Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Ep 4 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer

By Munaza Niaz

Ep - 4

 

Future of Nation youth leadership Seminar.


یونیورسٹی کا آڈوٹیریئم سٹوڈنٹس سے بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف بینرز لگے تھے۔ 


A leader, A vision, A Future - Sajjad Durrani - pride of the Nation.


یہ سیمینار یونیورسٹی کی طرف سے ارینج کیا گیا تھا۔ جہاں سٹوڈنٹس کو انسپائر کیا جاتا ہے۔ کیرئیر، لیڈرشپ، patriotism اور فیوچر گولز پر بات کی جاتی ہے۔ مختلف فیلڈز سے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس بار چیف گیسٹ سجاد دُرّانی تھا۔ ایک مشہور جانا مانا پولیٹیشن۔ جو یوتھ کا پسندیدہ مانا جاتا تھا۔ سیکیورٹی سخت تھی اور میڈیا والوں کی گاڑیاں باہر کھڑی تھیں۔ اسٹوڈنٹس کافی پر جوش تھے۔ 


تھوڑی دیر بعد سجاد دُرّانی گارڈز کے ہمراہ مین ہال میں داخل ہوا۔ اس کے آتے ہی ہر طرف تالیوں کا شور گونج اٹھا تھا۔ سجاد نے گلاسز اتار کر ڈائس پر رکھے اور مائک قریب کر لیا۔ مسکرا کر ہاتھ اٹھاتے سب کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ ہال میں خاموشی چھا گئی۔ 


" میں یہاں آج ایک پولیٹیشن کی طرح نہیں بلکہ آپ سب کا اپنا بن کر آیا ہوں۔"  

اس نے تقریر کا آغاز کیا۔


" میں آپ کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں تو مجھے اپنا وقت یاد آرہا ہے۔ اپنی وہ جوانی یاد آرہی ہے۔ خواب، امید اور ایک بے چینی کہ ہم اس ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں۔"

اس کی نظر دور تک گئی تھی۔


" سب کہتے ہیں کہ پاکستان کا فیوچر ڈارک ہے، میں کہتا ہوں پاکستان کا فیوچر آپ سب ہیں۔" 

اس کی آواز نرم، گہری اور جذبات سے بھری ہوئی تھی۔ اسٹوڈنٹس دم سادھے اس کو دیکھ رہے تھے۔


" آپ میں ڈاکٹرز ہوں گے، لیڈرز ہوں گے، وہ لوگ بھی ہوں گے جو اس ملک کی تقدیر بدلنا چاہیں گے۔" 

اس کی آواز دھیمی ہوئی۔


" میں نے اپنی زندگی کا سکون اس ملک کے لیے قربان کر دیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو جان بھی قربان کر دوں گا۔"

ہال میں دبی دبی سرگوشیاں سنائی دینے لگی تھیں۔ 


" کیونکہ مجھے کرسی سے محبت نہیں آپ لوگوں سے ہے۔"  


شہریار سب سے آگے اپنے دوستوں میں بیٹھا مطمئین مسکراٹ چہرے پر سجائے اس کو سن رہا تھا۔ اس سے ذرا فاصلے پر ہارون، شیزل اور ردا بیٹھے تھے اور ان کے عین پیچھے روشنی بیٹھی تھی۔


" آپ صرف سٹوڈنٹس نہیں ہیں۔ آپ سب ہماری ذمہ داری ہیں۔ آپ سب کے اندر ایک آگ ہے۔ کچھ کرنے کی، کچھ بننے کی، آگے بڑھنے کی لیکن سسٹم آپ سب کو چپ رہنا سکھاتا ہے لیکن میں آپ لوگوں کو چپ رہنا نہیں بلکہ اٹھنا سکھانا چاہتا ہوں۔"  

اس نے مائک اتار کر ہاتھ میں پکڑا اور سٹیج کے آگے چلا آیا۔


شیزل پر جوش سی ہو کر بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے اور انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کافی حد تک اس سے متاثر ہو چکی ہے۔ ہارون کا چہرہ نارمل تھا جبکہ ردا سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی تھی۔


" آج میں آپ سب سے وعدہ کرتا ہوں۔ جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں میں آپ کے حق کے لیے لڑوں گا۔ آپ کی آواز بنوں گا اور اگر کبھی لگے کہ آپ ہار گئے ہو تو بس مجھے یاد کرنا تب میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ آپ کون ہو۔" 

وہ ایک مرتبہ پھر رکا۔ سب کو دیکھا۔ روشنی سانس روکے اس کو دیکھ رہی تھی۔


" آپ سب سٹوڈنٹس نہیں ہیں بلکہ میری امید ہیں۔ اس ملک کا روشن مستقبل ہیں۔"

پورا ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔


شہریار نے کھڑے ہو کر اس کے لیے تالیاں بجائی تھیں۔ اس کی دیکھا دیکھی باقی سب بھی کھڑے ہو گئے تھے۔ 


سجاد دُرّانی نے نرم نگاہوں سے سب کو دیکھا پھر مسکرایا۔ اس کے لفظوں نے سب کا دماغ نہیں دل پکڑ لیا تھا۔ اور جہاں دل لفظوں میں قید ہو جائے وہاں سوچ مر جاتی ہے۔


•••••


یونیورسٹی گیٹ کے باہر آج کچھ زیادہ ہی رش تھا۔ سٹوڈنٹس، موٹر سائیکلز، رکشے والے اور بسیں سب ایک ہی وقت پر چل رہے تھے۔ شور اتنا زیادہ تھا کہ خود کی آواز بھی سنائی نہ دیتی۔


روشنی اپنا بیگ مضبوطی سے کندھے پر پکڑے بھیڑ سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا دماغ تقریب، سیمینار، لوگوں کے چہروں اور تالیوں کے شور سے بھرا ہوا تھا۔ وہ جسمانی طور پر تو یہاں تھی لیکن دماغی طور پر کہیں اور۔


تب ہی اچانک کسی نے اسے سائیڈ پر دھکا دے دیا۔

" سوری۔"  

وہ سنبھلی مگر پھر کسی نے پیچھے سے اس کا بازو چھو لیا۔ جان کر۔

" سوری۔"  

وہ رک گئی۔ 


اس کا دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا۔ اس نے محسوس کیا اس کے پاس سے زیادہ تر لڑکے ہی گزر رہے تھے۔ اس کا چہرہ پسینے سے تر ہو گیا۔ پورے جسم میں خوف کی لہریں دوڑنے لگیں۔


یہ جگہ محفوظ نہیں ہے مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا۔ اس نے تیز قدم اٹھانے شروع کر دیے۔ بس اسٹاپ زیادہ دور نہیں تھا صرف سڑک پار کرنی تھی۔ 


وہ کسی طرح کھلے روڈ پر آ گئی۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ سڑک کے بیچ آ چکی تھی۔ وہ اس وقت بالکل غیر دماغ سی تھی۔ ابھی وہ آگے بڑھی کہ اچانک ایک بھاری انجن کی آواز گونجی تھی۔ بریک لگنے کی آواز اور پھر ٹائر چرچرائے تھے۔ 


ایک بائیک اس کے قریب رکی تھی لیکن اس سے پہلے ہی ایک زوردار ٹکر سے وہ ایک طرف جا گری اور بیگ دوسری طرف۔ ایک لمحے کو اس کو لگا تھا اس کے پیروں تلے سے زمین حقیقتاً نکل گئی ہے۔ اس کے ہاتھ جل اٹھے۔ گھٹنے پر خون کے دھار گری۔ گال پر ہلکی سی رگڑ آگئی تھی۔ نیلی آنکھیں نم اور سرخ ہو گئیں۔ اس کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ابھی ہوا کیا ہے۔ 


بمشکل خود کو سنبھالتے وہ اٹھی۔ نظر سیدھا سامنے گئی جہاں کوئی سیاہ سوٹ میں لپٹا بائیک سے اتر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ہیلمٹ تھا۔ روشنی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھی۔ سامنے کھڑا شخص کسی مجسمے کی طرح ساکن ہو کر اس کو دیکھ رہا تھا۔ 


اسی کی بائیک سے اس کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ روشنی نے درد کو دباتے اپنا بیگ اٹھایا۔ چند قدم آگے بڑھی لیکن پھر رک گئی۔ اس نے کسی احساس کے تحت چہرہ موڑ کر پھر سے اس کو دیکھا۔ وہ اب بھی ساکن کھڑا تھا۔ روشنی کو احساس ہوا وہ ہیلمٹ ہونے کے باوجود بھی اسی کو دیکھ رہا ہے۔ 


اس کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ اس کا رخ واقعی روشنی کی طرف تھا۔ اس کا درد غائب ہو گیا تھا۔ ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔ وہ فوراً پلٹ گئی۔ دل کی رفتار دگنی ہو گئی تھی۔ 


وہ اسٹاپ کی طرف بڑھ گئی۔ بس میں بیٹھتے وقت بھی وہ کانپ رہی تھی۔ چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ بس چلی اور موڑ کاٹتی واپس اسی سڑک پر آگئی جہاں اس کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ وہ ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی۔ نظر اچانک پھر سے اس پر چلی گئی۔ 


وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔ ساکن، بے حس و حرکت۔ جیسے کسی نے اس کو ہیپنیٹائز کر دیا ہو۔ روشنی کی آنکھیں پھیل گئیں۔ جسم میں سنسنی خیز لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ وہ اب بھی اسی کو دیکھ رہا تھا جیسے اس کے آس پاس کوئی موجود ہی نہیں ہے۔ نہ شور، نہ لوگ اور نہ وہ خود۔ 


روشنی کا دماغ جو بھرا ہوا تھا کہ ایک دم خالی ہو گیا۔ اس نے فوراً چہرہ دوسری سمت موڑ لیا۔


اور دوسری طرف اپنی بائیک کے پاس کھڑا اکبر کھڑا کر کھڑا رہ گیا تھا۔ وہ وہاں تھا لیکن اصل میں وہاں نہیں تھا۔ اس کی نظر اس پر تھی لیکن دماغ کہیں اور۔ نہ وہ اسے خوبصورت لگی تھی نہ ہی عام۔ وہ اسے کافی آگے کی چیز لگی تھی یا شاید وہ بھی نہیں۔ شاید کچھ اور، کچھ وہ جو اس نے پہلی دفعہ محسوس کیا تھا لیکن سمجھ نہیں پا رہا تھا۔


اس کی خالی آنکھوں میں انجانا سا درد تھا اور اس درد میں شور نہیں تھا۔ اس کا درد خاموش تھا۔ گہرا اور خطرناک۔ اس لڑکی کو دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے وہ خود سے بھی بھاگ رہی ہے۔


اکبر نے لوگ دیکھے تھے اور بہت دیکھے تھے۔ ڈرتے ہوئے، روتے ہوئے، گرتے ہوئے، اٹھتے ہوئے۔ لیکن اس لڑکی کا گرنا اسے اندر سے ہلا گیا تھا۔ اور جب وہ بے چینی سے کھڑی ہوئی تھی، اپنی چوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھی تھی۔ اس نے اکبر کی طرف دیکھا تھا۔ اکبر کو لگا تھا جیسے اس لڑکی نے اسے ہیلمٹ کے پیچھے بھی پہچان لیا ہے۔ اس کا چہرہ دیکھ لیا ہے۔ بنا دیکھے۔ وہ ڈری ہوئی تھی اور اکبر جامد تھا۔ صرف اس کو دیکھتا ہوا۔


وہ چلتی گئی، پھر رکی، پھر بس کے دروازے تک پہنچی اور تب بھی اکبر نے آنکھیں بند نہیں کیں۔ پلکیں نہیں ہلائیں۔ پھر وہ بس میں چڑھی۔ سیٹ پر بیٹھی۔ اور جب اس نے شیشے سے اس کو دیکھا تھا تب بھی وہ وہیں کھڑا رہا تھا۔ جیسے اگر ہلکا سا بھی ہل جاتا تو اس کا خیال ٹوٹ جاتا۔ جیسے وہ ایک لمحہ تھا جو دوبارہ نہیں آنے والا تھا۔


اس کی زندگی میں کئی چہرے آئے تھے لیکن یہ وہ چہرہ تھا جو اسے اپنی طرف نہیں بلکہ اپنے اندر کھینچ رہا تھا اور یہ خطرہ تھا اس کے لیے۔ بہت بڑا خطرہ۔ مگر وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ خطرہ اسے برباد کر دے گا۔ یا شاید اسے مار کر زندہ چھوڑے گا۔ 


اور تب اس کو احساس ہوا وہ لڑکی اس کی کہانی کا حصہ بن چکی ہے۔ چاہے اس نے کچھ کیا ہو یا نہیں۔


•••••



آج ڈنر ٹیبل پر شیزل کی آواز سب سے زیادہ چہک رہی تھی۔ وہ کھا کم اور بول زیادہ رہی تھی۔ سونیا بھابھی مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھیں۔ جبکہ اذلان کا سارا دھیان اپنی پلیٹ کی طرف تھا۔ اس کا چمچ پلیٹ میں ادھر ادھر سرک رہا تھا۔


" بھائی۔"

شیزل نے کھانے کا ایک لقمہ لیتے ہوئے اسے پکارا۔


" ہوں۔" 

اس نے بنا دیکھے ہنکارا بھرا۔


" آج سجاد دُرّانی آئے تھے۔" 

اذلان نے اس کا چہرہ دیکھا اور پھر سے کھانے میں مشغول ہو گیا۔ وہ بول رہی تھی۔


" کافی مختلف لگے باقی پولیٹیشن سے۔ سکون سے بات کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ہم ان کا فیوچر ہیں۔ وہ ہمارے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔"  

اس کی آواز دھیمی ہو گئ جیسے وہ پھر سے وہی پہنچ گئی ہے۔ 


اس نے تیزی سے سر جھٹکا اور اذلان کو دیکھا جس کا اس کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں تھا۔ شیزل کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ 


اس نے سونیا بھابھی سے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے کندھے اچکا کر لا تعلقی کا اظہار کر دیا پھر اس نے اذلان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

" اذلان!"

وہ چونکا۔ سونیا کو دیکھا۔

" جی۔" 


سونیا سیدھی ہوئی۔

" کیا بات ہے اذلان آج آپ چپ کیوں ہیں؟"

وہ نرمی سے پوچھ رہی تھی۔ شیزل نے بھی کھانا چھوڑ دیا۔


" نہیں، کچھ نہیں ہے۔ بس تھک گیا ہوں۔"  

" آپ تھکے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی مجھے سنتے ہیں۔" 

شیزل نے چہرے پر اداسی سجا کر کہا۔

" آج ایسا لگ رہا ہے آپ یہاں ہو ہی نہیں۔" 


" کچھ نہیں ہے شیزل۔ تم کھانا کھاؤ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔"  

اذلان نے بات بدلنے کی کوشش کی۔ 


" اذلان یہ کچھ نہیں آپ بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں۔"

" میں ٹھیک ہوں سونیا۔"

اس نے چمچ واپس رکھ دیا۔


سونیا نے اس کے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھا۔

" ہم فیملی ہیں اذلان۔ پرابلم صرف خود کے لیے نہیں ہوتیں۔ شیئر کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم فیملی کس لیے ہیں؟" 


اذلان نے گہری سانس لے کر دونوں کو دیکھا۔ جو منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ 

" ایسا کچھ نہیں ہے تم دونوں اوور تھنکنگ کر رہی ہو۔" 

اس کے چہرے پر واقعی پریشانی جھلک رہی تھی جسے وہ چھپا نہیں پا رہا تھا۔


" اگر آپ ہمیں نہیں بتائیں گے تو پھر کس کو بتائیں گے۔ ہم صرف ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کے لیے فیملی نہیں ہوتے۔ بتائیں اب کیا بات پریشان کر رہی ہے آپ کو؟"

اذلان کچھ پل کے لیے خاموش ہو گیا۔ جیسے سوچ رہے ہو کہ بتائے یا نہیں۔ 


" فیملی کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ جب دل بھاری ہو تو وہ وزن ہمیں اکیلے نہ اٹھانا پڑے۔"

سونیا نے پھر سے کہا۔


اذلان نے جیسے ہار مان لی تھی۔ کچھ پل وہ اپنے لفظوں کو تولتا رہا پھر بولا۔


" آج واپسی پر مجھے ایک آدمی ملا تھا۔"

" کیسا آدمی؟"

سونیا نے پوچھا۔ اذلان نے بتانا شروع کیا۔


اس وقت وہ آفس سے نکل کر پارکنگ کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے دروازہ ان لاک ہی کیا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اس کو پکارا۔


" مسٹر اذلان سنیں۔"

وہ پلٹا۔ ایک آدمی کھڑا تھا۔ سیاہ آؤٹ فِٹ میں۔ ہاتھوں میں گلوز، ایک ہاتھ میں ہیلمٹ پکڑا ہوا تھا۔ بائیک سائیڈ پر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کچھ نہیں تھا۔ چہرے پر خاموشی تھی۔


" یس۔"  

اذلان نے پوچھا۔ 

وہ آدمی آگے آیا۔

" آپ جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ خالی کرنا ہوگا۔" 

اس نے سیدھی بات کی۔

" ایکس کیوز می؟"

اذلان نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا۔ اسے لگا شاید اس آدمی کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔


" اس پراپرٹی کا اونرشپ چینج ہو چکا ہے۔"

اس نے ایک فائل آگے بڑھائی۔

" لیگل پیپرز ہیں۔"  

اذلان نے فائل کھولی۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد اس کو دیکھا۔

" یہ کیا مذاق ہے؟"

 اس کا لہجہ سرد ہوا۔

" میں مذاق نہیں کرتا۔"  

سامنے والے کا لہجہ اب بھی سیدھا تھا۔

" اگر کوئی خریدنا چاہے تو بات ہوتی ہے۔ نیگوٹیشن ہوتی ہے۔ یہ کیا طریقہ ہے۔"  

سامنے والے نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

" یہ خرید کا کیس نہیں ہے۔"


اذلان کو جھٹکا لگا۔

" تو؟"  


وہ آدمی ایک قدم آگے آیا۔

" یہ قبضہ ہے۔"

اذلان کا دماغ گھومنے لگا۔

" تم پاگل ہو؟"

" ایک ہفتہ۔"

" کیا؟"

اذلان نے ٹھہر کر اس کو دیکھا۔

" ایک ہفتے کے اندر گھر خالی کر دیں۔"


اذلان کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ ماتھے پر لکیریں ابھر آئیں۔ 

" یہ اللیگل ہے۔"

وہ دبی آواز میں غرایا۔


سامنے والا پہلی دفعہ ایک سیکنڈ کے لیے مسکرایا تھا۔ صرف ایک سیکنڈ کے لیے۔ 

" جو مجھے بھیجتا ہے اس کے لیے کچھ بھی اللیگل نہیں ہوتا۔" 

اذلان کا دل بیٹھا۔ وہ آدمی پلٹا۔

" تم کون ہو؟"  

اس آدمی نے ہیلمٹ پہنا۔


" جس کا نام سن کر لوگ اپنی زبان سنبھال لیتے ہیں۔" 

اس نے بائیک سٹارٹ کی اور پھر سے اس کو دیکھا۔

" ایک ہفتہ۔" 

اور بائیک زن سے نکل گئی۔ 


اور اس وقت اذلان کو اسے دیکھ کر اندازہ ہوا تھا کہ وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا اور یہ مسئلہ بھی معمولی نہیں تھا۔


شیزل اور سونیا حیرت زدہ سی اس کو دیکھے جا رہی تھیں۔

" کیا مطلب؟"

سونیا کو یقین نہیں آیا جیسے۔

" لیکن بھائی یہ گھر تو۔۔۔"

شیزل کی زبان لڑکھڑائی۔


" وہ خریدنے کی بات نہیں کر رہا تھا۔ وہ قبضے کی بات کر رہا تھا۔ ایک ہفتہ دیا ہے اس نے۔"

" لیکن بھائی یہ ہمارا گھر ہے، یہ اللیگل ہے۔" 

شیزل نے احتجاج کیا۔


" اس نے یہ بھی کہا ہے کہ جو اسے بھیجتا ہے اس کے لیے اللیگل کچھ نہیں ہے۔"

اذلان نے دھیرے سے کنپٹی سہلائی۔ 


شیزل کچھ بول نہیں سکی۔ اس کے دماغ میں صرف کون؟ کیوں؟ ہم ہی کیوں؟ گھوم رہا تھا۔ 


" اس کا نام؟"

سونیا نے پوچھا۔

" اس نے اپنا نام نہیں بتایا۔ اگر میں پوچھتا تب بھی وہ جھوٹ ہی بولتا۔"  

" بھائی ہم کیا کریں گے؟"

شیزل کو محسوس ہوا اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ 


" اذلان ہم یہ گھر ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟"  

سونیا نے اپنی کرسی پیچھے کھسکائی۔ 


" میں جانتا ہوں کہ ایسے لوگ صرف بات کرنے نہیں آتے۔"


شیزل کے دماغ میں تصویریں گھومنے لگیں۔ پولیس، کورٹ، تھریٹ، رات کو دروازے بجنا، ان نون نمبر سے فون آنا۔ اس کا ڈر بڑھنے لگا۔


" بھائی اگر انہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا تو؟"

اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

" ایک ہفتہ بہت کم وقت ہے۔ مجھے جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔"

اذلان نے صرف اتنا کہا تھا۔ 


اور اس رات کسی نے بھی پورا کھانا نہیں کھایا تھا۔


جاری ہے

Comments

  1. Brilliant 😍 and thank to God is bar sab characters abi tak ek hi time frame main hain i like it 🫰🏻🫶🏻 keep going ❤️❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts