Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Books and Awareness 📚🐣/ novels💞🦋/ love and life📖❤

 


کتابیں اور زندگی

آج دو پھوپھیاں ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں۔ میں، امی اور دونوں پھوپھیاں کمرے میں موجود تھے۔ باتوں کے دوران اچانک چھوٹی پھوپھو کی نظر کمرے کے ایک کونے میں رکھے ڈھکے ہوئے ڈرم پر پڑی۔

پھوپھو (حیرانی سے): "اس میں کیا ہے؟"

امی نے ان کی بات پر مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا، جو موبائل میں مصروف تھی۔

امی (چوٹکی لیتے ہوئے): "اس سے پوچھو، اسی کا ہے!"

پھوپھو نے ذرا غور سے مجھے دیکھا، پھر اندازہ لگاتے ہوئے بولیں:
"ہاں، اس میں یقیناً کپڑے وغیرہ رکھے ہوں گے۔"

میں خاموش رہی۔

امی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ راز کھولا:
"نہیں، اس میں اس کی کتابیں اور ناولز ہیں، یہ تو کچھ بھی نہیں، اس کی سائیڈ ٹیبل بھی بھری ہوئی ہے۔ وہ دیکھو، ٹیبل پر بھی ناولز اور کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے!"

پھوپھو نے بے اختیار سر جھٹکا اور طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولیں:
"کام دیکھو لڑکی کا! بیٹا، تمہاری ساری عقل تو انہی کتابوں میں ہوگی۔ لیکن جب تمہاری شادی ہو جائے گی، تب کیا کرو گی؟ شوہر سے کیسے لڑو گی؟ تمہیں تو لڑنا ہی نہیں آتا، تب کیا ہوگا؟"

میں ایک لمحے کے لیے خاموش رہی، پھر مسکرا کر نظریں اٹھائیں اور سکون سے جواب دیا:
"پھوپھو، میری کتابوں نے مجھے لڑنا نہیں سکھایا، اور نہ ہی یہ سکھاتی ہیں کہ شوہر سے جھگڑا کرو، اسے نیچا دکھاؤ، یا جاہل عورتوں کی طرح چیخ چیخ کر سب کی نظروں میں گر جاؤ۔"

میرے جواب پر کمرے میں پل بھر کو خاموشی چھا گئی، مگر میرے اندر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ میری کتابیں مجھے شعور دیتی ہیں، عزت کرنا سکھاتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی کو سمجھنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔


Comments

Popular Posts