Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Atish e Meher episode.18🔥💗by Munaza Niaz ✍💫urdu romantic novel🦋💅Revenge base kidnapping base 🔥



ناول: آتش مہر 

از قلم: منزہ نیاز 

قسط نمبر: 18



ہوا تھوڑی سردی لیے ہوئے تھی دھوپ ہلکی سی چمک رہی تھی مگر آسمان پر ہلکے ہلکے بادل بھی چھائے ہوئے تھے ایمل نے گیٹ کے سامنے رک کر گہری سانس لی دل کسی انجان جذبے سے بھاری ہو رہا تھا یہ جگہ، ایک الگ ہی دنیا تھی بالکل رافع جیسی شاطر، محفوظ اور کسی انجان قدر سے بھری ہوئی ایمل نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھا مگر پھر سوچا 

" اب واپس جانے کا کیا فائدہ ؟"

تھوڑی دیر بعد ایمل نے رافع کے لاؤنج میں قدم رکھا تھا ہر چیز ایکسپینسو اور ایلیجنٹ تھی لیکن کہیں نہ کہیں اس جگہ کا مہل عجیب تھا جیسے ایک عجیب سی گہرائی اس جگہ کو لپیٹے ہوئے ہو تبھی پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی ایمل ایک جھٹکے سے مڑی سامنے رافع کھڑا تھا بلیک بٹن ڈاؤن شرٹ کی آستینیں مڑی ہوئی ایک ہاتھ پاکٹ میں اور دوسرا وہسکی گلاس پکڑے ہوئے، نظریں ایمل پر جمی اور چہرے پر وہی ازلی مسکراہٹ ایمل کے قدم پیچھے کی طرف چلنے لگے رافع نے دھیرے سے گلاس میز پر رکھا اور اگلے ہی سیکنڈ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا 

" چچ چچ۔۔۔۔ بہت دنوں بعد میری بیوی نے مجھ پر احسان کیا ہے"

 رافع کی آواز ہمیشہ کی طرح بھاری اور گہری تھی ایمل نے لب بھینچ لیے مگر کچھ نہیں بولی 

" تم کالج کے بجائے میرے پاس چلی آئی، مجھے لگا تھا تم ہمیشہ سے شریف بنتی ہو"

 رافع نے جیسے مذاق اڑایا ایمل نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی

" تمہارے پاس آنا کوئی چوائس نہیں تھی"

 رافع نے اس کو دیکھا پھر دھیرے سے ہنسا

" لیکن آئی تو ہو نا !"

ایمل نے کچھ نہیں کہا بس غصے سے اس کو گھورتی رہی رافع نہیں دھیرے سے اپنی پاکٹ سے سگریٹ نکالا، لائٹر جلایا اور ہلکا سا دھواں فضا میں چھوڑ دیا پھر ایک قدم آگے بڑھ کر ایمل کے اتنے قریب آگیا کہ اس کا ہر سانس محسوس ہونے لگا

" تم مجھے اوائڈ کرتی رہی مجھ سے نفرت کا دکھاوا کرتی رہی مگر پھر بھی۔۔۔۔ جب جب موقع ملا تم سب سے پہلے میرے پاس آئی "

رافع کی آواز نرم مگر گہری تھی ایمل نے تیزی سے پیچھے ہٹنا چاہا مگر رافع نے ایک ہاتھ اس کے پیچھے دیوار پر رکھ دیا

" یہ کیا ہے ایمل ؟ نفرت۔۔۔۔ یا کچھ اور؟"

 رافع نہیں دھیرے سے کہا ایمل کی آنکھوں میں بے چینی بھرنے لگی اس کا دل جیسے کسی راز سے بھرا ہوا تھا جو رافع کے ہر بات پر اور سامنے آ رہا تھا 

" مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں ہے رافع، بس ایک دفعہ مجھے جانے دو یہاں سے"

 رافع نے سگریٹ فلور پر گرا کر اپنے جوتے تلے مسل دی اس کا موڈ اب سیریس ہو چکا تھا 

" جانے دوں؟  تمہاری معصومیت پر ہنسنا چاہیے یا تمہارے جذبات پر"

 رافع کی گہری آواز اب خطرناک ہو گئی تھی ایمل کا سانس اٹک گیا رافع نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دھیرے سے اپنے قریب کر لیا لیکن اتنا نہیں کہ ایمل کو لگے وہ زبردستی کر رہا ہے صرف اتنا کہ اس کی موجودگی ہر جگہ محسوس ہو 

" تم مجھے جاننے کا موقع نہیں دیتی ہو اس  لیے تم سمجھتی ہو کہ میں صرف ایک ولن ہوں مگر سچ یہ ہے کہ۔۔۔۔"

اس نے ایمل کے چہرے پر جھولتی لٹ کو پیچھے کیا اس کی نظریں ایمل کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھی 

" تمہارے دل کی دھڑکن بتا رہی ہے کہ تم جتنی دفعہ مجھ سے دور بھاگتی ہو اتنی دفعہ میرے پاس واپس آ جاتی ہو"

ایمل نے زور سے اپنا ہاتھ چھڑوایا مگر رافع نے سخت گرفت سے روک لیا 

" مجھے چھوڑو رافع!"

 ایمل نے غصے سے مگر کانپتی آواز میں کہا رافع نے دھیرے سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا مگر اس کی آنکھیں۔۔۔۔۔

" جہاں جانا ہے جاؤ مگر ایک بات یاد رکھنا  ایمل!"

 رافع کا لہجہ ٹھنڈا ہوا 

" میں صرف ایک مرتبہ وارن کرتا ہوں"

 ایمل نے کنفیوز ہو کر دیکھا

" مجھ سے دور بھاگنا ایک عادت مت بنا لو کیونکہ جس دن سے میں نے تمہیں روکنا شروع کیا تم پھر کبھی کہیں نہیں جا سکو گی "

رافع کی مسکراہٹ خطرناک ہوئی تھی ایمل کچھ دیر کے لیے بلینک ہو گئی رافع نے دھیرے سے ایک قدم پیچھے لیا اور سگریٹ کا دوسرا سٹک نکال کر لائٹر جلایا ایمل کا دماغ چلانے کا کہہ رہا تھا لیکن اس کا دل صرف ایک چیز محسوس کر رہا تھا 

رافع شاہ سے دور جانا آسان ہے مگر ۔۔۔۔اس سے دور رہنا؟ شاید ناممکن۔

☆☆☆

ایمل کار کے اندر بے چین سے بیٹھی تھی رافع نے کہا تھا کہ صرف دو منٹ لیکن اسے یہاں بیٹھے اتنا خوف محسوس ہو رہا تھا دوپہر ڈھلنے لگی تھی سنسان جگہ اور ہر طرف ایک عجیب سی خاموشی ایمل نے اپنے دوپٹے کو تھوڑا اور کس کر پکڑ لیا 

" رافع جلدی آ جاؤ"

 اس کے لب ہلے اور پھر کچھ پرچھائیاں سامنے سے بڑھتی نظر آئی تھی تین لڑکے،  نظروں میں گندی نیت کی شدت چہروں پر شکار دیکھنے والی بھوک ایک نے ہاتھ سے کار کی باڈی پر ہلکا سا ناک کیا تھا 

" اکیلے بیٹھنا بری بات ہے ہمیں بھی تو ساتھ بٹھاؤ نا"

 اس کا شیطانی چہرہ ونڈ شیڈ کے آر پار صاف دکھ رہا تھا ایمل نے بے چینی سے نظر موڑ لی، مگر دوسرا لڑکا کار کے بالکل قریب آگیا 

" بہت ایٹیٹیوڈ ہے شاید اپنے عاشق کا انتظار کر رہی ہے"

 تیسرے نے ہاتھ سے کار کا ہینڈل جھٹکے سے کھولا مگر ایمل نے جھٹ سے اندر لاک کر دیا

" لاک کرنے سے کیا ہوگا گڑیا تیرا عاشق خود ہی تجھے چھوڑ گیا ہے ہمارے لیے "

وہ لڑکا شیطانی ہنسی ہنسا ایمل کا دل بند ہونے لگا اس نے فون اٹھایا رافع کا نمبر دکھ رہا تھا جلدی سے کال ملائی مگر کوئی جواب نہیں آیا 

" رافع کہاں ہو تم؟"

 اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی ان لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ایک نے آگے بڑھ کر زور سے کار کے شیشے پر مکا مارا

" چلو میڈم کو اپنے لیے نکالتے ہیں"

 اور اگلے ہی لمحے انہوں نے لاک توڑ دیا ایمل چیخ پڑی

" نہیں ہاتھ مت لگاؤ مجھے "

مگر انہوں نے زور سے اس کا دوپٹہ کھینچ کر کار سے باہر گرا دیا ایمل نے گھبراہٹ میں کار کا دروازہ پکڑا لیکن دوسرے نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے ہٹا دیا

" بھاگ نہیں سکتی جان من "

ایمل نے چیخنے کی کوشش کی مگر ایک نے اس کی منہ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا اس کے آنسو گرنے لگے ایک نے اس کا ہاتھ تھام لیا دوسرے نے زبردستی اس کے بالوں کو پکڑا اور تبھی ایک چیز گونجی۔۔۔۔

مگر وہ ایمل کی نہیں تھی ان لڑکوں کی آنکھوں میں دہشت اتر گئی جو انسان سامنے کھڑا تھا وہ،  وہ نہیں تھا جسے ایمل جانتی تھی یہ ایک قاتل شخص تھا


 ان تینوں میں سے ایک کی ایسی چیز گونجی جو صرف درد نہیں موت کا پیغام دیتی ہے ایک لڑکا ہوا میں اچھلا اور کار کی بونٹ پر جا گرا اس کا منہ خون سے بھر گیا تھا رافع کی آنکھوں میں خون اتر آیا ایک لڑکا جو ہنس رہا تھا اب وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر رافع نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اگلے ہی سیکنڈ اس کی گردن رافع کے ہاتھوں میں تھی ایک جھٹکے سے اس نے لڑکے کا سر کار کی کھڑکی پہ دے مارا 

کریک۔۔۔۔ شیشے کے ساتھ لڑکے کی چیخ بھی ٹوٹ گئی تیسرا لڑکا بھاگنے لگا رافع نے گن نکالی مگر چلائی نہیں بلکہ گن کا بٹ اٹھایا اور سیدھا اس کے سر پہ دے مارا ایک خوفناک چیخ، اور پھر سناٹا چھا گیا رافع نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کا کالر دبوچا اور اس کے کان کے پاس جھک کر ٹھنڈی آواز میں بولا

" اگر کسی عورت کو ہاتھ لگانے کا اتنا ہی شوق ہے تو ابھی کے ابھی تیرے دونوں ہاتھ توڑ دوں گا تیرے لیے بہتر ہوگا زندگی بھر گھٹنوں پر چلنا سیکھ لے "

تبھی رافع نے اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ لڑکا الٹا گر گیا 

" آج تو بس وارننگ دی ہے اگلی بار سیدھا قبر میں اتار دوں گا "

وہ لڑکے گرتے پڑتے بھاگ گئے رافع نے ایمل کی طرف دیکھا وہ ایک کونے میں سمٹی ہوئی تھی اس کا چہرہ سفید اور آنکھوں میں آنسو تھے وہ رافع کو پہلی بار اس طرح دیکھ رہی تھی 

ایک انسان جو صرف محبت نہیں تباہی بھی کر سکتا تھا 

رافع اس کے پاس گیا اور نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا 

" میں تمہیں اگنور کر سکتا ہوں، میں تم سے دور رہ سکتا ہوں ، مگر کسی اور کی گندی نظر تم پر برداشت نہیں کر سکتا"

 ایمل نے زمین کی طرف دیکھا مگر رافع نے اس کا چہرہ اپنی طرف اٹھایا 

" میرے ساتھ اس طرح نہیں کرو ورنہ پھر ڈرنا مت"

 ایمل نے سانس روک کر دیکھا یہ دھمکی تھی یا حق؟ رافع نے اس کے آنسو دیکھے پھر انگوٹھے سے اس کے گال پر گرتے آنسو پونچھے

" اب تمہیں کبھی بھی رونا نہیں پڑے گا جو تمہیں تکلیف دے گا اس کا یہی انجام ہوگا جو تم نے ابھی دیکھا"

رافع نے اس کے کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

" مجھے برداشت نہیں ہوتا، تمہارا ایک بھی آنسو،  اور یہ بات تمہیں زندگی بھر یاد رہنی چاہیے "

ایمل نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، رافع نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگایا مگر آنکھیں ایمل پر ہی ٹکی ہوئی تھیں " تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟"

 ایمل نے ہلکی سی چیخ ماری مگر اگلے ہی سیکنڈ رافع نے اس کا چہرہ اپنے سینے سے لگا لیا

" شش۔۔۔۔ میری جان جب تک تم میرے پاس ہو تمہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا"

 ایمل کانپنے لگی تھی رافع نے اپنے ہاتھ اس کی کمر پر رکھے ہوئے، اس کو اور قریب کر لیا 

" یہ مت بھولنا ایمی، میں محبت کرنا بھی جانتا ہوں اور اگر کوئی تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا تو تباہی مچانا  بھی"

 اس کے الفاظ ایمل کے دل میں اتر گئے اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس شخص سے کبھی بھاگ بھی پائے گی یا نہیں

☆☆☆

وہ شام کا وقت تھا کمرے کا ماحول ہلکا اداسی لیے ہوئے تھا مہر کھڑکی کے پاس کھڑی تھی آتش صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اور دونوں ہی چپ تھے مہر کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے؟

 مہر دل ہی دل میں۔۔۔

" مجھے بولنے کی عادت تھی لیکن جب آواز گئی تو سمجھ آیا کہ اصلی آزادی کیا ہوتی ہے اور اب جب واپس آگئی ہے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کس سے بات کروں"

 مہر نے ترچھی نظر سے آتش کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا 

آتش دل ہی دل میں۔۔۔۔

" پتہ نہیں مہر مجھے معاف کرے گی بھی یا نہیں؟  یا پھر یہ سکون والی خاموشی بھی چلی جائے گی "

مہر نے سر جھکا کر گہری سانس لی پھر۔۔۔۔


" آتش۔۔۔۔!"

 آتش نے شاکڈ ہو کر مہر کو دیکھا 

" یہ۔۔۔۔ یہ آواز کہاں سے آئی؟"

مہر نے اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ واقعی بولنے لگی ہے

" آتش میں بول سکتی ہو میں سچ میں بول سکتی ہوں "

وہ خوشی سے چلائی

" اللہ کا شکر ہے میرا پیس فل ہنی مون ختم ہونے والا ہے "

آتش نے جیسے مذاق اڑایا 

" مطلب تم خوش نہیں ہو؟"

 مہر غصے سے بولی

" ارے نہیں یار میرا مطلب ہے میں بہت ایموشنل ہوں، ایک دم سے ایموشنل بریک ڈاؤن ہو رہا ہے مجھے تو رونا آ رہا ہے، دیکھو آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں"

 آتش نے بیچاری سی شکل بنائی 

" ہاں ہاں مجھے پتہ ہے تم اندر ہی اندر ناچ رہے ہو گے کہ اب میری نان سٹاپ کمنٹری واپس آگئی ہے اور مجھے تمہاری زندگی کا سب سے بڑا سچ بھی پتہ چل گیا ہے"

" کک۔۔۔۔۔کیا ؟"

آتش نے ڈرتے ڈرتے پوچھا 

" تم میری چپی سے خوش تھے "

آتش کو تو جیسے جھٹکا لگا تھا اور مہر ہنس ہنس کر دوہری ہو گئی تھی

☆☆☆

کار ایک عجیب سی جگہ پر آ کر رکی تھی رافع نے ایمل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ایمل نے آس پاس دیکھا یہ جگہ بالکل خالی تھی

" یہاں کیوں لائے ہو مجھے؟"

 ایمل نے ڈرتے ڈرتے پوچھا رافع نے بنا کوئی جواب دیے ڈور کھولا اور اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا 

" تمہیں ایک چیز دکھانی ہے"

ایمل کا دل عجیب طریقے سے دھڑکنے لگا یہ جگہ یہ احساس اسے صحیح نہیں لگ رہا تھا وہ دھیرے دھیرے اندر گئی وہ ایک پرانا ویئر ہاؤس تھا جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی وہ جھٹکے سے مڑی رافع پیچھے کھڑا تھا اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ

" را۔۔۔۔رافع یہ کیا ؟"

رافع نے بنا کچھ کہے ایک سوئچ دبا دیا ایمل کی آنکھیں چندھیا گئیں اور جیسے ہی اس نے دیکھا اس کی روح فنا ہوئی سامنے ایک گلاس کیج تھی اور اس میں ایک آدمی۔۔۔۔اس کی حالت بہت بری تھی منہ پر خون ہاتھ بندھے ہوئے 

" یہ۔۔۔۔ یہ کون ؟"

ایمل نے کانپتی آواز میں پوچھا رافع نے سگریٹ جلائی دھواں فضا میں چھوڑا اور ایک قدم آگے آیا 

" تمہیں جاننے کی ضرورت نہیں کہ یہ کون ہے تم بس اتنا سمجھ لو کہ جس دنیا میں تم آنے کا فیصلہ کر چکی ہو وہاں صرف دو آپشنز ہیں یا تم رول (rule) کرو گی یا پھر تمہارا بھی یہی حال ہوگا "

رافع کی سرگوشی جان لیوا تھی ایمل کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی یہ رافع شاہ کا اصلی روپ تھا 

" سمجھ گئی؟"

 وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی تبھی رافع کا موبائل بج اٹھا اس نے ایک نظر ایمل کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا پھر بنا کچھ کہے سائیڈ پر چلا گیا

" کھیل الٹی چال چل چکا ہے سر۔۔۔۔ جسے ہم سوچ رہے تھے کہ شکار ہوگا وہ الٹا شکار کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے"

 دوسری طرف کی بات سن کر رافع کا غصہ تیز ہوا 

" مزید ؟"

وہ باہر نکل گیا تھا

" وہ صرف دیکھ نہیں رہا سر اب وار کر رہا ہے اور جگہ بھی وہی چنی ہے جہاں سب سے زیادہ چوٹ پہنچتی ہے اگر آپ ابھی نہیں پہنچے تو۔۔۔۔"

 رافع سکتے میں رہ گیا 

" میں نکل رہا ہوں "

اس نے ایک پل کے لیے سوچا اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا ایمل ابھی تک وہیں کھڑی تھی رافع جا چکا تھا وہ انتظار کرنے لگے کہ کب وہ آئے گا اس کا دل اس ماحول میں عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا پانچ منٹ گزرے دس منٹ گزرے مگر رافع نہیں آیا اس کی ہوائیاں اڑنے لگی اگلے منٹ دروازہ زور سے کھلا ایمل نے کرنٹ کھا کر دیکھا اور اسی پل اس کا وجود ایک سیکنڈ کے لیے جم گیا ذریاب تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے ساتھ رضا صاحب بھی تھے ایمل کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑنے لگا 

" کیا سوچا تھا ایمل کہ تم کسی کو بنا بتائے بنا کسی کی نظروں میں آئے کہیں بھی چلی جاؤ گے اور ہمیں معلوم تک نہیں ہوگا "


زریاب بے یقینی سے اس کے پاس آیا تھا ایمل کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا اسے زریاب کا چہرہ دھندلا نظر آنے لگا 

" بھائی۔۔۔۔ابو!"

 اس کی آواز کانپی رضا صاحب بے یقینی سے اس کو دیکھ رہے تھے ایک ایسا انسان جو اندر سے جل رہا ہو

" مجھے صرف ایک جواب چاہیے ایمل یہ سب کیا ہے؟"

 رضا صاحب نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا ایمل ہوش اڑے وہ بول نہیں پا رہی تھی اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے اور لب بری طرح کپکپا رہے تھے 

" جب مجھے سب کچھ پتہ چلا تو مجھے یقین نہیں آیا لیکن اب جب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو یقین کرنا اب بھی مشکل ہو رہا ہے"

 ایمل کی آنکھوں سے پانی گرنے لگا اگلے ہی پل زریاب کا ہاتھ اٹھا تھا وہ گرنے لگی مگر رضا صاحب نے اس کو پکڑ لیا

" چلو یہاں سے، تم نے۔۔۔۔ تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ایمل"

ایمل نے تو دھندلائی آنکھوں سے اپنے شفیق باپ کو دیکھا جو اسے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے ایمل نے ایک آخری دفعہ پلٹ کر دیکھا اس جگہ کا اندھیرا رافع کی چھوڑی ہوئی سموک کی مہک اور وہ گلاس کیج یہ جگہ اس کے لیے ایک نائٹ میئر بن چکی تھی اس کا دل چلایا تھا رافع کہاں ہے؟ مگر وہ کہہ نہیں سکی ذریاب نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے رکھا تھا اور بنا ایک سیکنڈ ضائع کیے اسے باہر کھینچ لے گیا

☆☆☆

اریس بلیک سوٹ اور گلوز میں انٹرنس پر رکا کمرے کا ماحول کافی سنجیدہ تھا۔ انویسٹر، بورڈ ممبرز اور سب پاور فل بزنس مین ایک لمبے کانفرنس ٹیبل کے ارد گرد بیٹھے تھے اریس اپنے ازلی اعتماد کے ساتھ اندر گیا ایک مخصوص مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی اسے لگ رہا تھا کہ وہ حالات کو ابھی بھی سنبھال سکتا ہے 

" شروع کریں ؟ مجھے دیکھ کر سب کے چہروں پر ٹینشن آگئی ہے "

وہ مسکرایا مگر کوئی رسپانس نہیں دیا گیا سب کے چہرے سپاٹ تھے تبھی اس کا سب سے قابل اعتماد آدمی اٹھا تھا 

" صرف تم یہ سوچ رہے تھے کہ تم یہ میٹنگ کنٹرول کر رہے ہو؟"

 اریس کی مسکراہٹ سمٹی تبھی ایک اور بندہ اٹھا 

" اریس شاہ! آج سے تمہارا نام اس بزنس ایمپائر میں صرف ایک کہانی رہ جائے گا"


اریس کا غصہ دھیرے دھیرے بڑھنے لگا اس نے گلوز اتار کر ٹیبل پر رکھے 

" یہ سب ڈرامہ مجھے ڈرانے کے لیے ہے، مجھے لگتا تھا تم لوگوں میں گٹس ہیں لیکن تم صرف لفظوں کی سپاہی نکلے "

وہ اندھیرے جیسی ہنسی ہنسا تبھی ایک اور بندہ اٹھا اور ایک سیکرٹ ڈاکومنٹس اس کے سامنے پھینک دیے

" یہ وہ کنٹریکٹس ہیں جو تمہارے سب سے بڑے انویسٹر نے الریڈی سائن کر دیے ہیں۔۔۔ تمہارے اگینسٹ !"

اریس کی آنکھیں فریز ہوئیں مگر وہ ہمیشہ کی طرح اپنے جذبات چھپا گیا 

" تو تم لوگ مجھے انڈرسٹیمیٹ کر رہے ہو، میرے نام صرف ایک ایمپائر نہیں ایک Lagacy ہے تم سب کو لگتا ہے میں یہ سب دیکھ کر collaps ہو جاؤں گا"

 تبھی ایک اور بندے نے ایک اور فائل اس کے سامنے رکھی 

" کولاپس سے نہیں مسٹر اریس شاہ تم  آل ریڈی گر چکے ہو تمہاری پراپرٹیز فریز ہو چکی ہیں تمہاری ڈیلز کینسل ہو چکی ہیں اور تمہیں خبر تک نہیں ہے"

اریس کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے غائب، اور جبڑے بھینچ گئے 

" اور مجھے بتاؤ یہ ماسٹر مائنڈ کون ہے جو مجھے، مجھ سے ہی ہرانا چاہتا ہے"

 ایک لمحے کو جان لیوا خاموشی چھا گئی سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا مگر کوئی جواب نہیں آیا اریس غصے سے اٹھا 

" تم سب سوچ رہے ہو کہ تم جیت گئے ایک شیر کو زخمی کرنے کے مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جنگل کا راجا بدل گیا یہ صرف شکار کو اور بھڑکانے والی غلطی ہے"

 اس نے ایک تیز نظر سب پر ڈالی اور باہر نکل گیا جیسے ہی اس نے اپنے بلیک سپورٹس کار کا دروازہ کھولا اس کا فون وائبریٹ ہوا اریس نے فون اٹھایا اور تبھی ایک ٹھنڈی جان لیوا اور شاطر آواز سنائی دی

 آتش زایان کی۔۔۔۔

" اریس رافع شاہ۔۔۔صرف تم سمجھتے تھے کہ تم اپنا ایمپائر کنٹرول کر رہے ہو مجھے لگا تھا تم تھوڑا اور ٹف ہوتے "

اریس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی 

" گیم شروع ہو چکا ہے رافع شاہ، تمہارے اپنے مہرے تمہارے خلاف چل پڑے ہیں"

 کال کٹ گئی اریس نے اسکرین پر ریڈلی  سکرولنگ ڈیٹا دیکھا اس کی بزنس ٹرانسیکشن offshore  اکاؤنٹس اور اللیگل ڈیلز کے ریکارڈ ایک ایک کر کے ہیک ہو رہے تھے ایک ایک نوٹیفکیشن اس کے نیٹ ورک کی کمزوری دکھانے لگا اس کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا آتش بنا کسی کلوز چھوڑے آگے بڑھ رہا تھا اس نے اپنے آدمی کو کال ملائی 

" مجھے پتہ کر کے دو کس طریقے سے میرے نیٹ ورک بریچ کیے گئے ہیں؟  اور آتش زایان کہاں ہے؟"

" سر یہ پتہ لگانا مشکل ہے اس نے اپنے سارے فٹ پرنٹس مٹا دیے ہیں جہاں ہم سوچتے ہیں وہ ہوگا وہاں صرف ایک اور ٹریپ ہوتا ہے "

اریس کے جبڑے بھینچ گئے تبھی ایک اور نوٹیفکیشن آیا ایک اور فائنانشل ڈیل۔۔۔جو اس کے نام سے سیکرٹلی کینسل ہو چکی تھی، اور اس بار سینڈر کا ایک initial  ڈسپلے ہو رہا تھا

 "A۔Z"


  تبھی اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا تھا 10 منٹ میں وہ وہاں موجود تھا جہاں اس نے ایمل کو چھوڑا تھا وہ تیزی سے اندر بھاگا اس کے اندر عجیب سی بے چینی پھیل رہی تھی جیسے سب کچھ اب ہاتھ سے نکل چکا ہو جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا وہاں صرف اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا اس کا فون پھر وائبریٹ ہوا اسکرین پر نام چمک رہا تھا 

آتش زایان 

ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر اس نے کال اٹھا لی تھی اس کا ہاتھ پہلی دفعہ کانپا تھا 

" اب کیا چاہیے تمہیں؟"

اریس کی آواز جیسے مر چکی تھی دوسری طرف لمحے بھر کی خاموشی چھائی رہی اور پھر ہنسی گونجی 

" چاہیے ؟ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے رافع شاہ سب کچھ تو تم نے کھو دیا ہے " 

اریس نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لی بولا کچھ نہیں

" سوچ رہے ہو گے نہ کہ تم تو ہمیشہ ایک قدم آگے رہے ہو مگر پھر یہ سب کیسے ہو گیا کیسے سب کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا"

 اریس نے غصے سے دانتوں تلے زبان دبا لی وہ کسی بھی حال میں آتش کو یہ سکون نہیں دے سکتا تھا کہ وہ جیت گیا ہے 

" بہت بولنے لگے ہو آتش زایان "

آتش ہنسا ایک ایسی ہنسی جو اریس کی بے چینی بڑھا گئی 

" مہر بھی یہی کہتی تھی "

اریس کی آنکھیں کھلی 

" ہاں وہی مہر جس کے لیے میں ہر حد پار کر چکا ہوں جس کے لیے مجھے کسی بھی چیز کا ڈر نہیں رہا نہ موت کا ، نہ دنیا کا،  نہ تم جیسوں کا "

اریس نے انگلی ڈیسک پر زور سے بجائی 

" اور یہ سب بتا کر مجھے کیا دکھانا چاہتے ہو کہ تمہارے جذبات مجھ سے زیادہ گہرے ہیں "

آتش نے اب کی بار دھیرے سے سانس اندر کھینچی 

" مہر کی ایک بہن بھی ہے پتہ ہے؟"

 آتش کی آواز اریس کو ہلا کر رہ گئی اس کا ہاتھ ساکت اور سانسیں بے ترتیب ہوئی

" ایک چھوٹی سی بہن جو اب تمہاری بیوی بھی ہے"

 خاموشی

اریس کا دماغ بلینک ہوا وہ آہستہ سے کھڑا ہوا جیسے کسی نے اس کی رگ رگ جما دی ہو 

" کیا ؟"

اریس کی آواز تیز سرگوشی جیسی تھی


" ایمل مہر کی بہن ہے تمہاری دشمن کی چھوٹی بہن اب بتاؤ اریس رافع شاہ! تم نے کیا جیتا اور کیا کھویا"

 اریس کی گرفت ڈیسک پر سخت ہوئی

 ایمل مہر کی بہن۔۔۔ وہ ایمل جسے وہ ہارنا نہیں چاہتا تھا اگر یہ بات اس کو معلوم ہوتی تو وہ رک جاتا نکاح تک بات آتی ہی نہیں 

" تم جانتے تھے کہ؟"

" ہمیشہ سے ۔۔۔"

آتش نے اس کی حالت سے مزہ لیتے ہوئے کہا اریس نے فون زور سے پکڑا وہ شاکڈ میں تھا مگر وہ کبھی بھی آتش زایان کے سامنے بک نہیں سکتا تھا 

" تمہیں لگتا ہے میں ٹوٹ گیا "

آتش خاموش رہا 

" میں اریس رافع شاہ ہوں مجھے توڑنا اتنا آسان نہیں ہے "

" پھر دیکھتے ہیں کتنے دن لگتے ہیں تمہیں دوبارہ اٹھنے میں"

 اور کال کٹ گئی

☆☆☆

زریاب نے زور سے ایمل کو مشعل کی طرف دھکیل دیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی مشعل نے فورا اس کو پکڑ لیا طیبہ بیگم تیزی سے اس کی طرف گئی تھی ایمل کے آنسو تیزی سے گر رہے تھے اس میں ہمت ہی نہیں تھی کہ کسی سے بھی نظر ملا سکے اس کا گلا خشک ہو چکا تھا 

" ایمل بتاؤ سب کو کہ تم کہاں کیوں اور کس کے ساتھ تھی؟"

زریاب چلایا تھا ایمل کی سانس خشک ہوئی زریاب، اس کا وہ بھائی، وہ ہرگز نہیں لگ رہا تھا جسے وہ جانتی تھی ایمل دھیرے سے فرش پر گر گئی اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو چکے تھے مشعل اور طیبہ بیگم سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا بات ہے 

" ایمل بیٹا کیا ہوا ہے ذریاب کیا کہہ رہا ہے؟ تم کہاں تھی ؟" 

طیبہ بیگم نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کیا 

" مم۔۔۔۔میں نے نکاح کر لیا ہے امی"

 طیبہ بیگم کے ہاتھ سے ڈھیلے پڑے رضا صاحب جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے رہے مشعل نے بے یقینی سے ذریاب کو دیکھا جو دوبارہ اس پر چلایا تھا 

" کس سے نکاح کیا ہے یہ بھی بتاؤ ایمل"

"ا۔۔۔۔ار۔۔۔۔ اریس سے"

 ایمل کی آواز کانپی پورے حال میں سناٹا چھا گیا گھٹن مزید بڑھ گئی تھی زریاب نے گلاس اٹھایا اور پوری قوت سے فرش پر مار دیا 

" جس سے تم نے نکاح کیا ہے وہ وہی ذلیل انسان ہے جس نے مہر کو توڑا تھا وہی گھٹیا انسان جس کی وجہ سے میری بہن آج بول نہیں سکتی"

 ایمل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اس کا دماغ سن ہو گیا تھا 

اریس۔۔۔ مہر ۔۔۔۔۔ اس کا دشمن؟

 اس کا سانس لینا مشکل ہو گیا وہ کولاپس ہونے کے قریب تھی


 اس نے کبھی مجھے دیکھا بھی نہیں پر میں ہر اس دن کو یاد رکھ سکتا ہوں جب وہ میرے سامنے سے گزر گئی تھی 


اس کی ہنسی، کا غصہ،  ہر چیز مجھے اپنی لگتی تھی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا اب وہ صرف مجھے دیکھے گی


 جس دن اس کے گھر بڑی مصیبت آئی اس دن وہ میری طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائے گی اس دن شاید مجھے سزا مل جائے گی یا انعام 


ایمل کو لگ رہا تھا وہ کبھی اٹھ نہیں سکے گی 


" ایمل یہ ذریاب کیا کہہ رہا ہے تم؟"

 طیبہ بیگم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی ایمل کیا کر چکی ہے

" امی مجھے نہیں پتہ تھا"

 وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگی 


" مجھے سچ میں نہیں پتا تھا، امی میرا یقین کریں میں نہیں جانتی تھی"


 زریاب اس کو اس بری طرح روتا دیکھ کر لمحے بھر کو ساکت ہوا اس نے اپنی دونوں بہنوں کو پہلی مرتبہ اس شدت سے روتے دیکھا تھا پہلے مہر اریس کا شکار بنی اور اب ایمل اور وہ دونوں کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکا تھا اس کا دل کیا ابھی کے ابھی مر جائے اگر اب بھی آتش اس کو کال کر کے نہ بتاتا تو وہ کبھی نہ جان سکتا کہ ایمل کہاں تھی اور کس کے ساتھ تھی وہ آہستہ سے اس کے پاس گیا مشعل خاموش کھڑی تھی بالکل ساکت۔ اس کے آنکھیں بھی نم تھیں ایمل نے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنا چاہا کہ کہیں ذریاب اسے مارنے تو نہیں آیا زریاب کو اب افسوس ہو رہا تھا جو اس نے کچھ دیر قبل ایمل پر ہاتھ اٹھایا تھا 

" نہیں نہیں بھائی پلیز مجھے مت مارے مجھ سے غلطی ہو گئی"

 وہ ہاتھ جوڑنے لگی تھی ذریاب گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا اور اس کو سینے سے لگا لیا 

" پلیز سوری ایمل۔۔۔ خاموش ہو جاؤ بیٹا بالکل خاموش اس میں میری بھی غلطی ہے جو اپنی بہنوں کی حفاظت نہیں کر سکا مجھے پوری بات بتاؤ ایمل۔۔۔ پوری بات"

 وہ اس کا سر سہلاتا تو کبھی ماتھا چومتا ایمل مزید شدت سے رونے لگی رضا صاحب خاموشی سے صوفے پر گر گئے کچھ دیر بعد ایمل کی آواز پورے حال میں گونج رہی تھی


جاری ہے

Comments

Popular Posts