Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Episode 6 by Munaza Niaz

 



Ruthless killer
Episode 6 by Munaza Niaz 

روشنی یونی کے کاریڈور سے گزر رہی تھی۔ بیگ کندھے پر، نیلی آنکھوں کی گرد سرخی تھی۔ کتابیں پکڑی ہوئیں، چہرے پر تفکر کی لکیریں سجائے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔ 

" روشنی۔" 
وہ ٹھٹک کر رکی۔ مڑ کر دیکھا سامنے شہریار کھڑا تھا۔ وہ چل کر اس کے پاس آیا۔ دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں ڈالے وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ 

" خیریت! اتنی جلدی میں کہاں جا رہی ہو؟ میں نے دیکھا تم کلاس سے بھی جلدی نکل آئی تھیں۔"
وہ گہری نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ روشنی کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں۔

" میں نے دیکھا ہے کہ تم آج مجھے نظر انداز کر رہی ہو۔"
شہریار بغور اس کو جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

" میں۔۔۔ میں بس بزی تھی۔"
اس نے نظریں چرا لیں۔
" بزی تھی یا پھر تم کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے؟"
روشنی کی گرفت کتاب پر سخت ہوئی۔ اس نے نیلی آنکھیں اٹھا کر اس کو دیکھا۔ وہاں نمی تھی۔

" کہیں تم اس پرچی والی بات کی وجہ سے تو پریشان نہیں ہو؟" 
شہریار نے اندازہ لگایا تھا۔

" بابا کل پولیس اسٹیشن گئے تھے۔ رپورٹ شاید رجسٹر نہیں ہوئی۔"
وہ رکی، چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ 

" انہوں نے کہا کہ وہ دیکھتے ہیں لیکن بابا کو خود بھی لگ رہا تھا کہ شاید کچھ نہیں ہوگا۔"
روشنی نے بہت مشکل سے آنسو روکے رکھے۔

شہریار ایک قدم پاس آیا۔
" پرچی میں اور کیا تھا؟"
اس نے پوچھا۔
" رقم کے ساتھ تاریخ دی گئی اور کچھ نہیں تھا۔"
" گھر کا ایڈریس تو نہیں دیا کسی کو؟"
" نہیں۔"
جواب فوراً آیا تھا۔
" اچھا کیا۔۔۔ ٹھیک ہے پھر کیئر فل رہنا۔" 
وہ پلٹ گیا۔ 

روشنی چپ کھڑی رہ گئی۔ وہ جا رہا تھا، وہ اسے روک سکتی تھی۔ مدد بھی مانگ سکتی تھی۔ ' ایک منٹ رکو شہریار! مجھے تمہاری مدد چاہیے۔' بول سکتی تھی۔ 

وہ رک بھی جاتا۔ وہ یہ کر بھی سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ایک فون کال پر یہ کام ہو سکتا تھا۔ مگر وہ کھڑی رہی۔ اسے روک نہیں سکی۔ اس کے ہونٹوں تک لفظ آئے پھر واپس لوٹ گئے۔ آنکھیں اس کی پیٹھ پر جمی رہ گئیں پھر دھیرے دھیرے نیچے جھک گئیں۔ یعنی اسے فرق ہی نہیں پڑا۔ 

محبت کرنے اور نبھانے میں فرق ہوتا ہے کیا؟ اگر ہوتا ہے تو شہریار صرف پہلا والا جانتا تھا۔ 

وہ گہری سانس بھرتے ہوئے پلٹی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

••••

وہ خاموش نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔ چہرہ سپاٹ، آنکھوں میں اندھیرا۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہ وہیں بیٹھا تھا۔ ہمیشہ کی طرح چپ۔ اب وہ اس کا نام جانتی تھی۔ زین۔

" تم کون ہو یہ تو مجھے پتہ چل گیا ہے۔ تم نے مجھے بچایا کیوں اب یہ بتاؤ۔"
زین نے ٹھہر کر اس کو دیکھا۔ کچھ پل خاموشی چھائی رہی پھر وہ بولا۔ 

" کیونکہ تم مر رہی تھیں۔"

وہ ہنس پڑی، خوشی سے نہیں بلکہ صدمے سے۔
" دیر سے۔"
زین نے کچھ نہیں کہا۔
" تم نے مجھے بچایا لیکن دیر سے۔"  
وہ اپنے لفظوں پر زور دے کر بولی۔ 

" لیکن بچایا۔"
زین نے کہا۔ وہ بیزاری سے چہرہ موڑ گئی۔
" تم لوگوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہیرو بننا ہوتا ہے لیکن وقت پر نہیں۔" 
زین چپ اس کو سنتا رہا۔

" تمہیں لگتا ہے کہ میں تم پر اعتبار کروں گی؟" 
اس نے زہر خند سا مسکرا کر اس کو دیکھا تھا۔
" تم فرشتہ بن کر بھی سامنے آؤ گے نہ تب بھی میں تمہیں نہیں مانوں گی۔"  
وہ بولتی جا رہی تھی اور وہ سنتا جا رہا تھا۔

" تم سب ایک جیسے ہو۔ سب کے سب۔ تم لوگ انتظار کرتے ہو کہ لڑکی کب ٹوٹے اور پھر آ کر 'میں ہوں نا' بول دیتے ہو۔"
" تم جو چاہو کہہ سکتی ہو۔"
وہ رک گئی پھر حقارت سے اس کو دیکھا۔ 

" تمہیں پتہ ہے میں نے تمہیں ہر طریقے سے آزما لیا ہے۔ چلائی، گالیاں دیں، ہاتھ بھی اٹھایا۔ میں نے چاہا کہ تم اپنی اصل شکل دکھاؤ۔ تین چار مہینے سے اوپر ہو گئے ہیں۔" 
وہ زین کو اب گھور رہی تھی۔

" بہت وقت ہے کسی کو آزمانے کے لیے۔ کسی کا اصلی چہرہ سامنے لانے کے لیے لیکن جو بھی ہو مجھے نہ اب تم پر اعتبار ہے نہ ہی کل ہوگا نہ بعد میں اور نہ ہی مجھے تمہاری کوئی ضرورت ہے۔"

" میں تمہیں کچھ نہیں دکھانا چاہتا۔"
" پھر تم کیا چاہتے ہو؟" 
اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ زین نے پہلی دفعہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔

" یہی کہ تم زندہ رہو۔" 
اس کے اندر جیسے کچھ ہل گیا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔

" مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ نہ سہارا نہ تمہاری حفاظت اور نہ تمہارے جھوٹے وعدے۔"
وہ پھنکاری۔

" میں کوئی وعدہ نہیں دے رہا۔"
" تو پھر؟" 
" جواب۔" 
" جواب؟" 
اس نے ناسمجھی سے اس کو دیکھا۔ 

" جو تم نے سہا اس کا جواب۔"
" تم آخر کہنا کیا چاہتے ہو؟" 
زین نے سکون سے اس کا چہرہ دیکھا۔ 

" یہ دنیا لوگوں کو توڑ کر چھوڑ دیتی ہے۔ تمہیں بھی توڑا گیا۔"
وہ چپ رہی۔
" لیکن جو توڑتا ہے نا اس کا بھی کوئی جواب ہوتا ہے۔"
وہ ساکن ہو گئی۔
" تمہیں پتہ ہے کہ وہ کیا کہتے تھے؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں کیا سوچتی رہی تھی؟ تمہیں پتہ ہے کہ مجھے کیا لگا تھا؟"
اتنے میں ہی اس کا سانس پھول گیا تھا۔ آنسو پھر سے روا ہو گئے تھے۔ زین نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دھیرے سے کھڑا ہوا۔

" میرے ساتھ چلو۔"
" مجھے کہیں نہیں جانا۔"
وہ نفرت سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ زین نے کچھ نہیں کہا اور باہر نکل گیا۔ وہ کچھ جھنجھلا کر غصے کے عالم میں بیڈ سے اتری اور اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے۔ 

گاڑی ایک ویران جگہ رکی تھی۔ دروازہ کھلا اور دونوں باہر نکلے۔ وہ ایک پرانی فیکٹری تھی۔ خالی اور ویران۔ دیواریں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ زنگ آلود مشینیں تھیں۔ سامان ہر طرف بکھرا ہوا تھا۔ زمین پر ٹوٹے ہوئے ڈرم، پائپ اور لوہے کے ٹکڑے پڑے تھے۔ ہر طرف گہرا سناٹا تھا۔ اتنا سناٹا کہ خود کی دھڑکن بھی صاف سنائی دے۔

" یہاں کیوں لائے ہو مجھے؟"
زین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
" یہاں تمہیں کوئی سن نہیں سکتا۔"
اس نے گاڑی سے بھاری دستانے نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے۔

" کیوں؟"
" ہاتھ ٹوٹ گئے تو تم کچھ نہیں کر پاؤ گی۔"
وہ پیچھے ہٹ گیا۔ دور، بہت دور جیسے کہہ رہا ہو کہ جاؤ جو کرنا ہے کرو۔ توڑ دو سب۔ 

پہلے پہل تو وہ کھڑی رہی پھر ہر طرف نگاہ دوڑائی۔ پہلی نظر سٹیل کے ڈرم پر پڑی۔ ساتھ ایک ڈنڈا پڑا تھا۔ اس نے گلوز پہنے، جھک کر ڈنڈا اٹھایا اور پھر 

بوم۔۔۔۔

پہلا وار پڑا۔ آواز ہر کونے تک گئی تھی۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔ پھر وہ چلانے لگی۔ نہیں، وہ چیخنے لگی۔ 

" کیوں؟" 
اس کی آواز چٹخ گئی۔ 

ڈرم پر وار۔
" کیوں میں ہی؟"

دیوار پر وار۔
" میں نے کیا کیا تھا؟" 
پائپ پر وار۔ اس کے آنسو بہنے لگے لیکن وہ رکی نہیں۔ توڑتی جا رہی تھی۔ ہر ایک چیز۔ ہر ٹوٹنے والی چیز کی آواز جیسے اس کے اندر کی آواز تھی۔ آخر میں جب وہ تھک گئی تو وہیں زمین پر گھٹنوں کے بل گر گئی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آنسو بہہ رہے تھے۔ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور پھر۔۔۔

پھر سے وہ اٹھی، ڈنڈا مزید مضبوطی سے پکڑ لیا۔ چہرہ صاف کیا اور پھر سے مارنا شروع کر دیا۔ 

زین ایک جگہ کھڑا رہا۔ اس کو دیکھتا رہا۔ بالکل خاموشی سے۔ اس کی آنکھوں میں کچھ نہیں تھا۔ وہ صرف اس کو دیکھ رہا تھا۔ آخر کار وہ تھک کر پھر سے رک گئی۔ ڈنڈا ہاتھ سے گر گیا۔ اس کی سانسیں بکھری ہوئی تھیں۔ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے وہ گرنے کے قریب تھی۔

" سب ایک جیسے ہیں۔" 
زین چپ۔
" سارے مرد ایک جیسے ہیں۔"
زین چپ۔
" تم بھی بس انتظار کر رہے ہو نا؟"
وہ ہنسی، پاگلوں والی ہنسی۔
" تم بھی دکھا دو اپنی اصلیت۔" 
زین چپ۔

وہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب اس نے چہرہ اٹھایا تو وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ پنجوں کے بل اس کو دیکھتا ہوا۔ اس نے زین کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔ نہ ہوس نہ کسی چیز کا لالچ نہ ہی کچھ اور۔ اگر کچھ تھا تو وہ سنجیدگی تھی۔ وہ نم نگاہوں سے اس کو دیکھتی رہی۔

" تم کون ہو؟" 
وہ دھیرے سے رک رک کر بولی۔ 
زین نے اس کا گیلا چہرہ دیکھا پھر دھیرے سے بولا۔
" وہ جو کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جائے گا۔"
" مجھے یہاں کیوں لائے تھے؟"
" تاکہ تم اپنی آواز واپس لا سکو۔"
وہ سیدھی ہوئی۔
" میں کہاں جاؤں اب؟"
" کہیں بھی۔"
" میرے پاس کوئی نہیں ہے۔"
" اب ہے۔"
اسے جھٹکا لگا۔
" تمہیں مجھ سے کیا چاہیے؟"
" تمہارا زندہ رہنا۔" 
اس کے ہونٹ تھرتھرائے۔
" میں کیا کروں؟"
وہ پوچھ رہی تھی۔
" کچھ نہیں صرف سانس لو۔" 
وہ چپ ہو گئی پھر کچھ دیر بعد بولی۔ 
" میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوا؟"  
" کیونکہ کچھ لوگ پیدا ہی درندے ہوتے ہیں۔" 
زین نے اس بار بھی سیدھا جواب دیا تھا۔
" اور کچھ؟" 
" شکار۔"
وہ کانپ گئی۔
"مم۔۔۔ میں شکار نہیں ہوں۔" 
" اب نہیں ہو۔" 
" اگر وہ مجھے مل گئے نا۔۔۔" 
اس کا سانس بگڑ گیا۔ آنکھیں کہیں اور پہنچ گئیں۔
" میں۔۔۔ میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گی۔"
اس نے سیدھا زین کی آنکھوں میں دیکھا تھا جیسے وارننگ دے رہی ہو، جیسے کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔ 

اسی پل زین کے لبوں کے کونے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔ آدھے سیکنڈ سے بھی کم۔ جیسے کوئی جھلک ہو اور پھر وہ غائب ہو گئی۔ 

" اچھا ہے۔" 
بس اتنا کہا گیا۔

" میں کسی کو نہیں چھوڑوں گی۔ میں ان کا خون پی جاؤں گی۔" 
زین چپ رہا۔
" تم بھی انہی کے جیسے ہو۔ سب ایک جیسے ہو۔ تم بھی انتظار ہی کر رہے ہو۔" 
وہ کھوکھلی ہنسی ہنسی۔ 

زین نے کوئی تاثر نہیں دیا۔
" مجھے سب یاد ہے۔۔۔ میں سب یاد رکھوں گی۔۔۔ اور اب میں بدلہ لوں گی۔۔۔۔ سنا تم نے؟"
وہ چلائی۔

" اور میں تمہیں اس وقت تک گائیڈ کروں گا جب تک تم خود کو سمجھ نہیں لیتی۔"
زین کا لہجہ اب بھی سیدھا ہی تھا۔ 

وہ کھڑی ہوئی، گلوز اتارے، آنسو صاف کیے اور بنا اس کو دیکھے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ 

زین نے آخری نگاہ ہر طرف ڈالی، اٹھا اور اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے۔

••••

ردا اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی چھت پر نظریں مرکوز کیے، ایک ہاتھ میں فون گھما رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ پیٹ پر رکھا تھا۔ آنکھوں کے سامنے وہی منظر گھوم رہا تھا۔

ہارون سلطان۔ کیا وہ واقعی اس کے ساتھ مخلص ہے؟ اگر وہ محض دل لگی کر رہا ہوتا تو اس کے بار بار انکار کرنے پر کب کا پلٹ چکا ہوتا۔

" میں کہیں نہیں جا رہا۔ تمہارا انتظار کروں گا تمہارا جواب سننے کے لیے۔"  

اس نے کروٹ لی۔ موبائل پر وقت دیکھا۔ بابا آنے والے تھے۔ وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ ڈنر ریڈی کرنا تھا لیکن وہ پھر سے اٹھتے اٹھتے بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی انگلیوں کو دیکھا۔

" وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔"
اس کے اندر سے آواز آئی تھی۔ 

ڈنر ٹیبل پر ارباز جنید اس کا خاموش چہرہ دیکھ رہے تھے۔
" آج میری بیٹی کافی چپ چپ سی ہے۔" 
ردا گڑبڑائی۔
" نہیں تو۔"
وہ مسکرائی تھی۔
" مجھ سے مت چھپایا کرو۔ میں تمہارا باپ ہی نہیں تمہارا دوست بھی ہوں۔"
وہ نرمی سے بولے جبکہ وہ مسکراتے ہوئے پلیٹ پر جھک گئی۔ 

" جی بابا اگر ایسا ہوا تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گی۔"
ارباز جنید بھی مسکرا دیے۔ اس کا دل ہلکا ہو گیا تھا۔ ہارون پھر سے یاد آیا تھا۔ وہ بھولا کب تھا؟ 

اگر بابا اس کو دیکھیں گے تو انہیں بھی وہ اچھا لگے گا۔ دل نے مثبت اشارہ دے دیا تھا۔ ہاں وہ واقعی اچھا ہے۔ شاید مجھے دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بہت جلد اسے جواب دوں گی۔

" بس ایسے ہی مسکراتی رہو۔" 
انہوں نے محبت سے اس کا چہرہ دیکھا۔

" جلد بتاؤں گی۔ ہارون کو بھی اور پھر بابا کو بھی۔"
دل ہی دل میں سوچتے وہ اب سکون سے کھانا کھانے لگی تھی۔
•••• 

شام ڈھل چکی تھی۔ روشنی جب گھر پہنچی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ بھاگ کر اندر گئی۔ سامان بکھرا پڑا تھا۔ الماری کے پٹ کھلے ہوئے تھے۔ بیڈ کی چادر نیچے گری ہوئی۔

" بابا؟"
اس نے پکارا اور ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ صوفہ ٹیڑھا اور میز الٹی پڑی تھی۔

" بابا۔۔۔"
اب کی بار اس کی آواز اونچی ہو گئی تھی۔ عباد صاحب کا فون نیچے گرا پڑا تھا۔ 

اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا تبھی وہ بج اٹھا۔ ان نان نمبر۔ اس کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ موبائل بند ہوا اور پھر سے بج اٹھا۔ اس نے ریسیو کرتے کان سے لگایا۔

" پولیس کے پاس گئے تھے نا؟"
روشنی کی سانس رک گئی۔ آواز گلے میں اٹک گئی۔

" ہوشیار رہنا چاہیے تھا لیکن اب دیر ہو چکی ہے۔" 
اور کال کٹ گئی۔

" ہیلو؟"
اس نے پکارہ لیکن کوئی جواب نہیں۔ فون اس کے ہاتھ سے پھسل کر صوفے پر گر گیا۔ 

" بابا۔"
سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ نیچے بیٹھ گئی۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟ کس کو کال کرنی چاہیے؟ کون اس کی مدد کرے گا؟ شہریار؟ رافیل؟ یا پولیس؟ فیصلہ ایک سیکنڈ میں ہوا۔ وہ اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی۔ 

کچھ دیر بعد وہ سرخ چہرہ لیے پولیس اسٹیشن میں قدم رکھ چکی تھی۔ وہ بھاگ کر کاؤنٹر پر گئی۔ ندیم قریشی کے ساتھ باقی آفیسرز نے بھی اس لڑکی کو دیکھا تھا۔

" آ۔۔۔ آپ پلیز میری ہیلپ کیجیے۔ مم میرے بابا۔۔۔" 
اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ ندیم قریشی نے اس کو دیکھا تو رک سا گیا۔ کچھ سیکنڈز تک اس کا خوف زدہ چہرہ دیکھا۔ نم آنکھیں دیکھیں۔ پھر سیدھا ہوا۔

" ہاں جی کیا مسئلہ ہے؟" 
" میرے۔۔۔ میرے بابا کو کسی نے اٹھا لیا ہے۔"
دو آنسو نکل کر گال پر پھسل گئے۔
" نام؟"
" عباد الرحمٰن۔"
وہ فوراً بولی۔ 

ندیم قریشی کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔
" دیکھیے مس۔۔۔ روز ہی لوگ ایسی کمپلین کروانے آتے ہیں کہ لوگ اٹھ گئے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ خود ہی کہیں چلے جاتے ہیں۔"
" یہ کوئی ڈرامہ نہیں ہے۔"
روشنی کی آواز اونچی ہو گئی۔ ندیم قریشی نے ناگواری سے اس کو دیکھا۔ دو اور لوگوں نے بھی مڑ کر انہیں دیکھا تھا۔

" نمبر بتائیں۔"
ندیم نے فائل گھسیٹی۔ روشنی نے نمبر بتایا۔ وہ لکھنے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ جبکہ اس کا دماغ کہیں اور تھا۔

" ہم دیکھتے ہیں۔"
اس نے فائل بند کر دی۔
" سر پلیز انہیں ڈھونڈ لیجیے۔ میں اکیلی ہوں۔ پلیز سر۔" 
ندیم نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا پھر دھیرے سے بولا۔

" گھر جائیے اگر کچھ معلوم ہوا تو بتا دیں گے۔"
" لیکن سر۔۔۔۔" 
ابھی وہ بولتی کہ ندیم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا پھر واپس جانے کا۔ 

روشنی کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ کچھ سیکنڈ وہ اس کو گھورتی رہی پھر تیزی سے پلٹ گئی۔

•••••

کمرے میں کافی تیز آواز میں میوزک بج رہا تھا۔ ٹیبل پر بوتلیں، چپس کے پیکٹس اور ڈسپازیبل پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔ 

" برو۔۔۔ سیمینار مست تھا۔ پبلک پاگل ہو رہی تھی سجاد دُرّانی پہ۔" 
آہان نے مشروب گلاس میں انڈیلتے ہوئے کہا۔

" صحیح کہا۔۔۔ پولیٹکس کا فیوچر سیٹ ہے باس۔"
صائم ہنس رہا تھا۔ نظر مڑ کر بائیں طرف اکیلے بیٹھے شہریار پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں گم نظر آتا تھا۔ 

" شہریار تو چپ کیوں ہے؟ آج تو تیری یونیورسٹی والی بھی آئی تھی۔"
شہریار نے تیکھی نظروں سے اس کو دیکھا۔
" روشنی۔" 
" ہاں ہاں وہی تیری معصوم والی پروجیکٹ۔"
آہان نے قہقہہ لگایا۔ شہریار کے ماتھے پر بل پڑے۔
" نام سے بلا۔۔۔ تمیز سے۔" 
" او سوری سوری۔" 
آہان نے بمشکل ہنسی دبائی۔

" خیر ہے شہریار؟ آج تو کچھ زیادہ ہی سیریس لگ رہا ہے۔" 
زوہیب جو کافی دیر سے اس کو دیکھ رہا تھا بول پڑا۔

" اس کے گھر ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔" 
" سب کے ہوتے ہیں۔" 
صائم نے ناک سے مکھی اڑائی۔
" یہ الگ ہے۔"
اس کا لہجہ ٹھنڈا تھا۔
" کون سا مسئلہ ہے؟"
زوہیب نے چونک کر پوچھا۔ وہ کچھ پل خاموش رہا پھر نظر اٹھا کر باری باری سب کو دیکھا۔

" Someone threatened her family." 

" تو پھر وہ پولیس کے پاس جائے گی۔"  
صائم نے چپس منہ میں ڈالی۔

" She did."

" She..."
صائم نے شوخی سے کہا۔ شہریار کے جبڑے بھینچ گئے۔ 

" تو انوالو مت ہو زیادہ۔ ایسی لڑکیاں ہمیشہ مسئلے ساتھ لاتی ہیں۔"
زوہیب نے کہا۔

" وہ کوئی پرابلم نہیں ہے۔" 
شہریار نے تیز نظر اس پر ڈالی۔ وہ تینوں لمحے بھر کو چپ ہو گئے۔ 

" جو کوئی بھی ہے اس تک نہیں پہنچنے دوں گا۔"
شہریار تیزی سے کھڑا ہوا۔
" کدھر؟"
ایک نے پوچھا۔ شہریار نے کوئی جواب نہیں دیا اور باہر نکل گیا۔

•••••

 کمرہ نیم اندھیر تھا۔ مدھم سرخ روشنی بے سدھ پڑے عباد صاحب پر پڑ رہی تھی۔ ان کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔ ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ کمرہ بالکل خالی تھا۔ پرانا اور بنجر۔ ان کی نظر دروازے کی طرف اٹھی۔ وہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔

ان کی نظر اس کے بوٹوں سے چہرے کی طرف اٹھی۔ وہ چلتا ہوا ان کے سامنے آیا پھر جھک کر پنجوں کے بل ان کے سامنے بیٹھا۔ کچھ سیکنڈ وہ ان کو دیکھتا رہا۔ کسی بے جان شے کی طرح۔ عباد صاحب نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ گیلی آنکھوں سے اس کا پتھریلا چہرہ دیکھا۔

" پیسے چاہیے تو لے لو۔ سب بیچ دوں گا۔ سب کچھ دے دوں گا۔"
وہ چپ رہا پھر پاس پڑی کرسی کھینچ کر ان کے سامنے بیٹھا۔ 
" پولیس کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا۔" 

عباد صاحب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ 
" میں۔۔۔ میں معافی مانگتا ہوں۔ چاہے میری جان لے لو۔۔۔ بس میری بیٹی کو کچھ مت کرنا۔"

" بیٹی؟"

عباد صاحب ڈر گئے۔ یعنی سامنے بیٹھا آدمی اس کی بیٹی کو نہیں جانتا تھا۔ لیکن الفاظ نکل چکے تھے۔

" اس کا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ معصوم ہے۔ چھوٹی ہے۔ اسے کچھ مت کرنا۔"
اکبر نے ہاتھ اٹھا کر انہیں مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ وہ چپ ہو گئے۔

" سب ختم ہوگا۔۔۔ گھر، دکانیں اور پھر تم۔ میں نے کہا تھا کہ پولیس کو بیچ میں مت لانا لیکن تم لے آئے۔" 
وہ اٹھا اور پلٹ گیا۔

" نہیں نہیں رک جاؤ۔ میری بچی کو کچھ مت کرنا۔ میری جان لے لو۔ سب کچھ لے لو۔ اسے کچھ مت کرنا۔"
وہ اسے پکارتے زارو قطار رونے لگے تھے لیکن وہ بنا ان کی سنے جا چکا تھا۔

جاری ہے

Comments

  1. I think zain k sath jo larki hai wo roshani hai or zain akabr hai o know mera guess ghlt b ho sakta h jb jahan tak mje lg ra h esa hi h abi to sb kuch hidden h to mn to guess hi kr sakti hon but voye for happy ending plzzzzz 👉🏻👈🏻

    ReplyDelete
  2. I think zain k sath jo larki hai wo roshani hai or zain akabr hai o know mera guess ghlt b ho sakta h jb jahan tak mje lg ra h esa hi h abi to sb kuch hidden h to mn to guess hi kr sakti hon but voye for happy ending plzzzzz 👉🏻👈🏻

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts