Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Ruthless killer Episode 11 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer Episode 11 

By Munaza Niaz 



تاریک رات فارم ہاؤس پر اور گہری ہو رہی تھی۔ پول کے کنارے لان میں باربی کیو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میوزک بج رہا تھا۔ کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ 


باربی کیو گرل پر گوشت بھونا جا رہا تھا جس سے دھواں اٹھ کر پول کے گہرے پانی پر تیر رہا تھا۔ شہریار پول کے کنارے گلاس تھامے پانی کو دیکھ رہا تھا جس کی تہہ میں رنگین روشنیاں تیر رہی تھیں۔ 


زوہیب اور صائم باتوں میں مصروف تھے۔ آہان سائیڈ پر بیٹھا تھا۔ جیسے یہ جگہ صرف پارٹی کے لیے بنی ہے۔ یہاں کبھی کچھ برا ہوا ہی نہ ہو جیسے۔ ان چاروں کے لیے یہ ایک اور رات تھی، ایک اور مستی، ایک اور ایڈوینچر۔ 


اسی پل آہان بور ہوتا اٹھا اور اندر چلا گیا۔ کسی نے پوچھا تک نہیں کہ کہاں جا رہا ہے۔ کچھ دیر بعد انہیں کسی کے گھسیٹنے کی آواز آئی۔ وہ واپس آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں روشنی کا بازو تھا۔


روشنی نہیں۔۔۔ اس کا جسم۔ وہ اسے بازو سے پکڑے تقریباً کھینچتے ہوئے لے کر آ رہا تھا۔ اس کے پاؤں زمین پر چل نہیں رہے تھے بلکہ گھس کر لگ رہے تھے۔ 


بال الجھے ہوئے، چہرہ بے رنگ، ہونٹ سوکھے ہوئے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ زندگی سے بے نور آنکھیں۔ وہ اسے گھسیٹتا ہوا پول کے کنارے لے آیا۔ شہریار کی نظر بے ساختہ اس کی طرف اٹھی۔ گلاس والا ہاتھ نیچے ہو گیا۔


" دیکھو اپنی ہیروئن کو۔" 

آہان ہنستے ہوئے بولا۔ 


شہریار چپ رہا۔ اس کی نگاہیں روشنی کے چہرے پر ٹھہر گئی تھیں۔ اس کے دماغ میں روشنی کا اصلی چہرہ گھوم گیا۔ مسکراتا ہوا، معصوم، خوبصورت، داغوں سے پاک، گہری سمندر جیسی آنکھوں والا چہرہ۔ جہاں زندگی تھی۔ 


جبکہ سامنے وہاں صرف جسم تھا۔ خالی خول، بے جان سا، موت جیسا سرد۔ شہریار نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ خشک آنکھیں۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ وہاں صرف ایک سوال تھا۔ اس کے لیے۔


" کیا یہی پیار تھا تمہارا؟"

شہریار نے اسی وقت چہرہ موڑ لیا۔ انگلیوں کی گرفت گلاس پر سخت ہوئی۔ بھنویں سکڑ گئیں۔ ایک بے چینی سی اس کے اندر رینگ گئی تھی۔


" گائز چلو مستی کرتے ہیں۔"

شہریار نے چونک کر واپس اس کو دیکھا۔ زوہیب اور صائم دلچسپی سے دیکھنے لگے۔ آہان نے روشنی کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر پول کے کنارے ٹھہرایا اور زور سے پانی میں دھکا دے دیا۔


پانی کی سطح ہل گئی۔ رنگین روشنیوں کا چہرہ بگڑ گیا۔ لائٹس پانی میں ناچنے لگی تھیں۔ آہان ہنستے ہوئے باقی دونوں کی طرف پلٹ گیا۔


شہریار کنارے پر کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا جو دھیرے دھیرے اندر جا رہی تھی۔ سیدھا، بنا ہاتھ پیر مارے۔ وہ بچنے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھی۔ پول کا پانی ٹھہرنے لگا تھا۔ وہ ڈوبتی جا رہی تھی جیسے اس نے کہہ دیا کہ بس اب اور نہیں۔ اب نہیں۔


ان تینوں نے جب دیکھا تو بیزار ہو گئے۔ 

" کیا یار کوئی نکالو اس کو۔ کہیں مر گئی تو پرابلم ہو جائے گی۔"

صائم نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔ کوئی آگے نہیں بڑھا تھا۔


شہریار اس کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس کا دماغ کہہ رہا تھا چھوڑ دو۔ اور انا کہہ رہی تھی ' یہ صرف ایک چیز تھی، تمہیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے' 


مگر وہ پول کی تہہ تک جا پہنچی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کتنا گہرا ہے۔ اگلے ہی لمحے اس نے ہاتھ میں پکڑا گلاس گھاس پر پھینکا۔


" ہٹ۔"

اور بنا سوچے پول میں چھلانگ لگا دی۔ وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا صرف توڑ کر رکھنا چاہتا تھا۔ باقی تینوں شاک میں چلے گئے تھے۔ 


وہ گہرائی میں اترا۔ انگلیاں روشنی کے بالوں کو چھو گئیں۔ اس نے اسے پکڑا۔ اس کا جسم بالکل ڈھیلا تھا۔ وہ اسے تیزی سے اوپر کھینچ کر لے گیا۔ باہر نکل کر اس نے اسے الٹا گھما دیا۔ پانی روشنی کے منہ سے نکلا۔ وہ خود بھی تیز اور گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔


" ارے واہ! تو تو ہیرو بن گیا۔"

آہان نے پھر سے قہقہہ لگایا۔ لیکن شہریار کا چہرہ سپاٹ ہی رہا۔ وہ روشنی کے چہرے پر جھکا۔


" مرنا اتنا آسان نہیں ہے سمجھی۔"

وہ اسے دھمکی دے رہا تھا جیسے وہ اب اس کی مرضی کے بنا مر بھی نہیں سکتی۔


روشنی خالی خالی نگاہوں سے اس کو دیکھے گئی۔ وہ نفرت سے اس کو دیکھتا کھڑا ہو رہا تھا تب ہی زوہیب ڈرنک کا گلاس رکھتے ہوئے کھڑا ہوا اور آگے بڑھ کر روشنی کو اٹھا لیا۔ روشنی نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اس کا دماغ بند ہو چکا تھا۔ شہریار خاموشی سے ان دونوں کو دیکھتا رہا۔ 


جیسے ہی وہ اسے پکڑے آگے بڑھا گیٹ سے ایک سیاہ کار فارم ہاؤس میں داخل ہوئی۔ چاروں نے بیک وقت اس طرف دیکھا۔ ان کے ساتھ روشنی نے بھی دیکھا تھا۔ کار کا دروازہ کھلا۔ سفید کپڑوں میں ملبوس نرم تاثر چہرے پر سجائے ایک شخص باہر نکلا۔ 


اس کی نظر ایک ساتھ ان سب پر پڑی تھی۔ پہلے وہ ٹھٹکا پھر واپس نارمل ہو گیا۔ شہریار نے گیلے بال ماتھے سے ہٹائے پھر مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔


" ویلکم بِگ برادر۔" 

سجاد درانی نے بنا اپنے کپڑوں کی پرواہ کیے شہریار کو سینے سے لگا لیا۔ 


" اگر آپ آ ہی رہے تھے تو بتا دیتے میں اور اچھا انتظام کروا لیتا۔"

شہریار نے ہنستے ہوئے کہا۔


" تمہیں دیکھنا تھا۔ یہی کافی ہے۔"

سجاد نے اس کی ہنسی کا ساتھ دیا تھا۔


روشنی کے جسم میں جیسے جان آگئی تھی۔ اس نے پوری طاقت سے زوہیب کو دھکا دیا اور سجاد کی طرف بھاگی۔ زوہیب جو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے لڑکھڑا کر پیچھے جا گرا۔


وہ بھاگتی ہوئی اس کے سامنے آئی اور ہاتھ جوڑ دیے۔ 

" پلیز سر میری مدد کریں۔۔۔ پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالیں۔۔۔" 

وہ بری طرح تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔ 


سجاد نے پہلے اسے پھر سوالیہ شہریار کو دیکھا۔ شہریار کے لب بھینچ گئے۔ 

" کچھ خاص نہیں۔"

وہ اس کو لیے آگے بڑھا۔ سجاد نے بھی کچھ نہیں کہا۔ 


روشنی کے آنسو تھم گئے۔ اس نے بے یقینی سے دونوں کو جاتے دیکھا۔ ہاتھ کھل کر پہلو میں گر گئے تھے۔ اس پر اب انکشاف ہوا کہ سجاد درانی۔۔۔ وہ شخص، جو انسانیت کا پیغام دیتا تھا، جو جگہ جگہ سیمینار کرواتا تھا، جو اسپیچ دیتا تھا۔ وہ سب جھوٹ اور شیطانی ماسک تھا۔


شہریار نے آنکھ سے زوہیب کو اشارہ کیا کہ سنبھال لینا اور اندر چلا گیا۔ زوہیب دانت پیستے آگے بڑھا اور زور سے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا۔


وہ ٹوٹی پتنگ کی طرح اس سے ٹکرا گئی۔ وہ اسے گھسیٹ کر واپس لے جا رہا تھا جو پھر سے بے جان ہو گئی تھی۔


•••••


رات دھیرے دھیرے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ کمرے کی خاموشی میں اس کی مدھم سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ گہری نیند میں تھی۔ لائٹ جل رہی تھی شاید وہ بند کرنا بھول گئی تھی۔ اب وہ روشنی اس کی آنکھوں میں بھی چبھنے لگی تھی۔ 


اس کی پلکیں لرزیں۔ وہ دھیرے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے اپنی سانس الجھی ہوئی محسوس ہوئی۔ کمرہ وہی تھا مگر اس کو لگ رہا تھا دیواریں آہستہ آہستہ اس کے قریب آرہی ہیں۔


اس نے آواز نکالنے کے لیے ہونٹ کھولے لیکن آواز نہیں نکلی۔ اس نے دونوں ہاتھ گلے پر رکھ دیے۔ خاموشی ایسی جو قاتل لگے۔ اس کا دل ایک دم سے گھبرانے لگا۔ 


وہ کپکپاتے جسم کے ساتھ بیڈ سے اتری۔ سیدھا زین کے کمرے کی باہر رکی اور بنا سوچے سمجھے دروازہ بجایا۔ ایک بار، دو بار، تین بار، بار بار۔ لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ اس نے ہینڈل گھمایا۔ دروازہ لاک نہیں تھا۔ 


" زین۔۔۔"

وہ اسے پکارتی گھبراہٹ میں اندر قدم رکھ گئی لیکن کمرہ خالی تھا۔


وہ باہر نکلی۔ کچن میں دیکھا، باتھ روم، سب خالی۔ اس کا دماغ بلینک ہو گیا۔ وہ کچن میں گئی۔ گلاس ترتیب سے رکھے تھے۔ اس نے ایک اٹھایا اور اسے فرش پر دے مارا۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا۔


ایک ایک کر کے اس نے سارے گلاس توڑ دیے۔ اسے شور چاہیے تھا۔ اسے آواز سننی تھی۔ خاموشی اس کے اندر طوفان بن کر بیٹھی تھی۔ وہ اسے کسی بھی طرح نکالنا چاہتی تھی۔ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی لیکن اس طرح جینا بھی نہیں چاہتی تھی۔


اس کے اندر کی الجھن گہری ہوتی جا رہی تھی۔ اس نے ایک ایک کر کے سارے برتن گرانا شروع کر دیے۔ اسے صرف آوازیں چاہیے تھیں۔ وہ خود چیخنا چاہتی تھی لیکن آواز گلے تک آ کر رک جاتی تھی۔ وہ باہر نکلی، اپنے کمرے میں لگے آئینے کو توڑ دیا۔ 


اسے لگا آئینہ ویسا ہی ہے بس اس کے عکس کے ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ اس کی بے چینی مزید بڑھ گئی۔


" زین؟"

وہ اسے پکارتے باہر نکلی۔ 

" کہاں ہو تم؟"

وہ ہر جگہ گھوم رہی تھی۔ اسے بلا رہی تھی۔


اسے صرف اس کو دیکھنا تھا۔ ایک انسان کو۔ ایک انسان کی آواز کو سننا تھا۔ ایک انسان کی موجودگی کو محسوس کرنا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ زین کہیں نہیں تھا۔ 


" کہاں چلے گئے ہو تم؟ کہاں؟"

وہ ہال کے فرش پر گر کر بیٹھ گئی۔ اس کی نم آنکھیں دور دور تک ہر ایک چیز کو سکین کر رہی تھیں۔


ہلکی سی پردے کی آہٹ پر اس کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ اسے لگتا کوئی سایہ گھوم رہا ہے۔ اس کا تنفس بگڑنے لگا۔ نظر کھلے دروازے سے کچن کی طرف گئی۔ ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑے اور گرے ہوئے برتن اسے مونسٹر لگ رہے تھے۔ وہ دھیرے سے کھڑی ہوئی پھر سے نگاہیں دوڑائیں۔


" کہاں ہو تم؟ بس ایک بار۔۔۔ ایک بار دِکھ جاؤ۔" 

اس کی آنکھوں سے نمکین پانی بہنے لگا۔ زیادہ پل نہیں گزرے تھے کہ ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ اس کے آنسو تھم گئے۔ جسم ابھی بھی کانپ رہا تھا۔ بیرونی دروازے سے کوئی پورے قدم اٹھاتا چلا آ رہا تھا۔ اس کے آنسو پھر سے رواں ہو گئے۔ 


وہ چلتا ہوا آیا اور اس طرح اس کے سامنے کھڑا ہوا کہ محض تین قدموں کا فاصلہ رہ گیا۔ جیسے کہ اگر کوئی ہو۔۔۔ کوئی آئے۔۔۔ تو سب سے پہلے اس کو دیکھے۔ پہلا ٹارگٹ وہ خود ہو۔ یہ روتی ہوئی لڑکی نہیں۔ 


وہ اس کے پاس تو آیا تھا لیکن اس کی حد نہیں ٹوٹی تھی۔ وہ فاصلے پر رہا تھا اور یہ ایک کام مرد کے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے۔ چاہ کر بھی نہ چھونا۔


وہ چہرہ اٹھائے اسے دیکھے گئی۔ آنسو ہچکیاں بن گئے تھے۔ اس کے آنے سے اسے محسوس ہونے لگا کہ کوئی پاس ہے لیکن اسے مجبور نہیں کر رہا۔ کوئی اس کے سامنے کھڑا ہے اور اسے گرنے نہیں دے رہا۔ 


وہ روتی رہی اور کافی دیر تک روتی رہی۔ وہ چپ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ دونوں نے کچھ نہیں کہا۔ کبھی کبھی لفظوں سے زیادہ خاموشی سب کہہ دیتی ہے۔ وہ روتے ہوئے واپس فرش پر بیٹھ گئی۔ وہ اب اس کو نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس نے دونوں گھٹنے اٹھائے، بازو لپیٹ کر اپنا سر رکھ دیا۔


اندر کا طوفان تھمنے لگا تھا۔ تیز دھڑکتا دل اور کانپتا جسم ہولے ہولے پرسکون ہوتے گئے۔ کچھ لمحوں بعد وہ فرش پر دھیرے سے لیٹ گئی۔ جب دل پرسکون ہو تو کہیں بھی نیند آ جاتی ہے۔ اس کی سانسوں کی رفتار اب سیدھی ہو گئی تھی۔ وہ سو گئی تھی۔ 


زین کافی دیر تک کھڑا اس کو دیکھتا رہا پھر وہ اس کے سامنے بیٹھا۔ اسی فاصلے کے ساتھ۔


" اگر میں بھی وہی نکلا تو سب سے پہلے تم ہی مارو گی مجھے۔"

وہ دھیرے سے بولا لیکن وہ سن نہیں سکتی تھی۔ وہ بے خبر ہو چکی تھی۔ وہ آہستہ سے اس طرح اس کے سامنے ہوا کہ اس کی پرچھائی اس کے گرد پھیل گئی۔ 


اس کا ہمیشہ سرد اور بے تاثر رہنے والا چہرہ دھیرے دھیرے بدلنے لگا۔ چہرے کی سرد مہری، آنکھوں کی بیگانگی غائب ہو گئی۔ 


ایک آنسو چپکے سے گال پر بہہ گیا۔ اس کے بعد دوسرا، پھر تیسرا۔ کوئی آواز نہیں، کوئی سسکی نہیں۔ صرف بے آواز آنسو جو فرش پر گرتے جا رہے تھے۔


" تم مجھے انسان دیکھنا چاہتی تھی نا؟"

وہ اتنی دھیمی آواز میں بولا کہ اگر وہ جاگ رہی ہوتی تب بھی سن نہ پاتی۔


" وہ انسان جس کے جذبات ہوں، جو کمزور ہو، جو محسوس کرتا ہو، روتا ہو، ہنستا ہو۔" 

وہ سانس سنبھالنے کو رکا۔


" یہ رہا تمہارا انسان۔" 

وہ بنا اس کے چہرے سے نظریں ہٹائے بول رہا تھا۔


" تمہیں چھونا۔۔۔ تمہیں سنبھال لینا۔۔۔ تمہیں اپنا کہہ دینا۔۔۔ یہ سب میرے لیے بہت آسان ہے۔"

اس کی انگلیاں مٹھی کی صورت بند ہو گئی تھیں۔


" مگر تمہیں خود کو کھو دینے سے بچانا؟ یہ سب سے مشکل ہے میرے لیے۔" 

آنسو اس کی پلکوں پر ٹھہر گئے تھے۔


" میں اگر ہیرو ہوتا نہ تو تمہیں بانہوں میں لے لیتا۔" 

اس نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ گردن جھکائی پھر دوبارہ اس کو دیکھا۔


" مگر میں ہیرو نہیں ہوں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جب کبھی تمہیں میری ضرورت ہوگی۔ میں یہی ہوں گا۔" 

ایک لمحے کا وقفہ آیا پھر۔

" ہمیشہ۔" 


وہ اٹھا، کمرے میں گیا۔ واپس آیا تو ہاتھ میں چادر تھی۔ اسے اس نے نرمی سے اس کے اوپر پھیلا دیا۔ پھر وہ پیچھے ہٹا۔ لمحہ بھر ٹھہر کر اس کو دیکھا اور آہستگی سے پلٹ گیا۔


•••••


اکبر کی بائیک سائیڈ میں کھڑی تھی۔ سامنے پورا شہر نظر آ رہا تھا۔ آسمان صاف تھا، شہر روشن۔ اس کے ایک ہاتھ میں ہیلمٹ، دوسرے میں سگریٹ دبا تھا۔


اس نے پہلا کش لگایا پھر دوسرا۔ آج سگریٹ کا ذائقہ اسے اچھا نہیں لگا۔ اس کا ذہن کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔ وہ ایک چہرہ جو بار بار آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ اس نے سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ چہرہ اسے خوبصورت لگا تھا یا کچھ اور۔ یہ خوبصورت لفظ اس چہرے کے لیے کہیں فٹ ہی نہیں ہو رہا تھا۔


وہ کچھ اور تھا۔ اسے اب غصہ آ رہا تھا کہ وہ ایک چہرہ اسے کیوں یاد رہ گیا تھا۔ اس نے غصے سے سگریٹ زمین پر پھینک کر اسے بوٹ تلے کچل دیا۔ اسے پھر سے یاد آیا کہ وہ ہیلمٹ کے پیچھے بھی وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا۔ 


بنا نظروں کا زاویہ بدلے۔ جب وہ چل کر بس تک گئی تھی۔ تب بھی وہ وہیں جما رہا تھا اور سب سے عجیب بات؟


اس کی خوشبو۔ وہ جو اسے یاد رہ گئی تھی۔ اور اسے یہ بات اب زیادہ چبھ رہی تھی۔ اس کی گرفت ہیلمٹ پر سخت ہوئی۔ جب وہ بائیک کے قریب پہنچا۔ اس کا فون تھرتھرایا۔ اس نے نکال کر کان سے لگایا۔


" فارم ہاؤس پہنچو ابھی۔"

اس نے نہیں پوچھا کہ کیوں۔ وہ پوچھتا ہی نہیں تھا۔


" آ رہا ہوں۔"

جیسے ہی وہ بائیک پر بیٹھا۔ وہ چہرہ پھر سے سامنے آگیا۔ اس بار صرف چہرہ ہی نہیں بلکہ ایک احساس بھی ابھرا تھا اور اس نے ان دونوں کو ہی آنے سے نہیں روکا تھا۔


جب وہ فارم ہاؤس پہنچا۔ شہریار اس کا منتظر تھا۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔ اکبر خاموش اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔


" ٹائم پر آگئے۔"

وہ اسے اندر نہیں لے گیا تھا۔


" اسے گھر چھوڑ آؤ۔"

اس نے سائیڈ میں کھڑی ایک کار کی طرف اشارہ کیا۔ 


اکبر نے صرف ایک نظر کار پر ڈالی تھی۔ بیک سیٹ پر کچھ پڑا تھا۔ چادر میں لپٹا ہوا کچھ۔


" ایڈریس؟"

اکبر نے پوچھا۔ 


کون؟ کیوں؟ کیسے؟ یہ سب الفاظ اس کے لیے بنے ہی نہیں تھے۔


" اس پرچی والے کی بیٹی ہے۔"

اتنا کہہ کر وہ پلٹ گیا تھا۔


اکبر فوراً سمجھ گیا۔ بنا کوئی لفظ منہ سے نکالے وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا۔ کار سٹارٹ کی۔ بے اختیار نظر مرر سے بیک سیٹ کی طرف اٹھی۔ چہرہ سمیت پورا وجود چادر میں لپٹا تھا۔ بالوں کی ایک لِٹ تھی جو اسے نظر آئی تھی۔ 


گاڑی فارم ہاؤس سے باہر نکلی اور سڑک پر دوڑنے لگی۔ رات دھیرے دھیرے اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ اکبر کی نظر بار بار بھٹک کر بیک مرر سے اس چادر کی طرف اٹھ جاتیں۔ وجہ وہ خود نہیں جانتا تھا۔ 


شہریار کا انداز اسے پتہ تھا۔ لڑکیاں اٹھانا، ان سے کھیلنا اور پھر پھینک دینا۔ اکبر نے کبھی سوال نہیں کیا تھا۔ وہ صرف آرڈر فالو کرتا تھا۔ آرڈر چاہے جو بھی ہو وہ پورا کرتا تھا۔ بنا جذبات کے۔ 


اس نے نہ پہلے کبھی سوال کیا نہ بعد میں اور نہ ہی آج۔ پھر بھی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ گاڑی کے اندر کچھ الگ ہے۔ 


پھر ایک لمحہ آیا جب گاڑی کے اندر ہوا نے گردش لی اور وہی اس کا سانس پہلی دفعہ رکا تھا۔ وہ خوشبو۔ بہت ہلکی سی۔ کسی یاد کے جلے ہوئے کونے جیسی۔ 


اس کی نظر سامنے سڑک پر تھی۔ ہاتھ خود ہی اسٹیرنگ پر سخت ہو گئے۔ وہ خوشبو کیسی تھی؟ جیسے بارش کے بعد مٹی؟ نہیں۔۔۔ جیسے بارش کے بعد پھول۔ 


اس نے پھر سے اس کو دیکھا۔ چادر، ساکت وجود اور خاموشی۔ اس نے فوراً نظر ہٹا لی۔ 


" اتفاق ہوگا۔ فارم ہاؤس سے آتی ہوا ہو گی یا دماغ کا کوئی بے کار دھوکہ۔"

وہ لاجک پر واپس آیا۔ جیسے ہمیشہ سے آتا تھا۔


گاڑی ایک محلے میں داخل ہوئی۔ وہ باہر نکلا۔ بیک ڈور کھولا۔ گلی پوری سنسان تھی۔ ہر گھر کا دروازہ بند تھا لیکن گاڑی کی آواز اتنی تھی کہ کوئی نہ کوئی باہر آ ہی جاتا۔ 


اس نے ہاتھ بڑھایا۔ اسے پھر سے بالوں کی لیئر نظر آئی۔ اس نے نظر انداز کیا اور چادر اٹھا لی۔ وزن زیادہ نہیں تھا جیسے زندگی خود اس سے اپنا بوجھ اتار چکی ہو۔


دروازے کے باہر رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ ایک پل کو لرزہ تھا۔ وہ خوشبو پھر سے آئی تھی۔ اس دفعہ اور قریب اور زیادہ واضح ہو کر۔


وہ تیزی سے سیدھا ہوا جیسے کسی نے اسے جھٹکا دیا ہو۔ اس نے پیچھے دیکھا جیسے کوئی اس کو جواب دے گا لیکن کوئی نہیں تھا۔ سب بند تھا۔ یہ ایک آرڈر تھا۔ ایک حکم۔


" تم صرف کام کرتے ہو۔"

اس نے خود سے کہا۔ نہیں، بلکہ باور کروایا۔


وہ مڑا، گاڑی میں بیٹھا۔ اس نے اس کو دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ وہ چاہتا تو اس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا لیکن وہ ایسا نہیں تھا۔ اس کا کام حکم ماننا تھا جو اس نے کر دیا تھا۔ 


گاڑی محلے سے باہر نکلی تب اس کو محسوس ہوا۔ وہ خوشبو اس کے ساتھ نہیں گئی تھی۔ وہ اس کے اندر رہ گئی تھی۔


••••• 


رافیل صوفے پر آڑا ترچھا پڑا سامنے چلتی ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ میز پر خالی برتن بکھرے پڑے تھے۔ عباد صاحب نہیں آئے تھے۔ روشنی اچانک کہاں غائب ہو گئی؟ اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔ ہاں جب روشنی اسے نہیں ملی تو اسے جھٹکا لگا تھا۔ پہلے تو وہ اسے ڈھونڈتا رہا۔ اس لیے نہیں کہ اسے اس کی پرواہ تھی بلکہ اس لیے کہ اب اسے پورا موقع ملا تھا لیکن وہ شاید بھاگ گئی تھی۔ 


ہاں جب وہ اسے ڈھونڈ نہیں پایا تو یہی نتیجہ اخذ کر لیا۔ وہ یہ سوچ کر مطمئین ہو گیا کہ کسی نہ کسی دن وہ اس کے ہاتھ لگ ہی جائے گی تب وہ اس سے حساب پورا کرے گا۔ 


اس نے ریموٹ اٹھایا، ٹی وی بند کیا۔ جیسے ہی سونے کے لیے اٹھا اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ وہ ٹھٹکا پھر باہر نکلا۔ آواز باہر سے آ رہی تھی۔ اس نے جب دیکھا تو قدم بے اختیار رکے۔ 


کچھ لوگ باہر نکلے ہوئے تھے۔ کچھ دروازوں سے جھانک رہے تھے۔ اس نے سامنے پڑے وجود سے چادر ہٹائی۔ 


" روشنی؟" 

اتنا کہہ کر چادر واپس ڈال دی۔


" استغفراللہ یہ روشنی ہے؟ کہاں تھی یہ؟" 

ایک آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

" لگتا ہے بے ہوش ہے۔۔۔ اور عباد صاحب کہاں ہیں؟ وہ نہیں آئے؟"


رافیل کو لگا اگر وہ مزید کھڑا رہا تو اور تماشہ ہوگا۔ اس نے گھور کا سب کو دیکھا اور اسے اٹھا کر فوراً اندر چلا گیا۔ پہلی بار رافیل کو غصہ نہیں آیا۔ کوئی ہوس نہیں جاگی۔ صرف خوف محسوس ہوا تھا۔


وہ اسے کسی بوجھ کی طرح اٹھا کر لے جا رہا تھا۔ اس کے کمرے میں بیڈ پر لٹا کر وہ اسے کافی دیر تک گھورتا رہا۔ یہ سب کیسے ہو گیا؟ میں کہاں تھا اس وقت؟ اس کے چہرے پر کئی سوال تھے۔


روشنی بے ہوش تھی۔ ہاں جب وہ ہوش میں آئے گی تب وہ دیکھے گا۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔


جاری ہے


Comments

Post a Comment

Popular Posts