Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Ep 5 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer

By Munaza Niaz

Ep - 5 



اس کا سر بے حد بھاری تھا۔ آنکھیں بند تھیں لیکن دماغ جاگ رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا محسوس ہو رہا ہے۔ سوچنا مشکل تھا، سانس لینا بھی۔ جیسے کسی نے اس کے سینے پر بھاری چیز رکھ دی ہو، یا شاید یہ اس کے اپنے دل کا وزن تھا۔ 


سب کچھ اندھیر تھا۔ سب سے پہلے اسے اپنی سانسوں کی آواز آئی تھی۔ جو تیز تھی اور بے قابو۔ پھر ایک اور، شاید مشین کی جو بہت دور سے آ رہی تھی یا شاید یہ اس کا وہم تھا۔ 


اس کے جسم میں دھیرے دھیرے حسیات جاگنے لگیں۔ ہاتھ بھاری لگے اور پیر سُن محسوس ہوئے۔ گردن ہل نہیں رہی تھی۔ اس کی پلکیں ہلکی سی تھرتھرائیں اور پھر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ بے حد مشکل سے۔ پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔ اسے لگا سب کچھ گھوم رہا ہے۔ ہلکی سی روشنی اس کی آنکھوں پر لگی۔ اس نے پھر سے آنکھیں میچ لیں۔ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔


اس نے پھر سے آنکھیں کھولیں۔ پہلا خیال ذہن میں آیا۔

" میں زندہ ہوں۔" 

اگلے سیکنڈ دوسرا سوال۔

" میں ہوں کون؟"

وہ ساکت پڑی سوچتی رہی۔ جواب کہیں نہیں تھا، صرف خالی پن تھا۔ 


اس نے دیوار کو دیکھا۔ پیلا رنگ، سیاہ کے بعد سفید اور ہلکا سا گرے پھر ایک لکیر جو چھت اور دیوار کا فرق بتا رہی تھی۔ وہ کہاں تھی؟ کیوں تھی؟ کس کے بیڈ پر لیٹی تھی؟ اس کی نظریں دھیرے دھیرے گھومنے لگیں جیسے اس کا دماغ کہہ رہا ہو کہ آہستہ ورنہ سب کچھ پھر سے گھوم جائے گا۔ 


اس نے سائیڈ پر دیکھا۔ ایک چھوٹی سی ٹیبل پڑی تھی۔ اس پر کوئی چیز رکھی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کیا چیز ہے لیکن شاید نام بھول گئی تھی۔ اس نے گردن ہلانے کی کوشش کی، درد کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں پھیل گئی۔ 


اس کے سینے سے ایک درد بھری کراہ نکلی تھی۔ وہ پھر سے رک گئی۔ اس کی نظر دوسرے کونے پر گئی۔ ایک کرسی رکھی تھی۔ کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی۔ اس نے انگلیوں کو حرکت دی، نظر اپنے جسم پر گئی۔ وہ کسی اور کے کپڑوں میں تھی اور یہ خیال ہی اس کے اندر جیسے بجلی کے جھٹکے کی طرح لگا تھا۔ 


اس کا دماغ خالی تھا، بالکل خالی۔ نہ کسی کا نام یاد تھا، نہ کسی کا چہرہ اور نہ کوئی واقعہ۔ اس نے دوبارہ کونے میں اس کرسی کی طرف دیکھا۔ پہلے اسے صرف محسوس ہوا تھا کہ وہ خالی ہے لیکن اب وہ تھوڑا آگے دیکھ پا رہی تھی۔ اس نے جب غور کیا تو وہاں کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔ پہلے اسے لگا اس کا کوئی وہم ہے لیکن اب اسے معلوم ہوا وہاں کوئی حقیقت میں موجود ہے۔


وہ سایہ حرکت میں آیا۔ وہ ایک آدمی تھا۔ اسے جھٹکا لگا۔ دل اچانک ہی شدت سے دھڑک اٹھا۔ وہ اسی کرسی پر بیٹھا تھا جیسے کافی دیر سے یہاں ہو اور اس کے ہوش میں آنے کا منتظر ہو۔ 


اس نے بولنے کی کوشش کی لیکن آواز نہیں نکل پائی۔ صرف آنکھیں بڑی ہوتی گئیں۔ وہ سایہ تھوڑا اور ہلا۔ سفید نرم روشنی اس آدمی کے چہرے پر گئی۔ وہ چہرہ ٹھنڈا اور بے تاثر تھا۔ آنکھیں گہری اور بے حد سخت تھیں۔ وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ سیدھا، بنا پلک جھپکائے۔ یوں جیسے وہ اسے جانتا ہے لیکن وہ اس کو نہیں جانتی۔ 


" تت۔۔۔ تم کون ہو؟"  

بڑی دقت سے الفاظ لبوں سے نکلے تھے۔ وہ تھوڑا سا آگے جھکا۔

" آخر کار تم ہوش میں آگئی۔"


اس کے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔ سانس تیز ہونے کے بجائے رک سی گئی۔ اس کی انگلیاں بیڈ شیٹ کو زور سے پکڑ گئیں۔ وہ پیچھے کی طرف کھسک گئی۔ وہ آدمی کھڑا نہیں ہوا بس اسے وہیں بیٹھ کر دیکھتا رہا۔ اس کا یہ سکون اسے اور ڈرا رہا تھا۔ 

" نہیں نہیں۔" 


وہ آدمی بالکل سیدھا ہوا اور بس اتنا ہی اس کے لیے کافی تھا۔


" دور رہو مجھ سے۔" 

وہ چلا نہیں سکی۔ اپنی آواز بھی پہچان نہیں سکی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔

" مت آؤ۔۔۔ پاس مت آؤ۔"


اس کی سانسیں بگڑ گئی تھیں۔ سب کچھ دھندلا ہو گیا تھا۔ کسی کا ہاتھ، اندھیرا، اس کا خود کا چیخنا۔ اس کا جسم کانپنے لگا۔


" بس کرو۔ رک جاؤ۔"

وہ اپنی ہی یادوں سے بھیک مانگ رہی تھی۔ اس نے پھر سے آنکھیں میچ لیں۔ لیکن یادیں رک نہیں رہی تھیں۔ وہ چیخیں، وہ رونا، وہ تیز آوازیں۔


" میں نہیں دیکھنا چاہتی کچھ بھی۔ میں کچھ یاد نہیں کرنا چاہتی۔"


وہ تیزی سے کھڑا ہوا۔


" مت آنا۔"

وہ چلا اٹھی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی دہشت تھی جیسے وہ کسی جنگلی خونخوار جانور کو دیکھ رہی ہو۔ وہ رو رہی تھی۔ بری طرح رو رہی تھی۔ اتنا کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ اور پھر سب کچھ ایک دم رک گیا۔ بالکل چپ ہو گیا۔ اس کا جسم بے جان ہوتا واپس گر گیا تھا۔


وہ بھاگ کر اس کے کمرے کی طرف بڑھتا اس کے پاس آیا۔ وہ واپس بے ہوش ہو چکی تھی۔ وہ کچھ پل ساکت کھڑا اس کو دیکھتا رہا پھر اسی طرح واپس پلٹ گیا تھا۔


•••••


تھانہ کافی پرانا تھا۔ جگہ جگہ سے پینٹ اکھڑ رہا تھا۔ پنکھے کی گھرر گھرر ہر طرف گونج رہی تھی۔ سگریٹ اور پرانی فائلوں کی بو کونے کونے تک پھیلی ہوئی تھی۔ ڈیسک کے پیچھے بیٹھا آفیسر میز پر جھکا رجسٹر پر کچھ لکھ رہا تھا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے اسے دنیا کے مسئلوں سے کوئی سروکار نہیں۔ 


دروازہ کھلا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت بھی محسوس نہیں کی۔ دو لوگ پسینے سے تر چہرہ لیے اس کے سامنے آ کر رکے۔ رافیل کے چہرے پر چڑچڑاہٹ تھی جبکہ عباد صاحب کافی پریشان دکھائی دیتے تھے۔


" ہاں جی؟" 

آفیسر نے بنا سر اٹھائے ان سے پوچھا۔ 


" ایک کمپلین لکھوانی ہے۔ ارجنٹ ہے۔"  

رافیل نے کہا۔


" سب کو ہی ارجنٹ لکھوانی ہوتی ہے۔ بولو۔" 

انسپیکٹر نے سر اٹھایا، کرسی سے ٹیک لگائی۔ ان دونوں کو دیکھا۔


" ایک آدمی ملا تھا۔"  

عباد صاحب نے بولنا شروع کیا۔

" تو؟" 

اس نے پوچھا۔

" ایک۔۔۔ ایک پرچی دی۔" 

انسپیکٹر سیدھا ہوا۔

" کس چیز کی پرچی تھی؟" 

عباد صاحب نے پرچی نکال کر اس کے سامنے رکھی۔

" نام؟" 

انسپیکٹر نے ایک نظر دیکھنے کے بعد پھر سے پوچھا۔

" نہیں پتہ۔" 

" تو پھر؟"

" یہ بھتے کی پرچی ہے۔ پیسوں کی ڈیمانڈ ہے۔ بہت زیادہ ہیں۔" 

عباد صاحب کا لہجہ کمزور تھا۔

" آدمی کیسا تھا؟"

" بائیک پر تھا۔ ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔ کافی لمبا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ۔ آواز بھاری تھی۔ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔"  

عباد صاحب کو اس کا حلیہ اچھی طرح یاد تھا۔


" اور؟" 

انسپیکٹر ابھی بھی بے تاثر چہرہ لیے پوچھ رہا تھا۔


" اور اس نے کہا کہ پیسے تیار رکھنا ورنہ نتیجہ برا ہوگا۔"


انسپیکٹر نے آنکھیں چھوٹی کرتے پھر سے ٹیک لگائی۔


" نمبر پلیٹ دیکھی؟"

" نہیں۔"

عباد صاحب کا دل ڈوبا۔

" اور چہرہ؟"

" ہیلمٹ تھا۔" 

آفیسر نے کندھے اچکا دیے۔

" تو پھر پہچان کیسے ہوگی؟ اس حلیے کے لوگ شہر میں ہزاروں ہیں۔"


عباد صاحب نے بولنے کی کوشش کی لیکن رافیل نے روک دیا۔

" آپ رپورٹ لکھیں۔ آپ کا کام ہے اس کو ڈھونڈنا۔ اگر کچھ ہو گیا تو ذمہ داری آپ کی ہوگی۔" 

انسپیکٹر ہنس پڑا۔ ماحول بھاری ہو گیا تھا۔

" ٹھیک ہے رپورٹ لکھ لیتے ہیں لیکن ایکشن اوپر سے ہوتا ہے۔"

وہ عجیب طریقے سے مسکرایا تھا۔


" اوپر سے مطلب؟" 

دونوں نے ناسمجھی سے انسپیکٹر کو دیکھا جو دھیرے دھیرے فائل پر کچھ لکھ رہا تھا جیسے زبردستی کر رہا ہو۔ 


" آپ دونوں اب گھر جائیں۔ اگر کوئی ڈویلپمنٹ ہوئی تو بتا دیں گے۔" 


عباد صاحب کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ انہوں نے پھر سے بولنے کی کوشش کی لیکن رافیل نے انہیں روک دیا۔ دونوں خاموشی سے پلٹ گئے۔ 


انسپیکٹر نے ان کو جاتے دیکھا۔ کچھ سیکنڈز کی خاموشی چھائی رہی پھر اس نے فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔


" دو لوگ اور آئے تھے۔ اس کی رپورٹ لکھوانے۔"

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔ اس نے خاموشی سے سنا پھر سر ہلا کر موبائل واپس رکھ دیا۔


سامنے پڑی رپورٹ اٹھائی جو اس نے کچھ دیر پہلے لکھی تھی۔ اس کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے اس نے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا جو

 پھٹے ہوئے کاغذات سے اتنا بھر چکا تھا کہ ٹکڑے باہر گر رہے تھے۔ 


سب پر ایک ہی چیز کامن تھی۔ 

" ہیلمٹ والا بائیکر۔" 

•••••


شام دھیرے دھیرے ڈھلتی جا رہی تھی۔ گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ برآمدے میں ایک پیلا بلب جل رہا تھا۔ روشنی کچن میں کھڑی تھی۔ کام کرتے ہوئے اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ جاتیں۔ عباد صاحب اور رافیل کو گئے کافی وقت ہو چکا تھا۔ اب تو مغرب ہونے والی تھی۔ اسی اثناء میں آہٹ ہوئی۔ دروازہ کھلا اور دونوں اندر داخل ہوئے۔ روشنی نے جب دیکھا تو سارے کام چھوڑ کر ان کے پاس چلی آئی۔


" بابا۔"

روشنی نے ان کا ستا ہوا چہرہ دیکھا تو دل بجھ گیا۔ عباد صاحب نے نظریں چرا لیں۔

" بابا کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے نہ؟" 


رافیل فوراً بیچ میں بول پڑا۔

" کچھ نہیں ہوا بس فارمل سی رپورٹ تھی۔ ایسے ہی لوگ ڈرا دیتے ہیں۔"  


روشنی نے اس کو نہیں دیکھا۔ وہ صرف عباد صاحب کو دیکھتی رہی۔ 

" رپورٹ لکھ لی انہوں نے؟" 

عباد صاحب نے بنا نظریں ملائے ہاں میں سر ہلایا پھر برآمدے میں رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔


" کچھ کہا انہوں نے؟ کون تھا وہ؟"  

وہ ان کے سامنے بیٹھی۔


عباد صاحب نے روشنی کا چہرہ دیکھا۔ معصوم، پریشان سا۔


" کچھ نہیں ہوگا۔ پولیس دیکھ لے گی۔" 

یہ جملہ بولتے وقت انہوں نے نظریں زمین پر گاڑ دی تھیں۔


" میں نے کہا ہے نا کہ ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے۔ لوگ محض پیسے نکلوانے کے لیے ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔" 

رافیل نے چڑ کر کہا۔ 


دونوں باپ بیٹی خاموش رہے۔ رافیل بیزار ہو گیا۔ ایک پرچی ہی تو تھی۔ اتنا ڈرامہ کیوں بن رہا تھا۔


" اگر پیسے نہ دیے تو؟"

روشنی نے ان کے ضعیف ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

" کچھ نہیں ہوگا۔"

عباد صاحب کی آواز اچانک ہی تیز ہو گئی تھی۔ روشنی چپ ہو گئی پھر فوراً کھڑی ہوئی۔

" میں پانی لاتی ہوں۔" 

وہ کچن میں گھس گئی۔ 


رافیل کی نظریں اس پر تھیں۔ وہ پانی لے کر آئی۔ گلاس ان کو تھما دیا۔ انہوں نے دو گھونٹ لے کر گلاس واپس کر دیا۔


روشنی کو احساس ہو گیا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکتی۔ رافیل زبردستی نارمل بننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن عباد صاحب کا چہرہ پوری کہانی سنا رہا تھا۔ وہ دھیرے سے پلٹ گئی۔


•••••


ردا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی کہ تب ہی کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ رکی، پلٹی۔ سامنے ہارون کھڑا تھا۔ بکھرے بال، چہرہ زرد، آنکھوں میں سرخی جیسے سویا نہ ہو۔ ردا نے سوالیہ اس کو دیکھا۔ وہ ایک قدم پاس آیا۔


" ردا میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ آج میں سیدھی بات کرنا چاہتا ہوں۔"

وہ رکا جیسے دماغ میں چلتے الفاظ زبان پر ترتیب دے رہا ہو۔


" مجھے تم پسند ہو۔ اتنا کہ میں تمہیں اگنور کرنا چاہوں تو بھی نہیں کر پاتا۔"  

وہ چپ ہوا اس کا چہرہ دیکھا۔


" تم مجھے جانتے ہی کتنا ہو؟" 

ہارون نے گہری سانس لی۔

" جتنا تم خود کو بھی نہیں جانتی۔ اگر تم منع کر دو گی تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا۔ مجھے خود سے زیادہ تمہاری خوشی عزیز ہے۔ پر جو میں محسوس کرتا ہوں وہ جھوٹ نہیں ہے۔" 


ردا چپ رہی۔ غصہ نہیں کر سکی۔ اسے جانے کا بھی نہیں کہہ سکی۔

" تم جب ٹھیک نہیں ہوتی تو مجھے چین نہیں آتا۔"


" اگر میں کبھی تمہاری نہ ہو سکی تو؟" 

ردا کا لہجہ عجیب ہو گیا۔ پتہ نہیں وہ اس سے کیا سننا چاہ رہی تھی۔


" تب بھی میں صرف ایک ہی دعا کرتا رہوں گا کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔ بس اتنا حق دے سکو کہ تمہاری فکر کر سکوں۔" 


ردا کے الفاظ گم ہو گئے۔ ہارون اسے دیکھتا رہا۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے۔


" مجھے وقت چاہیے۔"

ردا کی مدھم آواز گونجی۔


ہارون نہیں مسکرایا تھا۔

" جتنا مرضی لے لو۔ میں کہیں نہیں جا رہا۔ تمہارا انتظار کروں گا۔ تمہارا جواب سننے کے لیے۔ اپنا خیال رکھنا۔"  

نرم نگاہوں سے اس کو دیکھتا وہ پلٹ گیا۔ ردا اس کے لفظوں میں الجھی گاڑی میں بیٹھ گئی۔


دور جاتے ہارون نے پلٹ کر اس کو دیکھا پھر چہرہ واپس موڑ لیا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں سکون اتر آیا تھا جیسے آج اس نے اپنے دل کی سنتے سب کہہ دیا ہو۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شیزل ہاتھ میں فون پکڑے ہر طرف نظریں دوڑاتی عجلت میں چلی آ رہی تھی۔


" کیا ہوا شیزل؟ کس کو ڈھونڈ رہی ہو؟" 

وہ ٹھٹک کر رکی، نظریں اٹھا کر ہارون کو دیکھا 


" ہاں وہ ردا۔۔۔ اسے ڈھونڈ رہی ہوں۔ تم نے دیکھا ہے اسے؟"

اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ آنکھوں میں سوال۔

" ابھی گھر کے لیے نکل چکی ہے۔"  


شیزل کے کندھے ڈھیلے پڑ گئے۔ اس نے تھک کر گہری سانس لی۔ دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔ جب تک وہ ردا کو کچھ بتا نہ دیتی اس کا بوجھ ہلکا نہیں ہونا تھا۔ 


" وہ تھوڑی سی پریشان لگی تھی۔ تم بھی لگ رہی ہو۔" 

ہارون جانچتی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ 


شیزل چونکی۔

" نہیں بس تھکاوٹ ہو گئی ہے۔" 

اس نے نظریں چرائیں۔


" تم جب جھوٹ بولتی ہو تو آنکھوں میں نہیں دیکھتی۔" 


شیزل نے اب کی بار اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھا تھا۔

" گھر کا تھوڑا سا مسئلہ چل رہا ہے۔ عجیب لوگ انوالو ہو گئے ہیں۔"

" ردا کو بتا دینا جو بھی بات ہے۔"


شیزل پہلی دفعہ مسکرائی تھی۔

" تم ابھی ردا کے پاس سے آ رہے ہو نا؟ بتا دیا اس کو؟ کیا کہا اس نے؟ مارا یا زندہ چھوڑ دیا؟" 

اس نے لہجہ ہلکا پھلکا بناتے شرارت سے پوچھا۔


" ہاں بتا دیا۔ وقت مانگا ہے اس نے۔"  

ہارون کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ ابھری تھی۔ 


" تو پھر ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ ایسے ہی کسی کو چانس نہیں دیا کرتی۔" 


ہارون اسی طرح نرمی سے مسکراتا رہا 

" چلتا ہوں۔ اپنا خیال رکھنا۔"

وہ پلٹ گیا۔


شیزل نرم نگاہوں سے اس کو جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ اس کے اندر کی بےچینی اب دھیرے دھیرے ختم ہو رہی تھی۔ 


" اپنا خیال رکھنا۔" 

وہ بے دھیانی میں ہارون کے لفظوں کو سوچتے، اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ 


اب اس کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔ آنکھیں دور جاتے وجود پر ٹک گئی تھیں۔ تب ہی اسے جھٹکا لگا۔ یہ وہ کیا کر رہی تھی۔ وہ چونکی۔


" یہ میں کیا کر رہی تھی؟" 

دل میں چبھن سی ہوئی۔ آنکھوں کے سامنے ردا کا چہرہ آگیا۔ اسے لگا جیسے اس نے کوئی جرم سرزد کر دیا ہو۔


" پاگل ہو کیا؟ وہ ردا کو پسند کرتا ہے۔" 

اس نے اپنا چہرہ فوراً دوسری طرف موڑ لیا۔ وہ ایک لمحہ تھا جو آ کر گزر گیا تھا۔ گھر کا مسئلہ اور ایک اس لمحے کا سکون جو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ دھیرے سے پلٹ گئی۔

•••••


اس بار اس کی آنکھیں روشنی اور شور سے نہیں بلکہ اپنے اندر اٹھتے درد سے کھلی تھیں۔ اس کے سر میں بجلی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں اب پوری کھل چکی تھیں اور اس بار کچھ بھی دھندلا نہیں تھا۔ سب کچھ صاف تھا۔ 


کمرہ، دیواریں، اندھیرا، بیڈ اور یادیں۔ سب کچھ ایک ساتھ چل پڑا تھا۔ ترتیب سے، سیدھا دل اور دماغ میں۔ اس کا جسم جھٹکے سے سیدھا ہوا۔ سانس رک گئی۔ آنکھیں پھٹ کر پوری طرح کھل گئیں۔ اس کے ہاتھ بری طرح کانپنے لگے۔


" نہیں نہیں۔" 

اس کے کانوں میں آوازیں گونجنے لگیں۔ اس کی اپنی چیخیں۔ اس کا گلا جل اٹھا۔ جسم پیچھے سرک گیا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ خود پر قابو نہیں رکھ پا رہی تھی۔ 


اس کے دماغ اور آنکھوں کے سامنے ساری تصویریں کسی فلم کی طرح چلنے لگیں۔ نہیں۔ وہ تصویریں نہیں تھیں۔ زخم تھے۔ جسم کے نہیں، روح کے۔ وہ تیزی سے بیڈ سے اتری لیکن گر گئی۔ ٹھنڈے فرش نے اس کے اندر کپکپی سی دوڑا دی۔ اس نے اپنا سر پکڑ لیا۔


" چپ چپ چپ۔" 

اس نے اپنی یادوں کو چپ کروانا چاہا۔ خود کو سنبھالنا چاہا لیکن نہ وہ سنبھل پا رہی تھی نہ یادیں رک رہی تھیں۔


اس کی نظر اٹھی۔ سامنے گئی۔ آنکھوں میں دہشت اتر آئی۔ وہ رینگی۔ نہیں، بلکہ گھسٹنے لگی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ بھاری قدموں کی آواز اب قریب آنے لگی تھی۔ اس کا جسم سن ہو گیا۔ وہ پھر سے آ رہا تھا۔ وہ پیچھے کی طرف سرکنے لگی۔ 


زین اندر آیا تو دیکھا وہ نیچے گری بیٹھی تھی۔ وہ وہیں ٹھہر گیا۔ اس کے پاس نہیں گیا۔ 


اس نے ہاتھ بڑھا کر بنا دیکھے کوئی چیز اٹھائی اور پوری طاقت سے اس کی طرف پھینک دی۔

" میرے پاس مت آنا۔"

وہ چیخی۔ آنسو پوری شدت سے بہہ رہے تھے۔ 


وہ چیز زین کے ہاتھ پر لگی تھی۔ اس نے بچنے کی کوشش نہیں کی۔ لگنے دی تھی۔ خون نکلا تھا لیکن اس نے کوئی تاثر نہیں دیا تھا۔ بس اتنا کہا تھا۔


" ریلیکس۔۔۔ کچھ نہیں ہوا تمہیں۔ سب ٹھیک ہے۔"


وہ ہنس پڑی۔ پاگلوں کی طرح۔ آنسو تب بھی گرتے رہے۔ درد اب بھی بڑھتا رہا۔


" جھوٹ۔۔۔ جھوٹ بولنا بند کرو۔"

اپنے بالوں کو پکڑے وہ پھر سے چیخی۔ 


" میں۔۔۔ میں نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ مجھے نہیں رہنا یہاں۔" 

وہ اب اپنے جسم کو بری طرح نوچنے لگی تھی۔


زین اسی وقت آگے بڑھا۔ اس کی کلائیاں نرمی سے پکڑ کر اس کو روکا اور اسے دھیرے سے اپنے قریب کرتے سنبھالا لیکن وہ سنبھل نہیں رہی تھی۔ اسے مارنے لگی تھی۔ 


مکے، تھپڑ، ناخن۔ اس کے سینے پر، اس کے کندھوں پر، بازوؤں پر۔ اور وہ چپ کھڑا مار کھاتا رہا۔ نہ اسے روکا نہ کچھ کہا۔ بس پکڑے کھڑا رہا۔ 


وہ روتی رہی، چیختی چلاتی رہی اور مارتی رہی۔ وہ کچھ نہیں کر رہا تھا۔ پیچھے ہٹنے یا خود کو بچانے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا۔


" تمہیں کچھ نہیں ہوگا اب۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔" 


وہ ڈھیلی پڑنے لگی۔ وہ اسے مارتے مارتے تھک گئی تھی لیکن رک نہیں رہی تھی۔ اس کے ہاتھ درد کرنے لگے تھے۔ ہتھیلیاں سرخ ہو چکی تھیں۔ سانس رک رک کر آ رہی تھی۔ پھر بھی وہ اسے مار رہی تھی۔ جیسے اس کے اندر سالوں کا زہر بھرا ہے۔ جس کا نکلنا بے حد ضروری ہے۔


زین ہل نہیں رہا تھا۔ نہ آگے، نہ پیچھے۔ اس کا جسم ایک دیوار کی طرح اس روتی بلکتی ہوئی لڑکی اور اس کے درد کے درمیان آکر کھڑا ہو چکا تھا۔ وہ اسے گرنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ غصہ اس کے لیے نہیں ہے بلکہ سارے مردوں کے لیے ہے۔ اس درد کے لیے ہے جو اس نے جھیلا تھا۔ اور وہ اسے نکلنے دے رہا تھا۔ 


کچھ دیر بعد وہ خود ہی تھک کر رک گئی تھی۔ اس کا جسم اب اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر زین کو دیکھا۔


" تم سب ایک جیسے ہوتے ہو۔" 

اس کی آواز بری طرح کانپ رہی تھی۔ وہ لفظ نہیں تھے، زہر تھے جو وہ منہ سے نکال رہی تھی۔ زین چپ کھڑا رہا۔ 


" تمہیں لگتا ہے کہ تم الگ ہو سب سے؟ تمہیں لگتا ہے کہ تم ہیرو بن کر آ جاؤ گے؟"

اس کے آنسو تھمے۔ آنکھوں میں اب صرف نفرت تھی۔ 


" تمہیں بھی وہی چاہیے جو انہیں چاہیے تھا۔"

وہ ہنسی۔ 


زین کی گرفت اس کی کہنیوں پر ڈھیلی پڑ گئی۔ لیکن اس نے تب بھی اسے نہیں چھوڑا۔ وہ اسے گرنے نہیں دے رہا تھا۔ اب نہیں۔


" تم سب درندے ہو۔ سب۔" 

وہ پھنکار رہی تھی۔ لیکن اسی وقت وہ ہنس پڑی تھی۔


" تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھے بے وقوف بنا لو گے؟ 'میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔' یہ ڈائیلاگ سب کو آتا ہے۔" 

اس نے اپنا چہرہ اس کے بالکل قریب کر لیا۔


" اپنی اصل شکل دکھاؤ۔ ڈرامہ بند کرو۔" 

اس کی آواز اب پھٹ رہی تھی۔ 


زین چپ ہی رہا۔ وہ اسے کوئی پروف نہیں دینا چاہتا تھا۔ وہ تو بس یہی رہ جانا چاہتا تھا۔ 


اس نے پوری طاقت سے اس کو دھکا دیا لیکن زین نے اسے تب بھی نہیں چھوڑا۔ وہ چیخنے لگی لیکن زین نے کوئی آواز نہیں نکالی تھی۔


" تم الگ نہیں ان سے سمجھے؟ تم سب ایک جیسے ہو۔ تم سب۔"

وہ بول رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی آواز دھیمی ہوتی جا رہی تھی۔ 


زین نے نرمی سے اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھا دیا۔ اس کی ساری طاقت جیسے ختم ہو چکی تھی۔ آنکھیں آدھی بند اور سانس بھاری ہو گئی تھی۔ 


اس کے ہونٹ ہلے۔ آخری جملہ نکلا۔ ادھورا سا، ٹوٹا ہوا اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔ سر اس کے کندھے سے جا لگا۔ وہ بولتے بولتے سو چکی تھی۔ زین نے اس کا چہرہ دیکھا۔ 


آنسو جو رک گئے تھے۔ اب پھر سے بہہ رہے تھے۔ وہ نیند میں بھی رو رہی تھی۔ زین نے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور اوپر چادر اوڑھا دی۔ چہرے پر بکھرے بال ہٹائے اور کھڑا ہو گیا۔ 


وہ نیند میں بھی سسک رہی تھی۔ وہ تیزی سے مڑ کر فوراً کمرے سے باہر نکل گیا۔


جاری ہے

Comments

Post a Comment

Popular Posts