Featured

Rukh e Jaan Episode 5 by Munaza Niaz - Romantic novel - childhood love - family base

 


رخِ جاں از منزہ نیاز 

قسط نمبر 5


وہ صرف سات سال کی تھی جب عثمان جاوید اس کو روتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ میرب کو لگا ایک بابا ہی تو تھے جو اس کے اپنے تھے اور وہی اس کو اکیلا اس دنیا میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب اس نے آخری بار اپنے بابا جان کو مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اس وقت ہاسپٹل کے گراؤنڈ میں باہر ویل چیئر پر بیٹھے تازہ ہوا کھا رہے تھے۔ 


جب وہ اور اس سے دو سال بڑا اس کا بھائی طلحہ بھاگ کر ان کے پاس آئے تھے۔ عثمان جاوید کا چہرہ میرب کو دیکھ کر ہی کھل اٹھا تھا۔ خوش تو میرب بھی بہت تھی۔ کیونکہ وہ اپنے بابا سے پورے پانچ دن بعد مل رہی تھی۔ وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے۔


" بابا آپ کو پتہ ہے میں نے آپ کو کتنا مس کیا۔"

اس نے اپنے دونوں ننھے بازو پھیلا کر "کتنا" کو کھینچا تھا۔ عثمان جاوید دھیرے سے ہنس دیے۔ 


" میں نے بھی اپنی میرب کو بہت مس کیا۔"  

انہوں نے اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا دیا۔ 


" بابا آپ گھر کب چلیں گے؟ گھر آپ کو بہت مس کرتا ہے بابا۔"

میرب نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر کہا۔ 


" بہت جلد چلوں گا بچے۔ بس بابا ٹھیک ہو جائیں پھر ہم مل کر کھیلیں گے۔" 

انہوں نے شفقت سے اس کا سر چوما۔


" بابا آپ کو پتہ ہے امینہ خالہ نے میرب کو تھپڑ مارا۔۔۔۔ یہ آپ سے ملنے کے لیے ضد کر رہی تھی تو انہوں نے غصے سے اس کو تھپڑ مار دیا۔"  

طلحہ جو کب سے ان کے خاموش ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ جلدی سے بولا۔ اس کی بات سنتے ہی عثمان جاوید کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ انہوں نے اپنا فون نکالا اور اسی وقت ان کو کال ملا دی۔

" تم نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا؟" 


امینہ خالہ جو عثمان جاوید کی کال دیکھ کر حیران ہوئی تھیں کہ ان کی اگلی بات سنتے ہی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔


" عثمان بھائی میں تو۔۔۔۔۔"

" میری بات اپنے ذہن میں بٹھا لو امینہ۔۔۔۔ اب اگر تم نے میری بیٹی کو ہاتھ بھی لگایا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میری بیوی کی بہن ہو۔ میں ابھی مرا نہیں ہوں جو تم ایسا سلوک کر رہی ہو میرے بچوں کے ساتھ۔ جب تک میں زندہ ہوں کوئی میرے بچوں کو ہاتھ بھی لگائے یہ میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔"


دوسری طرف امینہ خالہ نے بولنے کی کوشش کی مگر عثمان جاوید نے فون بند کر دیا۔ میرب نے پہلی دفعہ اپنے بابا کو اس قدر غصے میں دیکھا تھا۔ ان کا کہا ہر لفظ اسے آج بھی ازبر تھا اور وہی وہ دن تھا جب عثمان جاوید کی اچانک طبیعت بگڑ گئی تھی۔ انہیں فوراً آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ عثمان جاوید میرب کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے تھے۔


وہ ان سے لپٹی چیخ چیخ کر روتی بس انہیں پکارے جا رہی تھی۔ سب نے ہی اس کو سنبھالا مگر کوئی بھی اس کا درد سمجھ نہیں سکا تھا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ عثمان جاوید کے انتقال کے بعد شاہ مین اپنے پانچوں بچوں کے ہمراہ اپنی بہن کی طرف دوسرے شہر میں شفٹ ہو گئی تھیں۔ میرب پورا پورا دن کمرے میں پڑی رہتی۔ فضا اس کو بہلانے کی کوشش کرتی، اس سے کھیلنے کی کوشش کرتی مگر اس کی چپ نہ ٹوٹتی۔ شاہ مین نے بھی اس کو سمجھایا، اس کا خیال رکھا مگر وہ بچی تھی۔ کہاں سمجھ پا رہی تھی۔ اسے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ اسے صرف اپنا بابا چاہیے تھا۔ وہ جب بھی کہتی میرے بابا کب آئیں گے؟ ہم اپنے گھر کب چلیں گے؟ بابا ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے نا؟ تو شاہ مین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتیں۔  


میرب ان کو روتا ہوا دیکھتی تو خود بھی سسکنے لگتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ شاہ مین نے خود کو سنبھال لیا تھا اور باقی سب نے بھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا مگر ایک میرب تھی جو اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی ویسی ہی تھی۔ سب لوگ اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے مگر وہ بچی تھی کبھی بہل جاتی کبھی ویسی ہی رہتی۔


ایک دن وہ اپنی گڑیا بانہوں میں پھنسائے باہر لان میں گھاس پر بیٹھی تھی۔ اس کی نظریں مسلسل گیٹ پر جمی تھیں۔ ہر لمحہ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی گیٹ کھلے گا اور بابا کا مسکراتا چہرہ اس کے سامنے ہوگا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ تبھی اس نے اپنے پیچھے آہٹ محسوس کی۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا سنان اس کے پہلو میں آ بیٹھا تھا۔ وہ امینہ خالہ کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ میرب سے پانچ سال بڑا تھا۔ 


" میرب تم کیوں رو رہی ہو؟"

سنان نے جب اس کا گیلا چہرہ دیکھا تو فکرمندی سے بولا۔


" مجھے بابا کی یاد آرہی ہے۔" 

اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنے گال صاف کیے۔


" تو اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ دیکھو میرب! انکل اب واپس نہیں آ سکتے۔ وہ ایک ایسی جگہ چلے گئے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ اگر وہ آ سکتے تو میں ان کو ضرور لے کر آتا اور ان کو بتاتا کہ آپ کی میرب آپ کو بہت مس کر رہی ہے۔" 

سنان نے کسی بڑے کی سی سنجیدگی سے کہا۔ 


" وہ کیوں نہیں آ سکتے سنان؟ کیا میں ان کو کبھی نہیں دیکھ پاؤں گی؟" 

وہ معصومیت سے سوال کر گئی۔ سنان نے ہاتھ بڑھا کر اس کی پونی ٹھیک کی پھر اس کی کلپس۔

" ہاں میرب اب وہ کبھی نہیں آ سکتے۔ جو لوگ مر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے۔ تم ابھی بچی ہو اس لیے تمہیں کچھ نہیں پتہ۔ مگر ایک دن تم سب سمجھ جاؤ گی۔" 

بارہ سالہ لڑکا ایسے بول رہا تھا جیسے وہ کوئی سمجھدار مرد ہو اور میرب ایک چھوٹی سی ناسمجھ بچی۔ جس کو کچھ نہیں معلوم۔ میرب نے کچھ نہیں کہا۔ سنان نے اس کے بولنے کا انتظار کیا مگر وہ کچھ نہ بولی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔


" آئس کریم کھاؤ گی؟" 

میرب نے نفی میں سر ہلایا۔

" آجاؤ یار مزے کی آئس کریم ملتی ہے۔ تمہیں بہت پسند آئے گی۔ میری فیورٹ ہے۔"

اس نے ہاتھ بڑھایا تاکہ میرب اس کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہو سکے۔ میرب نے لحظہ بھر اس کو دیکھا پھر اس کا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑی ہوئی۔ 


سنان نے اسے وہاں کی سب سے مزیدار آئس کریم کھلائی۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے گھر کے پاس بنے قریبی پارک میں بھی لے گیا تھا۔ واپسی پر سنان کے ساتھ میرب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔ وہ جو بابا کے جانے کے بعد مسکرانا بھول گئی تھی، سنان کے سنگ ہنسنے لگی تھی۔ اس کا ایک ہاتھ ابھی بھی سنان کے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں اس نے چاکلیٹس تھام رکھی تھیں۔ اس دن سے ان دونوں کے درمیان دوستی کا آغاز ہوا تھا۔ 


•••••


اس کا زیادہ تر وقت اب لائبریری میں گزرنے لگا تھا۔ اپنے کمرے میں وہ بہت کم کم ہی پائی جاتی تھی۔ عبدالباری کو اس نے زیادہ تر گھر پر ہی وقت گزارتے دیکھا تھا۔ وہ بہت کم گھر سے باہر جاتا تھا۔ اکثر وہ اپنا سیاہ گھوڑا لے کر جنگل کی طرف نکل جاتا تھا اور وہ چھت کی بالکونی سے اس کو روز جاتا ہوا دیکھتی رہتی۔ جانے سے پہلے وہ گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھتا پھر ہاتھ اٹھا کر اسے بتاتا کہ وہ جا رہا ہے۔ ساتھ میں اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرنا نہیں بھولتا تھا۔ 


اس وقت بھی وہ گھر موجود نہیں تھا۔ میرب لائبریری میں صوفے پر بیٹھی ایک ناول میں مگن تھی۔ ناول میں اتنا سسپنس تھا کہ وہ آج ہی پورا ختم کر دینا چاہتی تھی۔ لائبریری میں مکمل سناٹا تھا۔ باہر سرد ہوائیں درختوں کے پتوں کو مدہوش کیے دے رہی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا۔ گھڑی کی ٹک ٹک لائبریری کی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ وہ اس سب سے بے خبر پوری طرح ناول میں کھو چکی تھی۔ کچھ ساعتیں ایسے ہی گزر گئیں۔ کتاب کا آخری صفحہ بند کرتے اس نے جب گردن اٹھائی تو اس کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی۔ 


بے ساختہ اس کی نگاہ گلاس وال کی طرف اٹھی۔ بارش کی بوندیں گلاس پر گر کر پھسلتی جا رہی تھیں۔ بارش کب کی شروع ہو چکی تھی۔ اس نے کتاب اٹھا کر واپس شیلف میں رکھی اور بھاگ کر لائبریری سے باہر نکل آئی۔ کالی گھٹاؤں نے ہر طرف اندھیرا پھیلا رکھا تھا۔ اس نے بیرونی دروازہ کھولا اور مسکراہٹ دباتی لان میں آگئی۔ بارش اس کو بہت پسند تھی مگر ایک عرصہ ہوا اس نے بارش میں نہانا چھوڑ دیا تھا۔ اکثر جب بارش ہوتی تھی تو وہ کمرے میں چھپ جاتی تھی۔ 


ایک مرتبہ جب وہ بھیگنے کے لیے بارش میں نکلی تو خالہ نے اس کو بہت سنایا تھا۔


" تم کوئی چھوٹی بچی نہیں ہو جو بارش میں یوں اچھل رہی ہو۔ ایسی حرکتیں یہاں نہیں چلیں گی۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے جو تم اپنی من مانی کرتی پھرو۔ شرافت سے اندر دفع ہو جاؤ۔"


صرف اتنا ہی نہیں انہوں نے اس کے جانے کے بعد شاہ مین کو بھی اس کی شکایت لگا دی تھی۔


" بچی جوان ہو رہی ہے شاہ مین! یوں اس طرح چھت پر بارش میں نہانا اس کو زیب نہیں دیتا۔ اگر کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا؟ تم سمجھاؤ اس کو، میری بات تو سنتی ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی لڑکا چھت سے اس کو اس حالت میں دیکھ لے تو خود سوچو کیا اثر پڑے گا اس پر۔ تمہیں اس پر نظر رکھنی چاہیے شاہ مین ورنہ کل کو اگر کوئی بات بگڑ گئی تو کیسے سنبھالوں گی تم؟" 


اور اس رات وہ شاہ مین سے پہلا تھپڑ کھا کر سوئی تھی۔ اس دن کے بعد اسے خالہ کے ساتھ بارش سے بھی نفرت ہو گئی تھی مگر اب؟ اب بارش کو دیکھ کر اس کا دل خودبخود کھینچا چلا آیا تھا۔ سردی بھی تھی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کیونکہ اب ٹوکنے والا کوئی نہیں تھا۔


اس وقت وہ بارش میں خوب نہائی تھی۔ زیادہ پل نہیں گزرے تھے کہ اسے عبدالباری آتا ہوا دکھائی دیا۔ یقیناً بارش کے باعث وہ جلدی لوٹ آیا تھا۔ گھوڑے کو گارڈ کے حوالے کرنے کے بعد وہ سیدھا اس کی طرف بڑھا۔ وہ جو دنیا و مافیا سے بے نیاز خود میں مگن تھی اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ٹھٹک گئی۔


عبدالباری بھیگے لباس میں اس کے عین سامنے آ کر ٹھہر گیا۔ میرب نے اس کی سیاہ گہری آنکھوں میں دیکھا جو صرف اس کے چہرے پر ٹکی تھیں۔ اسے لگا شاید وہ اس سے ناراض ہوگا۔ اسے اندر جانے کا کہے گا۔ مگر عبدالباری نے ایک لفظ نہیں کہا۔


" کیا ہوا رک کیوں گئیں؟"

اس نے نرمی سے پوچھا۔


" نہیں۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔" 

وہ نظریں چراتی بولی۔ عبدالباری ایک قدم اور پاس آیا۔ میرب ہل نہیں سکی۔ وہ کچھ پل اس کے چہرے کو جذب کرتا رہا پھر اس کے گالوں پر چپکی لٹوں کو نرمی سے انگلیوں سے پیچھے کرتا مسکرایا۔


" ایسے ہی ہمیشہ خوش رہا کریں۔ جو دل میں آئے کریں۔ کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔ اداسی آپ کے لیے نہیں بنی۔ جب جب آپ مسکراتی رہیں گی، میں جیتا رہوں گا۔"


اتنا کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ میرب نے گردن موڑ کر اس کی پیٹھ کو دیکھا۔ ہاتھ خود بخود اپنے گال کو چھو گیا، جہاں عبدالباری کا لمس ٹھہرا تھا۔ اس سے نظریں ہٹا کر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پانی کی بوندیں سیدھا اس کے چہرے پر گرنے لگیں۔ 


کیا وہ دوبارہ کبھی محبت کر پائے گی؟ کیا وہ پھر سے کسی مرد پر یقین کر پائے گی؟ سوال سادہ تھا مگر جواب بے حد پیچیدہ۔ اس نے اپنی ہتھیلیاں اپنے چہرے کے سامنے کیں۔ کیا اس کی قسمت میں پھر سے دھوکہ کھانا تو نہیں لکھا؟ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی تھی؟ اگر ایسا ہے تو اسے یہ سب نہیں چاہیے تھا۔ اگر عبدالباری کی محبت وقتی ہے تو اسے بالکل بھی نہیں چاہیے تھی۔ جو وقت آنے پر بدل جائے۔ مشکل وقت پر چھوڑ دے۔ اس نے گہری سانس لی اور خاموشی سے اندر چلی گئی۔


•••••


جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ شام ہوتے ہی اسے بخار ہو گیا مگر اس نے نظر انداز کر دیا۔ کھانا کھاتے ہوئے عبدالباری کی نظریں مسلسل اس پر جمی تھیں۔ جو سرخ گال اور ناک لیے سست روی سے لقمے لے رہی تھی۔ کھانا ختم کرنے کے بعد عبدالباری نے خود ٹیبل صاف کی۔ وہ جو اٹھنے لگی تھی کہ عبدالباری نے منع کر دیا۔ برتن رکھنے کے بعد وہ اس کے لیے چائے کے ساتھ دوا بھی لے آیا تھا۔ میرب کو لگا شاید وہ کچھ کہے مگر وہ تو بالکل ہی چپ تھا۔ جب تک وہ چائے پیتی رہی عبدالباری اس کو دیکھتا رہا۔ میرب جذبز تو بہت ہوئی مگر اس کو خود کو دیکھنے پر ٹوک نہ سکی۔


خالی کپ اٹھا کر جب وہ کچن کی طرف جانے لگی تو عبدالباری نے روک لیا۔

" مجھے دیں۔"

اس نے نرمی سے کپ اس کے ہاتھوں سے لے لیا اور خود جا کر اسے کچن میں رکھ آیا۔ میرب واپس کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔ عبدالباری جب واپس اس کے مقابل بیٹھا تو میرب اس کو غور سے گہری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں عبدالباری کو عجیب محسوس ہوئیں جیسے وہ اس کے اندر کا سارا احوال جان لینا چاہتی ہو کہ وہ ایسا کیوں ہے؟ کیا صرف اس کے لیے ایسا ہے یا سب کے لیے؟  


" عبدالباری۔۔۔"

میرب نے دھیرے سے گہری آواز میں اس کو بلایا۔

" جی۔۔۔" 

میرب اس کی اس قدر فرما برداری پر ایک دم سیدھی ہوئی۔ 


"مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔" 

" کیا بات ہے؟ پوچھیں۔"

دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے، ہاتھ سامنے میز پر رکھتے وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا۔ وہ پوری توجہ سے میرب کو دیکھ رہا تھا۔


" میں جو کچھ بھی پوچھوں گی پلیز مجھے سچ سچ بتانا۔ کچھ بھی مت چھپانا۔"

وہ لحظہ بھر ٹھہری۔ عبدالباری کی گہری نگاہیں اس کے چہرے کے تاثرات کو جانچ رہی تھیں۔ میرب نے چہرے پر آئے بال پیچھے کیے اور اسی کے انداز میں دونوں ہاتھ باندھ کر میز پر رکھے۔


" تم مجھے کیسے جانتے ہو؟ تمہاری فیملی مجھ سے اس طرح کیوں مل رہی تھی جیسے برسوں سے جانتی ہو جبکہ نہ میں تمہیں جانتی ہوں اور نہ ہی میں نے تمہاری فیملی میں سے کبھی کسی کو کہیں دیکھا ہے۔ دیکھو مجھ سے جھوٹ ہرگز مت بولنا۔ مجھے سچ جاننا ہے۔" 

آخر میں اس نے انگلی اٹھا کر دھمکی آمیز انداز میں کہا۔ عبدالباری کی نظر اس کے چہرے سے ہاتھ پر گئی پھر ہاتھ سے واپس چہرے پر۔ وہ سوالیہ اور الجھی نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ 

" کیا سچ میں آپ مجھے نہیں جانتیں؟"

میرب نے فوراً نفی میں سر ہلایا کیونکہ وہ واقعی نہیں جانتی تھی۔


" مگر میں تو آپ کو سولہ سالوں سے جانتا ہوں۔"

" کیا کہا؟" 

میرب تیزی سے سیدھی ہوئی جیسے جھٹکا لگا ہو۔

" سولہ سالوں سے؟" 

وہ بے یقینی سے بولی۔ عبدالباری اب بھی سنجیدہ ہی رہا۔ میرب کی گہری بھوری بڑی بڑی آنکھیں اس کو کہیں دور لے جانے پر مجبور کر رہی تھیں۔


" اور میری فیملی کو آپ اتنی ہی اہم اور عزیز ہیں جتنا میں ہوں۔ نہ میں نے ان کو آپ سے محبت سے پیش آنے پر مجبور کیا ہے اور نہ ہی میں اس قسم کی جھوٹی محبت کے دکھاوے کا قائل ہوں۔ میری فیملی آپ سے خالص محبت کرتی ہے۔ ان کو کسی ڈرامے کی ضرورت نہیں ہے۔"

" مگر وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میں آخر لگتی ہی کیا ہوں تم لوگوں کی؟ مجھے پتہ ہے تم ابھی بھی جھوٹ بول رہے ہو یا پھر مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو۔ بولو عبدالباری تم کون ہو؟"  

میرب نے ذہن پر زور دینے کی بہت کوشش کی مگر اس کو ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آیا جو اسے عبدالباری سے جوڑتا۔ وہ بنا پلک چھپکائے اس کو دیکھے جا رہی تھی۔ ٹی وی ابھی بھی چل رہا تھا۔ بارش ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔ اگر کچھ ٹھہرا تھا تو ان دونوں کے درمیان وہ لمحہ تھا۔


" کیا تم نے کوئی قتل کیا ہے؟" 

عبدالباری چونکا۔ میرب نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائی۔


" نہیں۔"

اس نے سیدھا جواب دیا۔

" تو پھر تمہارے پاس گن کیا کر رہی ہے؟ میں نے تمہارے کمرے میں خون کے نشان بھی دیکھے تھے۔ تم نے کس کو مارا ہے؟"

میرب کی آواز غیر ارادی طور پر اونچی ہوئی تھی۔ عبدالباری ایک لفظ نہیں بولا۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا مگر وہ سچ بھی نہیں بتاتا تھا۔ 


" آپ میری غیر موجودگی میں میرے کمرے میں کیا کرنے گئی تھیں؟" 

میرب گڑبڑا گئی مگر پھر فوراً ہی سنبھل گئی۔ 


" پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔ کیا تم نے کوئی قتل کیا ہے؟ کہیں تم نے کسی کو مار کر اس کی لاش اس گھر میں کہیں چھپا رکھی ہے کیا؟ کیا تم۔۔۔۔"

" آپ میرے کمرے میں کیا کرنے گئی تھیں؟"

میرب ایک پل کو ٹھہر سی گئی۔ عبدالباری کا لہجہ ابھی بھی نرم ہی تھا مگر میرب کو لگا وہ بہت ضبط سے کام لے رہا ہے۔


" میں تمہاری بیوی ہوں۔ تمہارے بارے میں جاننے کا مجھے پورا حق ہے۔"

 وہ چبا چبا کر بولی۔ پھر جب اپنے جملے پر غور کیا تو چپ سی ہو گئی۔


" جتنا آپ مجھے دیر سے جانیں گی، اتنا ہی آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ ورنہ جلد بازی میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھیں گی۔"

وہ کرسی گھسیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرب کا منہ کھل گیا۔ وہ تیزی سے اٹھی۔

" تم میرے نقصان کی بات کر رہے ہو؟ میرے پاس آخر ہے ہی کیا جس کے کھونے پر میں کوئی نقصان اٹھاؤں گی۔ میں نے تو وہ سب کھویا ہے جو کبھی میرا تھا ہی نہیں۔"  


عبدالباری کی بند انگلیاں دھیرے سے کھل گئیں۔ 

" کچھ مت بتاؤ مجھے مگر ایک نہ ایک دن میں سچ جان ہی لوں گی۔" 

سر جھٹکتی جیسے ہی وہ جانے لگی عبدالباری نے اس کی گرم کلائی تھام لی۔ وہ حیران ہوئی۔ 


" یہ تم۔۔۔۔"

ابھی وہ جملہ مکمل کرتی عبدالباری نے دھیرے سے اس کو اپنے روبرو کر لیا۔

" سچ جانا چاہتی ہیں آپ؟"


میرب نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ بخار کا اثر تھا یا عبدالباری کے لمس کا۔ اس کے گال اور سرخ ہو گئے۔

" ہاں مگر یہ کیا طریقہ ہے؟"

 اس نے کچھ خفگی سے کلائی کھینچی مگر عبدالباری نے تب بھی گرفت ڈھیلی نہ کی۔ اگلے پل وہ اس کو لیے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔


میرب بے ساختہ اس کے ساتھ کھینچی چلی آئی۔ اس کو لگا شاید وہ اس کو اپنے کمرے میں لے جائے گا۔ شاید کوئی صفائی، کوئی وضاحت دے گا مگر وہ اس کو کمرے کے بجائے اس سے ملحقہ دوسرے کمرے کی طرف لے گیا جو لائبریری سے ذرا آگے تھا۔ جس پر ہمیشہ تالا لگا رہتا تھا۔ عبدالباری نے لاکڈ کھولا وہ کچھ متجسس ہوتی اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔


عبدالباری نے ہاتھ بڑھا کر کمرہ روشن کر دیا۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ ایک صوفہ سیٹ کمرے کے وسط میں رکھا تھا۔ صوفے کے علاوہ وہاں کوئی دوسرا فرنیچر نہیں تھا اور صوفے کا رخ سامنے والی دیوار کی طرف تھا۔ بے ساختہ اس کی نگاہ سامنے دیوار پر گئی تھی۔ اس کے قدم تھم گئے۔ ایسے جیسے زنجیروں میں جکڑ لیے گئے ہوں۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ عبدالباری نے اس کی کلائی آہستہ سے چھوڑ دی۔ میرب کا ہاتھ پہلو میں آ کر جھول گیا۔ وہ ساکت اور جامد منہ کھولے اس فریم شدہ تصویر کو دیکھے گئی۔


عبدالباری ذرا حیران نہیں ہوا۔ شاید وہ پہلے سے جانتا تھا کہ میرب کا کیا تاثر ہوگا۔ کچھ لمحے سرکے۔ وہ بمشکل قدم اٹھاتی دیوار کی طرف بڑھی۔ قریب جا کر اس نے کانپتا ہوا ہاتھ اٹھایا اور اس چہرے پر رکھ دیا جس کو برسوں پہلے وہ کھو چکی تھی۔ جس کو دیکھے مانوں صدیاں بیت گئی ہوں۔


" بابا۔۔۔۔" 

 اس کے لبوں سے ٹوٹی ہوئی سرگوشی نکلی۔ اس نے دوسرا ہاتھ اٹھایا اور ایک دوسرے چہرے پر رکھ دیا۔ وہ ایک بچی تھی جس کو عثمان جاوید نے اٹھا رکھا تھا۔ اس نے بمشکل سانس لی۔ آنسو لڑھک کر گال پر گرا۔ اس نے مڑ کر دیکھا عبدالباری چلتا ہوا اس کے پاس آ کر رک گیا تھا۔


" یہ آپ ہیں اور یہ آپ کے بابا۔"

میرب یہ بات جانتی تھی مگر عبدالباری؟ وہ کیسے جانتا تھا اور یہ تصویر اس کے پاس کیسے آئی؟ جبکہ اس کی تو ایک بھی تصویر اپنے بابا کے ساتھ نہیں تھی۔ جبکہ یہاں پر تو دونوں اکٹھے تھے اور یہ تصویر کب لی گئی؟ اسے بھلا یاد کیوں نہیں آ رہا تھا۔


" یہ میں آپ کو تحفے کے طور پر دینا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔" 

اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ میرب کو نہ جانے کیوں مگر اس کے اس ادھورے جملے پر غصہ آیا۔


" مگر کیا؟"

آنکھوں کی نمی پونچھتی وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔ عبدالباری اس کی طرف مڑا۔


" مجھے بتاؤ عبدالباری یہ۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ کون ہو تم؟ تم مجھے اور میرے بابا کو کیسے جانتے ہو؟ بولو نا۔"

میرب نے کسی بچے کی طرح اس کا ہاتھ پکڑ کر ہلایا۔


عبدالباری کی آنکھوں کے سامنے ایک منظر گھوم گیا۔ ایک چھوٹے سے ہاتھ کا اس کے ہاتھ میں ہونا۔ کسی کا ضد سے اس کو باری پکارنا، پھر رونا۔ 


عبدالباری نے دھیرے سے ہاتھ اٹھایا اور اس کے آنسو صاف کیے۔ 

" عبدالباری میرب کا دوست ہے۔"

ایک چہکتا ہوا جملہ اس کے ذہن میں گونج گیا۔ وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔ میرب نے اس کی مسکراہٹ دیکھی تو اور شدت سے رونے لگی۔ 


" عبدالباری آپ کا دوست ہے میرب۔"


میرب بے اختیار ایک قدم پیچھے ہو گئی۔

" نہیں۔۔۔۔ میرا کوئی دوست نہیں ہے۔" 

اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا اور فوراً کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی۔


جاری ہے

Comments

  1. Sweet twist ❤️❤️❤️ loved it 💞💞💞💞😀😍😍❤️❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts