Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Ep 8 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer Episode 8

By Munaza Niaz 



موبائل کی مدھم روشنی اندھیرے میں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ صوفے پر نیم دراز وہ ایک چیٹ کھولے بیٹھا تھا۔ آخری میسج جو سین کر لیا گیا تھا لیکن جواب نہیں آیا تھا۔ 


" سوچو، پھر جواب دو۔" 

اس نے پڑھ کر سکرین بند کر دی پھر کھولی، پھر بند کر دی۔


صوفے پر موبائل رکھے وہ چل کر کھڑکی کے سامنے آ کر رکا۔ پردے ہٹائے، باہر ہر طرف گہری خاموشی تھی۔ اس نے دونوں بازو باندھے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ آدھا چاند اور لاتعداد ستارے۔ آسمان اتنا خوبصورت دکھ رہا تھا کہ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گیا۔ اگلے ہی لمحے اس کا دھیان بھٹک کر پھر سے ردا کی طرف چلا گیا۔ وہ مڑا، فون اٹھایا اور میسج ٹائپ کیا۔ 


" پریشر فیل مت کرنا۔ جو صحیح لگے وہی کرنا۔"

اس نے سینڈ نہیں کیا۔ کچھ دیر دیکھتا رہا پھر ڈلیٹ کر دیا۔ 


یہ بھی پریشر ہی تھا۔ دماغ میں پھر سے تصویریں گھومنے لگیں۔ بینچ پر بیٹھی ہوئی، سنجیدہ بننے کی ایکٹنگ کرتی ہوئی۔


" پاگل لڑکی۔"

وہ مسکرایا۔


اس کا ہر خیال اس سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو رہا تھا۔


•••• 

سجاد درانی سفید سوٹ میں ملبوس جیسے ہی گاڑی سے نکلا کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے۔ ہر کوئی خود آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملا رہا تھا۔ آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ مسکرا کر ہاتھ ملاتا آگے بڑھنے لگا۔ پولیس کی وردی میں ملبوس کھڑے افسر اس کے گزرتے 'سر' کہہ کر سلام کرتے۔


جیسے ہی وہ اپنے آفس روم میں پہنچا پیچھے اس کی سیکرٹری فائل اٹھائے اس کے پاس آئی۔ کافی جگہوں پر سائن کروا کر 'میں آپ کے لیے کافی لے کر آتی ہوں۔' کہہ کر خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے پلٹ گئی۔ 


اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی سیکرٹری نے جاتے سمے نیوز آن کر دی تھی۔ سجاد نے گلاسز اتار کر کرسی سے ٹیک لگا لی۔ کچھ سیکنڈز بعد دروازے پر دستک ہوئی اور ایک آدمی اندر داخل ہوا۔


" کام ہو گیا سر۔" 

وہ پاس آ کر بولا۔ 


سجاد نے پوچھا بھی نہیں کہ کون سا کام۔

" میڈیا سائیڈ کلین رہنی چاہیے۔"

" جی سر۔"

" اور پولیس؟" 

اس نے پوچھا۔

" ہینڈل ہو چکی ہے۔" 

آدمی نے بتایا۔

" اگلا۔" 

اس نے محض ایک لفظ کہا تھا۔ 


آدمی سمجھ کر سر ہلاتا پلٹ گیا۔ وہ اٹھا اور گلاس وال کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے چہرے پر صرف ایک ہی چیز تھی۔ ہر چیز کو کنٹرول کرنے کی طاقت۔

•••••


فیکٹری میں آج خاموشی نہیں تھی۔ خالی ہال میں ایک آدمی کرسی سے بندھا پڑا تھا۔ ساتھ ہی ایک اور آدمی نیچے پڑا کراہ رہا تھا۔ 


اکبر نے کرسی گھسیٹ کر ان کے سامنے رکھی اور آرام سے بیٹھ گیا۔ اس نے اس کے منہ پر چپکی ٹیپ دھیرے سے اتار دی۔ آدمی ہانپنے لگا تھا۔


" مجھے۔۔۔ مجھے جو کچھ معلوم تھا میں نے سب بتا دیا۔ اب پلیز مجھے جانے دو۔" 

اکبر نے وقت دیکھا پھر اس کو۔

" تین بار یہی کہا ہے تم نے۔"

اس کا لہجہ پرسکون تھا۔

" میں جھوٹ نہیں بول رہا۔"

وہ رونے لگا۔ اکبر نے سکہ نکالا۔


" ہیڈ، تم مرو گے۔ ٹیل، تمہارا بھائی۔"  

آدمی نے خوفزدہ ہو کر نیچے پڑے اپنے بھائی کو دیکھا۔ اکبر نے سکہ اچھال دیا لیکن دیکھا نہیں۔آدمی چیخ پڑا۔


" میں۔۔۔ میں بتاتا ہوں سب۔"

" وقت ختم ہو چکا ہے۔"

اکبر نے سکہ جیب میں ڈالا اور پلک جھپکتے ہی قریب پڑے خنجر سے اس کا گلا چیر دیا۔ خون کی دھار اکبر پر گری مگر اس کی پلکوں نے جھپکنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وہ ساکت تھا، بالکل کسی بے جان پتھر کی طرح، جیسے اسے انسانی تکلیف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آدمی کی گردن پیچھے لٹک گئی۔ نیچے پڑا اس کا بھائی بری طرح چیخنے لگا۔


اکبر نے مارکر اٹھایا اور اس کے ہاتھ پر لکھنا شروع کر دیا۔

" جھوٹ مہنگا پڑتا ہے۔" 


اس نے پیچھے کی طرف کھسکتے دوسرے آدمی کو دیکھا۔ آگے ہو کر اس کا موبائل نکالا اور ایک کال ملائی۔


" کام پر گیا ہے۔ دیر ہو سکتی ہے۔ انتظار مت کیجئے گا۔"

کال بند کرنے کے بعد اس نے فون ایک طرف پھینکا پھر اس آدمی کو کالر سے پکڑ کر سیدھا اٹھایا۔

" مجھے چھوڑ دو۔ میں سب بتاؤں گا۔"  

وہ پھر سے چیخا۔


اکبر کی نظریں مزید ٹھنڈی ہو گئیں۔

" یہاں چلانے سے کوئی نہیں آتا۔"

آدمی کانپنے لگا۔

" میں بتا رہا ہوں۔"


ٹھیک سات منٹ بعد آدمی بولتے بولتے رک گیا۔

" میں نے سب بتا دیا۔ اب مجھے جانے دو۔"

اکبر نے اس کا کالر چھوڑا۔

" تم نے سب بتا دیا لیکن دیر بہت کر دی۔"

آدمی کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ 

" مم۔۔۔ میں ڈر گیا تھا۔"

" مجھے انتظار پسند نہیں۔"


تھوڑی دیر بعد وہ باہر نکلا۔ سامنے دو آدمی کھڑے تھے۔ اسے جب آتا دیکھا تو دونوں کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ اکبر کی شرٹ آگے سے پوری سرخ تھی۔ چہرے سے بھی خون کے قطرے ٹپک کر نیچے گر رہے تھے۔ دونوں ہاتھ بھی خون سے لت پت تھے مگر یہ خون اس کا نہیں تھا۔


" صفائی کر دینا۔"

" انفارمیشن یوزفل تھی؟" 

ایک آدمی نے اس سے پوچھا۔


اکبر بائیک کے قریب گیا۔ ہیلمٹ اٹھا کر پہنا۔

" نہیں! اگر ہوتی تو وہ زندہ ہوتا۔"  


دونوں آدمی جھرجھری لیتے صفائی کرنے لگے۔


•••••


روشنی اپنے کمرے میں فرش پر بیٹھی سیدھ میں دیکھ رہی تھی۔ نظریں بار بار بھٹک کر فون کی طرف اٹھ جاتیں۔ کس کو کال کرے؟ کون مدد کرے گا؟ کون سب ٹھیک کرے گا؟


اس نے اپنا فون اٹھایا۔ اسکرین پر شہریار کا نام جگمگا رہا تھا۔ اس نے بنا سوچے سمجھے کال کر دی۔ پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔


" شہریار۔۔۔" 

اس نے روتے ہوئے پکارا۔ 


" روشنی کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟"

شہریار پریشانی سے بولا۔


" شہریار بابا۔۔۔ بابا کو لے گئے۔"

اس نے ہچکی لی۔

" کون لے گیا؟"

اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔


" مجھے نہیں پتہ۔ میں اکیلی ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ پلیز میری مدد کرو۔ بابا کو لا دو۔۔۔ پلیز شہریار۔"

اس کا انداز ایسا تھا کہ اگر شہریار سامنے ہوتا تو وہ اس کے پاؤں پکڑ لیتی۔


" روشنی میری جان۔۔۔ پلیز رو مت۔ خود کو سنبھالو۔ میں ہوں نہ۔۔۔ میں انہیں ڈھونڈوں گا۔ تم پریشان مت ہو۔ بس اتنا بتاؤ تم ٹھیک ہو؟ سیف ہو نا؟" 


روشنی نے روتے ہوئے، چہرہ اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ لاکڈ تھا۔ 

" شاید۔"

وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔


" اوکے اوکے۔۔۔ اب تم چپ ہو جاؤ اور جہاں ہو وہی رہو۔ دروازہ لاک رکھو۔ باہر مت نکلنا۔ تم سمجھ رہی ہو میری بات؟"

روشنی نے اثبات میں سر ہلایا۔

" ہاں! میں سمجھ گئی۔ تم پلیز جلدی کرو۔ بابا کو ڈھونڈ دو۔"

وہ پھر سے رونے لگی۔


" ہاں میں کچھ کرتا ہوں۔" 

کال کٹ گئی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا دیا۔ 


اگلے ہی لمحے پھر سے موبائل بج اٹھا۔ اس نے گھبرا کر دیکھا۔ ان نون نمبر تھا۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ ساکت بیٹھی فون کو گھورتی رہی۔ موبائل بج بج کر بند ہو گیا۔


اس نے چہرہ صاف کیا۔ موبائل پھر سے بج اٹھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔ کال بند ہو گئی۔ ایک میسج سکرین پر جگمگایا۔


" اگر اپنے باپ کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو کال رسیو کرو۔"


اس کا جسم سن ہو گیا۔ جیسے ہی فون پھر سے بجا اس نے فوراً اٹھا لیا۔ 

" تمہارا باپ ابھی زندہ ہے لیکن حالت کافی خراب ہے۔ ملنا چاہو گی؟"

وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔

" کہاں ہیں وہ؟ کیا کیا ہے تم نے ان کے ساتھ؟" 

وہ چیخی۔


" لوکیشن بھیج رہا ہوں۔ آ کر دیکھ لو۔"  

فون بند ہوا۔ وہ باہر کی طرف بھاگی۔ رافیل گھر نہیں تھا۔ وہ بنا کسی کو کچھ بتائے گھر سے نکل گئی تھی۔


•••••


آدھی رات ہو چکی تھی۔ زین نے دیکھا وہ ابھی تک ٹریننگ کر رہی تھی۔ وہ کچھ پل دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا۔

" بس۔"


وہ رکی، مڑ کر اس کو دیکھا۔

" تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے؟"  

اس کا لہجہ استہزاہیہ ہوا۔ زین پاس نہیں آیا۔


" کل تمہاری گرفت ڈھیلی تھی۔ آج زیادہ ہوئی تو کل تم فیل ہو جاؤ گی۔"


وہ اس کو گھورنے لگی۔

" مجھے مت سکھاؤ۔" 

اس نے گلوز اتار کر ایک طرف پھینکے اور باہر کی طرف بڑھی۔ وہ سائیڈ پر ہو گیا۔


" لوکیشن آن رکھنا۔"

وہ تیورا کر گھومی۔

" کیوں؟" 

" اگر مر گئی تو باڈی ریکور کرنے میں آسانی ہوگی۔"


ابھی وہ کچھ بولتی باہر دروازہ ان لاک ہونے کی آواز آئی۔ دونوں بیک وقت چونکے۔


" میرے پیچھے رہنا۔"

گن نکالتے اسے لیے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ ہال میں بھاری قدموں کی آہٹ ہونے لگی۔


" تین۔"

وہ بولی۔

" ہاں۔"

زین نے کہا۔ 


اسی وقت اس نے ہاتھ بڑھا کر ساری لائٹس آف کر دیں۔ دو سائلنسر لگی گولیاں چلیں۔ ایک اٹیکر نے ٹارچ روشن کر دی۔ جیسے ہی فلیش زین کی طرف گھومی اسی وقت اس نے گولی چلا دی۔ ٹارچ لڑھک کر فرش پر پھسلتی گئی۔ 


کسی کے گرنے کی آواز آئی تبھی ایک اور گولی چلی۔ وہ اسے پکڑے تیزی سے جھکا۔ اوپر دیوار میں شگاف پڑ گیا۔ اس نے گھبرا کر زین کو دیکھا جو کسی دیوار کی طرح اس کے سامنے موجود تھا۔


" ہٹو سامنے سے۔"

وہ سرد لہجے میں بولی۔


" نہیں۔" 

تبھی ایک اور گولی چلی۔ زین کی جیکٹ پیچھے سے پھٹ گئی۔ گولی اس کو بنا نقصان پہنچائے دروازے میں دھنس گئی۔ 


وہ پہلی دفعہ خوف زدہ ہوئی تھی۔ زین نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا ہاتھ پکڑا اور پچھلے دروازے کی طرف چلنے لگا۔ وہ حیران ہوئی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر نکلنے کا کوئی خفیہ راستہ بھی موجود ہے۔ دونوں ایک تنگ ٹنل سے گزر رہے تھے۔ مٹی، نمی اور گہرا اندھیرا۔ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن زین نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور اسے اپنے ساتھ لیے بنا کسی چیز کو ٹٹولے آگے بڑھ رہا تھا جیسے اسے یہ راستہ حفظ ہو۔ جہاں سے وہ آنکھیں بند کر کے بھی گزر سکتا تھا۔


ٹنل سے باہر نکلنے کا راستہ ایک جنگل میں کھلا تھا۔ تبھی پیچھے دھماکہ ہوا۔ وہ رک گئی۔


" انہوں نے ڈرانے کے لیے ایک بلاسٹ کیا ہے۔ چلتی رہو۔"

" سب ختم؟"

وہ بڑبڑائی۔


زین نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

" جب تک تم زندہ ہو کچھ ختم نہیں ہوا۔"


دونوں بنا رکے جنگل میں بھاگ رہے تھے۔ وہ تھوڑا آگے تھی جبکہ زین اس کے پیچھے ہوتا یا پھر برابر۔


" ہم رک کیوں نہیں رہے؟"

وہ تھک گئی تھی لیکن رکی نہیں تھی۔

" کیونکہ آج رات ہماری جگہ صرف ایکسپوز نہیں ہوئی بلکہ ہماری موجودگی کنفرم ہوئی ہے۔"

زین نے سیدھا جواب نہیں دیا تھا۔ وہ آگے دیکھتا جا رہا تھا۔


" اور جو آج آئے تھے وہ مارنے نہیں آئے تھے صرف دیکھنے آئے تھے۔"

" مطلب؟"

" وہ جگہ اب جگہ نہیں رہی۔ وہ اب ایک نشان ہے جہاں ہم واپس جا کر ان تک پہنچ سکتے ہیں۔"

دونوں اب ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ 

" یعنی ہم بھاگ نہیں رہے؟"

" ہم انہیں غلط جگہ دیکھنے دے رہے ہیں۔"

وہ اس کو دیکھتی رہ گئی۔


وہ کیسا انسان تھا؟ انسان تھا بھی یا نہیں۔ کون لوگ اس کو مارنا چاہتے تھے؟ بہت سے سوالوں میں الجھی وہ اس کے ساتھ کافی دور ایک لکڑی کے کیبن میں داخل ہوئی۔


" یہ کیا ہے؟"

وہ اندر سے بالکل خالی تھا۔


زین نے جھک کر لکڑی کا زمینی دروازہ کھولا۔ وہ اس کے ساتھ سیڑھیاں اتری۔ نیچے ایک چھوٹا سٹیش تھا۔ نقشے، ایمو، فونز اور اسی طرح کی کچھ چیزیں موجود تھیں۔ وہ حیرت سے اس کی طرف مڑی۔


" تم نے یہ سب پہلے سے۔۔۔"

" میں ہمیشہ دو قدم آگے رہتا ہوں۔" 


وہ دیکھتی رہی۔

" تم ہمیشہ سے اسی زندگی میں۔۔۔"  


زین نے کوئی جواب نہیں دیا یا شاید اس نے سنا نہیں۔

" ہم یہاں کتنی دیر رکیں گے؟"

" صبح تک پھر واپس۔"


دونوں آمنے سامنے دیوار سے لگ کر بیٹھ گئے۔ باہر سرد ہوا خاموش جنگل کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔ رات دھیرے دھیرے اور گہری ہو رہی تھی۔ موبائل کی ٹارچ آن کر کے زین نے میز پر رکھ دی تھی۔ 


ہر تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر باہر جاتا۔ دروازہ چیک کرتا۔ اندھیرا دیکھتا پھر واپس آ کر بیٹھ جاتا۔ ہر ہلکی آہٹ پر اس کا سر ہل جاتا۔ ہاتھ فوراً جیکٹ کے اندر گن پر چلا جاتا۔ وہ خاموشی سے اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی۔


" تم ہمیشہ ایسے ہی الرٹ رہتے ہو؟"

" سو جاؤ۔"

وہ بولا۔


اس کی نظر زین پر سے ہٹی ہی نہیں۔ اس نے نوٹ کیا تھا۔ وہ کبھی اس کی طرف پوری پیٹھ نہیں کرتا تھا۔ کبھی اس سے پہلے نہیں سوتا تھا۔ ہمیشہ سائیڈ پر، کنارے پر ہوتا تھا۔ جیسے اگر کوئی آئے تو پہلے اس تک پہنچے اس تک نہیں۔ وہ پھر سے دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ 


" تمہیں نیند نہیں آئی؟"

وہ دھیرے سے بولی۔

" ضرورت نہیں۔"

" انسان ہو؟"

" کبھی تھا۔"

وہ چپ رہ گئی۔


اس کی آنکھوں میں نہ تھکن تھی نہ نیند تھی جیسے عادت ہو جاگنے کی۔ 


" تمہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں ہوتی؟" 

زین نے اس کو چہرہ اٹھا کر دیکھا۔

" تم یہاں ہو۔" 


وہ سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

" ایک بات پوچھوں؟" 

اس کی نظریں ابھی بھی نہیں ہٹی تھیں۔

" پوچھو۔"

" تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟" 

وہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ بنا پلک جھپکائے۔ 


وہ چپ رہا۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں آنے دیا۔ نہ غصہ، نہ بے چینی، نہ کوئی مسکراہٹ۔ کافی دیر خاموشی چھائی رہی۔


" محبت انسان کرتے ہیں۔ تم انسان نہیں ہو؟"

اس کی آنکھوں میں چیلنج نہیں سوال تھا۔ تب اس نے زین کی بے تاثر آواز سنی تھی۔

" نہیں۔"

" پھر کیا ہو؟"

" جو تمہیں زندہ دیکھنا چاہتا ہے۔"  


ایک سرد لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔

" یہ جواب نہیں ہے۔"

" تم نے سوال غلط پوچھا۔"

" پھر صحیح کیا ہے؟" 

" پوچھو کیا میں تمہیں کبھی چھوڑ سکتا ہوں۔"


وہ خاموش رہی۔ اس سوال کا جواب وہ خود بھی جانتی تھی۔ ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ 


یہ کہتا ہے کہ یہ مجھے چھوڑ نہیں سکتا۔ دل ہی دل میں کہتے وہ ہنسی۔ سب مرد ایک جیسے ہی ہیں۔


" تم جھوٹ بہت اچھا بول لیتے ہو۔"  

زین نے دوبارہ اس کو دیکھا۔

" پریکٹس ہے۔"

اس کی بھنویں سکڑ گئیں۔

" کتنی لڑکیوں کو ایسے ہی تم نے بچایا ہے؟"  

" تم پہلی ہو۔"

" ایک بار پھر جھوٹ۔"

وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔

" ہو سکتا ہے۔"

" تم جیسے لوگوں کا یہی پیٹرن ہوتا ہے۔ پہلے بچاتے ہو پھر کنٹرول کرتے ہو پھر حق جماتے ہو پھر۔۔۔۔" 

وہ رک گئی۔

" کنٹینیو۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔"


وہ اسے گھورنے لگی۔

" تمہیں غصہ نہیں آ رہا؟"

" نہیں۔"

" میں ابھی یہاں سے چلی جاؤں تو؟"  

" زیادہ دور نہیں جا سکتی۔"

" ٹرائی کروں؟"

" میں روکوں گا نہیں۔"

" تو تم ڈرتے ہو؟"

" ہمم۔"

وہ کنفیوز ہو گئی۔

" سچ میں؟"

" ہاں۔"

" کس سے؟" 

زین نے غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

" کہیں تم ٹوٹ کر واپس اندھیرے میں نہ چلی جاؤ۔" 


اس نے بیزاری سے اس کو دیکھا۔

" ناٹک۔۔۔ تمہیں فرق ہی نہیں پڑتا کہ میں مروں یا جیوں۔"

" پڑتا ہے۔"

" کتنا؟"

" جتنا سانس کے آنے اور جانے سے پڑتا ہے۔"


وہ ہنس پڑی۔

" ڈائیلاگ یاد کر کے آئے ہو؟"

" نہیں۔ میں کم بولتا ہوں اس لیے یاد رہ جاتا ہوں۔"


وہ جھنجھلا گئی۔ غصے سے دیوار پر ہاتھ مارا۔

" شاؤٹ کرو۔۔۔ غصہ کرو۔۔۔ پروو کرو کہ تم بھی انسان ہو۔"

زین نے اس کا غصیلہ چہرہ دیکھا۔ کچھ سیکنڈز خاموش رہا پھر بولا۔

" میں نے اگر غصہ کیا تو تم کبھی یقین نہیں کر پاؤ گی۔"


اس کا گلا خشک ہونے لگا۔

" تو اپنا آپ کیوں چھپا رہے ہو؟"

" میں کچھ بھی نہیں چھپا رہا۔"

" پھر اتنی سرد مہری کیوں؟"

" کنٹرول۔"

" یا ڈر؟"

وہ سوالیہ ہوئی۔

" چوائس۔"

یک لفظی جواب۔


اس کے پاس سوال ختم ہونے لگے۔ یہ وہ ری ایکشنز نہیں تھے جو وہ دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ کھل کر اس کے سامنے آئے۔ اپنے خول سے باہر نکلے۔ غصہ ہو، چیخےچلائے۔ جبکہ زین اسے اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے اس کے سوال اٹیک نہیں درد ہوں۔


" اگر میں تمہیں چوٹ پہنچاؤں تو؟"

اس نے ہار نہیں مانی تھی۔

" الریڈی دے چکی ہو۔" 

اس کا سانس پہلی دفعہ رکا۔

" کیسے؟"

" تم خود کو درد دیتی ہو اور دیکھنا مجھے پڑتا ہے۔"


وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی۔ دماغ میں جنگ چل رہی تھی۔ اگر یہ بھی باقی مردوں جیسا نکلا تو تکلیف کم ہو گی۔ اگر یہ ابھی سب ختم کر دے تو بعد میں سب ختم ہو جانے سے بہتر ہے۔ سب ایک جیسے ہیں۔ یہ بھی۔ 


اندر سے ایک اور آواز آئی تھی۔

" نہیں یہ الگ ہے۔"

مگر اس نے اسے جھٹلا دیا۔


" ایسا ہے تو پھر پروو کرو۔"

وہ اٹھی اور اس کے سامنے آ کر رک گئی۔


زین نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب تھا۔ کچھ زیادہ۔ 


" تم بھی باقی سب جیسے ہو۔ بس وقت کا انتظار کر رہے ہو۔"

وہ چپ رہا۔ 


وہ اس کے اور پاس آئی۔ بالکل اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ اتنا نزدیک کہ فاصلہ ختم ہو گیا۔


" یا پھر ہمت نہیں ہے۔"

اس نے اس کی جیکٹ کا کالر پکڑ لیا۔ زین نہیں ہلا۔ نہ اس کا ہاتھ پکڑا، نہ پیچھے ہوا۔ بس دیکھتا رہا۔


اس کا ہاتھ زین کے سینے پر پھسلا۔  

" یہی چاہتے ہو نا تم؟"


اس کی آواز میں زہر گھلا تھا۔ البتہ دل پوری شدت سے دھڑک رہا تھا۔ زین نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بہت نرمی سے جیسے کسی زخمی چیز کو پکڑتے ہیں۔ وہ فریز ہو گئی۔


" مجھے یوز مت کرو۔ اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے۔" 

اس نے اسی نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا دیا۔


اس کی آنکھیں جلنے لگیں۔ آنکھوں میں پانی آنے لگا۔ چہرہ سرخ ہو گیا۔ غصہ، درد، شرم۔ سب ایک ساتھ جاگ اٹھے۔


" تم مرد ہو۔"

اس نے پھر بھی کہا۔

" ہاں۔۔۔ اس لیے رک رہا ہوں۔"

وہ اندر تک ہل گئی۔

" تم مجھے توڑ کیوں نہیں دیتے؟"

" تم پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر چکی ہو۔"  


وہ پیچھے ہٹی۔ کھسک کر دیوار سے جا لگی۔ گھٹنے اٹھا کر دونوں بازو لپیٹ لیے۔ اسے اپنے گال نم ہوتے محسوس ہوئے۔ زین نے اس کے پاس جانا چاہا مگر پھر رک گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اب ہلکا سا چھونا بھی اٹیک لگ سکتا تھا۔


" تمہیں کیسے پتہ؟"

اس نے دھیرے سے پوچھا۔ بنا اس کی طرف دیکھے۔

" پتہ چل جاتا ہے۔"

" سب کو؟"

" نہیں۔"

" پھر مجھے کیسے دیکھ لیا تم نے؟"  

زین نے دیوار کی طرف دیکھا۔

" تم چھپانا نہیں چاہتی تھیں۔ بس خود کو سمیٹ کر کھڑی رہ جانا چاہتی تھیں۔"

" میں سٹرونگ ہوں۔"

اس نے ہنسنے کی کوشش کی۔

" ہاں۔"

" پھر رو کیوں رہی ہوں؟"

وہ جیسے خود کو اس کے ذریعے سے جاننا چاہتی تھی۔

" کیونکہ سٹرونگ لوگ بھی انسان ہوتے ہیں۔"


اس نے اپنا چہرہ گھٹنوں میں ڈالا اور بلک بلک کر رونے لگی۔ زین اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ 


اتنا پاس کہ وہ اس کی موجودگی محسوس کر رہی تھی۔ اتنا دور کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ وہ اس کو دیکھتا رہا۔ پاس بیٹھا رہا۔ وہ بیچ بیچ میں بولتی رہی۔


" میں گندی ہو گئی ہوں۔"

خاموشی۔

" میں پہلے والی نہیں رہی۔"

خاموشی۔

" میں کسی کا سامنا نہیں کر سکتی۔"  

خاموشی۔

" مجھے مر جانا چاہیے۔"

" تمہاری غلطی نہیں تھی۔"

اس نے تیزی سے سر اٹھایا۔

" تمہیں کچھ نہیں پتا۔ تم کچھ نہیں جانتے۔ آخر تمہیں پتہ ہی کیا ہے؟" 

وہ گیلا چہرہ اٹھائے بول رہی تھی۔


" میں سب جانتا ہوں۔ جو انسان ٹوٹ کر بھی زندہ رہ جائے وہ گنہگار نہیں ہوتا۔"

وہ ایک پل کو چپ رہی پھر دھیرے سے بولی۔

" تم مجھ پر ترس کھا رہے ہو نا؟"

" نہیں۔۔۔ میں تم پر یقین کرتا ہوں۔"

وہ چہرہ موڑ گئی۔

" میں خود پر نہیں کرتی۔"

" تب تک میرا کام ہے۔"

یہ سن کر وہ پھر سے رو پڑی۔ 


اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے اندر سب کچھ پھر سے بکھرنے لگا ہے یا جڑنے لگا ہے۔ وہ روتی رہی۔ سسکتی رہی۔ زین اٹھا، اپنی جیکٹ اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال 

دی۔ وہ کچھ نہیں بولی۔ جیکٹ کو مٹھیوں میں دبوچے وہ اور اندر چھپ گئی۔


زین واپس جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ اسی انداز میں، اسی کو دیکھتے ہوئے۔ اس بار وہ اس کو کسی سے بچا نہیں رہا تھا صرف اس کو پروٹیکٹ کر رہا تھا جہاں اس نے پہلی بار زین پر بھروسہ کرنا شروع کیا تھا۔


جاری ہے



Comments

  1. Wow wow i am hooked to this couple 😍 now iam wishing for happy ending 😭😭😭😭😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts