Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Rukh e Jaan Episode 3 by Munaza Niaz - Family drama base - Romantic novel - childhood love
رخِ جاں از منزہ نیاز
قسط نمبر 3
جب وہ نہا کر باتھ روم سے باہر نکلی، عبدالباری فرسٹ ایڈ باکس اٹھائے اسی کا منتظر تھا۔
" مجھے تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور تم کس کی اجازت سے میرے کمرے میں آئے ہو؟"
وہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے سامنے آئی۔
" آپ کے کمرے میں آنے کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر اپ کو برا لگا ہے تو معذرت چاہتا ہوں، اگلی بار پوچھ کر آؤں گا۔ اب آپ یہاں بیٹھیں۔"
اس نے ہاتھ سے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ میرب تلخی سے ہنسی۔
" اور میں تمہاری بات کیوں مانوں؟ تمہیں لگتا ہے میں تمہارے اس رویے سے پگھل جاؤں گی؟ تم پر یقین کرنے لگوں گی؟"
" نہیں۔۔۔۔ اور میں ایسا چاہتا بھی نہیں۔ آپ ایسی ہی ٹھیک ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ پہلے ایسی نہیں تھیں۔ آپ کو میرے لیے بدلنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ آپ جیسی ہیں مجھے قبول ہے۔"
میرب کی آنکھیں چھوٹی ہوئیں۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ مزید کیا بولے۔ عبدالباری نے پھر سے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ میرب کچھ پل ٹھہری رہی پھر خاموشی سے صوفے کے کنارے ٹک گئی۔
" مجھے دو میں خود کر لوں گی۔"
اس نے عبدالباری کی طرف ہاتھ بڑھایا جو مرہم نکال چکا تھا۔
" جانتا ہوں مگر پھر بھی مجھے کرنے دیں۔"
اس نے نرمی سے کہا۔ میرب نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ وہ چاہ کر بھی اس کو روک نہیں سکی۔ وجہ اس شخص کا عجیب رویہ تھا یا کچھ اور؟ وہ سمجھ نہیں سکی۔
عبدالباری نے نرمی سے اس کا زخم خوردہ سپید پیر سیدھا کیا اور دوا لگانے لگا۔ پہلے پہل میرب کو جلن کا احساس ہوا اور اسی پل وہ جلن ٹھنڈک میں بدل گئی۔ عبدالباری نے اس کا دوسرا پاؤں سیدھا کیا۔ میرب کی شلوار کا پائینچہ ہلکا سا اوپر ہوا۔ بے ساختہ عبدالباری کی نظر اس کے نازک پنڈلی پر گئی۔ وہاں بھی پرانے زخم کے نشانات تھے۔ اس نے بے اختیار میرب کا چہرہ دیکھا جو اپنے پیروں کو دیکھتی نا محسوس انداز میں پائنچے نیچے کرنے لگی۔
عبدالباری نے نرمی سے اس کا ہاتھ نیچے کر دیا۔ اب وہ اس کی پنڈلی پر دوا لگا رہا تھا پھر وہ اٹھا اور اس کے برابر صوفے پر آبیٹھا۔ وہ تھوڑا پیچھے کھسک گئی۔ عبدالباری نے ٹھہر کر اس کو دیکھا کیونکہ وہ اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ گئی تھی۔
" ادھر دیکھیں میرب۔"
عبدالباری کا لہجہ ملائمت بھرا تھا۔ میرب کو اس لہجے کی، ایسی فکر کی کہاں عادت تھی۔ یہ سب اب اس کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔
" میرب۔۔۔۔"
جب کافی دیر بعد بھی میرب نے اپنا چہرہ اس کی طرف نہیں موڑا تو عبدالباری کو پھر سے اسے پکارنا پڑا۔
" جب تک ہم خود اپنے زخموں کا علاج نہیں کریں گے وہ مندمل نہیں ہوں گے، چاہے وہ زخم جسم کے ہوں یا روح کے۔"
" جسمانی زخموں کے لیے تو مرہم مل جاتے ہیں، روح کے زخموں کے لیے کیوں نہیں ملتے؟"
اس نے گیلی آنکھوں سے گردن موڑ کر عبدالباری کو دیکھا جو اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
" کس نے کہا روح کے زخموں کا علاج نہیں۔ کسی کا نرم رویہ، اس کی تھوڑی سی محبت، آپ کے لیے فکر۔ یہ سب روح کے زخموں کے لیے مرہم کا کام ہی تو کرتے ہیں۔"
اب وہ اس کے چہرے کے زخموں پر مرہم لگا رہا تھا۔
میرب کوئی مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔ عبدالباری کے ہر لمس پر اس کا دل بھر آتا۔ وہ بہت مشکل سے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
" میری ایسی فکر بچپن میں میرے بابا کیا کرتے تھے۔ مجھے ہلکی سی خراش بھی آ جاتی تو سب کی شامت آ جاتی تھی۔ اگر میرے بابا نہ ہوتے نا تو آج مجھے ہر مرد سے نفرت ہوتی۔ جب تک وہ زندہ رہے میں شہزادیوں جیسی زندگی جیتی رہی، مگر جب وہ چلے گئے تب مجھے احساس ہوا کہ ہر لڑکی ہمیشہ شہزادی نہیں رہتی۔ زندگی ایک نہ ایک دن اپنا بھیانک روپ دکھا ہی دیتی ہے۔ میرے بابا کیوں چلے گئے؟ کیا ان کو نہیں پتہ تھا کہ ان کے جانے کے بعد میرا کیا ہوگا؟ میری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، مجھ سے محبت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔"
اس کو احساس بھی نہیں ہوا اور اس کے آنسو ہچکیوں میں بدل گئے۔ نہ جانے کون کون سے ماضی کے دکھ تھے جو پھر سے تازہ ہو گئے تھے۔ وہ دھندلی نظروں سے عبدالباری کو دیکھے جا رہی تھی۔ جہاں کسی اور کی شبیہہ ابھرنے لگی تھی۔ اس نے فوراً چہرہ موڑ لیا۔
" آپ کے بابا چلے گئے اس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ سب اللہ کی مرضی تھی۔ ہاں اللہ سب جانتے تھے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔ آپ کہتی ہیں کہ آپ کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے، شاید آپ اللہ کو بھول رہی ہیں۔ ایک وہی تو سب سے بڑا محافظ ہے اور جہاں تک محبت کی بات ہے تو ہم کسی کو زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ جس کو ہم سے محبت ہونی ہوگی وہ ہو جائے گی۔ آپ کہتی ہیں اگر آپ کے بابا نہ ہوتے تو آپ کبھی کسی مرد پر بھروسہ نہیں کرتیں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ کبھی نہ کبھی تو ضرور مجھ پر بھروسہ کرنے لگیں گی۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ مجھ سے محبت کریں، نہ ہی میں زبردستی آپ کے دل میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کروں گا۔ جس دن آپ مجھ پر یقین کرنے لگیں گی اس دن میں سمجھ جاؤں گا کہ میں ان مردوں میں شامل نہیں جن سے آپ نفرت کرتی ہیں۔"
اس نے باکس بند کیا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرب اس کو دیکھے گئی۔
" آپ کے لیے ناشتہ لے کر آتا ہوں پھر آپ دوا لے کر آرام کر لیجیے گا۔"
وہ مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گیا، جبکہ میرب پھر سے اپنا چہرہ گھٹنوں میں دے گئی۔
•••••
جب اس کی آنکھ کھلی تو کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ کمبل اپنے اوپر مزید تانے وہ کروٹ بدل گئی۔ کچھ دیر وہ آنکھیں بند کیے ایسے ہی چِت لیٹی رہی پھر زوردار انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی۔ کھلے بالوں کا گول مول سا جوڑا بنائے اس نے کیچر کی تلاش میں نظریں دوڑیں مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا۔
وہ اٹھی اور ننگے پیر چلتی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس گئی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر اس کی ضرورت سے زیادہ سامان موجود تھا۔ اس نے ایک دراز کھولی اور حیران رہ گئی۔ پوری دراز جھمکوں کی کلیکشن سے بھری تھی۔ اس نے دوسری کھولی اس میں ہیئر کلپس اور پنز تھیں، پھر تیسری کھولی۔ اس میں چوڑیاں تھیں۔
" یہ سب کیا ہے؟"
اس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔ ہر دراز میں کسی نہ کسی چیز کی کلیکشن ضرور موجود تھی۔ وہ سیدھی ہوئی نظر آئینے پر گئی۔ بکھرے بالوں کی لٹیں چہرے پر جھول رہی تھیں۔ اس نے سر جھٹک کر ایک کلپ اٹھایا اور بالوں میں لگا دیا۔
وارڈ روب کھول کر اندر موجود نرم سلپرز نکال کر پہنے پھر چہرہ دھو کر باہر نکل آئی۔ لاؤنچ میں روشنی تھی۔ کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایل ای ٹی چل رہا تھا مگر والیوم بند تھا۔
" اٹھ گئی آپ؟ کیسی طبیعت ہے اب؟"
عبدالباری ہاتھوں میں چائے کے مگ پکڑے کچن سے باہر نکلا۔ میرب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ عبدالباری نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔
" شکریہ مگر مجھے نہیں چاہیے۔"
وہ بے رخی سے بولی۔
" چائے کو نہ کون کہتا ہے؟ میں نے تو یہ تک سنا ہے کہ ناول پڑھنے والی لڑکیاں چائے کی دیوانی ہوتی ہیں۔ مگر آپ یقیناً ان سے الگ مزاج کی ہیں۔"
عبدالباری مسکرایا۔
" ٹھیک پہچانا۔ میرا مزاج اتنا مختلف ہے کہ تم بہت جلد مجھ سے عاجز آ جاؤ گے اور مجھے چھوڑ دو گے۔ تم فکر نہیں کرو مجھے ریجیکشن کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ جب تم مجھے دھتکارو گے تو مجھے فرق بھی نہیں پڑے گا۔"
عبدالباری نے خاموشی سے دونوں مگ میز پر رکھ دیے پھر سیدھا ہو کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
" ابھی آپ کو مزید پریکٹس کی ضرورت ہے۔"
" کیا مطلب؟"
وہ چونکی۔
" جھوٹ بولنے کے لیے آنکھوں کا آپ کے لفظوں کا ساتھ دینا ضروری ہوتا ہے۔"
میرب نے غصے سے لب بھینچ لیے پھر ایک دم سے مسکرائی اور ہنس دی۔
" کتنا جانتے ہو تم مجھے؟ جس دن میری اصلیت تمہیں معلوم ہوگی اسی دن تم ایک لمحہ بھی نہیں سوچو گے اور طلاق کے پیپرز میرے منہ پر دے مارو گے۔ کیا تم جانتے ہو جس دن ہمارا نکاح ہوا اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟ میری خالہ نے پتہ نہیں کون سا جھوٹ بول کر تمہیں پھنسایا ہے۔ یقین کرو میں بالکل بھی اچھی لڑکی نہیں ہوں۔ انہوں نے تم سے سفید جھوٹ بولا ہے۔ سننا چاہو گے کیا؟ کہ کیا ہوا تھا میرے ساتھ۔۔۔۔"
" نہیں۔"
میرب کی زبان کو بریک لگی۔ عبدالباری ایک قدم اور پاس آیا۔
" مجھے آپ کے ماضی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مجھے آپ چاہیے تھیں اور آپ مجھے مل گئی ہیں۔ باقی سارا آپ کے دماغ کا فتور ہے کہ میں آپ کو طلاق دوں گا، چاہے آپ نے کچھ بھی کیا ہو یا آپ کے ساتھ کیا گیا ہو۔"
آخری لفظوں پر اس نے زور دیا تھا۔
" تم صرف باتیں کر سکتے ہو۔ ہر مرد صرف باتیں کر سکتا ہے، مگر جب وقت آتا ہے نا تو وہ باتیں پانی کا بلبلا ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کل کو کوئی شخص آ کر تمہیں یہ بولے کہ تمہاری بیوی ایسی تھی یا ویسی اور اس نے یہ کیا اور وہ کیا، یا اس نے میرے کریکٹر پر انگلی اٹھائی تب تم کیا کرو گے؟ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ تم کچھ بھی نہیں کر پاؤ گے عبدالباری۔۔۔۔ ایک بات تمہیں بتا دوں، یہ مت سوچنا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کل کو کوئی نہ کوئی ضرور آئے گا میرے ماضی کے ساتھ۔ اس وقت میں تمہیں یاد دلاؤں گی کہ تم بھی ایک عام مرد ہو۔"
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔
" غلط سوچ رہی ہیں آپ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے ہوتے ہوئے اگر کسی نے آپ کے کریکٹر پر انگلی اٹھائی تو میں اس کی ایک نہیں بلکہ ساری انگلیاں کاٹ دوں گا اور اگر کسی نے آپ کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو میں قسم کھاتا ہوں، عبدالباری مرزا اس کو دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔ مجھے پتا ہے آپ کو میری باتیں محض باتیں لگ رہی ہیں مگر جب وقت آئے گا تب آپ کو اپنی باتوں کا ثبوت بھی دکھا دوں گا۔"
وہ ایک قدم پیچھے ہوا۔ میرب اس کو دیکھے گئی۔ اسے ابھی بھی عبدالباری پر بھروسہ نہیں تھا۔ سب مرد ایک جیسے ہی ہیں۔ باتیں سن لو ان کی بس۔
" جو بھی کہو مجھے تم پر یقین نہیں۔"
وہ پھر بھی بولی تھی۔
" کوئی بات نہیں، آپ یقین نہ بھی کریں تو بھی کافی ہے میرے لیے۔ میرے ساتھ چلیں آپ کو کچھ دکھانا ہے۔"
"مجھے کچھ نہیں دیکھنا۔"
وہ سر جھٹک کر بولی۔
" یقین کریں کچھ بورنگ نہیں دکھاؤں گا۔"
وہ رازداری سے مسکرایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
میرب نے لمحہ بھر سوچ کر سیڑھیوں کی جانب دیکھا پھر اس کے پیچھے چل دی۔ عبدالباری نے اوپر ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ میرب پہلے جھجکی پھر اس کے پیچھے اندر داخل ہوئی۔ اگلے پل اس کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔ اس کا منہ پل بھر کو کھلا کا کھلا رہ گیا۔
کمرے کی سامنے والی دیوار شیشے کی تھی۔ شیشے کے پار سامنے پورا جنگل اور پہاڑ صاف دکھائی دے رہے تھے۔ جبکہ کمرے کے دائیں بائیں والی دیواریں کتابوں سے بھری تھیں۔ کمرے کے وسط میں لکڑی کی ایک خوبصورت میز رکھی تھی، کچھ کتابیں اس پر بھی رکھی تھیں۔ میز کے اطراف میں کرسیوں کے بجائے خوبصورت صوفہ سیٹ رکھا گیا تھا۔ اس نے چھت کو دیکھا تو مزید حیرت میں ڈوب گئی۔
چھت ڈھلانی تھی یوں جیسے کوئی کتاب کھول کر چھت پر رکھ دی گئی ہو۔ چھت پر سینکڑوں حروف سنہری روشنی میں چمک رہے تھے۔ اس نے فرش دیکھا جو شیشے کا تھا۔ شیشے کے اندر ہر رنگ کے پھول کھلے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی باغ میں قدم رکھ چکی ہے۔
اس نے غور کیا کتابیں کسی سادہ الماریوں میں نہیں تھیں بلکہ لکڑی کے درخت تھے جن کو تراش کر کتابیں رکھنے کے لیے شیلف کی طرح ڈیزائن کیا گیا تھا۔ وہ کتابوں کی طرف بڑھی اور ایک کتاب نکال کر دیکھی۔ وہ ناول تھا۔ وہاں سارے ہی ناول تھے۔ سبھی پاکستانی رائٹرز کے مشہور ناولز۔ اس نے حیرت سے مڑ کر عبدالباری کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں کی حیرت دیکھ کر وہ مسکرایا۔
" پسند آیا؟"
میرب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
" یہ ساری کتابیں میری ہیں۔ پہلے مجھے کتابوں کا شوق نہیں تھا پھر جب کسی کی ان کتابوں سے محبت دیکھی تو مجھے ان کتابوں سے عشق ہو گیا۔"
میرب گنگ بنی کھڑی رہی، اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
" تم۔۔۔۔ تم مجھے کیسے جانتے ہو؟ کون ہو تم؟ تم میرے بارے میں اتنا سب جانتے ہو جب کہ میں تمہیں پہلی مرتبہ دیکھ رہی ہوں۔ میں پہلے کبھی ملی بھی نہیں تم سے پھر یہ سب۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ بتاؤ مجھے تم آخر کیا چھپا رہے ہو مجھ سے؟"
" میں کچھ بھی نہیں چھپا رہا آپ سے۔ جب وقت آئے گا تب آپ کو سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ میں چائے لاتا ہوں یقیناً آپ اس بار ضرور پییں گی۔"
کہتا وہ لائبریری سے باہر نکل گیا۔
میرب دھیرے سے مڑی اور شیشے کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں صرف سوال تھے۔ اسے عبدالباری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر اب وہ اس کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔
عبدالباری پھر سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اب کی بار میرب نے خاموشی سے چائے کا کپ تھام لیا۔
" میں جانتا ہوں اس وقت آپ کیا سوچ رہی ہیں۔ فی الحال آپ دماغ پر زور نہ دیں۔ آپ کو بہت جلد سب معلوم ہو جائے گا۔"
چائے کا گھونٹ بھرتے اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا۔
" مجھے پتہ ہے آپ کو اس کی ضرورت ہے۔"
میرب نے دیکھا وہ اس کی طرف موبائل بڑھائے کھڑا تھا۔ اس نے خاموشی سے فون پکڑ لیا۔
" کل میں آپ کو کسی سے ملوانے لے چلوں گا۔ پلیز منع مت کیجیے گا۔ میری درخواست سمجھ لیں۔ آپ چلیں گی میرے ساتھ؟"
عبدالباری نے غور سے اس کے تاثرات جانچے۔ وہ نظریں چراتی بے اختیار اثبات میں سر ہلا گئی۔
" میں انتظار کروں گا۔"
مسکراتا وہ پلٹ گیا۔
میرب کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی۔ اس نے موبائل کو دیکھا۔ وہ نیا فون تھا۔ اس نے آن کیا تو حیران رہ گئی۔ اندر اس کے سارے اکاؤنٹس لاگ ان تھے۔ انسٹا، ٹک ٹاک، واٹس ایپ، سنیپ چیٹ۔ یہاں تک کہ گوگل اکاؤنٹ بھی۔ اسے تو کسی بھی اکاؤنٹ کا پاسورڈ یاد نہیں تھا پھر عبدالباری نے کیسے؟
اسے حیرت کے شدید جھٹکے لگے، ساتھ ہی صدمہ بھی لگا تھا۔ مگر پھر اس نے سر جھٹک دیا۔ لبوں میں گنگناتے اس نے موبائل میز پر رکھا اور شیلف کی طرف بڑھی، اپنا پسندیدہ ناول نکال کر وہ صوفے کے کنارے ٹِک گئی۔
•••••
جب وہ نیچے آیا تو میرب پہلے سے وہاں موجود تھی۔ اسے زیادہ نہ صحیح مگر حیرت ضرور ہوئی تھی۔ وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔ عبدالباری نے اس کے کانوں میں جھولتے جھمکوں کو دیکھا پھر نظریں چرا گیا۔
" چلیں؟"
اس نے پوچھا۔ میرب نے ہمیشہ کی طرح اپنا سر ہی ہلایا۔ عبدالباری نے ہاتھ سے اسے آگے چلنے کا کہا۔ اپنا دوپٹہ سنبھالتی وہ آگے بڑھی جبکہ عبدالباری اس کے پیچھے قدم اٹھانے لگا۔ پورچ میں پہنچ کر اس نے میرب کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ جب بیٹھ چکی تو دروازہ بند کرنے کے بعد وہ گھوم کر اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔
گارڈ نے دروازہ کھول دیا۔ گاڑی اس چھوٹی سی سڑک پر اتر آئی۔ عبدالباری نے اس کو دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ دونوں کچھ نہیں بولے۔ دونوں کے پرفیومز کی خوشبو گاڑی کی فضا میں مدغم ہو گئی۔
عبدالباری نے راستے میں گاڑی روکی۔ میرب نے دیکھا وہ ایک پھولوں کی دکان تھی۔ وہ پھولوں کا گلدستہ لے کے واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور وہ پھول اس کی طرف بڑھائے۔
" کسی کے گھر خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے۔ رائٹ؟"
وہ مسکرایا۔ میرب نے گلدستہ پکڑ لیا۔ سفر زیادہ نہیں تھا۔ دس منٹ بعد ان کی گاڑی ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے رکی تھی۔ گارڈ نے عبدالباری کو دیکھتے ہی فوراً گیٹ کھول دیا۔ دونوں باہر نکلے۔ عبدالباری نے اس کو آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ میرب کنفیوز ہو گئی مگر بولی کچھ نہیں۔
جب دونوں لاؤنچ میں پہنچے تو انہیں شور سنائی دیا۔ پورا ڈرائنگ روم افراد خانہ سے بھرا تھا۔ لمبی میز پر ناشتہ لگایا جا رہا تھا۔ میرب ٹھہر سی گئی۔ ایک ساتھ اتنے لوگوں کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھی۔ عبدالباری نے اس کا گھبرایا چہرہ دیکھا پھر نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میرب کے دوسرے ہاتھ میں پھولوں کا بکے تھا۔ وہ اونچی آواز میں سلام کرتا سیدھا ایک بزرگ خاتون کے پاس گیا۔
" السلام علیکم دادو!"
ان کے قریب پہنچتے ہی وہ ان کے نرم آغوش میں سما گیا۔
" عبدالباری۔۔۔۔"
ان کے ساتھ بیٹھے سبھی لوگوں کے چہروں پر خوشی پھیل گئی۔ شاید انہیں امید نہیں تھی کہ وہ صبح صبح آ کر انہیں سرپرائز دے دے گا۔
" عبدالباری کیسے ہو میرے بچے۔"
دادو نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوما۔
" آپ کی طرح ایک دم فِٹ۔"
وہ مسکرا کر بولا تو دادو ہنس دیں۔
" دادو میں آپ کی بہو کو لے آیا ہوں۔"
اس نے مسکرا کر میرب کی طرف اشارہ کیا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔
دادو نے جب میرب کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر میرب کو سینے سے لگا لیا۔ عبدالباری اب باقیوں سے مل رہا تھا۔ اس کے چھوٹے کزنز اس کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئے تھے۔
" مجھے پتہ تھا عبدالباری تمہیں ضرور لے آئے گا۔"
میرب کو الگ کر کے دادو نے مسکرا کر اس کا ہاتھ چوما۔ میرب نے گھبرا کر عبدالباری کو دیکھا مگر وہ اس کو نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ بچوں سے باتیں کرنے میں مصروف تھا۔
" اس سے ملو یہ عبدالباری کی خالہ نزہت ہے۔ یہ اس کی بیٹی انوشے اور یہ اس کی تائی نگہت اور یہ دونوں نگہت اور فراز کے جڑواں بیٹے حامد اور احمد ہیں۔ اور یہ عبدالباری کے اکلوتے تایا ہیں۔ تایا فراز علی۔"
دادو ایک ایک کو اس سے ملوا رہی تھیں۔ وہ یہاں کسی کو بھی نہیں جانتی تھی مگر سب اس سے ایسے مل رہے تھے جیسے وہ اسی خاندان کا حصہ ہو۔ اسے یاد آیا اس کے گھر میں کبھی کسی نے بابا کے علاوہ اس سے اس طرح پیار سے بات نہیں کی تھی۔
تایا فراز نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے خوش رہنے کی دعا دی۔ تائی اور خالہ نے اسے سینے سے لگا کر ڈھیر سارا پیار کیا۔ عبدالباری نے بچوں کو سرگوشی میں کچھ کہا وہ میرب کو بھابھی بھابھی پکارتے چاروں طرف سے گھیر گئے۔
ملنے ملانے کا سلسلہ ختم ہوا تو دادو نے سب کو بیٹھنے کا کہا۔ عبدالباری نے میرب کے لیے کرسی کھینچی۔ میرب نے گھبرا کر سب کو دیکھا مگر کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ (ایسا میرب کو لگا تھا) عبدالباری اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا۔ اس نے خود میرب کے لیے ناشتہ نکالا۔
میرب کو اس وقت بالکل بھی بھوک نہیں تھی مگر وہ انکار کر کے بد تہذیبی کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
" اب تم یہیں رہو گے نا عبدالباری؟"
دادو نے چائے پیتے ہوئے عبدالباری سے پوچھا۔
" اگر آپ کی بہو یہاں رہنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
میرب نے چونک کر ان کو دیکھا۔
" بتاؤ میرب ہمارے ساتھ رہو گی یا عبدالباری کے ساتھ؟"
نگہت تائی نے مسکرا کر پوچھا۔
" آ۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔"
وہ معصومیت سے بولی۔
" نگہت تم بچی کو کنفیوژ کر رہی ہو۔ وہ نہیں رہنا چاہتی تو کوئی زبردستی نہیں ہے۔"
نزہت خالہ نے انوشے کو آملیٹ کھلاتے ہوئے کہا۔
" اگر مرزا زندہ ہوتا تو میرب کو دیکھ کر سب سے زیادہ خوش وہی ہوتا۔"
تایا فراز کی بات سن کر ہال میں ایک دم سب کے چہروں پر سوگواریت چھا گئی۔ سب لوگ لمحے بھر کے لیے خاموش ہو گئے۔
" تو کیا آپ سب خوش نہیں ہوئے میرب سے مل کر؟"
عبدالباری نے ماحول کو بدلنے کی کوشش کی۔
" ارے کیوں نہیں ہونگے خوش؟ ہمیں تو کب سے انتظار تھا میرب کا۔"
دادو نے محبت سے میرب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
میرب کی ہتھیلیاں بھیگنے لگی تھیں۔ گھبراہٹ کے عالم میں وہ تیزی سے کھڑی ہوئی۔
" کیا ہوا میرب؟ آپ ٹھیک ہیں؟"
عبدالباری بھی کھڑا ہوا تھا۔ سب ان دونوں کو دیکھنے لگے۔ میرب کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ بنا کسی کی طرف دیکھے وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
" دادو میں جلد چکر لگاؤں گا۔ آپ پریشان نہیں ہونا۔"
ان کا سر چومتا وہ باہر نکل گیا۔
"خیال رکھنا عبدالباری۔"
دادو کا اشارہ یقیناً میرب کی طرف تھا۔ وہ مسکرا کر ہاتھ ہلاتا باہر پہنچا جہاں میرب پہلے ہی گاڑی میں بیٹھی تھی۔
عبدالباری نے کوئی سوال نہیں کیا بلکہ گاڑی سٹارٹ کرتا بنگلے سے باہر نکال لے گیا۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

I agreed agr bap mar jy to beti ki dunia bilkul khali ho jati hai balay wo bap ap se mohabbat krta ho ya ni lakin bap k nam k sath jo tahafooz hota hai un k janay k bad ni rehta i miss my baba so much 😭😭😭❤️🩹💔❤️🥺🥺
ReplyDelete