارننگ دے کر لایان کے ساتھ بھیج دیا گیا۔
" اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمہیں دھکا دینے کی۔ تم نے اس کا منہ کیوں نہیں توڑا؟"
کینٹین میں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔ روحا نے اسے غصے بھری ناراضگی سے دیکھا۔ لایان نے ہاتھ کے اشارے سے کینٹین کے لڑکے کو تین برگر اور دو کولڈ ڈرنکس لانے کا کہا، پھر دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے آگے ہوئی۔ وہ اس وقت کٹ میں تھی۔
" توڑ تو دیا تھا اس کو، بنا اسے چھوئے، ہرا کر۔۔۔"
لایان نے مسکرا کر کہا روحا بدستور اسے گھورتی رہی۔ لایان پھر بھی مسکراتی رہی۔ دونوں کچھ لمحے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتی رہیں پھر یک دم ہنس پڑیں۔
" اوکے اوکے۔۔"
روحا نے ہنسی روک کر اس کو دیکھا۔ کینٹین کے لڑکے نے ٹرے روحا کی طرف بڑھائی۔ جیسے ہی اس نے پکڑی پیچھے کسی نے دھکا دے دیا۔ ٹرے گرتے گرتے بچی۔
" ارے ٹرے بھی تمہاری اوور لوڈڈ ہے، سنبھال کے رکھنا گر جاؤ گی۔"
ایک لڑکا مسکراتا ہوا اس کے سامنے آیا۔ اس کے چہرے پر شرارت تھی۔
" اوورلوڈڈ نہیں فلی لوڈڈ، جیسے تیری بکواس"
روحا غصے سے بولی۔ وہ لڑکا پھر بھی مسکراتا رہا۔
" ویسے تم دونوں بھی عجیب ہی ہو، ایک کھاتی نہیں اور کھیلتی اچھا ہے۔ دوسرا کھاتی ہے اور ہاتھ بھی چلاتی ہے، انٹرسٹنگ!"
وہ لڑکا لایان کی طرف آنکھ مارتے بولا۔ لایان کا چہرہ سرخ ہوا۔
" اور تمہارے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ یا بس اپنی بکواس فری میں سناتے ہو۔"
روحا بھڑک اٹھی۔ اس لڑکے نے دونوں ہاتھ پاکٹس میں ڈالے پھر مسکرایا۔ اس کے دوست اس کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔
" تم لوگ نہیں سمجھو گی، زرقاد بوائز کو صرف دو چیزیں پسند ہیں، ڈینجر اور ڈرامہ"
پھر وہ اپنے دوستوں کی جانب پلٹا۔
" کم آن بوائز، اب ہماری باری ہے۔"
لایان نے چونک کر اس کو دیکھا اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔ اس لڑکے کو اس نے پہلے بھی کہیں دیکھا تھا۔ کہاں؟ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی اور پھر اسے وہ رات یاد آگئی جب وہ اپنی امی کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی۔ ایک بائیک کا لاؤڈ سکریچنگ سنائی دیا۔ وہ لڑکا ایک اسپورٹس بائیک پر تھا۔ اس کے دوست بھی اس کے ساتھ تھے۔ میوزک فل بلاسٹ پر تھا۔
" ان لوگوں کو تو دیکھو ذرا جو تمیز ہو ان کو۔"
اس کی امی نے ناراضگی بھری نظر ان لڑکوں پر ڈالی۔
" بےکار کا شو آف، دوسروں کو تکلیف دے کر کول بننے والے۔"
لایان نے غصے سے ان کو دیکھا۔ وہ لڑکا مسکرا رہا تھا، پھر بے اختیار اس کی نظر لایان پر پڑی۔ اس نے آنکھ ماری اور بائیک اڑا لے گیا۔
"اوہ! توبہ۔۔۔ یہ وہی ہے۔ زرقاد ہو یا شیطان، تب بھی تمیز نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے۔"
لایان نے اس لڑکے کو دور سے دیکھتے چڑ کر کہا۔
" کیوں کیا ہوا؟ کیا تم اس کو جانتی ہو؟"
برگر کا بائٹ لیتے روحا نے پوچھا۔ لایان نے اثبات میں سر ہلاتے اسے سب کچھ بتا دیا۔
" رایان۔"
دونوں نے بیک وقت اس لڑکے کی جانب دیکھا۔ کسی نے اس لڑکے کو آواز دی۔ وہ کینٹین سے باہر نکل گیا۔
" رایان نام ہے!"
روحا نے ایک اور بائٹ لی۔ لایان نے اپنا برگر اٹھا لیا۔
" یہ تیرا ہے جلدی ختم کر، کالج کے بعد کہیں باہر چلتے ہیں۔"
لایان نے تیسرے برگر کی جانب اشارہ کیا اور کولڈ ڈرنک منہ سے لگا لی۔
☆☆☆
آئینے میں ایک راز ہے۔۔۔
کمرے میں مکمل روشنی تھی۔ سفید پردوں کے پار سورج کی روشنی چھن چھن کر آ رہی تھی۔ اس خوبصورت سے بیڈ روم کی ایک سائیڈ پر ایک خوبصورت سا ڈریسنگ ٹیبل رکھا تھا۔ اس کے دائیں گال پر ہلکا سا نیل کا نشان تھا۔ اس کے خوبصورت لمبے بال کمر پر گر رہے تھے اور اس کی خوبصورت آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔ دکھ یا درد کی؟
مگر۔۔۔۔۔
اس نے ایک سرخ میوڈ گلوز لبوں پر لگائی۔ آنکھوں پر آئی لائنر۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ سامنے والا دیکھتا تو پلک جھپکنا بھول جاتا۔ اس کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے اسے کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ درد میں بھی مسکرانا جانتی تھی۔
" میں ہوں ایشل رحیم، لوگ مجھے معصوم سمجھتے ہیں اور یہی میری سب سے بڑی طاقت ہے۔"
آئینے میں دیکھتے وہ دھیمی سرگوشی میں بولی۔ اس نے ایک آخری نظر خود پر ڈالی اور بالوں کو نرم ہاتھوں سے ایک طرف جھٹک دیا۔ وہ بزنس میٹنگ کے لیے تیار تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا موبائل وائبریٹ ہوا۔ اس نے سرسری سی نگاہ ڈالی۔ اس کے اسکرٹری کا میسج تھا۔ اس نے بیزاری سے چہرہ دوسری طرف موڑا۔ ہائی ہلز پہن کر اس نے اپنا پرس اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
" She's the softest sin and the most dangerous one "
☆☆☆
وہ اسلام آباد کی بلڈنگ کا ایک ہائی پروفائل پرائیویٹ ٹاپ فلور میٹنگ روم تھا۔ روم کے دیواریں گلاس سے بنی تھیں۔ سیاہ اور گرے انٹیریئر، میز پر کانفیڈینئیل فائلز، لیگل ڈوکیومنٹس اور سیکیورٹی ایڈوائزرز کی رپورٹس، یحیی اس وقت گلاس ڈور کے پاس کھڑا شہر دیکھ رہا تھا۔ اس کا انداز الرٹ تھا۔ زاویان چیئر پر بیٹھا ایک فائل کا سرسری جائزہ لے رہا تھا اور تب دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ دھیرے مگر پر اعتماد سے قدم اٹھاتا۔
" مجھے لگا زرقاد ایمپائر میں بزنس خود بولتا ہے لیکن یہاں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ڈیلز اب صرف زبان سے ہی طے کرنی پڑے گیں۔"
اذان شاہ ویر زاویان کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا۔ زاویان نے فائل واپس میز پر پھینک دی۔
" ڈیلز تو ہمیشہ زبان سے ہی طے ہوتی ہیں مگر کیا ہے کہ کچھ لوگ کبھی کبھی اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔"
یحیی نے چہرہ موڑ کا ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ زاویان نے یحیی کو آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر اذان کو دیکھا۔
" اذان شاہ ویر! تم جانتے ہو کہ ہم کس لیے ملے ہیں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں اسے ضائع کرتا پھروں۔"
زاویان کا لہجہ نرم مگر ٹھنڈا تھا۔
" ٹھیک ہے پھر سیدھی بات کرتے ہیں۔"
اذان نے سامنے رکھی فائلز کی طرف اشارہ کیا۔
" تمہارے پورٹ کے کنٹینر کلیئرنس میں رکاوٹ آ رہی ہے اور تمہیں لگتا ہے اس میں میرے آدمی انوالو ہیں۔"
" ہمیں لگتا نہیں، ہمیں یقین ہے۔"
یحیی نے طنزیہ کہا، تبھی دروازہ دوبارہ کھلا اور ایشل رحیم اندر داخل ہوئی۔ سفید سوٹ اور معصوم چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔ پہلی نظر ہی اس کی زاویان پر پڑی تھی۔ جو ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد دوبارہ اذان کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ جبکہ اذان کی نظریں ایشل پر ٹک گئی تھیں۔
" نمبرز خاص ہیں مگر نیت بھی خاص ہونی چاہیے۔"
وہ ان کے قریب آتے ہوئے بولی۔
" لو جی آگیا دوسرا شیطان۔"
یحیی اسے دیکھتے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ اذان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی پھر اس نے زاویان کی طرف دیکھا۔ ایشل نے کلپ بورڈ اٹھایا۔
"Acording to reports your medical shipment have been delayed twice۔۔۔۔
جبکہ پورٹس پر کسی کی مرضی کے بنا ایسا نہیں ہوتا۔"
اصل میں یہ لیگل بزنس کے کور پر ڈرگ کمپاؤنڈز کا اللیگل ٹریڈ تھا یعنی لیگل ایکسپورٹ کا دکھاوا۔ حقیقت یہ تھی کہ یہاں مافیا اپنی سپلائی چین چلا رہے ہیں۔
" مرضی بدلنے والے کبھی بھی ہمیشہ چھپ کر نہیں رہتے کسی نہ کسی دن ان کی گردن سامنے آ ہی جاتی ہے۔ کیوں اذان شاہ ویر۔؟"
زاویان نے ٹھنڈی مگر تیز نظر اس پر ڈالی۔
" کچھ زیادہ ہی میڈیکل نالج لے آئے زاویان زرقاد، یا پھر تم نے زہر کا ذائقہ بدل دیا ہے۔"
" ذائقہ بدلنے والے زیادہ دن مارکیٹ میں نہیں ٹکتے۔"
یحیی کہاں باز آنے والا تھا۔
" یہ سسٹم سیف ڈوکیومنٹس اور سگنیچر سے نہیں چلتا، کبھی کبھی چہرے بھی بدلنے پڑتے ہیں۔"
زاویان نے گہری سانس اندر ہی اندر بھری پھر آگے کی طرف ہلکا سا جھکا۔ اذان تیز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جبکہ یحیی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
" اور کبھی کبھی سسٹم کو ہلانے کے لیے صرف ایک وجہ چاہیے ہوتی ہے اور مجھے پتہ ہے وہ وجہ جلد یا بدیر تم لوگ مجھے دینے والے ہو۔"
ہوا میں آکسیجن کی یک دم ہی کمی ہونے لگی تھی۔ ایشل کی نظر زاویان پر جمی تھیں جو اسے مکمل طور پر نظر انداز کر رہا تھا۔
" مجھے لگتا ہے میٹنگ آفیشلی ختم ہو چکی ہے یا پھر آنکھوں سے ہی پاور گیم چلے گا۔"
تھوک نگل کر ایشل نے باری باری دونوں کو دیکھا۔
" گیم کبھی ختم نہیں ہوتی بس پہچان ضرور بدل جاتی ہے۔"
فائل بند کرتے زاویان کھڑا ہوا۔ یحیی پہلے ہی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
☆☆☆
This is my WhatsApp channel
https://whatsapp.com/channel/0029VawyCM0GehEGCClagj1A
اسلام آباد کا ایف 7 سیکٹر۔ کوہسار مارکیٹ کے قریب واقعہ کالج ایریا۔
یحیی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا سگنل کھلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھا زاویان اپنے موبائل پر کسی سے محو گفتگو تھا۔ موسم کافی ابر آلود ہو رہا تھا۔ اگلے ہی پل بارش شروع ہو گئی۔ اسلام آباد کی سڑکیں بارش کے قطروں سے لمحہ با لمحہ بھیگنے لگیں۔ ہوا میں خنکی اور بھیگتی زمین کی خوشبو چہار سو پھیلنے لگی، اچانک ہی ٹریفک جام ہوا تھا۔ راستہ بھیڑ بھاڑ سے بھر گیا۔ یحیی بارش کو دیکھے گیا۔ اس کا ذہن صبح ہونے والی میٹنگ میں الجھا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ کافی سخت نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس بھری پھر زاویان کی جانب دیکھا جو فون پر سختی سے کسی کو احکامات دے رہا تھا۔ اس نے دوبارہ ونڈ اسکرین سے باہر نظریں موڑ لیں۔ اس کے آگے اور پیچھے گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگ چکی تھی۔ اسے کوفت ہونے لگی۔ اچانک ہی دو لڑکیاں اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گئیں۔ پہلی نظر ہی اس لڑکی پر پڑی تھی جس کے ایک ہاتھ میں چاکلیٹ دوسرے ہاتھ میں دوسری لڑکی کا ہاتھ تھا۔ وہ دونوں بارش میں بھیگتی ہنستی کھلکھلاتی آگے بڑھ رہی تھیں۔
" روحا۔۔۔۔"
دوسری لڑکی نے چاکلیٹ والی لڑکی کو مخاطب کیا۔ دونوں کے یونیفارم بارش میں بھیگ چکے تھے۔ یقینا دونوں کالج سے آ رہی تھیں۔ ان کے پیچھے دور کہیں مار گلہ کی پہاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ یحیی بے اختیار ہی انہیں دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہوتیں، وہ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کے قدم خود بخود ان کی طرف بڑھنے لگے۔ وہ دونوں سڑک کے کنارے لگے ایک بکس اسٹال پر رک گئیں۔ وہ بارش میں بھیگ چکا تھا مگر اسے تو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔ جیسے ہی وہ ان کے قریب گیا وہ دونوں آگے بڑھ گئیں۔
" روحا۔"
وہ زیر لب بڑبڑایا۔ روحا نے بے اختیار ہی پلٹ کر اس کو دیکھا مگر پھر آگے بڑھ گئی۔ جیسے ہی وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہوئیں، یحیی کو ہوش آیا۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں سگنل کھل چکا تھا۔ وہ کافی آگے نکل آیا تھا۔ تب ہی ایک گاڑی اس کے قریب آ کر رکی۔ زاویان نے شیشہ نیچے کر کے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی۔
" اگر تمہاری عاشقی ختم ہو گئی ہو تو اندر آ کر مرو۔"
زاویان نے اسے گاڑی سے نکلتے اور دو لڑکیوں کے پیچھے جاتے دیکھ لیا تھا۔ اس نے لڑکیوں کو تو نہیں دیکھا تھا البتہ اسے یحیی پر حیرت ہو رہی تھی۔ اسے اس سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں تھی۔ یحیی نے ٹھنڈی سانس بھری ایک ہاتھ سے ماتھے پر چپکے گیلے بالوں کو انگلیوں کی مدد سے پیچھے کیا پھر گاڑی میں آ بیٹھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے زاویان نے سرسری سی نظر یحیی پر ڈالی جو دوبارہ شیشے سے باہر دیکھ رہا تھا۔ جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہو۔ اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بھی تھی۔ زاویان نے گاڑی کو ایک زوردار جھٹکا دیا۔ یحیی نے حیرت سے اس کو دیکھا، جو سرد نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
" ہوش آیا یا ابھی ایک اور جھٹکا دوں۔"
یحیی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زاویان نے سر جھٹک کر گاڑی آگے بڑھا دی۔ جبکہ یحیی پھر سے اسی لمحے میں کھو گیا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Amazing episode 🫣
ReplyDelete