Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Ruthless killer Ep 10 by Munaza Niaz
Ruthless killer Episode 10
By Munaza Niaz
رات کا ابھی دوسرا پہر تھا۔ گیٹ کھلا ہوا تھا۔ چاند غائب، ہر طرف اندھیرا۔ لان کے کنارے گارڈ کی لاش پڑی تھی۔ جلتی ہوئی ٹارچ رینگتی ہوئی دور جا رہی تھی۔
ارباز جنید گہری نیند میں نہیں تھے۔ ہلکی ہلکی آہٹوں پر ان کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ کوئی دروازہ کھولے اندر داخل ہوا۔
وہ فوراً اٹھ بیٹھے۔ اسی وقت کمرہ روشن ہو گیا۔ دو لوگ اپنی اپنی چال چلتے اندر داخل ہوئے۔
" تم لوگ کون ہو؟"
انہوں نے غصے سے دیکھا۔ شہریار مزے سے چلتا صوفے پر گر گیا۔
" نام جان کر کیا کرو گے ارباز جنید؟"
ارباز جنید کا رنگ اڑا۔ اکبر خاموش ان کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گن تھی۔ چہرہ بےتاثر۔ شہریار اٹھا اور چل کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ایک تصویر اٹھائی۔
" بیٹی تو پیاری ہے تمہاری۔"
وہ مسکرایا۔
ارباز کا خون کھول اٹھا۔
" میری فیملی سے دور رہو۔"
وہ تیزی سے بیڈ سے اترے۔ تصویر لینے کی کوشش کی، شہریار نے ہاتھ اوپر کر دیا۔
" میں دور ہی ہوں۔"
وہ ہنسا پھر اکبر کو آنکھ سے اشارہ کیا۔
" کام ختم کرو۔"
ارباز کا رنگ اڑا۔ اکبر آگے بڑھا اور بنا وقت ضائع کیے گولی چلا دی۔ ارباز جنید جھٹکے سے پیچھے گرے۔
ردا اپنے کمرے میں سو رہی تھی۔ گولی کی آواز پر وہ تیزی سے اٹھی پھر دوسری گولی کی آواز سنائی دی۔ اس کا خون رگوں میں جم گیا۔
" پاپا۔"
وہ ننگے پیر ان کے کمرے کی طرف بھاگی۔ دروازہ کھلا تھا۔ ارباز جنید خون میں لت پت فرش پر بے سدھ پڑے آخری سانسیں لے رہے تھے۔
" پاپا۔"
وہ چیختی ہوئی ان کی طرف بھاگی۔
" لیٹ ہو گئی۔"
شہریار نے اس کو دیکھتے ہوئے جمائی لی۔
" پاپا اٹھیں۔"
وہ رونے لگی۔
" بھا۔۔۔ بھاگ جاؤ۔"
وہ رک رک کر بول رہے تھے۔
" میں کہیں نہیں جا رہی۔ آپ پلیز اٹھیں۔ آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔"
شہریار نے داڑھی کھجائی۔ دونوں کو دیکھا۔
" عجیب ہیں یہ لڑکیاں بھی۔ باپ کے لیے جان تک کی پرواہ نہیں کرتیں۔"
ردا کو دیکھ کر اسے روشنی یاد آئی تھی جو صبح اپنے باپ کے لیے اس کے پیروں میں گر گئی تھی۔
" دور رہو ہم سے۔"
ان دونوں کو دیکھتے وہ بھپری ہوئی آواز میں بولتی اٹھی اور شہریار کو مارنے کے لیے آگے بڑھی تبھی شہریار نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑ لیں۔
" چھوڑو مجھے۔"
شہریار نے اس کے دونوں ہاتھ پیٹھ کی طرف موڑ دیے۔
" اتنی ہمت۔"
وہ مزہ لیتے ہوئے بولا۔
" مجھے وہ لوگ بہت پسند ہیں جو مرنے سے پہلے لڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
پیچھے ارباز جنید کی سانسیں رکنے لگیں۔
" میری۔۔۔۔ بیٹی۔۔۔۔ کو۔۔۔۔ چھوڑ۔۔۔۔ دو۔"
ان کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ کوئی بھی نہ سن پایا۔ ردا رونے لگی۔
" باپ کے لیے رو رہی ہو؟ کل کسی اور کے لیے روؤ گی پھر خود کے لیے۔"
ردا کی آنکھیں جلنے لگیں۔ ہاتھ بری طرح کانپنے لگے۔
" مجھے مارنا چاہتی ہو؟ ارے اس کے لیے تو ہمت چاہیے تمہیں۔ تمہارے ہاتھ تو ابھی سے کانپ رہے ہیں۔"
اس نے ردا کو اکبر کی طرف دھکیل دیا۔
" زیادہ دیر مت کرو۔ جلدی کام ختم کرو۔ مجھے لمبے ڈرامے پسند نہیں۔"
اس نے اگلا حکم صادر کیا۔ ردا کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔ اکبر نے خاموشی سے اس کا خوف میں لپٹا چہرہ دیکھا پھر چاقو نکال لیا۔
" نہیں۔۔۔ نہیں۔"
ردا رونے لگی۔
شہریار جھومتا ہوا ارباز کے پاس بیٹھا۔
" انسان سب سے زیادہ معلوم ہے کس چیز سے ڈرتا ہے؟"
اس نے انگلی فرش پر بہتے ان کے خون میں ڈبوئی پھر آنکھوں کے سامنے کی۔ ارباز جنید اسے نہیں ردا کو دیکھ رہے تھے۔
" تنہا مرنے سے۔ اس لیے میں نے سوچا تمہیں تنہا نہ ماروں۔ بیٹی بھی ساتھ ہی جائے گی۔ پھرررر۔"
وہ ہنستے ہوئے فرش پر گر گیا۔
ارباز جنید نے ہلکا سا ہاتھ اٹھایا جیسے اکبر کو روکنا چاہتے ہوں مگر وہ ان کو نہیں دیکھ رہا تھا۔ ردا کی پیٹھ ان کی طرف تھی۔ اگلے سیکنڈ انہوں نے اکبر کے چہرے اور شرٹ پر خون کے چھینٹے گرتے ہوئے دیکھے۔ ردا گلا پکڑے ہلکا سا ڈگمگائی اور ایک طرف گر گئی۔
ارباز جنید کا ہاتھ نیچے گر گیا۔ شہریار نے باری باری دونوں کو دیکھا پھر ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
" لو بھئی ہو گیا کام پورا۔"
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے پیچھے اکبر بھی خاموشی سے کسی روبوٹ کی طرح نکلا تھا۔
ردا کی آنکھیں ساکت ہو چکی تھیں۔ کٹی ہوئی گردن سے خون بہتا جا رہا تھا۔ ارباز جنید کی آنکھیں آخری لمحے میں صرف ردا کے چہرے کو قید کرتے ہوئے بند ہو گئی تھیں۔
•••••
اس کا سر دیوار سے لگا تھا۔ گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی۔ آنکھیں سوجی ہوئیں اور سرخ۔ آنسوؤں کے نشان گالوں سے گردن تک بنے تھے۔ نیلی آنکھوں میں صرف ویرانگی تھی۔ اب وہ بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ آنسو رک چکے تھے۔ دل ابھی بھی تیز دھڑک رہا تھا۔ کتنا وقت گزر چکا تھا اسے معلوم نہیں تھا۔ اس نے گردن سیدھی کی۔ دروازے کی طرف دیکھا۔ کچھ پل ایسے ہی گزر گئے۔
وہ اٹھی اور ننگے پیر چلتی دروازے تک آئی۔ ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔ سانس کچھ سیکنڈ کے لیے رک سی گئی۔ جیسے ہی اس نے گھمایا دروازہ کھل گیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔ اس نے باہر جھانک کر دیکھا۔ لمبی گیلری پوری خالی تھی۔
وہ باہر نکلی۔ سب سے پہلے ساتھ والے کمرے میں گئی جہاں سے اس نے آوازیں سنی تھیں۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر جا کر دیکھا۔ فرش پر رسی پڑی تھی۔ دوپٹہ ایک طرف گرا ہوا۔ اس کے جسم میں ٹھنڈ دوڑ گئی۔
اسی سیکنڈ وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔ پورا فارم ہاؤس خالی تھا۔ ہر طرف اندھیرا اور خاموشی۔ وہ پورچ میں پہنچی ہی تھی کہ سامنے گیٹ کھلا اور ایک سیاہ جیپ اندر داخل ہوئی۔ وہ فریز ہو گئی۔
شہریار ہشاش بشاش چہرہ لیے مسکراتے ہوئے باہر نکلا۔ ساتھ باقی دروازے بھی کھلے تھے۔ اس کی نظر سیدھا سامنے کھڑی روشنی پر پڑی۔ وہ ساکت کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ اٹھایا۔
" ہائے۔"
پیچھے آہان، صائم اور زوہیب اس کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔ ان تینوں کے چہروں پر مسکراتی ہوئی حیرت ابھری جیسے یقین آ گیا ہو کہ شہریار نے واقعی اسے یہاں لا کھڑا کیا ہے۔
جیسے ہی روشنی بھاگنے کے لیے مڑی پیچھے سے آگے بڑھ کر شہریار نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
" بھاگنا چاہ رہی ہو۔ ہممم؟"
اس کی آواز میں ہنسی پنہاں تھی۔ روشنی تڑپ اٹھی۔
" خدا کے لیے چھوڑ دو مجھے۔۔۔ مجھے نہیں جانا واپس۔۔۔ پلیز چھوڑ دو۔۔۔ میں نہیں۔۔۔"
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسے پکڑے ان تینوں کی طرف بڑھا۔ روشنی خوف کے مارے کانپنے لگی۔ شہریار نے اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا۔
" اب سمجھی حقیقت اور کہانیوں میں فرق۔"
اس نے اسے کسی کھلونے کی طرح پکڑ کر ان تینوں کی طرف دھکیل دیا۔
" سنبھالو اب۔ تم تینوں کی مہمان ہے۔"
روشنی کی روح فنا ہوئی۔
" نہیں شہریار۔۔۔ پلیز یہ نہیں۔۔۔ تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ۔۔ نہیں نہیں۔۔۔"
آہان نے آگے بڑھ کر فوراً اس کو بانہوں میں دبوچ لیا۔ وہ چیخنے لگی۔ اس کا گلا پھٹنے کو تھا۔ وہ اسے پکڑ کر اندر لے گئے تھے۔
کمرہ اسے گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ہنسی کی آواز بازگشت بن گئی تھی۔ ہاتھوں کے سائے ہر طرف گھوم رہے تھے۔ زمین ہلتی ہوئی۔ دماغ میں صرف یہی چل رہا تھا۔
" یہ میں نہیں ہوں۔۔۔ میرے ساتھ کچھ نہیں ہو رہا۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔"
اس کے آنسو رک چکے تھے۔ جسم فریز ہو چکا تھا۔ اس کا دماغ اس کے جسم سے منقطع ہو چکا تھا۔
" میں کچھ محسوس نہیں کر رہی۔۔ کچھ نہیں ہو رہا۔۔۔ کچھ نہیں۔۔"
اور پھر آخر میں اس نے دروازہ بند ہونے، روشنی بجھنے اور دور جاتے قدموں کی آواز آئی تھی۔ ہنسی کا شور دھیرے دھیرے اندھیرے میں بدل گیا۔ اس پل کے بعد اسے محض خاموشی یاد رہ گئی تھی۔
•••••
سجاد درانی اس وقت اپنے کشادہ اور پرتعیش ڈرائنگ روم میں کافی کا مگ پکڑے صوفے پر آرام دہ انداز میں بیٹھا سامنے لگی ایل ای ڈی پر دلچسپی سے بریکنگ نیوز سن رہا تھا۔
" مشہور بزنس مین ارباز جنید اور ان کی بیٹی اپنے گھر میں ہلاک پائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر میں ڈکیتی کی کوشش ہوئی۔ مزاحمت پر دونوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ مزید پولیس نے چند تجارتی تنازعات کو مد نظر رکھ کر تحقیقات شروع کر دی ہے۔"
سجاد نے مگ دھیرے سے سامنے پڑی میز پر رکھا۔
" عوام کو بس کہانیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ دو دن بعد نیا سکینڈل آئے گا اور پھر پچھلا سب کچھ بھول بھال جائیں گے۔"
اس کے چہرے پر ہلکا سا افسوس ابھرا۔ اس نے وقت دیکھا اور ایک اور سرپرائز دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے تیاری کرنی تھی۔
اس علاقے سے دور یہی نیوز کسی اور کے گھر میں بھی چل رہی تھی۔ ہارون کچن میں کھڑا کافی پھینٹ رہا تھا۔ وہ ٹی وی نہیں دیکھ رہا تھا۔ اسے صرف آواز سنائی دے رہی تھی۔ کافی بنا کر وہ باہر نکلا۔ ٹی وی میں اینکر ایک ہی لائن بار بار دوہرا رہی تھی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر ٹی وی پر نظر ڈالی اور وہیں اس کا ہاتھ رک گیا۔
سامنے پہلے ردا کی تصویر دکھائی گئی۔ چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ۔ آنکھوں میں زندگی۔ اسی کے ساتھ ہی دوسری تصویر دکھائی گئی۔ اس کا مگ چھوٹ کر نیچے گر گیا۔
تصویر ہلکی سی دھندلی تھی لیکن اتنا دکھائی دے رہا تھا کہ رنگ کون سا ہے۔ دوسری تصویر میں سرخی کی آمیزش تھی۔
" نہیں یہ کوئی اور ہوگی۔"
اس کے دماغ نے تصویر دیکھتے فوراً جھٹلا دیا۔
" ارباز جنید اور ان کی بیٹی ردا جنید کل رات ہی اپنے گھر ہلاک پائے گئے۔ پولیس۔۔۔"
اس کا دماغ ردا کے نام اور اس کی تصویر پر ہی اٹک گیا تھا۔
" نہیں یہ جھوٹ ہے۔۔۔ یہ ردا نہیں ہے۔"
وہ دھیرے سے کھڑا ہوا۔ جسم اور دماغ شاک میں جا چکے تھے۔
" ارے کوئی بند کرے اسے۔"
اس نے تیزی سے نظریں دوڑائیں۔ ریموٹ کہیں نہیں ملا۔ اس کا دماغ سن ہونے لگا۔ اس نے اپنا فون نکالا۔ واٹس ایپ چیٹ اوپن کی۔ آخری میسج جو اس نے کل رات کو کچھ سوچ کر بھیجا تھا۔
وہ سین نہیں کیا گیا تھا۔ جہاں اس نے ' کل میں جواب سننا چاہوں گا۔' بھیجا تھا۔ اس نے دوبارہ ٹی وی کی طرف دیکھا۔ اب کلپ دکھائی جا رہی تھی۔ فلٹر کچھ سیکنڈز کے لیے ہٹا تھا اور اس وقت ہارون کو لگا اس کی جان نکل گئی ہے۔
•••••
رات کے سناٹے کو بجلی کی کڑک اور بارش کے شور نے توڑ دیا تھا۔ بارش نے کچھ ہی دیر میں پورا شہر گیلا کر دیا تھا لیکن رک نہیں رہی تھی۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ دور کہیں درختوں کے پتوں میں جان لیوا سرسراہٹ پیدا ہوتی۔
اس سنسان، بارش میں مزید بھیگتی سڑک پر بھاری بوٹوں کی آواز گونج رہی تھی۔ پارکنگ ایریا اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ محض ایک پیلا بلب ٹمٹما رہا تھا۔ ایک سفید کار ان کے پاس سے گزر کر پارکنگ ایریا میں داخل ہو گئی۔
دونوں کے چہروں پر ہوڈی تھی۔ کار کا دروازہ کھلا، وہ باہر نکلا۔ جیسے ہی لاک کر کے پلٹا وہیں ڈر گیا۔
سامنے کھڑے دو سائے، چہرے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ دوڑ گئی۔ جیسے ہی وہ واپس کار میں گھسنے کے لیے پلٹا پیچھے سے گولی چلی اور سیدھا اس کی ٹانگ میں لگی۔
وہ چیخ مارتا نیچے گر گیا۔ وہ آگے بڑھی۔ چہرے سے ہوڈی ہٹائی۔ ہاتھ دھیرے سے سفید کار کے بونٹ پر رکھا۔
" یہ جگہ ٹھیک ہے۔ یہی ٹھیک لگے گی نہ؟"
خود کو کہنے کے بعد ارد گرد نگاہ دوڑاتے پلٹ کر زین سے پوچھا۔ زین نے گن واپس رکھی۔
" جگہ نہیں طریقہ میٹر کرتا ہے۔"
ساتھ ہی سگریٹ سلگا کر لبوں میں دباتے آگے بڑھ کر درد سے تڑپتے لڑکے کو اٹھا کر کار کے بونٹ پر لٹا دیا جو ٹانگ پکڑے کراہ رہا تھا۔
وہ اس کے قریب آئی۔ اس کی طرف جھکی۔
" درد ہو رہا ہے؟"
لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھا تو رنگ اڑ گیا۔
" نہیں پلیز۔۔۔ معاف کر دو۔"
وہ ایک دم سے ہاتھ جوڑ گیا۔ وہ پہلی دفعہ مسکرائی اور دھیرے سے خنجر نکال لیا۔
" جب میں نے کہا تھا کہ مت کرو، رک جاؤ۔ تم رکے تھے؟"
وہ بہت آہستہ سے خنجر کی نوک اس کے گال سے گردن تک پھیر گئی۔ لڑکا خوف سے چیخ بھی نہ سکا۔
زین نے دھواں اس لڑکے کے چہرے پر گرایا۔ خون کا پہلا قطرہ ٹپک کر سفید بے داغ کار پر گرا۔ وہ تھوڑا سا پیچھے ہوئی اور آہستہ سے چاقو اس کی ٹانگ میں گھسا دیا۔ ایک دم سے نہیں بلکہ بہت آہستہ سے اور پھر اسے دھیرے سے گھما دیا۔ لڑکا آخر کار چیخ پڑا۔ وہ ایک دم سے اس کے قریب ہوئی۔
" درد میں بھی سکون ہوتا ہے نہ! جو میں نے محسوس کیا تھا وہ اب تجھے بھی کرواؤں گی۔"
ایک اور وار سیدھا دوسری ٹانگ میں۔
کار ابھی بھی سفید تھی لیکن اس کے ہاتھوں پر خون لگ چکا تھا۔ اس نے پھر سے چاقو اس کے زخم میں گھماتے ہوئے دھیرے نکال کر ایک اور وار کیا۔ سیدھا گولی والی جگہ پر۔ پھر ایک اور سیدھا کندھے میں۔ پھر اور دائیں ہاتھ پر، ایک اور دوسرا ہاتھ۔
لڑکے کی چیخیں دبنے لگیں۔ وہ پھولتی سانس کے ساتھ اس کے کان میں سرسرائی۔
" جب تو نے مجھے درد دیا تھا، جب تو نہیں رکا تھا تب میں نے بھی ایسے ہی چیخیں ماری تھیں۔ مگر تو نہیں رکا تھا نہ؟"
ایک اور وار سیدھا سینے میں۔ پہلی دفعہ خون پانی کی طرح بہتا سفید کار کو سرخ کر گیا۔ چھینٹے اس کے چہرے پر گرے۔ خون نیچے فرش کی طرف بہنے لگا۔
" موت زندگی کا اختتام ہے۔ صرف انجام نہیں ہے جو کچھ لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ تجھے وہ بھی نہیں ملے گی۔"
لڑکا ہولے ہولے سانس لیتا اوپر دیکھ رہا تھا۔ اس نے جھٹکے سے چاقو نکالا اور واپس اس کے دل میں گھونپ دیا۔ خون کے چھینٹے کار کے شیشے پر گرے۔ اس کے چہرے پر گرے۔ کار پوری طرح سرخ ہو چکی تھی۔ لڑکے کا جسم ساکت ہو گیا۔ ہاتھ دائیں بائیں گر گئے۔
وہ سیدھی ہوئی، چاقو اس کے کپڑوں سے صاف کیا۔ زین ہمیشہ کی طرح آگے بڑھا۔ چاقو لیا، رومال نکالا اور اس کا چہرہ صاف کرنے لگا۔ بنا اس کو چھوئے۔
کچھ پل بعد دونوں چہرے پر ہوڈی ڈالے بھیگتی سڑک پر دور جا رہے تھے۔
•••••
ہارون گاڑی سے اترا۔ گیٹ کے باہر ہی پیلی پٹی لگی تھی۔
" Police line - do not cross."
اس کے قدم تھمے۔ نظر کھلے گیٹ سے اندر کی طرف گئی۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ پٹی کے نیچے سے اندر داخل ہوا۔ کسی پولیس والے سے پوچھنا تک یاد نہیں رہا۔
فرانزک ( Forensic ) ٹیم کے لوگ ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ اس کی نظر ایک کونے کی طرف گئی۔ وہاں ایک بیگ رکھا تھا۔ ردا کا۔ وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ کسی نے اس کو روک دیا۔ اس نے دیکھا ایک پولیس آفیسر سادہ کپڑوں میں ملبوس اس کی طرف آرہا تھا۔ ہارون کی آنکھوں میں پھر سے تصویریں گھومنے لگیں۔ نیوز، ردا کا چہرہ، دھندلا سرخ رنگ۔
اس کے لب کھلے پھر بند ہو گئے۔ چہرے پر بے یقینی ابھی بھی موجود تھی جیسے دیکھنے کے بعد بھی یقین کرنا ناممکن ہو۔
" آپ کون؟"
ندیم قریشی فائل تھامے اس کے سامنے آیا۔ ہارون نے خالی خالی نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ ندیم نے فائل اس کے سامنے لہرائی۔
" آپ کا نام؟"
ہارون کو سمجھنے میں دقت ہوئی کہ افسر اس سے کیا پوچھ رہا ہے۔ وہ ہلکا سا ہلا۔
" ہارون۔۔۔ ہارون سلطان۔"
ندیم نے فائل کھولی۔ اندر کچھ لکھا پھر چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔
" آپ کس کام سے آئے ہیں یہاں؟"
ہارون کی انگلیاں ہلی۔
" نیوز سنی تھی۔"
ندیم نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
" مقتولین سے کیا رشتہ ہے آپ کا؟"
ہارون نے بولنے کے لیے لب کھولے پھر بند کر دیے۔ رشتہ؟ اس کے دماغ میں پھر سے منظر گھومنے لگے۔ اس کا ردا کو پرپوز کرنا۔ ردا کا کہنا 'مجھے تھوڑا وقت چاہیے۔' اس کے ہونٹ پھر سے ہلے۔
" میں۔۔۔"
وہ رکا۔
" بس جانتا تھا اسے۔"
دوستی نہیں تھی۔ محبت وہ کرتا تھا لیکن جواب نہیں۔ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں تھا۔
" بس جانتے تھے؟"
ندیم کچھ لکھتے لکھتے رک گیا۔ ہارون کا چہرہ گرم ہونے لگا۔ لفظ غائب ہو گئے۔
" کسی دشمنی کا علم ہے؟"
ندیم گہری نگاہوں سے اس کو تک رہا تھا جیسے کچھ خاص جاننا چاہتا ہو۔ ہارون نے پہلے سوچا پھر نفی میں سر ہلایا۔ ندیم نے فائل بند کر دی۔
" آپ دیکھ رہے ہیں یہاں کام چل رہا ہے۔ آپ جا سکتے ہیں اب۔"
وہ پلٹ گیا۔
ہارون ابھی تک ساکت کھڑا پورے گھر کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کے بے جان بدن میں حرکت پیدا ہوئی۔ وہ دھیرے سے پلٹا۔ موبائل نکال کر پھر سے میسج دیکھا جو سین نہیں کیا گیا تھا۔ جو کبھی سین نہیں ہونا تھا۔
پیلی پٹی کراس کرتے اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ کسی کا انتظار نہیں کر رہا تھا۔ وہ کسی کے بعد رہ گیا تھا۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Sab se phle to itna late episode mila mn mar jati to 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭 and secondly bhot se clues khuly gy but mn un pe abi review ni donge Q k phle b mra guess ghlt hua but is bar ni hoga 🫰🏻 baku episode to hmsha jsi out class te brilliant 😍👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻
ReplyDelete