Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

برداشت سے بغاوت تک: ایک خاموش لڑکی کی سچی چیخ

یہ صرف ایک افسانہ نہیں — ہزاروں سچی کہانیوں کی بازگشت ہے۔
ایک ایسی لڑکی کی، جو چپ رہی... مگر اب خاموش نہیں!

از قلم: منزہ نیاز 

ایک خاموش لڑکی کی داستان!  

میں نے کبھی نہیں چاہا کہ لوگ مجھے پہچانیں، نہ میری آنکھوں کی نمی کو پڑھیں، نہ میرے لفظوں کی لرزش کو محسوس کریں۔ بس اتنا چاہتی ہوں کہ جو لڑکیاں آج خود کو کمزور سمجھ کر خاموش ہیں، وہ جان لیں کہ خاموش رہنا ہمیشہ "برداشت" نہیں ہوتا… کبھی کبھار یہ اندر ہی اندر ٹوٹنے کی ابتدا ہوتی ہے۔

شاید تم جیسی، شاید کسی اور جیسی۔ ایک رشتہ، ایک تعلق، جسے میں نے نبھانا چاہا۔ لیکن وہ شخص… اس نے میرے خاموش رہنے کو کمزوری سمجھا، میرے ادب کو اجازت سمجھا، اور میری محبت کو حق۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ میری خاموشی، میرے ضبط کی آخری 
حد تھی۔

"ایک ویڈیو بھیج دو، کوئی kiss ہی دے دو آج…"
"بس تھوڑا سا، please… تم لڑکی نہ ہوتی تو پتا چلتا!"

یہ جملے نہ کسی شوہر کے تھے، نہ کسی پیار کرنے والے کے… بس ایک خودغرض مرد کے، جو عورت کو فقط جسم سے پہچانتا ہے، جذبوں سے نہیں۔ میں سنتی رہی، سہتی رہی، اور پھر آہستہ آہستہ ٹوٹتی رہی۔

"تمہارے پاس کون سا گھر ہے؟
 لے آنا اپنا سب کچھ، میرے گھر میں
 ہی رہنا ہے تمہیں!"

"تمہارے ماں باپ کا دیا کچھ نہیں چاہیے… 
لیکن بیڈ تو لڑکی والے ہی لاتے ہیں!"

"عورت کی عزت؟ 
وہ تو شادی کے بعد ہی ہوتی ہے، ابھی کیوں اتنے نخرے!"

کتنی بار چاہا کہ بس چیخ کے کہہ دوں…

"میری عزت تمہارے بیڈ کے سائز سے بڑی ہے!"

"میرا گھر کوئی فرنیچر نہیں، میرے والدین کا سایہ ہے!"
لیکن میں چپ رہی۔

میں جانتی ہوں، میرے جیسے کئی رشتے طے کر دیے جاتے ہیں بغیر ہماری رائے کے، بغیر پوچھے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ اور پھر ہم وہی کرتے ہیں جو 'مصلحت' کہلاتی ہے برداشت، خاموشی، ہاں میں ہاں… اور دھیرے دھیرے اپنا آپ کھو بیٹھتے ہیں۔

کبھی کبھی سوچتی ہوں، کاش میں اکیلی ہوتی، کسی چھوٹی سی جھونپڑی میں… لیکن عزت کے ساتھ۔

یہ میری نہیں… ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے۔
جو صرف "بیوی" بننے کے خواب نہیں دیکھتیں، 
بلکہ عزت دار شریکِ حیات بننے کی تمنا رکھتی ہیں۔

میں آج بھی اسی خاموشی کے ساتھ زندہ ہوں۔ لیکن اب میں چاہتی ہوں کوئی اور لڑکی میرے جیسے حالات میں خود کو کمزور نہ سمجھے۔

اگر تم خاموش ہو… تو سمجھ لو تمہاری چیخ اندر ہی اندر مر رہی ہے۔ اور تمہیں جینا ہے، کسی مرد کے لفظوں کی اجازت کے بغیر،
خود کے لیے، اپنی آواز کے لیے

اس دن میں  پہلی بار اس سے بات کرنے سے گھبرا رہی تھی۔ دل میں عجیب سا خوف تھا۔ شاید اس لیے کہ اندر کا ضمیر ابھی زندہ تھا… اور میں  جانتی تھی، کچھ رشتے آگ کی لکیر پر چلنے جیسے ہوتے ہیں اور میں جلنا نہیں چاہتی تھی۔

اس نے بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، 
مگر میری خاموشی کو ضد سے توڑا گیا۔

"کیوں نہیں کرتی بات؟"
"بس تھوڑی سی بات… کچھ خاص نہیں۔"

اور پھر... رفتہ رفتہ، ہر "خاص" بات ایک نئی حد پار کرتی گئی۔
میں مانتی ہوں ماضی میں، میں کمزور تھی۔ شاید بےوقوف، شاید بھولی۔ 

مگر اب نہیں۔
اب میں وہی بات کہتی تھی جو درست ہو، 
وہی سنتی تھی جو سچ ہو۔

"میں اب ویسی نہیں رہی جیسے پہلے تھی۔ اب میں اپنی حدود کو جانتی ہوں… اور مجھے اپنی ذات سے محبت ہے۔ میں کتابیں صرف پڑھتی نہیں، ان پر عمل بھی کرتی ہوں۔"

میں جانتی تھی کہ مرد صرف ظاہری پابندیوں سے نہیں،
 سوچ کی گہرائی سے پہچانا جاتا ہے۔
اور جب وہ میری ہر بات کو طنز میں لپیٹ کر کہتا:

"ہنسی مذاق کرنا، حال پوچھنا، یہ سب کسی غیر مرد سے جائز ہے؟"

تو میں نے پورے سکون سے کہا:

"ہاں، اگر حد کے اندر ہو، فالتو نہ ہو…
 اور دل میں نیت پاک ہو، تو جائز ہے۔"

مجھے اب کسی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹا 
بننے کی ضرورت نہیں تھی۔

مجھ میں اب کسی رشتے کو بچانے کے لیے 
خود کو مٹانے کی خواہش نہیں تھی۔

"اگر میری باتوں میں تمہیں سختی لگتی ہے، تو شاید تم اب سمجھ گئے ہو کہ میں کون ہوں۔ میں اب اور کچھ نہیں کہنا چاہتی… میرا جواب صرف یہی ہے: نہیں۔"

خاموشی کے بعد میں نے خود کو مکمل پایا۔
نہ کسی کا خوف، نہ کوئی سوال۔
 بس اپنی عزت، اپنی بات، اور اپنی حدوں کے ساتھ…
کیا وہ لڑکی آگے بڑھ گئی؟

 نہیں ، کیونکہ وہ رشتوں کی زنجیروں میں قید تھی
اور آخر میں، 

وہ لڑکی جو آج خود کو کچھ نہیں سمجھتی، وہی کسی دن دنیا کو سکھاتی ہے کہ سب کچھ کیسے بنا جاتا ہے… حدوں کے اندر، خودداری کے ساتھ۔

کسی کی بہن، بیٹی یا دوست… اب کسی کی بےحسی کی قیمت پر چپ نہیں رہے گی

یہ صرف ایک کہانی نہیں، یہ ہر اس لڑکی کی 
حقیقت ہے جو خاموش رہی
صرف اس لیے کہ سب خوش رہیں، مگر وہ خود کہاں گئی؟

Munaza Niaz 🦋


اگر آپ کو یہ افسانہ محسوس ہوا ہو تو اپنی رائے نیچے تبصرے میں ضرور دیں۔  
شاید آپ کی آواز کسی اور کی طاقت بن جائے۔

Comments

Popular Posts