Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

Books and Awareness 📚🐣/ novels💞🦋/ love and life📖❤

 


کتابیں اور زندگی

آج دو پھوپھیاں ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں۔ میں، امی اور دونوں پھوپھیاں کمرے میں موجود تھے۔ باتوں کے دوران اچانک چھوٹی پھوپھو کی نظر کمرے کے ایک کونے میں رکھے ڈھکے ہوئے ڈرم پر پڑی۔

پھوپھو (حیرانی سے): "اس میں کیا ہے؟"

امی نے ان کی بات پر مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا، جو موبائل میں مصروف تھی۔

امی (چوٹکی لیتے ہوئے): "اس سے پوچھو، اسی کا ہے!"

پھوپھو نے ذرا غور سے مجھے دیکھا، پھر اندازہ لگاتے ہوئے بولیں:
"ہاں، اس میں یقیناً کپڑے وغیرہ رکھے ہوں گے۔"

میں خاموش رہی۔

امی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ راز کھولا:
"نہیں، اس میں اس کی کتابیں اور ناولز ہیں، یہ تو کچھ بھی نہیں، اس کی سائیڈ ٹیبل بھی بھری ہوئی ہے۔ وہ دیکھو، ٹیبل پر بھی ناولز اور کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے!"

پھوپھو نے بے اختیار سر جھٹکا اور طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولیں:
"کام دیکھو لڑکی کا! بیٹا، تمہاری ساری عقل تو انہی کتابوں میں ہوگی۔ لیکن جب تمہاری شادی ہو جائے گی، تب کیا کرو گی؟ شوہر سے کیسے لڑو گی؟ تمہیں تو لڑنا ہی نہیں آتا، تب کیا ہوگا؟"

میں ایک لمحے کے لیے خاموش رہی، پھر مسکرا کر نظریں اٹھائیں اور سکون سے جواب دیا:
"پھوپھو، میری کتابوں نے مجھے لڑنا نہیں سکھایا، اور نہ ہی یہ سکھاتی ہیں کہ شوہر سے جھگڑا کرو، اسے نیچا دکھاؤ، یا جاہل عورتوں کی طرح چیخ چیخ کر سب کی نظروں میں گر جاؤ۔"

میرے جواب پر کمرے میں پل بھر کو خاموشی چھا گئی، مگر میرے اندر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ میری کتابیں مجھے شعور دیتی ہیں، عزت کرنا سکھاتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔


Comments

Popular Posts