Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Ruthless killer Episode 17 & Last Episode by Munaza Niaz
Ruthless killer
Episode 17 by Munaza Niaz
Last Episode
دروازہ کھلا ہوا تھا۔ رات دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی مگر زین کو لگ رہا تھا وقت جیسے رک گیا ہے۔ وہ تیز قدموں سے اس کھلے دروازے سے اندر داخل ہوا۔
ہر طرف اندھیرا تھا۔ اس نے ڈرائنگ روم دیکھا پھر کمرہ۔ سب کچھ خالی۔ وہ کانپتے قدموں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ اوپر ایک کمرہ تھا، جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
کمرہ اندھیر تھا لیکن کھڑکی سے ہلکی روشنی فرش پر بے سدھ پڑی اس وجود پر گر رہی تھی۔ اس کی سرخ، سوجی ہوئی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔
" رر۔۔۔ روشنی۔"
اس کا جسم جیسے بے جان ہو گیا۔
روشنی کی آنکھیں بند تھیں۔ بال الجھے ہوئے۔ ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا۔ ہونٹ سوکھے اور نیلے۔ کپڑوں کی حالت خراب۔ وہ رکی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے قریب گیا۔
ہاتھ پہلی دفعہ کانپے تھے۔
" روشنی۔"
وہ جھکا۔ اس کا گال تھپتھپانے کے لیے ہاتھ بڑھایا پھر واپس کھینچ لیا۔
" روشنی آنکھیں کھولو۔"
وہ بے حس و حرکت پڑی رہی۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا۔ نبض محسوس کی۔ اس کا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے ہوا۔
" نن۔۔۔نہ۔۔۔"
آواز نہیں نکل سکی۔ اس نے تیزی سے اسے اپنے بازو پر سیدھا کیا۔ جسم دہک رہا تھا۔ گال ٹھنڈے یخ۔
" پلیز نہیں۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔"
اس نے نم آنکھوں سے اس کے چہرے پر چپکے بال پیچھے کیے۔
" سانس لو روشنی۔۔۔ اٹھو۔۔۔"
اس نے اس کا گال تھپتھپایا۔ پہلے ہلکا سا پھر زور سے۔ پھر وہ اپنا کان اس کے ہونٹوں کے قریب لے گیا۔
" کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔"
اگلے سیکنڈ اس نے اسے تیزی سے بانہوں میں اٹھایا۔ اسے لگا روشنی کی نہیں، اس کی خود کی سانسیں واپس لوٹی ہیں۔
اسے اٹھاتے اسے محسوس ہوا وہ کتنی ہلکی ہے۔ بے حد کمزور۔ جیسے کاغذ کا کوئی ٹکڑا ہو۔ گھر سے نکلتے اس کے دماغ میں اس دن کا منظر بار بار گھومنے لگا۔ تین گولیاں، اس کا بابا کہنا، اس کا فریاد کرنا۔
اس نے روشنی کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ بار بار اس کی نبض چیک کرتا رہا۔ جو کافی کمزور تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
" روشنی پلیز سانس لیتی رہو۔"
یہ الفاظ عادت کے بر خلاف نرمی سے نکل رہے تھے۔
کار سیدھا روڈ سے اتر کر ایک زیلی سڑک پر اتر گئی۔ وہ اسے اپنے بیسمنٹ لے آیا تھا۔ نیچے جانے کے بجائے وہ اسے اوپر ایک کمپاؤنڈ میں بنے کمرے میں لے گیا۔
اس کی شرٹ پر روشنی کا پسینہ اور وہ مہک لگ چکی تھی جس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ اندر آیا تھا، جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی۔ اندر آنے کے بعد وہ پٹی ہٹا دی گئی۔ وہ ایک پروفیشنل تھی۔ سوالوں سے زیادہ کام کرتی تھی۔
" ہائی فیور ہے۔ جسم شاک میں ہے۔"
وہ چیک کرتے ہوئے ایک دم رک گئی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدل گئے تھے۔ اس نے روشنی کے ہاتھوں اور کلائیوں پر سرخ نشان دیکھے۔ گردن پر دباؤ کے نشان تھے اور پھر اس کے کپڑوں کی حالت۔
" یہ صرف بخار نہیں ہے۔"
زین چپ رہا۔
" اسے فزیکل ٹراما ہوا ہے اور۔۔۔"
وہ مناسب الفاظ بولنے کے لیے رکی۔
" زبردستی ہوئی ہے۔۔۔"
اتنا سننا کافی تھا۔ زین کی گلٹی ابھری۔ مٹھیاں بند ہو گئیں۔ انگلیوں کی پوریں سفید ہو گئیں۔
" زندہ ہے، مضبوط لڑکی ہے لیکن جو کچھ ہوا اس کا اثر صرف جسم پر نہیں ہوا۔ میں آئی وی لگا دیتی ہوں۔ بخار کنٹرول کرنا ہوگا۔"
ڈاکٹر نے ڈرپ لگائی۔
زین چپ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
" اسے سیف فیل ہونا چاہیے، جب یہ ہوش میں آئے۔"
ڈاکٹر نے کام جاری رکھتے ہوئے کہا۔
" سیف۔"
وہ دھیرے سے بولا۔
" ہاں اور جو اس سب کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ ابھی تک زندہ ہے تو اسے بچنا نہیں چاہیے۔"
" نہیں بچے گا۔"
اس نے خود سے سرگوشی کی تھی۔
وہ ڈاکٹر تب تک آتی رہی جب تک روشنی کی حالت کچھ بہتر نہیں ہو گئی۔ وہی روشنی کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی رہی تھی۔
ایک رات وہ اس کے سامنے بیٹھا، اس کا ہاتھ نرمی سے تھامے اس کو دیکھتا رہا تھا۔ ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ وہ پہلے سے بہتر تھی مگر اس کا چہرہ ابھی بھی زرد تھا۔
" بابا۔۔۔۔"
اس کی کمزور دھیمی آواز زین کے کان میں پڑی۔
وہ کچھ پلوں کے لیے فریز ہو گیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ پلیکں تھرتھرائی تھیں۔
" روشنی۔۔۔"
اس نے دھیرے سے پکارا۔ دوسری طرف لمبی خاموشی کے بعد پھر آواز آئی۔
" بابا۔۔۔۔ مجھے یہاں۔۔۔ نہیں رہنا۔"
زین کے ہاتھ بری طرح کانپ گئے۔
" یہ دنیا بری ہے۔۔۔۔"
ہر لفظ کے ساتھ لمبی خاموشی چھا جاتی۔ زین کے سینے میں درد جاگ اٹھا تھا۔
" گندی ہے۔۔۔"
اس کی بھنویں سکڑی تھیں جیسے کسی سے شکایت کر رہی ہو۔
" مجھے۔۔۔ آپ کے پاس آنا ہے۔۔۔"
زین نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
" مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔۔"
ایک آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر کنپٹی تک پھسل گیا۔
" مجھے لے جاؤ بابا۔۔۔"
اس کا ہر لفظ زین کو اندر سے چیر رہا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس کو دیکھا۔
وہ دن، وہ گولیاں اور دو نیلی آنکھیں اسے پھر سے یاد آگئیں۔ اس نے اس کا بابا چھین لیا تھا اور آج وہ اسی کو بلا رہی تھی۔
ایک آنسو چپکے سے روشنی کے ہاتھ پر گرا۔ اس نے لب بھینچ کر چہرہ تیزی سے دوسری سمت کر لیا۔
" ڈر لگتا ہے۔"
خاموشی۔
" اندھیرا ہے۔"
خاموشی۔
" بابا۔۔۔"
اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہ بے ہوشی میں بھی رو رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس کی سانس دھیمی ہو گئی۔ پھر اور ہلکی۔ وہ واپس گہرے اندھیرے میں چلی گئی تھی۔
اور اس رات، زین نور کے بعد روشنی کے لیے پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔
•••••
گھر کے اندر گھٹن سی تھی۔ ٹی وی چل رہا تھا البتہ آواز بند تھی۔ بریکنگ بار اسکرین کے نیچے ایک فلیش بار بار چل رہی تھی۔ سجاد درانی کے لیے اریسٹ وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔
وہ صوفے پر سن، ساکت نظروں سے اسکرین کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا فون وائبریٹ ہوا۔ اس نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ فون بار بار بجتا رہا۔ وہ تیزی سے اٹھا۔
" ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ یہ سب کس نے کر دیا؟ ضرور کوئی میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔"
اس نے ہاتھ مار کر پیشانی پر چمکتا پسینہ صاف کیا۔
کچھ دیر گزری تھی کہ ڈور بیل بجی۔ اس کے قدم تھمے۔
" اس وقت کون ہے؟"
اچانک باہر پولیس کا سائرن سنائی دینے لگا۔ گھر کے باہر نیلی اور سرخ روشنی گھر کی کھڑکیوں پر گرنے لگی۔ سجاد کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔
" مسٹر سجاد درانی! پولیس۔۔۔ دروازہ کھولیے۔"
سجاد کھڑا رہا۔ اس نے دروازہ نہیں کھولا۔
" مسٹر سجاد دروازہ کھولیے ورنہ مجبوراً ہمیں توڑنا پڑے گا۔"
باہر کھڑا آفیسر وارننگ دینے لگا۔
" نہیں۔۔۔ میں جیل نہیں جاؤں گا۔"
وہ ایک قدم پیچھے ہوا۔
" Mister sajjad we have a warrant."
دروازہ اب دھڑدھڑایا جانے لگا تھا۔
سجاد نے تیزی سے دراز کھول کر گن نکالی۔
" میں جیل نہیں جاؤں گا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔ میں لوگوں کے سامنے گھسیٹا نہیں جاؤں گا۔۔۔ میں قیدی بن کر جی نہیں سکتا۔۔۔"
آخر میں وہ چیخا تھا۔ مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ برسوں سے اپنے ہی گناہوں کا قیدی تھا۔
دروازہ کریک ہوا۔ تین چار آفیسرز ایک ساتھ اندر گھسے لیکن ان سے پہلے سجاد نے گن کنپٹی پر رکھ کر ٹریگر دبا دیا تھا۔ اس کا جسم پورے قد سمیت سفید ماربل کے فرش پر آ گرا۔
خون ہر طرف پھیلتا جا رہا تھا۔ آفیسر نے گن نیچے کرتے اسے تیزی سے سیدھا کیا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آفیسر نے چیک کیا پھر مایوسی سے فون نکال کر ایک کال ملائی۔
" Sajjad Durrani found dead before arrest."
•••••
" سجاد درانی نے اریسٹ ہونے سے پہلے ہی خودکشی کر لی۔"
شیزل ٹی وی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے ہارون کو دیکھا جو ٹی وی پر دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر گہرا سکوت تھا۔
اس کے اندر کیا چل رہا تھا؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ شیزل نے سر جھٹکا پھر ٹی وی بند کر دیا۔
" تم نے لینز کیوں اتار دیے تھے؟"
ہارون نے چونک کر اس کو دیکھا۔
" اب ضرورت نہیں رہی اور تمہیں یہ دیکھنا بھی چاہیے تھا۔۔۔ سچائی۔۔۔ جیسی ہے ویسی۔"
وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
وہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
" میں کبھی تمہارے اور ردا کے بیچ میں نہیں آئی۔ وہ میری دوست تھی اور تمہاری دنیا۔"
وہ رکی
" ردا کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ وہ ہمیشہ میرے دل میں رہے گی۔"
" جانتی ہوں۔"
وہ پھیکا سا مسکرائی۔
" لیکن۔۔۔"
ہارون نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
" اب تم میرے سامنے ہو تو میں کانسنٹریٹ نہیں کر پا رہا۔"
شیزل بے اختیار مسکرائی تھی۔
" اچھا! مطلب میرا ایفیکٹ تم پر اتنا گہرا ہے۔"
ہارون بھی مسکرا دیا۔
" ہاں۔۔۔ شاید یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔"
" میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا اور آج بھی نہیں مانگ رہی۔ بس اتنا پوچھ رہی ہوں کہ تم دوبارہ جی سکتے ہو؟"
وہ اس کی نیلی اور سبز آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
" میں ردا کو بھول نہیں سکتا۔"
ہارون نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔
" میں یہ چاہ بھی نہیں رہی۔"
" مجھے وقت لگے گا۔"
" میں بھاگ نہیں رہی۔"
ہارون کچھ بول نہیں سکا۔
" میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ تم یاد رکھو۔ تمہاری یہ سبز اور نیلی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔"
شیزل کی مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک گئی تھی۔ ہارون بھی مسکرا دیا تھا۔
••••
" میں اس کی آنکھوں میں دیکھوں گی تو پہچان جاؤں گی۔"
وہ دھیرے سے اس کی طرف پلٹی۔ وہ وہیں کھڑا تھا۔
کون؟ زین؟ اکبر؟ اکبر یا زین؟
وہ ہنسی، پھر رک گئی۔ پھر سے ہنسی اور پھر سے رک گئی۔
" تم کون ہو؟ زین؟ اکبر؟"
زین چپ کھڑا رہا۔ روشنی نے اپنے خون آلود ہاتھ اپنے کپڑوں سے رگڑے۔
" زین اکبر میرا پورا نام ہے۔"
وہ رکی پھر ایک قدم پاس آئی۔
" تم نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا تم جانتے تھے کہ میں کس کو ڈھونڈ رہی تھی؟"
" ہاں۔"
" تم نے۔۔۔ تم نے گولیاں چلائی تھیں؟ وہ تم تھے؟"
وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ کیا بولے؟ کیا کرے؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
" آرڈر تھا۔"
وہ محض اتنا بولا تھا۔
" تم میرے ساتھ کیوں رہے؟ کیوں مجھے بچایا؟"
" کیونکہ تم مرنے کے لیے نہیں بنی۔"
" مگر میں تو اسی دن مر گئی تھی جب تم نے میرے بابا کو تین گولیاں ماری تھیں۔"
وہ گیلی آنکھوں سے ہنسی تھی۔
" اکبر۔۔۔"
اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر گرائے۔
" روشنی۔۔۔"
زین نے پکارا تبھی روشنی نے روک دیا۔
" مت پکارو مجھے۔ یہ نام تمہاری آواز میں اچھا نہیں لگ رہا۔"
وہ چپ ہو گیا پھر وہ پاس چلی آئی۔
" کیا تم جانتے تھے کہ جس پر تم نے گولی چلائی ہے وہ کون ہے؟"
زین نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف سوال تھا۔
" نہیں۔"
وہ رکا۔ وہ چپ رہی۔
" تیسری گولی کے بعد معلوم ہوا۔"
" کیسے؟"
" تمہیں دیکھنے کے بعد۔۔۔ تمہاری آنکھوں کو دیکھنے کے بعد۔۔۔ اس دن مجھے سمجھ آیا کہ میں نے کس کو مارا ہے۔"
" تم رک سکتے تھے۔"
" کبھی سیکھا ہی نہیں رکنا۔"
" اس لیے میرے ساتھ رہے؟"
" ہاں۔"
" تمہیں کب پتہ چلا کہ میں تمہاری دنیا ہوں؟"
اس کی آواز ہلکی تھی۔ سرگوشی جیسی۔
" جب میں نے تمہاری دنیا کو ختم کیا تھا۔"
" تم نے کبھی مجھے چھوا بھی نہیں۔"
" ہاتھ گندے تھے۔"
آنسو روشنی کے گالوں پر پھسلنے لگے۔
" اس وقت میں ایک آدمی تھا جو آرڈر فالو کرتا ہے۔ تیسری گولی کے بعد میں تمہارے بابا کا قاتل رہ گیا۔"
" تمہیں میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔ مر جانے دیا ہوتا۔۔۔ تم جانتے تھے نا کہ جب مجھے حقیقت معلوم ہوگی تو کیا ہوگا۔"
" ہاں۔۔۔ بس دور رہنے کی ہمت نہیں تھی۔ پاس رہ کر خود کو سزا دیتا رہا۔"
" تم مجھے روک سکتے تھے۔ مگر تم نے رکنا سکھایا کب؟"
وہ روتے ہوئے پھر سے ہنسی تھی۔
" آج بھی نہیں روکوں گا۔"
روشنی کے آنسو تھم سے گئے۔
" میں وہ ہوں جو تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے اور تم وہ ہو جو مجھ سے سب سے زیادہ نفرت کرتی ہے۔"
روشنی نے اس کی بیک میں پھنسی گن نکالی۔ زین نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے۔ اس کو روکا بھی نہیں۔
" کاش تم زین ہی رہتے۔۔۔ اکبر نہ بنتے۔"
" اکبر نہ بنتا تو تم آج یہاں کھڑی اپنا بدلہ پورا نہیں کر رہی ہوتیں۔"
روشنی نے گن اس کے سینے پر رکھ دی زین اور پاس ہو گیا۔ روشنی کی انگلی ٹریگر پر گئی۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، جہاں کوئی رحم نہیں تھا۔
" گولی دل پر چلانا۔ میں تمہیں آج بھی نہیں روکوں گا۔ اپنا بدلہ پورا کر لو۔"
گولی کی آواز فیکٹری میں گونج گئی۔ زین ہلکا سا لڑکھڑایا، پھر دوسری گولی چلی۔ وہ دو قدم پیچھے ہوا اور گھٹنوں کے بل گرا۔ وہ اس کے پاس آئی اور پھر سے گن اس کے سینے پر رکھ دی۔
زین نے چہرہ اٹھا کر اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر تیسری گولی چلی۔ اس کے جسم کو جھٹکا لگا۔ وہ دھیرے سے نیچے گر گیا۔ روشنی کا ہاتھ پہلو میں جھول گیا۔
فیکٹری میں سناٹا چھا گیا۔ الیکٹرک بورڈ ابھی بھی شارٹ کر رہا تھا۔ وہ ساکن چہرے کے ساتھ اس کے پاس گھٹنوں کی بل بیٹھی۔ زین کے جسم سے نکلنے والا خون بہتا گیا۔ اس کا جسم ساکت ہو چکا تھا۔
روشنی نے نہ جانے کس احساس کے تحت اس کی نبض محسوس کی، پھر سانس۔ دونوں رک چکے تھے۔ اسے یاد آیا۔ جب جب وہ اکیلی تھی، زین اس کے پاس تھا۔ جب جب وہ روئی تھی، ٹوٹی تھی، زین نے اسے سنبھالا تھا۔ اس نے کبھی اسے چھونے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اس نے کبھی اسے 'رک جاؤ، معاف کر دو' بھی نہیں کہا تھا۔ وہ اسے لفظوں سے نہیں عمل سے سکھاتا رہا تھا۔
اس نے پہلی بار بنا خوف کے زین کا زخموں سے بھرا چہرہ چھوا، پھر دھیرے سے اس کی آنکھیں بند کر دیں۔
" میں نے اپنے بدلہ لے لیا لیکن دیکھو، اپنی دنیا بھی ختم کر دی۔"
وہ اسے روتھ لیس بنا گیا تھا مگر وہی تھا جو اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آیا تھا۔
فیکٹری کا گیٹ بند ہوا۔ وہ ہاتھ میں گن پکڑے باہر نکل آئی۔ لمبا کوٹ خون سے بھرا تھا۔ چہرے اور ہاتھوں پر لگا خون سوکھنے لگا تھا۔ رات اندھیر تھی۔ جو دھیرے دھیرے اور گہری ہو رہی تھی۔ اس نے ایک آنسو بھی نہیں بہایا۔ اسے لگ رہا تھا اس نے اپنا بدلہ لے لیا ہے لیکن اندر کا خالی پن اور گہرا ہو گیا تھا۔
وہ چلتی رہی اور چلتی رہی۔ بنا رکے، بنا پلٹے۔
" ہاتھ آنے دو اسے۔۔۔"
وہ رکی۔ نظر سیدھا سامنے گئی۔ دور سنسان سڑک پر کوئی بھاگ رہا تھا۔ پیچھے چار آدمی تھے۔ وہ ایک لڑکی تھی۔ بکھرے بالوں اور ننگے پیروں سے بھاگتی ہوئی لڑکی۔ جو اسی کی طرف آ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف تھا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
وہ گرنے لگی تھی کہ روشنی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کو سنبھال لیا، ساتھ ہی اس نے گولیاں چلا دی تھیں۔ دو تو وہیں گر کر مر گئے جبکہ باقی دو واپس بھاگ گئے۔
" پلیز مجھے مت چھوڑیے۔۔۔ مجھے بچا لیں۔ "
وہ دبلی پتلی لڑکی اس کے سینے سے چمٹ چکی تھی۔ اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ روشنی نے گن زمین پر رکھی اور اس کی پیٹھ سہلائی۔
" کچھ نہیں ہوا۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔"
اس نے اس لڑکی کا چہرہ دیکھا۔ وہ سولہ سترہ سال کی تھی۔ چہرہ معصوم، صاف، خوبصورت۔
اس کی آنکھوں کے سامنے زین کا چہرہ آگیا۔ وہ ٹھہر سی گئی۔ اسے دیکھ کر وہ کیوں یاد آگیا تھا؟ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
" کون ہو تم؟ نام کیا ہے تمہارا؟"
اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ لڑکی نے ہچکی لی۔
" نور۔"
وہ رکی، پھر بولی۔
" نور زین۔"
روشنی فریز ہو گئی۔ سانس جیسے تھم گئی۔ اس نے دھیرے سے پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر ایک لاکٹ نکالا۔ وہی لاکٹ جو زین کے پاس تھا۔ جسے زین نے اسے دے دیا تھا۔ وہ کافی پرانا اور گھسا ہوا تھا۔
" اگر کبھی تمہیں میری نور ملے، تو اسے کہنا کہ کوئی تھا، جس نے اسے ہمیشہ یاد رکھا۔"
اس کی نظر اس لڑکی کی گردن میں جھولتے لاکٹ پر گئی۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا اس کے پاس تھا۔
" یہ لاکٹ۔۔۔"
نور نے تیزی سے لاکٹ مٹھی میں دبا لیا۔
" یہ میرا ہے۔ ہمیشہ سے میرے پاس تھا۔ ہمیشہ سے میرے پاس ہے۔"
اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا لاکٹ کھولا۔ اندر تصویر تھی۔ نور کی۔
" وہ مل جائے گی ایک دن۔ مجھے پورا یقین ہے۔"
زین کی آواز پھر سے سنائی دی۔
" تمہیں یاد ہے تمہیں یہ کس نے دیا تھا؟"
نور نے لاکٹ کو دیکھا پھر اس کو۔
" مجھے نہیں پتہ۔ بس مجھے یاد ہے کہ یہ ہمیشہ سے میرے پاس تھا۔"
اس نے کھول کر دکھایا۔ ایک طرف نور کی تصویر تھی اور دوسری طرف نام لکھا تھا۔ نوز زین۔
پندرہ سال کی تلاش۔ جو اب ختم ہوئی تھی۔ جسے زین ڈھونڈ رہا تھا وہ مل گئی تھی، اس رات جس رات وہ مر گیا تھا۔
روشنی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
" تمہیں یاد ہے تمہیں کس نے اٹھایا تھا؟"
نور نے نفی میں سر ہلایا۔ روشنی نے اپنے ہاتھ میں پکڑا لاکٹ اس کو دکھایا۔
" یہ میں ہوں۔"
تصویر دیکھتے ہی وہ بول اٹھی تھی۔
" وہ مجھے ڈھونڈتے ہوں گے نا؟"
روشنی کو لگا اس کا دل پھٹ گیا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔ وہ پورا سچ بھی نہیں بتا سکتی تھی۔
" بہت۔۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔"
اس نے نور کے ٹھنڈے ہاتھ تھامے اور اسے سینے سے لگایا۔ اگلے پل وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
وہ اتنا رو رہی تھی کہ نور بھی ڈر گئی تھی۔
" آپ رو کیوں رہی ہیں؟"
نور نے پریشانی سے پوچھا۔
" دیر ہو گئی نور۔۔۔۔ دیر ہو گئی۔"
وہ روتی جا رہی تھی۔
" دیر ہو گئی؟"
نور دھیرے سے بولی۔
روشنی نے چہرہ صاف کیا اور اس کا ہاتھ تھاما۔
" مجھے بتاؤ تم کہاں سے آئی ہو؟"
دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔ روشنی نے اپنی گن واپس پاکٹ میں ڈال دی۔ وہ گن زین کی تھی۔
" ان لوگوں نے میرے بابا کو مار دیا۔"
روشنی کو لگا اس کا دل رک گیا ہے۔
" میرے بابا نے مجھے اڈاپٹ کیا تھا۔ وہ بہت اچھے انسان تھے۔ میں اس طرف ایک گاؤں میں رہتی ہوں۔"
وہ اسے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتا رہی تھی۔ روشنی نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا۔
" تم پریشان مت ہو۔ تم اب اکیلی نہیں ہو۔ میں ہوں تمہارے ساتھ۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ میں ایک اکبر سے ملی ہوں مگر تمہیں نہیں ملنے دوں گی۔"
وہ دور کہیں دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
نور سمجھی تھی یا نہیں؟ بس چپ اس کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔
" آپ کون ہیں؟ آپ کا کیا نام ہے؟"
وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔
روشنی نے بھیگی پلکوں سے اس کو دیکھا پھر دور افق کو۔ نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ جہاں ایک روشنی تھی اور ایک نور۔
ختم شد
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Main wqy main ro ri hon akbar k liye? Ni zain k liye? 🥺Roshni ne acha ni kiya mar dena hi zaroori ni ta itna pathar dil bana diya apne use wo roi b ni i hate her i hate her i wish k mar jatti wo b 😡🤬 main khbi fictional characters pe ni raoi but is dfa I can't help myself 😭😭😭😭😭😭😭😭😭 🥺
ReplyDelete