Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Rukh e Jaan by Munaza Niaz episode 1 - romantic novel - Family base - forced marriage
رخِ جاں از منزہ نیاز
قسط نمبر 1
" میں نہ کہتی تھی یہ لڑکی کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلا رہی ہے۔ نکل گئی تیری لڑکی تیرے ہاتھ سے، مگر تو نے میری بات کا یقین نہیں کیا نا۔ بیٹی کی محبت نے تیری آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی تھی۔ اب بھگت یہ عذاب۔"
رامینہ خالہ کی زہر آلود آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔
جبکہ امینہ خالہ ایک صوفے پر براجمان شاہ مین کو دیکھ رہی تھیں جو میرب کو مارتی جا رہی تھیں۔ وہ رک نہیں رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں نم اور چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔
میرب کے تینوں بھائی اور بھابھیاں چپ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ اس کی بڑی بہن فضا وہ بھی ان تماشائیوں کی صف میں کھڑی تھی۔ شاہ مین نے میرب کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
" کیوں؟ آخر کیوں کیا تو نے ایسا؟ کیا کمی رہ گئی تھی میری تربیت میں؟ میں نے اس دن کے لیے تجھے پیدا کیا تھا کہ تو ہماری عزت مٹی میں ملا دے۔ کاش تو میری بیٹی نہ ہوتی کاش میں نے تجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔"
وہ غصے میں بول رہی تھیں مگر ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔
میرب نے دھندلی آنکھوں سے ان کو دیکھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ گال اور ہونٹ پھٹ چکے تھے۔ خون بہہ رہا تھا۔ اس کا وجود بالکل ڈھیلا ہو چکا تھا جیسے ابھی گر جائے گی۔
" بابا۔۔۔۔"
بس یہی ایک لفظ اس کے لبوں سے نکلا تھا۔ اس کے بعد وہ رو پڑی۔
شاہ مین نے اسے دھکا دیا وہ دور ہوتی گئی۔
" نکل جا میرے گھر سے۔ تیری یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جس کے ساتھ بھاگی تھی اسی کے پاس چلی جا۔ مر گئی تیری ماں ہمیشہ کے لیے۔"
اگلے پل ان کے قدم ڈگمگائے تھے۔ فضا نے بھاگ کر ان کو سنبھالا۔ باقی سب بھی ان کی طرف بڑھے تھے۔ ان کا بی پی لو ہو گیا تھا۔ سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔ ان کو سانس کا مسئلہ تھا۔
" امی۔۔۔"
میرب اپنا درد بھول کر ان کی طرف بڑھی، تبھی رامینہ خالہ نے اس کا بازو دبوچ کر پیچھے دھکیل دیا۔ ساتھ ہی ایک تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔
" سنا نہیں تو نے؟ چلی جا یہاں سے۔"
انہوں نے اسے پیچھے کی جانب دھکیلا۔
" نہیں خالہ پلیز رک جائیں۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔ میں کہاں جاؤں گی؟"
وہ حواس باختہ ہوئی تھی۔
" جہاں بھی جا لیکن یہاں سے نکل جا۔"
ابھی وہ پھر سے اس کو مارتیں فضا نے لپک کر میرب کو ان کی دسترس سے دور کر دیا۔
" بس کر دیں خالہ۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے بس کر دیں۔"
فضا اس کو پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
پیچھے شاہ مین کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ عباد نے فوراً گاڑی نکالی۔ رامینہ اور امینہ خالہ دونوں شاہ مین کو سہارا دے کر گاڑی میں بیٹھیں۔ وہ ان کو ہاسپٹل لے جا رہے تھے۔
••••••
شاہ مین کو فوراً آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔ ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ فضا نے نم آنکھوں سے فون کان سے ہٹایا پھر میرب کو دیکھا۔
" امی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔"
میرب گنگ بنی کھڑی رہی جیسے پتھر کا کوئی مجسمہ ہو۔ وہ ایک لفظ تک نہ بول سکی۔
" تمہاری وجہ سے۔۔۔۔ صرف تمہاری وجہ سے میرب، امی آج اس حال میں ہیں۔ ٹھیک کہتے ہیں سب۔ تم واقعی منحوس ہو۔ ایک عذاب ہو اس گھر کے لیے۔ تمہاری وجہ سے کیا کیا ہوتا آیا ہے۔ صرف ایک تمہاری وجہ سے پورا گھر مشکل میں پڑ گیا ہے اور تم کو ذرا بھی شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے۔"
فضا نے سارا غصہ اس پر نکالا۔ میرب بھڑک کر کھڑی ہوئی۔
" کیا کیا ہے میں نے؟ بولو! ہاں کیا دیکھا ہے تم نے؟ تم میری بہن ہو کر مجھ پر یقین نہیں کر رہی تو مجھے باقیوں سے کیا امید ہوگی۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ رامینہ خالہ اور وہ ان کا بیٹا جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بے گناہ ہوں۔"
آخر میں اس کی آواز بھرا گئی تھی۔ وہ بلک بلک کے رونے لگی۔ فضا چپ ہو گئی۔
" مجھے نہیں پتہ تھا کہ باپ جب مر جاتا ہے تو بیٹی کا محافظ بھی مر جاتا ہے۔ اگر بابا زندہ ہوتے نا تو میں ایک ایک کو دیکھ لیتی۔ سب کو دیکھ لیتی۔ اگر وہ آج مجھے اس حال میں دیکھ لیتے نا تو کسی کو نہیں چھوڑتے، دیکھ لیتے سب کو۔ مجھے اللہ سے شکوہ ہے انہوں نے کیوں میرے بابا مجھ سے چھین لیے۔ کیا ان کو نہیں پتہ تھا کہ میں ان کے بغیر اکیلی رہ جاؤں گی۔ میرا ان کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا۔ میری سگی ماں بھی میری نہیں ہے فضا۔۔۔۔ وہ صرف تم لوگوں کی ہے میری نہیں ہے۔"
وہ صرف انیس سال کی تھی۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی اور سب سے بدقسمت بھی۔
" ہاں صحیح کہا تم نے، تم اس لائق ہی نہیں ہو کہ امی تم سے پیار کریں۔ تم صرف نفرت کے قابل ہو میرب، صرف نفرت کے قابل۔"
اگلے سیکنڈ وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ میرب خالی دروازے کو دیکھتی رہ گئی تھی۔
••••••
شاہ مین کو اگلی شام تک ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اب وہ پہلے سے بہتر تھیں۔ وہ جب سے آئی تھیں مسلسل خاموش تھیں۔ میرب نے ان سے ملنے کی کئی بار کوشش کی مگر ہر بار اس کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ کوئی بھی اسے ان سے ملنے نہیں دے رہا تھا۔ الٹا اسے باتیں سنا کر کمرے میں بند کر دیا جاتا۔
" میں نے میرب کی شادی کرنی ہے رامینہ۔ میں اب اس کو اس گھر میں مزید برداشت نہیں کر سکتی۔"
شاہ مین کی چپ کچھ اس طرح ٹوٹی جیسے سب کچھ ختم ہو چکا ہو۔
" تم فکر مت کرو میری نظر میں بہت اچھا رشتہ ہے۔۔۔۔"
ابھی وہ مزید بولتیں کہ عباد نے ٹوک دیا۔
" اتنی بھی کیا جلدی امی میرب کی شادی کرنے کی۔ وہ صرف انیس سال کی ہے۔ ہاں اس سے غلطی ہوئی ہے مگر اس کا حل شادی کے علاوہ بھی نکل سکتا ہے۔ جلد بازی میں کوئی فیصلہ مت کریں۔"
امینہ خالہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا۔
" تم چپ رہو عباد! ہم ابھی زندہ ہیں فیصلہ کرنے کے لیے۔ تم ہمیں مت سکھاؤ کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ اور نہ ہی تم اس معاملے میں پڑو۔ تمہیں اپنی بہن کی پڑی ہے مگر تم یہ نہیں دیکھ رہے کہ وہ کیا کر چکی ہے۔"
" وہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیا کر چکی ہے۔ آپ بنا کسی ثبوت کے اس پر اس طرح الزام نہیں لگا سکتیں۔"
وہ غصے سے بولا تبھی رامینہ خالہ نے اپنا موبائل کھول کر اس کی طرف بڑھایا۔
" یہ رہا ثبوت۔ اب بھی پوچھنا چاہو گے کہ وہ کیا کر چکی ہے؟"
انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ آنکھوں میں واضح میرب کے لیے نفرت دکھائی دے رہی تھی۔
عباد نے سرخ چہرے کے ساتھ موبائل بند کر کے واپس ان کو تھما دیا پھر وہ اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ رامینہ خالہ نے نفرت سے سر جھٹک کر پھر سے شاہ مین کو دیکھا جو چہرہ جھکائے خاموش بیٹھی تھیں۔
" شاہ مین۔۔۔۔۔ میری بہن۔۔۔۔ میں جانتی ہوں جو کچھ تمہارے دل پر اس وقت بیت رہی ہے۔ میرب نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کاش ہم پہلے سمجھ جاتے۔"
وہ افسوس اور فکر مند لہجے میں بولیں۔
" تم بس جلد از جلد اس کا کچھ کرو۔ میں اس کو مزید اس گھر میں نہیں دیکھ سکتی۔"
رامینہ خالہ نے سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔ شیطانی مسکراہٹ لیے وہ اب ایک نمبر ڈائل کر رہی تھیں۔
••••••
" اٹھو اور میرے ساتھ چلو۔"
دروازہ دھڑام سے کھلا تھا۔ رامینہ خالہ تن فن کرتیں اس کے سر پر پہنچیں۔
" مگر کہاں؟"
میرب حیران ہوئی۔
" تمہارا بندوبست ہو چکا ہے۔ تم اب مزید یہاں نہیں رہنے والی۔"
انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے تقریباً کھینچا تھا۔
" خالہ میرا بازو چھوڑیں۔ مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔"
میرب تیزی سے پیچھے ہوئی۔
" نکاح ہونے والا ہے تمہارا۔ شرافت سے چلو، اگر کوئی تماشہ کھڑا کیا تو تمہارا بھائی تمہیں زندہ گاڑ دے گا۔"
وہ غرائیں۔
" کیا کہا؟ نکاح؟"
وہ بے یقینی سے بولی۔ اس نے غائب دماغی سے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے فضا چلی آ رہی تھی۔ اس نے خاموشی سے میرب کی کلائی پکڑی اور باہر کی جانب بڑھی۔
نیچے لاؤنچ میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ اس کا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا جو نیلوں اور زخموں سے بھرا تھا۔ وہ ایک لفظ تک نہ بول سکی۔ وہاں سب موجود تھے سوائے شاہ مین کے۔ وہ شاید نہیں آئی تھیں۔ وہ اکیلی ایک صوفے پر بت بنی بیٹھی تھی۔ کوئی بھی اس کے قریب نہیں آیا تھا۔
اس کا نکاح کس سے ہو رہا ہے وہ یہ تک نہیں جانتی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کا نکاح اختتام پذیر ہوا۔ ایک شخص اس کے سامنے آ کر ٹھہرا تھا۔ وہ ساکت پلکیں لیے اس کے سیاہ جوتوں میں مقید سفید پیروں کو دیکھے جا رہی تھی۔
اس شخص نے بنا کچھ کہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔ اس کی ہتھیلیاں بھیگ چکی تھیں۔ دل کی رفتار بہت مدھم ہو چکی تھی۔ وہ شخص بنا کچھ کہے اسے لیے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔
میرب کو جیسے ہوش آیا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا، شاہ مین کو تلاشنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں تھیں۔ اس انجان شخص کے ہمراہ وہ اس گھر کی دہلیز ہمیشہ کے لیے پار کر گئی۔
•••••
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ کتنا وقت بیتا؟ کتنی رات گزری؟ اس نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کار میں بس وہ دو ہی لوگ تھے۔ وہ شخص اس کے برابر بیٹھا مکمل سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ وہ کئی گھنٹوں سے سفر کر رہے تھے۔ راستہ تھا کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ میرب نے ایک مرتبہ بھی چہرہ اٹھا کر اس شخص کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی جو اس کا شوہر بن چکا تھا۔
وہ رو بھی نہیں رہی تھی۔ اس کے چہرے پر صرف سناٹا تھا۔ چہرہ کھڑکی کی طرف کیے وہ بے حس و حرکت بیٹھی تھی۔ پورا روڈ خالی تھا۔ قسمت سے کوئی گاڑی گزرتی ورنہ ہر طرف خاموشی اور اندھیرا تھا۔
میرب کا ہاتھ ہلکا سا سرکا اور دروازے کے ہینڈل پر جا رکا۔ اس نے اپنا چہرہ مزید کھڑکی میں دے دیا۔ جیسے ہی اس نے ہینڈل گھمایا دروازہ لاک رہا۔ اس نے پھر گھمایا مگر بند۔
" جو کچھ آپ سوچ رہی ہیں وہ ناممکن ہے۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کبھی خود کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔"
اس نے تیزی سے گردن گھمائی۔
وہ ابھی بھی سامنے سڑک کو دیکھ رہا تھا۔ کمال مہارت سے ڈرائیونگ کرتے اس نے دوسرے ہاتھ سے اے سی تیز کر دیا۔
" گاڑی روکو۔"
وہ غصے سے بولی۔ اس شخص نے بنا کچھ کہے گاڑی سائیڈ پر روک دی۔
" دروازہ کھولو۔"
اس نے دوسرا حکم دیا۔
اب کی بار اس شخص نے پوری گردن موڑ کر اس کا چہرہ دیکھا۔ ایک ہاتھ ہینڈل پر رکھے دوسرا مٹھی کی صورت بند کیے وہ اس کو دیکھ رہی تھی۔
" Are you Sure?"
اس نے کچھ متامل سے پوچھا۔
" میں نے کہا ابھی اور اسی وقت لاک کھولو۔"
وہ غصے سے بولی۔ اس شخص نے فوراً دروازہ ان لاک کر دیا۔
اگلے سیکنڈ وہ گاڑی سے باہر نکلی اور اندھا دھند بھاگنے لگی۔ اس شخص نے بے اختیار نیچے دیکھا جہاں وہ اپنے جوتے چھوڑ کر بھاگ نکلی تھی۔
" اوہ شٹ!"
اس کے لبوں سے نکلا۔ وہ فوراً گاڑی سے باہر آیا اور مڑ کر دیکھا۔ وہ کافی دور نکل گئی تھی۔
" کہاں بھاگ رہی ہیں؟ یہاں آس پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ رک جائیں۔۔۔ کم از کم جوتا ہی پہن لیں۔ پیر زخمی ہو جائیں گے۔"
میرب نے پلٹ کر دیکھا وہ اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ وہ اور تیزی سے بھاگنے لگی مگر اس شخص سے زیادہ تیز نہیں بھاگ سکی۔ دوسرے لمحے وہ اس کی کلائی پکڑے اس کو بریک لگا چکا تھا۔ میرب نے بپھر کر اپنی کلائی چھڑوائی۔
" ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔"
وہ چلائی۔ اس شخص نے فوراً اس کی کلائی چھوڑ دی۔
" اوکے ریلیکس! نہیں چھوتا میں آپ کو۔ آپ پلیز رک جائیں۔ کہاں بھاگ رہی ہیں آپ؟ یہاں آس پاس آپ کو کوئی نہیں ملے گا۔ اس طرح بھاگنا بند کریں۔ اگر آپ کو میرے ساتھ جانے میں مسئلہ ہے تو ٹھیک ہے میں آپ کے لیے دوسری گاڑی منگوا لیتا ہوں۔"
" مجھے تمہارے ساتھ کہیں بھی نہیں جانا۔ جان چھوڑ دو میری۔ جانے دو مجھے۔"
وہ پھر سے بھاگنے کے لیے مڑی مگر وہ فوراً اس کے راستے میں حائل ہو گیا۔ مگر اب کی بار اس نے اس کو پکڑنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
" ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں گی ویسا ہوگا۔ پہلے آپ یہ جوتے پہنیں ورنہ چوٹ لگ جائے گی۔"
وہ اتنی نرمی سے بولا کہ میرب کو مزید غصہ آیا۔
" یہ ڈرامہ کرنے کے لیے میری خالہ نے کتنے پیسے دیے تمہیں؟ بند کرو یہ سب ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔"
وہ شخص دھیرے سے اس کے سامنے بیٹھا اور جوتے اس کے ننگے پیروں کے سامنے رکھ دیے۔
" ابھی آپ غصے میں ہیں اس لیے آپ کو کچھ بھی کہنا بیکار ہے۔ پلیز جوتے پہنیں۔"
اس کے لہجے کی نرمی اپنی جگہ برقرار رہی۔
میرب نے اب کی بار جوتے اٹھا کر ایک طرف پھینک دیے۔ ایک جوتا تو درخت کی ڈالی میں اٹک گیا جبکہ دوسرا اندھیرے میں شاید کسی کھائی میں گر کر گم ہو گیا تھا۔ اس شخص نے گہری سانس لی پھر دھیرے سے کھڑا ہوا۔ میرب بے ساختہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔ چہرے پر ایک دم خوف لہرایا تھا۔
" کیا ہوا؟ غصہ آ رہا ہے مجھ پر؟ کیا کر لیتے اگر وہ جوتا میں تمہارے منہ پر مارتی؟"
اگلے پل اس کا خوف کہیں پیچھے جا سویا تھا۔ وہ بدتمیزی سے بولی تھی۔
" تو مار دیتی کس نے روکا آپ کو؟"
وہ اتنی ہی شائستگی سے بولا۔
میرب کی آنکھیں پھیل گئیں۔ آخر کون تھا وہ شخص؟ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اچھا بننے کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اس کی لاش یہاں پڑی ہوتی۔ کیونکہ جتنی بدتمیزی اور بدلحاظی کا وہ مظاہرہ کر چکی تھی کوئی اور ہوتا تو اس کو اب تک جان سے مار چکا ہوتا، جبکہ سامنے کھڑا شخص ایسے تاثر دے رہا تھا جیسے میرب کی باتیں اس کے لیے بچکانہ ہوں۔ جیسے وہ کوئی ضدی بچی ہو جس کو منانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔
" مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا۔ اگر تم نے میرے ساتھ زبردستی کی تو میں یہاں سے نیچے کود جاؤں گی۔"
اس نے ہاتھ سے کھائی کی طرف اشارہ کیا۔ آنکھوں میں سرخی دوڑ رہی تھی۔
اس شخص نے ایک نظر اس کے زخموں سے بھرے چہرے کو دیکھا پھر پیچھے ہٹ گیا۔
" اوکے! جیسا آپ چاہیں، مگر آپ کو بھی میری ایک بات ماننی ہوگی۔۔۔۔ پلیز میری بات مکمل ہونے دیں۔"
وہ جو بولنے لگی تھی چپ ہو گئی۔ اس شخص نے اپنے جوتے اتار کر پھر سے اس کے سامنے رکھ دیے۔
" پلیز پہن لیں۔۔۔ منع مت کریں۔۔۔ بس یہی ایک بات مان لیں میری۔۔۔۔ اس کے علاوہ میں کچھ نہیں چاہتا۔ جانتا ہوں یہ جوتے بڑے ہیں مگر مجبوری ہے۔ فی الحال میرے پاس یہی ہیں۔۔۔۔۔"
اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
میرب پہلے تذبذب کا شکار ہوئی پھر ناچار جوتے پیروں میں اڑس لیے۔ وہ واقعی بڑے تھے۔ اس نے چلنے کی کوشش کی پیر بھاری محسوس ہوئے۔ ایک تو جوتوں کا وزن زیادہ تھا دوسرا شاید پیروں پر زخم آگئے تھے۔ اس لیے درد بھی محسوس ہو رہا تھا۔
وہ شخص مزید کچھ بولے واپس گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ میرب نے اب کی بار گردن گھما کر ہر طرف دیکھا۔ دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ ایک طرف کھائی تو دوسری طرف درخت تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے گاڑی کی طرف دیکھا۔ کیا وہ واقعی اس کو یہاں اکیلا چھوڑ کر جانے والا تھا؟ اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
" آجائیں۔۔۔ اتنا مت تھکائیں خود کو۔ ابھی بہت سفر کرنا باقی ہے۔"
میرب کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ بنا چوں چراں کیے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ مگر آگے نہیں بیٹھی تھی۔ وہ پیچھے بیٹھی تھی۔
اس شخص نے کچھ نہیں کہا تھا۔ اس کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی پھر سے آگے بڑھا دی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا، وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے دوسرا پیٹ پر رکھے سو چکی تھی۔ چہرے پر آنسوؤں کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے۔
دوپٹہ سرک کر آدھا اس پر اور آدھا نیچے لٹک رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ نہ جانے آخری مرتبہ کب سلجھائے گئے تھے۔ بڑی بڑی ہلکی بھوری آنکھیں اس وقت بند تھیں۔ اس نے شیشہ فوراً اوپر کر دیا۔ اس کی ڈرائیونگ اب مزید محتاط ہو گئی تھی۔
پیچھے میرب کا دوپٹہ سرک کر پورا نیچے گر گیا تھا۔ مگر تب تک وہ گہری نیند کی وادیوں میں جا چکی تھی۔
جاری ہے
Rukh e Jaan episode 2 link 👇📎
Novel ki baki update k liye mera whatsapp channel join kryn, yaha apko hr ep ka link direct share kia jay ga 🎀🌷
Click here 👇🖇️
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow munaza g kamal kamal mn hr dafa kitni tareef kron apki but kiye bina reh b ni sakti promising start with different story line ❤️❤️❤️❤️❤️❤️ 😍
ReplyDelete