Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Ruthless killer Episode 15 by Munaza Niaz
Ruthless killer Episode 15 by Munaza Niaz
" اس کے باپ کو اس کی آنکھوں کے سامنے مارنا۔"
یہ وہ الفاظ تھے جو اسے اندر سے کاٹ رہے تھے۔
شہریار نے اسے اگلا حکم یہی دیا تھا۔ اس بار بھی وہ چپ رہا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کس کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔
وہ جو ہمیشہ آنکھیں بند کر کے کسی بے حس انسان کی طرح اپنے کام پورے کرتا تھا، آج بھی وہی کر گیا تھا اور اس کا جو نتیجہ نکلا تھا وہ اس کے وجود کو توڑنے کے لیے کافی تھا۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا ہیلمٹ پوری قوت سے دیوار میں مار کر توڑ دیا۔ وہ نیلی آنکھیں جیسے اس کے وجود سے چپک چکی تھیں۔
ان آنکھوں میں اس نے اس وقت نفرت نہیں دیکھی تھی۔ صرف نمی، اکیلا پن، بربادی اور سب کچھ ختم ہونے کا احساس دیکھا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ انہی ہاتھوں نے اسے کے وجود کو اس کے گھر کے باہر رات کے اندھیرے میں پھینکا تھا۔ انہی ہاتھوں نے اس کے باپ کو اٹھایا تھا۔ پرچی دی تھی۔ اسے ٹارچر کیا تھا۔ اسے اس بوڑھے آدمی کی آواز ابھی بھی سنائی دے رہی تھی۔
جب جب وہ ان کے پاس جاتا تھا وہ ایک ہی چیز دوہراتے رہتے تھے۔
" میری بچی کو کچھ مت کرنا۔۔۔ وہ معصوم ہے۔۔۔ وہ میری دنیا ہے۔۔۔ مجھے مار دو۔۔۔ اسے کچھ مت کرنا۔۔۔۔ کوئی تکلیف مت دینا۔۔۔"
وہ روتے رہتے۔ اس کے آگے ہاتھ جوڑتے تو کبھی پیر پکڑتے۔
اگر اس وقت اسے معلوم ہو جاتا کہ وہ آدمی کس کی بات کر رہا ہے، تو پہلی بار وہ پیچھے ہٹ جاتا۔ اپنے اصول توڑ دیتا۔ کوئی حکم نہ مانتا۔
" مجھے میری بچی کے پاس جانا ہے۔۔۔ میرا دل کہتا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ وہ رو رہی ہے۔۔۔ مجھے بلا رہی ہے۔۔۔ وہ میری روشنی ہے۔۔۔ میری آنکھوں کا نور ہے۔۔۔ میرا دل ہے۔۔۔"
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ اس سے التجائیں کرتے رہے تھے۔ مگر وہ بے حس تھا اور بے حس بنا رہا۔
" اس آدمی کو میرے فارم ہاؤس لے کر آؤ۔"
شہریار نے ایک اور حکم صادر کیا تھا اور وہ بنا کوئی سوال کیے انہیں اٹھا کر لے گیا تھا۔
" اسے اس کمرے میں بند کر دو اور جاؤ۔"
اس نے ایسا ہی کیا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ شہریار کو مستیاں سوجھتی تھیں اور ایسی سوجھتی تھیں کہ سامنے والا دو حصوں میں بٹ جاتا تھا۔
جب وہ انہیں شہریار کے آرڈر کے مطابق اگلے دن واپس لے آیا تو وہ بے حد خاموش تھے۔ ماتھے سے نکلتا خون پھر سے رس رہا تھا۔ اکبر سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہاں ایسا کیا ہوا ہے جو وہ اس حد تک چپ ہو گئے ہیں۔
" میری روشنی، میری بچی، میری روشنی۔۔۔"
ان کی خاموشی ٹوٹ گئی تھی۔ وہ پھر سے رونے لگے تھے۔ اکبر انہیں دیکھتا رہا جو بولنے لگے تھے۔
" یہ۔۔۔ کیا کر دیا اس نے۔۔۔ میری بچی کو رلا دیا۔۔۔ میری روشنی، میری روشنی۔۔۔۔ میں اس کی چیخیں سن کر آ رہا ہوں۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔ وہ مجھے بلا رہی تھی۔۔۔ میری بد قسمتی دیکھو۔۔۔ میں اپنی بچی کو نہیں بچا سکا۔۔۔ ان درندوں نے کیا کر دیا۔۔۔ میری بچی کو کھا گئے۔۔۔۔ میں اپنی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکا۔۔۔ کیسا باپ ہوں میں، کیسا باپ ہوں۔"
وہ تڑپ تڑپ کر روتے جا رہے تھے۔
اکبر خاموش رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔
" مجھے میری بیٹی کے پاس جانا ہے۔ مجھے میری روشنی کے پاس جانا ہے۔ خدا کے لیے مجھے جانے دو۔ میں ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے سامنے۔ مجھے جانے دو۔۔۔ میری بیٹی تکلیف میں ہے۔ مجھے جانے دو۔ میں اسے کہیں دور بھیج دوں گا۔ تم میری جان لے لو۔ مجھے مار دو لیکن میری بچی کو چھوڑ دو۔"
اس نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کا سانس سینے میں پھنس چکا تھا۔
" وہ بڈھا مر تو نہیں گیا؟"
شہریار نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔ اکبر نے ایک نظر عباد صاحب کے نیم مردہ وجود پر ڈالی پھر ہٹا لی۔
" نہیں۔"
" ابھی بھی؟"
وہ زور ہنسا۔
" ارے اس کی جگہ کوئی اور باپ ہوتا تو اب تک خود کشی کر چکا ہوتا۔ خیر اچھا ہی ہے۔ اس کو اب اس کے گھر لے جاؤ اور سنو اس کو اس لڑکی کی آنکھوں کے سامنے مارنا۔ سمجھے؟"
شہریار نے ہنستے ہوئے فون رکھ دیا تھا۔
اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ بے تحاشا سرخ۔ کسی مشین کی طرح زندگی گزارنے والا، بے رحمی سے لوگوں کی جان لینے والا۔ آج خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔
" روشنی۔۔۔ میری روشنی۔"
ایک بوڑھی ضعیف آواز اس کی نیند حرام کر گئی۔ دو نیلی آنکھیں اس کی زندگی برباد کر گئیں۔
اس کو دیکھنے کے بعد وہ کیسے اسے چھوڑ کر آ گیا تھا۔
" میرے بابا کو کچھ مت کرو۔۔۔ انہیں چھوڑ دو۔۔۔"
اس کی وہ التجائیں بھی اس نے نہیں سنی تھیں۔
وہ بنا دیکھے سب ختم کر دیتا تھا۔ آج بھی اس نے بنا دیکھے سب ختم کر دیا تھا۔
اس لڑکی کو اس وقت اگر وہ دیکھ لیتا تو خود کو مار دیتا مگر کبھی گولی نہیں چلاتا۔ اس نے گلاس اٹھا کر پوری قوت سے دیوار میں دے مارا۔
اس کو معلوم نہیں ہوا کہ اس کی سرخ آنکھیں اب نمی سے بھرنے لگی ہیں۔ وہ جس نے کئی سالوں سے آنسو نہیں بہائے تھے، اب پھوت پڑے تھے۔ جس کا اس کو احساس بھی نہ ہو سکا۔
پہلی بار اس کو اپنے کام سے نفرت ہوئی تھی۔ پہلی بار اس کو خود سے نفرت ہوئی تھی۔
•••••
" زین!"
اس نے دھیرے سے اس کو پکارا۔
" ہاں؟"
وہ کسی کام میں مصروف تھا لیکن اس کی توجہ اسی کی طرف تھی۔
" ایک بات پوچھوں؟"
زین نے ہاں میں سر ہلایا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اپنا گال گھٹنے پر ٹکایا۔
" کسی کو مارنے کے بعد انسان سکون سی جی سکتا ہے؟"
زین کے ہاتھ رکے پھر، پھر سے کام میں مصروف۔
" یہ ڈیپینڈ کرتا ہے۔"
" کس پر؟"
اس نے تیزی سر اٹھایا۔
" اس بات پر کہ تم نے اسے کیوں مارا۔"
" یعنی تمہیں لگتا ہے کہ وجہ فرق ڈالتی ہے۔"
" ہر بار نہیں۔"
اس نے پانی کا گلاس بھر کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے خاموشی سے لے لیا۔
" اگر کوئی انسان اتنا برا ہو کہ اس کا زندہ رہنا دوسرے لوگوں کو مار رہا ہو تو؟"
زین اس کے سامنے دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔
" پھر بھی خون خون رہتا ہے۔"
" تم سکون سے جی سکتے ہو؟"
وہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
" میں جی رہا ہوں۔"
زین نے جواب نہیں دیا تھا لیکن اقرار بھی نہیں کیا تھا۔
" اور اگر کسی کو مار کر بھی سکون نہ ملے تو؟"
زین کچھ پل خاموش رہا پھر سیدھا ہوا۔
" تو پھر تم نے بدلہ نہیں لیا بلکہ خود کو سزا دی۔"
" اگر میں اس کو مار دوں تو کیا میں اس کے جیسی بن جاؤں گی؟"
" تم اس جیسی اس وقت بنو گی جب اسے مارتے ہوئے تمہیں کچھ بھی محسوس نہ ہو۔"
" میں تو پہلے بھی کچھ محسوس نہیں کرتی۔"
وہ سر جھٹکتی بولی۔
" اگر ایسا ہوتا تو تم مجھ سے یہ سوال بھی نہیں پوچھ رہی ہوتی۔ تم محسوس کرتی ہو تبھی تو سوچتی ہو۔"
ایک مرتبہ پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔ پھر وہ بولی۔
" ایک بات بتاؤ۔"
" پوچھو۔"
" ایک ریپسٹ کی کیا سزا ہوتی ہے؟"
زین اس بار زیادہ دیر خاموش رہا تھا۔
" قانون الگ الگ جگہ الگ ہوتا ہے۔"
اس کے ماتھے کی لکیریں گہری ہوئیں۔
"میں قانون کا پوچھ بھی نہیں رہی۔ قانون کی تم بات بھی مت کرو۔ میں پوچھ رہی ہوں کہ ایک انسان کی نظر میں ایک ایسا مرد جو زبردستی کرے اس کی کیا سزا ہوتی ہے؟"
زین کافی دیر اس کو خاموش نظروں سے دیکھتا رہا۔
" کچھ لوگوں کے لیے وہ زندگی بھر کا داغ ہوتے ہیں۔"
" داغ؟"
وہ ہنس پڑی پھر اس کی آواز نیچی ہو گئی۔
" اور اگر وہ ریپسٹ گھر کا ہو تو؟"
" گھر کا ہو تو جرم تب بھی کم نہیں ہوتا۔"
وہ دوبارہ سے اپنا گال گھٹنے سے لگا گئی۔
" اور اگر اس نے ایک باپ سے وعدہ کیا ہو کہ میں اس کی بیٹی کی حفاظت کروں گا تو؟"
زین چپ رہا۔ وہ بولتی رہی۔
" باپ مر گیا اور پھر وہ مرد حفاظت کرنے کے بجائے خود بھیڑیا بن گیا۔"
اس کی پلکیں نم ہو گئی تھیں۔
" اس کی کیا سزا ہوتی ہے زین؟"
" سب سے بری سزا؟"
وہ چپ رہی۔ منتظر رہی۔
" یہی کہ وہ اس دن سے پہلے مر جائے جس دن اسے سمجھ آئے کہ اس نے کیا چھینا۔"
" اسے سمجھ آئے یا نہ آئے، مجھے تو سمجھ آگیا تھا۔"
وہ بڑبڑائی۔
" تم نے کچھ نہیں چھینا۔"
اس نے تیزی سے سر اٹھایا۔
" مگر اس نے تو چھین لیا نا۔"
زین لاجواب ہوا۔
" بابا کہتے تھے دنیا بری ہے لیکن انہوں نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ برا انسان گھر میں بھی ہو سکتا ہے۔"
زین اب بھی خاموش رہا تھا۔ وہ گہری سانس بھر کر اٹھ گئی۔
" چلیں؟"
اس نے پوچھا اور بنا انتظار کیے آگے بڑھ گئی۔
•••••
اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔ گھر کے دروازے بند تھے مگر وہ پھر بھی خوف زدہ تھا۔ کمرے میں جگہ جگہ بوتلوں کا ڈھیر اور گندگی تھی۔ ہر طرف سے بو اٹھ رہی تھی۔ وہ صوفے پر بے سدھ پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں بند ہوتیں پھر ہلکی سی آہٹ پر کھل جاتیں۔
وہ میز پر رکھی چھری اٹھاتا۔ پورے گھر میں گھومتا۔ ہر جگہ دیکھتا۔ کسی کو نہ پا کر واپس آ کر گر جاتا۔ اب بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ بے فکر پڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔
اس کا چہرہ دھبوں سے بھر چکا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے۔ کچھ ہی لمحوں بعد اس کو نیند آگئی۔ کافی دیر بعد اس کو جھٹکا لگا۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا۔ جیسے ہی نظر سیدھا گئی اس کا جسم ساکت ہو گیا۔
سامنے ایک کرسی پر وہ بیٹھی تھی۔ پرسکون سی، اسی کو دیکھتی ہوئی۔ رافیل کا جسم پیلا پڑ گیا۔
" تت۔۔۔ تم۔۔۔ تم زندہ ہو؟"
وہ ہکلایا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکا۔
اس کے دونوں ہاتھ اور پیر کرسی سے بندھے تھے۔ اس کے چہرے پر خوف لہرایا۔ روشنی اٹھی۔ دھیمے قدموں سے چل کر اس کے پاس آئی۔
" تم نے چیک نہیں کیا تھا۔"
رافیل کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ چل کر ایک دیوار کی طرف گئی۔ وہاں عباد صاحب کی تصویر ٹنگی تھی۔ اس نے محبت سے، بے حد نرمی سے تصویر کو چھوا۔
" اب آپ دیکھیے گا۔"
وہ دھیرے سے بولی۔
رافیل کے کان کھڑے ہوئے۔
" نہیں روشنی۔۔۔۔ غلطی ہوگئی۔۔۔ مم۔۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔ میں مرد ہوں۔۔۔ بب۔۔۔ بہک گیا تھا۔۔۔ غلطی ہو گئی۔۔۔"
روشنی کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔ وہ کچھ پل اس کو دیکھتی رہی پھر پوری طاقت سے تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ رفیل کا چہرہ دوسری سمت مڑ گیا۔
روشنی نے میز پر رکھی ڈبی سے ایک سگریٹ نکال کر سلگائی اور بنا وقت ضائع کیے اسے رافیل کی آنکھ پر دبا دیا۔ وہ چیخ اٹھا تبھی پیچھے سے کسی نے اس کا منہ دبا دیا۔
اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر باندھ دیا گیا۔ وہ بری طرح ہاتھ پیر مار رہا تھا۔ روشنی نے اس کی دوسری آنکھ کا بھی یہی حشر کیا۔
" کیا ہوا؟ درد ہو رہا ہے؟"
وہ معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔
رافیل زور زور سے سر مارنے لگا۔ اس نے مشکلوں سے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا، جس نے ایک باؤل اس کے سامنے رکھا تھا۔
روشنی نے میز سے چھری اٹھائی اور پوری قوت سے اس کے ہاتھ میں گھونپ دی۔ رافیل کی آواز اب بھی نہیں نکلی۔ اس نے وہ چھری اس کے دوسرے ہاتھ میں گھسا کر گھما دی۔
" انہی ہاتھوں سے مجھے چھوا تھا نا۔۔۔ انہی آنکھوں سے مجھے دیکھتے تھے نا۔۔۔"
وہ زہر خند سا بولی۔
اس نے اس کا ایک ہاتھ کھولا اور پکڑ کر اسے باؤل میں ڈبو دیا۔ تیزاب نے اس کا ہاتھ جلانا شروع کر دیا۔ رافیل زور زور سے ہلنے لگا۔ وہ ہاتھ بھی نہیں کھینچ پا رہا تھا کیونکہ کوئی اور بھی تھا جس نے اس کو دبوچ رکھا تھا۔
روشنی نے اس کے دوسرے ہاتھ کا بھی یہی حشر کیا۔
" کیا کہہ رہے تھے؟ میں تمہارے لیے بیکار ہو چکی ہوں؟ اور کیا کہا تھا تم نے؟ محبت نہیں کرتے؟"
وہ ہنسی۔ آنکھوں میں نمی تھی لیکن اس نے ایک قطرہ بھی نہیں بہایا۔
" تمہیں افسوس تھا کہ تم نے دیر کر دی۔۔۔ مجھے بھی افسوس ہے کہ میں نے بھی دیر کر دی۔ کاش۔۔۔ کاش میں بابا کو تمہاری اصلیت بتا سکتی۔"
اس نے چھری تیزاب میں ڈبو کر اس کا گال چیر دیا۔
" تم نے مجھے انسان نہیں رہنے دیا۔ تم نے مجھے مار دیا۔ جانتے بھی ہو کہ میں کیا بن چکی ہوں؟"
رافیل رونے لگا تھا۔ اس کی حالت بری طرح خراب ہو چکی تھی۔ زین کی آنکھیں پھیلی تھیں۔ پہلی دفعہ۔ ابھی وہ اس کو کچھ کہتا روشنی نے چھری رافیل کی آنکھ میں گھسا دی۔ گھما کر نکالی پھر واپس گھسا دی۔
رافیل ہلنا بند ہو گیا۔ روشنی بنا رکے مارتی گئی، مارتی گئی۔ زین پیچھے ہوا۔ روشنی نے تیزاب کا باؤل اٹھایا اور رافیل کے سر پر انڈیل دیا۔ چھینٹیں گرے تھے۔ روشنی کا ہاتھ جلا تھا، مگر وہ رکی نہیں تھی۔
" تم لوگوں نے مجھے جانور بنا دیا۔ حیوان بنا دیا۔ میں انسان رہنا چاہتی تھی۔ تم لوگوں نے مجھے شیطان بنا دیا۔"
وہ پاگل ہو رہی تھی۔
زین تیزی سے آگے بڑھا کیونکہ روشنی کا ہاتھ جل چکا تھا لیکن روشنی نے اس کو دھکا دے دیا۔
" مجھے مت رکو۔۔۔ میرے پاس بھی مت آنا۔۔۔ اگر میں رک گئی نا۔۔۔ تو میں واقعی مر جاؤں گی۔"
زین پیچھے ہٹ گیا تھا۔ اس کو ایسا بنانے والا بھی وہ خود ہی تھا۔ جب وہ تھک کر خود ہی پیچھے ہوئی تو زین نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ دیکھے۔ جیب سے رومال نکال کر اس کے ہاتھ بہت نرمی سے صاف کیے۔ ایک ہاتھ ہلکا سا جل گیا تھا۔
" چلو میرے ساتھ۔"
اسے لیے وہ فوراً وہاں سے نکل گیا تھا۔
پیچھے اس کمرے میں خون کے ٹپکنے کی آواز گونجتی رہی۔ رافیل کا چہرہ بگڑ چکا تھا۔ ایک آنکھ غائب، دوسری نکل کر نیچے گر گئی تھی۔ دونوں ہاتھ بھی کٹ کر لٹک رہے تھے۔
دیوار پر عباد صاحب کی تصویر ویسی ہی لگی تھی۔ ساتھ روشنی بھی تھی۔ جس کے چہرے پر معصومیت تھی۔ آنکھوں میں نرمی اور چہرے پر پرسکون مسکراہٹ۔
•••••
شہریار اس وقت اپنے پرائیویٹ ہاؤس میں موجود تھا۔ کمرے میں دھواں بکھرا تھا۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ کسی گہری سوچ میں گم نظر آتا تھا۔
صائم، زوہیب اور آہان۔ تینوں کافی وقت سے ایک ساتھ غائب ہو چکے تھے۔ جن کا پتہ ابھی تک نہیں ملا تھا۔ اس نے موبائل اٹھایا، کال ملائی۔ نمبر بند۔ دوسرا بھی اور پھر تیسرا بھی۔
سوچ کی لکیریں دھیرے دھیرے گہری ہونے لگیں۔ اس نے موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا۔ موڑ کاٹتے اس نے آہان کے آفس کال کی۔
" وہ تو کافی دنوں سے نہیں آ رہے۔ لیو (leave) بھی نہیں دی۔"
شہریار جھنجھلا گیا. گاڑی زوہیب کے فلیٹ کے باہر رکی۔ اس نے جب دیکھا تو وہ لاک تھا۔ کافی دیر تک وہ بند دروازے کو کھڑا گھورتا رہا۔ اس کا فون تھرتھرایا۔ اس نے بنا دیکھے کان سے لگایا۔
" سر ایک باڈی ملی ہے جو آئیڈنٹٹی کرنی ہے۔"
" باڈی؟"
وہ بڑبڑایا۔
جب وہ پہنچا تو دیکھا وہ صائم کی لاش تھی۔ وہ ساکت ہوا۔ جب اسے فائل دکھائی گئی تو اس میں "ان نون" لکھا تھا۔ وہ پتھر کی مورت بنا باہر نکلا۔
" اگر صائم مر گیا ہے تو یقیناً باقی دونوں بھی۔۔۔۔"
اس نے تیزی سے کار ریورس کی۔ ڈیش بورڈ پر رکھا اس کا فون بپ ہوا۔ اس نے تیزی سے اٹھایا۔ کار جھٹکے سے رکی۔
ایک لنک میل ہوئی تھی۔ اس نے کھول کر دیکھا ایک ویڈیو کلپ تھی۔ چہرے دھندلے تھے۔ ہر طرف سرخ رنگ مگر وہ پہچان گیا تھا۔
" شٹ۔۔۔"
اس نے فون ڈیش بورڈ پر پھینکا۔ سر میں درد ہونے لگا تھا۔ اس نے پھر سے گاڑی سٹارٹ کی، ساتھ ایک کال ملائی۔
" اکبر۔۔۔ اگلے ایک گھنٹے میں مجھے بھائی کے آفس ملو۔"
اور کال کاٹ دی۔
•••••
جب وہ سجاد کے آفس پہنچا تو سجاد بھینچے ہوئے جبڑوں کے ساتھ ٹی وی کی اسکرین کو گھور رہا تھا۔ آنکھوں میں بارود تھی۔ دونوں ہاتھ مٹھیوں کی صورت بند۔ شہریار نے پہلے اسے، پھر ٹی وی کو دیکھا۔
" ASP Nadeem Qurashi found dead. Body severely burned."
" برنڈ؟"
شہریار کے ابرو اٹھے۔
" بھائی یہ سب کیا ہے؟"
وہ سجاد کے پاس آیا۔ نیوز ابھی بھی چل رہی تھی۔
" ملکی سیاست میں بڑا دھماکہ! سینیئر سیاسی رہنما سجاد درانی کے خلاف سنگین الزامات۔ فائنانشل ریکارڈز، آف شر اکاؤنٹس اور اللیگل فنڈنگ کے ڈاکومنٹس لیک۔"
اسکرین پر ایک طرف سجاد کی تصویر تو دوسری طرف اسکرین شاٹ دکھائے جا رہے تھے۔
" سورسز کے مطابق یہ ڈاکیومنٹس سیدھا ان کے پرائیویٹ سرکل سے لیک ہوئے ہیں۔ سجاد درانی نے ابھی تک کوئی آفیشل بیان جاری نہیں کیا۔ یہ صرف کرپشن کا کیس نہیں۔ یہ ایک نیٹ ورک ہے اور سب سے حیران کن بات، ان ڈوکیومنٹس کا ٹائم سٹیمپ ندیم قریشی کی موت سے چند گھنٹے پہلے کا ہے۔ کیا کسی نے موت سے پہلے سب کچھ ریلیز کر دیا؟"
اینکر بول رہا تھا۔
شہریار نے فوراً ٹی وی بند کر دیا تبھی دروازہ پھر سے کھلا۔ اکبر اندر داخل ہوا۔ ہیلمٹ کے ساتھ۔
" اگر اریسٹ وارنٹ جاری کر دیے گئے تو؟"
شہریار کے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ سجاد نے سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھا۔
" جس نے بھی یہ کیا ہے وہ کوئی اندر کا ہے۔"
" آپ کو کس پر شک ہے؟"
شہریار نے پوچھا۔
" ندیم پر لیکن وہ مر چکا ہے۔ یا تو اس نے مرنے سے پہلے یہ سب لیک کیا ہے یا پھر کسی نے اسے مار کر یہ گیم کھیلا ہے۔"
اکبر خاموش کھڑا رہا۔ ہمیشہ کی طرح۔ سجاد کا فون بار بار بج رہا تھا۔
" میرے تینوں دوست مارے گئے۔ ندیم قریشی بھی مر گیا۔ پھر یہ سب کس نے؟"
شہریار کا سر درد اب زیادہ ہو گیا تھا۔ اس نے اکبر کو کیوں بلوایا تھا وہ یہ بھی بھول چکا تھا۔ آفس کے باہر میڈیا والوں کی قطار لگ چکی تھی۔
" ہمیں جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔"
سجاد کچھ نہیں بولا۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
•••••
روشنی ایک ہاتھ پر پٹی باندھے، موبائل پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اس کا سارا دھیان اسکرین پر تھا۔ جہاں سجاد درانی کے خلاف کافی پختہ ثبوت ملے تھے۔ ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ بہت جلد اریسٹ وارنٹ جاری کر دیے جائیں گے۔
روشنی کے لبوں پر پراسرار مسکراہٹ ابھری۔ اسکرین پر سجاد کے ساتھ اس کے کچھ لوگ بھی دکھائے جا رہے تھے۔ اس کی نظر شہریار پر ٹھہر گئی۔
وہ آنکھوں میں خاموش وحشت لیے اس کو دیکھے گئی پھر شہریار سے ہٹ کر اس کی نظر ساتھ کھڑے ایک اور شخص پر گئی۔
اس کی گرفت موبائل پر سخت ہو گئی۔ وہ کھوئی کھوئی آنکھوں سے اس ہیلمٹ والے آدمی کو دیکھے گئی۔ دماغ میں وہ دن، تین گولیاں اور ہیلمٹ گھوم گئے۔
" ہیلمٹ۔"
وہ دھیرے سے بولی۔ زین نے سر اٹھا کر اس کو سوالیہ دیکھا۔
" کیا؟"
روشنی نے فون میز پر رکھ دیا۔
" میرے بابا کا اصل قاتل۔ ہیلمٹ والا۔۔۔ یہ شہریار کے ساتھ موجود ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے زین؟ کیا یہی وہ آدمی ہوگا؟"
اس نے ڈائریکٹ پوچھا۔
زین نے فون اٹھا کر دیکھا۔
" اگر یہ آدمی شہریار کا ہے تو یقیناً ہوگا۔"
اس نے موبائل واپس رکھ دیا۔
روشنی نے اپنا ہاتھ دیکھا۔ جلن کم ہو گئی تھی لیکن پھر بھی اس کو محسوس ہو رہا تھا کہ جلن تو اس کے اندر بھی ہے۔ ایک آگ جو بھڑکتی ہی جا رہی ہے۔
" شہریار اور۔۔۔۔ یہ ہیلمٹ والا۔۔۔ تم پتہ کر سکتے ہو کہ یہ کون ہے؟"
اس نے زین کو سوالیہ دیکھا۔
زین نے فون اٹھایا۔ کچھ دیر ٹائپ کرنے کے بعد اس نے فون روشنی کی طرف بڑھا دیا۔ روشنی نے تیزی سے فون پکڑ کر دیکھا۔
" سجاد درانی کا خاص آدمی ہے۔ زیادہ آرڈر شہریار دیتا ہے۔ روتھ لیس کلر ہے۔ بے حس انسان ہے۔ یہ جو لاشیں تم دیکھ رہی ہو نا؟ یہ سب اسی کے کام ہیں۔ اکبر نام ہے۔ ہمیشہ ہیلمٹ میں موجود ہوتا ہے۔ شاید یہ بھی ایک آرڈر ہو، تاکہ وہ میڈیا پر ہڈن (hidden) رہ سکے۔"
زین اسے بتا رہا تھا۔
" اکبر۔۔۔"
روشنی کی آنکھیں کسی گہرائی میں ڈوبی تھیں۔
" اکبر۔"
پھر وہ ہنسی۔
" روتھ لیس کلر۔"
اس نے ہنستے ہوئے تصویریں دیکھیں۔ لوگوں کی۔ ان کٹی اور جلی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر اسے بالکل بھی ڈر نہیں لگا بلکہ آنکھوں میں یک لخت گہرا سکون اتر گیا۔
" اچھا ہے۔"
اس نے ہنستے ہوئے فون واپس رکھ دیا۔
•••••
شہریار عجلت میں آفس سے باہر نکلا تھا۔ قدموں میں تیزی تھی۔ ہر پل اس کو محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھتا تھا۔
گھر جانے کے بجائے وہ اپنے پرائیویٹ فلیٹ چلا گیا۔ پوری رات وہ شراب پیتا رہا۔ خود کو پرسکون کرنے کے لیے وہ یہی کرتا تھا مگر اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔
ساری رات بے چینی سے پورے فلیٹ میں گھومتا رہا۔ تھک جاتا تو پھر سے پینا شروع کر دیتا۔ صبح اس کی آنکھ لگی تھی۔ فون اس نے بند کر دیا تھا۔
وہ کتنی دیر سوتا رہا اسے نہیں پتہ چلا۔ جب وہ اٹھا تو ہر طرف اندھیرا تھا۔ اس نے باہر دیکھا، رات ہو چکی تھی۔ بھوک کے مارے اس کے پیٹ میں چوہے کودنے لگے تھے۔
کھانے سے پہلے وہ باتھ چلا گیا۔ ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں بالوں کو رگڑتا وہ باہر نکلا۔ اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔ اچانک اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
وہ چونکا۔ پہلے کمرے میں جھانکا پھر ہال۔ سب خالی۔ جیسے ہی وہ پلٹا کسی نے اس کے منہ پر سپرے کر دیا۔ ایک زہریلی بو اس کے اندر داخل ہوئی۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہوا تبھی پیچھے رکھی ٹیبل سے وہ ہلکا سا لڑکھڑایا اور اوندھے منہ گر گیا۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

WOW 😳 amazing no words writer g kamal kaml kaml kaml i know ending mje bhot dukhi krny wali hai but can't wait love your this masterpiece ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ReplyDeleteWse jo guess main ne start main lgye ty wo sab thek nikly🤧
ReplyDelete