Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Intaqaam e Junoon - Episode 1 - By Munaza Niaz - A Broken Love - A burning revenge

 


Intqaam e junoon Episode 1 

By Munaza Niaz 


وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے گاڑی پارک کر کے بار بار اپنی گھڑی اور سامنے کے گیٹ کے بیچ چکر لگا رہی تھی۔


چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف دیکھی جا سکتی تھی جس کا وہ انتظار کر رہی تھی، نہ اُس کی پرچھائیں دکھائی دے رہی تھی، نہ آہٹ


"کتنا مشکل ہے وقت پر آنا؟!"

وہ خود سے بڑبڑائی،

مگر غصے سے زیادہ اس کی آنکھوں میں بےچینی تھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا


کبھی ہاتھ کی گھڑی دیکھتی، کبھی گردن اونچی کر کے گیٹ پر نظر جماتی۔

اب صرف پانچ منٹ باقی تھے کلاس شروع ہونے میں


تھوڑی دیر اور رکنے کے بعد، وہ بیگ سے موبائل نکالنے لگی

"کال کر لوں؟"

سوچ کر انگلی اسکرین پر گئی بھی، مگر کلاس کا وقت نکلتا دیکھ کر جھٹ موبائل بند کر دیا۔ فرش پر رکھا ہوا گٹار اُٹھایا، بیگ کندھے پر ڈالا اور تیز قدموں سے گیٹ کی جانب چل پڑی۔


لیکن اب بھی نگاہیں بار بار دروازے پر ٹک جاتیں، پھر مایوسی سے ہٹ جاتیں

سر کچھ سمجھا رہے تھے لیکن اس کے دماغ میں وہی سوال گونج رہا تھا

"کیوں نہیں آیا؟ آخر کیوں؟"


کلاس میں سناٹا تھا، صرف سر کی آواز تھی جو در و دیوار سے ٹکرا رہی تھی۔

اس نے جھنجھلا کر سر تھام لیا


"صرف ایک انسان کی غیر موجودگی،

پوری توجہ برباد کر سکتی ہے؟ کیا واقعی وہ میرے لیے اتنا اہم ہے؟"


وہ خود سے سوال کرتی، اور جواب چپ چاپ نظریں جھکا دیتا


پھر اچانک...

"افف!"


غصے سے اس کا ہاتھ زور سے میز پر جا لگا پوری کلاس چونک گئی سر کی آواز بھی رک گئی تمام طلباء نے بیک وقت اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا 

سر کی نظریں اس پر جم چکی تھیں۔


"اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے، تو آپ بتا سکتی ہیں۔"

سر کی آواز میں نرمی تھی، مگر لہجہ سنجیدہ


"نو.. نو سر! ایسی کوئی بات نہیں.. سوری!"

وہ ایک لمحہ کو سٹپٹائی پھر فوراً شرمندگی سے معذرت کی


سر نے دوبارہ لیکچر شروع کر دیا،

مگر وہ پھر سے ویسے ہی غائب دماغ بیٹھی تھی...

بس اب نظریں دروازے سے زیادہ،

اپنے اندر کی بےچینی پر ٹکی تھیں

☆☆☆

یونیورسٹی کے اس بڑے سے گراؤنڈ میں وہ اپنا گٹار تھامے اسے دھیمے سروں میں بجا رہی تھی اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ گٹار کی تاروں پر حرکت کر رہے تھے بہت سے اسٹوڈنٹس اسے دیکھ کر گزر رہے تھے مگر اس سے بھی زیادہ اسٹوڈنٹس تھے جو مسکراتے ہوئے وہیں کھڑے ہو کر اس کی گٹار سے نکلنے والی خوبصورت دھن کو سننے لگے تھے 


وہ پوری یونیورسٹی کی پسندیدہ سنگر تھی۔

اس کی آواز بہت خوبصورت تھی، بالکل اسی کی طرح، مگر وہ اس سب سے بے نیاز سامنے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی 

زن۔۔۔۔۔! کی آواز کے ساتھ ہی اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا اس نے چونک کر سامنے کی طرف دیکھا اور پھر غصے سے چہرہ موڑ لیا


ایک سیاہ ہیوی بائیک جس پر بیٹھے شخص کا چہرہ سیاہ اور سرخ ہیلمٹ سے ڈھکا ہوا تھا اس نے سیاہ جینز کے اوپر سفید ٹی شرٹ اور دونوں ہاتھوں میں سیاہ ہاف گلوز پہن رکھے تھے اس کے پیروں میں سفید جوگرز تھے اس نے بائیک کھڑی کر کے ہیلمٹ اتارا پھر انگلیاں اپنے گھنے سیاہ بالوں میں پھیر دی 


یہ کراوڈ مجھے چاہتا ہے مگر میں صرف کسی ایک کی نظروں میں جیتا ہوں


وہاں پر موجود ساری لڑکیاں اب اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے کسی کی طرف دھیان نہیں دیا بلکہ بائیک کے شیشے میں اس نے اپنا چہرہ دیکھا اور دلکشی سے مسکرایا 


ان لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی یہی چاہتی تھی کہ وہ بس اس سے دوستی کر لے کچھ تو بے اختیار ہی اس کی طرف بڑھی تھیں اس نے ہیلمٹ بائیک پر رکھا اور چاروں طرف نظریں دوڑائیں، بالآخر وہ اسے سامنے گراؤنڈ میں بیٹھی نظر آ ہی گئی اس نے دیکھا تھا کہ وہ منہ بناتی چہرہ موڑ گئی تھی


مجھے اگنور کرنے والے زندہ کم اور پچھتائے ہوئے زیادہ ملتے ہیں


وہ مسکراتا ہوا بائیک سے اترا اور اس کی طرف بڑھ گیا 


اس کی طرف بڑھتی لڑکیاں خود کو نظر انداز ہوتا دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئی 

" اف یار کتنا ہاٹ بندہ ہے اس نے تو میرے دل میں آگ لگا دی ہے!"

ایک لڑکی دل پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے بولی 


" اس کی بائیک سے زیادہ دھواں تو اس کی آنکھوں سے نکل رہا ہے آج!"

دوسری تڑپ کر بولی


" دل تو کر رہا ہے ابھی جا کر اسے اپنے دل کا حال سنا دو ورنہ یہ تو ایسے ہی مجھے اگنور کر کے مار ہی ڈالے گا!"

ایک نے ٹھنڈی سانس بھری 


" اسے دیکھو اور خود کو دیکھو کہیں سے بھی تم اس کے ساتھ میچ کرتی ہو، کہاں وہ اور کہاں تم۔۔۔ اس لیے اپنی شکل اور اوقات دیکھ کر منہ سے بات نکالا کرو۔۔۔گدھی!"

 اس کے ساتھ کھڑی لڑکی نے اس کی بات کا جواب منہ بنا کر دیا اور آخری لفظ وہ منہ میں بڑبڑائی تھی 


" صحیح کہا تم نے کہاں میں اور کہاں وہ لیکن خیر جہاں وہ ہے وہاں تم بھی نہیں پہنچ سکتی!"

 پہلی والی لڑکی نے اس کی بات سن کر دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور اپنا چشمہ ٹھیک کرتی وہاں سے چلی گئی دوسری لڑکی نے خونی نظروں سے اس کی پیٹھ کو گھورا تھا اس کے ساتھ کھڑی دو اور لڑکیوں نے اپنی ہنسی دبائی تھی 


" اگر نظر سے مارنا جرم ہوتا تو آج وشال زرین پر قتل کا کیس ہو چکا ہوتا!"

ایک نے اپنی آہ دبائی تھی


" کیا ہوا جاناں! ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟"

وہ مسکراتا ہوا دھیرے سے پنجے کے بل اس کے سامنے بیٹھا وشال نے غصے سے اس کو دیکھا اس کی بات پر وہ تیزی سے کھڑی ہوئی تھی وہ بھی ساتھ ہی کھڑا ہوا 


" یہ تم خود سے پوچھو کہ میں تمہیں ایسے کیوں دیکھ رہی تھی"

 اس نے گھاس پر پڑا اپنا بیگ اٹھایا اور ہاتھ میں پکڑا گٹار باکس میں ڈال دیا جو ساتھ ہی رکھا تھا پھر اس نے اپنا بیگ ایک کندھے پر ڈالا اور فورا وہاں سے چلتی بنی آریان کی مسکراہٹ سمٹی وہ تیزی سے اس کے پیچھے لپکا 


" ایک منٹ یار میری بات سنو کہاں جا رہی ہو؟"

وہ فورا اس کے سامنے آ کر رک گیا وشال کو بھی رکنا پڑا 


" مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی!"

وشال نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا 


" ٹھیک ہے نہیں سننی تو تم ہی کچھ مجھے سنا دو قسم سے یار پچھلے 48 گھنٹوں سے تمہاری آواز سننے کو تڑپ رہا تھا "

اس نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اس کا انداز ایسے تھا جیسے ڈیلی ڈوز میں ناغہ آگیا ہو وشال نے حیرت سے اس کو دیکھا اس کے کھلے بال ہوا کی وجہ سے پیچھے کی طرف اڑ رہے تھے 


" میری آواز کے لیے تڑپ رہے تھے؟ تو سنو میں گاتی نہیں دل جلاتی ہوں"

وہ دانت پیستے اس کی طرف بڑھنے لگی


" اور میرا؟؟ میرا کیا؟ میں جو کل اتنی دیر تک تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں، کیا میں تمہیں پاگل نظر آتی ہوں"

 وہ غصے سے اس کی طرف بڑھتی گئی آریان ہلکا سا مسکراتے ہوتے ہوئے اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ دھیرے سے پیچھے کی طرف قدم اٹھانے لگا 


" کل تمہاری وجہ سے مجھے سر نے ڈانٹ دیا میں لیکچر پر بالکل بھی توجہ نہیں دے پائی"

 وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی جبکہ آریان اس کے ہلتے ہوئے لبوں کو دیکھ رہا تھا اس کے نچلے ہونٹ پر دائیں طرف ایک چھوٹا سا خوبصورت تل تھا اس نے اپنی مسکراہٹ نہیں چھپائی تھی 


" تمہیں پتہ بھی ہے کہ کل ایک تمہارے نہ آنے سے میرا سارا دن خراب گزرا"

اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ گہری سیاہ آنکھیں جس میں وہ ڈوبنے سے ڈرتا تھا 


" صرف اور صرف تمہاری وجہ سے میں کل کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کر پائی"

وشال نے اس کے سینے پر انگلی ٹھونکی کبھی وہ اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کو دیکھتا تو کبھی اس کے ماتھے پر موجود بے شمار بل 


وہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا، وہ کیا کہہ رہی تھی اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا 


" اور ایک تم ڈھیٹ انسان، جو مسکرائے جا رہے ہو۔ تمہاری یہ مسکراہٹ میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے میں اب تم سے کبھی بات نہیں کروں گی ہٹ جاؤ میرے سامنے سے!"


 وشال نے ایک خونخوار نظر اس پر ڈالی اور سائیڈ سے نکل گئی 

وہ ہوش میں آیا اور چونک کر اس کو دکھا 


" پلیز یار سوری غلطی ہو گئی اب دوبارہ ایسا نہیں کروں گا یار رکو تو سہی، میری بات تو سنو!!"

وہ کبھی بھی اسے پاگل کر دیتی تھی مگر اس نے ایک نہیں سنی اور گیٹ سے باہر نکل گئ آریان تیزی سے اپنی بائیک کے پاس پہنچا اس کی بائیک پر ایک لڑکی ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر وہ دلکشی سے مسکرائی وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی 


" ہیلو آریان چلو کہیں باہر چلتے ہیں!"

وہ لمبی ہیل پر چلتی اس کے قریب آئی اپنی 


" بکواس بند رکھو اور ہٹو یہاں سے"

آریان نے غصے سے اس کو دیکھا 


" میں بکواس نہیں کر رہی میری جان میں تو بس۔۔۔۔!"

وہ نظر انداز کرتی مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی 


" صرف پیار کر رہی ہوں!"

 اس نے اپنا جملہ مکمل کیا 


آس پاس کھڑی موجود لڑکیوں نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا تھا کاش وہ بھی آریان کے پاس اس لڑکی کی طرح جانے کی ہمت کر پاتیں۔


جبکہ لڑکے حسرت بھری نگاہوں سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے کاش لڑکیاں بھی آریان کی طرح ان کے پیچھے پاگل ہوتیں مگر ہائے رے قسمت 


" ہاتھ ہٹاؤ!"

 آریان نے سنجیدگی سے کہا جس کا اس لڑکی پر کوئی اثر نہ ہوا وہ مزید اس کے قریب ہوئی 


" لیکن کیوں آریان؟"

وہ اپنا چہرہ اس کے قریب لے گئی 


" ہاتھ ہٹاؤ!"

وہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں تھا اس لڑکی نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر وہی اس کا سانس خشک ہوا اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ وہ فورا پیچھے ہوئی تھی 


" اب اگر دوبارہ تم نے مجھے چھونے کی غلطی کی تو میں تمہارے ہاتھوں کے ساتھ تمہاری زبان بھی کاٹ دوں گا"


 اس کی آواز سرسراتی ہوئی تھی پھر اس نے تیزی سے اپنا ہیلمٹ پہنا اور بائک یونی سے باہر اڑا لے گیا

☆☆☆


وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے سامنے بکھرا ڈھیر سارا سامان الگ الگ کرتی جا رہی تھی جن میں کپڑے جوتے مہندی چوڑیاں غرض ہر وہ چیز تھی جو کسی بھی نئی بننے والی دلہن کے لیے ہوتی ہیں۔۔۔۔

دو ماہ رہتے تھے ابھی شادی کو، اور یہ سارا سامان اس نے کل شام کو ہی خریدا تھا وہ بے اختیار اشعر کے بارے میں سوچے گئی


اشعر زایان، وہ جو اس سے عشق کرتا تھا اتنا کہ وہ اس کی انتہا تک پہنچنا بھی چاہے تو بھی نہیں پہنچ سکتی تھی کتنا حسین وہ لمحہ ہوتا ہے نا کہ جب آپ کو پتہ لگے کہ آپ اس شخص کی زندگی میں شامل ہو رہے ہیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں صرف سوچ کر ہی روح سرشار ہو جاتی ہے دنیا کی ہر بری چیز بھی آپ کو اچھی لگنے لگتی ہے 


وہ سوچتے ہوئے دھیرے سے مسکرائی 


" سحر بیٹا دروازہ کھولنا دیکھو کون آیا ہے!"

 امی کی آواز پر وہ دھیرے سے کھڑی ہوئی، امی کچن میں تھیں اس نے اپنی امی سے کہا بھی تھا کہ وہ بھی ان کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہے مگر امی نے سختی سے منع کر دیا تھا۔۔۔شادی میں وقت ہی کتنا رہ گیا تھا


" جی امی دیکھتی ہوں!"

 کہتے ہوئے اس نے سر پر اچھے سے دوپٹہ اوڑھا اور باہر چلی آئی 


" کون ہے ؟"

دروازے پر پہنچ کر اس نے پوچھا 


" پولیس!"

 وہ جو کان لگائے کھڑی تھی ایک دم سٹپٹا گئی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا 


" آپ!"

وہ تھوڑا حیران ہوئی 


" کیوں میں نہیں آ سکتا یہ تو میری خالہ کا گھر ہے نا"

 وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا اس کے جسم پر خاکی وردی تھی شاید ڈیوٹی سے وہ سیدھا یہی آیا تھا سحر تیزی سے اندر کی طرف بھاگ گئی تھی وہ ہنس پڑا 


" پاگل کہیں کی"

 مسکراتے ہوئے وہ کچن میں خالہ کے پاس چلا گیا ان کا حال احوال پوچھتے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے پوچھا کہ اگر کسی چیز کی ضرورت یا کمی بیشی ہو تو بتا دیں وہ لے جائے گا


" ارے نہیں بیٹا کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں ہے تم نے تو اتنا کچھ دلا دیا ہے کہ کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہی اگر ہوئی بھی تو میں خود تمہیں بتا دوں گی بیٹا!"

انہوں نے مسکرا کر کہا 


اشعر کے ماں باپ نہیں تھے خالہ نے اس کو پالا تھا جب وہ نو سال کا تھا مگر اب وہ پچھلے تین سالوں سے اپنا الگ گھر لے چکا تھا اس کی شادی سحر سے طے پا چکی تھی وہ اس کا بچپن کا ساتھی کزن اور دوست تھا مگر یہ دوستی کب محبت میں بدلی ان دونوں کو معلوم نہیں ہو سکا تھا 


وہ انسپیکٹر اشعر زایان تھا اس کی قابلیت کی بدولت پر اس کے عہدے بڑھتے گئے تھے 


" اچھا خالہ میں ذرا سحر سے مل لوں اسی سے پوچھ لیتا ہوں کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ بتا سکتی ہے"

" ٹھیک ہے بیٹا جاو مگر جلدی واپس آ جانا شادی سے پہلے ایسی ملاقاتیں نہیں کرتے!"

 انہوں نے مسکرا کر اسے چھیڑا وہ ہنس پڑا 


" اوکے خالہ میں بس ابھی آ جاتا ہوں!"

 کہہ کر وہ تیزی سے کچن سے نکل گیا 


سحر نا جانے کن سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی اس کے یوں اچانک سامنے آنے پر بوکھلا گئی 


" آپ؟ آپ ادھر کیسے آگئے؟ مم۔۔۔میرا مطلب کیا آپ کو کوئی کام تھا؟"

اس کے زبان بری طرح لڑکھڑائی 


" کیوں؟ پہلے تو تم نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا اب اچانک کیا ہو گیا ہے میں تو ہمیشہ اسی گھر میں رہا ہوں مگر جب سے ہمارا رشتہ ہوا ہے اور میں یہاں سے شفٹ ہوا تو دیکھ رہا ہوں تم مجھ سے کترانے لگی ہو، تم جتنا مجھ سے کتراو گی میں اتنا تمہارا ہو جاوں گا"


 وہ مسکراہٹ دبائے اس کے پاس آیا 

" آپ کو لگتا ہے میں کترا رہی ہوں؟"

سحر نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا

" اصل میں، میں ہر وقت آپ کے قدموں کی چاپ سنتی ہوں!"

اس نے مسکراہٹ دبائی تھی

" تمہاری ایک جھلک ملتی ہے اور میری ساری تھکن چوم لیتی ہے"

وہ اس کی طرف بڑھا 


"آپ جب پاس آتے ہیں تو میری سانسیں بھول جاتی ہیں کہ کیسے لی جاتی ہیں!" 

وہ غیر ارادی طور پر پیچھے کی طرف ہٹی تھی اس کے چہرے پر گلال بکھر گیا تھا جس سے وہ خود انجان تھی


اشعر نے ہلکی سی گردن جھکا کر اسے ایسے دیکھا جیسے واقعی اس کی سحر نے یہ بات کہی ہے اس نے اسی طرح مسکراتے ہلکا سا چہرہ جھکایا اور دوبارہ اس کو دیکھا


" جتنا بھی دیکھ لوں مگر یہ دل اور آنکھیں کہاں بھرتی ہیں بس ایک بار مل جاؤ قسم کھاتا ہوں نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا"

 وہ شوخی سے مسکرایا سحر کے گال سرخ ہوئے اس نے گھبرا کر اسے پیچھے کیا اشعر نے دھیرے سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے وہ سٹپٹا گئی 


" اچھا تو پھر ڈیوٹی کون دے گا؟"

 اس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی مگر کھینچ نہیں سکی 


" تمہیں دیکھنا سب سے حسین ڈیوٹی ہوگی میری"  

اس نے مسکرا کر آہستہ سے اس کے ہاتھ پر لب رکھے وہ گھبرا کر ہاتھ چھڑواتی کمرے سے باہر دوڑ لگا گئی وہ ایک بار پھر ہنس دیا تھا

☆☆☆


وہ ناک کی سیدھ میں تیز قدم اٹھاتی چل رہی تھی اچانک ایک بائک اس کے پاس آ کر رکی اس نے جھنجلا کر اور غصے بھری نگاہوں سے اس طرف دیکھا 


" کیا مسئلہ ہے؟"

" تم! اور یہی میرا سب سے بڑا مسلا ہے، تمہارا مجھے نظر نہ آنا"

 آریان نے کہا 


" تو پھر چھوڑ دو، نہ تم میرے نہ میں تمہاری۔۔۔ پھر مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا"

اس نے غصے سے آنکھیں سکیڑ لی 


" یہی تو مسئلہ ہے کہ اب چھوڑ نہیں سکتا چلو بیٹھو"

 آریان نے بائیک پر ریس دی 


"میں کہیں نہیں جا رہی اور تمہارے ساتھ تو بالکل بھی نہیں جا رہی!"


" میں پوچھ نہیں بتا رہا ہوں اب بیٹھو!"

 آریان نے اس کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ریس اور تیز کر دی ہیوی بائیک کی آواز اب اتنی شدید ہو چکی تھی کہ اس نے بے اختیار اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ دیے

" سٹاپ اٹ آریان! بس کرو"


" تمہارے انکار سے بائیک کی سپیڈ نہیں رکتی، بیٹھو ورنہ سب دیکھ رہے ہیں اور میں شرمانا نہیں جانتا"

آریان نے سرد مسکراہٹ کے ساتھ کہا وشال نے ادھر ادھر دیکھا بہت سے لوگ رک کر دونوں کو دیکھنے لگے تھے اس کا دماغ سنسنا اٹھا اس نے اپنی طرف بڑھتی امل کو دیکھا جو اس کی دوست تھی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا گٹار اور بیگ اس کی طرف بڑھا دیے 


" یار یہ پکڑو ذرا!"

امل نے مسکراہٹ دبا کر اس کا سامان لے لیا 


" جلدی واپس آنا "

امل شرارت سے بولی وہ اسے چھیڑ رہی تھی اس نے کوئی دھیان نہیں دیا آریان نے ہیلمٹ کا شیشہ بند کیا اور پھر وشال کے بیٹھتے ہی کلچ چھوڑ دیا بائیک ایک جھٹکے سے ہوا ہمیں تقریبا اڑنے لگی تھی 


" پلیز آریان آہستہ چلو"

وشال نے غصے سے اس کے کان کے پاس جا کر کہا 


" میرے عشق کی کوئی رفتار نہیں ہے بس تم کس کے پکڑ لو مجھے!"

 وہ شاید مسکرایا تھا


" اگر تم نے سپیڈ آہستہ نہ کی تو میں چلتی بائیک سے کود جاؤں گی"

 اس نے جھنجلا کر آریان کی شرٹ پکڑ لی تھی 


ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلے کبھی آریان کے ساتھ بیٹھی نہیں تھی وہ بائیک ریسر تھا وہ ہر سال ریس میں شرکت کرتا تھا اور وشال جانتی تھی کہ وہ کبھی ہارا نہیں ہے 


" دل چھوٹا ہے لیکن دھمکیاں بڑی۔۔۔ اب کود کر دکھاو۔۔مارو چھلانگ، میں تو خود نیچے گرنے کو تیار ہوں، تمہارے ساتھ "

آریان نے بائیک کی سپیڈ اتنی تیز کر دی تھی کہ وہ بری طرح ڈر گئی وہ اسے زچ کر رہا تھا اور وہ ہو رہی تھی تبھی آریان کو اپنے پیٹ پر دو نرم ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا جو سختی سے اس کے گرد بندھا ہوا تھا آریان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی 


" پلیز آریان اب بس بھی کرو روک دو مجھے ڈر لگ رہا ہے"

آریان نے بائیک کی سپیڈ سلو کی اور پھر روک دی وشہ ایک جھٹکے سے نیچے اتری اس نے دائیں بائیں دیکھا سڑک پوری سنسان تھی دور دور تک کچھ بھی نہیں تھا اور نہ ہی ارد گرد کوئی آبادی تھی وہ پتہ نہیں اسے اتنی تیز ہوا میں اڑا کر کہاں لے کر آ گیا تھا 


" آج کے بعد میں تمہارے ساتھ اس ہوائی بائیک پر کبھی نہیں بیٹھوں گی"


 آریان نے ہیلمٹ اتارا اور پھر آنکھیں سکیڑ کر اس کو دیکھا جس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا 


" ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی، اب میں تب تک نہیں اٹھو گا جب تک تم خود نہ کہو " چلو واپس۔۔" "

کہتے ہوئے وہ اس بڑی سی خالی سڑک پر جا کر لیٹ گیا وشال نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا 


" دماغ تو نہیں خراب ہو گیا تمہارا؟"

" تم ہی نے تو کہا ہے کہ اب میرے ساتھ کہی واپس نہیں جاؤ گی تو پھر؟"

آریان نے ہلکی سی گردن اٹھا کر اس کو دیکھا جو اس کی بائیک کے ساتھ کھڑی تھی 


" ہاں وہ تو میں نے اگلی دفعہ کا کہا ہے اس بار تو مجھے مجبورا تمہارے ساتھ ہی واپس جانا پڑے گا"

 وشہ نے سڑک پر دائیں بائیں دیکھا جو دور دور تک خالی تھے 


" تم تو ناراض ہو مجھ سے پھر میرے ساتھ کیوں جانا چاہتی ہو؟"

 اس نے مسکرا کا ٹانگ پر ٹانگ رکھ دی اس کا اندازہ ایسے تھا جیسے وہ سڑک پر نہیں بلکہ اپنے بیڈ پر موجود ہے 


" پاگل ہو گئی ہوں میں اس لیے کہہ رہی ہوں"

 اس نے غصے سے کہا اور پھر بے اختیار اس کی نظر دور سے آتے ایک ٹرک پر پڑی وہ ایک دم چونکی 


" اس کا مطلب تم ابھی تک ناراض ہو مجھ سے ٹھیک ہے جب تک میں تمہیں منا نہیں لیتا میں یہاں سے اٹھنے والا نہیں ہوں"

اس نے سکون سے اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر سر کے نیچے رکھ دیے


" آر۔۔۔آریان! جلدی اٹھو وہ دیکھو، وہ ٹرک تمہاری طرف آرہا ہے "

وہ ڈر کے مارے اچھل پڑی آریان نے ہلکا سا چہرہ موڑ کر اس ٹرک کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف آرہا تھا 


" ہاں تو آنے دو نا! زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا میرے اوپر سے گزر کر جائے گا اور تم اپنی ان بڑی بڑی آنکھوں سے میرا آخری سین دیکھنا، کیا معلوم اس طرح میں تمہاری ناراضگی ختم کر سکوں!"

 وہ مسکرایا اور مزید پھیل کر لیٹ گیا 


" شٹ اپ آریان! اٹھو اب!"

 وہ جھنجھلائی وہ تو اسے لگنے والی معمولی سی خراش پر بھی پاگل ہو جاتی تھی اور اب وہ خود اس کو اپنی موت کا کہہ رہا تھا اس کا دل کانپنے لگا تھا 


" میں نہیں اٹھ رہا!"

 آریان نے اس کے ہر انداز کو غور سے دیکھا اپنے لیے اس تڑپ کو وہ پچھلے چار سالوں سے دیکھتا آرہا تھا 


وشہ تیزی سے اس کے پاس پہنچی 

" پلیز آریان اٹھو! میں نے۔۔۔۔ میں نے تمہیں معاف کر دیا"

 وہ گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھی


" مگر اب میں تم سے ناراض ہو چکا ہوں اور صرف ایک طریقہ ہے مجھے منانے کا ورنہ تم واپس چلی جاؤ اور میری اس حسین موت کا نظارہ دیکھو!"

 وہ اتنی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا کہ وشہ کا دماغ گھوم کر رہ گیا الٹا مصیبت اس کے گلے پڑ گئی تھی


" اب وہ کیا ہے!"

اس نے تیزی سے پوچھا وہ بس اسے یہاں سے ہٹا دینا چاہتی تھی 


" نہ کرو یار تم مان گئی ہو"

 وہ اچھل پڑا 


" بتاؤ بھی "

وہ غصے سے ایک دم غرائی 


" ایک کس کرو مجھے"

 اس نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور واپس لیٹ گیا اس کی نظریں اس کے ہونٹ پر موجود تل پر تھیں 


" اوکے!"

 کہتے ہوئے اس نے جلدی سے اس کے گال کو جھک کر چھوا 


" ایک اور۔۔۔ یہاں!"

 اس نے دوسرا گال اس کے سامنے کیا وشال کا دل کیا کھینچ کر تھپڑ لگا دے اسی گال پر مگر وہ خون کے گھونٹ بھرتی اس کے دوسرے گل کو چوم لیا وہ بے قراری سے اب اس ٹرک کو دیکھ رہی تھی جو قریب سے قریب تر آتا جا رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی 


" بس ایک لاسٹ یہاں!"

آریان نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی وشال نے آنکھیں پھاڑ کر اس کو دیکھا 


" پڑے رہو یہی میں جا رہی ہوں مرو تم یہاں پر!"

 وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی آریان نے ایک نظر اسے اور پھر دوسری نظر ٹرک کو دیکھا 


" ٹھیک ہے! آجا ٹرک۔۔۔ میرا عشق ختم ہوا!"

 اس نے سکون سے آنکھیں موند لیں وشال کے پاس اگر بندوق ہوتی تو وہ اس کا سر اڑا دیتی جہاں دماغ نام کی کوئی چیز نہیں تھی اب وہ اضطرابی انداز میں تیز تیز انگلیاں مروڑنے لگی تھی آخر ہار مان کر کچھ بے بسی سے وہ پھر سے اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی 


کچھ گھبراتے ہوئے وہ اپنا چہرہ اس کے قریب لے گئی آریان کے چہرے پر اس کے بال گرے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں وشال نے پھرتی سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا 


" جلدی کرو وشال ورنہ میں مر جاؤں گا! میرا مطلب ٹرک کے نیچے آ کر"

آریان نے اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا دیا 


" ہاتھ چھوڑو میرا"

وہ غصہ دبا کر بولی

" ہرگز نہیں!"

وہ ڈھٹائی سے بولا 


" ٹھیک ہے آنکھیں بند کرو پہلے۔۔۔پلیز آریان!"

وہ گہری نگاہوں سے دیکھتا نفی میں سر ہلا گیا 


وشہ کبھی ایسی سچوئیشن میں نہیں پھنستی تھی اور آریان ایسی سچوئیشنز بنا بنا کر اسے پھنساتا تھا


ابھی وہ صرف جھکی ہی تھی تبھی آریان نے ایک جھٹکے سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور تیزی سے اسے اٹھا کر سائیڈ پر ہو گیا ٹرک فراٹے کی آواز کے ساتھ ہی وہ جگہ پار کر گیا جہاں کچھ دیر پہلے وہ دونوں تھے 


وہ جب اسے ساتھ لگائے کھڑا ہوا تو وشال اس کے سینے میں چہرہ چھپائے تقریبا کانپ رہی تھی اسے لگا تھا بس اب ٹرک ان دونوں کو کچل کر گزر جائے گا لیکن نہیں، ایسا نہیں ہو سکا 


آریان اس کے گرد بازو باندھے کھڑا تھا اس کے چہرے پر ہنسی تھی جسے وہ بہت مشکل سے روک رہا تھا 


" ارے واہ تم تو بڑی بہادر نکلی!"

وشال نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کو دیکھا اس کا دل کر رہا تھا آریان کا گلا دبا دے اگر وہ مر جاتا تو؟ اگر وہ دونوں ہی مر جاتے تو؟ 

" تم پاگل ہو؟"

وہ صدمے سے بولی

" نہیں بس تمہارے عشق نے عقل مار دی ہے" 

  

اس نے زور سے آریان کے کندھے پر دانت گاڑ دیے آریان تڑپ کر پیچھے ہوا 


" بے رحم لڑکی مار ڈالو گی کیا!"

  اس نے اپنا کندھا زور سے سہلایا 


" مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی!"

وشال نے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا وہ گھوم کر اس کے سامنے آیا 


" اور میں تمہیں کبھی چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔ تمہیں کیا لگا میں ہم دونوں کو مرنے دوں گا، خواب میں بھی نہیں" 


وشال نے کوئی جواب نہیں دیا آریان نے اس کی طرف قدم بڑھائے اس سے پہلے کہ وشال پیچھے کی طرف جاتی آریان نے پھرتی سے اس کے گرد اپنے ہاتھ باندھ دیے 

" ڈرتی ہو مجھ سے!"

وہ اس کے گہری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا 


" نہیں۔۔وہ، میں"

 اس کے اتنا نزدیک آنے پر وہ تھوڑی گھبرا گئی آریان نے اس کے تل کو دیکھا اور پھر اس کے آنکھوں کو پھر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کا ماتھا چوم لیا وشال نے آنکھیں بند کر لیں 


" میں خود تو مر سکتا ہوں مگر تم پر ایک خراش تک نہیں آنے دوں گا"


مسکراتے ہوئے اس نے اسے چھوڑا اور بائیک پر رکھا اپنا ہیلمٹ اٹھا لیا وہ بس اسے دیکھے گئی 


" کیا تم واقعی میں نہیں جانا چاہتی میرے ساتھ؟"

 وہ آنکھیں چھوٹی کیے مسکراتے ہوئے بائیک پر بیٹھ چکا تھا وشہ نے کچھ نہیں کہا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے پیچھے جا کر بیٹھ گئی 


" پکڑ لو ورنہ گر جاؤ گ

ی!"

آریان نے شرارت سے کہا وشال نے سختی سے اس کے گرد بازو باندھ لیے 


" مجھے پتہ ہے تم مجھے کبھی گرنے نہیں دو گے"

 اس نے اپنی تھوڑی آریان کے کندھے پر ٹکا دی آریان نے چہرہ موڑا اور اس کے گال پر لب رکھ دیے وہ دلکشی سے مسکرائی


" مائی چاکلیٹ!"

 اس نے دھیرے سے کہا اور جب وہ " مائی چاکلیٹ" بولا تو سب تلخ ہو کر بھی میٹھا لگنے لگا تھا وشال نے کھلکھلاتے ہوئے سر اس کے کندھے پر رکھ دیا 


جاری ہے 

Comments

Popular Posts