Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Atish e Meher episode.19🔥🖤/ Atish Zayan🔥🖤 Meher Maah🦋💅/ Urdu novel 💫👀romantic novel 📖🌏🥀

 


ناول: آتش مہر 

از قلم: منزہ نیاز 

قسط نمبر: 19

سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ ❤‍🔥


" آتش تمہیں پتہ ہے نا جب میں نہیں بولتی تھی تو مجھے لگتا تھا تم صرف مجھے سمجھنے کا ناٹک کر رہے ہو"

 مہر پیکنگ کر رہی تھی اور آتش بیچارا ایک کونے میں بیٹھا تھا جیسے کوئی جیل کا قیدی ہو مہر ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر آتش کو سنا رہی تھی 

" ہاں ناٹک ہی تو تھا اور اب یہ رئیل لائف ہارر شو واپس شروع ہو گیا ہے "

مہر نے کھینچ کر تکیہ آتش کے سر پر مارا

" ہاں ہاں تم مجھے منا بھی نہیں رہے تھے بس چپ چاپ بیٹھ کے رومینٹک ہیرو بنے ہوئے تھے"

" رومینٹک ہیرو؟ مہر تم نے کبھی دیکھا ہے کوئی ہیرو! جو اتنا بیچارہ ہو"

 آتش نے سر پکڑ لیا 

" ہاں تم "

مہر نے اس کا مذاق اڑایا آتش نے توبہ کرتے بیگ اٹھایا اور دروازہ کھول دیا 

" چلو میڈم پلین مس ہو گیا تو تم زندگی بھر مجھے سناؤ گی "

" میں تو ویسے بھی سنانے والی ہوں مس بھی ہو گیا تو کیا فرق پڑتا ہے "

" مجھے چکر آ رہے ہیں "

مہر ہنس ہنس کر دوہری ہو گئی دونوں دروازے کی طرف بڑھے مہر ابھی بھی بول رہی تھی اور آتش بیچارا بس سن رہا تھا یہ مہر کی آواز واپس نہیں آئی تھی بلکہ آتش کا سکون چلا گیا تھا۔

☆☆☆

اریس رافع ایک ویل سیٹلڈ اور با اثر بزنس فیملی کا بیٹا تھا اس کا باپ ایک مضبوط سیاسی اور کاروباری شخصیت تھا اریس اپنے گھر کا ایک قابل فخر وارث تھا لیکن اس کی دنیا تب بدل گئی جب ایک رات نے اس کا سب کچھ چھین لیا اس کے گھر پر ایک سوچا سمجھا حملہ ہوا تھا یہ دشمنی صرف اس کے باپ کی سیاسی اور بزنس کی نہیں تھی بلکہ یہ ذاتی تھی وہ لوگ جو اریس کے گھر گھس آئے تھے، صرف مال لوٹنے نہیں آئے تھے ان کا مقصد صرف ایک وارننگ دینا تھا ایسی وارننگ جو خون سے لکھی گئی زمل اریس کی چھوٹی بہن تھی اریس کی ہر کمزوری اس کا ہر پیار اس سے جڑا ہوا تھا وہ صرف اس کی بہن نہیں تھی بلکہ اس کی انسانیت کا سب سے گہرا حصہ بھی تھی وہ اس کے لیے ایک اینجل جیسی تھی ایک ایسی روشنی جو اس کے اندر کے اندھیروں کو دور کرتی تھی لیکن اس رات جب حملہ آور آئے اریس گھر پر نہیں تھا وہ کسی بزنس ڈنر میں تھا اور جب وہ واپس آیا تو جو کچھ اس نے دیکھا اس کے اندر کا ہر جذبہ مر گیا زمل خون میں لت پت تھی ایک گولی اس کے سینے میں لگی تھی اریس جب اندر دوڑا تو زمل کی آنکھوں میں اب بھی اس پر بھروسہ تھا اس نے اریس کے ہاتھ تھامنے کی کوشش کی مگر اس کا ہاتھ بے جان ہوتا چلا گیا اس کے ماں باپ موقع پر ہی مر گئے تھے اریس چیخ رہا تھا اس کا بس چلتا تو اسی وقت سب کو مار ڈالتا اس کے اندر ایک ایسی آگ تھی جو اس رات لگی اور کبھی بجھ نہیں سکی اس کے لیے یہ صرف ایک خون نہیں تھا یہ ایک مثال تھی ایک چیلنج تھا ایک دکھ تھا جو اس کے دل کو چین نہیں لینے دیتا تھا اریس کا دکھ اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا تھا اگر اس نے اپنے جذبات کو استعمال نہیں کیا ہوتا اس نے صرف دکھ نہیں منایا اس نے اس ہر ایک بندے کا پتہ لگایا جو اس کے پیچھے تھا اور پھر ایک ایک کر کے ان کا سب کچھ ختم کر دیا ایک کا بزنس گر گیا ایک کا بیٹا غائب ہو گیا اور کبھی بھی نہیں ملا ایک کا پورا ایمپائر جھوٹ اور فراڈ کیسز میں گرا دیا اور جن لوگوں نے ہاتھ اٹھایا تھا ان کا انجام سب سے زیادہ برا تھا پہلا آدمی جو زمل کی موت کے دن سب سے زیادہ ہنسا تھا اب اندھیری جگہ میں بند پڑا ہوا تھا اس کے سامنے کھانا رکھا گیا لیکن زہر سے ملا ہوا۔۔۔۔

 بھوک سے مرنے کا ڈر زیادہ تھا یا زہر کھا کر مرنے کا ؟ یہ فیصلہ اسی کا تھا اور موت کا سواد اس نے خود چنا دوسرا آدمی اریس کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھا لیکن اریس نے ایک بھی ہاتھ نہیں اٹھایا بس اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اس کو ایک جنگل میں چھوڑ دیا رات کے اندھیرے میں اس کے آس پاس سے صرف چیلیں اور بھیڑیے تھے اس نے چیخنا شروع کیا مگر،

 جنگل سنتا نہیں تھا جنگل کھاتا تھا۔

 تیسرا وہ تھا جو اس کے خاندان کو سب سے پہلے مارنے آیا تھا رافع نے اس کو ایک کمرے میں بند کیا اس کے سامنے اس کے اپنے جیسے چہرے والے آدمی کو بٹھایا جو بس ایک شیشہ تھا آئینے کے سامنے بیٹھے انسان کا چہرہ دھیرے دھیرے بدلنے لگا پھر وہ چیخنے لگا پھر وہ ٹوٹنے لگا اور اریس شاہ نے بس اتنا کہا

" اپنی موت کو آنکھوں سے دیکھنا کیسا لگتا ہے؟"

 اور جو آخری شکار تھا، سب سے بڑا دشمن، اور زمل کا قاتل وہ ابھی بھی زندہ تھا مگر صرف سانس لے رہا تھا جی نہیں رہا تھا رافع نے اسے ایک سنسان جگہ پر رکھا تھا اندھیرا اتنا کہ خود کی سانس سنائی دے خاموشی اتنی کہ اپنی موت محسوس ہو ایک دن وہاں ایک شخص آیا اس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی زمل کی تصویر اس نے وہ تصویر اریس کے سامنے رکھی

" وہ مر گئی تو جی رہا ہے یہ انصاف نہیں ہے!"

 رافع نے اس آدمی کی طرف دیکھا آنکھوں میں وہی سکون تھا جو صرف کسی بہت بری چیز کے ہونے سے پہلے ہوتا ہے 

" نہیں!  وہ صرف ایک بار مری یہ ہر دن مرے گا"

 اس دن رافع نے اس آدمی کو ایک بھی زخم نہیں دیا بس اس کی زندگی چھین لی بنا اسے مار کر اس کی ہر یاد ہر پہچان ہر انسان اس سے چھین لیا اب وہ جیے گا مگر صرف موت کی دعا کرے گا

" مجھے مار دے "

اس آدمی نے چیخ کر کہا اریس رافع مسکرایا وہ پہلی بار مسکرایا تھا اور پہلی بار اس کی مسکراہٹ سب سے زیادہ ڈراونی تھی 

" موت ؟ وہ تو ڈیزرو بھی نہیں کرتا"

 کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا کوئی ثبوت نہیں ملا زمل اور اس کے ماں باپ کا خون بےکار نہیں گیا تھا مگر اس بدلے نے اریس کو انسان سے ایک خطرناک ڈیول بنا دیا تھا جس شخص نے ایک معصومی بھری زندگی دیکھی تھی اب اس کے اندر صرف اور صرف اندھیرا تھا اس کی نفرت صرف انہی لوگوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ پوری دنیا کے خلاف ہو چکی تھی اس کے لیے ہر ایک چیز چیلنج چاہے وہ مہر کا اغوا ہونا ہو یا ایمل کا قید ہونا اس کے لیے محبت بھی ایک جنون اور نفرت بھی ایک گیم کیونکہ اس نے زندگی صرف ایک طریقے سے دیکھی تھی 

" یا تو جیتو یا ہر چیز ختم کر دو"

☆☆☆

آتش اپنے اسٹڈی روم میں کھڑا تھا اس کا فون اس کے ہاتھ میں تھا اس کا دماغ بے سکونی لیے ہوئے تھا تبھی اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل پر رکھی ایک سلپ پر گئی 

" تم کیا سمجھے تھے کہ تم جیت گئے ؟ مہر کی طرف ایک بار دیکھو تمہارے جیسے لوگ صرف سمجھنے میں دیر کرتے ہیں ہارنے میں نہیں "

آتش کی گہری بھوری آنکھوں میں ایک سیکنڈ کے لیے کنفیوزن آئی اور اگلے ہی سیکنڈ وہ مہر کے کمرے کی طرف بھاگا اور اندر جا کر اسے معلوم ہوا کہ واقعی اسے سمجھنے میں دیر لگ گئی ہے

☆☆☆

ذریاب اپنے کمرے میں تھا، گلٹ اور غصے میں۔ اس کے فون پر ایک میسج آیا ہوا تھا ان نون نمبر۔۔۔۔

" تمہیں لگتا ہے تم نے ایمل کو بچا لیا؟  تم نے صرف اسے ایک نئے دشمن کے حوالے کر دیا ہے تمہاری بہن صرف تمہاری وجہ سے خطرے میں ہے اور تمہیں اس کا احساس بھی نہیں"

 ذریاب کا چہرہ کس گیا جبڑے بھینچ گئے، وہ اس وقت اپنے گھر میں تھا اور پھر وہ غصے میں گھر سے نکل گیا تھا اس نے فورا ایک کال ملائی یہ جاننے کے لیے کہ یہ صرف دھمکی تھی یا سچ، یا بس ایک ٹرک مگر۔۔۔

☆☆☆

ایمل لاونج میں اکیلی چہل قدمی کر رہی تھی اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور ذہن بالکل خالی

" آپ کو مہر باجی بلا رہی ہیں، ارجنٹ"

 ایک ملازم اس کے پاس آیا وہ نیا تھا اور ایمل یہ بات نہیں جانتی تھی جیسے ہی وہ اندر گئی اس کے منہ پر ایک کپڑا چپکا دیا گیا کلوروفوم ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہونے لگی مگر پوری طرح بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے ایک آواز سنی تھی 

" تمہیں لگتا تھا کہ تم بس ایک مہرہ تھی تمہیں نہیں پتہ تھا کہ تم میرے کھیل کا آخری مہرہ تھی،  مہر صرف ایک شروعات تھی اصلی کہانی تو اب شروع ہو گی" 

☆☆☆

ایمل کی آنکھوں پر بندھی پٹی دھیرے سے کھلی اس کا دماغ سن ہو چکا تھا اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا ہوش سنبھالتے ہی اس نے جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی مگر اس کے ہاتھ پیر رسی سے بندھے تھے اس کا دل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا اچانک ہلکی روشنی جلی اور ایک جان پہچان والی مسکراہٹ اس کی آنکھوں کے سامنے چمکی وہ اس کے سامنے کھڑا تھا ایمل کا غصہ عود  کر آیا اس نے نفرت سے اریس کو دیکھا 

" میں صرف ایک راستہ تھی تمہارے لیے صرف ایک گیم کا حصہ بس ایک مہرہ ؟"

وہ چلائی وہ چل کر اس کے قریب آیا کرسی کے دونوں طرف ہاتھ رکھے اس پر جھکا 

" اور اگر تھی بھی تو کیا فرق پڑتا ہے پرنسز!"

 ایمل کی آنکھوں میں آنسو چمکے مگر اس کا غصہ۔۔۔

" فرق پڑتا ہے کیونکہ تم نے مجھے یقین دکھایا تھا تم نے مجھے محسوس کروایا تھا کہ شاید تم بھی ایک انسان ہو لیکن تم صرف ایک مونسٹر نکلے"

 وہ دوبارہ چلائی 

" مونسٹر ؟"

اس نے دھیرے سے کہا 

" اگر میں مونسٹر ہوں تو تم مجھے ٹیم (tame) کرنے والی کیوں نکلی ہو ہاں؟"

 ایمل بالکل چپ ہو گئی آنسو ہنوز گر رہے تھے

" ایک بات بتاؤں تمہیں؟"

اریس نے اس کے بال کان کے پیچھے کرنا چاہے مگر ایمل نے تیزی سے سر پیچھے کر لیا " اگر میں صرف ایک گیم کھیل رہا تھا تو تم مجھ سے دور کیوں نہیں جا سکی؟  کیوں؟  کیونکہ تمہاری آنکھیں ابھی بھی مجھے چیلنج کر رہی ہیں"

اریس کی آواز ہلکی مگر خطرناک تھی

" کیونکہ مجھے تم سے نفرت ہے رافع"

 ایمل نے غصے سے دیکھا اریس کے اندر کچھ بدلنے لگا تھا 

" تمہیں نفرت ہے یا تو مجھ سے پیار کرنے لگی تھی"

اریس نے جیسے مذاق اڑایا 

" تم صرف ایک سیلفش انسان ہو "

اریس ہنسا 

" تمہیں نہیں پتا جو چیز اریس رافع کی نظر میں آ جائے وہ یا اس کی ہوتی ہے یا پھر۔۔۔"

 اس نے جملہ ادھورا چھوڑا ایمل نے چلانا چاہا مگر اریس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی

" شش۔۔۔۔ جتنا زیادہ چلاؤ گی اتنا ہی مزہ آئے گا جان"

 ایمل نے گھبرا کر پیچھے ہونا چاہا مگر نہیں ہو سکی 


" Welcome to my World! Aimal "


 اس نے دھیرے سے انگلی اس کے لبوں سے ہٹائی 

" تم۔۔۔۔تم ایک پاگل آدمی ہو، آخر تمہیں سمجھ بھی آتا ہے کہ تم نے کیا کیا؟"

" میں پاگل ہوں؟ ارے پاگل تو تم تھی جو سمجھ ہی نہیں پائی کہ میں صرف تمہارا تھا، ہمیشہ سے"

 اس نے ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ کہا 

" جھوٹ مت بولو میں نے تمہیں کبھی نہیں چاہا "

ایمل نے نفرت سے اس کو دیکھا 

" شاید تم بھول رہی ہو میں وہ ہوں جو تمہاری مسکراہٹ کا مطلب بھی سمجھتا تھا جو تمہاری ہر بات ہر نظر ہر سانس کو محسوس کرتا تھا تم میری تھی ایمل تم میری ہو"

 اپنے لفظوں پر زور دیتا وہ مزید اس کے قریب ہوا 

" مجھے تم سے نفرت ہے "

آنسو بھری آنکھوں سے دور ہٹنے کی کوشش کی 

" اور مجھے تم سے محبت ہے اتنی ہی گہری جتنی میری نفرت ان لوگوں سے ہے جو تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہتے ہیں "

اریس نے ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا ایک پل کا سناٹا چھا گیا ایمل کا دل زور سے دھڑک اٹھا مگر اس کے دماغ میں ابھی بھی سوال گونج رہے تھے 

" اگر تمہیں مجھ سے اتنی محبت تھی تو تم نے مجھے اتنی تکلیف کیوں دی مجھے کیوں برباد کر دیا؟"

ایمل نے غصے اور بے چینی سے کہا اریس نے قہقہہ لگایا 

" برباد ؟ تمہیں لگتا ہے تم برباد ہو چکی ہو؟  تمہاری بربادی ابھی باقی ہے اریس نے اس کی ساری رسیاں کھول دی اس کا چہرہ ایمل کے بے حد قریب تھا تبھی اریس کی دھیمی آواز گونجی 

" مجھے تمہاری پہلی ملاقات سے لے کر اس آنسو تک! سب کچھ یاد ہے ہر ایک بات ہر ایک پل لیکن تم نے ایک چیز نہیں سمجھی!"

ایمل نے اس کی آنکھوں میں جنون اور دکھ بیک وقت دیکھا اس کا دل تھپ تھپ کر رہا تھا، اس نے مدھم آواز میں پوچھا

" کک۔۔۔۔ کیا؟"

 اریس اس کے کان کے بالکل پاس آیا اپنے سانسیں اسے محسوس کرواتا 

" یہ جو تمہاری ہر دھڑکن مجھے سنائی دے رہی ہے۔۔۔ یہ صرف میری ہے تم جتنا چاہو مجھ سے دور بھاگو تمہیں ہر راستے میں میں ہی ملوں گا تمہاری ہر شب ہر صبح صرف میرے نام لکھی گئی ہے "

ایمل کے آنسو تیزی سے گرے اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کی نفرت زیادہ گہری تھی یا اریس رافع کا جنون 

" تم نے ہی مہر کو کڈنیپ کیا تھا، تم نے ہی  اسے عذاب دیا اور اب جب سب کچھ ہار گئے ہو تو مجھے قید کر لیا مرد ہو بھی یا صرف نام کے ہو رافع "

" جب تک میرے ہاتھ میں طاقت تھی جب تک لوگ مجھے اریس شاہ کے نام سے جانتے تھے تب تک مجھے لگتا تھا کہ میں گیم کا کنگ ہوں "

وہ تھوڑا سا جھکا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا 

" مگر اب صرف ایک ہارا ہوا شخص ہوں،  جس کا سب کچھ لٹ گیا ہے !"

" تو پھر مجھے کیوں بند کیا ہے تم کیا چاہتے ہو اب؟ ایک اور جیت ایک اور ظلم؟"

 اس نے غصے سے کہا سیدھا ہوتے اریس نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی 

" جیت نہیں اب مجھے صرف بدلہ چاہیے، مجھے صرف ان لوگوں کا دکھ دیکھنا ہے جو مجھے ہرا چکے ہیں تم مہر کی بہن ہو تو سوچا تم سے شروع کرتا ہوں"

 ایمل نے تالی بجائی اس کی ہنسی ٹھنڈی تھی 

" واہ کیا مردانگی ہے جو انسان مہر کو توڑ نہیں سکا اب اس کی بہن پر ظلم کر کے جیتنا چاہتا ہے "

اس کی آنکھیں بھری ہوئی مگر آواز ٹھوس تھی

" تم صرف ایک ہارے ہوئے شخص نہیں ہو تم ایک نامرد بھی ہو "

" چپ ہو جاؤ ایمل !"

اریس نے غصے سے سرخ آنکھیں لیے اس کو کہا 

" کیوں سچ سننے کی ہمت نہیں رہی یا پھر اس سے لیے غصہ ہو کہ جو گیم تم نے چلی تھی اس میں تم خود ہی قید ہو گئے ہو "

وہ کھڑی ہو کر ایک قدم آگے آئی

" مجھے لگا تھا سب کچھ میرے کنٹرول میں ہے مجھے لگا تھا میں جیت رہا ہوں مگر مجھے کیا پتہ تھا جو چال میں چلوں گا اسی کا شکار خود ہو جاؤں گا "

اریس تھوڑا پیچھے ہٹا مٹھیاں زور سے بند کر لی

" بس اسی لیے میں کہتی ہوں ہر دفعہ جیت کا گھمنڈ مت کرو رافع! جو سوچتا ہے کہ وہ کبھی ہارے گا نہیں اصل میں وہی سب سے بڑا ہارنے والا ہوتا ہے "

وہ چل کر اس کے پاس آئی 

" تمہارے لیے سب صرف ایک کھیل ہے نا ایک عورت کی زندگی بھی اس کی عزت بھی تمہارے جیسے مردوں سے نفرت ہے مجھے"

" تمہیں لگتا ہے یہ صرف نفرت ہے؟"

 اریس نے اس کے بال ہلکے سے پکڑ کر کان کے قریب جھکا ایمل کی سانسیں اس کو اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگی 

" تو پھر یہ بتاؤ ایمل تمہاری سانسیں اتنی تیز کیوں چل رہی ہیں"

 " ہٹو تم سے گھن آتی ہے مجھے"

 ایمل نے اس کو پیچھے کرنا چاہا مگر۔۔

" مگر تمہاری آنکھیں تو مجھے کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں "

اس کا ہاتھ دھیرے سے ایمل کی پچھلی گردن پر گیا 

" تم سمجھ رہی ہو نا ایمل تمہاری یہ نفرت بھی ایک دن میری ہو جائے گی جیسے سب کچھ میرا ہوتا تھا ویسے تم بھی"

 ایمل تیزی سے پیچھے ہٹی غصے سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا

" تمہارے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے میں تم سے نفرت کرتی ہوں اور ہمیشہ کرتی رہوں گی"

" یہی تو دیکھنا ہے ایمل کے نفرت کب محبت بن جائے تمہیں خود بھی پتہ نہیں چلے گا "

وہ اس کی طرف بڑھا اتنا کہ وہ دیوار سے جا ٹکرائی

" تم جتنا بھی بھاگ لو، تمہاری سانس اب بھی میرے حوالے ہے، ہر بار جب جب تمہیں لگا کہ تم آزاد ہو تب تمہاری پرچھائی بھی میرے ساتھ رہی ہے"

 ایمل کا دل تھمنے لگا اس کا غصہ اس کی نفرت سب ہلکی سی بے چینی میں بدلنے لگے اریس کی نظر اتنی ہی گہری تھی جتنا رات کا اندھیرا 

" تم غلط ہو میں تمہاری کبھی نہیں ہو سکتی "

ایمل بوکھلائی اریس ہلکا سا مسکرا کر اور آگے آیا اس کی مدہوش کرنے والی مہک ایمل کے آس پاس پھیل گئی اریس کا ہاتھ اس کے کمر پر گیا دوسرا دیوار پر 

" میری شدت سے ڈرتی ہو یا اس اظہار سے جو تمہاری آنکھوں میں بار بار آتا ہے"

ایمل نے غور سے اس کو دیکھا دل کیا سب کچھ بھول کر اس کی بانہوں میں سمٹ جائے لیکن پھر۔۔۔ایک چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا،  مہر کا چہرہ، اپنی بے بسی، دکھ اور وہ سازشیں جو اریس نے رچائی تھی اس نے نظر اٹھا کر اریس کو دوبارہ دیکھا اریس نے دھیرے سے اس کے چہرے کو پکڑا ایمل کے دونوں ہاتھ اریس کی بیک پر گئے اور اگلے ہی پل اس نے پوری قوت سے اریس کو پیچھے دھکیل دیا 

" بس بہت ہو گیا "

وہ چلائی اس کے ہاتھوں میں اریس کی گن تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر نفرت،  گن کا رخ سیدھا اریس کی طرف تھا

" تم میرے ساتھ کھیلتے رہے تم نے مجھے ایک کھیل سمجھا صرف ایک شکار "

اس کی آواز مضبوط تھی اریس بالکل بھی نہیں چونکا نہ ہی اس کے چہرے پر ڈر تھا اس کی آنکھوں میں وہی شدت اور ہلکی سی مسکراہٹ تھی

" اور تم مجھے ایک انسان سمجھ رہی تھی،  تمہیں لگتا تھا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اس دنیا کی طرح۔۔۔۔۔ محبت کبھی کمزور نہیں ہوتی ایمی!  تمہارے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو میرے ساتھ جیتی رہو یا مجھے بھی مار دو"

 ایمل کی انگلی ٹریگر پر مزید سخت ہوئی اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا اسے اب بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جو شخص اس کے سامنے کھڑا ہے وہ شروع سے ہر ایک چال چل رہا تھا 

" تمہیں مارنا چاہتی اریس تم ایک دفعہ نے ہزار دفعہ مارنا چاہتی ہوں"

 ایمل پوری قوت سے چلائی 

" تو پھر مار دو مگر یاد رکھنا اگر تم مجھے مار بھی دو گی تب بھی تم مجھ سے آزاد نہیں ہو سکتی کیونکہ میں صرف ایک شخص نہیں ہوں ایک سوچ ہوں ایک احساس ہوں جو تمہاری روح تک بس چکا ہے"

اریس تھوڑا قریب آیا ایمل کا دماغ گونج رہا تھا وہ چیخی اور ایک دم گولی چلا دی اریس کا جسم ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا گولی اس کے کندھے پر لگی تھی 

" آخر تم نے یہ بھی کر ہی دیا۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ۔۔۔۔ میں تمہیں ہمیشہ۔۔۔ایک کمزور لڑکی سمجھتا تھا۔۔۔۔ مگر آج تم نے ثابت کر دیا۔۔۔۔ کہ تم میری ہو "

اریس نے زخم پر ہاتھ رکھا ایمل کا پورا جسم کانپنے لگا اسے نہیں پتہ تھا کہ گولی چلا دینا اتنا مشکل ہوتا ہے

" مجھے تم سے نفرت ہے اریس"

 اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے تبھی اس نے دوسرا ٹریگر بھی چلا دیا اس بار وہ خود بھی پیچھے گری تھی کیونکہ گولی نہیں دو گولیاں چلی تھی اسے اپنے دل کے پاس درد کی ایک تیز لہر محسوس ہوئی گن چھوٹ کر نیچے جا گری اس کے سانسوں کا وزن اس کے قدم سب کچھ ایک عجیب سی سستی میں بدل گیا اس نے ایک آخری بار اریس کو دیکھا جس کو دوسری گولی سینے پر لگی تھی 

" تم میرے بنا۔۔۔۔ نہیں جی سکتی۔۔۔۔ اور میں۔۔۔ تمہیں چھوڑ کر جنہیں بھی۔۔۔۔ نہیں دوں گا ۔۔۔۔"

ایمل نے اریس کو کہتے سنا وہ تیزی سے نیچے گری اریس کی آنکھیں مکمل طور پر بند ہو چکی تھی خون کا تالاب اس کے گرد بننے لگا اس نے اکھڑتی سانسوں کے ساتھ وہ گن دیکھی جو اریس نے اس پر چلائی تھی یہ محبت تھی یا نفرت یا پھر پاگل پن جو اب اپنے ہی انجام تک پہنچ چکا تھا ہوا ٹھنڈی تھی رات اتنی خاموش تھی کہ صرف دو سانسوں کی سرگوشی سنائی دے رہی تھی جو دھیرے دھیرے کم ہوتے بند ہو گئی تھی

☆☆☆

کمرے میں صرف ایک ہلکے بپ کی آواز تھی ایمل کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی گہرے سمندر سے اوپر آرہی ہے ہر چیز دھیرے دھیرے صاف ہونے لگی اس کی پلکیں بھاری تھی سانس لینے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی اسے اپنے ہاتھ پر کسی کی نرم انگلیوں کا لمس محسوس ہوا جیسے ہی اس نے پلکیں اٹھائی سامنے اسے مہر کا چہرہ دکھائی دیا مہر کی آنکھوں میں بے چینی چہرے پر تھکن اور پریشانی کی لکیرے تھیں

" ایمل !"

مہر نے بھرائی ہوئی آواز میں اس کو پکارا ایمل کی آنکھیں اس کے چہرے پر رک گئیں ایک لمہہ لگا تھا جیسے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو لیکن پھر حقیقت اس کے دماغ پر بجلی کی طرح گری اس کا گلا سوکھنے لگا بے چینی نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس کے اندر کچھ ٹوٹنے لگا تھا اور وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا؟ اس نے لب کھولے مگر آواز نہیں نکلی مہر نے جلدی سے پانی کا گلاس اٹھایا 

"  آرام سے۔۔۔۔ بہت دیر تک تم بے ہوش تھی"

 ایمل نے پانی پیا پھر مہر کو دیکھا اس کی آنکھیں دھندلی ہو رہی تھی آہستہ آہستہ کر کے اس سب کچھ یاد آنے لگا اندھیرا، خون، اریس کی آخری مسکراہٹ، اس کے الفاظ اور۔۔۔

" مہہ۔۔۔۔ مہر "

ایمل کی کمزور آواز نکلی اس کا سانس پھولنے لگا مہر نے تیزی سے اس کا ہاتھ تھاما


" کیا ہوا ایمل تم ٹھیک تو ہو ڈاکٹر کو بلاؤں؟"

 ایمل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مہر نے اس کو چپ کروانا چاہا مگر اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے 

" مہر ۔۔۔۔ یہ سب۔۔۔۔ میری وجہ۔۔۔۔۔ سے ہوا۔۔۔۔ میری وجہ۔۔۔۔۔ سے۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔۔۔مہر ۔۔۔۔۔اگر۔۔۔ میں نہ ۔۔۔۔۔ہوتی تو۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔۔۔"

ایمل کا لہجہ بکھرا ہوا تھا 

" بس کرو ایک لفظ اور نہیں، خاموش ہو جاؤ خود کو بلیم کرنا بند کرو "

مہر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ایمل کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے مہر نے اس کو سینے سے لگایا اور اس کے کمر تھپکنے لگی کافی دیر بعد جب وہ الگ ہوئی تو اس کے آنسو تھم چکے تھے مگر ایک سوال تھا جو اس کے ذہن میں ابھی بھی گونج رہا تھا مہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور سمجھ گئی ایمل نے ہمت کرتے کپکپاتے لبوں سے پوچھ ہی لیا

"ار۔۔۔۔ اریس ؟"

مہر کا چہرہ ایک پل کے لیے خاموشی میں ڈوب گیا اس نے غور سے ایمل کو دیکھا پھر نظریں پھیر لی 

" مہر بتاؤ"

 اس نے مہر کا ہاتھ ہلکا سا جھٹکا دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی

" جب ہم وہاں پہنچے تو پولیس اور ایمبولنس پہلے سے وہاں موجود تھی اور۔۔۔"


اس نے رک کر ایمل کو دیکھا اور ایمل بنا پلک جھپکائے اس کو دیکھ رہی تھی

" وہ مر گیا ہے۔۔۔ اریس مر گیا ہے!"

 ایمل کو لگا جیسے وہ سانس لینا بھول گئی ہے کمرے کے اندر سب کچھ رک گیا اس نے اپنے ہونٹ ہلائے لیکن آواز نہیں نکلی اس کا دل دھیرے دھیرے ڈوبنے لگا وہ محسوس کر رہی تھی جیسے سب کچھ اس کے اندر سے کھینچ لیا گیا ہے کچھ ایسا جو صرف اس کا تھا 

" میں اسے سے نفرت کرتی ہوں میں نے اسے مار دیا "

اس نے خاموشی سے مہر کو دیکھا لیکن پھر کیوں ؟ کیوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کی روح چیر دی ہو اس کے آنسو خاموشی سے گر رہے تھے 

" ایمل پلیز سب ٹھیک ہے سب ختم ہو چکا ہے اب کوئی تمہاری زندگی میں واپس نہیں آئے گا وہ مر گیا ہے اور وہ موقع پر ہی مر گیا تھا اس کے آدمی اس کی ڈیڈ باڈی لے گئے تھے، ہماری آنکھوں کے سامنے۔۔۔ انہوں نے پولیس کیس بھی نہیں بننے دیا اریس کا کوئی خاص آدمی تھا اسی نے سب کچھ کنٹرول کیا ہوا تھا ڈاکٹرز بھی وہاں پہلے سے موجود تھے مگر وہ بچ نہیں سکا "

مہر بول رہی تھی اور وہ بالکل سناٹے میں تھی اس کے اندر کوئی چیخ رہا تھا

" مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

مجھے۔۔۔ کوئی۔۔۔ فرق۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔پڑتا "

اس کے اندر درد کی ایک تیز لہر اٹھی اس کے سانسیں بھاری ہونے لگی آنسوو کا سیلاب آیا اس کا ضبط ٹوٹا اور وہ اتنی زور سے رونے لگی کہ مہر کو سمجھ نہیں آیا کہ کیسے اسے سنبھالے

" ایمل خاموش ہو جاؤ اب وہ واپس نہیں آئے گا تم بالکل مت ڈرو، اب تم بالکل سیف ہو وہ مر چکا ہے "

ایمل اس کے سینے سے لگی بس روتی رہی اس کے کان میں بس ایک آواز گونج رہی تھی


" میں ایک شخص نہیں ہوں میں ایک سوچ ہوں ایک احساس ہوں جو تمہاری روح میں بس چکا ہے "

کمرے میں صرف ایمل کی درد بھری سسکیاں گونج رہی تھی


جاری ہے

Comments

Popular Posts