Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Ruthless killer Episode 14 by Munaza Niaz
Ruthless killer Episode 14 by Munaza Niaz
اس نے فون آف کرتے جیب میں ڈالا اور ایک فائل اٹھائی، جو کافی پرانی تھی۔
" جو لوگ ثبوت مٹا دیتے ہیں ان کے پاس بیک اپ ضرور ہوتا ہے۔"
شیزل خاموش کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی۔ ہارون نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا پھر فائل کھول دی۔
" تمہیں لگتا ہے یہ فائل سجاد دُرّانی کا کچھ بگاڑ سکتی ہے؟"
شیزل کے لہجے میں تلخی تھی۔ ہارون کھڑا ہوا اور ایک پن ڈرائیو اٹھا کر جیکٹ کی جیب میں ڈالی۔
" چار مہینے ہو گئے ہیں ہارون! روز نیا نام، روز نئی فائل، روز نئی جگہ۔"
شیزل کا لہجہ دھیما ہو گیا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے اب مدھم پڑ چکے تھے۔ ہارون نے اس کا چہرہ دیکھا پھر دھیرے سے پلٹا تبھی شیزل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ ٹھہر گیا۔
" کہاں جا رہے ہو؟"
ہارون نے اس کے چہرے پر ڈر دیکھا تھا۔
" واپس آ تو جاؤ گے نا؟"
ہارون زخمی سا مسکرایا۔
" ہاں۔ اس بار خالی ہاتھ نہیں آؤں گا۔"
وہ فلیٹ سے باہر نکل گیا۔ شیزل کھڑی اس کو جاتا دیکھتی رہی۔
رات گہری تھی، اسٹریٹ لائٹ کے نیچے ایک کار کھڑی تھی۔ ہارون نے پھر سے اس کار کو دیکھا۔ اسے محسوس ہوا وہاں کوئی موجود ہے مگر سامنے نہیں آ رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔
کچھ دیر بعد وہ ایک فلیٹ میں داخل ہوا۔ دروازہ لاکڈ تھا۔ مگر اس نے کھول لیا تھا۔ اندر کمرے میں ایک طرف چھوٹی سی لائبریری تھی۔ وہ اندھیرے میں آگے بڑھا اور موبائل نکال کر ٹارچ روشن کی۔
ایک دراز کھولی، جس میں بہت ساری فائلز رکھی تھیں۔ وہ اب انہیں کھول کھول کر دیکھ رہا تھا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ اسے کوئی ایک بھی کام کی چیز نہیں ملی۔
اب وہ شیلف کے سامنے کھڑا فائلز کھنگال رہا تھا پھر لاکڈ دراز کھولی۔ ایک لیپ ٹاپ بھی ملا مگر وہ انکرپٹڈ تھا۔ اسے وہاں کچھ ڈرائیوز بھی ملیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور کچھ رپورٹس بھی۔ اس نے سب الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کر دیا۔
وہاں ایک چیز سب سے نمایاں تھی۔ ہیلمٹ والا شوٹر۔ اسے محسوس ہوا یہاں سے کافی فائلز کلین کر دی گئی ہیں یعنی کوئی اور بھی ہے جو شکار پر نکلا ہوا ہے۔ لیکن کون؟
ایک اور فائل ہاتھ لگی تھی۔ جیسے جیسے وہ پڑھ رہا تھا اس کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ اس نے تیزی سے وہ فائل اور ڈرائیو اٹھائی اور فوراً فلیٹ سے باہر نکلا۔ ابھی وہ پارکنگ سے نکلتا، اسے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔
سامنے ایک بائیک کھڑی تھی۔ اس پر کوئی لیٹا تھا۔ ہیلمٹ ٹنگا ہوا تھا۔ ہارون کے جسم میں سنسنی خیز لہر دوڑ گئی۔ وہ شخص اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ہارون ایک قدم پیچھے ہوا۔
" کسی کو ڈھونڈ رہے ہو؟"
اس کا ہاتھ خود بہ خود جینز کی جیب پر گیا۔
" نہیں بس دیکھ رہا ہوں۔"
مقابل کل لہجہ پر سکون تھا۔
" کیا؟"
ہارون کا چہرہ تن گیا۔ اکبر سیدھا ہوا۔ اس کو دیکھا۔
" یہی کہ کون کتنا دور جا سکتا ہے۔"
ہارون کی مٹھیاں بند ہوئیں۔
" تم سجاد کے آدمی ہو نہ؟"
اکبر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
" ہر آدمی کسی نہ کسی کا ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا کہ کب تک۔"
ہارون سنجیدہ ہو گیا۔
" جو کچھ کہنا ہے سیدھی طرح کہو۔"
اس کا تناؤ بڑھنے لگا تھا۔ اکبر نے مسکراتی نظروں سے اس کی دو رنگ آنکھوں میں دیکھا۔
" جب کسی شہر کو جلانا ہوتا ہے نا تو مشعل لے کر نہیں نکلتے۔"
ہارون کنفیوژ ہو گیا۔ اکبر نے بات جاری رکھی۔
" سجاد کو جیل کا ڈر نہیں ہے۔ اسے بدنامی کا بھی ڈر نہیں ہے۔"
وہ رکا، ہارون اسے دیکھے گیا۔
" اسے ڈر ہے تو صرف اپنے لوگوں سے اور ان جگہوں سے جہاں وہ خود کبھی نہیں جاتا۔"
وہ چپ ہوا۔ ہارون کے چہرے پر چھائی تلخی کم ہوئی۔
" تم کیا کہہ رہے ہو؟"
اکبر بائیک سے اترا اور ہیلمٹ اٹھا لیا۔
" جہاں ریکارڈ آفیشلی نہیں ہوتے، وہیں اصل ریکارڈ رکھے جاتے ہیں۔ ہر آدمی اپنا انشورینس رکھتا ہے۔"
ہارون کے چہرے پر پہلی دفعہ ہنسی آئی۔ کنفیوژ سی۔
" تم میری مدد کیوں کر رہے ہو؟"
اکبر نے ہیلمٹ پہنا اور بائیک سٹارٹ کی۔
" میں کوئی مدد نہیں کر رہا۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا تم سچ میں اس تک پہنچ سکتے ہو یا نہیں۔"
اکبر کی بائیک پارکنگ سے نکل گئی۔
ہارون کھڑا گہری سوچ میں گم ہو گیا۔ سجاد کے لوگ، اس کا ڈر۔ وہ بڑبڑایا۔ کار میں بیٹھتے، انجن جگاتے وہ کہیں اور پہنچ چکا تھا۔
" پولیس افسر ندیم قریشی۔"
اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
وہی سجاد کے سارے ثبوت رکھتا تھا۔ وہی اس کے کیس کھلنے سے پہلے ہی بند کر دیتا تھا۔ اس نے جھٹکے سے کار پارکنگ سے نکالی تھی۔
•••••
صحن لوگوں سے بھرا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا، لوگ آ رہے تھے۔ صحن میں جگہ جگہ خون کے دھبوں کے نشان تھے۔ روشنی اپنے بابا کو خود سے لپٹائے بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
" بابا آنکھیں کھولیں۔۔۔ پلیز بابا۔۔۔ دیکھیں سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔"
وہ جیسے ان کے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی۔
تبھی کچھ عورتیں آگے بڑھیں اور اسے عباد صاحب سے الگ کرنا چاہا۔ وہ چیخ اٹھی۔
" ہاتھ مت لگاؤ، دور رہو ہم سے۔"
سب لوگ کچھ پل کے لیے خاموش ہو گئے۔ آوازیں پھر سے اس کو سنائی دے رہی تھیں۔
" اللہ رحم کر بچی پر۔ کس نے مار دیا؟ اللہ صبر دے۔۔۔۔ بیٹا چھوڑ دو، ایمبولینس آنے والی ہے۔"
ایک عورت نے اسے پکڑ کر پیچھے کرنے کی کوشش کی۔
" نہیں نہیں۔۔۔ انہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔ یہ سو رہے ہیں، یہ ابھی اٹھ جائیں گے۔ پلیز دور ہو جائیں ہم سے۔"
مگر وہ عورتیں نہیں رکیں، انہوں نے اسے پکڑ کر عباد صاحب سے دور کر دیا تھا۔ مردوں نے سفید کپڑا ان کے جسم پر ڈال دیا، تبھی کھلے دروازے سے رافیل دوڑتا ہوا اندر آیا۔
" روشنی کیا ہوا؟"
اس نے سکتے کے عالم میں اس کو پھر سفید چادر میں لپٹے وجود کو دیکھا۔ روشنی نے اس کو دیکھا تک نہیں۔ رافیل کو شدید غصہ آیا مگر وہ اپنا ڈرامہ برقرار رکھے ہوئے تھا۔
" ارے کسی نے ایمبولنس کو کال کی؟"
وہ لوگوں پر چیخا۔ آگے بڑھ کر روشنی کو پکڑ کر سنبھالنے کی کوشش کی مگر روشنی جھٹکے سے اس سے دور ہوئی جیسے کسی نے اسے ڈنک مارا ہو۔
رافیل پیچھے ہوا۔ روشنی پھر سے عباد صاحب کی طرف بڑھنے لگی مگر عورتوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھوں اور کپڑوں پر عباد صاحب کا خون جگہ جگہ لگا تھا۔
اس گھر میں صرف روشنی کی دل چیرنے والی آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ جب تک عباد صاحب کا جنازہ صحن کے بیچ رکھا گیا تب تک روشنی نمک کا مجسمہ بن چکی تھی۔
وہ دیوار سے لگی کھڑی خالی خالی آنکھوں سے اس سفید کفن کو دیکھے جا رہی تھی۔
" بیٹا صبر کرو۔"
ایک آنٹی نے اسے سینے سے لگایا۔
" صبر؟"
وہ ہل نہیں سکی۔
" یہی قسمت تھی۔"
" قسمت؟"
اس نے دھندلی نظر سے سب لوگوں کو دیکھا۔
" جنازے کا وقت ہو گیا ہے۔ آخری بار دیکھ لو بیٹا۔"
کسی نے تھوڑا سا کپڑا عباد صاحب کے چہرے سے ہٹا دیا۔ بس ہلکا سا تاکہ چہرہ نظر آ جائے۔
روشنی نے جب وہ چہرہ دیکھا تو اس کو لگا اس کی روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑنے لگی ہے۔ یہ وہ چہرہ تو نہیں تھا جہاں کبھی مسکراہٹ، تو کبھی ہنسی، کبھی غصہ تو کبھی نرمی ہوتی تھی۔ یہ چہرہ تو خاموش تھا۔ بالکل خاموش۔
" بابا۔۔۔!"
وہ دھیمے قدموں سے چل کر ان کے پاس آئی۔ انگلیوں سے ان کا ماتھا چھوا۔
" اٹھ جاؤ نا۔۔۔ دیکھو میں سٹرانگ ہوں۔۔۔ میں نہیں روؤں گی۔۔۔ میں کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گی۔۔۔ جیسا آپ کہیں گے میں ویسا کروں گی۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔ ایک بار مجھ سے بات کر لیں۔۔۔ اٹھے جائیں۔۔۔"
اس کی آواز بچوں جیسی ہو گئی تھی۔
وہ اس وقت ایک اکیس سال کی لڑکی نہیں تھی، بلکہ ایک بیٹی تھی، چھوٹی سی بچی۔ جو اپنی جاتی دنیا کو پکڑ کر روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
" میں اکیلی ہو جاؤں گی بابا۔۔۔ میں اکیلی ہو جاؤں گی۔"
یہ لفظ بار بار نکل رہے تھے۔ لوگ بھی رو رہے تھے۔
رافیل ایک طرف کھڑا چہرے پر اداسی جمائے جھوٹ موٹ کے آنسو بہانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ البتہ اندر سے وہ بل کھا رہا تھا۔
" بیچاری اکیلی لڑکی ہے۔ اکیلی لڑکی کا کیا ہوگا اب؟"
روشنی کے کان میں وہ جملہ بازگشت بن کر گونجنے لگا۔
لڑکی کا کیا ہوگا؟ جیسے وہ کوئی بوجھ ہو، جیسے اب اس کی حفاظت کرنے والا کوئی موجود نہیں۔ عورتوں نے اسے پیچھے کر دیا۔ سفید کپڑا واپس ڈال دیا گیا۔ جنازہ اٹھایا گیا۔ لوگ باہر نکلے، عورتیں اسے خود سے لپٹائے رونے لگیں۔
روشنی کے آنسو بے آواز گرتے جا رہے تھے۔ وہ اس خالی صحن میں بیٹھی رہ گئی تھی۔
•••••
اس کی گاڑی شہر کے ایک پرانے بلاک کے سامنے رکی تھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا۔ چاروں طرف خاموشی کا راج تھا۔ اس نے سر اٹھا کر اس بلڈنگ کو دیکھا۔ تیسرا فلور، جس میں اندھیرا تھا۔
رجسٹری کے مطابق فلیٹ کسی اور کے نام تھا۔ ایک ریٹائرڈ آدمی کے نام جو اب مر چکا تھا۔
" انشورنس۔"
ہارون دھیرے بولا۔
اس نے دروازہ دیکھا جو لاکڈ تھا۔ اس نے پاکٹ سے ٹالکٹ (toolkit) نکالا۔ دو منٹ کا کام تھا۔ دروازہ کھل گیا۔ اس نے موبائل کی روشنی جلائی۔ فرنیچر زیادہ نہیں تھا لیکن فلیٹ صاف ستھرا تھا۔
ایک ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھا تھا۔ اس کے اوپر ہلکی سی دھول مٹی تھی۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولا، وہ آن نہیں ہوا۔ بیٹری ڈیڈ تھی۔ اس نے پلگ لگا کر چارج کیا۔ لیپ ٹاپ آن ہو گیا۔ سامنے پاسورڈ۔
وہ رک گیا۔
" Insurance."
اس نے ٹائپ کرنے کا سوچا پھر رک گیا۔
" Sajjad Durrani."
تب بھی نہیں کھلا۔
" Nadeem123."
تب بھی غلط۔ وہ رک گیا اور کافی دیر تک رکا رہا۔
" سجاد کو جیل کا ڈر نہیں، بدنامی کا ڈر نہیں۔ لوگوں کا ڈر ہے۔"
ڈر۔
اس نے سانس روک کر ڈر ٹائپ کیا۔ سسٹم ان لاک ہوا۔ اس نے تیزی سے فولڈرز آن کرنے شروع کر دیے۔ کانٹیکٹ، آف شور اکاؤنٹس، این جی او لانڈرنگ، الیکشن فنڈ لنک، اسپیشل آرڈر فولڈر۔
ہارون کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے وہ فولڈر آن کیا۔ ان سائیڈ میں آڈیو فائل، ویڈیو کلپس، میٹنگ ریکارڈنگز۔ ایک فائل کا نام۔
" ایس ڈی فائنل کلیئرنس ایم پی فور۔"
ہارون نے اسے پلے کیا۔ سامنے اسکرین پر سجاد درانی کا چہرہ ظاہر ہوا۔ آواز بالکل صاف تھی۔
" اس نام کو ہٹا دو۔ پرمننٹ۔"
نام صاف سنائی دیا پھر ایک اور۔ ارباز جنید، اذلان احمد۔ اسی طرح اور بہت سے نام تھے۔
" سر یہ ڈائریکٹ آرڈر رسکی ہیں۔"
ندیم قریشی کی آواز سنائی دی۔
" رسک مجھے مت سکھاؤ۔ بس انہیں ہٹاؤ۔"
ہارون نے لیپ ٹاپ بند کیا اور میز پر رکھا کپ بورڈ کھولا۔ اندر ایک ڈائری اور ایک عدد ہارڈ ڈرائیو موجود تھی۔ اس نے ڈائری کھولی۔ اندر تاریخیں، پیمنٹ بریک ڈاؤن، نام اور کوڈ درج تھے۔
اس نے ایک ڈرائیو میں لیپ ٹاپ سے سارا ڈیٹا ٹرانسفر کیا پھر آخری فولڈر کھولا۔
" ایمرجنسی ریلیز۔"
اگر ندیم قریشی مر گیا ہے تو یہ سارا ڈیٹا لیک ہو جاتا مگر وہاں شیڈول کینسل ہو چکا تھا۔
اس نے ایمرجنسی میل ری کریئٹ کی۔ دس منٹ کا وقت اور انٹر دبا دیا۔
جب وہ بلڈنگ سے باہر نکلا تو اسے پھر سے وہ بائیک نظر آئی مگر اس بار ہارون کو کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ اس نے اپنی کار نکالی اور فوراً وہاں سے غائب ہو گیا۔
•••••
کئی دنوں تک وہ سوتی جاگتی کیفیت میں قید رہی تھی۔ ہر آہٹ پر اس کو محسوس ہوتا بابا آگئے ہیں۔ ایک عورت تھی جو اس کے پاس ہمہ وقت موجود ہوتی تھی۔ اس کا خیال رکھنا، کھانا کھلانا۔
کبھی کبھی وہ چپ چاپ کھا لیتی تو کبھی کئی کئی گھنٹے بھوکی رہ جاتی۔ رافیل کئی دنوں سے پھر سے غائب ہو چکا تھا۔ وہ سوتی تو آنسو بہتے، جاگتی تو کچھ دکھائی نہ دیتا۔
کتنا وقت گزرا؟ کون آ رہا ہے؟ کون جا رہا ہے؟ اسے کوئی ہوش نہیں تھا۔ اس کا بخار تھا کہ ٹھیک ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔
اس وقت بھی وہ بخار میں دہکتی بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ اسے سب کچھ گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ آنکھیں کھل نہیں رہی تھیں۔ اندھیرا اسے اپنے اندر لے جا رہا تھا۔ وہ عورت اسے سوتا سمجھ کر اپنے گھر چلی گئی تھی۔
روشنی نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ اس کی پلکوں نے اجازت نہ دی۔ سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔کتنی دیر وہ درد میں تڑپتی رہی نہیں جاتی تھی۔
" بابا۔"
اس نام کی سرگوشی پوری کمرے میں گونج رہی تھی۔ بار بار آنکھوں کے پیچھے کئی چہرے آ رہے تھے۔
پہلا چہرہ شہریار کا، پھر اس کے دوستوں کا، پھر سجاد درانی کا، پھر پولیس والے کا اور آخر میں سیاہ ہیلمٹ۔ اس کا تنفس بگڑنے لگا۔
اس نے زور سے چادر مٹھیوں میں بھینچ لی۔ سانسیں بے حد تیز چل رہی تھیں۔ اسے اپنے جسم پر کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس ہو رہا تھا۔
" بابا۔۔۔ مجھے بچا لو۔۔۔ یہ دنیا۔۔۔ بہت بری ہے۔۔۔ یہ گندی ہے۔۔۔ مجھے۔۔۔ لے جاؤ۔۔۔ مجھے آپ۔۔۔۔ کے پاس۔۔۔ آنا ہے۔۔۔"
اس کے آنسو تکیہ بھگو رہے تھے۔ آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔ چہرہ زرد اور ہونٹ سوکھے۔ اس نے بہت مشکل سے آنکھیں کھولی تھیں۔ سامنے کوئی موجود تھا۔ اس کے بالکل نزدیک بیٹھا۔
روشنی کو اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ سانسیں اب آگ بن چکی تھیں۔
" نہیں۔"
وہ بول نہیں پائی تھی۔ آنسوؤں نے اس شخص کا چہرہ دھندلا کر دیا تھا۔
" تمہیں پتہ ہے میں کب سے اس وقت کا انتظار کر رہا تھا۔"
یہ آواز کسی صور کی طرح اس کے کانوں میں پھونکی گئی تھی۔
وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی۔ بھاگنا چاہتی تھی لیکن اس کا جسم بے جان ہو چکا تھا۔
" نہیں۔۔۔"
آواز اب بھی نہیں نکلی تھی، صرف سرگوشی۔
رافیل نے سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ ہاتھ میں پکڑی بوتل اس نے فرش پر لڑھکا دی تھی۔ روشنی نے پوری ہمت مجتمع کرتے اٹھنے کی کوشش کی مگر رافیل نے ایسا نہیں ہونے دیا۔
" تمہیں معلوم ہے میں تمہیں حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مجھے تم چاہیے تھی۔۔۔ میں نے کوشش کی کہ تم سے محبت کرو۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا۔۔۔ مجھے کبھی تم سے محبت ہی نہیں ہوئی۔۔۔ اس بات کا افسوس نہ مجھے کبھی تھا نہ کبھی ہوگا۔۔۔ میں بس چاہتا تھا کہ تمہیں پا لوں۔۔۔ مجھے کئی موقع ملے جنہیں میں نے گنوا دیا۔۔۔"
وہ بولتے بولتے رکا۔ چہرے پر ایک پل کو تاسف ابھرا۔ اس کے ہاتھ روشنی کے جسم کو چھو رہے تھے۔
روشنی کو لگ رہا تھا کوئی اس کو بے دردی سے آگ میں گھسیٹ کر لے جا رہا ہے۔
" پھر اس رات جب تم واپس آئی تو مجھے بہت غصہ آیا۔۔۔ یار ایسے کیسے کوئی میری جگہ لے گیا۔۔۔ کیسے تمہیں استعمال کر کے میری منہ پر تھوک گیا۔۔۔ میں تب سے بہت ناراض ہوں تم سے۔۔۔ تمہیں وہاں سے بھاگ جانا چاہیے تھا۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ مگر افسوس۔۔۔"
اس نے روشنی کے جسم سے چادر اتار کر دور پھینک دی۔
" تم اب اس قابل بھی نہیں رہی کہ کوئی تم سے شادی کرے۔۔۔ تم تو اب میرے قابل بھی نہیں رہی۔۔۔"
اس نے روشنی کی کلائی پکڑ لی۔ بے جان، کمزور سی، جلتی ہوئی۔
" لیکن میں پھر بھی تمہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتا۔"
روشنی کو اب کچھ بھی دکھائی دینا بند ہو چکا تھا۔ اسے اپنے جسم پر سانپ رینگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ گلے میں آگ پھنسی ہوئی تھی۔ جس کی تپش آنکھوں سے نکل رہی تھی۔ اس کے دماغ میں منظر چلنے بند ہو گئے۔
آنسو بہتے رہے۔ آوازیں آنا بھی بند ہو گئیں۔ اسے نہیں پتہ چلا کہ رافیل اس کے ساتھ کیا کیا کر گزرا ہے۔ اسے صرف ایک چیز سنائی دے رہی تھی۔
" میری بیٹی کا خیال رکھنا رافیل۔ وہ معصوم ہے۔"
اس کے بعد سب کچھ کہیں غائب ہو گیا۔ اس کی گردن ایک جانب ڈھلک گئی۔
رافیل تب بھی نہیں رکا تھا، نہ ہی اس کو دیکھ رہا تھا۔ وہ شیطان بن چکا تھا۔ کتنا شیطان؟ اگر اس کا وہ اندازہ لگا لیتا تو کبھی اپنی شکل نہ دیکھتا۔ مگر وہ یہاں انسان بھی نہیں رہا تھا۔ جس میں تھوڑا سا بھی رحم ہوتا ہے۔ ذرے جتنا بھی۔ جب وہ پیچھے ہٹا تو اسے عجیب سا محسوس ہوا۔
" روشنی۔۔۔"
اس نے اس کا گال تھپتھپایا پھر نبض دیکھی۔ روشنی سانس نہیں لے رہی تھی۔
وہ جھٹکے سی ہوش میں آیا۔ اس نے جب اس کی حالت دیکھی تو تیزی سے اس سے دور ہوا۔ اس نے آخری کوشش کی اسے اٹھانے کی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ لڑکی کس جہنم سے گزر کر آئی ہے۔ اس نے پھر سے اسے ہلایا مگر وہ بے جان تھی۔ سانس بھی بند۔
وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ گھر سے باہر نکلتے وہ ننگے پیر بھاگنے لگا تھا۔ وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ کیا ہو گیا تھا؟ یہ اس نے کیا کر دیا؟ روشنی مر گئی؟ ایسے کیسے وہ مر گئی؟
پولیس، جیل، ریپ کی سزا، عمر قید یا پھر پھانسی؟ آنے والے خیالات اسے نائٹ میئر لگ رہے تھے۔
ٹھوکریں کھاتا، گرتا پڑتا وہ دور ہوتا جا رہا تھا۔
جاری ہے
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment