Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Episode 12 by Munaza Niaz

 

 

Ruthless killer Episode 12 by 

Munaza Niaz 



شیزل اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی۔ اس کا فون خراب ہو چکا تھا۔ اس کی کئی دنوں سے ردا سے بات بھی نہیں ہوئی تھی۔ اکثر جب ایسا ہوتا تو ردا اس سے ملنے آ جاتی یا دونوں باہر ملنے کا پروگرام بنا لیتں۔


اس بار وہ اس سے ملنے نہیں گئی تھی۔ اس کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی۔ اس وجہ سے وہ یونی بھی نہیں جا پا رہی تھی۔ وہ کچھ دنوں کا یونی سے آف لے چکی تھی۔ مگر کل کی تیاری اس کی مکمل تھی۔ اس لیے وہ اب جلدی سے سونے کی کوشش کر رہی تھی۔ 


دوسری طرف اذلان اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر بیٹھا تھا۔ سونیا باتھ روم سے باہر نکلی۔ اس کو سوچوں میں غرق دیکھ کر گہری سانس بھرتی اس کے پاس چلی آئی۔ 


اس نے دیکھا وہ فون کی سیاہ اسکرین کو گھور رہا تھا۔ دماغ میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا۔ ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی وہ اس کے ساتھ بیٹھی۔ 


" اذلان کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔ آپ ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں۔ وہ ایک بار آیا تھا۔ جو بھی تھا ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ کچھ نہیں ہوا۔ شیزل بھی ٹھیک ہے۔"

وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔ اس نے اذلان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ 


" ہو سکتا ہے وہ غلطی سے آیا ہو۔ ایسے لوگ دوبارہ نہیں آتے۔ اگر ہوتا تو دوسرا نوٹس بھی ملتا۔"

وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔ وہ امید سے بول رہی تھی۔


اذلان نے اس کا ہاتھ تھپکا اور نرمی سے مسکرایا۔

" ہممم۔۔۔۔ تم سو جاؤ۔"

وہ دھیرے سے بیڈ پر لیٹ گیا۔


کافی دیر گزر گئی۔ اسے نیند نہیں آئی۔ سونیا سو چکی تھی۔ کچھ پل اور سرکے۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ سونیا کی بھی آنکھ کھل گئی۔ بند دروازے کے باہر اسے کسی کا سایہ نظر آ رہا تھا۔


" پیچھے رہنا۔" 

اس نے سونیا کو کہا جو خوف زدہ نظروں سے دروازے کی سمت دیکھ رہی تھی۔


اذلان نے تیزی سے دراز کھول کر گن نکالی۔ اس نے دوبارہ دروازے کے نیچے دیکھا جہاں وہ سایہ غائب ہو چکا تھا۔ 


" شیزل۔"

اس کے لب ہلے۔ اگلے سیکنڈ وہ دروازے کی سمت بھاگا۔ سونیا ساکت بیٹھی رہ گئی۔


اس نے جب دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا۔ وہ شیزل کے کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وہ جھٹکے سے مڑا۔ تبھی گولی چلی۔ 


اذلان کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر دور جا گری۔ خون بھل بھل بہنے لگا۔ اس نے زور سے اپنا ہاتھ دبایا۔ اس نے جب سامنے دیکھا تو اس کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ سیاہ کپڑوں میں لپٹا وہ شخص گن کا رخ اس کے کمرے کی جانب کیے کھڑا تھا۔


" رک جاؤ! جو کرنا ہے میرے ساتھ کرو۔ میری بیوی کو کچھ مت کرنا۔"

وہ درد بھول گیا تھا۔ اس کا دل تیز دھڑکنے لگا تھا۔


اس شخص نے اس کو نہیں دیکھا۔ سنا بھی نہیں شاید۔ اس کی انگلی ٹریگر پر گئی۔ گولی چلی تھی۔ اسے سونیا کی ہلکی سی چیخ سنائی دی اور پھر گرنے کی آواز۔ اذلان ساکت ہو گیا۔


اکبر نے اس کی طرف دیکھا جو سکتے میں جا چکا تھا۔ تبھی اذلان کو اپنے پیچھے ایک آواز سنائی دی۔


" بھائی۔۔۔"

شیزل پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ مڑا اور اس کے سامنے آگیا۔ 


" شیزل بھاگو۔۔۔ پیچھے مت دیکھنا۔"  

ایک اور گولی کی آواز آئی۔ اذلان کی پیٹھ لہولہان ہو گئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔ شیزل بھاگ کر اس کے پاس آئی۔ 


" بھائی یہ کیا۔۔۔؟" 

آنکھوں میں بے یقینی اور آنسو لیے وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔


اذلان نے اس کے ہاتھ پکڑے۔ دیوار کی طرح اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ سے نکلتا خون شیزل کے دونوں ہاتھ سرخ کر گیا۔


ایک اور گولی چلی۔ اذلان کے جسم کو جھٹکا لگا۔ شیزل ساکت ہو گئی۔ خون کے چھینٹے شیزل کے چہرے اور کپڑوں پر گرے۔


" بھاگو۔۔۔ اپنی۔۔۔ جان بچاؤ۔۔۔ میرے لیے۔۔۔" 

شیزل الٹے قدم چلی اور تیزی سے دروازے کی سمت بھاگی۔


اذلان گھٹنوں کے بل گرا۔ اکبر نے شیزل کو بھاگتے دیکھا لیکن اس پر گولی نہیں چلائی۔ وہ اذلان کی طرف بڑھ رہا تھا۔


" چپ چاپ گھر دے دیتے تو آج زندہ رہتے۔ ساتھ بیوی بھی۔"

اذلان کا چہرہ درد سے پیلا پڑ چکا تھا۔ اکبر نے ایک آخری گولی چلائی۔ گولی اس کے سینے میں لگی۔ اذلان کی پلکیں ساکت ہو گئیں۔ وہ بے جان ہوتا ایک طرف گر گیا۔


شیزل جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلی وہیں اسے جھٹکا لگا۔ ایک طرف اکبر کی بائیک کھڑی تھی۔ سامنے ایک کار جس کی چھت پر کوئی لیٹا تھا۔ دونوں ہاتھ سر کے نیچے تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ 


کیسے کہوں عشق میں تیرے کتنا ہوں بے تاب میں


وہ گنگنا رہا تھا۔ بے اختیار اس کی نظر شیزل کی طرف اٹھی۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ 


" ہیلو۔۔۔"

شہریار نے ہاتھ ہلایا۔


شیزل بنا وقت ضائع کیے بھاگ نکلی۔ شہریار نے ہنستے ہوئے اس کو جاتے دیکھا پھر آنکھ سے کوئی اشارہ کیا۔ کچھ لڑکے دوسری کار سے نکلے اور شیزل کے پیچھے بھاگنے لگے۔ شہریار ہنستا ہوا واپس لیٹ گیا۔


شیزل بنا پیچھے مڑے پوری طاقت سے بھاگ رہی تھی۔ پیروں میں جوتا نہیں تھا۔ کنکریاں اس کو چبھ رہی تھیں لیکن وہ بنا کوئی پرواہ کیے بھاگتی جا رہی تھی۔ 


ہر طرف سناٹا تھا۔ اس کے پیر زخمی ہو چکے تھے۔ سانس بری طرح پھول چکی تھی۔ وہ کتنی دیر بھاگتی رہی نہیں جاتی تھی۔ اندھیرا گہرا تھا اور شہر کی روشنیاں بہت پیچھے رہ گئی تھیں۔ اچانک اس کو ٹھوکر لگی۔


" بھائی۔۔۔" 

وہ گر گئی۔

" کہاں ہیں آپ؟ پلیز مجھے بچا لیں۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔" 

اسے محسوس ہوا وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ جو اس کو بچائے۔ اس کا بھائی بھی نہیں۔


وہ روتے ہوئے پھر سے کھڑی ہوئی اور دوبارہ بھاگنا شروع کر دیا۔ کافی آگے ایک بستی اسے نظر آئی تھی۔ وہ بنا سوچے سمجھے اسی سمت چلی گئی۔ دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے ہی کسی نے اس کو پکڑ لیا تھا۔


وہ بری طرح ڈر گئی۔ کوئی اسے پکڑ کر ایک درخت کی اوٹ میں لے گیا تھا۔ اس نے اندھیرے میں اس کی آنکھیں دیکھی تھیں جو چمک رہی تھیں۔ 


ایک نیلی اور دوسری سبز۔ وہ چہرے پر ماسک چڑھائے اس کے منہ پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔


" یہی کہی ہوگی سالی۔۔۔ ڈھونڈو اس کو۔"

وہ مزید ڈر گئی۔

" چھوڑو مجھے۔۔۔ جانے دو۔۔۔ وہ لوگ مجھے مار دیں گے۔" 

وہ جھٹپٹائی تھی۔


" خود پر قابو رکھو ورنہ وہ لوگ ہمیں دیکھ لیں گے۔"

وہ دھیمی سرگوشی میں بولا۔ 


اس کا دماغ سن ہو گیا۔ وہ اتنی خوف زدہ ہو چکی تھی کہ وہیں جھول گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ یاد نہیں رہا۔


•••••

جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے اوپر چادر محسوس ہوئی۔ وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔ فرش ٹھنڈا تھا۔ اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ زین کہیں نظر نہیں آیا۔


پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ یہ تھا۔ 

" وہ مجھے اٹھا بھی سکتا تھا۔ اندر بیڈ ہے۔۔۔ کمبل ہے۔۔۔ تکیہ ہے۔۔۔ اگر وہ صرف میرے آرام کے لیے مجھے چھو لیتا۔۔۔"

وہ رک گئی۔


" تو شاید میں کبھی دوبارہ اس پر یقین نہ کرتی۔"

گہری سانس بھرتی وہ کھڑی ہوئی۔ 


وہ آدمی اس کی اجازت کے بغیر اس کا بھلا بھی نہیں کرتا تھا۔ اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا تو دور وہ اسے محفوظ رکھتا تھا۔ اسے اپنی رات والی حالت یاد آئی۔


وہ کب سے کسی کی موجودگی کی اتنی محتاج ہو گئی تھی؟ اس نے ہر جگہ دیکھ لیا تھا۔ وہ کہیں نہیں تھا۔ وہ باہر چلی گئی۔ جنگل ابھی بھی پورا روشن نہیں ہوا تھا۔ صبح کا اجالا دھیرے دھیرے پھیل رہا تھا۔ 


اس کی نظر سیدھا زین پر گئی جو آرام سے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی۔ آنکھوں میں لالی۔ جو جاگنے سے آتی تھی۔ وہ دھیمے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔ زین نے ایک نظر اس کو دیکھا جو سامنے کہیں درختوں کو دیکھ رہی تھی پھر واپس موڑ لی۔


" نیند آ گئی تھی؟"

وہ ہاں میں سر ہلا گئی پھر بولی۔

" تم نے مجھے اٹھایا نہیں۔" 

اس بار زین نے فوراً جواب نہیں دیا تھا۔

" تم تھکی ہوئی تھیں۔"

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا تھا۔ 


وہ سمجھ گئی کہ وہ صفائی نہیں دے رہا تھا۔ کوئی کریڈٹ بھی نہیں لے رہا تھا۔ نہ کوئی احسان جتا رہا تھا۔ زین نے قدم اٹھایا وہ بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ 


دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ مٹی نم تھی۔ سوکھے پتے چاروں طرف بکھرے تھے۔ پتوں پر پاؤں رکھنے سے ہلکی سی آواز پیدا ہوتی تھی۔ وہ پہلے زمین کو دیکھتے ہوئے چل رہی تھی پھر اس نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔


ہر طرف ہریالی اور پھر اپنے اندر کا خلا۔ عجیب سا تضاد تھا۔ زین رکا۔ وہ بھی رک گئی۔ سامنے جھاڑیوں میں ہلکی سی آہٹ ہوئی تھی۔ ایک پرندہ نکل کر زمین پر آ بیٹھا۔ اب وہ زمین پر پھدکتا ہر جگہ چونچ مار رہا تھا۔


" ڈر کر بھی نکل آیا۔"

اس نے غور سے زین کو دیکھا۔ پرندہ اڑ گیا۔ دونوں دوبارہ چلنے لگے۔ تھوڑا دور جا کر جنگل کھل گیا تھا۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی جھیل تھی۔ پانی بالکل صاف نہیں تھا لیکن بہہ رہا تھا۔ 


وہ اس جھیل کے کنارے بیٹھ گئی۔ زین کھڑا رہا۔ اس کی نظر پانی پر تیرتے پتوں اور پھولوں پر تھی۔ اس کے قدموں میں بھی ایک پھول پڑا تھا۔ ٹوٹا ہوا، مرجھایا سا۔ اس نے اسے اٹھا لیا۔ چند سیکنڈز تک دیکھا پھر جھیل میں ڈال دیا۔


پھول ڈوبا نہیں تھا بلکہ بہنے لگا تھا۔ 

" ہر چیز نہیں ڈوبتی۔ کچھ بہنا سیکھ جاتی ہے۔" 


اس نے نم آنکھوں سے زین کا چہرہ دیکھا پھر فوراً نظر ہٹا لی۔ دونوں پھر سے چلنے لگے تھے۔ جنگل اب دھیرے دھیرے جاگ رہا تھا۔ ایک جانور کی آواز آئی۔ وہ چونک گئی۔ 


زین نے بنا محسوس کروائے اپنی جگہ بدل دی اور دوسری طرف ہو گیا جہاں سے آواز آئی تھی۔ تبھی وہ چلتے چلتے رک گئی۔ اس نے زین کو دیکھا جو آگے نکل گیا تھا۔


" تم عجیب طریقے سے چل رہے ہو۔"

زین نے پیچھے مڑ کر اس کو دیکھا۔ 

" مطلب؟"

" ایسا لگتا ہے تم زمین سے لڑائی کر رہے ہو۔" 

زین نے اپنے پیروں کو دیکھا پھر زمین کو۔

" گھر میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ سنبھل کر چلو ورنہ کوئی۔۔۔" 

وہ بے اختیار رک گیا جیسے لفظ اس کے گلے میں پھنس گئے ہوں۔


" اس جنگل میں گھر بھی ہیں؟"

وہ سمجھ کر فوراً بات بدل گئی۔ زین کی ہنسی بے ساختہ تھی۔ چھوٹی سی ہنسی۔ جو عادت سے زیادہ اور خوشی سے کم لگ رہی تھی۔ 


" شاید۔"

آگے زمین کچھ زیادہ ہی گیلی تھی۔ اس کا پاؤں پھسلا۔ وہ گرتے گرتے بچی۔ گرنے سے بچنے کی کوشش کے لیے اس نے چھلانگ لگا دی تھی۔ اس کی ہنسی نکل گئی۔ زین نے مڑ کر اس کو دیکھا تو بول اٹھا۔

" بالکل ویسی ہی۔"


وہ چونکی۔

" کیسی؟"

زین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ 

" ویسی ہی جو گر کر بھی کھڑی رہ جاتی ہے۔"

" مطلب؟ میں اگر گر جاتی تو؟"

وہ نہیں سمجھی تھی۔

" گرنا عادت بن جائے تو سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے۔"

" تم عجیب ہو۔"

وہ مسکرائی تھی۔

" تمہیں عادت ہو جائے گی۔"

وہ کندھے اچکاتا پھر سے چلنے لگا تھا۔ 


" تمہیں معلوم ہے مجھے یاد بھی نہیں کہ آخری مرتبہ میں کب ہنسا تھا۔"

وہ دھیرے سے بولا۔

" مجھے بھی۔" 

وہ اس کے ہم قدم تھی۔


" ہنسی بھی ایک عادت ہے۔ چھوٹ جائے تو یاد نہیں رہتی۔"

اس نے چہرہ موڑ کر اس کو دیکھا۔

" یا پھر زندہ رہنا ہی عادت بن جاتا ہے۔"

وہ بولی۔

" لگتا ہے جنگل بھی اب ہم پر ہنس رہا ہے۔"

زین نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔

" شاید اسے یقین نہیں آرہا کہ کچھ لوگ ابھی بھی ہنس سکتے ہیں۔" 

زین نے خود ہی اپنی بات مکمل کی تھی۔


" تمہیں ہمیشہ عجیب عجیب باتیں کیوں سوجھتی ہیں؟"

وہ تھوڑا حیران ہوئی تھی۔

" کیونکہ سیدھی باتیں سوچنے کا وقت پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔"

وہ خاموش رہ گئی۔ اپنے چلتے ہوئے قدموں کو دیکھتی رہی۔ 


" زین!"

اس نے گردن اٹھا کر اس کو پکارا۔ وہ رک گیا لیکن گھوما نہیں۔ وہ چل کر اس کے سامنے آئی۔ وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔ خاموش نظروں سے۔ پہلے وہ جھجکی پھر بولنا شروع کیا۔


" کبھی ایسا ہوتا ہے نہ کہ تم کسی کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہو لیکن اسے کبھی پتہ ہی نہ چلے۔" 

زین کی مٹھی بند ہو گئی۔ اس نے نظریں ہٹا کر جنگل میں دور کہیں خلا کو دیکھا تھا۔

" ہوتا ہے۔"

" اور جب اس کو پتہ چل جائے اور وہ اس وجہ سے ڈر جائے۔۔۔" 

اس کا گلا رکا۔

" پھر۔۔" 

وہ سوال نہیں پوچھ رہا تھا۔


" اسے پہلے سے یقین دلانا پڑتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں تاکہ وہ بعد میں ڈرے نہ۔۔۔" 

وہ پھر سے رکی۔ ایک لمحے کا وقفہ آیا۔


" تمہیں کبھی افسوس نہیں ہوا اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ رہ جانا۔" 

" نہیں۔"

جواب فوراً ایا تھا۔ 

" اگر کسی کا بوجھ ہلکا ہو جائے تو اپنی خالی جگہ محسوس نہیں ہوتی۔"  


وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔

" تم ایسے کیوں ہو؟ تمہیں تو کچھ ملتا بھی نہیں اس سب سے۔"

زین نے ایک قدم پیچھے لیا۔ فاصلہ برقرار، حد برقرار۔

" شاید میں لینے کے لیے بنا ہی نہیں۔"  


وہ اس سے محبت کے بارے میں نہیں پوچھ رہی تھی لیکن زین نے محبت کا ہی جواب دیا تھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ دل میں یہی خیال آیا تھا۔ 


" اگر یہ چلا گیا تو میرا کیا ہوگا؟" 


زین اگر اس وقت وہاں نہ ہوتا تو وہ خود کو کیسے سنبھالتی؟ کیا اس کے ہاتھ رک جاتے یا وہ پھر سے کسی کو بھول کر مار سکتی یا پھر اندھیرے میں ہی بھٹکتی رہ جاتی؟


وہ ابھی آگے بڑھتا وہ تیزی سے اس کا راستہ روک گئی۔ زین رک گیا۔ اس کے دماغ میں صرف یہی سوچ تھی۔ 


جو بھی تھوڑا سا اچھا ہوتا ہے وہ یا تو بدل جاتا ہے یا چلا جاتا ہے۔ اگر یہ بھی باقیوں جیسا ہے تو مجھے ابھی پتہ چل جانا چاہیے۔


زین اس کی بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھتا رہا۔ وہ بہت مشکل سے آنسو ضبط کیے کھڑی تھی۔


" میں جانتی ہوں کہ تم بھی ایک دن چلے جاؤ گے۔ تم بھی مجھے چھوڑ دو گے جیسے سب نے چھوڑا۔ تم یہاں اس لیے ہو کیونکہ تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے۔"

زین کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ وہ بولتی گئی۔ 


" میں اچھی نہیں ہوں۔ میں صرف ایک چیز ہوں جو تم صرف یوز کر سکتے ہو۔ تمہیں معلوم ہے میرے پاس کچھ نہیں بچا۔ نہ گھر، نہ لوگ، نہ عزت، نہ کوئی چیز جو یہ ثابت کر سکے کہ میں۔۔۔۔ میں کسی چیز کے لائق ہوں۔" 

اس کی ہنسی نکل گئی۔ کھوکھلی، ٹوٹی ہوئی، بے جان ہنسی۔


" تمہیں لگتا ہے میں تمہارے لائق ہوں؟"

وہ رک گئی۔ اس کا لہجہ کانپ رہا تھا۔ 


" یا تم بھی جب سمجھ جاؤ گے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تو مجھے بھی تم یوز کر کے چلے جاؤ گے۔"

وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن زین اس کو دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ 


وہ جان نہیں رہی تھی کہ وہ اسے مار رہی ہے۔ 


زین آگے نہیں آیا۔ خاموشی سے اس کو دیکھنے لگا۔

" تمہیں لگتا ہے کوئی تمہیں یوز کر کے اس لیے چلا جاتا ہے کیونکہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہوتا۔"

وہ رکا پھر جب بولا تو آواز بہت آہستہ تھی۔

" لوگ اس لیے جاتے ہیں کیونکہ انہیں صرف چیزیں چاہیے ہوتی ہیں۔ انسان نہیں۔"

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کی آواز گلے میں پھنس چکی تھی۔ زین کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ 


" تم اپنے آپ کو جس نظر سے دیکھتی ہو وہ میری نظر نہیں ہے۔"

وہ ایک قدم پیچھے ہوا اور واپسی کے لیے پلٹ گیا۔ اور وہ کھڑی اس کو جاتا ہوا دیکھتی رہی۔


" اگر یہ چلا گیا تو میں کیا رہ جاؤں گی؟"


•••••



رات کا آخری پہر تھا جب چادر میں ہلچل ہوئی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن وہ بیدار ہو چکی تھی۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن بھاری پلکوں نے اجازت نہ دی۔


اس نے اپنی سانس محسوس کی جو مدھم اور بے حد بھاری تھی۔ اس نے ہاتھ اٹھانے چاہے۔ نہیں ہلے۔ خود ہلنا چاہا۔ نہیں ہل سکی۔ کافی دیر تک وہ ایسے ہی پڑی رہی۔


اسے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہوا۔ کافی دیر بعد اس کی پلکوں کا بوجھ کم ہوا تھا۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ نظر سیدھا چھت پر گئی۔ اسے وہ چھت جانی پہچانی لگی۔ پہلا خیال یہی آیا تھا۔ 


" بابا۔۔۔"

اس کے لب حرکت میں آئے۔ آواز نہیں نکلی تھی۔ گلا خشک تھا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔ ایک درد کی لہر پورے جسم میں سرایت کر گئی۔


اس نے اپنی نظر کمرے میں دوڑائی۔ دروازہ بند تھا۔ کھڑکی آدھی کھلی ہوئی تھی۔ پردہ ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔ 

" میں یہاں کیسے؟" 

دوسرا خیال آیا۔ تبھی اس کے ذہن میں چیزیں گھومنے لگیں۔


روشنی، پھر اندھیرا، پھر آوازیں اور پھر ہنسنا۔ وہ کانپ گئی۔ اس نے اپنی حالت محسوس کی۔ کپڑے ٹھیک تھے لیکن اسے غلط محسوس ہوئے جیسے کسی اور کے ہوں یا وہ خود ان کے اندر موجود ہی نہ ہو۔


وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔ درد اٹھا۔ اس نے نظر انداز کر دیا۔ دونوں پیر زمین پر رکھے پھر رک گئی۔ 

" میں یہاں ہوں تو بابا کہاں ہے؟" 

اس کے گلے میں آنسو پھنس گئے۔ اس نے چادر ہٹائی، کانپتے قدموں سے باتھ روم کی طرف گئی۔ 


دروازہ کھولا۔ روشنی نہیں جلائی۔ اندھیرا ٹھیک لگ رہا تھا۔ وہ شاور کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ کپڑے اتارنے کا خیال بھی نہیں آیا بس شاور چلا دیا۔ 


ٹھنڈا یخ پانی سر پر بجلی کی طرح گرا تھا۔ اس کے جسم کو پہلا جھٹکا لگا جیسے ہوش واپس آیا ہو۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ 


پانی گرتا رہا۔ چہرے پر، بالوں میں، گردن پر، آنکھوں پر۔ اس نے سانس لینے کی کوشش کی اس کو سانس نہیں آیا۔ اس کے ہاتھ دھیرے دھیرے اپنے بازوؤں پر پھسلنے لگے۔ پھر کندھوں پر، پھر گردن پر، پھر چہرے پر۔ 


وہ رگڑتی گئی۔ تیزی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ جیسے کچھ ہٹا دینا چاہتی ہو، جیسے پانی کے ساتھ سب کچھ بہا دینا چاہتی ہو۔ اس کے ذہن میں کچھ منظر ابھرنے لگے لیکن اس نے ان کو چلنے سے روک دیا۔


" بس بس۔"

یہ لفظ اس کے ہونٹوں تک آئے تھے جسے اس نے باہر نہیں نکالا۔


تبھی وہ فرش پر بیٹھ گئی۔ گھٹنے اٹھا کر سینے سے لگا لیے۔ پانی ابھی بھی گر رہا تھا۔ اس پانی کے شور میں اس کی سسکیاں کہیں دب گئی تھیں۔ اس کو لگ رہا تھا اس کا جسم اس کا نہیں کسی اور کا ہے کیونکہ اس نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔


" بابا۔۔۔"

اس کی آواز بھر آئی تھی۔ 


وہ رو نہیں رہی تھی وہ بہہ رہی تھی۔ پانی کی طرح۔ پھر وہ اٹھی۔ باتھ میں لگے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ کھڑکی سے آتی چاند کی دودھیا روشنی آئینے سے اس کے آدھے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ 


اس نے دیکھا شیشہ دھندلا تھا۔ اس نے ہاتھ مارا۔ وہ اب بھی دھندلا ہی رہا۔ اس نے آنکھیں رگڑیں۔ اب اس کا چہرہ تھوڑا واضح ہوا۔ 


اس کی وہ نیلی آنکھیں اس وقت ایک سوکھے سمندر کی طرح دکھ رہی تھیں۔ وہ آنکھیں خالی تھیں۔ چہرہ بے رنگ۔ وہ کافی دیر تک اس چہرے کو پہچاننے کی کوشش کرتی رہی۔ پھر اس کی نظر آنکھوں سے گردن تک گئی پھر کندھوں تک۔ 


" میں صاف نہیں ہوئی۔"

اس نے سوچا پھر شیشے پر ہاتھ مارا۔ 

" ابھی بھی۔" 

وہ مڑی اور دوبارہ شاور کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ 


کپڑے جسم سے چپک چکے تھے۔ بال چہرے پر چپک چکے تھے۔ اس بار اس نے آنکھیں بھی نہیں کھولیں۔ 


اگر میں زم زم سے بھی دھل جاؤں، اگر میں پانی میں بھی گھل جاؤں تب بھی میں پہلے جیسی نہیں بن سکتی۔ پھر اس کے اندر ایک آواز گونجی تھی۔ بہت اپنی سی، بہت پرانی۔


" بابا۔۔۔"

اس کا سانس اٹکا۔ 

" بچا لو۔" 

اس کا ہاتھ اپنے سینے پر آیا۔

" یہاں سے لے جاؤ۔"

وہ پھسل کر نیچے گر گئی۔

" بابا مجھے لے جاؤ۔"

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ انگلیاں بالوں میں پھنس گئیں۔

" میں تھک گئی ہوں بابا۔۔۔ میں سٹرونگ نہیں ہوں۔۔۔ میں صرف آپ کی بیٹی ہوں۔۔۔"

اس نے روتے ہوئے سانس لی۔ ہچکیاں اس کے جسم کو جھٹکے دینے لگیں۔


" بابا آپ کہاں ہو؟ پلیز آجاؤ۔۔۔ آپ کے ہوتے مجھے کبھی ڈر نہیں لگا۔۔۔ اب آپ نہیں ہو تو میں سٹرونگ بھی نہیں بن پا رہی۔۔۔ میں سٹرونگ بننا بھی نہیں چاہتی۔۔۔ میں صرف آپ کی بیٹی بن کر رہ جانا چاہتی ہوں۔۔۔ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں بابا۔۔۔" 

اس کے چہرے پر پانی اور آنسوؤں کے بیچ کی پہچان مشکل ہو گئی۔


اس کا گال گھٹنے پر ٹکا تھا۔ دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپٹ چکے تھے۔ 

" پلیز بابا آجاؤ۔۔۔ مجھے لے جاؤ۔۔۔ اپنے گھر لے جاؤ۔۔۔" 

دھیرے دھیرے اس کی مدھم آواز اور مدھم ہوتی گئی۔ 


کھڑکی پر لہراتا پردہ اب ہلنا بند ہو چکا تھا۔ چاند ابھی بھی موجود تھا۔ پانی ابھی بھی اس پر گر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔


جاری ہے

Comments

  1. Sab mar jye gy 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts