Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Atish e Meher Episode 3 by Munaza Niaz - Cousin base - comedy - rude hero
ناول: آتشِ مہر
از قلم: منزہ نیاز
قسط نمبر: 3
"نہیں امی، ہرگز نہیں! میں اُس بےوقوف لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کروں گا!"
تہمینہ بیگم کی بات پر وہ یکدم آپے سے باہر ہو گیا تھا۔ مشعل اور علی نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا، جبکہ تہمینہ بیگم کو شدید تاو آیا۔
"اچھا؟ تو پھر کس سے کرنی ہے شادی؟"
انہوں نے تحمل سے سوال کیا۔
"ایسی کوئی بات نہیں، امی! بس، فلحال میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔ اور جب بھی ہوگا، تو مہر۔۔۔ وہ ہرگز نہیں ہوگی۔"
مہر کا نام لیتے ہوئے اس کا لہجہ کڑوا ہو گیا۔
"کیوں؟ مہر میں ایسی کون سی خرابی ہے؟ خوبصورت ہے، پڑھی لکھی ہے، پڑھائی بھی مکمل ہو چکی ہے۔"
انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔
"امی، آپ کو معلوم ہے وہ کیسی ہے۔ خود ہی سوچیں، میں کیسے جھیلوں گا اُسے؟ وہ پھوہڑ لڑکی، جسے کچھ آتا جاتا نہیں، اور اوپر سے اس کی دو گز کی زبان؟ نہیں امی، نہیں!"
وہ بڑبڑاتا جا رہا تھا۔
"تم اپنی بات کرو، اور خبردار جو میری بچی کو الٹا سیدھا بولا! کان کھینچ لوں گی تمہارے!"
وہ اس کے پاس صوفے پر آ کر بیٹھیں۔ آتش نے بےبسی سے گردن موڑ کر انہیں دیکھا، جو اسے سولی پر چڑھانے کا بندوبست کر کے بیٹھی تھیں۔
"امی، میں اُسے پسند نہیں کرتا۔ نہ ہماری کوئی انڈرسٹینڈنگ ہے، اور نہ ہی اس کا مزاج۔۔۔۔"
"بس!"
انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔
"میں نے یہ نہیں پوچھا کہ تم اُسے پسند کرتے ہو یا نہیں۔ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ تمہاری اور مشعل کی شادی ایک ساتھ کر دی جائے۔ ویسے بھی، میری بچی اتنی پیاری ہے، تمہیں خود ہی اس سے محبت ہو جائے گی۔"
انہوں نے نرمی سے کہتے ہوئے دوسرا بم گرایا۔ وہ ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگا جبکہ مشعل کی ہنسی چھوٹ گئی۔
"پلیز امی، یہ ظلم مت کریں!"
وہ ملتجی ہوا۔
"امی، اگر بھائی یہ شادی نہیں کرنا چاہتے تو میری کروا دیں۔ آپ کو پتا ہے، میں آپ کا کتنا فرمابردار بیٹا ہوں۔ کبھی انکار نہیں کیا۔ کیا ہوا جو مہر آپی مجھ سے پانچ سال بڑی ہیں۔۔۔ جب وہ ماریں گی تو دکھ بھی نہیں ہوگا کہ چلو بڑی ہے خیر ہے۔"
علی کی بات پر آتش نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا، جبکہ تہمینہ بیگم نے ڈانٹ دیا۔
"زبان بند کرو اپنی، ورنہ تھپڑ ماروں گی!"
"ہاں تو آپ بھی کس پتھر سے سر مار رہی ہیں؟ دیکھا نہیں بھائی کس طرح مہر آپی کو گھورتے رہتے ہیں؟ اور وہ بیچاری ہمیشہ ان سے ڈرتی رہتی ہے! اگر ان کی شادی ہو گئی نا تو آپی واقعی اللہ کو پیاری ہو جائیں گی۔"
اس سے پہلے کہ وہ جوتا اٹھاتیں، علی تیزی سے بھاگ گیا۔
"کیا تم اپنی ماں کی یہ ایک خواہش پوری نہیں کر سکتے؟"
انہوں نے بےبسی سے پوچھا۔
"امی، آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔ لیکن۔۔۔۔ یہ والی خواہش؟ سوری، میں پوری نہیں کر سکتا۔ مشعل، تم ہی سمجھاؤ امی کو۔"
وہ مشعل کی طرف مڑا، جو مسکراہٹ دبائے منظر کا مزہ لے رہی تھی۔
"امی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ دیکھیں نا، جب میں یہاں سے رخصت ہو جاؤں گی، تو پورے گھر میں سناٹا چھا جائے گا۔ علی یونیورسٹی، آپ آفس۔۔۔۔ امی اکیلی ہو جائیں گی۔ اور مہر تو ہے ہی بہت اچھی، گھر کو رونق لگا دے گی۔"
آخر میں اس کا لہجہ شرارتی تھا۔ آتش کو چکر آنے لگے تھے۔ بس یہی رونق ہی تو نہیں چاہیے تھی اسے!
"امی، اُسے کچھ نہیں آتا۔۔۔ نہ گھر کے کام، نہ کچھ اور۔۔۔"
وہ کہنا چاہتا تھا کہ اُسے شور شرابے سے چِڑ ہے، ارے نہیں، نفرت ہے! مگر تہمینہ بیگم نے اس کی بات کاٹ دی۔
"تو تمہیں بیوی نہیں، نوکرانی چاہیے؟ ٹھیک ہے، میں کسی میڈ کا رشتہ دیکھ لیتی ہوں!"
مشعل کی ہنسی بےساختہ تھی، اور وہ چپ رہ گیا۔
"امی، پلیز میری بات۔۔۔"
وہ پھر سے کچھ کہنا چاہتا تھا، جب وہ غصے سے بولیں۔
"بس بہت ہو گیا آتش! بہت سن لی تمہاری باتیں۔ ٹھیک ہے، اگر تم مہر سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو میں طیبہ کو منع کر دیتی ہوں کہ مشعل کی شادی زریاب سے نہیں ہو سکتی!"
مشعل کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ آتش نے بےیقینی سے انہیں دیکھا۔ اتنی سخت بات؟ تہمینہ بیگم بظاہر پرسکون تھیں، مگر اندر خوف زدہ۔ اگر آتش نے واقعی انکار کر دیا تو؟ وہ ماں تھیں، مشعل کے دل کی بات جانتی تھیں۔ جانتی تھیں کہ مشعل کے دل میں زریاب کے لیے کیا ہے۔
اور آتش سوچ رہا تھا، کیا وہ واقعی اتنا خودغرض ہے کہ اپنی بہن کی خوشیوں کو اپنی ضد میں جلا دے؟ امی نے کیا جال بچھایا تھا۔ نہ وہ اس جال سے نکل سکتا تھا، نہ اس میں چین سے رہ سکتا تھا۔
اس نے مشعل کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ سفید تھا، دھواں دھواں۔ آتش کے دل کو کچھ ہوا۔
"آپ غلط کر رہی ہیں مشعل کے ساتھ۔ اس کا کیا قصور ہے؟"
اب کی بار اس کا لہجہ بےبسی سے بھرا ہوا تھا۔
"میں اس کی ماں ہوں، اور اس کے لیے جو بہتر ہوگا، وہی فیصلہ کروں گی۔ وہ تمہاری طرح نہیں، جو ماں سے بحث کرے!"
یہ آخری وار تھا۔ آتش نے مشعل کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ تیزی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔ دل تو کر رہا تھا کہ کوئی لحاظ کیے بغیر اسے ایک تھپڑ مار دیں۔ کتنا ڈھیٹ تھا وہ۔
"ٹھیک ہے، جیسے آپ کی مرضی۔ جو کرنا ہے، کر لیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
آہستگی سے کہتا وہ اٹھا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
تہمینہ بیگم نے حیرت سے اس کی پشت کو دیکھا، پھر اونچی آواز میں مشعل کو پکارا۔ آخر اسے خوشخبری سنانی تھی!
"ایک تو یہ مشعل کی بچی ماں کے اشارے بھی نہیں سمجھتی! خود ہی کہہ رہی تھی کہ یہ سب اسے منانے کے لیے کر رہی ہوں، مگر نہیں، اسے کہاں سمجھ آتی ہے۔ اچھا ہے، آج ہی رضا صاحب اور طیبہ سے جا کر بات کر لیتی ہوں۔"
خوشی سے نحال، وہ مشعل کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں
☆☆☆
"مجھے ساجن کے گھر جانا ہے،
مجھے ساجن کے گھر جانا ہے!"
سر میں گاتی لڑکیاں ایک ساتھ مہر کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ مشعل کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ عینی نے خوشی سے ایک رس گلا نکالا اور حیرت سے بیٹھی مہر کے منہ میں ٹھونس دیا۔
"بہت بہت مبارک ہو مہر آپی!"
ایمل نے اسے گلے لگایا۔ بمشکل مٹھائی نگلتے ہوئے مہر نے ایمل کو پیچھے کیا۔
"کیا ہو گیا ہے تم سب کو؟ پاگل ہو گئی ہو کیا؟"
وہ حیران تھی، جبکہ سب بیڈ پر اس کے ارد گرد بیٹھ چکی تھیں۔
"تمہارا رشتہ پکا ہو گیا ہے!"
عینی نے سرپرائز دینے کے انداز میں کہا۔
"ہیں؟ سچی؟ کس کے ساتھ؟"
مہر پہلے حیران ہوئی پھر تھوڑا سا شرما کر بولی۔
"آتش بھائی کے ساتھ!"
مشعل نے اب کی بار سچ میں دھماکہ کر دیا۔
"آ۔۔۔آ۔۔۔آتش؟"
مہر نے ہکلا کر مشعل کو دیکھا، جس کے چہرے سے خوشی چھلک رہی تھی۔
"ہاں، آتش بھائی کے ساتھ! اسی لیے تو ہم یہاں آئے ہیں۔ خالہ نے امی کو کہہ دیا ہے کہ تمہاری اور میری شادی ایک ساتھ ہو گی۔ کیا تم خوش نہیں ہو؟"
مشعل نے اس کے چہرے کی اڑتی ہوائیاں دیکھ کر پوچھا۔
"نہیں۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔"
پھر خود کو سنبھالتے ہوئے وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔
"کیا آتش مان گیا ہے؟"
مہر کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ وہ جانتی تھی آتش کی نظر میں وہ کبھی خاص نہیں رہی۔ وہ تو اسے برداشت تک نہیں کر سکتا تھا۔
"ہاں، بھائی تو پہلے نہیں مان رہے تھے، لیکن امی نے سمجھایا تو مان گئے۔"
مشعل نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ وہ جانتی تھی آتش کیسے مانا تھا، مگر وہ تفصیل فلحال کسی سے شئیر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر اُس نے مہر کے ہاتھ تھام لیے۔
"تم خوش ہو نا، مہر؟"
اگر ابھی وہ انکار کر دیتی، تو مشعل خود خالہ اور امی سے بات کرتی۔ اسے مہر عزیز تھی۔ مہر کچھ لمحے خاموش رہی، پھر مسکرا کر اپنے ہاتھ چھڑا لیے۔
"دیکھا! مجھے پتہ تھا تم بھی بھائی سے محبت کرتی ہو!"
مشعل کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی۔
"واقعی مہر؟ تم اس سڑو سے محبت کرتی ہو؟"
عینی نے حیرت سے پوچھا۔
"نن...نہیں!"
مہر گھبرا کر بولی، لیکن عینی نے فوراً بات پکڑ لی۔
"سچ سچ بتاؤ، کب سے چکر چل رہا ہے؟"
"ایسی کوئی بات نہیں عینی، تم غلط سمجھ رہی ہو!"
مہر کو وضاحت دینی پڑی۔ سب کی نظریں؟ اف مہر کہاں پھنس گئی!
"مشعل بی بی، نیچے باجی بیگم مہر بی بی کو بلانے کا کہہ رہی ہیں!"
میڈ نے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہا۔
"ٹھیک ہے، ہم آ رہے ہیں، آپ جائیں!"
مشعل نے جواب دیا اور شرارت سے مہر کو دیکھا۔
"اٹھو اور ہمارے ساتھ چلو!"
"لیکن..."
مہر نے کچھ کہنا چاہا۔
"کوئی لیکن ویکن نہیں! آج تو امی شادی کی تاریخ لے کر ہی جائیں گی!"
مہر نے سفید چہرے، دھڑکتے دل اور پریشان آنکھوں کے ساتھ سب کو دیکھا۔
"کیا ہو گیا یار، ہم تو مذاق کر رہی تھیں!"
عینی نے اسے گلے لگایا اور گال پر پیار کیا۔
"چلو اب مسکرا دو، ورنہ سب یہی سمجھیں گے کہ تم سے زبردستی کی جا رہی ہے!"
مہر آہستہ سے مسکرائی، دوپٹہ سر پر لیا اور وہ سب کے گھیرے میں لاؤنج میں آ گئیں۔
مشعل نے مہر کو لے جا کر تہمینہ بیگم کے ساتھ بٹھا دیا۔ وہ کچھ کہہ رہی تھیں، کیا کہہ رہی تھیں، مہر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اچانک ایک انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنائی گئی۔ اس کی نظریں انگوٹھی سے ہوتے ہوئے سامنے بیٹھے آتش پر جا پڑیں۔ وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
رضا صاحب اور تہمینہ خالہ آپس میں بات کر رہے تھے۔ تہمینہ خالہ نے اس کا سر چوما، اور اپنے ساتھ لگا لیا۔ مہر نے امی کو دیکھا، جو نم آنکھوں کے ساتھ خوشی سے نہال تھیں۔ شاید انہیں امید نہیں تھی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
مٹھائی بھی کھلائی گئی، مبارکبادیں بھی دی گئیں، انگوٹھی بھی پہنائی گئی، اور تاریخ بھی پکی ہو گئی۔
نایاب پھوپھو بھی موجود تھیں اور کافی خوش نظر آ رہی تھیں۔ مہر کی نظر ایک بار پھر آتش پر گئی۔ کیا واقعی وہ اس سے شادی کرنے جا رہا ہے؟ اس کی گہری بھوری آنکھوں میں دیکھ کر اسے لگا جیسے سانس ہی رک گئی ہو۔
وہ گھبرا کر اٹھی، اور گرتے پڑتے اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ دروازہ بند کرنے ہی والی تھی کہ کسی نے دھکا دے کر دروازہ کھول دیا۔
وہ چاروں لڑکیاں کمر پر ہاتھ رکھے اُسے گھور رہی تھیں۔ مہر کی سانس پھولی ہوئی تھی، وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ چہرہ سرخ، گال گلابی۔ اُس نے نظریں اٹھا کر سب کو دیکھا اور بری طرح شرما گئی۔
"ہائے اللہ! شکل دیکھو، کیسے لال ٹماٹر ہو رہی ہے!"
سب اس پر ہنسنے لگیں، اس سے لپٹ گئیں، اور ان کی جھرنوں جیسی ہنسی پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
☆☆☆
مشعل نے نیند میں ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بنا دیکھے ہی ریسیو کر لیا
" اتنی رات کو کس نے ڈسٹرب کر دیا یار؟"
دوسری طرف ہلکی سی ہنسی سنائی دی
" تمہاری نیند ڈسٹرب کرنے والا تمہارا ہونے والا شوہر ہے"
مشعل نے آنکھیں کھولیں اور حیران ہو کر اٹھی بیٹھی
"زریاب تمہیں پتہ ہے رات کے دو بج رہے ہیں"
"ہاں! اسی لیے تو کال کی، تمہیں یاد دلانے کے لیے کہ اب تم سے بنا بات کیے نیند نہیں آئے گی"
ذریاب نے شرارت سے کہا۔
" شادی سے پہلے ہی اتنی عادت ڈالنے لگے ہو"
مشعل نے تانا مارا
"عادت نہیں حق"
ذریاب نے اسی کی ٹون میں کہا
"اگر تم نے مجھے ابھی سونے نہیں دیا تو شادی سے پہلے ہی تمہاری شکایت کردوں گی"
مشعل نے تکیے پر سر ٹکایا اور آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی
"شکایت؟ کس سے ؟تمہاری امی سے ؟ وہ تو مجھے تم سے بھی زیادہ پسند کرتی ہیں"
ذریاب نے مسکرا کر کہا
"ہاں مجھے لگتا ہے شادی کے بعد میں آؤٹ سائیڈ ہو جاؤں گی"
مشعل نے آنکھیں گھمائیں
" میں صرف تمہارا ہوں اور تم صرف میری تم آؤٹ سائیڈ کیسے ہو سکتی ہو "
زریاب نے دھیرے سے کہا
"تمہاری باتیں کافی خطرناک ہیں"
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی جسے چھپانے کے لیے اس نے کہا
"اور تم ان کے بنا رہ نہیں سکو گی"
ذریاب نے شیطانی لہجے میں کہا
" تم بہت تیز ہو رہے ہو زریاب"
مشعل نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا اور چاند کو دیکھتے ہوئے بولی
"اور تم بہت کیوٹ ہو MRS مشعل زریاب "
"ایکسکیوز می مسز مشل زریاب بننے میں ابھی ٹائم ہے"
" میرے لیے تو تم پہلے دن سے ہی میری ہو"
ذریاب نے آرام سے کہا مشعل کا دل ایک پل کے لیے تیز دھڑکا پھر اس نے بات پلٹنے کے لیے کہا
" تم نے مجھے صرف اس لیے جگایا"
" نہیں میں صرف چیک کر رہا تھا کہ تم مجھے مس کرتی ہو یا نہیں "
مشعل کی آنکھیں چھوٹی ہوئیں
" میں سو رہی تھی مس کرنے کا ٹائم بھی نہیں ملا "
"شادی کے بعد دیکھنا ، تم بنا بات کیے نیند بھی نہیں لو گی"
مشعل نے جلدی سے فون کا اسپیکر آف کیا پھر اپنے دہکتے ہوئے گالوں پر ہاتھ رکھے
"اب سو جاؤ ورنہ کل تمہاری آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز ہوں گے "
اسپیکر ان کرنے کے بعد اس نے نارمل لہجے میں کہا
"تمہیں تو تب بھی میں ہینڈسم ہی لگوں گا"
"بہت اوور کانفیڈنس نہیں ہے تم میں؟"
مشعل نے آنکھیں گھمائیں
" اچھا چھوڑو میں دراصل رشتہ پکا ہونے کی مبارک باد دینے کے لیے کال کر رہا تھا "
ذریاب نے یاد آنے پر کہا۔
" مبارک باد؟ مطلب تمہیں اب یاد آیا؟ "
مشعل نے حیران ہو کر کہا
"ہاں سوچا سپیشل طریقے سے ہی دینی چاہیے صبح سب کے سامنے تو نہیں دے سکتا تھا نا"
اس نے آرام سے کہا
"تو کیا اسپیشل طریقہ صرف مجھے نیند سے جگانا تھا؟ "
مشعل نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
"اف کورس! کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میری ہونے والی بیوی سب سے پہلے مجھے یاد کرے"
" تم عجیب ہو ذریاب"
وہ ہنس دی
"اور تم میری عجیب بیوی بننے والی ہو"
ذریاب نے گہری مگر ہلکی آواز میں کہا مشعل نے ہنستے ہوئے فون رکھ دیا لیکن اس کا دل اب تک ذریاب کی باتوں میں الجھا ہوا تھا دوسری طرف ذریاب نے مزہ لیتے ہوئے آنکھیں بند کیں اور مسکرا دیا
اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں آتش اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اس کے چہرے پر غم اور پریشانی چھائی ہوئی تھی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا یہ کیا کر دیا میں نے مجھے اتنی جلدی اس سے شادی کے لیے ہاں نہیں کرنی چاہیے تھی اس کا دماغ تیز تیز چلنے لگا آخر وہ ایسا کیا کرے کہ یہ شادی رک جائے یک دم اس کا دماغ روشن ہوا ہاں اگر مہر خود اس شادی سے منع کر دے تو بات بن سکتی ہے اگر میں امی کو ہاں کرنے سے پہلے مہر سے بات کر لیتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی مجھے پورا یقین ہے مہر بھی کافی پریشان ہو رہی ہوگی ظاہر سی بات ہے مجھ سے شادی کر کے وہ کیوں بھری جوانی میں مرنا چاہے گی اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی
بے وقوف لڑکی۔ دل ہی دل میں اسے کہا جانے والا القاب پھر سے کہا اب مجھے جلد از جلد مہر سے بات کرنی چاہیے میری نہ سہی اس کی بات تو ہر کوئی سن سکتا ہے مجھے لگتا ہے شاید وہ میرا ہی انتظار کر رہی ہوگی کہ میں ہی کچھ کر سکتا ہوں اب اس بے وقوف لڑکی کو کیا پتہ کہ صرف لڑکی ہی نہیں لڑکے کی بھی رضا کو اہمیت نہیں دی جا رہی یہاں پر وہ چل کر کھڑکی کے پاس گیا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی پرسکون سی، جیسے آدھی ٹینشن سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہو گنگناتے ہوئے اس نے شرٹ اتار کر وارڈ کے ساتھ لگے سٹینڈ پر لٹکائی پھر بیڈ پر آ کر نیم دراز ہو گیا بازو آنکھوں پر رکھے اس نے سکون سے آنکھیں بند کرلیں یہ جانے بغیر کی تقدیر اس کے منصوبے پر ہنسی تھی اور پھر یہی وہ لمحہ تھا جہاں مہر اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر لیٹے سے اٹھ بیٹھی اس کی آنکھوں میں دور دور تک نیند کا نام و نشان تک نہیں تھا وہ چل کر کھڑکی کے پاس گئی تھی اس کے ذہن میں صبح کے مناظر چل رہے تھے اس نے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو دیکھا پھر چل کر سنگھار میز کے سامنے جا کھڑی ہوئی اس کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی جس سے وہ خود بھی انجان تھی اس کے دماغ میں بس ایک ہی فقرہ گونج رہا تھا
"تم بھی بھائی سے محبت کرتی ہو؟"
کیا وہ اس سے محبت کرتا ہے؟ جو مشعل نے ایسی بات کہی تھی مگر کب سے؟ خود پر نظریں جمائے وہ سوچنے لگی ظاہر سی بات ہے مہر وہ تم سے محبت کرتا ہے اسی لیے تو مانا ہے ورنہ خالہ کیوں رشتہ لینے آتی برش رکھ کر اس نے اپنا ہاتھ آنکھوں کے سامنے کیا ہیرے کی انگوٹھی جگمگ کر رہی تھی انگوٹھی سے نظریں ہٹا کر اس نے دوبارہ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھا اور چونک گئی اس کے گال سرخ ہو رہے تھے اف مہر کیا ہو گیا ہے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا تمہارے ساتھ ابھی کیوں اس کو سوچ کر بلش کر رہی ہو
اس نے ہاتھ چہرے پر رکھ کر خود کو سنبھالا پھر بھاگ کر بستر میں گھس گئی کیونکہ اب کی بار اس کے رخسار نہیں وہ پوری ہی گلابی ہو گئی تھی
☆☆☆
شاپنگ مال کے کیفے ٹیریا میں خاصی گہما گہمی تھی۔ ایک ٹیبل پر وہ تینوں بیٹھے تھے۔ ویٹر ان کے سامنے کافی رکھ کر واپس چلا گیا۔ آتش نے لاپرواہی سے کافی کا مگ اٹھا لیا۔ امان نے پہلے اسے، پھر زریاب کو دیکھا جو کھڑکی کے پار دیکھ رہا تھا۔ اس کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی، وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر لگ رہا تھا۔
"او مجنوں کی اولاد، باہر آ جا اپنی دنیا سے!"
امان نے اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ لہرایا۔
"کیوں بے؟ تجھے کیا مسئلہ ہے مجھ سے؟"
زریاب نے پرسکون لہجے میں دوسرا مگ اٹھاتے ہوئے کہا۔
"مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ میں تو بس تیرے ہونے والے سالے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس کی قسمت پھوٹی بھی تو کہاں۔"
امان نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے ہنسی دبائی۔ آتش نے خونی نظروں سے اسے گھورا، جب کہ زریاب نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
"کیا مطلب؟ کہنا کیا چاہتے ہو؟"
"کچھ نہیں... وہ دیکھ، بھابھی آ رہی ہیں۔"
فی الحال وہ مہر کی برائی کر کے زریاب سے پٹنا نہیں چاہتا تھا۔ زریاب نے گردن اٹھا کر اس دشمنِ جاں کو دیکھا۔
"بھائی، مجھے آپ کا کریڈٹ کارڈ چاہیے،"
مشعل آتش سے مخاطب ہوئی۔
"جو تم گھر سے لائی تھی، وہ کہاں گیا؟"
آتش تھوڑا حیران ہوا۔
"وہ ختم ہو گیا۔"
مشعل نے لاپروائی سے جواب دیا۔ آتش نے سر جھٹک کر اپنا کریڈٹ کارڈ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
"اتنی شاپنگ؟"
امان بولے بغیر نہ رہ سکا۔
"یہ لے، تو بھی جا کر کچھ خرید لے۔"
زریاب نے اپنا کریڈٹ کارڈ نکال کر امان کی طرف بڑھایا،
"میری طرف سے تحفہ سمجھ لینا۔"
امان نے کارڈ پکڑنا چاہا، تبھی زریاب نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا۔
"نہ بیٹا، تو مجھے اپنے جیسا گدھا سمجھتا ہے؟ یا بے وقوف؟ جو تجھے یہ دے دوں؟"
پھر ایک نظر آتش پر ڈالی جو ان کی طرف متوجہ ہی نہیں تھا۔
"میں نے ابھی شاپنگ کرنی ہے... اپنی شادی کی!"
آخری الفاظ پر زور دیتے ہوئے زریاب کھڑا ہوا، اور آنکھوں سے امان کو اشارہ کیا۔
"ٹھیک ہے، میں تیری مدد کر دیتا ہوں۔"
امان بھی کھڑا ہو گیا۔
"آ جا ہٹلر! مل کے شاپنگ کرتے ہیں۔"
آتش نے بغیر دیکھے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو۔
"تم دونوں دفع ہو جاؤ، مجھے نہیں جانا۔"
وہ دونوں کندھے اچکا کر تیزی سے نکل گئے۔ جب وہ چلے گئے، تو آتش سیدھا ہو کر بیٹھا۔ پھر چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ رش اب اور بھی زیادہ ہو چکا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھا اور کیفے سے باہر نکل آیا۔
مال میں پہنچ کر اس نے ہر طرف دیکھا۔ اوہ شکر، اس کا کوئی رشتہ دار وہاں موجود نہ تھا، سوائے "اس" کے۔ چہرے پر سخت تاثرات لیے وہ اس کی طرف بڑھا۔ ریک سے نیل پالش اٹھا کر مہر نے دیکھا، پھر دوسری۔
"عینی، یہ۔۔۔"
اس نے اپنے ساتھ کھڑی عینی سے کچھ پوچھنا چاہا، مگر وہ تو وہاں تھی ہی نہیں۔
"یہ کہاں چلی گئی؟"
حیرت سے کہتے ہوئے اس نے دائیں طرف دیکھا، اور وہیں اس کی روح فنا ہو گئی۔ آتش سپاٹ چہرہ لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔
"مہر، میری بات سنو،"
آنکھوں میں برہمی لیے اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ مہر نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
"جی، بولیے؟"
آتش نے گہری سانس لی، پھر بھاری آواز میں، سرگوشی کے انداز میں بولا۔
"گھر جا کر سب کو کہو کہ تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتیں۔ سمجھیں؟"
رک کر اس نے مہر کی پھٹی ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔ وہ حیرت اور بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
"کیا مطلب ہے اس بات کا؟ آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟"
اب کے لہجے میں کپکپاہٹ تھی۔ آتش نے اپنا ماتھا مسلا، پھر دوبارہ انگلی اٹھا کر اسے گویا یاد دہانی کروائی۔
"مجھے تم میں اتنی سی بھی دلچسپی نہیں ہے۔"
اس نے انگشت شہادت اور انگوٹھے سے ایک ننھا سا خلا بنا کر دکھایا
"اور نہ ہی میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو حیران ہوں کہ تم نے میرے لیے ہاں کیسے کر دی، حالانکہ تم جانتی ہو کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔"
"میں جاننا چاہتی ہوں، کیوں؟"
مہر نے بازو باندھ لیے، چہرے پر برہمی تھی۔
"آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، آپ شادی نہیں کرنا چاہتے، اور آپ کو مجھ میں اتنی سی دلچسپی بھی نہیں۔"
اس نے اسی کے انداز میں انگلیوں سے خلا بنایا، پھر ایک قدم آگے آئی۔
"سب کچھ آپ ہی تو کر رہے تھے، پھر انکار کیوں نہیں کیا؟"
آتش نے غصے سے اسے گھورا۔
"تمہیں کیا لگتا ہے میں نے انکار نہیں کیا تھا؟ پہلی فرصت میں ہی منع کر دیا تھا، مگر امی نے کہا کہ اگر میں تم سے شادی نہیں کرتا، تو وہ مشعل کی شادی ذریاب سے نہیں ہونے دیں گی۔ میں نے لاکھ سمجھایا، مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔ اسی لیے اب تم جا کر انکار کرو گی، اور آج ہی کرو گی۔"
مہر نے گہری سانس لی، خود کو سنبھالا۔
"میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔ مسئلہ آپ کو ہے، تو خود انکار کریں۔ میں کیوں بری بنوں؟"
آتش نے درشتی سے اس کی کہنی پکڑی، وہ بوکھلا گئی۔
"پچھتاؤ گی، مہر، مجھ سے شادی کر کے بہت پچھتاؤ گی!"
جھٹکے سے اس کی کہنی چھوڑ کر قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ مہر کی آنکھوں میں نمی
جھلکنے لگی۔
"تمہاری زندگی عذاب بنا دوں گا۔ اب بھی وقت ہے، فیصلہ بدل لو، ورنہ تم جانتی ہو اس شادی کا نتیجہ کیا ہوگا۔"
زہر سے بھرپور لہجے میں وارن کر کے وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔
مہر نے جلدی سے آنسو صاف کیے۔ رات کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے، جب امی ابو نے رشتہ پکا ہونے کے بعد اسے بلایا تھا۔ امی ابو کے چہروں پر خوشی تھی، اعتماد تھا۔
"مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے رضا، کہ وہ مجھے اور میری بہن کو مایوس نہیں کرے گی۔"
طیبہ نے مہر کو گلے لگا کر کہا تھا، اور ساتھ بیٹھے رضا صاحب نے مسکرا کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔ مہر بھی مسکرا دی تھی۔
ہاں، وہ کیسے انکار کرتی جب سب بڑے خوش تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آتش اسے پسند نہیں کرتا لیکن وہ تو کرتی تھی نا۔ بس، یہی اس کے لیے کافی تھا۔
مگر اب؟ اب وہ کہہ گیا تھا کہ وہ اس سے نفرت کرتا ہے؟ لیکن کیوں؟ یہ وہ جاننا چاہتی تھی۔ اور تھوڑی دیر پہلے پوچھا بھی تھا۔ مگر شاید وہ سمجھ نہیں پایا۔
دور جاتے آتش کی پشت کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اس کی آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
جاری ہے
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment