Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Atish e Meher episode.16🖤 by Munaza Niaz ✍👀,urdu novel❤romantic novel 🤧💅
ناول: آتش مہر
از قلم: منزہ نیاز
قسط نمبر: 16
ہوا میں ایک اجنبی سی ٹھنڈک تھی جیسے یہ جگہ صرف دکھنے میں زندہ ہو اصل میں نہیں ، چاروں طرف اندھیرا اور اونچی دیواریں تھیں وہاں صرف چاند کی مدھم سی روشنی تھی جیسے رات بھی اس جگہ سے دور بھاگنا چاہ رہی ہو کمرے کی دیواریں گہری سنہری اور کالی رنگ کی تھی جیسے کسی شکار کا آخری مسکن ہوں۔ شیلف پر کچھ پرانی کتابیں رکھی تھیں ایسی کتابیں جنہیں کبھی کھولا نہیں گیا تھا ایک سگریٹ کیس ایک بوتل اور ایک پرانا گھڑی کا باکس، سب کچھ ایک آدھا چھوڑا ہوا قصہ لگ رہا تھا فرش پر بچھا کالین، جس پر کہیں کہیں مٹی یا پرانی یادوں کے نشان تھے ہوا تیز ہوئی اور دروازے کے آگے لمبے پردے ہل سے گئے بیڈ کے کنارے پر بیٹھی ایمل نے سوچا یہاں کسی انسان کی نہیں بلکہ ایک شیطان کی حکومت ہے نکاح کے بعد نہ جانے وہ اسے کہاں لے کر آگیا تھا
" تم سوچ بھی نہیں سکتی، آج تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو خاص طور پر ہارنے کے بعد!"
اس کی آنکھوں کی بے چینی دیکھتے رافع لطف لیتے ہوئے بولا ایمل نے اس کی طرف دیکھا جو دروازے کے پاس کھڑا تھا
" نکاح ہو چکا ہے مہر لگ چکی ہے اب تم صرف میری ہو سمجھ رہی ہو نا میری۔۔!"
وہ چل کر بک شیلف کی طرف گیا تھا ایمل کی نظریں بھی اس کے ساتھ حرکت میں آئیں
" تم چاہو یا نہ چاہو اب تمہارا ہر دن، ہر رات، ہر سانس ،صرف اور صرف میری ہے "
دھیرے سے پلٹ کر اس کو دیکھا جس کا چہرہ سفید ہونے لگا تھا
" تمہیں لگتا ہے یہ سب کچھ صرف ایک اتفاق تھا!"
وہ ہلکا سا ہنسا
" رافع شاہ کی زندگی میں کچھ بھی بنا وجہ کے نہیں ہوتا نہ محبت نہ نفرت اور نہ ہی تم"
وہ چل کر گلاس ونڈو کے پاس گیا باہر ویرانہ تھا
" رات لمبی ہے ایمل، اور یہ صرف ایک شروعات ہے"
اس نے ایک گہری نظر ایمل پر ڈالی پھر چل کر اس کے پاس آیا اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے چاند کی ہلکی روشنی ایمل کے خوبصورت چہرے پر پڑ رہی تھی۔ ایمل کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
" دل کی دھڑکن تیز ہو رہی ہے، ہمممم! اچھا ہے عادت ڈال لو یہ آج نہیں رکے گی۔۔۔۔۔ اور نہ ہی میں "
وہ اس کے چہرے سے اس کا ہر احساس پڑھ رہا تھا رات کا اندھیرا مزید گہرا ہوا
" میری ایمل، میری جیت اور آج کی رات صرف میری ہے"
رافع کا لہجہ خطرناک تھا یا ایمل کو لگا وہ سمجھ نہیں پائی
" رافع یہ۔۔۔۔۔ یہ سب بہت تیز ہو رہا ہے، میں نے گھر والوں کو بھی نہیں بتایا اور۔۔۔۔ مطلب تم میری بات سمجھو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ۔۔۔"
ایمل کے ہونٹ تھرتھرائے
" ایمل تمہیں نہیں پتا نفرت، انتقام اور محبت کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے مگر کوئی بات نہیں تم سیکھ جاؤ گی"
ایمل نے سہم کر اس کو دیکھا
" رافع۔۔۔۔"
اس کے لب ہلے، مگر رافع نے ایک جھٹکے سے اس کو اپنی طرف کھینچا
" ڈر لگ رہا ہے جان! مگر شکر مناؤ کہ میں تمہارے ساتھ بہت رحم دلی سے پیش آ رہا ہوں "
رافع نے گہری نظروں سے ایمل کی سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھا
" یہ رحم دلی ہے؟ تم میری زندگی کا فیصلہ خود لے رہے ہو"
ایمل نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے مگر غصے سے کہا
" جس دن تم نے مجھے پہلی دفعہ دیکھا تھا اس دن تمہاری زندگی کا فیصلہ ہو گیا تھا"
اس نے ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
" تم۔۔۔۔ تم کیا کہہ رہے ہو؟"
ایمل نے شاک ہو کر اس کو دیکھا اس کی سانس رکنے لگی تھی
" سچائی جو تم سن نہیں سکتی، یا شاید سننا نہیں چاہتی "
رافع نے اس کا گال چھوا
" تم یہ سب اس لیے کر رہے ہو تاکہ میں تم سے ڈرنا چھوڑ دوں؟"
رافع کی مسکراہٹ گہری ہوئی،
" نہیں جان یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ مجھے تمہیں کبھی کھونا نہیں ہے تم جتنا مجھ سے دور بھاگنے کی کوشش کرو گی میں اتنا تمہیں واپس کھینچ لوں گا"
ایمل کی آنکھوں کی نمی بڑھ گئی
" رافع۔۔۔۔۔"
" شش۔۔۔۔۔"
اس نے پھر سے کچھ کہنا چاہا تبھی رافع نے اس کے لبوں کے قریب سرگوشی کی
" مجھے تمہارے ہر سوال کا جواب دینا آتا ہے مگر ابھی نہیں"
اس نے ایمل کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی وہ کانپ کر رہ گئی
" مجھے ۔۔۔۔۔۔ مجھے واپس چھوڑ آو پلیز!"
اس کے لب کانپے، رافع نے دھیرے سے انگلی ہٹائی
" میں خود چھوڑ آؤں گا جان اتنی بھی کیا جلدی ہے"
اس نے ایک سیکنڈ میں فاصلہ ختم کیا تھا ہوا اور بھی بھاری ہو چکی تھی ایمل کی حالت ایک ایسے شکار جیسی ہو گئی تھی جو شکار ہونے سے بس ایک پل دور ہو اور رافع شاہ؟ وہ تو واقعی ایک ڈیول لگ رہا تھا جس نے اپنے شکار کو صرف دیکھ نہیں رکھا تھا بلکہ پوری طرح اس کو قید کر چکا تھا
☆☆☆
سرد ہوا مری کے مال روڈ کی جگمگاتی روشنیوں سے ٹکرا رہی تھی ہر طرف لوگ تھے آتش نے مہر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا مہر اس کے ساتھ تھی اس کا چہرہ کافی پرسکون تھا وہ خوش تھی تبھی ایک اجنبی آدمی ان کے راستے میں آگیا اس کی شرٹ کا کالر ڈھیلا آنکھوں میں بےہودگی اور چہرے پہ ایک بے حس مسکراہٹ تھی
" اچھا تو یہ ہے آتش زایان "
وہ دھیرے سے ہنسا، لیکن اس کی نگاہیں مہر پر تھی
" سب کو اپنی من مانیاں کرنے سے روکنے والا لیکن اپنی بیوی کو خود چپ کروانے والا"
مہر نے خوف زدہ ہو کر آتش کی طرف دیکھا آتش کی گہری بھوری آنکھوں میں عجیب سی ٹھنڈک ابھر آئی، اس نے مہر کا ہاتھ مزید مضبوطی سے پکڑا اور اسے اپنے پیچھے چھپا دیا اجنبی ان کے قریب آیا
" میں نے سنا ہے آتش زایان کے ہاتھ کبھی خون سے نہیں رنگے مگر کب تک؟"
اور اسی وقت سب کچھ پل بھر میں بدل گیا آتش نے بنا ایک سیکنڈ دیری کیے اس آدمی کے منہ پہ اتنی زور کا پنچ مارا کہ وہ سیدھا پیچھے رکھی کرسیوں سے جا ٹکرایا اس کا ہونٹ پھٹ گیا اور ایک لہو کی پتلی دھار گری
" کیا کہا میرے ہاتھ خون سے نہیں رنگے"
آتش تیزی سے اس کے پاس آ گیا اور اس کے بالوں کو تھوڑا کھینچ کر اس کا سر پیچھے کیا
" لگتا ہے تجھے صاف سنائی نہیں دیتا "
اس سے پہلے کہ اجنبی سنبھلتا دوسرا مکا اس کی پسلی پر پڑا ایک تیز چیخ نکلی لوگ رک کر انہیں دیکھنے لگے مہر نے گھبرا کر آتش کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے کہہ رہی ہو یہاں نہیں آتش رک جاؤ اس کی آنکھوں میں فریاد تھی آتش نے رک کر اس کو دیکھا ایک گہری سانس بھری اور آخری مکا مار کر اس اجنبی کا جبڑا توڑ دیا وہ چیخ مار کر نیچے گرا آتش اس کے اوپر جھکا
" اگر پھر کبھی میری بیوی کو دیکھا بھی تو تجھے بولنے لائق نہیں چھوڑوں گا"
اس نے مہر کا ہاتھ پکڑا اور بنا پیچھے دیکھے چلا گیا اگلے ہی منٹ وہ آدمی بھی غائب ہوا تھا
مگر......
☆☆☆
وہ رات ابھی بھی اندھیری تھی مگر ایمل کی دنیا اس اندھیرے سے بھی زیادہ گہری ہو چکی تھی رافع کی کار اس سنسان سڑک پر تیز رفتاری سے چل رہی تھی جیسے وقت کے کسی انجان موڑ پر جا رہی ہو ایمل فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اس کی انکھیں ایک ہی جگہ پر جم چکی تھی
سامنے ،بالکل سامنے۔ اس کے چہرے پر کوئی احساس ہی نہیں تھا صرف ایک عجیب سی خاموشی تھی جو شاید کبھی ٹوٹ نہیں سکتی تھی رافع نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی اس کی وہ ایمل جو کبھی اس کی آنکھوں میں اتر کر سوال کرتی تھی اب صرف ایک خالی پرچھائی لگ رہی تھی
" اتنا سکون؟ یا پھر اب شکایت کا حق بھی کھو دیا ہے"
رافع کی گہری آواز اس کے کانوں میں گونجی
" شکایت اور تم سے ؟ حساب برابر ہو چکا ہے رافع "
اس کی آواز بے جان تھی
" تم سمجھتی ہو کہ تمہارے پاس کوئی اختیار تھا تم بس میری مہر تھی، ایک انجام جو لکھا جا چکا تھا "
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایمل کی آنکھوں میں دیکھا
" مجھے نہیں پتہ تھا کہ محبت کا انجام بھی ایسا لکھا جاتا ہے"
ایمل کی آنکھوں میں نمی آگئی
" تم اب بھی مجھے ایک محبت والا مرد سمجھتی ہو، میں وہ ہو جو اپنی محبت کو مٹاتا نہیں بلکہ اسے اپنا بنا کر سنبھالتا ہے"
نظریں سڑک پر مرکوز کیے وہ ٹھنڈی ہنسی ہنسا ایک لمحے کو گہری خاموشی چھا گئی پھر رافع نے اس کو کہتے سنا
" سنبھالنے اور توڑنے میں فرق ہوتا ہے "
رافع کی گرفت اسٹیئرنگ پر سخت ہوئی اس کی آنکھیں عجیب سی گہرائی میں ڈوب گئی تھیں تبھی کار ایک جھٹکے سے اس سنسان جگہ پر رکی ایمل نے ایک پل کے لیے زمین کی طرف دیکھا یہ وہی جگہ تھی جہاں سے وہ کڈنیپ ہوئی تھی جہاں اس کے بعد اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ آیا تھا اور سب کچھ بدل گیا تھا رافع اس کی طرف مڑا اور دھیرے سے اس کے بال کان کے پیچھے کر دیے
" یہ وہ جگہ ہے جہاں سے تم میری ہوئی تھی اور اب میں تمہیں واپس یہیں چھوڑ رہا ہوں پر کیا تم واپس جا بھی سکتی ہو؟"
رافع نے دھیمی سی آواز میں اس سے پوچھا
" میں؟"
ایمل کی آواز ہلکا سا تھر تھرائی رافع نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ایک گہری،ٹھنڈی اور جیت سے بھری نظر کے ساتھ
" تم واقعی واپس جا سکتی ہو ایمل؟ یا پھر تمہیں بھی احساس ہو گیا ہے کہ تم کب کی میری ہو چکی ہو "
ایمل نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا وہ دھیرے سے اس کی طرف جھکا اور اس کا گال چوم پھر ہاتھ، وہ بالکل خاموشی تھی، اور پھر اسی خاموشی سے وہ کار سے اتر گئی اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے اس نے اپنے آپ کو سنبھالنا چاہا مگر ایک عجیب سی گہرائی تھی جو اس کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی پہلی بار اس کو لگا کہ شاید رافع سہی کہہ رہا تھا شاید وہ کب کی۔۔۔ واقعی میں ۔۔۔۔ اس کی ہو چکی تھی
☆☆☆
وہ ایک تنصیل جگہ تھی جہاں صرف ایک بلب لٹک رہا تھا اس کے نیچے کرسی پر ایک بے ہوش آدمی پڑا ہوا تھا اس کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے، منہ پہ لہو جمع ہوا تھا اور سامنے
آتش زایان ،
اجنبی کی آنکھیں دھیرے سے کھلیں اس نے اپنا ڈولتا ہوا سر اٹھایا اور بس ایک پل کے لیے آتش کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اس کا دل دو پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا آتش ویسا ہرگز نہیں لگ رہا تھا جیسا کچھ دیر پہلے مال روڈ پہ تھا اس کی آنکھوں میں وہ اندھیرا تھا جو انسان کو برباد کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے
" بول سکتا ہے؟"
آتش نے ہلکا سا جھک کر پوچھا اجنبی کا گلا سوکھ گیا
" اریس تمہیں نہیں چھوڑے گا"
آتش کا ہاتھ اتنی زور سے گھوما کے اس کا کندھا ایک چیخ کے ساتھ بے جان ہو گیا
" مجھے لگتا ہے تو ابھی بھی بول سکتا ہے"
آتش نے آستین موڑ لیے اجنبی کی چیخیں کمرے میں گونج گئی
" تت۔۔۔ تم پاگل ہو چکے ہو"
آتش ہنسا
" ابھی پاگل پن شروع ہی کہاں ہوا ہے"
اس نے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک چھوٹی سی میٹل راڈ پڑی تھی ٹھنڈی اور تیز، جو صرف ایک کام کے لیے بنائی گئی تھی
ہڈیاں توڑنے کے لیے
" مجھے اریس کا اگلا پلان بتاؤ چلو شاباش"
آتش نے آخری وارننگ دی اجنبی نے زبان کاٹ لی
" میں کچھ نہیں بتا سکتا "
آتش نے راڈ اٹھائی اور بنا کسی افسوس کے اس کی ٹانگ پہ دے ماری
کریک۔۔۔
اس بار چیخ اتنی تیز تھی کہ شاید دیواریں بھی سن سکتی تھیں آتش نے راڈ ایک طرف پھینکی اور اس کے قریب جا کر دھیرے سے کہا
" اریس کو بتا دینا اب صرف دھمکیاں نہیں چلیں گی اس کی بھی باری آئے گی اور جب وہ دن آئے گا نا۔۔۔۔"
آتش کی مسکراہٹ زہر جیسی تھی
" تو میں اس کی صرف ہڈیاں نہیں بلکہ سب کچھ توڑ دوں گا "
اتش کا ہاتھ اٹھا اور اجنبی کا منہ ٹیڑھا ہو گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر نکلا تو اس کے ہاتھوں پر خون جما تھا ایک نظر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے کے بعد اس نے چہرہ اوپر اٹھایا
" گیم اوور اریس"
اندر پڑا آدمی درد سے تڑپتا کراہ رہا تھا
☆☆☆
سرد ہوا اپنے ساتھ ایک عجیب سی خاموشی لے کر آئی تھی اندھیرا ہر طرف چھا گیا تھا جیسے زندگی نے اس کے لیے روشنی کا سفر ہی بند کر دیا ہو
" میری پرنسز ، میری زمل"
وہ دھیرے سے بولا جیسے کوئی ٹوٹے خواب کے سرہانے بیٹھا ہو آنکھیں سامنے بکھری مٹی پر جم گئی تھی جہاں صرف خالی جگہ تھی مگر اس کے دل کے اندر اب بھی صرف ایک چہرہ تھا ہمیشہ مسکراتا ہمیشہ روشنی سے بھرا اس کے ہاتھ اپنے زخم پر جا پڑے وہ زخم، جو صرف ہاتھ تک محدود نہیں تھا یہ وہ زخم تھا جو اس کی روح تک کو چاک کر چکا تھا زمل چلی گئی تھی اس کی معصومیت اور وہ رافع شاہ جو کبھی مسکرایا کرتا تھا آج بھی اسے محسوس ہوتا تھا جیسے زمل اس کے قریب ہے جیسے ابھی شرارتی انداز میں اس کے پاس آ کر کہے گی
" بھائی آپ مجھ سے کبھی الگ نہیں ہو سکتے ہے نا"
اور وہ ہنس کر کہتا
" کبھی نہیں میری پرنسز"
لیکن آج وہ صرف ہواؤں میں ایک بیکار سی گونج بن کر رہ گئی تھی آج وہ صرف مٹی کے ایک حصے کو دیکھ رہا تھا جہاں صرف یادیں بچی تھی اس نے آج تک کسی کو نہیں بتایا تھا کہ اس رات کیا ہوا تھا کیسے ذمل نے اس کے سامنے اپنی آخری سانس لی تھی کیسے وہ لاچار کھڑا تھا اور کچھ نہیں کر سکا تھا جب اس کی دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے بکھرتی چلی گئی تھی اور کیسے اس رات وہ رافع شاہ مر گیا تھا اور پھر ایک نیا وہ پیدا ہوا تھا جو صرف بدلہ لینا جانتا تھا اس نے گہری سانس لی اور دھیرے سے مٹی کو چھوا
" اب تم صرف یہاں نہیں ہو زمل تم میرے ہر اس فیصلے میں ہو اب جو بھی ہوگا وہ صرف تمہارے لیے ہوگا"
ہوا اور بھی تیز ہو گئی تھی جیسے رات نے بھی اس کے ارادوں کی سرگوشی سن لی ہو
☆☆☆
اریس اپنے پرسنل لیئر میں صوفے پر پرسکون سا بیٹھا سگریٹ جلا رہا تھا ڈم لائٹ سائیڈ پہ وہسکی کا گلاس( ظاہر سی بات ہے جو ہر ولن کے پاس ہوتا ہے) اور ایک گانا بج رہا تھا
وہ آگیا دیکھو وہ آگیا۔۔۔
لیکن یہ گانا اس کے موبائل کا نہیں بج رہا تھا بلکہ دروازے سے آنے والی ہلچل سے بج رہا تھا
بمممممم ۔۔۔۔
دروازہ ایک بھاری جھٹکے سے کھلا اور اس کے آدمی کا تبیلہ ورژن اندر گھسا دیا گیا بیچارہ آدمی آدھا زندہ آدھا مرتا ہوا اور ہر طرف چوٹ کے نشانات بالکل کسی پھٹے ہوئے فٹ بال جیسا جس پہ کسی نے 90 منٹ تک پریکٹس کی ہو اریس اپنی لگثری لائف سے نکل کر حقیقت میں آیا سگریٹ ہاتھ سے گر گئی وہسکی کا گلاس ٹیبل پر رکھا اس کی آنکھیں اپنے آدمی کی حالت دیکھ رہی تھی
" یہ۔۔۔ یہ کیا ہے؟"
اس نے آنکھیں چھوٹی کر کے پوچھا
" مجھے نیو مال بھیجنے کا کہا تھا تم نے، مگر تم تو خود مال بن کر آگئے "
" باس آتش زایان!"
آدمی کراہا اریس نے جان لیوا خاموشی کے ساتھ اس کو دیکھا پھر اپنا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے ایک سپ لی مگر وہ بھی گلے میں اٹک گئی
" کیا کیا اس پاگل نے؟"
اس آدمی کا بیچارہ پن ایکٹیویٹ ہو گیا
" باس، پہلے تو اس نے مجھے صرف دھمکیاں دی تھی پر پھر۔۔۔"
" پھر؟"
" پھر اس نے میری ٹانگیں توڑ دیں "
" کیا؟"
" اور جب میں چلا بھی نہیں سکا تو اس نے کہا بھئی تو تو بہت کمزور ہے تھوڑا اور اسٹرانگ بناتے ہیں"
اریس کا گلا سوکھ گیا اس کا وفادار آدمی اب ایک گھریلو ٹوٹی لگ رہا تھا
" اور سب سے برا اس نے یہ سب بنا چلائے کیا مطلب بھئی کوئی ری ایکشن بھی نہیں دیا "
اریس نے ایک سیکنڈ کے لیے اپنی ہی روح کا پوسٹ مارٹم کر ڈالا آتش نے صرف دھمکی دی تھی کہ وہ اس کا گیم اوور کرے گا مگر یہ تو پوری گیم کا نیا اپڈیٹ لگ رہا تھا اس نے اپنے ہاتھ سے اپنا چہرہ چھوا
" مجھے سوچنے دو "
" اریس بھائی یہ بندہ انسان نہیں ہے یہ چلتی پھرتی آفت ہے ،ابھی کیا کرنا ہے"
آدمی کی حالت مزید خراب ہوئی
" پہلی بات ، کبھی مت سوچنا کہ آتش صرف دھمکیاں دیتا ہے دوسری بات تو زندہ کیسے ہے؟"
" بھائی مجھے بھی نہیں پتا"
آدمی نے معصومیت سے کہا اریس نے غصے سے گلاس اٹھایا اور زور سے توڑ دیا
" آتش تو سوچ بھی نہیں سکتا میں اب کیا کرنے والا ہوں"
وہ بیچارہ آدمی اب اپنی لائف انشورینس لینے کا سوچ رہا تھا
☆☆☆
وہ دن جب میں نے اس کو پہلی دفعہ دیکھا تھا اسی دن سمجھ گیا تھا کہ یہ صرف میری ہے پر یہ سمجھنا ضروری تھا کہ اس تک پہنچنے کا طریقہ کیا ہوگا ؟
میں نے صبر کیا دیکھا محسوس کیا، بس ایک غلطی ہو جائے بس ایک وقت کا جھٹکا اور یہ صرف میری بن کر رہ جائے
اس نے کبھی مجھے دیکھا بھی نہیں پر میں ہر اس دن کو یاد رکھ سکتا ہوں جب وہ میرے سامنے سے گزر گئی تھی
اس کی ہنسی اس کا غصہ ہر چیز مجھے اپنی لگتی تھی مگر وہ مجھے نہیں دیکھتی تھی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا اب وہ صرف مجھے دیکھے گی
جس دن اس کے گھر ایک بڑی مصیبت آئی اس دن وہ میری طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائے گی اس دن شاید مجھے اپنی سزا مل جائے گی، یا شاید انعام
ہر چیز برباد ہو سکتی ہے صرف یہ محبت نہیں ، صرف یہ جنون نہیں
وہ مجھ سے بھاگ بھی گئی تو کیا وہ چاہے جتنا بھی چھپ جائے اس کا نصیب صرف میرے ساتھ لکھا ہے
ایمل ڈائری پڑھتے پڑھتے بے چین ہونے لگی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ ایک نارمل لڑکی ہے ایک نارمل لائف گزار رہی ہے مگر کوئی تھا جو اتنے سالوں سے اس کے پیچھے تھا یہ ڈائری اس نے چپکے سے رافع کی گاڑی سے اٹھائی تھی اس کا دل بند ہونے لگا تبھی اس کا فون بج اٹھا اسے جھٹکا سا لگا رافع کی کال آ رہی تھی اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون کان سے لگایا مگر بول نہیں پائی دوسری طرف رافع کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی جیسے سب کچھ اس کے پلان کے مطابق ہو چکا ہو
" امید ہے جو تم نے دیکھا اس کے بعد بھی تم مجھے یاد رکھو گی کیونکہ اب بھی تم صرف میری ہو ایمل"
اور کال کٹ گئی
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment