Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Ep 7 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer ep 7

By Munaza Niaz 


رات کے اندھیرے میں اس کی گاڑی موڑ کاٹتی مین روڈ پر چڑھ گئی۔ اس نے میوزک آن کرنے کے ساتھ ساتھ شراب کی بوتل اٹھا لی۔ چند گھونٹ لے کر والیوم مزید اونچا کر دیا۔


ایسے نہ مجھے تم دیکھو 

سینے سے لگا لوں گا 

تم کو میں چرا لوں گا تم سے 

دل میں چھپا لوں گا 


بولوں کے ساتھ وہ خود بھی گنگنا رہا تھا۔ اسے احساس نہیں ہوا کہ سپیڈ کافی حد تک تیز ہو چکی ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پوری بوتل خالی کر دی تھی۔ گاڑی اب ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شیشہ دھندلا سا لگا۔ نشہ سر پر چڑھ چکا تھا۔ دور کہیں سامنے سے ہیڈ لائٹس چمکیں۔ اس نے سر جھٹک کر اسٹیرنگ کو مضبوطی سے پکڑا اور رفتار آہستہ کر دی۔


کیا ضرورت تھی اتنا پینے کی۔ ڈیڈ اور بھائی ہمیشہ سختی سے ٹوکتے تھے کہ ڈرائیونگ کے دوران کوئی نشہ مت کرو لیکن وہ عادت سے مجبور تھا۔ اس سے پہلے کہ ایکسیڈینٹ ہوتا اس نے گاڑی سائیڈ پر روک دی۔ اے سی بند کیا۔ گانا چلتا رہا اور وہ خود نکل کر باہر گاڑی کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ 


ہاتھ میں اب دوسری شراب کی بوتل موجود تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ وہ بنا رکے پیے جا رہا تھا۔ رات دھیرے دھیرے اور گہری ہوئی۔ دونوں طرف کی سڑکیں سنسان تھیں۔ بس اکاً دکاً گاڑیاں تیزی سے نکل جاتیں۔


" ایکسکیوز می۔" 


اس کا ہاتھ رکا۔ اس نے چونک کر چہرہ اٹھایا۔ سامنے لڑکی کھڑی تھی۔ چہرے پر تکلیف اور گہری معصومیت۔


" میرے پیر میں چوٹ لگی ہے۔ میں چل نہیں پا رہی۔ کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گے؟" 

وہ مدد طلب نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نشے میں ڈوبا بے باکی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔


" کہاں جانا ہے؟"

نیچے اترتے اس کے قریب آتے دلچسپی سے پوچھا۔


" پاس ہی میری والدہ میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔ یہی جنگل کے اندر ایک طرف بستی ہے۔ وہاں جانا ہے۔" 

لڑکی نے پوری تفصیل بتائی۔


اس کی آنکھیں شیطانیت سے چمک اٹھیں۔ 

" جنگل کے اندر؟ ٹھیک ہے میں لے چلتا ہوں۔" 

اس نے ہاتھ بڑھایا۔ لڑکی نے بلا جھجک تھام لیا۔


دونوں ڈھلوان سے اترتے جنگل میں داخل ہوئے۔ اس نے دوسرا ہاتھ بھی لڑکی کی کمر کے گرد رکھا اور اسے قریب کر لیا۔ لڑکی چپ رہی۔ خاموشی سے چلتی رہی۔ کافی آگے جا کر وہ رک گئی۔


" کیا ہوا یہاں کیوں رک گئی؟"

وہ اس کی طرف پلٹا۔ 


" بس اور آگے نہیں جانا اب۔"

وہ اس کی طرف مڑی۔

" کیوں؟"

وہ اس کے قریب ہوا۔

" کیونکہ اب تمہارے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔" 

اس کے چہرے کی معصومیت اب غائب ہو چکی تھی۔ آنکھوں میں وحشت اور انتقام کی آگ جلنے لگی تھی۔


" کیا؟"

وہ تھوڑا پیچھے ہٹا۔ چہرے پر ناسمجھی کے آثار تھے۔


" آج تک جتنی لڑکیوں کو نوچا ہے سب یاد ہیں یا میں یاد دلاؤں؟" 

وہ اس کی طرف بڑھنے لگی۔


" کیا بکواس کر رہی ہو؟"

وہ گرجا۔ جب کہ وہ چاقو نکالتی اس کے قریب ہونے لگی۔


" یہ کیا مذاق چل رہا ہے؟"

وہ بے اختیار جھنجھلاتا پیچھے ہٹنے لگا۔


" مذاق؟" 

وہ رکی پھر ہنس پڑی۔


" تم نے جو کیا وہ مذاق تھا؟ ان لڑکیوں کی چیخیں مذاق تھیں؟"

وہ تیزی سے پلٹا۔ جیسے ہی بھاگنے کے لیے قدم اٹھایا سامنے کوئی اور کھڑا تھا۔ سرد و سپاٹ چہرہ اور آنکھوں میں درندگی۔


" یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ کون ہو تم لوگ؟" 

" وہی جو تمہاری باری کا انتظار کر رہے تھے؟"

زین کی آواز برف جیسی سرد تھی۔ 


وہ بھاگنے لگا لیکن زین نے اس کو گردن سے دبوچ کر درخت میں دے مارا۔ وہ چیختا ہوا نیچے گر گیا۔


زین جھکا، اس کا پیر پکڑا۔

" نہیں۔"

وہ چیخا۔


'کڑک' ہڈی کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ اس کی چیخیں جنگل میں گونجنے لگیں۔ زین نے اس کا دوسرا پیر بھی توڑ دیا۔


" لگتا ہے درد ہو رہا ہے!"

وہ اس پر جھکی، چاقو والا ہاتھ اوپر اٹھا۔


" نہیں نہیں۔"

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔


چاقو تیزی سے گھوما اور سیدھا اس کے کندھے میں پیوست ہو گیا۔ دوسرا وار کندھے سے نیچے اور پھر تیسرا سیدھا سینے میں۔ وہ تڑپنے لگا۔


" درد ہو رہا ہے۔۔۔ابھی بھی؟" 

وہ شیطانیت سے مسکراتے پوچھ رہی تھی۔


" نن۔۔۔ نہیں۔" 

" اچھا تو پھر اور برداشت کرو۔" 

اس نے پوری طاقت سے چاقو اس کی کلائی پر مارا۔ خون فوارے کی طرح نکلا، چھینٹے درخت پر گرے۔ اس کا ہاتھ الگ ہوتا نیچے گر گیا تھا۔ دوسرے ہاتھ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 


زین درخت کے ساتھ ٹیک لگائے سگریٹ پھونک رہا تھا جیسے سامنے کوئی مووی کا سین چل رہا ہو۔ 


زخمی لڑکا بہت مشکل سے سانس لے رہا تھا۔ اس نے چاقو ایک طرف پھینکا اور ساتھ پڑا وزنی پتھر اٹھا لیا۔ 


لڑکا ساکت پلکوں سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا جسم اب کوئی مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔ ہر جگہ خون پھیلا تھا۔ اس نے پتھر پوری طاقت سے اس کے چہرے پر دے مارا۔ اور پھر مارتی گئی۔ وہ مر چکا تھا لیکن وہ پھر بھی مارتی گئی۔ نہیں رکی، اس کے اندر جلتی آگ پوری طرح بھڑک چکی تھی۔ لڑکے کا چہرہ پچک کر خراب ہو چکا تھا۔


جب تک وہ خود رک نہیں گئی، زین خاموش سا ایک طرف کھڑا رہا۔ نہ اس کو کچھ کہا نہ روکا۔ بس دیکھتا رہا۔ 


وہ پتھر ایک طرف پھینکتی خون آلود ہاتھوں اور پھولی سانسوں کے ساتھ کھڑی ہوئی، پھر زین کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ اور کپڑے خون میں نہا چکے تھے۔ 


زین پاس آیا۔ جیب سے رومال نکال کر اس کا چہرہ صاف کیا پھر گردن۔ وہ چپ کھڑی گہرے گہرے سانس لیتی رہی۔ وہ پیچھے ہٹا اور اس لڑکے کی لاش گھسیٹ کر ایک گڑھے میں پھینک دی۔ اوپر پیٹرول ڈالا اور جلتا ہوا لائٹر 

پھینک دیا۔ 


" جلنے دو اسے۔ جہنم میں بھی ایسے ہی جلے گا۔" 

اگلے ہی پل دونوں غائب ہو گئے تھے۔


••••


شام کی گہرائی ہر طرف پھیل رہی تھی۔ اس سنسان گلی میں اس کے قدم ڈگمگاتے ہوئے چل رہے تھے۔ اس نے گیلا چہرہ اٹھایا، ارد گرد دیکھا کوئی نہیں تھا۔ گھر کا دروازہ دیکھا تو تالا کھلا ہوا تھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔


وہ بنا آہٹ پیدا کیے اندر داخل ہوئی۔ برآمدے میں لگا بلب جلا ہوا تھا۔ پہلی بار اسے اپنا گھر اپنا نہیں لگا۔ نظر دھیرے سے چھوٹے ڈرائنگ روم کی طرف گئی۔ سامنے صوفے پر رافیل بیٹھا تھا۔ روشنی ٹھٹک کر رکی پھر جم گئی۔


" کہاں تھی تم؟"

روشنی کو اس کا لہجہ معمول سے ہٹ کر لگا۔ اس کا دل گرنے لگا۔ 


" پولیس اسٹیشن۔" 

اس کا گلا سوکھ گیا۔


" کوئی فائدہ نہیں ہوتا وہاں جا کر۔"  

رافیل بیزاری سے بولتا صوفے سے ٹیک لگا گیا۔ روشنی کی آنکھیں پانی بہانے لگیں۔


" بابا۔۔۔ بابا کو لے گئے؟"

دوسرے لمحے وہ کسی بچے کی طرح ہچکیوں سے رونے لگی۔ رافیل خاموش بیٹھا رہا۔


" اندر جاؤ اور ریسٹ کرو۔" 

اس نے جیسے حکم دیا تھا۔ روشنی ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئی۔ نیچے رافیل صوفے سے لگ کر بیٹھا رہا۔ نظر سیڑھیوں سے اوپر جاتی روشنی پر تھی۔ ہر قدم پر روشنی کو محسوس ہو رہا تھا کہ پیچھے اس پر نظر لگی ہوئی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس لیے تیزی سے کمرے میں گھس گئی۔


کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ کانپتے ہاتھ لیے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ دماغ میں 'بابا' اور 'رافیل اتنا پرسکون کیسے ہو سکتا ہے' گھوم رہا تھا۔ 


جبکہ نیچے بیٹھا رافیل سوچ رہا تھا۔ چاچا گھر نہیں ہے۔ صرف وہ اور روشنی ہیں۔ اس کے دماغ میں وہ سوچ آئی تھی جسے انسان کو خود سے بھی چھپانا پڑتا ہے۔ 


اس نے فون اٹھایا اور دھیرے دھیرے گھمانا شروع کر دیا۔ عباد صاحب کو وہ ڈھونڈ نہیں سکتا تھا یا شاید وہ چاہتا ہی یہی تھا۔ آنکھوں کے پردے پر کچھ وقت پہلے کا منظر چلنے لگا۔ جہاں اس کے پیچھے عباد صاحب بھی گھر پہنچے تھے۔ روشنی آج لیٹ ہو گئی تھی اور عباد صاحب جلدی آگئے تھے۔ 


رافیل ایک کمرے میں چھپا سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اسی وقت اسے کسی چیز کے گرنے اور پھر ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے درز سے جھانک کر دیکھا تو کوئی آدمی عباد صاحب کو گھسیٹ کر لے جا رہا تھا۔ ان کے سر میں چوٹ لگی تھی۔ خون ماتھے سے بہہ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیلی۔ 


وہ باہر نہیں گیا تھا نہ ہی یہ سوچ اس کے دماغ میں آئی تھی کہ اسے آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ چھپ کر کھڑا تماشہ دیکھتا رہا۔ اس دیو قامت آدمی کے سامنے عباد صاحب نہایت کمزور اور بے بس دکھائی دیتے تھے۔ وہ انہیں بے ہوش کرتا اٹھا کر لے گیا تھا۔ 


ضرور یہ وہی ہوگا جس نے چاچا کو پرچی دی تھی۔ بھلا وہ اس کے سامنے جا کر کیوں کھڑا ہوتا؟ کیوں اپنی موت کو دعوت دیتا۔


اس چیز کے آگے اس نے کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔ عباد صاحب کے اس پر کتنے احسانات تھے وہ سب بھول گیا تھا۔ کچھ دیر بعد روشنی گھر میں داخل ہوئی تھی۔ وہ تب بھی باہر نہیں نکلا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی چلی گئی تھی۔ اس نے سوچا اسے روشنی کا پیچھا کرنا چاہیے لیکن پھر اپنا ارادہ ترک کرتا وہ ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گیا تھا۔


" یہ معاملہ میرے بس کا نہیں۔" 

اس نے سوچا اور صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔ اسے اپنی جان عباد صاحب کے احسانات سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔ وہ کیوں کسی مصیبت میں پڑتا؟ آخر کار، ہر انسان کو پہلے اپنی فکر کرنی چاہیے، اور رافیل تو ویسے بھی خود کے علاوہ کسی کا سگا نہیں تھا۔ وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔ 


•••••

اذلان اپنے آفس روم میں ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکائے، دونوں ہاتھ آپس میں جوڑے ہونٹوں کے قریب رکھے بیٹھا تھا۔ کمرہ خالی تھا۔ میز پر فائلز ترتیب سے رکھی تھیں۔ دو دن گزر چکے تھے مزید پانچ دن باقی تھے۔ اس نے کرسی سے ٹیک لگائی۔ ہاتھ ماتھے پر گیا۔ آنکھیں بند کیں۔


پانچ دن میں وہ گھر چھوڑنا جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں شیزل ہنستی تھی، جسے سونیا نے آباد کر رکھا تھا۔ پورا گھر ان دونوں سے مہکتا تھا۔ جہاں زندگی، زندگی لگتی تھی اور اب کوئی اجنبی آکر کہہ رہا تھا کہ خالی کرو۔ 


اس نے فون اٹھایا، پراپرٹی ڈیلر اور وکیل کا نمبر نکالا، پھر کچھ سوچ کر موبائل واپس رکھ دیا۔ یہ معاملہ قانونی نہیں لگ رہا تھا۔ یہ ایک آرڈر لگ رہا تھا۔ وہ کرسی سے اٹھا۔ چلتا ہوا کھڑکی کے پاس آیا۔ شہر چل رہا تھا، لوگ بھاگ رہے تھے جیسے دنیا میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ 


اگر گھر چھوڑنا بھی پڑا تو وہ کس منہ سے سونیا اور شیزل کو کہے گا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بولنا آسان ہوتا ہے۔ سوچنا اس سے بھی زیادہ آسان لیکن کرنا؟ بہت مشکل۔ 


اس کی آنکھیں خالی ہو گئیں۔ پہلی بار اس کو احساس ہوا کہ کوئی اس کی زندگی کے مہرے اپنی مرضی سے ہلا رہا ہے اور اس کے پاس چلنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے۔


••••


دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ وہ سیدھا اندر چلتی گئی۔ نہ پیچھے مڑ کر دیکھا نہ ہی کچھ کہا۔ اس کے کپڑوں پر تازہ خون کے نشان تھے۔ وہ ایک لمحے کو رک گئی پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ چہرہ بے تاثر رہا جیسے کچھ دیر پہلے جو ہوا وہ اس نے نہیں کسی اور نے کیا ہے۔


زین چلتا ہوا اس کے پیچھے آ کر رک گیا۔ وہ پلٹی اور اس کو دیکھا۔


" اب کیا؟"

" کپڑے بدل لو۔"


وہ چپ چاپ اندر چلی گئی۔ زین کی نظریں جھکیں۔ فرش پر تازہ خون کے قطرے گرے تھے۔ اس نے رومال نکالا، جھکا اور دھیرے سے صاف کر دیا۔ اس کی انگلی کی پور پر ہلکا سا نشان لگ گیا تھا۔ کچھ پل اس نے دیکھا پھر رومال واپس جیب میں ڈال دیا۔


اندر باتھ روم میں وہ بیسن کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔ پانی بہتا جا رہا تھا۔ وہ اپنی آنکھوں میں وہ لڑکی ڈھونڈ رہی تھی جو وہ پہلے تھی۔


وہ نہیں ملی۔ 


اس نے ہاتھ دھویا اور پھر دھوتی رہی۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ زین اس کے کمرے کے دروازے کے باہر سے گزرا۔ دروازہ کھلا تھا۔ اس نے لاک کر دیا۔


صبح ناشتے کے وقت وہ خالی خالی نگاہوں سے کھانا دیکھ رہی تھی۔ زین اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے پلیٹ اس کی طرف کھسکائی۔


" پروٹین کی ضرورت ہے۔ تمہیں کمزور نہیں پڑنا۔" 

اس نے نظر اٹھا کر زین کو دیکھا۔

" تمہیں ڈر نہیں لگتا مجھ سے؟"

وہ پوچھ رہی تھی۔


" تمہیں لگتا ہے خود سے؟" 

وہ چپ رہ گئی۔ کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ چلا گیا۔ وہ اس کی گن سے کھیلتی رہی۔ 


رات ہوئی۔ وہ واپس آیا۔ دیوار سے ٹیک لگائے وہ اس کو دیکھ رہی تھی۔ زین کی چال میں آج ہلکی سی لنگڑاہٹ تھی۔


" پھر مارا کسی کو؟"

وہ چپ رہا۔ وہ چل کر اس کے سامنے آئی۔


" مجھے بچاتے بچاتے مر جاؤ گے ایک دن۔"

وہ ہنسی پھر کپاس اٹھا کر بے دردی سے اس کے چہرے کے زخم کو رگڑ ڈالا۔ زین کا چہرہ تکلیف سے سرخ ہوا لیکن وہ چپ ہی رہا تھا۔ 


" درد ہو رہا ہے؟"

وہ مذاق اڑانے لگی۔


" تم زندہ ہو کافی ہے۔" 

اس کا دماغ ہل گیا۔ اس نے کپاس نوچ کر ایک طرف پھینکی اور اچانک زین کو دھکا دے دیا۔ وہ ہلکا سا پیچھے ہوا۔


" مارو مجھے۔ نہیں رہنا مجھے زندہ۔ چلاؤ مجھ پر۔ ہاتھ اٹھاؤ، دکھاؤ اپنا اصلی چہرہ۔ سب ایک جیسے ہو تم۔" 

وہ چیخنے لگی۔ اسے مکے مارنے لگی۔ سینے پر، کندھے پر۔ پھر سے۔ زور زور سے۔ زین نے دونوں ہاتھ پہلو میں گرا دیے۔ وہ خود کو بچا نہیں رہا تھا۔ وہ بچاتا ہی نہیں تھا۔ وہ صرف اس کو دیکھ رہا تھا۔ صرف دیکھ رہا تھا۔


اس نے زین کا کالر پکڑ کر اسے زور سے کھینچا۔ 

" غصہ کرو، جانور بن جاؤ۔" 

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔


" تم پہ نہیں۔" 

وہ فریز ہو گئی۔ اس کو دیکھتی رہ گئی۔


آدھی رات کو اس کی آنکھ کھلی تھی۔ نظر دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے زین پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی گن پاس ہی فرش پر پڑی تھی۔


" تم سوتے نہیں ہو؟" 

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ آواز میں نیند کا خمار تھا۔


" تم سوتی ہو۔"


وہ چڑ گئی۔ پتہ نہیں کیسا ڈھیٹ انسان تھا وہ۔ ہمیشہ سے ایسا تھا یا صرف اس کے سامنے بنتا تھا۔


وہ اٹھی، کچن میں گئی۔ پانی کا گلاس بھرا اور اس کے سامنے آ کر رک گئی۔


" تم مر جاؤ تو شاید مجھے سکون مل جائے۔" 

پانی پینے کے بجائے اس نے زین کے سر پر گرا دیا۔


وہ خاموشی سے کھڑا ہوا۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔ ابھی وہ اس کو مارے گا۔۔۔ ابھی مارے گا۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔ 


" ٹرائی کر لو۔" 


اس کا خون کھول اٹھا۔ اس نے گلاس فرش پر دے مارا۔ نیچے رکھی اس کی گن اٹھائی اور اس کے سینے پر رکھ دی۔ ہاتھ بری طرح کانپ اٹھے۔


زین اس کے ہاتھوں کو نہیں اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی انگلی ٹریگر پر گئی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر زین کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑنے لگے۔


" تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟"

" تم سے؟ نہیں۔" 


وہ ایک بار پھر کچھ بول نہیں سکی تھی۔ رات گزر گئی، دن چڑھ آیا۔ شام ہوئی اور پھر رات آ گئی لیکن زین نہیں آیا۔ اگلا دن بھی گزر گیا۔ وہ اپنے کاموں میں مصروف رہی۔ جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


اس نے موبائل پر وقت دیکھا۔ رات کے ایک بج رہے تھے۔ وہ کرسی پر بیٹھی تھی۔ سامنے میز پر سامان رکھا تھا۔ گنز، چاقو، راڈ، دستانے۔ وہ سب سامان ترتیب سے رکھ رہی تھی۔ اگلا شکار ہونے والا تھا۔ اس بار وہ مکمل تیار تھی۔ 


چیزیں ترتیب سے رکھتے اس کی نظر بھٹک بھٹک کر دروازے پر چلی جاتی، پھر واپس، پھر واپس دروازے پر، پھر سے واپس اور پھر دروازے پر۔ وہ اس کا انتظار نہیں کر رہی تھی لیکن یہ حرکت اس کو لاشعوری نہیں لگ رہی تھی۔


اس نے سیاہ جیکٹ ایک طرف رکھی۔ چھوٹا سا بیگ اٹھایا اور اس میں سامان ڈالنے لگی۔ 


" لگتا ہے آج لیٹ ہو گیا۔"

وہ جھنجھلا کر بولی پھر ٹھٹک گئی۔ یہ کیا بول دیا اس نے؟


" مجھے فرق نہیں پڑتا۔ مر جائے وہ۔"

اس نے سر جھٹکا اور پھر سے مصروف ہو گئی۔ 


آدھی رات بھی گزر گئی۔ اس کی آنکھ ہلکی سی آہٹ سے کھلی تھی۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ نیم اندھیرے میں وہ ایک ہاتھ کندھے پر رکھے چلا آ رہا تھا۔ وہ چونکی جبکہ زین ہلکا سا جھکا بنا اس کی طرف دیکھے تیزی سے اپنے کمرے میں گھس کر دروازہ لاک کر گیا۔


کچھ سیکنڈز تک وہ غائب دماغی سے کھڑی رہی۔ نظریں ہلکی روشنی میں فرش پر گئیں جہاں خون کے قطروں کی لکیر بند دروازے کی طرف جا کر رک گئی تھی۔ اس نے لب بھینچے اور دروازے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ 


" دروازہ کھولو۔" 

نہ اس نے ہینڈل گھمایا نہ دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔


" میں نے کہا دروازہ کھولو۔" 

اس کی آواز اونچی ہوئی۔ تب بھی دروازہ نہیں کھلا۔


" تم سمجھتے ہو کہ میں اندھی ہوں۔"  

اس نے اب کی بار زور سے دروازے پر ہاتھ مارا۔

" کھولو۔"


دروازہ تب بھی نہیں کھلا تھا۔ وہ پہلی دفعہ گھبرائی تھی۔

" زین پلیز کھول دو۔ مجھے مزید زخمی مت کرو۔" 

دروازے سے ماتھا لگائے اچانک ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔


اگلے سیکنڈ لاک کھلا۔ اس نے گیلا چہرہ اٹھا کر زین کو دیکھا۔ وہ تیزی سے پلٹ گیا۔ وہ اندر گئی۔ نظر اس کی جیکٹ پر گئی جو پوری خون سے گیلی ہو چکی تھی۔ اس کا دل رک گیا۔ 


زین نے جیکٹ اتار کر نیچے پھینک دی۔ اس کی اندرونی شرٹ کا اس سے بھی برا حال تھا۔ وہ بھاگ کر فرسٹ ایڈ باکس اٹھا لائی۔ 


زین نے شرٹ اتارنے کے بجائے اسے کینچی سے کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا اور تب اس نے دیکھا زین کے کندھے پر گہرا چاقو کا نشان تھا۔ خون ابھی بھی بہہ رہا تھا۔ اس نے کپاس اٹھائی اور بنا کچھ کہے زخم کے گرد صاف کرنے لگی۔ 


نرمی سے صاف کرتے ہوئے وہ پوری کوشش کر رہی تھی کہ اسے زیادہ تکلیف نہ ہو۔ اس نے نظریں اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ جذبات سے عاری چہرہ لیے سیدھ میں دیکھ رہا تھا۔


زخم صاف کرتے اس کی نظر پھر سے اس کے چہرے پر گئی۔ اس نے پہلی بار غور کیا اس کے چہرے پر چھوٹے چھوٹے زخموں کے نشان تھے۔ چہرے سے ہوتی اس کی نظر اس کی گردن پر گئی۔ وہاں بھی ایسے ہی نشان تھے۔ بہت سارے۔ اس نے فوراً نظر ہٹائی۔ 


بینڈج کا رول اٹھایا اور اس کے کندھے کے گرد لپیٹنا شروع کر دیا۔ زین اسے گائیڈ نہیں کر رہا تھا۔ جو کچھ وہ کر رہی تھی اپنی مرضی سے کر رہی تھی اور وہ کرنے دے رہا تھا۔ اوپر سے وہ اس کو دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ 


وہ کوشش کر رہی تھی کہ بینڈج لپیٹتے وہ اس کو چھوئے نا لیکن یہ مشکل تھا۔ ہر احساس پر اس کی دھڑکن اور تیز ہو جاتی۔ آخری رول کی پٹی باندھ کر اس نے زین کی ٹھوڑی دیکھی۔ ہاتھ بے اختیار ہلکا سا اس کو چھو گیا۔


" چہرے پر کچھ لگا لینا۔" 


ابھی زین اس کو دیکھتا وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔


جاری ہے


Comments

  1. No words writer g kamal itna bhayanak b likh sakti hn ap brilliant 👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻 bravo keep going ❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts