Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

 


رخِ جاں ا
ز منزہ نیاز

قسط نمبر 4


گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔


" پلیز گھر چلو "

میرب بے زاری سے بولی۔


" پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔"

وہ نرمی سے بولا۔

" مجھے بھوک نہیں ہے۔"

مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔


" آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔" 

اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔


عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں گاڑیوں کی آمد و رفت جاری تھی۔


اس کے دوسری جانب جنگل تھا۔ جنگل کے کنارے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگی پھول جھاڑیوں میں کھلے تھے۔ دھوپ نہیں تھی۔ ٹھنڈی ہوا بادلوں کو ہر طرف گھما رہی تھی۔ ایک لڑکا ان کے پاس آرڈر لینے آیا۔ عبدالباری نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کھانا پسند کرے گی۔ میرب نے اس کو جواب دینے کے بجائے اسے فقت گھورنے پر اکتفا کیا۔ عبدالباری نے سمجھ کر خود اپنی پسند کا ناشتہ آرڈر کیا۔


" اگر آپ کو میرے گھر والوں سے ملنا اچھا نہیں لگا تو میں آپ کو آئندہ نہیں لے جاؤں گا۔"


میرب نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا۔

" ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں بس گھبرا گئی تھی۔"

 اس نے سچائی سے کہا۔ 


" جی میں اسی وقت سمجھ گیا تھا۔ پریشان مت ہوں، اگلی دفعہ آپ کو بتا کر لے جاؤں گا۔"

وہ مسکرایا۔ میرب نے واپس گردن کھڑکی کی طرف موڑ لی۔ لڑکا ناشتہ دے گیا۔


" تھوڑا سا کھا کر دیکھیں پسند نہ آئے تو بے شک مت کھائیے گا۔"

عبدالباری نے پھر سے اس کو مخاطب کیا۔ 


مہرب نے ٹیبل کے نیچے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا جو شور مچا رہا تھا۔ وہ کچھ لمحہ سوچتی رہی کہ انکار کر دیا ہے تو کیسے کھائے؟ مگر پھر اپنی بات کو سائیڈ پر پھینک کر اس نے پراٹھے کا نوالا توڑا۔ عبدالباری جو بھی سوچے مجھے کیا۔ بھاڑ میں جائیں سب۔ یہ عبدالباری بھی جو اچھا بننے کا ناٹک کرتا رہتا ہے۔


دل ہی دل میں سب کو بھاڑ میں جھونکتے اس نے ناشتہ شروع کیا۔ ناشتہ واقعی بے حد لذیذ تھا۔ اگلے پانچ منٹ میں اس نے سب صاف کر دیا تھا۔


" اور چاہیے؟"

اس نے دیکھا عبدالباری مسکراتی نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔


" نہیں۔"

اس نے آخری نوالا نگل کر چائے کا کپ اٹھا لیا۔ عبدالباری نے مسکرا کر اپنے لیے دوسرا ناشتہ منگوایا کیوں کہ وہ اس کا بھی ختم کر چکی تھی۔ وہ اب دھیرے دھیرے چائے کے گھونٹ بھرنے لگی۔ دماغ میں ماضی پھر سے تازہ ہونے لگا۔


چھ سالہ میرب ناشتے کی ٹیبل پر ایک ہی ضد لگائے بیٹھی تھی کہ وہ ناشتہ کرے گی تو صرف بابا کے ہاتھ سے ورنہ وہ سکول بھی نہیں جائے گی۔ عثمان جاوید کچھ عرصے سے بیمار رہنے لگے تھے۔ ناشتہ وہ کمرے میں ہی کرتے تھے۔ شاہ مین نے اسے سمجھایا مگر وہ نہیں مانی۔ آخر جب انہوں نے غصے میں آ کر اسے ڈانٹا تو وہی بیٹھے اونچا اونچا رونے لگی۔ اس کے رونے کی آواز سن کر بابا کمرے سے باہر نکل آئے تھے۔ 


" شاہ مین کیوں ڈانٹ رہی ہو میری گڑیا کو؟"  

انہوں نے ناراضگی سے شاہ مین کو دیکھا۔


" آپ نے تو اس کو عجیب طریقے سے اپنا عادی کیا ہوا ہے۔ مجال ہے جو میری بات سنے۔ اب باقی بچے بھی تو ہیں۔ انہوں نے تو کبھی ضد نہیں کی میرے سامنے۔ ایک آپ کی یہ لاڈلی ہے جس کی نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے۔"

کچھ خفگی سے انہوں نے ٹیبل پر رکھے برتن اٹھانا شروع کیے۔ 


عثمان جاوید سر جھٹکتے میرب کے پاس آئے اور اسے گود میں اٹھا لیا۔ ان کے سینے سے لگنے کی دیر تھی کہ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔


" بابا۔۔۔۔ ماما نے ڈانٹا۔"

وہ روتے ہوئے اپنی ماں کی شکایت کرنے لگی۔ 


" کوئی بات نہیں بیٹا۔ ماما ہے۔۔۔۔ ڈانٹ سکتی ہیں۔" 

محبت سے اس کا سر چومتے کرسی پر بیٹھے اور اسے بھی ساتھ اپنی گود میں بٹھا لیا۔


" آپ بھی تو میرے بابا ہیں نہ۔۔۔۔ آپ تو نہیں ڈانٹتے مجھے۔"

وہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی۔ عثمان جاوید نے نوالا توڑ کر اس کے منہ میں ڈالا۔


" بابا آپ کو کیوں ڈانٹیں گے میرب؟ بابا تو اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتے ہیں۔"

" اس کا مطلب ماما پیار نہیں کرتیں مجھ سے۔ اگر وہ کرتیں تو مجھے کبھی نہ ڈانٹتی۔" 


شاہ مین نے گہری سانس لے کر ان دونوں کو دیکھا۔

" ماما بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ بس کبھی کبھی ان کو غصہ آ جاتا ہے ورنہ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں آپ سے۔"  

انہوں نے مسکرا کر کہا۔


" کاش تو میری بیٹی نہ ہوتی۔۔۔۔ کاش میں نے تجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔"


شاہ مین کے الفاظ کسی خنجر کی طرح اس کو چیر گئے تھے۔ چائے کا گھونٹ اس کے حلق میں پھنس گیا۔ کپ واپس رکھتے اس نے دونوں ہتھیلیوں کو رگڑنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ پسینے میں نہا گئی تھی۔ عبدالباری کی نظر بے ساختہ اس پر پڑی تھی۔ جو ایک ہاتھ سینے پر رکھے اسے مسل رہی تھی۔


" میرب کیا ہوا آپ ٹھیک ہے؟"

ناشتہ ادھورا چھوڑتا وہ تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔


میرب بے جان قدموں سے کھڑی ہوئی اور باہر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر گرتی۔ عبدالباری نے فوراً اس کو بازوؤں سے تھام لیا۔ اگر وہ گر جاتی تو شاید اٹھ نہ پاتی۔ وہ عبدالباری کے سہارے گاڑی تک پہنچی تھی۔ 


" میں آتا ہوں بس ایک منٹ میرا انتظار کریں۔"  

وہ تیزی سے واپس چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی میرب کے آنسو ایک دم سے پھوٹ پڑے۔ وہ جو صبح سے ضبط کرنے کی کوشش میں لگی تھی ایک جھٹکے میں ریزہ ریزہ ہوئی تھی۔ عبدالباری ایک منٹ سے بھی پہلے واپس لوٹا تھا۔ اس کو اس طرح روتے دیکھ کر اس کا دل مٹھی میں آیا تھا۔


" میرب ادھر دیکھیں۔ میں آپ کے پاس ہوں۔"  

اس نے میرب کے ٹھنڈے ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیے۔ میرب نے دھندلائی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔


" سنان۔۔۔۔۔ اس نے۔۔۔۔ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ مجھے اس سے بہت محبت تھی عبدالباری۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے مجھ پہ اعتبار کیوں نہیں کیا؟ وہ تو محبت کرتا تھا نا مجھ سے پھر اس نے مجھے برباد کیوں کر دیا؟" 


عبدالباری نے دیکھا وہ مشکل سے سانس لے رہی تھی۔ اس کا جسم دھیرے دھیرے کانپ رہا تھا۔ وہ اس کے قریب ہوا اور بہت نرمی سے اس کا ہاتھ مسلنے لگا۔ 


" میرب۔۔۔۔۔"

عبدالباری نے بولنے کے لیے لب کھولے مگر میرب اس کی بات کاٹ گئی۔

" نہیں عبدالباری۔۔۔۔ پلیز مجھے بولنے دو۔ وہ کہتا تھا وہ مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ بابا کے بعد میں نے اس پر بھروسہ کیا۔ اس سے محبت کرنے لگی۔ اسے اپنی دنیا مان لی۔ وہ میرا سب کچھ تھا عبدالباری مگر جو کچھ اس نے کیا میں چاہ کر بھی اس سے نفرت نہیں کر پا رہی۔ اس نے مجھے کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اور میں ایسی بدکردار ہوں کہ ابھی بھی اس کو یاد کر رہی ہوں، اسی کو پکار رہی ہوں، اسی کو بلا رہی ہوں۔ عبدالباری پلیز مجھے بابا کے پاس لے جاؤ۔ مجھے ان سے ملنا ہے۔ ان کو سب بتانا ہے۔ میں ان سے کہنا چاہتی ہوں کہ ان کے بغیر کیسے ان کی میرب پل پل مر رہی ہے۔ اگر وہ آج میرے ساتھ ہوتے نا تو میں سب کو دیکھ لیتی۔ ہر ایک سے اپنا حساب لے لیتی۔ اپنے ہر ایک آنسو کا۔ جنہوں نے مجھے رلایا۔ مجھ پر الزام لگایا۔ مجھے بد کردار کہا۔ اگر میرے بابا ہوتے تو مجھ پر الزام لگانے والوں کا منہ توڑ دیتے۔ میں اپنے بابا کی بیٹی ہوں عبدالباری۔۔۔ میں بد کردار نہیں ہوں۔۔۔۔ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔۔۔۔ میں نے تو کوئی وہ کام نہیں کیا جس سے میں غلط کہلائی گئی۔ مجھ پر الزام لگایا گیا تھا عبدالباری۔۔۔۔ میں بری لڑکی نہیں ہوں۔۔۔۔ میں نہیں ہوں بری۔۔۔۔ میں اپنے کردار کی گواہی کیسے دوں گی بابا کو؟ اگر انہوں نے مجھ پر یقین نہ کیا تو میں واقعی مر جاؤں گی۔۔۔۔ مگر مجھے معلوم ہے وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ میری بات سن لیں گے۔ وہ مجھ پر یقین کریں گے نہ عبدالباری؟"

وہ تڑپ کر روتی جا رہی تھی۔ 


عبدالباری نے بغیر کچھ کہے اسے اپنے آغوش میں لے لیا۔

" ہاں وہ آپ پر یقین کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ معصوم ہیں۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔ آپ کو کسی کو بھی اپنے کردار کی گواہی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک میں ہوں آپ کو اس بات سے ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔" 

وہ بہت نرمی سے اس کا سر سہلا رہا تھا۔ میرب نے اس کی شرٹ مٹھی میں بھینچ لی۔ وہ کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی تھی اور نہ ہی سمجھ پا رہی تھی کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔ 


" نہیں عبدالباری۔۔۔۔ تم نہیں جانتے کچھ بھی۔۔۔ اگر تمہیں میرے بارے میں سب معلوم ہوتا تو تم کبھی مجھ سے اتنی ہمدردی نہ دکھا رہے ہوتے بلکہ تمہیں مجھ سے نفرت ہوتی۔۔۔ صحیح کہتی ہیں خالہ۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں جس سے محبت کی جائے۔ انہوں نے کہا میں قابلِ نفرت ہوں اور میں واقعی قابلِ نفرت ٹھہرائی گئی۔ مجھے پتہ ہے ایک دن تم بھی بابا کی طرح مجھے اکیلا چھوڑ جاؤ گے۔ باقی سب کی طرح مجھے دھتکار دو گے۔ نفرت کرنے لگو گے۔ میں نے ایسا کیا کیا ہے عبدالباری جو میرے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے؟ میں نے تو صرف محبت کی ہے۔ میں سنان میں بابا کو ڈھونڈتی تھی کیونکہ وہ میرا ان کی طرح خیال رکھتا تھا۔ ان کی طرح مجھ سے محبت کرتا تھا مگر وہ سب جھوٹ تھا عبدالباری۔ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا۔ یہ سارے زخم، یہ ساری چوٹیں میں نے اس کے لیے کھائی ہیں، مگر یہ زخم مجھے اتنی تکلیف نہیں دیتے جتنا اس کے دیے گئے روح پر دیتے ہیں۔ مجھے یہاں درد ہوتا ہے عبدالباری۔۔۔۔ یہ درد اتنا شدید ہے کہ میں برداشت نہیں کر پا رہی۔" 

وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے سرخ آنکھوں کو رگڑ کر بولی۔ 


عبدالباری خاموش رہا تھا وہ بس اس کا سر سہلاتا اس کو خاموشی سے سن رہا تھا۔ جب کافی دیر بعد وہ رو کر چپ ہوئی تو دھیرے سے اس سے الگ ہو گئی۔


" میرب۔۔۔۔"

عبدالباری کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ میرب نے سوجی ہوئی نم آنکھوں سے اس کو دیکھا۔


" میں آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا۔ میں نے آپ کو دھتکارنے کے لیے، آپ سے نفرت کرنے کے لیے آپ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ میں سانس لینا چھوڑ سکتا ہوں مگر آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ نہیں جانتی کہ آپ کو پانے کے لیے میں کیا کیا کر چکا ہوں۔ آپ کو ڈھونڈنے کے لیے میں نے کون سی حدیں پار کی ہیں وہ میں کبھی نہیں بتا سکوں گا، مگر ایک بات آپ سے ضرور کہنا چاہوں گا۔ عبدالباری آپ سے بہت محبت کرتا ہے میرب۔"

وہ ہلکا سا جھکا اور نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے اور میرب نم آنکھیں لیے ساکن بیٹھی رہ گئی تھی۔


جاری ہے

Comments

Popular Posts