Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Ruthless killer Episode 13 by Munaza Niaz
Ruthless killer Episode 13
By Munaza Niaz
" شیزل بھاگو۔۔۔ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔"
گولی کی آواز، خون، اس کا بھاگنا، چیخنا۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
" بھائی۔۔۔"
وہ بیڈ سے اتری۔
" بھائی۔۔۔۔"
اس کا جسم پسینے میں نہایا تھا۔ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔
وہ دروازے کی جانب بھاگی تبھی کوئی اس کے سامنے آگیا۔
" ہٹ جاؤ۔۔۔ مجھے میرے بھائی کی پاس جانا ہے۔"
اس نے اسے دھکا دیا۔ مگر وہ سامنے سے نہیں ہٹا۔
" میرے سامنے سے ہٹو۔۔۔ جانے دو مجھے۔"
وہ پوری قوت سے چلائی۔
سامنے والے پر تب بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس نے روتے ہوئے چہرہ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ایک نیلی، ایک سبز۔ وہ جم گئی۔ اس کے چہرے پر اب کوئی ماسک نہیں تھا۔
" پلیز مجھے بھائی کے پاس جانے دو۔۔۔ وہ زخمی ہیں۔۔۔ ان کو۔۔۔ ان کو گولی لگی ہے۔"
اس کے آنسو پھر سے رواں ہو گئے۔
" تمہیں ابھی آرام کی ضرورت ہے۔"
سامنے والا مستقل مزاجی سے کھڑا رہا۔ اس کے آنسو اس کی گردن کو بھگونے لگے۔
" مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ میں گھر جا رہی ہوں۔"
اس کے قدم لڑکھڑانے لگے تھے۔
" ان کو گولی لگی تھی۔۔۔ مم۔۔۔۔ میں ان کو چھوڑ کر آ گئی۔۔۔ میں واپس جا رہی ہوں۔۔۔ میں انہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟"
وہ جانے لگی، وہ پھر سے اس کے سامنے آگیا۔
" شیزل۔۔۔"
شیزل نے غصے سے اس کو دیکھا۔
" ہٹ جاؤ۔۔۔ اگر میں رک جاتی۔۔۔ اگر میں نہ بھاگتی تو ان کو بچا لیتی۔"
اس نے ہچکی لی۔
" میں ان کو بچا لیتی۔۔۔ وہ زندہ ہوتے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ انہیں کچھ نہیں ہوا۔ وہ زندہ ہیں۔۔۔"
" دونوں مر چکے ہیں۔"
شیزل کے آنسو تھم گئے۔ وہ اسے دیکھے گئی۔ کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ وہ اس طرح اس کو دیکھ رہی تھی جیسے اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بول رہا ہے۔
" تمہارا بھائی۔۔۔ اور بھابھی دونوں ہی مر چکے ہیں۔"
وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
" انہوں نے تمہیں بھاگنے کے لیے کہا تھا۔۔۔ تمہاری جان بچانے کے لیے۔۔۔"
وہ دھندلی آنکھوں سے اس کی بات جھٹلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
" نہیں۔۔۔ نہیں ہارون۔۔۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔ میرے بھائی کو کچھ نہیں ہو سکتا۔ انہیں گولیاں لگی تھیں۔۔۔ پر وہ سٹرانگ ہیں۔۔۔"
وہ بولتے بولتے پھر سے رک گئی۔ ہارون چپ رہا۔ وہ آگے ہوئی اور اسے کالر سے جھپٹ لیا۔
" تم نے انہیں دیکھا تھا؟ تم وہاں تھے کیا؟ تم انہیں چھوڑ کر مجھے بچا کر لے آئے۔۔۔"
ہارون نے دھیرے سے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے۔
" میں دیکھ آیا ہوں۔ جھوٹ نہیں بول رہا۔"
شیزل نے اس کو جھٹکا دیا۔
" دیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مر چکے ہیں۔۔۔ میں واپس جا رہی ہوں۔"
وہ تیزی سے جانے کے لیے بڑھی تبھی ہارون نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔
" بس۔۔۔ کہیں نہیں جا رہی تم۔ مجھ پر یقین نہیں کرنا چاہتی تو مت کرو۔ مگر میں سچ بول رہا ہوں۔"
شیزل پھر سے رونے لگی۔
" نہیں۔۔۔ تم ابھی بھی جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔"
اس بار اس کی آواز بہت ہلکی ہو گئی تھی بالکل بچوں جیسی۔
ہارون کے چہرے پر سایہ لہرایا۔ ردا کا نام اس کے دماغ میں بجلی کی طرح چمکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ درد کیسا ہوتا ہے جب کوئی ایک پل میں "تھا" بن جاتا ہے۔
اس نے شیزل کو دھیرے سے بیڈ کے کنارے پر بٹھا دیا۔ وہ اب بلک بلک کر رو رہی تھی۔ ہارون اسے چپ نہیں کروا رہا تھا۔ مضبوط بنو نہیں کہہ رہا تھا۔ اسے رونے دے رہا تھا۔
" میں انہیں۔۔۔ میں انہیں چھوڑ کر بھاگ گئی ہارون۔۔۔ میں بزدل نکلی۔۔۔ اپنی جان بچانے کی خاطر میں انہیں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئی۔۔۔ وہ میرے بھائی تھے۔۔۔ انہوں نے میری خاطر اپنی جان دے دی اور میں نے کیا کیا؟ بھاگ گئی۔۔۔ بھاگ گئی۔۔۔"
وہ کسی بچے کی طرح بول رہی تھی۔ اس کے آنسو اس کی گود میں گر رہے تھے۔ ہارون نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔
" تم نہیں بھاگی، تمہارے بھائی نے تمہیں بچایا۔"
وہ پھر بھی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ ہارون نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ یہاں پہلی بار ہارون کی دو رنگ آنکھوں میں بھی نمی آئی تھی۔
•••••
کمرے کے وسط میں ایک لوہے کی کرسی پڑی تھی جس پر بندھا ایک شخص۔ اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی تھی۔ وہ زخمی نہیں تھا لیکن ہوش میں تھا۔
اس کی نظریں سیمنٹ کے فرش پر ٹکی تھیں۔ جہاں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ وہ چل کر اس کے سامنے آئی۔ بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا۔
" لگتا ہے ابھی تک ہوش نہیں آیا۔"
اس نے اسے چھوڑا اور کونے میں رکھی ایک میز کی طرف بڑھی۔ اس نے گلوز اٹھا کر پہنے پھر ایک بوتل اٹھائی اور واپس اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔
ڈھکن کھول کر اس نے وہ پانی اس کے منہ پر پھینک دیا۔ اس آدمی کو جھٹکا لگا۔ زین ایک اندھیرے کونے میں بیٹھا ان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پلٹی اور ایک انجیکشن اٹھا لائی۔
" تمہیں پتہ ہے سب سے بری موت کون سی ہوتی ہے؟"
اس نے وہ انجیکشن اس کی گردن میں لگا دیا۔
آدمی کا چہرہ جل رہا تھا۔ وہ مائع اس کے دامن تک پھیلا تھا اور وہ جہاں تک گرا تھا وہاں تک اسے ہلکی ہلکی جلن محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بولنے کے لیے منہ کھولنے لگا تھا کہ ایک دم سے اس کا جسم سن ہو گیا۔ اس کی گردن پیچھے گر گئی۔ اس نے خالی انجیکشن ایک طرف پھینکا اور واپس وہی بوتل اٹھا لائی۔
" جب انسان کو آخری لمحے تک امید رہتی ہے کہ وہ بچ جائے گا۔"
وہ ہنسی اور پوری بوتل اس کے جسم پر انڈیل دی۔
آدمی مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا۔ خود کو بچانا تو دور وہ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔ زین اٹھا اور ان کے پاس چلا آیا۔ اس آدمی کی نظر زین پر گئی۔ آنکھوں میں امید چمکی تھی۔ اس نے زبان ہلانے کی کوشش کی مگر وہ تالو سے چپک چکی تھی۔
زین خاموش اس کو دیکھتا رہا۔ اس آدمی نے اسے آنکھوں سے اشارے کیے مگر زین نے کچھ نہیں کہا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے پورے بدن میں آگ جیسی جلن محسوس ہونے لگی۔
وہ چیخنا چاہتا تھا لیکن انجیکٹ کے بعد وہ کوئی آواز بھی نہیں نکال پا رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ زین تھوڑی دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر اس نے اس کے بندھے ہاتھ کھول دیے۔
" یہ مت سمجھنا کہ تم یہاں سے بھاگ سکتے ہو۔ جب تک تمہارا جسم ہلنے کے قابل ہوگا تب تک یہ کیمیکل تمہیں ختم کر چکا ہوگا۔"
وہ آدمی بری طرح تڑپنے لگا۔
زین نے ایک خاموش نظر اس پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
•••••
بیسمنٹ میں آج بھی اندھیرا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی واپس لوٹنے کے بعد اسی بورڈ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ تصویریں، فائلز، سی سی ٹی وی۔ سب کچھ اس کے سامنے تھا۔ وہ ایک تصویر دیکھ رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح، جس کی تلاش آج بھی جاری تھی۔
اس تصویر کو دیکھتے ہی اس کی نظروں کے سامنے کسی اور کا چہرہ آ جاتا۔ وہ نیلی آنکھیں۔
اس کا فوکس ٹوٹنے لگا۔ اس نے سر جھٹکا۔ ایک فائل کھولی مگر وہاں بھی وہ نیلی آنکھوں والا چہرہ ابھر آیا۔ اس کے جبڑے بھینچ گئے۔ اس نے فائل بند کی اور دوبارہ اس تصویر کو دیکھا جو کافی پرانی ہو چکی تھی مگر وہ چہرہ آج بھی ویسا ہی تازہ تھا۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی۔
اس بار بھی وہی ہوا۔ اس تصویر سے اس کا فوکس ہٹ کر واپس نیلی آنکھوں پر چلا گیا۔ وہ اچانک ہی کرسی سے کھڑا ہوا۔ زور سے فائل اٹھا کر ایک طرف پھینکی اور واش ایریا کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے نل کھولا۔ پانی دھار کی صورت بہنے لگا۔ اس نے چند چھینٹے چہرے پر مارے پھر چہرہ اٹھا کر آئینے میں دیکھا۔ ایک پل کو لگا وہاں وہ نہیں کوئی اور ہے۔
صاف چہرہ، معصومیت بھرا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا۔ گردن میں گلٹی سی ابھری۔ اس نے فوراً نل بند کر دیا۔
" یہ تو نہیں ہے اکبر۔"
وہ خود سے بولا تھا پھر اس نے پلکیں جھپکائیں۔
منظر بدل گیا۔ اس کا پورا چہرہ خون سے بھرا تھا۔ گردن، کپڑے یہاں تک کہ ہاتھ بھی۔ وہ ہل نہیں سکا بس خود کو دیکھے گیا۔ جیسے آج واقعی میں پہلی بار اپنا اصلی چہرہ دیکھ رہا ہو۔
پیچھے کہیں نیلی آنکھیں پھر سے ابھری تھیں، پھر کسی کی ہنسی سنائی دی تھی، پھر کسی کی قلقار۔ ایک چھوٹا سا ہاتھ۔
اکبر کا سینہ اندر سے دھنسنے لگا۔ اس نے یادوں کو جھٹکنے کی کوشش کی مگر وہ کسی زہر کی طرح اس کے جسم میں پھیلتی گئیں۔
اس نے غور سے خود کو دیکھا۔ سب کچھ سرخ تھا۔ اسے آج کا کام یاد آیا۔ آج کا خون۔ ایک اور قتل، ایک اور بوجھ۔
" یہ میں کیا بن گیا ہوں؟"
آواز اندر سے کہیں آئی تھی۔ اس کا جواب نہیں آیا تھا۔
ایک طرف تلاش، جو مل نہیں رہی تھی۔ دوسری طرف وہ نظر، جو بھول نہیں رہی تھی۔ بیچ میں کھڑا اکبر جو نا پورا پتھر تھا اور نہ ہی پورا انسان بلکہ ایک ایسا شخص جو اپنے ہی عکس سے بھاگ رہا تھا۔
اس نے دوبارہ نل کھولا۔ دونوں ہاتھ رگڑے۔ خون کہی نہیں تھا مگر وہ پھر بھی رگڑتا گیا۔ اس نے نل کھلا ہی چھوڑ دیا اور باہر نکل آیا۔
نظر بے اختیار پھر سے دیوار پر گئی تھی۔ وہ دھندلی تصویر، چھوٹی سی ہنسی۔ اس نے ہیلمٹ اٹھایا اور فوراً باہر نکل گیا۔
••••
" روشنی۔۔۔ روشنی بیٹا ادھر آؤ۔"
وہ آواز، اپنی سی، کہیں دور سے آئی تھی۔
" بابا۔۔۔"
اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ ہر طرف گہری خاموشی تھی۔ وہ باتھ روم میں دیوار سے لگی بیٹھی تھی۔ اس کے کپڑے آدھے گیلے آدھے سوکھ چکے تھے۔
وہ تیزی سے اٹھی تبھی لڑکھڑا گئی۔ جسم میں درد جاگ اٹھا تھا۔ ہاتھ پیر ٹھنڈے اور سن ہو چکے تھے۔ وہ دبے پاؤں کمرے سے باہر نکلی۔ ہر طرف گہرا سکوت تھا۔ پورا گھر خالی۔
وہ بے جان قدموں سے عباد صاحب کے کمرے میں گئی۔ کمرہ بکھرا ہوا تھا۔ بالکل ویسا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ اس کے گلے میں گرہ لگ گئی۔ آنکھیں نم ہونے لگیں۔
" بابا۔۔۔"
گیلی آواز میں پکارتے وہ آگے بڑھی اور بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔
" کہاں ہیں آپ؟ پلیز واپس آ جائیں۔"
وہ بچوں کی طرح پھر سے رونے لگی تھی۔ دماغ میں کئی خیال آ رہے تھے۔ وہ کیا کرے؟ کس سے مدد مانگے؟ کس کے پاس جائے؟
وہ گیلی آنکھوں سے ہر طرف دیکھ رہی تھی۔ باہر شام گہری ہو رہی تھی اور اس کے اندر کا اندھیرا بھی۔
" کیا کروں؟ کیسے بابا کو ڈھونڈوں؟"
اس نے اپنے بری طرح کپکپاتے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا۔
پولیس سے مدد مانگوں؟ وہی پولیس جس نے کمپلین ہی رجسٹر نہیں کی تھی۔ اب اگر گئی تو کیا کہوں گی؟ اگر انہوں نے پوچھ لیا کہ میں کہاں تھی؟ کس کے ساتھ تھی؟ اپنی مرضی سے تو نہیں گئی؟ میڈیکل کروانا ہوا تو؟ لوگوں کو معلوم ہو گیا تو؟ بابا واپس نہ آئے تو؟ اگر آ بھی گئے تو میں ان کو کیا جواب دوں گی؟ پولیس کو شہریار کا نام بھی دیا تو کیا ہوگا؟ وہ طاقتور ہے۔ پیسہ ہے اس کے پاس۔ لوگ ہیں۔ لیکن خود اس کے پاس کیا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں۔
جیسے جیسے وہ سوچ رہی تھی اس کا دم گھٹتا جا رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر تکیہ اٹھایا اور اسے سینے سے لگا لیا۔ آنسو اب اس تکیے پر گر رہے تھے۔
" اگر میں گھر سے باہر نہ نکلتی۔۔۔"
اس نے ہچکی لی۔
" اگر میں شہریار پر بھروسہ نہ کرتی۔۔۔ اگر میں بابا کو سب کچھ بتا دیتی۔۔۔"
اس کی آنکھیں سمندر بنتی جا رہی تھیں۔
وہ کتنی دیر روتی رہی اس کو پتہ نہیں چلا۔ جسم گرم ہو چکا تھا۔ سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ تبھی اچانک اسے باہر کچھ گرنے کی آواز آئی۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
" کون؟ گھر تو خالی تھا پھر کون؟ کہیں وہ واپس تو نہیں آگیا؟"
اس نے سانس روک لی۔
تب ہی اسے کسی کے گھسیٹنے کی آواز آئی۔ وہ بے جان قدموں سے کھڑی ہوئی اور کھلے دروازے کو دیکھے گئی۔ ابھی وہ آگے بڑھتی اسے گولی کی آواز سنائی دی۔
تکیہ چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ دل کی رفتار تیز ہو گئی۔ اسے کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔ اس نے جب باہر کھلے صحن میں جھانکا تو وہیں اس کی دنیا رک گئی۔
سامنے عباد صاحب خون میں لت پت پڑے تھے۔ سفید کپڑے خون سے بھرے تھے۔ ان کے سامنے ایک آدمی کھڑا تھا۔ چہرہ چھپا ہوا، ہاتھ میں گن تھی۔
" بابا۔۔۔"
روشنی کی سانسیں الجھنے لگیں۔
اس نے ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ ایک اور گولی چلی۔ عباد صاحب کے جسم کا جھٹکا لگا۔ روشنی ٹھہر سی گئی۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کو گردن تک زندہ زمین میں گاڑ دیا ہو۔
عباد صاحب کی سانسیں رک رک کر چل رہی تھیں۔ اگلے پل وہ تیزی سے ان کی طرف بھاگی۔ ان کے پاس گرتے اس نے فوراً عباد صاحب کو اپنی گود میں لے لیا۔
" پلیز پلیز رک جاؤ۔ ان کو مت مارو۔ اللہ کے لیے رک جاؤ۔ انہوں نے کیا کیا ہے؟"
وہ انہیں خود سے لپٹائے، بنا اس شخص کو دیکھے تڑپ تڑپ کر فریاد کر رہی تھی۔
سامنے کھڑا شخص کچھ نہیں بولا۔ اس کی نظریں روشنی کے جھکے سر پر نہیں بلکہ عباد صاحب پر تھیں۔ اس کی انگلی پھر سے ٹریگر پڑ گئی۔
" میں انہیں لے جاؤں گی۔۔۔ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔۔۔ بس انہیں چھوڑ دو۔۔۔ مت مارو انہیں۔۔۔"
وہ دونوں بازو کھولے پوری کوشش کر رہی تھی کہ عباد صاحب چھپ جائیں۔ اس آدمی کو نظر نہ آئیں۔ اس کے آنسو عباد صاحب کے جسم پر گر رہے تھے۔ جن کی سانس بے حد مدھم ہو چکی تھیں۔
تبھی ایک آخری جھٹکا لگا۔ عباد صاحب کا جسم ساکت ہو گیا۔ تیسری گولی ان کے جسم میں پیوست ہو گئی۔ روشنی رونا بھول گئی۔ جیسے یقین نہ آیا ہو۔ اس نے سفید چہرے کے ساتھ عباد صاحب کو دیکھا۔
" بابا۔۔۔ اٹھیے بابا۔۔۔"
اس نے ان کا گال تھپتھپایا۔ تبھی ان کی گردن دوسری طرف ڈھلک گئی۔
اس نے ساکت نیلی آنکھیں اٹھا کر اس آدمی کو دیکھا جس کے چہرے پر ہیلمیٹ تھا۔
اکبر نے جب وہ نیلی آنکھیں دیکھیں تو اس کا ہاتھ بے جان ہوتا پہلو میں آ گرا۔ اس کا ہاتھ پہلی بار اس طرح لرزا تھا کہ گرفت ڈھیلی ہوئی اور گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرتے گرتے بچی۔
" نہیں بابا۔۔۔ پلیز ایسا مت کریں۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔"
روشنی نے نظریں واپس عباد صاحب کی طرف موڑ لیں۔
" بابا؟"
ہیلمٹ کے شیشے کے پیچھے کھڑا اکبر بڑبڑایا تھا۔ اسے لگا کسی نے اس کے کان کے اندر بارود پھوڑ دیا ہے۔
اس نے زمین پہ پڑے آدمی کو دیکھا پھر اس لڑکی کو جس پر اس کے باپ کا خون لگ چکا تھا۔ اس لڑکی کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ وہ بار بار انہیں اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
" پلیز بابا اٹھیے نا۔۔۔ میں سب ٹھیک کر دوں گی۔۔۔ ہم کہیں دور چلے جائیں گے۔۔۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے بابا۔۔۔ مجھے اکیلا مت چھوڑیں۔۔۔"
اکبر کی سانس پہلی دفعہ رکی تھی۔ یہ آدمی اس لڑکی کا باپ تھا؟ وہ نیلی آنکھیں۔۔۔ وہی آنکھیں جنہیں وہ بھول نہیں پا رہا تھا۔ وہ ایک لڑکی جسے کل رات وہ ایک کام سمجھ کر بنا جانے اس کے گھر کے باہر دروازے پر پھینک گیا تھا۔ اس کا جسم پتھر کا ہو چکا تھا۔ وہ سانس لینا بھی بھول چکا تھا۔
روشنی نے اس ایک نظر کے بعد دوبارہ اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ وہ صرف عباد صاحب کو پکار رہی تھی۔ انہیں اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے چہرہ اٹھا کر اکبر کو دیکھا تھا پھر واپس جھکا لیا تھا۔
اس نظر میں نہ نفرت تھی، نہ پہچان۔ صرف آنسو تھے اور درد تھا اور بربادی۔ اکبر کو پہلی بار اپنا جسم بھاری محسوس ہوا۔
اگر وہ تیسری گولی چلانے سے پہلے اس لڑکی کا چہرہ دیکھ لیتا تو؟ یہ خیال کسی بچھو کے ڈنک کی طرح اس کو لگا تھا لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔
باہر اسے بہت سے قدموں کی آہٹیں سنائی دیں۔ وہ ایک قدم پیچھے ہوا۔ روشنی کی آہیں اور سسکیاں اس پتھر انسان کا پہلی دفعہ دل چیرنے لگی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا، وہاں خون تو نہیں تھا مگر اسے لگا کہ روشنی کی ان خاموش نیلی آنکھوں کا عکس اس کی ہتھیلیوں پر ہمیشہ کے لیے جم گیا ہے۔
روشنی نے اس کو دروازے سے باہر نکلتے دیکھا۔ اسے صرف تین چیزیں یاد رہ گئی تھیں۔
کالا ہیلمٹ، گن اور تین گولیاں۔
باہر نکلتے اکبر نے جانا کہ شور اسے کبھی ڈراتا نہیں تھا مگر کسی کی آہوں اور سسکیوں کی آواز اب کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ اس نے ایک آخری بار جب پلٹ کر دیکھا تو روشنی اسے نہیں دیکھ رہی تھی، وہ تو اپنی اجڑی ہوئی دنیا کے ملبے میں کھڑی تھی۔
شہریار کے لیے یہ ایک 'اسائنمنٹ' تھا۔ اکبر کے لیے محض ایک 'آرڈر' مگر روشنی کے لیے یہ وہ 'قیامت' تھی جو وقت سے پہلے آگئی تھی۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Kitni tareef karon mn munaza niaz ap ki ab to lafz b khtm ho gy mere to bhot khob bhot aalah to zain is akbar mera guess thek ta but kia hoga jb roshani' ko yh pta chaly ga besabri se waiting or shahyar ka injam dekhnay ko b mn betab hon please us ka end detail main likhye ga i hate him so much baki mre pass word ni apki writing ki tareef k ❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ReplyDeleteBas ek complain hai ap se episode jldi diya karain please apko ni pta mn kitna wait krti hon 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
ReplyDelete