Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Atish e Meher episode.20❤ Last episode 💕🔥urdu romantic novel 🦋💞

 


ناول: آتش مہر 

از قلم: منزہ نیاز 

قسط نمبر: 20

آخری قسط 

 

دو ماہ بعد:

مہر ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھی، ساڑھی میں لپٹی ہوئی کھلے بال ہلکا سا میک اپ، اتنی خوبصورت کہ جیسے چاند نے اپنی روشنی صرف اس کے لیے ادھار دی ہو آتش جو پہلے سے تیار تھا اسے دیکھ کر ایک پل کے لیے سب کچھ بھول گیا اس کے گہری بھری آنکھیں مہر کے چہرے پر جم سی گئی تھی مہر کچھ جھنجلا رہی تھی اس نے سینڈل پہنی مگر اس کے سٹریپ بند نہیں ہو رہے تھے ہر بار کوشش کرتی، ایک طرف سے بند کرتی تو دوسری طرف سے کھل جاتا 

" یہ سینڈل پہنے کا کیا فائدہ جب بند ہی نہیں ہو رہے"

بے چینی اور چڑچڑاہٹ کے ساتھ وہ صوفے پر بیٹھ گئی اب وہ پاؤں ہلا ہلا کر سینڈل سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی تھی 

" اس سے بہتر تھا کہ بنا سینڈل کے چلی جاتی "

آتش چپ چاپ اس کے پاس آیا گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور بنا کچھ کہے سینڈل کے سٹریپ بند کرنے لگا اس کی انگلیوں نے مہر کے نرم پیروں کو چھوا لمس اتنا ہلکا تھا کہ مہر نے محسوس بھی کیا اور نہیں بھی اس نے حیران ہو کر آتش کو دیکھا 

" میں خود کر لوں گی"

 اس نے ذرا گھبرا کر کہا 

" اب تو ہونے دو مہر، ہر چیز کا فائدہ ہوتا ہے بس سمجھنے کی دیر ہے "

آتش نے بنا اوپر دیکھے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا 

" کیا کہا فائدہ؟  مجھے تو ویسے بھی ان سے نفرت ہونے لگی ہے پہلے ہی اتنا ٹائم لگ گیا تیار ہونے میں اور اب یہ !"

مہر نے آنکھیں چھوٹی کر کے بنا اس کی بات  سمجھے پھر سے بولنا شروع کر دیا آتش سیدھا ہوا اور اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا مہر بالکل چپ ہو گئی اس کا سارا دھیان اب اس کی گہری آنکھوں پر تھا 

" دل نہیں کر رہا باہر جانے کا"

 آتش نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے بال پیچھے کیے اس کی آواز اتنی گہری تھی کہ مہر کا دل ایک پل کے لیے تیز دھڑک گیا لیکن مہر، مہر تھی

" آتش ہم لیٹ ہو رہے ہیں"

 اس نے ذرا گھبرا کر کہا 

" امان اور عینی کی شادی ہے وہ تمہارا دوست ہے حالانکہ اب تمہیں اس کے ساتھ ہونا۔۔۔۔"

 اس کی بولتی اس وقت بند ہوئی جب اتش نے زور سے اس کا گال چوما وہ تھوڑی لال ہوئی 

" واہ تم تو خاموش ہو گئی اب میں نے تمہیں خاموش کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے"

 آتش نے اسے مزید قریب کر لیا 

" آتش تم۔۔۔۔"

 مہر نے شاکڈ میں آنکھیں بڑی کیں مگر آتش پر کوئی اثر نہیں ہوا اس نے مہر کے بکھرے بال کندھے سے پیچھے کیے 

" ہر بار سوچتا ہوں انہیں پہلے کی طرح ڈانٹ دوں گا کہ سنبھل کے رہو۔۔۔!"

نرمی سے انگلیاں اس کے بالوں میں الجھائیں


" لیکن ہر بار یہ اور بھی زیادہ خوبصورت لگنے لگتے ہیں "

مہر ڈھیلی پڑ گئی اس کی نظریں آتش سے ہٹ نہیں رہی تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ آتش ایک دن بدل جائے گا صرف اس کا ہو کر رہ جائے گا اس کی آنکھیں نم ہوئی مگر اس نے جلدی سے پلکیں جھپکا کر نمی کو چھپا لیا۔


" آتش زایان کو جب کچھ کرنا ہوتا ہے، تو وہ ایسا کرتا ہے کہ بندہ بس اسی کا ہو کر رہ جائے تمہاری آواز جب چلی گئی تھی تو میں بے جان ہو گیا تھا مہر "

آتش کا ہاتھ مہر کی کلائی سے ہوتا اس کی انگلیوں تک گیا 

" اور اگر میں کہوں کہ میں اس دنیا سے دور جانا چاہتی ہوں تو؟"

 مہر نے دھیمی آواز میں کہا آتش نے ایک سیکنڈ کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا 

" تو میں تمہیں ایک ایسی جگہ لے جاؤں گا جہاں صرف تم ہو گی اور میں!"

 مہر کا دل دھڑکا 

" جہاں صرف تم اور میں ؟"

مہر نے دھیرے سے پوچھا 

" ہاں اور وہاں سے کوئی واپس نہیں جا سکے گا "

ان کے درمیان ایک لمحے کا فاصلہ تھا

" اور اگر میں واپس آنا چاہوں؟"

 مہر نے مسکراہٹ دبا کر کہا 

" مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت مہر!  ورنہ تم جو سوچ رہی ہو میں وہ بھی تم سے چھین لوں گا"

مہر نے گھبرا کر اس کو دیکھا وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ وقت بھی تھم گیا ہو جیسے،اور تبھی مہر نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا آتش کی آنکھوں میں حیرانی آئی مگر اس نے کچھ نہیں کہا سینڈل پہننے کے باوجود بھی وہ اس کے کندھے تک آ رہی تھی وہ مزید اوپر ہوئی پہلے اس کا ماتھا چوما، پھر دونوں گال آتش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی جس کو اس نے دبا لیا اس کی مسکراہٹ اس وقت غائب ہوئی جب وہ اس کی آنکھوں کو چوم رہی تھی

" تمہاری آنکھوں میں کچھ ایسا ہے جو مجھے سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیتا ہے یہ آنکھیں جیسے ایک گہرا راز ہوں جو ابھی تک میں سمجھ نہیں پائی جیسے شام ڈھلنے کے بعد کا سمندر،  گہری، بے چینی سے بھری، اور ان میں صرف وہی ڈوب سکتا ہے جو ہمت رکھتا ہو "

آتش نے اس کی آنکھوں میں دیکھا

" اتنی محبت ہو رہی ہے مجھ سے؟"

 اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری مہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا پھر دھیرے سے بولی


" جو تم میری آنکھوں میں دیکھ رہے ہو وہ محبت نہیں بدلا ہے"

" بدلا؟  مجھ سے؟"

 آتش ہنسا مہر نے اس کے کالر کو ہلکا سا پکڑا اور ایک نظر اس کے ہونٹوں پر ڈالی

" تم نے مجھے چپ کروانے کا طریقہ ڈھونڈا تھا نا اب میری باری ہے "

" دیکھتے ہیں پھر تمہارا طریقہ کتنا اثر کرتا ہے "

مہر اس کے ہونٹوں کے قریب آئی اور دھیرے سے کہا

" بہت اثر کرے گا آتش زایان!"

اس کے لب ہلکا سا مسکرائے لیکن آتش کی سانس ایک پل کے لیے اٹک گئی جب مہر نے اس کی شکایت بھری آنکھوں کو ایک بار پھر اپنی نظر سے بند کر دیا

☆☆☆

مہر ہر جگہ دوڑ رہی تھی کبھی کسی مہمان کا سلام لینا کبھی امان اور عینی کی طرف دیکھنا کبھی فیملی فوٹوز کے لیے سب کو اکٹھا کرنا اس کے پاس ایک پل کے لیے بھی فرصت نہیں تھی اور آتش؟ وہ ہر جگہ اس کے پیچھے پیچھے تھا ہر دو منٹ بعد کہیں نہ کہیں اسے سے ٹکرا جاتا ہے کبھی اس کے سامنے آ کر راستہ روکتا تو کبھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دور سے ہی دیکھتا رہتا لیکن مہر نے تو جیسے قسم کھا لی تھی اسے پوری طرح اگنور کرنے کی آتش کے صبر کا امتحان ہو رہا تھا آخر میں جب پوری فیملی فوٹو شوٹ کے لیے اسٹیج پر گئی تو اس نے بھی جانا چاہا مگر اچانک ایک طاقتور ہاتھ نے اس کا بازو پکڑ کر ایک پلر کے پیچھے کھینچ لیا

" آتش!"

مہر کی ہلکی سی چیخ نکلی مگر آتش نے فورا اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی 

" شش۔۔۔ اتنی دیر سے بھاگ رہی ہوں اب تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا"

 اس کی آواز گہری اور دھیمی تھی 

" آتش مجھے جانے دو سب ویٹ کر رہے ہیں!"

 مہر نے غصے سے اس کی انگلی ہٹائی 

" سب ویٹ کر رہے ہیں؟ اور میں جو صبح سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں وہ کیا؟"

 آتش تھوڑا ناراض ہوا 

" تم مجھے روم والی بات کا بدلا لینے کے لیے یہاں لائے ہو ؟"

مہر نے آنکھیں گھمائیں آتش ایک قدم اور قریب ہوا اور اسے پلر سے تقریبا چپکا دیا


" روم والی بات؟  ہمم۔۔۔ لگتا ہے تمہیں بھی یاد آرہی ہے "

مہر نے اسے دور ہٹانے کی کوشش کی مگر آتش نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر پیچھے پلر سے لگا دیے 

" آتش۔۔۔!"

مہر غصے سے بولی وہ تو شکر تھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا ورنہ ان دونوں کا سین بن جاتا 

" تم جاتی ہو تمہارے بنا وہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکنا چاہتا"

 آتش نے ایک دم سے جھک کر اس کے کان میں کہا مہر نے جھٹکا کھا کر اس کو دیکھا


" تو پھر نکلو یہاں سے"

"  تم بھی چلو تو چلتا ہوں "

آتش نے جلانے والی مسکراہٹ دکھائی 

" تم۔۔۔۔ تم پاگل ہو گئے ہو؟"

 مہر اسے دیکھ کر رہ گئی آتش نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور گہری سانس لی 

" ہاں ہو گیا ہوں، تمہاری وجہ سے" 

وہ ڈھٹائی سے بولا، مہر کا دل تھپ تھپ کرنے لگا اس نے اسے پھر سے ہٹانے کی کوشش کی مگر آتش نے اس کو کمر سے پکڑ کر اور قریب کر لیا

" اگر تم نے مجھے اور اگنور کیا نا تو یہاں ہال کے بیچ میں سب کے سامنے تمہارا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤں گا"

" تم ایسا نہیں کر سکتے "

مہر کی آنکھیں بڑی ہو گئی آتش ہلکا سا ہنسا


"  تمہیں ابھی بھی نہیں پتہ نا! میں جو چاہوں وہ کرتا ہوں "

مہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں جنون تھا، آتش کا جنون آتش کے عشق کا جنون اور اب مہر کو سچ میں ڈر لگنے لگا تھا، 

 آتش سے نہیں بلکہ اپنے دل کی تیز دھڑکنوں سے۔

☆☆☆

روم کا ماحول ایک دم رومانوی تھا کینڈلز جل رہی تھی ہلکی روشنی اور ہر طرف پھول امان نے دھیرے سے عینی کا ہاتھ، تھاما تھوڑا شرمایا ( جو obviously ایکٹنگ تھی😆)


" عینی تمہیں پتہ ہے یہ رات کتنی خاص ہے؟"

 امان کا لہجہ بہکا ہوا تھا 

" کیوں ؟"

عینی نے نظریں جھکا کر پوچھا

" کیونکہ آج سے ہم ایک دوسرے کے ہو گئے ہیں آج سے میری دنیا صرف تم ہو آج سے میرے دن کا سورج بھی تم رات کا چاند بھی تم"

عینی کے گال دہک اٹھے مگر امان کے اگلے جملوں نے اس کی سرخی ہوا کر دی 

" اور آج سے کوئی آلو والے چاول نہیں کوئی پانچ روپے والا پاپڑ لیز نہیں کوئی لنڈا بازار شاپنگ مال نہیں آج سے صرف ایک ہی چیز ہے جو ہر چیز سے بہترین ہے اور وہ ہے شادی کا ریئلٹی چیک "

عینی نے پلو اٹھایا اور سیدھا اس کے منہ پہ دے مارا 

" تم رومانس شروع کرتے ہو یا تعریفوں کے نام پر ذلیل !"

عینی نے غصے سے کہا

" شادی کے بعد کا پہلا ریئلٹی چیک ہے یہ، یہ بیڈ ہنی مون سوٹ نہیں ایک نارمل بیڈ ہے یہ چمک دھمک کینڈل لائٹ نہیں بلکہ بجلی چلی گئی تھی تو یہ ایمرجنسی لائٹ ہے اور تم کوئی حور پری نہیں ہو تم وہی ہو جو شادی سے پہلے تھی جو میرا روحانی سکون بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی ٹینشن بھی!"

عینی نے شاکڈ میں آنکھیں چھوٹی کر کے گھورا امان فورا سنجیدہ ہو گیا 

" میرا مطلب میری پیاری سی، بہت ہی پیاری سی بیوی صبح سے رات تک صرف مجھ پہ غصہ کرنے والی قتل عام کرنے والی سبزیوں سے زیادہ تیز چھری چلانے والی بیوی۔۔۔۔"


" مطلب میں تمہیں بری لگتی ہوں ؟"

عینی نے ابرو اٹھا کر پوچھا 

" یار تم تو میری جان ہو "

امان نے بیچاری سی شکل بنائی 

" سچی ؟"

عینی چہکی 

" اور ہاں ساتھ ہی جان لینے کا سبب بھی"

 امان منہ میں بڑڑایا عینی نے زور کا مکا اس کے کندھے پر مارا امان کا منہ کھل گیا

" ابھی شادی کو 24 گھنٹے بھی نہیں ہوئے اور پہلی مار بھی لگ گئی"

 امان شاکڈ تھا 

" ابھی تو صرف شروعات ہے مائی ڈیئر ہسبینڈ "

عینی نے بمشکل ہنسی کنٹرول کی 

" جس دن سے عینی میری زندگی میں آئی ہے اس دن سے مجھے بس ایک ہی چیز مل رہی ہے۔۔۔۔دکھ !"

امان نے سر پکڑ لیا

" امان!"

عینی نے محبت سے پکارا 

" ہاں "

امان نے اس کو دیکھا 

" روم لاک کر دو"

 عینی نے آنکھیں پٹپٹائیں امان ایک سیکنڈ میں فلمی ہیرو بن گیا بیک گراؤنڈ میں رومینٹک میوزک بجنے لگا 

" تاکہ تم بھاگ نہ سکو۔۔۔"

 امان کے بیک گراؤنڈ میں بچتا میوزک بند ہو گیا 

" مجھے پہلے ہی سمجھ لینا چاہیے تھا یہ صرف شادی کی رات نہیں، یہ میری آزادی کا انتم سنسکار ہے"

امان نے تکیہ اٹھایا اور کارنر میں جا کر بیٹھ گیا عینی آرام سے بیڈ پر لیٹ گئی روم میں رومینٹک کینڈل لائٹ نہیں صرف امان کی دکھ بھری آہیں گھوم رہی تھی

☆☆☆

کمرے کی فضا ایک دم خوابناک تھی، مدہم روشنی، ٹیبل پر رکھے پھولوں کی خوشبو، ذریاب جب کمرے میں داخل ہوا تو ٹھٹک گیا مشعل بیڈ پر بیٹھی تھی اس کو دیکھتے ہی ذریاب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی

" آج کوئی اسپیشل بات ہے جو تم اتنی خاموش بیٹھی ہو؟"

 زریاب نے ابرو اٹھا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا 

" پہلے بیٹھو تو سہی پھر بتاتی ہوں"

 مشعل تھوڑی کنفیوز ہو گئی ذریاب اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا مشعل کا دل تیز دھڑک رہا تھا وہ اتنی ایکسائٹڈ تھی اس نے ایک گہری سانس لی پھر زریاب کی آنکھوں میں دیکھا 

" زریاب تمہیں پتہ ہے ہماری زندگی کا نیا باب شروع ہونے والا ہے"

 زریاب نے غور سے اس کو دیکھا مگر اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے


" کیا ہوا مشی سب ٹھیک تو ہے نا تم ٹھیک ہو"

 مشعل نے مسکراتے ہوئے اسے ایک پیپر پکڑایا وہ پریگننسی رپورٹ تھی ساتھ ایک چھوٹی سی بے بی onesie  بھی تھی جس پر لکھا تھا 

" ابو از لٹل سٹار"

 زریاب سکتہ میں رہ گیا 

" یہ۔۔۔ یہ کیا ہے مشعل "

اس نے شاکڈ میں مشعل کو دیکھا

" مبارک ہو ذریاب تم پاپا بننے والے ہو "

زریاب کا دماغ کچھ پل کے لیے اس بات کو پروسیس نہیں کر سکا ایک گہری سانس اس کے لبوں سے نکلی اور بنا کچھ کہے اس نے مشعل کو سینے میں بھینچ لیا 

" تم مذاق تو نہیں کر رہی؟ یہ سچ ہے کیا؟"

 اس نے دھیرے سے پوچھا 

" ہاں بالکل سچ !"

زریاب نے اس کا ماتھا چوما 

" تم نہیں جانتی مشعل کہ تم نے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی کا احساس دلایا ہے"


 مشعل ہلکا سا ہنسی 

" مجھے ابھی سے لگ رہا ہے کہ بے بی بالکل میرے جیسا ہوگا"

 ذریاب نے چمکتی آنکھوں سے کہا

" ایکسکیوز می بے بی صرف میرے جیسا سمارٹ اور کیوٹ ہوگا"

 مشعل نے آنکھیں چھوٹی کی 

" ہاں ہاں بس ضدی میرے جیسا ہوگا "

ذریاب نے پھر سے اس کو سینے سے لگا لیا


" آئی لو یو مشی!"

زریاب نے اس کا دوبارہ سر چوما

" آئی لو یو ٹو زریاب، اب ہم صرف دونوں نہیں بلکہ ایک تیسرا انسان بھی ہے جو ہماری دنیا کا حصہ ہے "

زریاب نے اس کا ہاتھ دل پر رکھ دیا۔

☆☆☆

رات اندھیری تھی لیکن بجلی کی چمک نے آسمان کو ایک عجیب سی روشنی دے دی تھی بارش تیز ہوتی جا رہی تھی سڑکوں پر پانی کا سلسلہ بہتے ہوئے لمحوں کا حساب لے رہا تھا مہر نے پیچھے مڑ کر دیکھا اس کی آنکھوں میں کچھ تھا شاید کوئی فیصلہ،  جو شاید روشنی کی طرف چلنے کا تھا، اس کے قدم آگے بڑھنے لگے ہر ایک قدم کے ساتھ آتش اور گہرے اندھیرے میں ڈوبتا جا رہا تھا دور ایک پرانا گیسولین اسٹیشن تھا کہیں سے ایک چھوٹی سی آگ بھی جل رہی تھی،  ہوا سے جھولتی، مگر بجھ نہیں رہی تھی جیسے آتش کا دل،  آتش صرف کھڑا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے ہر وہ منظر گھوم رہا تھا جس میں وہ مہر کو کھونا نہیں چاہتا تھا مگر اپنی انا کی آگ میں اس نے سب کچھ جلا دیا تھا اس کا غصہ اس کی نفرت سب نے مل کر اسے مہر کی طرف بڑھنے سے روکا تھا مہر آگے بڑھ گئی سامنے ایک شیشے کا ٹکڑا پڑا تھا اس نے جھک کر وہ ٹکڑا اٹھایا اور دیکھا شیشے میں اس کی آنکھوں کا عکس تھا بے چین،  مگر آزاد،  آتش نے دیکھا مہر اندھیروں سے دور ہو رہی ہے، 

 جو اس کا وجود تھا۔

ایک عجیب سی گھبراہٹ نے اس کا دل اور وجود جھنجوڑ کر رکھ دیا اس کا ہر عضو چیخ رہا تھا کہ اگر مہر چلی گئی تو سب کچھ ختم، 

بارش مزید تیز ہو گئی اس کے دماغ میں بس ایک سوچ تھی 

" اگر آج بھی چپ رہا تو یہ محبت ہمیشہ کے لیے کھو دوں گا "

آتش نے دوڑ لگائی مہر نے شیشے کا ٹکڑا چھوڑ دیا جو گرتے ہی ٹوٹ گیا جیسے ایک فیصلہ تمام ہو گیا ہو اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے جب ایک مضبوط اور گرم ہاتھ نے انہیں پکڑ لیا 

" مہر مت جاؤ "

مہر رک گئی مگر اس کا چہرہ ٹھنڈا تھا صرف رکنا کافی نہیں تھا اس نے دھیمے لیکن سخت لہجے میں کہا 

" تمہیں صرف ایک بات کہنی تھی آتش، صرف ایک بات!"

آتش کے اندر ایک طوفان تھا ایک آگ جو اس کی انا نہیں تھی پہلی بار اس کی آواز ٹوٹی تھی 

" تم میری روشنی ہو مہر! اور اگر تم بھی چلی گئی تو میں صرف ایک اندھیرا نہیں ایک ایسی آگ بن جاؤں گا جو خود کو بھی جلا دے گی"

 مہر نے دیکھا آتش کے گہری بھوری آنکھوں میں ایک روشنی تھی جو اس نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا مگر بارش نے اسے اپنے اندر سما لیا وہ پہلی بار خود چل کر آتش کے پاس گئی اس کے ہاتھوں کو زور سے تھام لیا اور پھر دھیرے سے مسکرائی 

" آگ اور بارش دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے آتش!"

" مگر ہم چل سکتے ہیں"

 آتش نے کہا اس کی مسکراہٹ اب ایک نیا سفر لکھ رہی تھی

☆☆☆

آتش کی آنکھیں تیزی سے کھلی اس کا دماغ بلینک اور آنکھوں میں عجیب سی بے چینی تھی یہ خواب یہ کیسا خواب تھا وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھا تبھی اس کی نظر پاس سوتی مہر پر پڑی اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے ایک ہاتھ آتش کے ہاتھ میں اور دوسرا گال کے نیچے

" کیا مہر اس کو چھوڑ کر چلی جائے گی؟  نہیں آگ اور بارش دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے "

اسے خواب میں کہا گیا مہر کا جملہ یاد آیا


" مگر ہم چل سکتے ہیں "

وہ دھیرے سے بڑبڑایا پھر ایک گہری سانس لی اور واپس لیٹ گیا اس کا پورا رخ اب مہر کی طرف تھا 

" ہم چل سکتے ہیں مہر ! ہمیشہ"

 اس نے دھیرے سے اس کے چہرے سے بال پیچھے کر دیے

☆☆☆

آتش ولا میں آج ایک الگ ہی روشنی اور خوشی کا ماحول تھا ہر طرف زندگی کی گرم جوشی محسوس ہو رہی تھی آج سب ایک ساتھ تھے پوری فیملی جو اتنا عرصہ ایک دوسرے سے دور رہی تھی آج ایک ساتھ بیٹھی تھی تہمینہ بیگم کا چہرہ روشنی کی طرح چمک رہا تھا وہ واپس آ چکی تھیں علی جو اب واپس آ چکا تھا اب ماحول کو اور زیادہ لیولی بنا رہا تھا اور پھر ہمارے تینوں کپل جن کی اپنی کہانی اپنی دنیا اور اپنی شرارتیں تھیں آتش صوفے پر بیٹھا تھا مہر اس کے سامنے بیٹھی اس کو چڑانے کا موقع ڈھونڈ رہی تھی تبھی اس نے کہا


" عجیب بات ہے۔۔۔ آتش زایان اب شادی شدہ ہے لیکن ابھی بھی لگتا ہے جیسے ابھی تک شادی کی ذمہ داری سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے"

 آتش نے ابرو اٹھا کر اس کو دیکھا پھر ریلیکس ہو کر بیٹھ گیا 

" ہنہہ۔۔۔ ذمہ داری ؟ تم مجھ سے میری ہی وائف ہونے کی بات کر رہی ہو جیسے ہر وقت بک بک کرنے کا سرٹیفیکیٹ ملا ہوا ہو"

پورے ہال میں " اوووو"  والی آواز گونج گئی مہر نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس کو گھورا 


" جی ہاں آتش صاحب میں وہی وائف ہوں جو ہر وقت بولتی رہی تھی جب تک مجھے خاموش کرنے کے لیے آپ نے مجھے اداس کرنا شروع نہیں کر دیا "

اس نے نرم مسکراہٹ اور ہلکی آواز کے ساتھ کہا پورے ہال میں خاموشی چھا گئی سب بالکل چپ ہو گئے آتش کی گہری آنکھیں مہر پر ٹک گئیں جیسے اس کے لفظوں نے اس کے دل کے کسی کونے کو چھو لیا ہو مگر آتش مسکرا دیا 

" تمہارے جتنے بھی الفاظ چھپ گئے تھے سب واپس آگئے ہیں نا؟"

مہر ہنس دی تھی 

" ہاں! اور اب میں اور بھی زیادہ بولوں گی"


سب زور سے ہنس دیے جب کہ آتش نے اپنا ماتھا مسلا 

" مجھے اس لڑکی سے کوئی نہیں بچا سکتا!"


 سب باتوں میں مصروف تھے مگر ایک کونا ایسا تھا جہاں ذریاب اور مشعل نے اپنی ہی دنیا بسائی ہوئی تھی مشعل زریاب کی کسی بات پر ہلکا سا بلش کرتے اپنی شادی کی انگوٹھی کو گھور رہی تھی 

" تم جانتی ہو اس گھر میں صرف ایک چیز سب سے زیادہ چمک رہی ہے"

 ذریاب نے جھک کر کہا مشعل نے کنفیوز ہو کر اس کو دیکھا 

" کیا ؟"

مشعل ہلکا سا شرمائی

" تمہاری آنکھیں "

زریاب نے سرگوشی کی اس سے پہلے کہ وہ شرماتی امان بول پڑا 

" یا اللہ یہ دونوں ابھی بھی رومانس میں بزی ہیں مطلب ہر وقت ہی پیار کا موسم چل رہا ہے"

 آتش نے بھی امان کی تائید کی

" بالکل مجھے اب شک ہو رہا ہے کہ ذریاب کسی سیکرٹ ناول میں رومانس لکھتا ہے جو صرف مشعل کے سامنے پڑھتا ہے"

 زریاب نے ان کی بات سن کر بمشکل ہنسی روکی مگر مشعل نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ان کو دیکھا تھا 

" ہاں تو تم دونوں جیلس ہو؟"

" نہیں"

 دونوں نے بیک وقت کہا ذریاب نے مشعل کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے کہہ رہا ہو 

" مجھے دنیا کی پرواہ نہیں"

 مشعل مسکرا دی

 امان اور عینی ایک ساتھ صوفے پر بیٹھے تھے امان ہوا میں ہاتھ لہرا کر کسی شاعر کی طرح بول رہا تھا 

" عینی! کبھی کبھی میں سوچتا ہوں۔۔۔۔ یہ سب کپلز دیکھ کر کہ ہم بھی کبھی نارمل انسان کی طرف بی ہیو کر سکتے ہیں"

" یہ سننے سے پہلے مجھے ہارٹ اٹیک کیوں نہیں آ گیا"

 تبھی آتش نے مہر کو دیکھا

" ویسے یہ سوچنے والی بات ہے سب سے زیادہ جو بک بک کرتی تھی اب دیکھو بالکل سیدھی بنی بیٹھی ہے"

 آتش نے بازو باندھ لیے

" اور جو سب سے زیادہ اکڑو تھا اب دیکھو رومینٹک بننے کی کوشش کرتا رہتا ہے "

مہر کہاں پیچھے رہنے والی تھی سب کی ہنسی ایک ساتھ چھوٹ گئی علی اچھل کر مومنہ کے پاس آیا 

" دیکھنا مومنہ ایک دن ایلینز آئیں گے اور سب سے پہلے تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے"


 مومنہ نے حیران ہو کر اس کو دیکھا 

" ہیں ؟ کیوں؟  کیا میں ایلین ہوں ؟"


" نہیں بس تمہارا دماغ کچھ زیادہ تیز چلتا ہے اور ایلینز کو ایسے لوگ پسند ہیں"

 مومنہ نے اپنا بھاری ہاتھ اٹھایا اور علی کی کمر پر جڑ دیا

☆☆☆

ہر جگہ خوشی ہے سب مزے کر رہے ہیں لیکن ایک کونا ایسا بھی تھا جہاں ایمل بالکل چپ بیٹھی تھی اس کا دل بہت بھاری ہو رہا تھا سب کو ہنستے دیکھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے بس ایک چہرہ آ رہا تھا 

اریس رافع کا 

اس کے ساتھ کی ہر یاد ہر پل اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا اس کا دل بے چین ہونے لگا بنا کسی کو کچھ کہے بنا کسی کو دیکھے وہ چھت پر چلی گئی چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ایمل نے اپنی بانہیں سینے پر لپیٹ لیے جیسے خود کو کسی دکھ سے بچانا چاہتی ہو لیکن اس کے اندر کا وہ دکھ اتنا گہرا تھا کہ وہ ٹوٹنے لگی

" کاش۔۔۔۔کاش وہ ابھی بھی ہوتا، کاش میں نے اس کو نا مارا ہوتا، کاش میں بھی اس کے ساتھ۔۔۔۔مر جاتی "

وہ دھیرے دھیرے نیچے بیٹھ گئی اس کے آنسو گرنے لگے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی مگر کوئی نہیں تھا جو اسے روکتا کوئی بھی نہیں تھا جو اس کا دکھ سمجھ سکتا یہاں تک کہ مومنہ بھی وہ بری طرح رو رہی تھی صرف ایک روح کی چیخ جو اب بھی اریس کو یاد کر رہی تھی

☆☆☆

بنا کسی آواز کے بنا کسی شور کے وہ اٹھی اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں اس نے دھیرے سے ہال کر داخلی دروازہ کھولا سب سونے جا چکے تھے کسی کو بھی اس کا خیال تک نہیں آیا وہ ننگے پاؤں باہر نکل گئی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی رات کی خاموشی میں جیسے اس کی آواز کھو چکی ہو سڑک سنسان تھی وہ ایک پارک کے بینچ پر جا کر بیٹھ گئی اندھیرا اتنا گہرا کے ہر چیز عجیب سی لگ رہی تھی اس نے گھٹنے اٹھائے اور اپنا سر ان پر رکھ دیا اس کے آنسو پھر سے گرنے لگے تھے وہ بنا آواز کے رو رہی تھی اور پھر ایک پل کے لیے سب کچھ تھم گیا، پیچھے پتوں کی ہلکی سی آہٹ ہوئی جیسے کوئی اس کے بہت قریب آگیا ہو

" مجھے یاد کرنا چھوڑ دو ایمی!  میں اتنا بھی اچھا نہیں تھا کہ اتنی رات کو میرے لیے آنسو بہائے جائیں"

 ایمل کا دل رکا سانسیں تھمی اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تھا سامنے وہ، وہ کھڑا تھا 

اریس رافع۔

" نہیں تم۔۔"

 ایمل کے آنسو تھمے دل رکا، وہ تو مر چکا تھا پھر؟

" کیا میں اتنا آسان ہوں؟ اتنا آسان کہ تم سوچو اور میں مٹ جاؤں"

 اریس اس کی آنکھوں میں دیکھتا بالکل قریب آ گیا ایمل کے لبوں سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا اس کی آنکھیں اریس کے چہرے پر جم سے گئی تھی مگر اس کا دماغ کچھ بھی سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا

" تم سمجھتی تھی کہ تمہاری جان چھوٹ گئی مجھ سے۔۔۔۔ نہیں میری جان!  تم چاہے جتنا بھی رو لو جتنا بھی ڈر لو تمہارا ہر دکھ ہر سوچ مجھے محسوس ہوتی ہے "

اریس کی آنکھوں میں شیطانی سکون تھا وہ سرگوشیاں کر رہا تھا وہ ایک اور قدم قریب آیا اس کی آنکھیں ایمل کی بھیگی آنکھوں میں گھس کر اس کی روح دیکھ رہی تھی


" پتہ ہے کہ تم کیا سوچ رہی تھی؟  تم یہ سوچ رہی تھی کہ کاش تم بھی مر جاتی کاش تم بھی میرے ساتھ چلی جاتی۔ کیوں؟"

 اریس ہلکا سا مسکرایا تھا وہ جھکا نرمی سے اس کا گال چھوا پھر آنکھیں پونچھی ایمل اس کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہی تھی اس کا دل تیز دھڑکنے لگا تھا اس کے ہونٹوں سے ہلکی سی سرگوشی نکلی

" کیونکہ تمہیں مرنا نہیں چاہیے تھا"

 اس کی بات سن کر اریس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی تھی پھر وہ ہلکا سا ہنسا

"  تمہیں لگتا ہے کہ میں مر گیا ہوں؟ ایمی میں صرف ایک انسان نہیں ہوں میں تمہارا جنون ہوں میں تمہاری ہر رات کا وہ اندھیرا ہوں جو تمہاری آنکھوں میں بسا ہے اور جب تک تم مجھے یاد کرتی رہو گی میں کبھی نہیں مروں گا"

 ایمل کی سانس پھر سے اٹک گئی اریس دھیرے سے جھکا اور اس کے بالکل قریب آ گیا اتنا قریب کے اس کا سانس ایمل نے اپنے گالوں پر محسوس کیا 

" تم صرف میری تھی ایمل اور تم میری ہی رہو گے ہر پل ہر دفعہ چاہے زندہ ہوں یا صرف تمہارے ذہن میں "

ایمل نے ایک سیکنڈ کے لیے آنکھیں بند کر لی اس کا دل اس کا دماغ سب ایک عجیب سی غلامی محسوس کر رہا تھا ایک ایسی غلامی جس سے وہ کبھی آزاد نہیں ہونا چاہتی تھی وہ جتنا بھی اس سے نفرت کرے جتنا بھی ڈر جائے اس کے دل کے ایک کونے میں اب بھی " اریس رافع "  بستا تھا اور یہ بات صرف " اریس" جانتا تھا 

" مجھے یاد کرنا چھوڑ دو ایمل ورنہ تم بھی میرے ساتھ مر جاؤ گی"

"  تم ہر جگہ کیوں مل جاتے ہو ؟"

اریس ہنسا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا 

" کیونکہ تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں ہر جگہ ملوں "

ایمل نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو اس کے ہاتھ میں تھا پھر اس نے ایک آخری کوشش کی


" میں تم سے نفرت کرتی ہوں"

 اریس نے ایک جھٹکے سے اس کو اندھیرے میں اپنی طرف کھینچ لیا 

" اور میں وہی نفرت تم سے مانگنے آیا ہوں جو صرف مجھے ملتی ہے"

 اور اگلے ہی پل وہ دونوں اندھیرے میں غائب ہو گئے ہر طرف سناٹا چھا گیا کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ دونوں کہاں چلے کوئی نہیں جانتا تھا کہ کہانی کا اصل دی اینڈ کیا تھا

اختتام


اختتام

Comments

Popular Posts