Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Atish e Meher 🔥/ Episode.17 by Munaza Niaz ✍🖤/ Arees❤/ Dark villain🌚
ناول: آتش مہر
از قلم: منزہ نیاز
قسط نمبر: 17
رات کا وقت تھا مری کی سڑکیں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔ آتش زایان اکیلا ایک سائیڈ پر چل رہا تھا بلیک ہوڈی، ہاتھوں میں چمڑے کے گلوز، آنکھوں میں وہی ٹھنڈک اور سرد مہری۔ آج اس کا موڈ اتنا اچھا نہیں تھا کیونکہ آج اس نے ابھی ابھی ایک آدمی کی ہڈیاں توڑ کر بھیجا تھا اور تبھی چلتے چلتے اس کی نظر ایک بلیک پراڈو پر پڑی جو سست رفتاری سے اس کے پاس سے گزر رہی تھی گاڑی کا شیشہ دھیرے سے نیچے ہوا اور وہاں سے ایک جانی پہچانی مسکراہٹ نکلی
اریس۔
اریس نے ایک چھوٹی سی تالی بجائی
" واہ آتش، تمہیں ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا ورنہ ویلکم پارٹی اور اچھی ہوتی"
آتش نے بنا کسی ری ایکشن کے اپنے گلوز ٹائٹ کیے
" تمہارا ویلکم ویسے بھی کچھ خاص نہیں ہوتا"
اریس ہنسا لیکن اس کی آنکھوں میں دشمنی کی آگ جل رہی تھی
" تم نے تھوڑی دیر پہلے میرے آدمی کو توڑ کر بھیجا ہے اسی لیے اب میں خود آیا ہوں"
آتش کے لبوں پر ایک یک طرفہ مسکراہٹ کھیل گئی
" غلطی کی ہے!"
اریس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اس کے ساتھ اس کے تین آدمی بھی باہر نکلے ایک نے ہوڈی ڈالی ہوئی تھی دوسرا سگریٹ پی رہا تھا اور تیسرا گلوز پہن رہا تھا مطلب سین سیٹ تھا!
مری کی ایک چھوٹی سی اندھیری گلی میں جانے کے بعد۔۔۔۔۔
اریس نے اپنی گھڑی دیکھی پھر دھیرے سے کہا
" یہ جگہ ٹھیک ہے، ہاں؟"
آتش نے گلوز اتار کر پاکٹ میں ڈالے پھر آستینیں چڑھا لی
" سین سیٹ ہے "
اور پھر ایک آدمی نے آتش پہ پہلا مکا مارا لیکن ایک سیکنڈ کے اندر آتش نے سائیڈ سٹیپ لیتے ہوئے اس کا ہاتھ موڑ دیا دوسرا بندہ آگے بڑھا مگر آتش نے اس کا چہرہ ایک کار کے بونٹ پہ مار دیا تیسرا بندہ جیسا ہی اس کے قریب آیا آتش نے اس کی کلائی کو موڑا اور اسے زمین پر پٹک دیا اریس اب تک صرف کھڑا دیکھ رہا تھا اس نے دھیرے سے آتش کو داد دی
" اچھا ہے آتش، لیکن تم مجھے انڈراسٹیمیٹ کر رہے ہو"
اور پھر اچانک ایک سیکرٹ سنائپر نے آتش پر ٹارگٹ سیٹ کر دیا مگر آتش کا دماغ بھی الٹرا فاسٹ چلتا ہے بھئی، اس نے ایک پتھر اٹھایا اور سنائپر کی سمت پھینک دیا سنائپر کا نشانہ خطا ہوا اور گولی دیوار میں جا لگی اریس نے حیرت سے اس کو دیکھا یہ بندہ نارمل ہے بھی یا نہیں آتش نے دھیرے سے کلائی موڑی پھر اریس کی طرف بڑھا
" اب بتاؤ فائٹ خود کرنی ہے یا مزید لوگ بلاؤ گے؟"
" مجھے لگا تھا تم بزنس مائنڈ ہو آتش، یہ فزیکل فائٹس تمہارے سٹائل کی نہیں ہیں۔ ہے نا؟"
" ہاں لیکن کبھی کبھی ہاتھ بھی چلانے پڑتے ہیں "
آتش نے تیکھی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔اگلے ہی سیکنڈ دونوں نے ایک دوسرے پر اٹیک کر دیا
اس وقت مری کی گلیاں ایک انڈر گراؤنڈ فائٹ کلب کا سین دے رہی تھیں
اور پھر تبھی ایک پولیس سائرن سنائی دی
" ویل زایان، لگتا ہے آج کے لیے بس یہیں تک"
اریس نے ترچھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
" اگلی بار اس ٹاکرے میں صرف ایک انسان بچے گا "
آتش نے اپنی آستینیں نیچے کی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ہی غائب ہو گئے
ایک پراڈو لیفٹ سائیڈ سے نکل گئی اور دوسری طرف آتش ایک اندھیری گلی میں گھس گیا پولیس آئی لیکن تب تک ایک ٹوٹی ہوئی کار ایک گرا ہوا سنائپر اور ایک سگریٹ کا جلا ہوا ٹکڑا ملا
یہ دشمنی اب اور خطرناک ہونے والی تھی
☆☆☆
اریس اپنے پرائیویٹ جیٹ سے اتر کر بلیک ایس یو وی کی طرف بڑھا پلین کا دروازہ کھلتے ہی اس کے باڈی گارڈ نظم و ضبط کی تشکیل میں اس کے پیچھے چلے وہ اپنے ازلی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اس کے چہرے پر وہی عادی تکبر تھا جو ہر جیت کے بعد اور گہرا ہو جاتا تھا اس کے چہرہ پر سکون تھا جیسے اس نے جو چاہا ہو وہ مل گیا ہو
ایک بار اریس کسی چیز کو اپنا کہہ دے تو وہ صرف اسی کی ہوتی ہے۔
ایس یو وی کا دروازہ کھلا اور جیسے ہی وہ اندر بیٹھا ڈرائیور نے دھیرے سے کہا
" باس ایک مسئلہ ہو گیا ہے !"
اریس کی آنکھوں کا رنگ بدلا
" کیا مسئلہ ؟"
اس کی آواز ٹھنڈی تھی اس کے لفظوں کا دباؤ کسی بھی انسان کو پسینے پسینے کرنے کے لیے کافی تھا ڈرائیور نے ایک فائل پیچھے دی اریس نے بنا کسی تاثر کے فائل کھولی جیسے ہی اس نے پہلا صفحہ پڑھا اس کے چہرے کا تاثر دھیرے دھیرے بدلنے لگا
" یہ مذاق ہے؟"
اس کی انگلیوں کی گرفت فائل پر سخت ہوئی
" نہیں باس، یہ اصلی ہے "
اریس کا فائنانشل اکاؤنٹ فریز ۔
اریس کے بزنس ایمپائر کا ایک بڑا حصہ ایک غیر ملکی اکاؤنٹ سسٹم پر تھا
سیف اور ناقابل شناخت لیکن اب وہ سارے اکاؤنٹس فریز ہو چکے تھے ایک گمنام ذریعہ انٹرنیشنل فائنانشل کرائم اتھارٹی کو مسلسل دستاویزات فراہم کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کے لین دین کی تحقیقات ہو رہی تھی اریس کی آنکھوں میں تیکھی سی چمک آئی
" کس نے کیا یہ سب؟"
" معلوم نہیں سر یہ سیدھا کسی ہائی لیول انسائیڈر کی لیک لگ رہی ہے "
اریس کے جتنے بھی دشمن تھے ان میں سے کوئی بھی اتنا شاطر نہیں تھا جو بنا کوئی چھوڑی ہوئی نشانیوں کے اس کے ایمپائر میں دراڑ ڈال سکے اریس کا بزنس اور اس کا نام دونوں کنٹرولڈ ریپوٹیشن پر ٹکی ہوئی تھیں لیکن جیسے ہی اس نے اپنے فون کا انٹرنیٹ آن کیا ایک نیوز اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی
بریکنگ نیوز۔۔۔
" Billionair Mr.Arees, under international Financial Investigation Anonymous source leaks Evidence!"
اس کے ایئرپوڈ میں اس کا اسسٹنٹ پینک آواز میں بولا
" سر آج صبح سے میڈیا چینل آپ کے اگینسٹ چل رہا ہے آپ کی ساخت تباہ ہو رہی ہے "
اریس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں بند کی ایک عجیب سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی
" تو یہ گیم ہے"
وہ کسی کے ہاتھ میں چیس کا ایک مہرہ بننے والا نہیں تھا جو بھی کھیل، کھیل رہا تھا اس کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک شکار بن رہا ہے لیکن شکار کون ہے اور شکاری کون؟ ابھی واضح نہیں ہوا تھا لیکن ایک چیز تو کنفرم تھی یہ صرف ایک معمولی سا وار نہیں تھا یہ کوئی بڑا گیم کھیل رہا تھا اور اریس کو گیم کھیلنے کا طریقہ آتا تھا
☆☆☆
کیبن کے اندر صرف فائر پلیس کی ہلکی سی روشنی تھی مہر اپنے گرد اچھی طرح بلینکٹ لپیٹے لیٹی ہوئی تھی اس کا دماغ صرف ایک ہی سوال پر اٹکا ہوا تھا
" آتش مجھے اکیلا چھوڑ کر کہاں گیا؟"
تبھی دروازہ دھیرے سے کھلا آتش نے اندر قدم رکھے اس کے کپڑے بارش کی وجہ سے گیلے ہو چکے تھے بالوں سے ہلکی نمی ٹپک رہی تھی اس نے ہوڈی کی آستینیں دھیرے سے اوپر کی تھی مہر تیزی سے آنکھوں میں غصہ لیے بیڈ سے اتری اس نے آنکھوں سے سیدھا تیز اشارہ کیا
" کہاں گئے تھے؟"
آتش نے ایک چھوٹی سی مسکراہٹ پاس کی ہوڈی اتار کر سائیڈ پر رکھی پھر دھیرے سے کہا
" تازہ ہوا لینے!"
مہر نے غصے سے ایک پیپر اٹھایا اور اسے گول گول بنانے لگی
" جھوٹ مت بولو "
اس نے دوسرا سگنل دیا آتش بالکل بھی متاثر نہیں ہوا تھا جیکٹ کی آستین موڑتا رہا پھر دھیرے سے مہر کی طرف دیکھا گہری نظروں کے ساتھ،
" کیا کر لو گی اگر سچ بتا دوں؟"
مہر نے چونک کر اس کو دیکھا
مطلب یہ بندہ اسے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے؟ اس نے پھر تیزی سے مزید غصے سے سگنل دیا
" پتہ چل ہی جائے گا"
آتش نے دھیرے سے اس کی طرف قدم بڑھائے اور اس کے بالکل قریب آگیا اب مہر تھوڑی کنفیوز ہو گئی تھی
مطلب غصہ بھی ہے، لیکن آتش کی آنکھوں کا فوکس بھی عجیب ہے آتش نے اس کے دونوں ہاتھ دھیرے سے پکڑ لیے جو فائر پلیس کی روشنی میں ہلکے سے لال دکھ رہے تھے
" مجھے لگتا ہے تم صرف یہ جاننے میں انٹرسٹ رکھتی ہو کہ میں کہاں گیا تھا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمہیں میری واپسی کا انتظار تھا ہے نا؟"
مہر کا دماغ 404 ایرر پر رک گیا۔ کیا مطلب یہ بندہ کیا کہہ رہا ہے اس نے تیزی سے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور فل بلش موڈ میں لکڑیاں اٹھانے لگی (جب بات سمجھ نہ آئے تو بزی دیکھنا شروع کر دو😁)
آتش ہلکی سی ہنسی روکتے ہوئے ہوڈی اٹھانے لگا
" اچھا تو تم سوچو میں فریش ہو کر آتش ہوں"
مگر اندر سے وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مہر کو پتہ چل گیا کہ کسی کی ہڈیاں توڑنے گیا تھا تو اپنی بھی ٹوٹ جائیں گی مہر نے آخری دفعہ آنکھوں سے سوال کیا تھا کہ سچ کب بتاؤ گے؟ آتش نے جاتے جاتے اس کی ناک کھینچی
" کبھی بھی نہیں"
مہر نے تیزی سے ایک کشن اٹھایا اور پوری قوت سے اس کے سر پہ دے مارا
☆☆☆
اریس نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ وہ سب سے ایک قدم آگے ہے اس کے ذرائع اس کی پلاننگ اور اس کی پاور گیم کبھی فیل نہیں ہو سکتا مگر اس دفعہ کچھ عجیب ہو رہا تھا ایک خفیہ ڈیل جو اس نے کسی اور کے خلاف پلان کی تھی وہ الٹا اس کے خود کے نام چل چکی تھی اس کا اسسٹنٹ ہانپتا کانپتا اس کے آفس آیا لیپ ٹاپ اس کے سامنے رکھا اور ایک ہیک ای میل چین دکھائی اریس نے جب اسکرین دیکھی تو وہ بالکل چپ تھا بس اپنی انگلیاں میز پر بجاتا رہا یہ وہ ڈاکومنٹس تھے جو اس نے کسی اور پر ڈالنے کے لیے تیار کیے تھے اور اب؟ اب سب اس کے خلاف ہو رہے تھے
" سر یہ۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا آپ نے تو۔۔"
اسسٹنٹ گھبرایا ہوا تھا اریس نے ہلکی سی تالی بجائی اس کی تیکھی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی
" بریلینٹ!"
اس نے آنکھیں چھوٹی کی
" جس نے بھی یہ سب کیا ہے ماسٹر سٹروک مارا ہے بس ایک پرابلم ہے!"
" وہ کیا سر؟"
اسسٹنٹ نے بے چینی سے پوچھا اریس نے دوبارہ اسکرین کو دیکھا،گھور کر۔۔
" مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ یہ سب کیا کس نے ہے"
ایک منٹ تک خاموشی چھائی رہی پھر اس کے لبوں سے ہلکی سی ہنسی نکلی اور پھر اس کی آنکھوں میں گہری چمک آئی
" اب مزہ آئے گا"
☆☆☆
رات کے اندھیرے میں اریس اپنے آفس بالکنی پر کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں اس کا وہسکی کا گلاس تھا مگر اس نے ابھی تک ایک سب بھی نہیں لی تھی وہ اس ماسٹر مائنڈ کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس کے گیم کو الٹا اس کے خلاف چلانے میں کامیاب ہو گیا تھا تب ہی اس کا فون گنگنا اٹھا
ان نون نمبر
اریس نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے کال اٹھائی
" بولو"
دوسری طرف سے ٹھنڈی مزیدار انداز میں آواز آئی
" مزے آ رہے ہیں اریس!"
اریس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے
" تو تم ہو "
اس کے ہاتھ دھیرے سے گلاس پر سخت ہو گئے
" مجھے لگا تھا تم پہچاننے میں تھوڑا وقت لو گے "
اریس ہلکی سی ہنسی ہنسا لیکن اس کی آنکھوں میں اب ایک اور ہی جنون تھا
" مجھے سمجھنے میں دیر ہو سکتی ہے مگر تمہیں ہارنے میں نہیں "
دوسری طرف سے ایک ہلکا قہقہہ سنائی دیا "لیٹس سی اریس، گیم ابھی شروع ہوئی ہے"
اور کال کٹ گئی
☆☆☆
رافع نے موبائل کان سے ہٹا کر اسکرین کو دیکھا اور پھر ایک نمبر ملایا ایمل اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑی تھی چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں بے چینی تھی اس کے ہاتھ میں موبائل تھا جو بار بار بج رہا تھا
ان نون نمبر
اس نے بے بسی سے فون کو دیکھا وہ جانتی تھی کہ یہ کال کس کی ہے مگر وہ اٹھانا نہیں چاہتی تھی جب پانچویں بار اس کا موبائل بجا تو اس نے کال اٹھا لی
" کیا چاہیے تمہیں؟"
ایمل نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا دوسری طرف سے ایک ہلکی سی ہنسی سنائی دی ٹھنڈی مگر شاطر
" شکریہ جان من مجھے لگا تھا تم کبھی کال نہیں اٹھاؤ گی "
" مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی نہ ہی تمہاری کوئی بات سننی ہے"
ایمل غصے سے بولی
" لیکن سننا تو پڑے گا جان! تمہاری زندگی کا سب سے بڑا سچ میں ہوں "
رافع نے سکون سے کہاں ایمل کے ہاتھ ٹھنڈے پڑنے لگے
" میرے لیے سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ میں نے تم سے نکاح کر کے سب سے بڑا گناہ کیا "
وہ دانت پیس کر بولی رافع ہلکا سا ہنسا
" گناہ ؟ تمہارے لیے شاید مگر میرے لیے تم صرف میری ہو نکاح صرف ایک رشتہ نہیں ایک حق ہے اور مجھے اپنا حق لینا آتا ہے جان"
ایمل کا دل دھڑکنا بھول گیا
" تمہیں حق ماننے کا شوق ہے مگر تم نے کبھی مجھے عزت نہیں دی"
ایمل کی آواز سرگوشی جیسی تھی رافع کی مسکراہٹ پل بھر کے لیے غائب ہوئی لیکن پھر وہ اپنے شاطر لہجے میں واپس آیا
" تمہیں لگتا ہے میں تمہیں عزت نہیں دیتا تم صرف ایک بار مجھ سے ملو ایمل بس ایک دفعہ پھر فیصلہ تمہارا ہے"
ایمل نے مضبوطی سے فون پکڑا
" میں تم سے نہیں مل سکتی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے "
رافع کی آواز اس بار اور گہری ہوئی تھی
" مجھ سے نہیں ملو گی؟ ٹھیک ہے لیکن سوچ لو اگر کسی اور نے پہلے تمہارا یہ راز جان لیا تو؟"
ایمل کا چہرہ ایک پل کے لیے پیلا پڑ گیا
" تم۔۔۔۔۔تم دھمکی دے رہے ہو مجھے"
ایمل نے شاکڈ ہو کر پوچھا رافع تھوڑا آگے جھکا جیسے اس کے سامنے بیٹھا ہو
" میں تمہیں صرف یہ یاد دلا رہا ہوں ایمل ہر راز صرف تب تک راز رہتا ہے جب تک اس کا مالک نہ چاہے اور فلحال اس راز کا مالک صرف میں ہوں "
رافع نے نرمی مگر شدت سے بھرپور آواز میں کہا ایمل کا ہاتھ کانپا مگر وہ خاموش رہی
" تو ملو گی مجھ سے؟ یا کسی اور سے سنو گی"
ایمل نے نم آنکھوں کو بند کر لیا وہ ہار چکی تھی
" کہاں۔۔۔۔ اور کب؟"
رافع کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی
" صبح کیفے اور رات نو بجے"
ایمل نے کچھ نہیں کہا اور کال کاٹ دی
☆☆☆
وہ مری کا ایک پہاڑی علاقہ تھا رات کا اندھیرا چہار سو پھیل چکا تھا آتش نے ابھی تک مہر کو کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ اس رات کہاں گیا تھا مہر اسی وجہ سے غصے میں تھی اور تھوڑا اداس بھی تھی وہ بول تو نہیں سکتی تھی بس آنکھوں سے ہی گھورتی رہتی تھی، بیچاری!
باہر اچانک طوفان آیا تھا، بہت تیز ہوا چلنے لگی تھی مہر کیبن سے باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر آتش کی کال آئی تھی اور وہ بنا کچھ کہے باہر نکل گیا تھا مہر اندر بیٹھی رہی لیکن جب کافی دیر تک آتش اندر نہیں آیا تو اس کا صبر جواب دے گیا وہ شال لپیٹ کر باہر نکل آئی اس نے سامنے دیکھا آتش تھوڑی دور ایک چٹان کے پاس کھڑا تھا جیسے ہی وہ آتش کے قریب ہونے لگی اس کا پیر پھسلا اور وہ برف پر گر گئی آتش کسی احساس کے تحت مڑا اور حیرت سے مہر کو دیکھا
" مہر تم ؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو میں نے بولا نہیں تھا کہ اندر رہو"
آتش نے اسے ڈانٹ دیا مہر نے گھور کر دیکھا پھر ہاتھ ہلا کر پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے"
" او ہیلو! اتنے ایکسپریشن سے بات کرو گی تو سنائی تھوڑی دے گا "
مہر نے غصے سے اس کو دیکھا آنکھوں میں آنسو آگئے اس کا دل کیا چیخ کر بولے کہ آتش تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو؟ مگر افسوس وہ بول نہیں سکتی تھی آتش نے جیسے مذاق اڑانے والی نظر اس پر ڈالی پھر واپس چلنے لگا مہر نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اس کو دیکھا پھر وہ بھی اس کے ساتھ چلنے لگی اچانک ہوا اور تیز ہوئی، مہر کا بیلنس پھر سے بگڑا اس سے پہلے کہ وہ چٹان سے ٹکراتی آتش نے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا لیکن برف اتنی پھسلن زدہ تھی کہ وہ دونوں ہی گرتے چلے گئے مہر کی آنکھیں بند ہونے لگی اس کے ہوش اڑے اور ایک دم اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا
اور پھر ایک دم سے۔۔۔۔ اچانک
" آتش!!!"
آتش نے بالکل فریز ہو کر مہر کی طرف دیکھا جیسے اس کا سی پی یو زیادہ گرم ہو گیا ہو
" یہ۔۔۔۔یہ کیا ؟"
مہر نے اپنی آواز سنی پھر آنکھیں پھاڑ کر آتش کو دیکھا اس کا ہاتھ ابھی بھی آتش کے ہاتھ میں تھا مگر اس کا دماغ ایک ہی چیز میں اٹک گیا تھا
" میں۔۔۔ نے ۔۔۔۔بولا!"
آتش نے جمے ہوئے مجسمے کی طرح مہر کو گھورا
" مہر تمہاری آواز !"
مہر نے شاکڈ ہو کر آتش کو دیکھا پھر دوبارہ بولی
" میں۔۔۔میں نے۔۔۔ میں نے تمہیں بلایا"
آتش نے نم آنکھوں سے مہر کو دیکھا جیسے پوری دنیا یہیں جم گئی ہو( یہ بندہ کیا واقعی سچ میں ایموشنل ہو گیا تھا؟) آتش نے مہر کو دیکھا پھر اپنے ہاتھ کو، پھر مہر کو،پھر؟ پھر سے اپنے ہاتھ کو
" مہر تم تو میوٹ تھی نا ؟"
" ہاں لیکن اب میوٹ نہیں ہوں "
مہر ابھی تک صدمے میں تھی
" او تو ہنی مون پر پہلا سرپرائز یہ ملا ہے واہ میں سمجھا کچھ اور ہونے والا تھا "
آتش نے اچانک مکمل سواگ سے کہا
" آتش"
مہر غصے سے چلائی
" تمہیں واپس سننا عجیب لگ رہا ہے بہت تیز ہو رہی ہو دوبارہ سائلنٹ موڈ پہ ڈال دوں"
آتش نے مسکراتے ہوئے مگر چپکے سے جذبات چھپاتے ہوئے کہا
" میں مر جاؤں گی لیکن دوبارہ اپنی آواز نہیں کھوو گی"
مہر نے چمک کر کہا
" مرنے کا نام مت لو مہر، تمہاری آواز سننے کے لیے تو میں، ہر دفعہ تمہیں دوبارہ پکاروں گا"
آتش اس کے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی میں بولا مہر کی آنکھیں بھر آئی آتش نے دھیرے سے اس کے آنسو صاف کیے اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مہر پھر سے بول پڑے گی اس کو یہ لمحہ ایک خواب جیسا لگ رہا تھا
" تم پریشان نہیں ہو کہ میں دوبارہ بولنے لگی ؟"
مہر کی آواز نرم مگر جذباتی تھی آتش کے ہونٹوں پر ہی نہیں آنکھوں میں بھی مسکراہٹ چمکی تھی
" پریشان تو تب تھا جب تم چپ تھے اب تم بولتی رہو مہر میں سن سکتا ہوں، زندگی بھر"
مہر کو امید نہیں تھی کہ وہ ایسا کچھ بولے گا اس کی آنکھوں کی نمی مزید بڑھ گئی برف کے بیچ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے اور یہی آتش اور مہر کا اصلی ہنی مون تھا جہاں ....
"آتش_مہر" کا پہلی بار ایک دوسرے سے دل جڑا تھا
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment