Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods season 1 episode 18 and last episode by Munaza Niaz
Bloods by Munaza Niaz
Ep 18 & last episode
خواہشوں میں ایک خواہش ہے
کہ میں تیرے کندھے پر
سر رکھ کر
اپنے سارے دکھ درد سناؤں
میں وہ ساری باتیں کروں
جو مجھے اندر ہی اندر
کھائے جا رہی ہیں
جو میں آج تک کسی سے نہیں کہہ پائی
وہ سب کہوں
ان میں سرفہرست
تیرا مجھے میسر
نہ ہونا ہے
ہیر ابتہاج
ایک نظر ان لفظوں کو دیکھ کر اس نے ہمیشہ کے لیے ڈائری بند کر دی وہ اس کی بچپن کی محبت تھا بچپن تو ختم ہو گیا مگر اس کی محبت ختم نہ ہو سکی اس محبت کا احساس اسے اس وقت ہوا جب سب کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے اس نے سوچا کہ ہاں وہ واقعی میں نہیں رہا اگر ہوتا تو واپس آ جاتا وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی یہ خیال ہی اس کے لیے جان لیوا تھا اتنے سال وہ اس کے لاحاصل انتظار میں گزارتی آئی تھی اب جب اسے یقین ہو چلا تھا کہ یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوگا تو اس نے خود سے ہار مان لی تھی دل کی دہائیوں کو خاموشی سے سن کر اس نے شادی کے لیے ہاں کر دی تھی آج اس کی مہندی کا فنکشن تھا ڈائری میں موجود داؤد مرتضیٰ کی تصویر کو دیکھ کر اس نے ڈائری اسٹور روم میں رکھ دی تھی۔ کبھی نہ اٹھانے کے لیے۔
تھوڑی دیر بعد خالہ اور امی آئی تھیں اسے لینے وہ اس شادی سے خوش ہے یہ ظاہر کرنے کے لیے وہ ان کے سامنے پورے دل سے مسکرائی ہاں وہ واقعی میں خوش ہونا چاہتی تھی
☆☆☆
"وہ پاکستانی جاسوس تھا جسے میں نے جانے دیا تھا مجھے اگر پہلے معلوم ہو جاتا کہ وہ پاکستانی جاسوس ہے تو میں اسے کبھی نہ پکڑتا اور شکر ہے وہ مجھے ملا تھا، تمہیں نہیں۔ ورنہ تم نے تو اسے روسی جاسوس سے بھی برے طریقے سے مار دینا تھا"
وہ اسے بتا رہا تھا
"میں شروع سے جانتی تھی کہ روزلی تمہیں پسند کرنے لگی ہے مگر میں یہ نہیں جان سکی کہ وہ تمہیں پانے کے لیے مجھے مارنا چاہے گی اپنے ساتھ ہونے والے ہر حادثے کو میں صرف حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی بس اس وجہ سے وہ ہر حد پار کر گئی"
سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ بول رہی تھی ان کی فلائٹ کا وقت ہو چکا تھا داؤد چہرہ موڑے اسے سن رہا تھا
"جیک نے مجھے بتایا کہ تمہارے زندہ رہنے کے چانسز بہت کم ہیں کیونکہ تمہارا بہت خون ضائع ہو چکا تھا میرے بس میں ہوتا تو میں اپنی رگوں سے سارا خون نکال کر تمہیں دے دیتا مگر ڈاکٹرز نے مجھے منع کر دیا کیونکہ ہمارا خون میچ نہیں ہو رہا تھا خون تو مل گیا تھا مگر تم کئی دنوں تک ہوش میں نہیں آ سکی تھیں اور پھر جس دن تمہیں ہوش آیا اس دن مجھے لگا میں زندہ ہو گیا ہوں۔"
اب کی بار ارورا کچھ بول نہیں سکی بس یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔ اس نے گہری سانس بھری آنکھوں کی نمی کو پلک جھپکا کر اندر کی طرف دھکیل دیا۔
"مجھے لگا تھا کہ میں مر جاؤں گی مرنے سے پہلے بس آخری بار تمہیں دیکھنا چاہتی تھی"
وہ آہستہ آواز میں کہتی سیدھی ہو بیٹھی اب وہ اسے نہیں بلکہ کھڑکی سے باہر تیرتے خوبصورت بادلوں کو دیکھ رہی تھی داؤد نے کچھ نہیں کہا بس اسے خاموشی سے دیکھتا رہا
••••
ان کا جہاز ایئر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھا پچھلی بار کی طرح وہ خاموش نہیں تھا بلکہ خوش تھا اور نہ ہی یہ سوچ رہا تھا کہ اسے سب بھلا چکے ہیں وہ ارورا کا ہاتھ تھامے ہلکی پھلکی باتیں کرتا مسکرا رہا تھا کیا سب لوگ اسے پہچان پائیں گے؟ یقین کر لیں گے کہ وہ وہی داؤد مرتضیٰ ہے؟ اپنی سوچوں میں گھرا وہ جب گھر پہنچا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
"گیٹ پر تو تالا لگا ہے کیا سب لوگ یہ گھر چھوڑ کر کہیں اور شفٹ ہو گئے ہیں؟"
ارورا نے سوالیہ انداز میں پوچھا
"نہیں"
وہ بولنے ہی لگا تھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آیا
"جی آپ دونوں کو کس سے ملنا ہے؟"
وہ شخص غور سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو حلیے سے پاکستانی نہیں لگ رہے تھے
"ہم حسن ابراہیم کی فیملی سے ملنا چاہتے ہیں ہم ان کے رشتہ دار ہیں۔"
داؤد نے کہا وہ آدمی اس کے اردو بولنے پر حیران ہوا تھا۔
"میں یہاں کا چوکیدار ہوں آج حسن ابراہیم کی پوتی کی شادی ہے سب لوگ میرج ہال میں ہیں میں آپ دونوں کو اندر بٹھا دیتا ہوں مگر۔۔۔۔۔"
داؤد نے اس کی بات کاٹی
"ہمیں میرج ہال کا پتہ دے دیں ہم خود چلے جاتے ہیں"
چوکیدار تھوڑا مشکوک ہوا تھا وہ لوگ سفر کر کے آئے تھے مگر ان کے پاس کوئی سامان بھی نہیں تھا وہ خالی ہاتھ تھے وہ پہلی مرتبہ ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو خود کو حسن ابراہیم کے رشتہ دار کہہ رہے تھے
"میں ان سے بات کر کے پھر آپ لوگوں کو بتا دوں گا"
جلدی سے موبائل نکال کر اس نے مرتضیٰ حسن کا نمبر ڈائل کیا داؤد خاموشی سے دیکھتا رہا مگر بولا کچھ نہیں دو منٹ بعد چوکیدار نے اسے ہال کا پتہ دے دیا تھا ارورا اس سارے عرصے میں بالکل خاموش رہی تھی اسے اردو بولنی اور سمجھ میں آتی تھی مگر وہ لکھ اور پڑھ نہیں سکتی تھی اسے اردو بولنا داؤد نے ہی سکھایا تھا
" میں نے ایک مرتبہ کسی سے پوچھا تھا کہ کیا میں کبھی پاکستان نہیں جا سکتا تو اس نے کہا تھا کیوں نہیں ضرور جا سکتے اس صورت میں جب تمہارے پاس بہت سا پیسہ ہوگا۔ اب اس وقت وہ شخص مجھے بہت یاد آ رہا ہے۔"
میرج ہال کے سامنے کھڑا وہ ہلکی آواز میں بولا تھا ارورا نرمی سے مسکرائی وہ اس کی ذہنی حالت سمجھ رہی تھی۔
ارد گرد دیکھے بغیر وہ سیدھا اندر چلا گیا ارورا اس کے ہم قدم تھی اندر پہنچ کر اس نے سامنے دیکھا جہاں اسٹیج پر بیٹھے اور کھڑے لوگ دعا مانگ رہے تھے شاید نکاح ہو چکا تھا سامنے بیٹھی دلہن جو نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی غیر ارادی طور پر اس کی نظریں جب داؤد مرتضیٰ کی نظروں سے ملیں تو وہ ساکت ہو گئی۔ بے یقین، پتھر کی طرح۔ داؤد اسے دیکھتے ہلکا سا مسکرایا کیونکہ وہ ہیر کو پہلے دیکھ چکا تھا وہ اس کے بچپن کی دوست اور کزن تھی۔ اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔
اس نے چہرہ موڑ کر اپنی ماں کو تلاشنا شروع کر دیا اسٹیج پر آمنہ کے علاوہ سب موجود تھے اور پھر وہ بھی اسے نظر آ گئیں۔ ایک کرسی پر بیٹھے وہ کسی خاتون سے باتیں کر رہی تھیں وہ خاموشی سے چلتا ہوا ان کے قریب آن ٹھہرا آمنہ نے کسی کی موجودگی تو محسوس کی تھی مگر دیکھا نہیں تھا داؤد ان کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا آہستہ سے اپنا ہاتھ ان کے گھٹنے پر رکھ دیا۔
"امی۔۔۔۔"
آمنہ نے چونک کر گردن موڑی یہ لفظ بولنے والا تو عرصہ پہلے کہیں کھو چکا تھا تو پھر کون تھا جس نے انہیں امی پکارا تھا۔
"امی میں۔۔۔۔ داؤد۔۔۔۔ آپ کا بیٹا"
وہ اٹک اٹک کر بولا آمنہ جو دم سادھے اسے دیکھ رہی تھیں اس کی بات پر ان کی آنکھوں میں بے یقینی سی آن ٹھہری زبان گونگی ہو گئی سارے الفاظ کہے غائب ہو گئے کپکپاتے ہاتھوں سے انہوں نے اس کا چہرہ چھوا پھر ماتھا پھر گال۔
"دد۔۔۔۔ داؤد تم۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ داؤد۔۔۔۔ تم زندہ ہو داؤد۔۔۔۔ میرے بیٹے؟"
وہ اس کے چہرے کو ٹٹولتے بے یقینی سے بول رہی تھیں داؤد نے آہستہ سے ان کا ہاتھ تھام کر اپنے گال پر رکھا
"جی امی میں داؤد آپ کا بیٹا کہیں آپ مجھے بھول تو نہیں گئیں؟"
وہ ان سے پوچھ رہا تھا
"داؤد۔۔۔ تت۔۔۔ تم میرے بیٹے۔۔۔۔ تم کہاں چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر؟"
اسے سینے سے لگائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں ارد گرد لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو چکے تھے کوئی بے یقینی سے دیکھ رہا تھا تو کوئی خوشی سے تو کوئی آنسوؤں سے ماں کے سینے سے لگا وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگا تھا کہاں سوچا تھا اس نے کہ وہ کبھی اپنی ماں کے سینے سے لگ سکے گا اپنے گھر والوں سے مل سکے گا وہ کبھی اس کا ماتھا چومتی کبھی اس کے ہاتھ داؤد مرتضیٰ کا دل بھرنے لگا تھا خاموش آنسو بہاتے وہ انہیں دیکھتا رہا تھا
☆☆☆
دو ہی لفظوں کا تھا وہ افسانہ
جو سنا کر خاموش ہو بیٹھے
ابتدا یہ کہ تم کو چاہا تھا
انتہا یہ کہ تم کو کھو بیٹھے
بے اختیار ہی اس نے سامنے دیکھا تھا دور کھڑا شخص اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر ہلکا سا مسکرایا تھا اس کا دل تک رک گیا آنکھوں میں دنیا جہاں کی بے یقینی آن ٹھہری وہ چل کر آمنہ خالہ کی طرف گیا تھا ان کے سامنے بیٹھا وہ کچھ بول رہا تھا وہ رو رہی تھیں اس سے مل رہی تھیں اسٹیج پر کھڑے لوگ اتر کر ان کی طرف بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ آفان بھی۔ ایک وہی تھی جو ساکت بیٹھی اسے دیکھتی رہی تھی۔
سب کچھ بھلا کر وہ آج کے دن خوش ہونا چاہتی تھی آج کے دن وہ داؤد مرتضیٰ کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر آج کیا ہو گیا تھا وہ خود چل کر اس کے سامنے آ گیا تھا جس محبت کو مار کر وہ دفن کر آئی تھی وہ بدروح بن کر اس کے سامنے آ گئی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اسے ڈر لگ رہا تھا پتہ نہیں کس چیز سے مگر اسے خوف آنے لگا تھا وہ کھڑی ہونا چاہتی تھی چل کر اس کے پاس جانا چاہتی تھی مگر اس کا وجود ہلنے سے انکاری تھا وہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی رہی اسے سب کچھ بھول گیا تھا اس کی شادی ہو چکی تھی سب کچھ۔۔۔۔۔ یاد تھا تو بس سامنے کھڑا شخص جو کتنا قریب، حقیقتاً کتنا دور تھا وہ آہستہ آہستہ سب سے مل رہا تھا سب لوگ ہیر کو بھول گئے تھے جو دلہن بنی بیٹھی تھی۔
کافی دیر بعد مرتضیٰ حسن نے داؤد کو کچھ کہا۔ ان کی بات پر اس نے مسکرا کر ہیر کی طرف دیکھا تھا پھر وہ چل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا وہ چہرہ اٹھائے اسے دیکھنے لگی۔
"کیسی ہو ہیر؟"
وہ پوچھ رہا تھا۔ کسی اجنبی کی طرح نہیں بلکہ کسی اپنے کی طرح۔ بچپن کے دوست کی طرح۔
"زندہ تھی مگر اب لگتا ہے مر چکی ہوں"
اسے دیکھتے وہ بڑبڑائی
"نکاح مبارک ہو ہیر ہمیشہ خوش رہو"
وہ اسے دعا دے رہا تھا اسے مار کر وہ اسے جینے کی دعا دے رہا تھا وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی اس کی زبان تالوں سے چپک گئی تھی وہ اس سے کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا مگر کسی نے اسے آواز دی وہ چونکا پھر اسٹیج سے اتر گیا اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی اس دن کی طرح جس دن وہ کھویا تھا
☆☆☆
"امی اس سے ملیں۔۔۔ ارورا میری دوست"
کھانا لگ چکا تھا سب لوگ کھانا کھاتے ارد گرد چل پھر رہے تھے آمنہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھے اس نے دوسرے صوفے پر بیٹھی ارورا کی طرف اشارہ کیا جو مسکرا کر ان کو دیکھ رہی تھی
"السلام علیکم امی"
وہ اٹھ کر ان کے دوسری طرف آ بیٹھی
"وعلیکم السلام"
انہوں نے مسکرا کر اسے گلے لگایا حسنہ ہیر کی پاس چلی گئی تھیں دادی دوسرے صوفے پر بیٹھی تھیں ان کی وہیل چیئر پیچھے کھڑی تھی جبکہ مرد حضرات مہمانوں کو دیکھنے میں مصروف تھے دادی کے برعکس دادا چل پھر سکتے تھے
"امی یہ میری بیوی بھی ہے"
داؤد نے مسکرا کر ان سے کہا اب کی بار وہ چونکیں۔ وجہ داؤد کی شادی نہیں تھی وجہ وہ لڑکی تھی جو حلیے سے انگریز لگ رہی تھی اچھا ٹھیک ہے اس نے کپڑے پورے پہنے ہوئے تھے مگر کیا وہ۔۔۔۔۔
"امی میں مسلمان ہوں میں نے اپنا نام اس لیے تبدیل نہیں کیا کیونکہ میرا نام میری ممی کو بہت پسند تھا"
وہ انگریزی لہجے میں اردو بول رہی تھی آمنہ یکدم ہی سکون میں آ گئیں پھر انہوں نے داؤد کی طرف دیکھا
"گھر چلتے ہیں داؤد تم دونوں تھک گئے ہو گے آرام کر لو باقی باتیں پھر کسی دن کریں گے"
داؤد نے ان کا ہاتھ تھام لیا
"ہم بالکل ٹھیک ہیں امی۔۔۔ ہیر کو رخصت کر کے ساتھ ہی چلیں گے"
پھر وہ اٹھ کر دادی کے ساتھ جا بیٹھا دادی کے دوسری طرف مرحا اور عادل بیٹھے تھے ہیر کے چھوٹے جڑواں بہن بھائی ان کی عمریں انیس سال تھیں عادل وقفے وقفے سے ارورا کو انگریزی میں مخاطب کر کے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اس طرح انگریزی بول رہا تھا کہ انگریز سن لیتے تو ڈوب مرتے کہیں۔ البتہ ارورا کی اور بات تھی کیونکہ وہ اب انگریز نہیں بلکہ پاکستانی بن گئی تھی مرحا اسے بار بار کہنی مار کر خاموش رہنے کا اشارہ کر رہی تھی ارورا بغیر برا مانے ان کی باتیں مسکرا کر انجوائے کر رہی تھی
"تم تو کافی ہینڈسم ہو عادل اور مرحا تم تو بہت ہی کیوٹ ہو"
اس کی بات پر جہاں مرحا شرمائی تھی وہیں عادل کا چہرہ گلنار ہو گیا زندگی میں پہلی مرتبہ اسے کسی نے ہینڈسم کہا تھا
"مگر داؤد بھائی مجھ سے زیادہ ہینڈسم لگ رہے ہیں ایسا ہی ہے نا؟"
عادل نے ٹھنڈی آہ بھر کے داؤد کو دیکھا جس کے سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے سیاہ موٹی جینز پر پہلی مرتبہ اس نے سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اوپر جینز کے جیسی سیاہ جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس کے انداز پر ارورا اور مرحا نے مسکراہٹ دبا کر ایک دوسرے کو دیکھا
داؤد دادی سے بات کرتے ہوئے ہر دوسری نظر ان پر ڈال لیتا تھا جن کی نا جانے کب دوستی ہو گئی تھی دفعتاً ارور کا موبائل بجنے لگا تھا
"جیک کی کال ہے میں اسے بتا دیتی ہوں کہ ہم خیریت سے پہنچ گئے ہیں"
داؤد سے کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی وہ دونوں بھی ساتھ کھڑے ہوئے تھے داؤد نے سر ہلا دیا فون کان سے لگائے وہ ہال سے باہر نکل گئی تھی عادل اور مرحا اس کے دائیں بائیں تھے جیک سے مختصر بات کرنے کے بعد اس نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا تھا
"کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟"
عادل نے سینہ تانا
"آپ کی حفاظت میری ذمہ داری میرا مطلب آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کے ساتھ ہوں"
اس نے دانت نکالے اسی وقت ان کی نظر فاصلے پر کھڑے چند لڑکوں پر پڑی جنہوں نے بیک وقت ان کی طرف دیکھا تھا
وہ میرج ہال سے کافی دور کھڑے تھے وہ لڑکے اسے دیکھتے سیٹیاں بجانے لگے عادل نے ناگواری سے انہیں دیکھا وہ کوئی آوارہ تھے جو رات کے اس پہر سڑکوں پر پھر رہے تھے
"چلو چلتے ہیں"
عادل اور مرحا سے کہتی ان لڑکوں کو مکمل نظر انداز کر دیا
"کیا آئٹم ہے یار چیک کرو ذرا"
جب وہ ان کے سامنے سے گزرنے لگے تو ایک لڑکے نے غلاظت بھرے لہجے میں کہا عادل کا چہرہ سرخ اور مرحا کا سفید پڑ گیا اس سے پہلے کہ وہ جا کر ان کو مارنا شروع کرتا ارورا خاموشی سے چلتی ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی وہ پانچ لڑکے اسے شیطانیت سے مسکراتے دیکھنے لگے
"لو چیک کرو"
ارورا نے اپنی خوبصورت کلائی اس کے سامنے کی اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا خباثت سے مسکراتے وہ اس کی کلائی پکڑنے ہی لگا تھا کہ ارورا نے اسی ہاتھ کا مکا بنا کر پوری قوت سے اس کے جبڑے پر دے مارا وہ لڑکھڑا کر پیچھے جا گرا
"اور کس نے چیک کرنا ہے؟"
اس نے باقیوں سے پوچھا وہ سب گنگ بنے کھڑے اسے دیکھنے لگے
"اس کی تو میں۔۔۔۔"
منہ پر ہاتھ رکھے وہ اٹھا اور طیش میں اس کی طرف بڑھا عادل آگے بڑھنے لگا تھا کہ رک گیا وہ دونوں حیرت سے منہ کھولے ان لڑکوں کی پٹائی دیکھتے رہے جو ارورا کر رہی تھی وہ سب ڈر کر گرتے پڑتے وہاں سے بھاگ نکلے
ہاتھ جھاڑ کر گہری سانس بھرتے جب وہ ان دونوں کی طرف مڑی تو وہ دونوں گنگ بنے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے
"کیا ہوا ایسے کیوں کھڑے ہو؟"
آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی
"یو آر سپر وومن"
مرحا ہوش میں آ کر جوش سے چلائی
"یہاں ہر لڑکی سپر وومن ہے اگر وہ خود کو اس بات کا یقین دلائے تو۔۔۔"
مسکرا کر اس کا گال تھپکا
"تو کیا میں بھی آپ کے جیسی بن سکتی ہوں؟"
مرحا پرجوش ہوئی
"کیوں نہیں"
"کیا میں بھی سپر وومن۔۔۔۔ میرا مطلب سپر مین بن سکتا ہوں؟"
عادل نے زور سے سر ہلا کر اپنے جملے کی تصحیح کی
"آپ کی طرح"
وہ ہنسی پھر رک کر اسے دیکھا
" ہاں تم بن سکتے ہو مگر میری طرح نہیں بلکہ داؤد مرتضیٰ کی طرح"
کہہ کر آگے بڑھ گئی
"تو کیا وہ بھی آپ کی طرح لڑتے ہیں؟"
ان کے سوال شروع ہو چکے تھے۔ چلتے ہوئے وہ انہیں آرام سے سب کچھ بتاتی گئی۔
☆☆☆
چند دنوں بعد
آج داؤد اور ارورا کے ولیمے کی تقریب تھی جب اس کی شادی ہو چکی تھی تو سب گھر والوں نے اس کے مل جانے کی خوشی کے ساتھ ان کے ولیمہ کا پلان بنا لیا تھا وہ منع نہیں کر سکا فنکشن کے لیے اس نے سیاہ ڈنر سوٹ کا انتخاب کیا تھا جبکہ ارورا نے سفید رنگ کی موتیوں والی خوبصورت سی میکسی پہنی تھی وہ دونوں اتنے خوبصورت لگ رہے تھے کہ سب کی نظریں ان پر ہی ٹکیں تھیں بھاری مقدار میں آمنہ نے داؤد کا صدقہ دیا تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک ایک کو پکڑ کر اپنی خوشی بتائیں ہیر ایک جگہ کونے میں بیٹھی داؤد اور ارورا کو دیکھ رہی تھی جو اسٹیج کے سامنے کھڑے ہر آنے جانے والوں سے مل رہے تھے اس کی ابھی تک داؤد سے بات نہیں ہوئی تھی آہستہ سے اٹھ کر وہ ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی داؤد کسی کو رخصت کرتا اس کی طرف مڑا
" کیسی ہو ہیر؟ میں واپس آ چکا ہوں یہ بات تو تم شاید بھول ہی گئی ہو۔ آفان کیسا ہے وہ نہیں آیا؟"
وہ مسکرا کر اس سے پوچھ رہا تھا بس ایک لمحے کو اس کا دل دھڑکا تھا
"ایسا کیسے ہو سکتا ہے داؤد کہ ہیر تمہیں بھول جائے تم تو اس دن سے میرے ساتھ ہو جس دن تم کھوئے تھے تم بتاؤ میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں؟"
داؤد بالکل خاموش ہو گیا پھر وہ مسکرا کر ارورا کی طرف مڑی
"مبارک ہو آپ دونوں کو میری دعا ہے کہ آپ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے بنے رہیں"
وہ مسکرائی
"تھینکس"
ایک نظر ان دونوں کو دیکھ کر وہ مڑ گئی تھی داؤد بنا پلک جھپکائے اس کو جاتا ہوا دیکھتا رہا
"مجھے لگتا ہے تمہاری کزن خوش نہیں۔ اپنی شادی سے یا پھر تمہارے واپس آنے سے یا پھر ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے"
معنی خیز مسکراہٹ سے داؤد کی طرف دیکھا
"ایسا کچھ بھی نہیں ہے اسے یقین نہیں آ رہا ہوگا کہ میں زندہ ہوں اور واپس آ گیا ہوں خیر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تم فکر مت کرو وہ میری کزن ہے میں اسے جانتا ہوں"
گردن موڑ کر اسے دیکھا
"تم تو سب کو جانتے ہو ہیر کیا چیز ہے"
اس نے کندھے اچکائے جب کہ وہ محض مسکرا دیا تھا۔
☆☆☆
نو سال بعد
" یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے سلطان! بڑا شوق ہے نا تمہیں ہم دونوں کو ڈرانے کا تم گھر چلو میں ممی سے تمہاری شکایت لگاؤں گی۔"
پانچ سالہ پریسہ آفان اپنے سے دو سال بڑے بھائی کو دھمکا رہی تھی جو پنجوں کے بل بیٹھا اپنے سامنے بیٹھی سرخ گالوں، سیاہ آنکھوں اور بھورے بالوں والی زویا داؤد مرتضیٰ کا ہاتھ پکڑے اس پر پھونکیں مار رہا تھا زویا اپنا ہاتھ چھڑوا کر جلدی سے کھڑی ہوئی
"تمہیں درد تو نہیں ہو رہا؟"
پریشانی سے کہتا وہ تیزی سے اٹھا
"میری نظروں سے دور ہو جاؤ سلطان ورنہ میں نے تمہیں۔۔۔۔"
دانت پیستے اس نے ادھر ادھر کچھ تلاشنا چاہا
" سوری زویا پلیز سوری آئندہ میں تم دونوں کے ساتھ کوئی شرارت نہیں کروں گا اور تمہیں تو خدا کا واسطہ ہے پریسہ پلیز ممی کو کچھ نہ بتانا ورنہ انہوں نے مجھے الٹا لٹکا کر مارنا ہے دیکھو تم دونوں جو کہو گی میں وہ کروں گا۔"
وہ دونوں ساتھ کھڑی اسے گھورتی رہیں پھر زویا نے سر ہلایا
" اوکے تو اب تم پچاس دفعہ اٹھک بیٹھک کرو گے ورنہ میں نے تمہیں کمرے میں بند کر کے کیڑے چھوڑ دینے ہیں۔"
"ہاں بالکل"
پریسہ نے بھی تائید کی سلطان آفان کی سٹی گم ہو گئی۔
"کرتے ہو یا نہیں؟"
زویا نے انگلی اٹھائی اس کا ہر انداز داؤد مرتضیٰ جیسا تھا جبکہ اس نے خوبصورتی اپنی ماں سے چرائی تھی سلطان آفان اسے دیکھے گیا پریسہ اور زویا دونوں ہم عمر تھیں جب وہ کچھ نہ بولا تو دونوں نے مل کر اسے دو تھپڑ کندھے پر مارے
"ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں کرتا ہوں"
کان پکڑے وہ جلدی سے اٹھک بیٹھک کرنے لگا
"ایک دو تین چار۔۔۔۔۔"
وہ دونوں ہنسی چھپائے گنتی شروع کر چکی تھیں سلطان کی ٹانگیں بیس پر جا کر کانپنے لگیں
"معاف کر دو یار دوبارہ ایسا نہیں کروں گا"
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ ڈالے
"بھاگ پریسہ جلدی کر ہم جا کر ہیر پھوپھو کو بتاتے ہیں"
اور وہ دونوں تیزی سے بھاگیں
"رکو زویا پلیز پریسہ یار میں چاکلیٹ دوں گا ممی کو کچھ مت کہنا"
وہ بھی اٹھ کر ان کے پیچھے بھاگا تھا۔
سامنے ڈھلتا سورج مسکراتا ہوا ان کو دیکھ رہا تھا جو ہنستے کھلکھلاتے بھاگے جا رہے تھے جن کی ایک نئی داستان شروع ہونے والی تھی۔
The End
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment