Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Rukh e Jaan episode 2 by Munaza Niaz - drama base love story - romantic novel
رخِ جاں از منزہ نیاز
قسط نمبر 2
صبح کے چھ بجے ان کی گاڑی ڈھلانی رستوں سے ہوتی ایک دو منزلہ عمارت کے سامنے رکی تھی۔ باہر تختی پر الپائن ہاؤس لکھا تھا۔ عمارت نہ زیادہ بڑی تھی نہ زیادہ چھوٹی۔ باہر چھوٹا مگر بے حد خوبصورت لان تھا، جس پر دو مستعد گارڈ پہرہ دے رہے تھے۔
عبدالباری کو دیکھتے ہی گارڈ نے فوراً گیٹ کھول دیا تھا۔ گاڑی پورچ میں آ کر رکی۔ عبدالباری نے انجن بند کیا، گردن موڑ کر جب پیچھے دیکھا تو میرب کو سوتا ہوا پایا۔ وہ ابھی تک گہری نیند میں تھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کی طرف آ کر دروازہ کھولا۔
میرب کا دوپٹہ نیچے گرا ہوا تھا، اس نے جھک کر اسے اٹھایا اور اس کے اوپر پھیلا دیا۔ میرب کی آنکھیں آہٹ سے نہیں بلکہ کسی کی اپنے نزدیک موجودگی سے کھلی تھیں۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔ عبدالباری سیدھا ہوا۔
" آجائیں۔"
میرب نے کھڑکی سے باہر اس دو منزلہ عمارت کو دیکھا پھر دوپٹہ اپنے گرد لپیٹتی باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ دونوں اس چھوٹے مگر پرتعیش لاؤنچ میں داخل ہوئے۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ میرب عجیب سی کیفیت میں گھِر گئی۔
" یہاں اور کون رہتا ہے؟"
اس نے کچھ پریشان ہو کر پوچھا۔
" کوئی نہیں۔"
گاڑی کی چابی دراز میں رکھتے عبدالباری نے سادہ لہجے میں کہا۔
" میرے ساتھ آئیں۔"
وہ اسے لیے ایک کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول دیا۔ وہ اس گھر کا سب سے بڑا کمرہ تھا۔
" یہ آپ کا کمرہ ہے۔ ضرورت کی ہر چیز یہاں پر موجود ہے، اگر پھر بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ مجھے بلا جھجک کہہ سکتی ہیں۔"
میرب دھیمے قدموں سے اندر گئی۔ پورا کمرہ خوبصورت فرنیچر سے آراستہ تھا۔ اٹیچ باتھ اور ایک وارڈروب بھی تھے۔ عبدالباری اندر نہیں آیا تھا۔ کمرے کے باہر ہی رہا تھا۔ جیسے ہی وہ جانے کے لیے مڑا میرب نے اسے روک لیا۔
" بات سنو۔"
" جی۔"
وہ فوراً مڑا تھا۔ میرب ہچکچا گئی۔
" کچھ نہیں۔"
میرب نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔ عبدالباری کچھ سیکنڈ بند دروازے کو دیکھتا رہا پھر خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
اندر میرب بھاگ کر کھڑکی کے پاس گئی۔ جیسے ہی اس نے قد آور کھڑکی کھول کر باہر بنی چھوٹی سی بالکونی میں قدم رکھا، ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرا گیا۔ ریلنگ کو تھام کر اس نے جھک کر دیکھا، نیچے کھائی تھی اور سامنے پورا جنگل دیو کامت درختوں سے گھرا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند پہاڑوں سے اتر رہی تھی۔ دھوپ کی سنہری کرنیں پہاڑ اور درختوں پر اتر رہی تھیں۔ یہ کون سی جگہ تھی؟ یقیناً وہ شہر سے دور آ چکی تھی۔ یہاں نہ کوئی انسان تھا نہ کوئی شور۔ وہ خالی آنکھوں سے اس قدرت کے حسین منظر کو دیکھے جا رہی تھی۔
اس کے عین اوپر دوسری بالکونی کا دروازہ کھولے عبدالباری باہر آیا تھا۔ اس نے اپنا کوٹ اتار کر رکھ دیا تھا۔ شرٹ کی آستینیں موڑے اس نے ایک نظر چاروں طرف ڈالی پھر پلٹ گیا۔ اس کا رخ واش روم کی طرف تھا۔ شیشے کی ٹیبل پر خالی ایش ٹرے پڑی تھی۔ وہ چین اسموکر نہیں تھا، یقیناً ایش ٹرے شو پیس تھی اس کے لیے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر ایک گن کھلی پڑی تھی۔ اس کی نظر سفید بیڈ شیٹ پر گئی جہاں خون کے دھبے اب سوکھ چکے تھے۔
اس نے بیڈ شیٹ اتار کر لانڈری باسکٹ میں ڈالی اور دوسری بیڈ شیٹ بچھا دی۔ وارڈ روب سے ایک سوٹ نکال کر وہ واش روم چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد گیلے بال لیے وہ سادہ ٹراؤزر ٹی شرٹ میں سیڑھیاں اترتا دکھائی دیا۔ اس کے پرفیوم کی مہک پورے گھر میں پھیل چکی تھی۔ ناشتہ وہ راستے سے لیتا آیا تھا۔ اس نے ڈائننگ ٹیبل پر پہلے ناشتہ لگایا پھر دروازے کے باہر ٹھہر کر اس نے ہلکا سا دروازہ بجایا۔
" میرب آ جائیں ناشتہ ریڈی ہے۔"
اس نے چند لمحے توقف کیا مگر نہ ہی کوئی آواز آئی اور نہ ہی دروازہ کھولا گیا۔
" میرب۔۔۔۔"
اس نے پھر سے پکارا مگر جواب ندارد۔ اگلے سیکنڈ اس نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔ پورا کمرہ خالی تھا۔ اس نے باتھ روم دیکھا پھر بالکونی کی طرف گیا۔ دونوں خالی تھے۔ اس کے ماتھے کی لکیریں واضح ہوئیں۔ وہ گیٹ کی جانب بھاگا مگر گارڈ نے بتایا کہ وہ یہاں سے گزری ہی نہیں ہے۔ اس نے پورا گھر دیکھ لیا مگر وہ اسے کہیں نہیں ملی۔
" کہاں چلی گئیں؟"
اس نے بالوں میں انگلیاں چلائیں۔ آنکھوں میں فکر مندی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک ہی اس کی نظر گھر کی چار دیواری کی طرف اٹھی تھی۔ وہ بھاگ کر دیوار کے قریب گیا۔ وہ دیوار اتنی چھوٹی تھی کہ کوئی بچہ بھی چڑھ کر دوسری طرف کود سکتا تھا۔ اس نے دیوار کے دوسری طرف جھانکا۔ زمین اونچی تھی۔ ڈھلوانی راستہ جنگل کی طرف جاتا تھا۔ اس کی نظر پھر سے زمین پر گئی جہاں پیروں کے نشان تھے۔ ضرور وہ اسی راستے سے بھاگی تھی۔ اگلے پل وہ بھی دیوار پہ چڑھ کر دوسری طرف کود گیا۔
•••••
گھر سے تو وہ نکل آئی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جائے تو جائے کہاں؟ ہر طرف درخت ہی درخت تھے۔ پیر پہلے سے ہی زخمی تھے۔ بھاگنے کی وجہ سے اب دکھ بھی رہے تھے۔ اسے پوری امید تھی اس کی غیر موجودگی پا کر وہ اس کے پیچھے ضرور آئے گا۔ راستہ ڈھلوانی تھا اور دور کہیں پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا۔ کچھ دیر سانس درست کرنے کے لیے وہ ایک جگہ ٹھہر گئی۔ چہرہ بھاگنے کی وجہ سے پسینے میں نہا چکا تھا۔
یہ وہ کہاں آ گئی تھی؟ وہ شخص آخر کون تھا؟ نہ اس نے اسے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ ہی وہ اس کو جانتی تھی۔ یہاں تک کہ اس کو اس کا نام تک معلوم نہیں تھا۔
خالہ تو اس سے بچپن سے ہی نفرت کرتی تھیں۔ جب سے بابا کی ڈیتھ ہوئی تھی ان کی نفرت کھل کر سامنے آئی تھی۔ صرف رامینہ خالہ ہی نہیں بلکہ امینہ خالہ بھی شاہ مین کو ان کے بچوں کے خلاف کرتی رہتی تھیں۔ اسے آج بھی وہ دن اچھے سے یاد تھا جب وہ نو سال کی تھی۔
بابا کی موت کو تین سال گزر چکے تھے۔ شاہ مین اپنے بچوں کے ساتھ اپنی بہنوں کی طرف دوسرے شہر شفٹ ہو گئی تھیں۔ شاہ مین عثمان جاوید کی موت کے بعد بیمار رہنے لگی تھیں۔ ان کی توجہ اپنے سبھی بچوں سے ہٹ گئی تھی۔
امینہ خالہ کا بڑا بیٹا حمدان، جو سولہ سترہ برس کا تھا، میرب کو اکیلے پا کر اس کے کمرے میں گھس گیا تھا۔ میرب اور فضا کا کمرہ اوپری منزل پر تھا۔ اس وقت فضا نیچے اپنی بھابھیوں کا کچن میں ہاتھ بٹا رہی تھی۔ وہ میرب سے نو سال بڑی تھی۔ میرب کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کا خالہ زاد کس نیت سے اس کے پاس آ رہا ہے۔
" حمدان بھائی آپ؟"
اپنی کتابیں چھوڑے وہ تیزی سے بیڈ سے اتر گئی۔
" بالکل چپ۔"
حمدان نے کھلے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے آوازیں آرہی تھیں۔
" آپ کو کچھ چاہیے حمدان بھائی؟"
اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں اتنی معصومیت تھی کہ حمدان کو ذرا بھی احساس نہ ہوا اس کا۔
" میری بات سنو میرب۔۔۔۔ جیسا میں کہوں گا تم نے وہی کرنا اور اگر تم نے شور مچایا تو میں تمہیں تھپڑ مار دوں گا اور پھر پکڑ کر تمہیں تمہاری امی کے پاس لے جاؤں گا۔ میں ان کو بتا دوں گا کہ تم ٹیسٹ میں پھر سے فیل ہو گئی ہو۔"
حمدان نے اس کا بازو پکڑ کر زور سے ہلایا۔ میرب کے چہرے پر خوف لہرایا۔ اسے یاد آیا جب وہ پچھلی بار ٹیسٹ میں فیل ہوئی تھی تو شاہ مین نے اس کو کتنا مارا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ نالائق بچی تھی۔ اصل وجہ یہی تھی کہ اب اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا، اوپر سے اس کو ٹیوشن سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
" حمدان بھائی آپ۔۔۔۔۔ کیا کرنے والے ہیں؟"
اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔ حمدان نے جس طرح اس کا بازو پکڑ رکھا تھا اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ جیسے ہی حمدان نے اس کی قمیض پکڑ کر کھینچی وہ چیخ پڑی۔ اگلے سیکنڈ وہ بازو چھڑواتی دروازے کی طرف بھاگی۔
حمدان کے ہوش اڑے۔ اگر وہ نیچے جا کر کچھ الٹا سیدھا بول دیتی تو اس کی شامت آ جاتی۔ جیسے ہی اس نے سیڑھیوں کے دہانے پر پہلا قدم رکھا پیچھے سے حمدان نے اس کو دھکا دے دیا۔ اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے پھسلتی چلی گئی۔ اس کے بعد اس کو کچھ بھی یاد نہیں رہا۔
اسے جب ہوش آیا تو وہ ہاسپٹل میں تھی۔ گھر لوٹنے کے بعد اس نے بہت کوشش کی بتانے کی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا مگر حمدان نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا۔
" خالہ میں نے اس کو گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ بھاگی تھی، اس کا پیر پھسلا تھا سیڑھیوں سے۔"
میرب کچھ بول بھی نہ پائی۔ حمدان کی نظروں سے وہ مزید خوفزدہ ہوتی جا رہی تھی۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی حمدان کا سامنا نہیں کیا تھا اور حمدان بھی اس کے سامنے نہیں آتا تھا۔
" میرب۔۔۔۔"
اس نے تیزی سے گردن اٹھائی۔ چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے، چہرہ گھٹنوں میں دیے جانے وہ کب سے رو رہی تھی۔ اپنے نام کی پکار پر اس کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا تھا۔
" میرب کہاں ہیں آپ؟"
عبدالباری کی آواز قریب ہوتی جا رہی تھی۔ وہ کھڑی نہیں ہوئی نہ ہی بھاگنے کی کوشش کی۔
" میرب آپ ٹھیک ہیں؟"
عبدالباری کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ بھاگ کر اس کے پاس آیا۔ ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے وہ زوروں شور سے رو رہی تھی۔
" میرب کیا ہوا؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟"
وہ اس کے سامنے بیٹھا اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی مگر پھر ارادہ بدل لیا۔
" تم ہو کون جس کو میں بتاؤں کہ میں کیوں رو رہی ہوں؟ تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ تم جانے کیوں نہیں دیتے مجھے؟ اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ چلے جاؤ یہاں سے۔"
اس نے دوبارہ سر گھٹنوں میں دیا اور پھر سے رونے لگی۔
عبدالباری خاموشی سے کھڑا ہوا۔ اس کے دور جاتے قدموں کی آہٹ میرب نے بخوبی سنی تھی۔ اس کے رونے میں مزید روانی آگئی۔ بہت دیر بعد اس نے گیلا چہرہ اٹھایا تھا۔ اگلے سیکنڈ اس کو دھچکا لگا۔ وہ شخص اس سے فاصلے پر ایک درخت سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
" تم گئے نہیں؟"
وہ غصے سے کھولتی کھڑی ہوئی۔
" میں آپ کو چھوڑ کر بھلا کیوں جاؤں گا؟"
وہ تن فن کرتی اس کے سر پر پہنچی۔
" اپنی بکواس بند کرو، نہ میں تمہیں جانتی ہوں نہ تم مجھے جانتے ہو۔ پھر تم کیوں۔۔۔۔"
عبدالباری نے اس کی بات کاٹ دی۔
" کس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں جانتا؟ ہاں آپ مجھے نہیں جانتیں تو چلیں میں اپنا تعارف کروا دیتا ہوں۔ میرا نام عبدالباری مرزا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے نکاح کے وقت آپ نے میرے نام پر نظر نہیں ڈالی ہوگی ورنہ کم از کم میرا نام تو ضرور جانتی ہوتیں۔"
عبدالباری کھڑا ہوا
" میں نہیں مانتی اس نکاح کو۔ مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہ نکاح زبردستی ہوا تھا۔ مجھ پر اپنا حق جتانے کی کوشش بھی مت کرنا۔"
وہ انگلی اٹھا کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔ عبدالباری نے گہری سانس لے کر اس کی نم آنکھوں میں دیکھا۔ کچھ پل دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی پھر عبدالباری کی آواز گونجی۔
" آپ مانیں یا نہ مانیں مگر آپ اب میری بیوی ہیں۔ آپ کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔ جہاں سے آپ بھاگ کر آئی ہیں، وہ آپ کا ہی گھر ہے۔ آپ جتنا مجھ سے دور بھاگیں گی، میں اتنا آپ کے پیچھے آؤں گا، کیونکہ ہمارا رشتہ ہی کچھ ایسا ہے۔ رہی بات یہاں سے نکلنے کی تو یہ ناممکن ہے۔ آپ کہیں نہیں جا سکتیں۔ ہاں اگر کبھی جانا بھی ہوا تو میں آپ کو لے جاؤں گا۔ یہاں چاروں طرف جنگلات ہیں۔ بھوکے اور خطرناک جانور کب حملہ کر کے چیر پھاڑ دیں آپ کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔"
" انسانوں سے تو کم ہی خطرناک ہوتے ہیں یہ جانور۔"
وہ طنز کرتے ہوئے بولی۔ عبدالباری خاموش ہو گیا، پھر اس کے لب ہلے۔
" صحیح کہا۔۔۔۔ جانوروں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے مگر انسانوں پر نہیں، مگر فی الحال اس وقت آپ صرف مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں۔ وعدہ کرتا ہوں کبھی دھوکہ نہیں دوں گا۔"
" او پلیز! میرے سامنے یہ ڈائیلاگ مت مارو۔ مجھے اب کسی پر اعتبار نہیں ہے۔ تمہیں لگتا ہے میں تمہاری ان دو نمبر باتوں میں آجاؤں گی۔ تم پر یقین کرنے لگوں گی۔۔۔۔"
" نہیں۔۔۔"
عبدالباری نے فوراً کہا۔ میرب نے گھور کر اس کو دیکھا۔
" جاؤ یہاں سے اب میرے پیچھے مت آنا۔"
وہ چلنے لگی تبھی عبدالباری نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ میرب کا چہرہ سرخ ہوا۔
" یہ کیا بدتمیزی ہے؟ میں نے کہا تھا کہ مجھے ہاتھ مت لگانا۔"
اس نے غصے سے کلائی کھینچی مگر مقابل کی گرفت مضبوط رہی۔
" ہر ضد ماننے والی نہیں ہوتی۔ واپس چلیں، دیکھیں تو کیا حال بنا رکھا ہے خود کا۔ کچھ تو احساس کریں میرا۔"
عبدالباری کا لہجہ بالکل ہی سادہ تھا۔ میرب کچھ سمجھ نہیں سکی۔
" میری مرضی میں جس طرح رہوں۔ تم ہوتے کون ہو میری فکر کرنے والے؟ میرے سامنے یہ ڈرامے کرنا بند کرو۔ میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والی۔"
تبھی اسے اپنے پیچھے کسی جانور کی غراہٹ سنائی دی۔ وہ جھٹکے سے مڑی مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
" ٹھیک ہے، آپ کی مرضی ہے۔ آپ اس آدم خور جنگل میں رہنا چاہتی ہیں تو میں اعتراض نہیں کروں گا۔"
وہ واپس جانے کے لیے پلٹا۔ میرب لپک کر اس کے سامنے آئی۔
" رکو پلیز مجھے بھی ساتھ لے چلو۔"
وہ گھبرا کر بولی
" لے تو چلوں گا مگر کیا گارنٹی ہے کہ آپ پھر سے نہیں بھاگیں گی؟"
وہ پر سوچ نظروں سے اس کو دیکھ کر بولا۔
" میں بول رہی ہوں کہ نہیں بھاگوں گی، اتنا کافی نہیں ہے؟"
اسے ایک دم غصہ آیا۔
" کافی ہے۔"
عبدالباری پہلی دفعہ مسکرایا۔
" آپ کا ہاتھ پکڑ سکتا ہوں؟"
میرب نے گھور کر اس کو دیکھا۔
" نہیں۔"
جیسے ہی وہ مڑی، جھاڑیوں سے پھر سے آواز آئی۔ اس نے بے اختیار ہو کر عبدالباری کی کلائی پکڑ لی۔ اسے ایک دم سے شدید رونا آیا۔
عبدالباری نے اس کا چہرہ دیکھا جہاں خوف تھا۔ آنکھوں میں نمی تھی۔ اس کا دل کر رہا تھا وہ اس لڑکی کو ہر خوف سے آزاد کر دے۔ اس کے سارے زخموں کا مرہم بن جائے۔ اس کی نظر میرب کے پیروں پر گئی۔ اس کا دل مٹھی میں آیا۔ سوکھے پتوں پر خون کے دھبے لگتے جا رہے تھے۔
اس نے بنا وقت ضائع کیے میرب کو بانہوں میں اٹھا لیا۔ میرب نے ہڑبڑا کر شدید حیرت سے کچھ خوف زدہ ہو کر اس کو دیکھا۔
" میں معذرت چاہتا ہوں مگر مجبوری ہے ورنہ آپ کی اجازت کے بغیر کبھی یہ حرکت نہ کرتا۔"
وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولا۔ میرب سمجھ گئی اس لیے کوئی مزاحمت نہ کی۔ اب تو پیروں کا درد پورے جسم میں گردش کرنے لگا تھا۔ اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اپنا بازو اس کے کندھے کے گرد رکھ دیا۔
" پلیز جلدی واپس چلو۔"
اس کی رفتار سے وہ کوفت زدہ ہوئی تھی۔ عبدالباری نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ فوراً نظریں چرا گئی۔
" جی چل رہا ہوں۔"
اس کے گرد مضبوط حصار قائم کیے اب وہ تیز قدم اٹھا رہا تھا۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Oh 😯 aj kl mn abu barak k trance mn te or ab abdul bari 😭😭😭😭😭😭 i want this type of man 😭😭😭😭😭😭😭
ReplyDelete