Ruthless killer Episode 16
by Munaza Niaz
اسے ہوش حواس لوٹنے سے نہیں بلکہ درد سے آیا تھا۔ منظر دھندلا تھا۔ اس نے زور سے سر ہلایا۔ وہ ہوا میں تقریباً جھول رہا تھا کلائیوں میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ تب ہی اس کے منہ پر کسی نے گرم پانی پھینک دیا۔ اس کی چیخ نکل گئی۔
منظر اب دھیرے دھیرے واضح ہو رہا تھا۔ فرش لوہے کا تھا۔ دونوں ہاتھ دائیں بائیں رسیوں سے بندھے تھے۔ وہ رسیاں، جن میں کیل تھے۔ اس کی کلائیوں سے خون رس رہا تھا۔ اگر وہ ہاتھ ہلاتا تو کیل مزید اندر گھس جاتے۔
اس نے گیلا چہرہ اٹھا کر سامنے دیکھا۔ وہ کرسی سے ٹیک لگائے اس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں چھوٹی لوہے کی سلاخ تھی۔ کرسی کے ساتھ ایک لوہے کا ڈرم تھا جس میں کچھ دہک رہا تھا۔ ڈرم کے اوپر ایک سٹیل کا ٹب بھی تھا۔ جس میں موجود پانی اب ابلنے لگا تھا۔
" روشنی تم؟"
وہ جیسے ہوش میں آیا تھا۔
اس نے ارد گرد نگاہیں دوڑائیں۔ وہ ایک فیکٹری تھی۔ اونچی چھت، جس سے بھاری زنجیریں لٹک رہی تھیں۔ زنجیروں سے ٹھنڈے پانی کی بوندیں ٹپ ٹپ اس پر گر رہی تھیں۔
دیواروں کا پینٹ اکھڑ کر غائب ہو چکا تھا۔ الیکٹرک بورڈ پر بھی پانی گر رہا تھا، جس سے شارٹ سرکٹ ہو رہا تھا۔ اس کی سپوٹ لائٹ شہریار کی آنکھوں میں چبھنے لگی تھی۔
" آگیا ہوش؟"
روشنی نے راڈ گھمائی۔
" یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے روشنی؟"
شہریار کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر غصے کی لہر دوڑی تھی۔
" وہی جو تم نے شروع کیا تھا، جسے اب میں ختم کروں گی۔"
وہ مسکرائی، بے رحم مسکراہٹ۔ شہریار کے ماتھے پر بل پڑے۔
" بکواس بند کرو۔ کھولو مجھے۔"
وہ چیخا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ روشنی کا گلا دبا دیتا۔
" آرام سے۔۔۔ ابھی تو کچھ شروع بھی نہیں ہوا۔"
وہ اٹھ کر اس کے سامنے آئی۔ شہریار نفرت سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ پھر، پھر وہ ہنس پڑا۔ ایک دم سے۔ روشنی کے چہرے پر کوئی ہنسی نہیں آئی۔
شہریار سر پیچھے پھینک کر ہنستا جا رہا تھا پھر وہ ایک دم سے اس کے قریب ہوا۔ زیادہ نہیں بس ہلکا سا۔
" تم شروع کرو گی؟ شروع تو میں نے کیا تھا۔۔۔ تم میری کیوں نہیں بن جاتی ہاں۔۔۔ جو کچھ تمہارے ساتھ میں نے کیا، تمہیں تو خود کشی کر لینی چاہیے تھی۔ 99 فیصد لڑکیاں یہی تو کرتی ہیں۔"
روشنی چپ رہی۔ چہرہ ابھی بھی بے تاثر تھا۔
شہریار کی نظر اس کے اوپر سے نیچے تک گھوم گئی۔
" اگر میں بندھا نہ ہوتا نا۔۔۔ تو میں تمہیں پھر سے توڑتا۔۔۔ اس بار اور دھیرے سے۔"
وہ سرسرا رہا تھا۔
" تمہاری وہ چیخیں۔۔۔ جنہیں میں نے تمہارے پیارے بابا جان کو سنوائی تھیں۔۔۔۔ وہ میری سب سے فیورٹ یادیں ہیں، جانتی ہو؟"
روشنی ہل نہیں سکی۔ شہریار کی ہنسی اب غائب ہو چکی تھی۔ وہ اس کی بے حس آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا۔
" کافی بدل گئی ہو تم۔ زندہ ہو کر بھی لاش بنی پھر رہی ہو۔ دیکھو ذرا اپنی آنکھوں میں۔ جان بھی نہیں بچی۔ پتہ نہیں مجھے کیسے مارو گی۔"
اس نے روشنی کا ہاتھ دیکھا جس میں سلاخ تھی۔ وہ مسکرایا تھا۔
روشنی نے اسی وقت وہ سلاخ نیچے پھینک دی۔
" تمہیں لگتا ہے میں تمہیں آسان موت دوں گی؟ تمہیں لگتا ہے تمہاری باتوں سے میں رونا شروع کر دوں گی یا پھر تم سوچ رہے ہو کہ تم مجھے مار سکتے ہو۔ ہاں 99 فیصد لڑکیاں مر جاتی ہیں مگر میں ان 99 فیصد میں سے نہیں ہوں۔ میں وہ ایک فیصد ہوں جو اپنا بدلہ لیتی ہے۔"
روشنی نے ہنستے ہوئے گہری سانس لی۔ وہ اب اس کے گرد چکر کاٹنے لگی تھی۔
" تمہارا وہ روتھ لیس کلر کہاں پر ہے؟ کیا نام ہے اس کا؟ ہاں اکبر۔ اسی کو بھیجا تھا نا تم نے میرے بابا کو مارنے کے لیے۔ تمہارا وہ بے حس قاتل کہاں ہے اس وقت؟ اس کو نہیں معلوم کہ تم مرنے والے ہو؟ سنا ہے وہ درد تو کیا کچھ بھی محسوس نہیں کرتا۔ وہ رحم بھی نہیں کرتا بس لاشیں چھوڑ دیتا ہے۔ اچھا ہے۔۔۔۔ میں بھی اب رحم کرنا بھول چکی ہوں۔ اس نے جب میرے بابا کو مارا تھا نا تو شاید ان کی آنکھوں میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ اتنا بھی انسان نہیں ہے کیا۔"
وہ پوچھ رہی تھی یا بتا رہی تھی شہریار سمجھنے سے قاصر تھا۔
" تم بھی انسان نہیں ہو شہریار۔ تم آرڈر دیتے ہو اور وہ پورا کرتا ہے۔ تین۔۔۔ پوری تین گولیاں ماری تھیں اس نے میرے بابا کو۔ وہ بھی ہیلمٹ کے پیچھے چھپ کر۔ شاید وہ ہمت نہیں رکھتا تھا اپنا چہرہ دکھانے کی۔ یا شاید اسے خود سے بھی شرم آتی ہو۔ زین تم نے ٹھیک کہا تھا۔ وہ انسان نہیں ہے، اگر ہوتا تو رک جاتا۔"
شہریار چونکا، یعنی کوئی اور بھی وہاں پر موجود ہے۔ اگر روشنی اکیلی ہوتی تو شاید وہ بچ کر نکل جاتا مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ یہ ناممکن ہے۔ اس کا خون اب صحیح معنوں میں کھولنے لگا تھا۔
وہ چل کر کرسی پر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
" زین۔۔۔۔ اگر وہ کبھی ملا نا تو میں اسے پہلی نظر میں پہچان جاؤں گی۔ روتھ لیس کلر کی آنکھوں میں رحم نہیں ہوتا۔"
وہ اٹھی اور کھولتے ہوئے پانی کے سامنے آ کر رکی۔ اس نے پانی ایک برتن میں بھرا اور واپس اس کے پاس آئی۔
شہریار جم گیا مگر وہ باز ابھی بھی نہیں آیا تھا۔
" میں نے دیکھی تھی صائم کی لاش۔ کافی بے رحمی سے اس کو مارا تم نے۔ تمہیں یہ سب کس نے سکھایا؟ تمہارے زین نے؟ کافی اچھا ہے۔ ایک دم میرے ٹائپ کا۔ تمہیں روتھ لیس کلر بنا دیا ہے۔ ایسا تم سوچ رہی ہو لیکن اصل میں تو تم میری بنائی ہوئی پروڈکٹ ہو۔"
وہ ہنسا اور اسی وقت اس کی ہنسی چیخوں میں بدل گئی۔ روشنی نے وہ پانی اس کے پیروں پر گرا دیا تھا۔ پر اصل میں وہ پانی تھا ہی نہیں وہ ایسڈ تھا۔
" تمہارے بنائے پروڈکٹ کیسے ہوتے ہیں، یہ تم اچھے سے جانتے ہو یقیناً۔"
وہ پلٹی اور پھر سے ایسڈ بھر لائی۔ شہریار کے دونوں پیر گل گئے۔ اس کے لیے کھڑے رہنا اب دو بھر ہو گیا تھا۔ وزن پڑنے سے کلائیوں میں کیل دھنسنے لگے تھے۔
" تم نے میری چیخیں میرے بابا کو سنوائی تھیں نا۔۔۔ اب تمہاری یہ چیخیں تمہارا بھائی سنے گا۔"
اس نے وہ ایسڈ اس کے ہاتھوں پر گرانا شروع کر دیا۔
شہریار کی چیخیں پوری فیکٹری میں گونجنے لگی تھیں۔ وہ زور زور سے ہاتھ کھینچے لگا تھا۔ اس کے پیروں اور ہاتھوں کا ماس غائب ہو چکا تھا۔ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
" رک جاؤ روشنی۔۔۔ بس کرو۔۔۔ مارنا چاہتی ہو نا مجھے۔۔۔ گولی مار دو۔۔۔ چاقو سے مار دو۔ اس طرح کھیلنا بند کرو۔"
وہ بے بسی سے چیختے ہوئے بولا تھا۔
" اوہ! ایسا ہے کیا؟"
اس کے ابرو اٹھے۔
" ٹھیک ہے۔"
شہریار کی ہوش اڑے۔ روشنی نے گلوز پہنے اور انگاروں سے بھرے ڈرم سے ایک دہکتا ہوا چاقو نکالا۔
" چاقو سے ماروں گی۔"
وہ مسکرائی اور اسی لمحے وہ چاقو اس کے کندھے میں گھونپ کر اسے زور سے گھما دیا اور باہر بھی نہیں نکالا۔
اس بار شہریار کی چیخیں پہلے سے زیادہ اونچی تھیں۔ وہ پلٹی اور ایک دہکتی ہوئی راڈ اٹھا لائی۔ شہریار کو نہیں پتہ تھا کہ اب وہ کیا کرنے والی ہے۔ اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس نے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ رک گئی۔
" کیا ہوا؟ زیادہ درد ہو رہا ہے؟"
" رر۔۔۔۔ رک جاؤ۔۔۔ بس کرو۔۔۔ اور کتنا کرو گی؟"
روشنی کی آنکھیں پہلی دفعہ سرخ ہوئی تھیں۔
" رک جاؤں؟ بس کروں؟ جب میں نے کہا تھا کہ رک جاؤ۔ مت کرو۔ تم رکے تھے؟ نہیں نا۔"
اس نے وہ سلاخ بے رحمی سے اس کے زخمی کندھے میں گھسا دی۔
وہ چیخا اور چیختا رہا۔ وہ تیزی سے پلٹی اور دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لائی۔ اس کو بالوں سے پکڑ کر اس نے وہ انگارے اس کے منہ میں ڈال دیے۔ ساتھ ہی اس کے منہ پر ہاتھ بھی رکھ کر دبا دیا۔
" یہ میرے بابا کے لیے۔"
اس نے چاقو کھینچ کر نکالا اور دوبارہ اسی جگہ گھونپ دیا۔ پھر نکالا اور پھر گھونپ دیا۔
" یہ مجھے رولانے کے لیے۔ یہ میرے بابا کو رولانے کے لیے۔ تم نے میرے بابا کو زندہ دفن کر دیا۔ انہوں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا؟ میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا؟ تم پر یقین کیا تھا میں نے۔۔۔ مجھے لگا تھا تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ نہیں۔۔۔ وہ محبت نہیں تھی۔۔۔ وہ حیوانیت تھی۔ وہ تمہاری گندی سوچ تھی۔"
اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شہریار کو مارتے ہوئے نہیں روئے گی، اور وہ نہیں روئی تھی۔
" تم نے صرف مجھے برباد نہیں کیا۔ تم نے کئی لڑکیوں کو برباد کیا۔ یہ ان سب کا حساب ہے۔"
اس نے مزید انگارے اٹھا کر اس کے زخم میں دبا دیے۔
شہریار کی چیخیں دم توڑتی جا رہی تھیں۔ اس کے ماس سے جلنے کی بو آ رہی تھی۔
" تم نے جو کچھ کیا سو کیا۔۔۔ بس ایک چیز نہ کرتے۔۔۔ میرے بابا کو نہ مارتے۔۔۔ ان کو نہ مارتے۔۔۔"
اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں مگر اس نے ایک قطرہ بھی نہیں بہایا تھا۔
" میں۔۔۔ میں۔۔۔۔ نے۔۔۔۔ نہیں۔"
وہ بہت دقتوں سے بولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا منہ جل چکا تھا۔ زبان جل چکی تھی۔
" بولو۔۔۔ بولو نا۔۔۔ کیوں مارا انہیں؟ کیوں مارا؟"
وہ چیخی۔ اس نے مزید انگارے اٹھا کر پھر سے اس کی منہ میں ڈال دیے۔
" تمہارا وہ اکبر کلر۔ وہ بھی ایسی موت مرے گا۔ حکم تم نے دیا تھا، مارا اس نے تھا۔ بتاؤ مجھے کہاں ہے وہ اس وقت؟ بولو؟"
وہ سرسرائی۔
" روشنی۔۔۔"
تبھی زین آگے بڑھا تھا۔ وہ جو چاقو اس کی آنکھ میں گھسانے والی تھی کہ رک گئی۔
" تم بیچ میں مت پڑو۔ یہ میرا معاملہ ہے۔"
وہ بنا دیکھے بولی تھی۔
شہریار کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ اس کا جسم اب ڈھیلا ہوا چکا تھا۔ اس نے دھندلی نگاہوں سے روشنی کے عین پیچھے کھڑے زین کو دیکھا پھر گردن جھکا دی۔ جیسے اب ہمت ہی نہ بچی ہو۔
" بتاؤ کہاں ہے وہ؟ بولو؟"
اس نے زور سے اس کے بال پکڑ کر اس کا چہرہ اٹھایا۔ شہریار کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔
زین پیچھے ہٹ گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اب نہیں رکنے والی۔ روشنی نے اس کے بال چھوڑ دیے۔ شہریار کا سر ڈھلک کر اس کے کندھے پر آ گرا۔ اس کی آواز کسی سانپ کی پھنکار کی طرح اس کے کان میں گئی تھی۔ روشنی نے چاقو والا ہاتھ اوپر اٹھایا۔
" و۔۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔ ہہہ۔۔۔۔۔ ت۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔مہا۔۔۔۔۔ہہہ۔۔۔۔۔ ااا۔۔۔۔۔۔ار۔۔۔۔۔۔ے۔۔۔۔۔۔۔ پپ۔۔۔۔۔۔ییی۔۔۔۔۔۔۔۔"
اگلے پل روشنی نے چاقو اس کی آنکھ میں گھونپ دیا۔ شہریار کا جسم ساکت ہو گیا۔ روشنی کا ہاتھ نہیں کانپا۔ وہ اس کے چہرے پر کہاں کہاں وار کر رہی تھی؟ وہ نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ بس مارتی جا رہی تھی اور مارتی جا رہی تھی۔
" وہ مر چکا ہے روشنی۔"
زین نے دھیرے سے کہا۔ روشنی تب بھی نہیں رکی۔ مارتی گئی۔ خون بہہ رہا تھا اور صرف بہہ رہا تھا۔ شہریار کے چہرے سے یا شاید اس کی آنکھوں سے بھی۔
اس نے اب شہریار کی گردن پر وار کرنا شروع کر دیا۔ خون نکلا، پریشر کی طرح۔ روشنی لہولہان ہو چکی تھی۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی۔
اسے درد ہو رہا تھا۔ نہیں۔ وہ خود درد بن چکی تھی۔ وہ تھکی نہیں تھی بس رک گئی تھی۔ چاقو اس نے ایسے ہی شہریار کی آدھی کٹی گردن میں پھنسا دیا تھا۔
پھر وہ دھیرے سے زین کی طرف مڑی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
" ایک روتھ لیس کلر کی آنکھوں میں رحم نہیں ہوتا۔ میں اسے دیکھتے ہی پہچان جاؤں گی۔"
روشنی نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا پھر زین کو۔ پھر سے اپنے ہاتھوں کو۔
" ایک روتھ لیس کلر کی آنکھوں میں رحم نہیں ہوتا۔"
زین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ آنکھیں۔ نیلی آنکھیں۔ اس کی آنکھوں میں کوئی رحم نہیں تھا۔ وہ بے رحم بن چکی تھی۔ یا شاید وہ روتھ لیس سے بھی بدتر بن چکی تھی۔
•••••
وہ اس وقت زین کے کمرے میں موجود تھی۔ اکیلی، کرسی پر بیٹھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی جسے وہ دیکھ رہی تھی۔
زین وہاں موجود نہیں تھا ورنہ وہ اس سے پوچھ لیتی۔ تصویر میں چار لوگ تھے۔ ایک خوبصورت لڑکی، جس کے چہرے پر نرم مسکراہٹ تھی۔ اس کے ساتھ ایک لڑکا موجود تھا جس نے اس لڑکی کو اپنے بازو کے حصار میں لے رکھا تھا۔
لڑکی کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا جس نے ایک بچی کو اٹھا رکھا تھا۔ بچی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ وہ تقریباً دو سال کی معلوم ہوتی تھی۔ اس کی نظر
صرف ایک چہرے پر اٹک چکی تھی۔
اس لڑکے پر۔ جس نے اس بچی کو اٹھا رکھا تھا۔ وہ ایک بیس بائیس سالہ نوجوان تھا۔ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجائے بچی کو دیکھ رہا تھا۔ بچی کے گلے میں ایک لاکٹ تھا۔
تصویر کافی پرانی تھی۔ بچی بھی اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے اس لڑکے کی شرٹ پکڑ رکھی تھی۔ کسی احساس کے تحت اس نے چہرہ اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا۔ زین اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ نامحسوس انداز میں گود میں گر گیا۔
" سوری۔۔۔ میں بس۔۔۔"
زین خاموشی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور تصویر اس کے ہاتھ سے لے لی۔
" کون ہیں یہ سب؟"
وہ زیادہ دیر اپنا تجسس برقرار نہیں رکھ پائی تھی۔ زین اس کے مقابل کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ کافی دیر وہ اس تصویر پر نظریں گاڑے بیٹھا رہا تھا۔ روشنی کی بے چینی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی تھی۔
" یہ لڑکی میری بہن صدف ہے اور یہ لڑکا رضا۔۔۔ میرا بہنوئی اور دوست۔"
وہ ایک پل کو رکا۔ نظریں پھر بھی جھکی رہیں، اس تصویر پر۔ روشنی اس کو دیکھتی رہی۔
" یہ بچی میری بھانجی ہے۔ نور۔"
اس نے نرمی سے انگوٹھا اس بچی کے چہرے پر پھیرا۔
" اب یہ سب کہاں ہیں؟"
روشنی کے سوال پر اس نے تصویر اس باکس میں ڈال دی جسے روشنی کھولے بیٹھی تھی۔
اندر کچھ کاغذات، ایک چھوٹا گلابی جوتا، جو خون سے بھرا تھا۔ ساتھ ایک ٹوٹا ہیئر کلپ بھی موجود تھا۔
" تمہاری بہن بہت خوبصورت ہے۔"
" تھی۔۔۔"
روشنی چپ ہو گئی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ مزید کیا بولے۔
" تم نے بچی کو اٹھایا ہوا ہے۔"
اس نے زین کے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ ابھرتی دیکھی تھی۔
"وہ مجھے چھوڑتی ہی نہیں تھی۔ کہتی تھی ماموں مجھے زمین پر مت اتارو۔"
اس نے باکس واپس الماری میں رکھ دیا۔
" کیا وہ بھی۔۔۔؟"
روشنی کی زبان لڑکھڑائی۔
" نہیں۔۔۔"
زین نے تیزی سے اس کی بات کاٹی پھر واپس اس کے سامنے آ بیٹھا۔
" صدف اور رضا کو مرے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ اس رات۔۔۔۔"
زین کی آنکھوں میں وہ رات پھر سے زندہ ہو گئی جو کبھی مری ہی نہیں تھی۔
15 سال پہلے
آج نور کی سالگرہ تھی۔ وہ پورے دو سال کی ہو چکی تھی۔ ہر طرف خوشبو، خوشی اور روشنیوں کا جادو بکھرا تھا۔
تصویر بنوانے سے پہلے زین نے اپنا لایا ہوا گفٹ نور کو پہنایا تھا۔ وہ ایک خوبصورت، نفیس لاکٹ تھا۔ اندر نور کی تصویر تھی۔ دوسری طرف اس کا نام لکھا تھا۔ نور زین۔
بالکل ایسے ڈیزائن کا لاکٹ زین کے پاس بھی موجود تھا۔ اندر صرف نور کی تصویر تھی۔ نام نہیں لکھا تھا۔
نور زین کو دیکھتے ہی مچل جاتی تھی۔ اب بھی اس کو دیکھ کر وہ اس کی طرف لپکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ صدف اس کو سنبھالنے میں ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔
" آپی اسے مجھے دیں۔"
زین نے کیمرہ سیٹ کرنے کے بعد فوراً نور کو لے لیا۔ رضا نے صدف کو قریب کیا۔ زین نے مسکرا کر نور کو دیکھا۔ وہ قلقاریاں مارتی زین کو دیکھ رہی تھی۔
تصویر بننے کے بعد صدف نے نور کو لینا چاہا مگر وہ رونے لگی۔
" تم نے بہت عادی بنا دیا ہے اس کو اپنا۔"
" مجھے بھی اچھا نہیں لگتا جب یہ مجھ سے دور جاتی ہے۔"
زین نے نور کی کلپ ٹھیک کی۔ جو اب اس کے کندھے پر سر رکھے سونے لگی تھی۔ آج کے فنکشن نے سب سے زیادہ نور کو ہی تھکا دیا تھا۔ نور نے سوتے ہوئے بھی زین کی شرٹ کو مٹھی میں بھینچ رکھا تھا۔
" یعنی اب تمہیں بہن پیاری نہیں رہی؟ چلو صدف اس نے مجھے تو کیا تمہیں بھی لائن سے باہر نکال دیا ہے۔"
رضا نے اسے چھیڑا۔
" کیسی بات کر دی رضا۔۔۔ آپی تو ہمیشہ سے ہی میری پسندیدہ ہیں۔ اب تم ان کی پسند ہو تو یقیناً مجھے بھی پسند ہو۔۔۔ رہی نور تو وہ سب سے خاص ہے میرے لیے۔ اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔"
" لاؤ اسے اس کے کمرے میں سلا دیتی ہوں۔ تم تنگ ہو گئے ہو گے۔"
صدف نے نرمی سے نور کو لے لیا۔
زین نے افسوس سے اس کو دیکھا۔
" اب تو آپ نے یہ کہہ دیا۔ بعد میں مت کہیے گا یہ بات۔"
صدف ہنستے ہوئے پلٹ گئی۔ رضا اسے دروازے تک چھوڑنے آیا تھا۔
" کل میں نور کو باہر لے جاؤں گا۔ یونی سے آف ہے تو کل لنچ بھی یہی کروں گا۔"
زین نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
" ارے میرے پیارے سالے۔۔۔ میں تو کہتا ہوں تم یہیں رک جاؤ۔ جب کل آنا ہی ہے تو جا ہی کیوں رہے ہو۔ کیوں صدف؟ صحیح کہا نہ میں نے؟"
رضا نے صدف کو دیکھا جو مسکراتی ان کے پاس آ رہی تھی۔
" ہاں زین رک جاؤ۔ نور بھی خوش ہو جائے گی۔"
" آپی کل انشاءاللہ آؤں گا۔ نور کو سرپرائز دینے۔"
الودائی کلمات کے بعد وہ پلٹ گیا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ ملاقات ان کے ساتھ آخری ملاقات ثابت ہو گی۔ وہ نور کو کبھی نہیں دیکھ پائے گا۔
اگلے دن جب وہ پہنچا تو گھر کے باہر پولیس اور ایمبولنس موجود تھی۔ اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
" سر پیچھے ہو جائیں۔"
کرائم سین کی پٹی لگ چکی تھی۔
اس کو آگے بڑھتا دیکھا ایک آفیسر نے اس کو روکنے کی کوشش کی مگر زین بنا کچھ سنے اندر کی طرف دوڑا تھا۔
ڈرائنگ روم خون سے بھرا تھا۔ صدف زمین پر پڑی تھی۔ رضا سیڑھیوں کے پاس گرا ہوا۔
اس کے ہاتھ میں پکڑا ٹیڈی بیئر چھوٹ کر نیچے گر گیا۔
" نور۔۔۔"
اگلے سیکنڈ وہ نور کے کمرے کی طرف دوڑا۔
کمرہ خالی تھا۔ نور کا ایک گلابی جوتا فرش پر گرا ہوا تھا۔ اس نے پورا گھر چھان مارا۔ نور کہیں نہیں تھی۔
" آپ کا مقتولین سے رشتہ؟ نام؟ کسی سے دشمنی تھی؟"
آفیسر کے پوچھنے پر وہ میکانکی انداز میں سب کچھ بتاتا گیا۔
" کڈنیپنگ کا بھی کیس لکھیں۔"
آفیسر کا ہاتھ رکا۔
" سر پہلے مرڈر انویسٹیگیشن ہوگی۔"
" بچی کھوئی ہے۔ دو سال کی ہے۔"
اس کی آواز پہلی دفعہ بھرائی تھی۔
ایف آئی آر رجسٹر ہو گئی۔ ڈبل مرڈر۔ چائلڈ abduction.
اگلے دن زین خود پولیس اسٹیشن گیا۔ ایس پی آفسیر کا باہر کئی گھنٹے تک انتظار کرتا رہا۔
" سر انویسٹیگیشن چل رہی ہے۔"
" لیڈ ملی؟"
اس نے پوچھا۔
" ہم چیک کر رہے ہیں۔"
دو دن بعد۔
" سر ایک سسپیکٹ اٹھایا ہے۔"
تین دن بعد۔
" Evidence insufficient."
ایک ہفتے بعد۔
" میڈیا کو انوالو مت کیجئے گا۔ کیس حساس ہے۔"
دن بدن سسٹم مزید سست ہوتا گیا۔ سی سی ٹی وی کام نہیں کر رہے تھے۔ ایک گواہ نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ کیس کا آفیسر ٹرانسفر ہو گیا۔
وہ روز جاتا تھا۔ وہ روز جاتا رہا۔ وہ صرف پولیس پر اب ڈیپینڈ نہیں کر رہا تھا۔ اس نے پرائیویٹ انویسٹیگیٹرز ہائر کیے تھے۔ ہر چھوٹے بڑے ہاسپٹل میں ایڈمشن لسٹ دیکھتا رہا۔ بارڈر انٹائرز (border entires) تک نکلوا لیا۔
" اکثر اس عمر کے بچوں کو غیر قانونی ایڈوپشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔"
ایک این جی او کے آفس میں اسے کہا گیا تھا۔ اس کا دل جیسے مٹھی میں آیا تھا۔
رات کو گھر آ کر وہ نور کا وہی گلابی جوتا ہاتھ میں لیے دیکھتا رہا۔
" میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا نور۔"
وہ اب راتوں کو بھی جاگنے لگا تھا۔ ایسے ہی تین مہینے گزر گئے۔ اسے پولیس اسٹیشن کی سیڑھیاں تک یاد ہو گئی تھیں۔ ریسپیشن پر بیٹھا کانسٹیبل اسے نام سے پہچاننے لگا تھا۔
" سر ابھی کوئی اپڈیٹ نہیں ہے۔"
یہ جملہ اس کے بولنے سے پہلے ہی سنا دیا جاتا۔
ایک دن اس نے کیس کی فائل دیکھی جب بہت سی دوسری فائلوں کے نیچے دبی تھی۔ جس کا ایک ہی مطلب تھا کہ سسٹم ہار مان چکا ہے۔
وہ صدف کے کمرے میں گیا۔ وارڈروب میں نور کا چھوٹا سا خوبصورت سویٹر ٹنگا تھا۔
" پولیس کچھ نہیں کر سکی۔"
اس نے دھیرے سے سویٹر کو چھوا۔
" سر! جن لوگوں کا نام آ رہا ہے ان تک سیدھا پہنچنا آسان نہیں ہے۔"
اس کے پرائیویٹ انویسٹیگیٹر نے کہا۔
ایک رات وہ پرانے گودام میں گیا۔ جہاں دو آدمی بندھے ہوئے تھے۔ جن کا نام اس انویسٹیگیٹر نے دیا تھا۔
" نور کہاں ہے؟"
ایک آدمی ہنس پڑا تھا۔
" بچیاں بہت مہنگی بکتی ہیں۔"
اس رات زین کے ہاتھوں پر خون لگا تھا۔ آنکھوں کی نرمی ختم ہو گئی تھی۔ اسے معلومات تو ملی تھیں لیکن ادھوری۔
اب وہ دن میں پولیس اسٹیشن جاتا اور راتوں میں شہر شہر لوگوں سے ملتا۔ اسمگلنگ روٹس، جعلی گود لینا، کرپٹ آفیسرز۔
وہ رک نہیں رہا تھا۔ اس نے پیسہ لگایا تھا۔ کانٹیکٹ بنائے تھے۔
" حقیقت اب یہی ہے کہ سروائیول کے چانس کم ہوتے جا رہے ہیں۔"
پولیس آفیسر نے کہا۔
زین خاموشی سے پولیس اسٹیشن سے نکل گیا۔ پانچ سال ایسے ہی گزر گئے۔ اب وہ پولیس اسٹیشن نہیں جاتا تھا۔ پولیس اس کا نام بھی نہیں لیتی تھی لیکن شہر کے اندھیرے راستوں میں ایک نیا نام چل رہا تھا۔
وہ آدمی جو پیسہ ایڈوانس لیتا ہے، کام پورا کرتا ہے اور سوال بھی نہیں کرتا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی تھی۔ وہ بس کام کرتا تھا۔ اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کا ہر کام ایک ہی سمت جا رہا تھا۔
Trafficking network, political protection.
اللیگل اڈاپشن کی چین۔
ہر دھاگہ کسی نہ کسی بڑے نام سے جا کر جڑ جاتا۔ ایک نام بار بار سامنے آ رہا تھا۔
سجاد درانی۔
ایک رات اس نے سجاد کا آدمی راستے سے صاف کر دیا۔ اگلے دن اسے ایک فارم ہاؤس میں بلایا گیا۔ سامنے لیدر کے صوفے پر سجاد درانی بیٹھا تھا۔ دو گارڈ اس کے دائیں بائیں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
" تو تم ہو زین۔"
وہ چپ رہا۔
" تمہارا ریکارڈ دیکھا ہے۔ ایفیشنٹ ہو۔ ذاتی جذبوں کا کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا۔"
" کام بتائیں۔"
زین کا لہجہ سیدھا تھا۔
سجاد کی مسکراہٹ بے اختیار گہری ہوئی تھی۔ اسے اس کے کام کا آدمی مل گیا تھا۔ سجاد ایک میٹھا اور اندر سے کرپٹ سیاست دان تھا۔
اور اس وقت زین کو سمجھ آیا۔ نور تک پہنچنے کے لیے سسٹم کے باہر نہیں بلکہ اسے سسٹم کے اندر گھسنا پڑے گا۔ اور سجاد اس سسٹم کا بڑا گیٹ تھا۔
" میں کام کرتا ہوں، سیاست نہیں۔"
زین نے کہا۔
" تمہیں سیاست کرنی بھی نہیں ہے۔"
زین کے ٹھنڈے، بے تاثر رہ کر کام کرنا بھی کبھی کبھی سجاد کو کھٹکا دیتا تھا۔
" تم اتنے ٹھنڈے کیوں رہتے ہو؟ کوئی ذاتی نقصان ہوا ہے کیا؟"
" سب کا ہوتا ہے۔"
سیدھا جواب۔
ایک رات وہ سجاد کے آفس گیا۔ سجاد فائلوں میں گھسا ہوا تھا۔ اس نے کچھ کانٹیکٹ زین کے سامنے میز پر رکھے۔
انسانی اسمگلنگ، حساس ادارے، بارڈرز لسٹس۔ اس نے ایک ہی نظر میں سب سمجھ لیا۔ ہر کمزوری، ہر راستہ۔
سجاد سوچ رہا تھا کہ یہ آدمی کام کے لیے پرفیکٹ ہے جبکہ زین سوچ رہا تھا یہ آدمی سسٹم کے اندر گھسنے کا ذریعہ ہے۔ جہاں سے وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔
اور اس وقت اس کے اندر کی انسانیت کہیں مر گئی تھی یا شاید اس نے اسے کہیں سلا دیا تھا۔
جاری ہے
Wow 😲😳 what a twist meri pass ab lafz ni tareef k liye shahyar ki maot ne sakoon diya but ab zain k liye dar lg ra hai i hope k ending happy ho wrna mera hal bura hunay wala hai i know or zain ka b past ta yh clue b sahi gya mera hats off to you munaza ❤️ keep going ❤️❤️❤️❤️❤️loads of love from your bestest fan
ReplyDelete