Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Ep 9 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer Episode 9

By Munaza Niaz 



جس جگہ وہ پہنچی وہ شہر سے دور ایک خاموش علاقہ تھا۔ آبادی کوئی نہیں تھی۔ سامنے فارم ہاؤس کا گیٹ کھلا ہوا تھا۔ وہ بنا ڈرے اندر داخل ہوئی۔ 


کشادہ لون، ایک سوئمنگ پول۔ سامنے اندرونی دروازہ تھا۔ اس کے ساتھ مزید دروازوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ وہ کچھ جھجکتے، کچھ خوفزدہ ہوتے آگے کی طرف قدم اٹھانے لگی۔


" بابا؟"

اس نے پکارا۔ ارد گرد دیکھا، کوئی نہیں تھا۔ سب سنسان، سب خالی۔


" بابا؟" 

اس نے پھر سے پکارا اور اسی وقت اس کے اندر جانے سے پہلے ہی کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر کچھ رکھا تھا۔ 


ایک تیز بو اس کی ناک اور منہ سے اندر داخل ہوئی۔ اس کا سر بھاری ہو گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھنے، خود کو بچانے کی کوشش کی تبھی بے جان ہوتی نیچے گر گئی۔


•••••


جب اس کی آنکھ کھلی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا۔ اس نے پلکیں جھپکائیں۔ بال کھل کر کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ نیلی آنکھوں میں اجنبیت تھی۔ وہ فرش پر پڑی تھی۔ دونوں ہاتھ پیٹھ پر بندھے تھے۔ کمرہ خالی تھا۔ ماربل کا ٹھنڈا فرش اس کو کپکپانے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس نے ہاتھ کھینچے، نہیں کھلے۔


" کوئی ہے؟"

اس نے پکارا۔


" کھولو مجھے۔ کون ہو تم لوگ؟ سامنے آؤ۔"

اس کی آواز چٹخ گئی۔


تب ہی دروازے کے باہر آہٹ پیدا ہوئی۔ وہ چونکنی ہو گئی۔ دروازہ دھیرے سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔ روشنی کی آنکھیں بھر آئیں۔


" شہریار تم آگئے۔"

وہ چلتا ہوا اس کے سامنے آ کر رک گیا۔ 


" پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالو۔ مجھے پتہ تھا کہ تم ضرور آؤ گے۔ پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں۔ میرے ساتھ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ بابا۔۔۔ بابا ملے تمہیں؟" 

آخر میں اس نے امید سے اس کا چہرہ دیکھا۔ 


وہ دھیرے سے اس کے سامنے بیٹھا۔ 

" تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں بچانے آیا ہوں؟"

وہ مسکرا رہا تھا۔ روشنی کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔


" ارے میں ہی تو تمہیں یہاں لایا ہوں۔" 

شہریار نے مٹھی اپنے ہونٹوں پر رکھ کر بہت مشکل سے ہنسی روکی تھی۔ 


" کیا؟"

اسے لگا اس کے کانوں نے کچھ غلط سنا ہے۔


" ہاں یہ سب میں نے کیا ہے۔"

وہ اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔


" نہیں نہیں تم مذاق کر رہے ہو نہ؟ تم ایسے لڑکے نہیں ہو ہے نہ؟ تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو؟"

وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔


وہ چاہتی تھی کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب جھوٹ ہو۔ یہ سب شہریار نے نہ کیا ہو۔ شہریار غائب ہو جائے یہاں سے۔ یا وہ خود کہیں غائب ہو جائے۔


" میں مذاق نہیں کرتا روشنی اور میں کیسا لڑکا ہوں وہ تمہیں معلوم ہو جائے گا۔" 

اس نے روشنی کے بال کندھوں سے پیچھے کیے۔ وہ کراہت سے پیچھے ہوئی۔


" جھوٹ بول رہے ہو۔ تم ایسے نہیں ہو۔ بول دو کہ تم نے یہ سب نہیں کیا۔ تم نے میرے بابا کو کچھ نہیں کیا۔" 

وہ چاہتی تھی شہریار جھوٹ ہی بول دے۔ وہ اس کے جھوٹ پر بھی یقین کر لیتی۔


" فکر مت کرو تمہارے بابا کو کچھ نہیں ہوا۔ مجھے صرف تم سے مطلب ہے۔"

وہ اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا۔ 


" تمہیں پتہ ہے وہ پرچی کس نے بھجوائی تھی؟"

دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے اس کی طرف جھکا۔


" میں نے بھجوائی تھی۔" 

روشنی کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے لیکن وہ سن بیٹھی رہ گئی۔ رونا بھی بھول گئی۔


" تم نے ایسا کیوں کیا؟ آخر کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟"

" کچھ نہیں۔۔۔ اسے میرا شوق سمجھ لو یا انجوائمنٹ۔" 

اس نے کندھے اچکائے۔


" کسی کی زندگی کے ساتھ کھیلنا تمہیں مذاق لگتا ہے؟ اپنی خوشی کی تسکین کے لیے تم کیسے کسی کا گھر تباہ کر سکتے ہو؟"


" ویسے ہی جیسے اب کروں گا۔" 

وہ ہنسا۔ روشنی ہل نہیں سکی۔

" تم۔۔۔ تم محبت کرتے تھے مجھ سے۔"  


اس نے اسے یاد دلایا البتہ اندر سے کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ وہ بھی سب فریب تھا، جھوٹ تھا لیکن ابھی بھی اس کے اندر ایک چھوٹی سی امید باقی بچی تھی۔ وہ اس کے منہ سے سچ سننا چاہتی تھی۔


" تم محبت کرتے تھے مجھ سے۔ تمہیں میری فکر رہتی تھی۔ تم میرا خیال رکھتے تھے۔ تم محبت کرتے تھے۔۔۔ کرتے تھے نا؟"

آنسو پھر سے رواں ہو گئے۔


شہریار کی مسکراہٹ گہری ہوتی قہقہے میں بدل گئی۔ پورا فارم ہاؤس اس کی ہنسی سے گونج رہا تھا۔ روشنی کے رونے میں روانی آگئی۔ 


" روشنی۔۔۔ روشنی۔۔۔ روشنی۔"

ہنسی روک کر وہ سیدھا ہوا۔


" تم لڑکیاں کہانیاں بہت پڑھتی ہو۔"  

روشنی اس کو دیکھتی رہ گئی۔


" تم جب روتی تھی تو مجھے اچھا لگتا تھا۔ جب تم ڈرتی تھی تو اور اچھا لگتا تھا اور پھر جب تم نے مجھ پر بھروسہ کیا نا تو وہ سب سے مزیدار تھا۔"

روشنی کو لگا کسی نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا ہے۔ وہ ابھی بھی زہر اگل رہا تھا۔


" مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی۔ تم سے بھی نہیں۔ وہ تو بس میرا طریقہ ہے تمہارے جیسی لڑکیوں کو اپنے قریب لانے کا۔ تمہیں پتہ ہے مجھے یاد بھی نہیں کہ تم سے پہلے اور کتنی لڑکیوں نے اس کمرے میں روتے ہوئے مجھے میری وہ محبت یاد دلائی جو میں نے کبھی ان سے کی ہی نہیں۔ مجھے لگا تم الگ ہو گی ان سے لیکن تم بھی ویسی ہی عام اور معمولی نکلی۔"


وہ اس پر جیسے افسوس کر رہا تھا۔ روشنی کا دل باہر نکلنے کو تھا۔ شہریار اٹھا اور اس کے ہاتھ کھول دیے۔ اگلے ہی پل اس کو بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے کھڑا کیا۔ 


" شہریار چھوڑ دو مجھے۔" 

وہ کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑائی تھی۔ 


شہریار بنا ایک لفظ بولے اسے گھسیٹ کر باہر نکلا۔ باہر رات ہو چکی تھی۔ اس خاموشی میں صرف روشنی کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ اسے روک رہی تھی۔ چیخ رہی تھی۔ اسے واسطے دے رہی تھی۔ شہریار اسے ہال سے گزارتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔


اس کی گرفت روشنی کے بازو پر کسی آہنی شکنجے جیسی تھی۔ اس کا دوپٹہ غائب تھا۔ چہرہ سرخ، آنسوؤں سے بھیگا ہوا۔


شہریار نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے بیڈ کی طرف اچھال دیا۔ ابھی وہ بھاگتی شہریار نے دروازہ فوراً لاک کر دیا۔


" نہیں شہریار۔۔۔ پلیز رک جاؤ۔"

وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔ 


" جانے ہی دیتا تو لے کر کیوں آتا؟"

اس کے چہرے پر کوئی رحم نہیں تھا۔ نہ ہی وہ پہلے جیسا دکھ رہا تھا جیسا ہمیشہ سے تھا۔ وہ اس وقت کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح اس کو نوچ کھانے کو تیار کھڑا تھا۔ تیزی سے آگے بڑھ کر اس نے روشنی کو دبوچ لیا۔


اس کی چیخیں ہر طرف گونج رہی تھیں اور اس رات وہ فارم ہاؤس 

اس کے لیے قبر بن گیا تھا۔

•••••

شہر کی راتیں جنگل کی راتوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ یہاں کا اندھیرا درختوں کا نہیں انسانوں کا ہوتا ہے۔ 


ایک ہائی رائز بلڈنگ کے نیچے سٹریٹ لائٹ جل رہی تھی۔ سب لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ لفٹ کا دروازہ ساتویں فلور پر کھلا۔


ویران اور اندھیرے کوریڈور میں بھاری بوٹوں کی پراسرار دھمک گونج رہی تھی۔ ایک دروازے کے سامنے دونوں رکے۔ سیاہ کپڑوں میں لپٹے۔ آنکھوں میں سفاکیت لیے۔


اندر کمرے سے دھیمے میوزک کی آواز آرہی تھی۔ اندر وہ اکیلا تھا۔ صوفے پر پڑا۔ آڑا ترچھا۔ فون ہاتھ میں تھا۔ چہرے پر سکون اور ہر طرح کی بے خبری۔ 


دروازے کا لاک کھلا، اس نے نہیں سنا۔ موبائل پر مصروف رہا۔ کچن کی لائٹ بند ہوئی۔ اس نے تب بھی نہیں دیکھا۔ تبھی سامنے اس کے بیڈ روم میں کوئی سایہ سا گزرا۔


اس نے چونک کر دیکھا۔ موبائل صوفے پر رکھا۔ وہ اٹھا اور چل کر کمرے کی طرف بڑھا۔ کمرہ خالی تھا۔ اس نے باتھ روم دیکھا، وہ بھی خالی۔ 


وہ مڑا اور جیسے ہی کچن کے دروازے کے قریب پہنچا پیچھے سے کسی نے اس کی گردن کے گرد رسی ڈال کر اسے زور سے دیوار میں دے مارا۔ پھر اسے دبوچے دیوار سے چپکا دیا۔ 


اس نے جھٹپٹاتے ہوئے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ جس کے چہرے پر ہوڈی تھی۔ وہ سرد آنکھیں لیے اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی گردن مزید کَسّی۔ سانس گلے میں پھنس گئی۔ 


اس نے اس شخص کے کندھے پر کسی کا ہاتھ نمودار ہوتا دیکھا۔ اس کی آنکھیں ابل پڑیں۔ وہ اسے سائیڈ پر کرتی اس کے قریب آئی۔


زین نے اسے تب بھی نہیں چھوڑا تھا۔ اسے گھٹنوں پر گرائے وہ ایک طرف ہوا اور دونوں ہاتھ رسی سے پیچھے کی طرف باندھ دیے۔ اس لڑکے نے چہرہ اٹھا کر جب اس لڑکی کو دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔


" تم۔۔۔؟"

وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی۔


" تم زندہ۔۔۔" 

وہ ہکلایا جبکہ وہ شیطانیت سے مسکراتی اس کے سامنے بیٹھی۔

" یاد ہے؟"


" مجھے معاف کر دو۔۔۔ غلطی ہو گئی۔۔۔ پلیز معاف کر دو۔"

" لیکن میں تو سب یاد کر کے جی رہی ہوں پھر معاف کیسے کر دوں؟"

اس نے اس لڑکے کی شرٹ پھاڑ کر اس کے منہ میں ٹھونس دی۔


اس نے ہاتھ اٹھایا۔ زین نے چاقو نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ لڑکے کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ جسم کانپ اٹھا۔ 


اس نے دھیرے سے چاقو کی نوک سے اس کے ماتھے سے ٹھوڑی تک ایک گہری لکیر کھینچی۔ ماس کٹا۔ خون بہتا ہوا لڑکے کی گردن سے نیچے تک گیا۔ وہ زور سے ہلا۔ خود کو بچانے کے لیے چہرہ پیچھے کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی نے اس کے بال مٹھی میں دبوچ کر اس کو ہلنے سے روکا۔ 


" مزہ آ رہا ہے؟" 

وہ ہنسی۔ لڑکا ایک لفظ تک نہ بول سکا۔ اس نے اس کے منہ سے کپڑا کھینچ کر نکال دیا۔ 


" مت مارو مجھے۔۔۔ پلیز۔"

وہ گڑگڑایا۔


" منہ کھولو۔"

اس نے سرخ آنکھوں سے اسے حکم دیا۔ 


" لی۔۔۔لیکن۔۔۔"

اس نے پوری طاقت سے گھونسا اس کی ناک پر مارا۔ ہڈی کے چٹخنے کی آواز آئی۔ 


" اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں زیادہ نہ تڑپاؤں تو جیسا کہہ رہی ہوں ویسا ہی کرو۔" 

اس لڑکے نے کانپتے ہوئے منہ کھول دیا۔ اس نے ہاتھ اس کے منہ میں ڈال کر اس کی زبان کھینچی اور اس پر چاقو پھیر دیا۔ ابھی وہ چیختا اس نے دوبارہ چاقو اس کے منہ میں گھسا دیا۔ اس کی چیخ اندر ہی رک گئی۔


اگلے ہی لمحے اس نے وہ چاقو پوری طاقت سے اس کی گردن میں اتار دیا۔ خون کا فوارہ اس کے چہرے پر گرا لیکن وہ رکی نہیں۔ دوسرا وار۔۔۔ پھر تیسرا وار۔۔۔ اور پھر لگاتار۔ 


یہاں تک کہ لڑکے کی گردن آدھی کٹ گئی۔ زین نے اسے نہیں روکا تھا۔ وہ چپ کھڑا اس کو دیکھتا رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔ 


اس لڑکی کے سر پر تو جیسے خون سوار ہو چکا تھا۔ اب وہ اس کے سینے میں چاقو اتار رہی تھی۔ بنا رکے، پاگلوں کی طرح۔ تھوڑی دیر بعد وہ رکی۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ جسم خون میں بھیگا۔ 


زین نے دھیرے سے چاقو اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ اس کی جیکٹ درست کی۔ رومال نکال کر اس کا چہرہ اور ہاتھ صاف کیے۔ دونوں باہر نکلے۔ 


پیچھے میوزک ابھی بھی بج رہا تھا۔ زین نے ایک آخری نظر کمرے پر ڈالی۔ کوئی ثبوت نہیں، کوئی نشان نہیں۔ باہر لگا کیمرہ ٹوٹا ہوا تھا۔


اس نے دروازہ لاک کیا پھر دونوں ہی لفٹ کی طرف بڑھ گئے۔

•••••


صبح کی سنہری روشنی کھڑکیوں کے پردوں سے اندر فرش پر گر رہی تھی۔ وہ خالی خالی نگاہوں سے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔ شہریار کہیں نہیں تھا۔ کمرے کی خاموشی اتنی گہری تھی کہ اسے موت جیسا گمان ہوا۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں۔ کوئی آنسو نہیں تھے۔ چہرہ زرد، بال بکھرے ہوئے۔ 


جسم میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن اس کا دھیان وہاں نہیں تھا۔ دماغ میں صرف ایک چیز چل رہی تھی۔


یہ سچ نہیں ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا میرے ساتھ۔ یہ سب جھوٹ ہے لیکن پھر دھیرے دھیرے اسے احساس ہوا یہ سچ ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔


" مجھ سے کیا چھین لیا گیا ہے؟ کیا میں اب بھی وہی روشنی ہوں؟" 


دماغ خالی ہو گیا۔ آنکھیں ویران۔ اسے اپنی چیخیں ابھی بھی سنائی دے رہی تھیں۔ رات ڈر تھا اور صبح سناٹا۔ وہ اٹھی اور دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی۔ دروازہ لاک تھا۔ وہ سیدھ میں دیکھتی رہی۔ 


تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے کچھ آواز آئی جیسے کوئی گھسیٹا جا رہا ہو۔ پھر دبی دبی چیخ۔


" مجھے گھر جانا ہے پلیز چھوڑ دو۔" 

وہ لڑکی کی آواز تھی۔ روتی ہوئی۔ 


روشنی نے پہلے کوئی حرکت نہیں کی پھر جب اس نے اس لڑکی کی چیخ سنی تو اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

" پلیز گھر جانا ہے۔۔۔ پلیز۔"


روشنی کا سانس خشک ہوا۔ اسے اپنے الفاظ یاد آئے جو رات کو اس نے کہے تھے۔ بالکل اس جیسے۔ ایک ہی ٹون میں کہے گئے۔ اس کے ہاتھ پاؤں سرد پڑنے لگے۔ یہاں اور بھی؟ 


آواز دیوار کے دوسری طرف سے آرہی تھی۔ وہ کھسک کر دیوار سے جا لگی۔ اس نے زور سے ہاتھ مارا۔


" سن رہی ہو تم؟"  

دوسری طرف صرف رونے کی آواز تھی۔ روشنی کے دماغ میں بجلیاں گرنے لگیں۔ یہ جگہ صرف اس کے لیے نہیں تھی۔ یہ جگہ ان سب کے لیے تھی جنہیں کوئی ڈھونڈ نہیں سکتا تھا یا بچا نہیں سکتا تھا۔ اس نے گہرے گہرے سانس لے کر خود کو سنبھالا پھر بولی۔


" میں زندہ ہوں۔۔۔"

وہ رکی۔

" تم بھی رہنا۔"


دروازے کے باہر قدموں کی آواز آئی۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔ دروازہ کھلا۔ وہ خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ شہریار اندر داخل ہوا۔ صاف ستھرے کپڑے۔ خوشبوؤں میں مہکتا ہوا۔ چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔


" گڈ مارننگ روشنی۔"

وہ چل کر پاس آیا۔ اس کا بکھرا چہرہ دیکھا۔ دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیب میں ڈالے۔ 


" روشنی دیکھو یہ رونا دھونا بےکار ہوتا ہے۔"

روشنی خاموش اس کے پیروں کو دیکھتی رہی۔


" تمہارے لیے بہتر ہے تم سمجھ جاؤ۔"  

روشنی نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ 

" بابا؟" 

شہریار نے گہری سانس لی۔ وہ ابھی بھی باپ کا پوچھ رہی تھی۔


" زندہ ہیں فی الحال۔"

روشنی کے آنسو اس کی گود میں گرے۔

" انہیں چھوڑ دو۔"

اس کا لہجہ گیلا تھا۔ شہریار ہنس پڑا۔ رک کر اس کو دیکھا پھر۔۔۔ پھر سے ہنس پڑا۔ روشنی کا دل پھٹ گیا۔


" انہیں جانے دو شہریار۔ مجھے مار دو انہیں چھوڑ دو۔ میرے بابا کو چھوڑ دو۔"

وہ روتے ہوئے اس کے پیروں میں گر گئی۔ 


شہریار دلچسپی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔

" بابا نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا۔ انہیں چھوڑ دو۔ مجھے مار دو۔ جو کرنا ہے کرو لیکن انہیں جانے دو۔" 


شہریار نے جھک کر اس کے بال پکڑے۔ چہرہ اوپر اٹھایا۔ روشنی کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔ 


" عجیب بات کرتی ہو روشنی۔" 

وہ اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا۔ 

" میں تمہیں کیسے مار سکتا ہوں؟"  

دوسرے ہاتھ سے انگلی اس کے گال پر پھیری۔ روشنی اندر تک ہل گئی۔ اس نے روشنی کا ٹھنڈا ہاتھ پکڑ لیا۔ نظریں ابھی بھی اس کی آنکھوں میں گھسی ہوئی تھیں۔


" تمہیں پتہ بھی نہیں کہ تم اس وقت کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ۔"

اس نے روشنی کا چہرہ اور اوپر اٹھایا۔ انگلیوں میں اس کے بال الجھائے۔ اس کے آنسو شہریار کے ہاتھ پر گرنے لگے۔ 


" میری طرف دیکھو۔"

اس نے درشتی سے کہا۔ روشنی کے جسم میں سرد لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اس نے شہریار کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں مسکراہٹ تھی۔ شیطانی مسکراہٹ۔


" جب تک تم ٹھیک رہو گی تمہارے بابا زندہ رہیں گے۔" 

اس کا ہاتھ سرکتا ہوا اس کے کندھے پر گیا۔ روشنی کو لگا اس کی جان نکلنے لگی ہے۔ وہ اپنا چہرہ اس کے اور قریب لے گیا۔


" تمہیں پتہ ہے تمہارے بابا کو سب سے زیادہ کس چیز نے مارا؟"

روشنی کو اس کی دھیمی سانپ جیسی پھنکار والی آواز اپنے کان میں اترتی محسوس ہوئی۔


" جب انہوں نے تمہاری چیخیں سنی تھیں رات کو۔" 

روشنی کو لگا کسی نے اس کے جسم سے روح بے دردی سے کھینچ لی ہے۔


" وہ بس ایک ہی بات دوہرا رہے تھے۔"  

اس نے مسکراتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سامنے کیا۔ روشنی کے ہاتھ نیچے گر گئے۔


" میری بیٹی کو تکلیف مت دو۔ اسے چھوڑ دو۔" 

روشنی سانس لینا بھول چکی تھی۔ 


" تمہارا درد ان کی سانسیں روک رہا تھا۔"

وہ دھیرے سے کھڑا ہو۔ اس کے جھکے سر کو دیکھا۔


" اسی لیے کہہ رہا ہوں اچھی بچی بن کر رہو۔"

وہ گنگناتے ہوئے پلٹ گیا۔ 


روشنی کانپتے ہاتھ ٹھنڈے فرش پر رکھ گئی۔ اس کی سانسیں لمبی ہو گئی تھیں۔ آنسو اس کی مرضی کے بغیر گرنے لگے تھے۔


" بابا۔"

اس کے جسم کو جھٹکا لگا۔ وہ فرش کی طرف جھکتی گئی۔


" بابا۔"

اس کے سینے سے آہیں نکل رہی تھیں۔


" بابا۔"

اس بار آنکھوں سے چشمہ پھوٹ پڑا۔ 


وہ روتے ہوئے ایک دم سے چیخنے لگی تھی۔ ہاتھ ادھر ادھر مار رہی تھی۔ اس کی خود کی آواز اس کے کان پھاڑ رہی تھی۔


" انہیں مت درد دو۔۔۔ پلیز مجھے دے دو۔۔۔ مجھے دے دو۔۔۔" 

اس کے ہاتھ بالوں میں پھنس گئے۔


" بابا گھر چلے جاؤ۔۔۔ بابا چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔ گھر چلے جاؤ۔"

اس کے ہاتھ فرش پر پھسلنے لگے تھے۔ سانس جھٹکوں کی صورت آ رہی تھی۔ 


" مجھے معاف کر دیں بابا۔۔۔ میں اچھی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔ انہیں جانے دو۔۔۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ انہیں کچھ نہیں پتہ۔۔۔" 


وہ رو نہیں رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے درد خود ہی باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔


" بابا۔۔۔ میرے بابا۔"

سانس اب ہچکی بن گئی تھی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اسے کسی نے پکڑ کر اندر سے توڑ کر زمین میں دفن کر دیا ہو۔ 


اس کے ایسے ٹکڑے کر دیے گئے جو کبھی نہیں جڑنے والے تھے۔


جاری ہے

Comments

  1. I knew it yh sab shahyar ne krwaya hai or zain k sath roshani h or wo akbar hai ab yh secret h k asal mn zain h kon or us k sath kia hua jo kay agy pta chal jye ga but i love zain and roshani' couple 😍 hope for the happiest ending kamal kamal allaw no words to describe my love for your writing best novel so for waiting for the next episode thumb up munaza niaz keep going ❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts