Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Intaqaam e Junoon - Episode 2 - by Munaza Niaz

 




Intqaam e junoon Episode 2
 by Munaza Niaz 

" نا کافی ثبوتوں، گواہوں اور محض شک کی بنیاد پر ارقم اعظم پر لگائے گئے سارے الزامات عدالت واپس لیتی ہے لہذا ارقم اعظم کو باعزت بری کیا جاتا ہے، دیٹس کیس کلوز!"

کمرہ عدالت میں جج نے فیصلہ سنانے کے بعد زور سے ہتھوڑا بجا ڈالا ارقم اعظم دھیرے سے کھڑا ہوا اور ہلکا سا سر کو خم دیتا باہر نکل گیا 

رپورٹرز اور اس کا وکیل اس کے پیچھے تھے۔ کمرے سے باہر قدم رکھتے ہی وہ ایک لمحے کو رکا 

"سلام ہو انسپیکٹر صاحب...خیرمقدمی تقریر نہیں کریں گے؟ آپ کا مجرم بری ہو گیا!"

گلاسز لگائے وہ بند لبوں سے مسکرایا اشعر زایان نے دھیرے سے گلاسز اتارے اور ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کر دیا جیسے کہہ رہا ہو " وہ راستہ ہے "  

اس کا چہرہ برف جیسا ٹھنڈا تھا مگر اس کی آنکھیں آگ اگل رہی تھیں ارقم مسکراتا رہا پھر ہولے سے اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا جیسے اشعر کے کندھے پر رکھنا چاہتا ہو مگر اس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا جب اشعر تیزی سے وہاں سے آگے بڑھ گیا

" اکڑو کہیں کا "

سر جھٹک کر ارقم آگے بڑھ گیا 

اشعر کا خون کھول رہا تھا وہ تیزی سے بنا کسی کی طرف دیکھے آگے بڑھتا جا رہا تھا جب کچھ لوگ اس کے پاس چلے آئے وہ ہیں جم گیا

" ہم کیس ہار گئے سر! میری بہن کو انصاف نہیں مل سکا"


وہ ایک نوجوان لڑکا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اس کے ساتھ کھڑا ایک ادھیڑ عمر شخص جن کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑا ہوا تھا اشعر نے بمشکل خود کو کنٹرول کیا 


" میری بہن کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور میں کچھ بھی نہیں کر سکا نہ اس کو بچا سکا نہ اس کے قاتل کو سزا دلوا سکا میں ایک ناکام بھائی ہوں میں کسی کام کا نہیں، میں کسی کام کا نہیں" 

وہ ایک چھوٹے بچے کی طرح سسکنے لگا اشعر بالکل چپ کھڑا رہا وہ اسے تسلی دینا چاہتا تھا مگر وہ اسے چھوٹی تسلی کیسے دیتا 

پہلے بھی تو اس نے کئی مرتبہ اس کو تسلی دی تھی کہ وہ کیس جیت جائیں گے مگر؟؟؟ اس نے زور سے مٹھی بھینچی اور تیزی سے آگے بڑھ گیا پیچھے 

"میری بہن کو دفن کرتے وقت میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اسے انصاف دلاؤں گا.... مگر آج میں اپنی ہی نظر میں مر گیا ہوں۔"

وہ لڑکا اپنے والد کو سنبھالتا شکستہ قدموں سے گھر کی طرف لوٹ گیا 

جیپ میں بیٹھتے ہی اشعر نے تیزی سے گاڑی ریورس کی اور ایک جھٹکے سے اس کھوکھلی بے انصاف عمارت سے باہر نکل گیا

وہ عدالت سے نہیں، ایک لاش سے باہر نکل رہا تھا انصاف کی لاش!


☆☆☆

میں کملی رملی جھلی آن 

تیرے عشق اچ ہو گئی کملی آں 

میں جوگن بھیس وٹایا اے 

میں یار مناون چلی آں 

وشال کی نظر سیدھا آریان پر تھی جو چیئر پر نیم دراز اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ دھیمے سر میں گنگنا رہی تھی 

اس کے ہاتھ میں گٹار تھا اور اس کی انگلیاں تاروں پر ایک خوبصورت دھن بن رہی تھی 


مینوں جگد دی نہ ہے فکر کوئی 

میرا ماہی جگ دو ڈردائے 

میں گل کراں جدو عشق دی

اگوں سڑدا وی نل لڑدا اے


اس کے کھلے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے وہ جب چہرہ ادھر ادھر موڑ کر دوبارہ آریان کی طرف دیکھتی تو کچھ آوارہ لٹے چہرے پر جھولنے لگتیں 


اسٹوڈنٹس اس کے ارد گرد بیٹھے اسے گھیرے ہوئے تھے جبکہ آریان ان سے ذرا فاصلے پر بیٹھا تھا وشال نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا وہ دھیرے سے کھڑا ہو رہا تھا وہ اب بھی گا رہی تھی 


میں کملی رملی جھلی آں 

تیرے عشق اچ ہو گئی کلی آں

میں جوگن بھیس وٹایا اے

میں یار مناون چلی آ 

جیوے یار کہوے ست بسم اللہ 

سب بسم اللہ سو بسم اللہ

مینو کملی رملی رہن دے 

ایس جھل نہ مکھ ساڑ دے آں


وہ اس کے قریب آیا اور ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی تھامی اور اپنے سامنے کھڑا کر دیا 


میں کملی رملی جھلی آں  

تیرے عشق دے رنگ اچ رنگی آں


وہ دھیرے سے گنگنائی اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی آریان نے اس کے چہرے پر بکھرے بال نرمی سے پیچھے کر دیے اسٹوڈنٹس مسکراہٹ دبائے انہیں دیکھنے لگے جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جن کا جلتا ہوا دل مزید جل گیا 

آریان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کلاس روم سے باہر نکل گیا 

" کیا کر رہے ہو آریان؟ ہاتھ تو چھوڑو میرا"

وشال نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے دھیرے سے کہا 

" چھوڑنے کے لیے تھوڑی پکڑتا ہوں" 

اسی لیے وہ پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ گیا

" ہم کہاں جا رہے ہیں؟"

آریان مسکرایا پھر اسے کھینچ کر بائک کے ساتھ لگایا وہ تھوڑا پیچھے ہوئی کیونکہ وہ اس پر ہلکا سا جھکا ہوا تھا 

" جہاں تم کہو گی! یا پھر میں اپنی مرضی سے کہیں پر بھی لے چلوں۔۔ کسی ایسی جگہ پر جہاں یہ ظالم دنیا نہ ہو"

 اس نے وشال کی کمر کے گرد ہاتھ رکھے اور اسے اٹھا کر بائک پر بٹھا دیا اب وہ اس کی اتنا قریب تھا کہ وشال نے سانس روک لی


آریان کی نظر اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی اس کو سمجھ نہیں آیا کہ اس کی وہ آنکھیں زیادہ حسین ہیں یا ان میں موجود اس کا خود کا عکس، جسے وشال نے اپنی نظروں میں سما رکھا تھا آریان نے ہیلمٹ اٹھایا اور اسے پہنا دیا پھر اس کے چہرے پر پھونک مار کر شیشہ بند کر دیا وشال دھیرے سے کھلکھلائی اور اسے پیچھے کرتے ہوئے نیچے اتر گئی 

" اب کیا یہیں کھڑے رہو گے جانا نہیں ہے؟"

اس نے دونوں بازو باندھے 


" بائیک تم چلاؤ گی

 آریان نے مسکراتے ہوئے کہا 

" کیا؟ اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ ایک سیکنڈ میں بائیک چلا لیتی ہوں مگر یہ تو ہیوی بائیک ہے، اگر تم نے مرنا ہے تو پھر ٹھیک ہے میں تیار ہوں" 


وہ بائیک پر بیٹھی آریان تیزی سے اس کے پیچھے بیٹھا

" جب میں ساتھ ہوں تو موت کیسی؟ ڈر کیسا؟ خوف کیسا؟"

آریان نے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دیے جو ہینڈل تھامے ہوئے تھے وشال کا دل دھڑک اٹھا اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا اور بائیک سٹارٹ کر دی 

" یہ تو بتاؤ کہ جانا کہاں ہے ؟"

آریان نے ریس دی اور کلچ پکڑ لیا 

" جہاں ہم دونوں کو دیکھنے والا کوئی نہ ہو"

اور کلچ چھوڑ دیا بائیک اتنی تیزی سے نکلی تھی کہ وشال کا دل اچھل کر حلق میں آگیا 

جیسے ہی بائیک مین روڈ پر آئی اس کی رفتار دگنی ہو گئی تھی وشال نے دونوں ہاتھ ہینڈل سے اٹھا لیے کیونکہ بائیک اب صرف آریان کے کنٹرول میں تھی 

وشال نے ہیلمٹ اتارا اس کے کھلے بال آریان کے چہرے کو چھونے لگے تھے اس کے بالوں کی مہک آریان کے ہوش اڑانے لگی تھی وشال نے بال سمیٹنے چاہے مگر آریان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا 

" ان کو ایسے ہی رہنے دو ورنہ یہ سحر ٹوٹ جائے گا "

وہ اس کے گردن کے قریب جھکا کان میں بولا وشال کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا 

وہ اس کی بھاری سانسیں اپنی گردن پر پوری طرح محسوس کر رہی تھی 

اس نے دھیرے سے گردن موڑ کر اس کو دیکھا وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ اسے ارد گرد ہوش نہ رہا وہ تھوڑا آگے ہوئی اس کے دونوں طرف آریان کے بازوں کا حصار تھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری اس نے ایک ٹانگ اٹھائی اور اسے دوسری سائیڈ پر رکھ دی اور جب دوسری والی پہلی سائیڈ پر رکھی تو اس کا چہرہ اب بالکل آریان کے روبرو ہو گیا 

آریان نے نہ بائیک روکی اور نہ ہی اس کی رفتار آہستہ کی وشال تھوڑا پیچھے ٹینکی پر اوپر ہو کر بیٹھی تھی اور اب آریان اس کو چہرہ اٹھا کر دیکھ رہا تھا 

دور کہیں لہروں کا شور سنائی دے رہا تھا وشال تھوڑا سا اس کی طرف جھکی 

" اب ٹھیک ہے! ورنہ تم نے تو میری جان نکال لینی تھی"

بائیک ایک جھٹکے سے رکی وشال اچھل کر اس پر جاگری آریان نے دونوں بازو اس کے کمر میں ڈالے اور اسے پکڑے بائیک پر لیٹ گیا 

وہ اب اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا دور تک ساحل پر سمندر کی لہروں کا شور تھا ہوا تیز تھی اور ان دونوں کے سوا کوئی نہ تھا 

" تمہاری آنکھوں میں ہر رات کا راز چھپا ہوتا ہے جاناں"

آریان نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھے انگوٹھے سے اس کا گال سہلایا دوسرے ہاتھ سے اس کے اوپر گر رہے بالوں کو دھیرے سے پیچھے کیا 

وشال کا سانس رکا 

" میں تمہیں بس دیکھ کر جیتا ہوں وشہ! بس دیکھ کر"

وشال کے دونوں ہاتھ آریان کے سینے پر تھے اسے اپنی کمر پر آریان کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس کا دل رکنے لگا ہے یا زیادہ تیزی سے دھڑکنے لگا ہے 

آریان نے تھوڑا اور اسے اپنے چہرے پر جھکایا اب کی وہ ہل بھی نہیں سکی آریان نے اس کی آنکھوں کو دیکھا پھر اس کے تل کو اور پھر دوبارہ اس کی آنکھوں کو۔


" تم قتل کرتی ہو جاناں اور درد بھی محسوس نہیں ہونے دیتی" 

وشال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی آریان کی ہار بیٹ مس ہوئی تھی 

" میں درد بھی اتنے خوبصورت طریقے سے دیتی ہوں کہ سامنے والا مر بھی جائے اور شکایت بھی نہ کرے"

وہ تھوڑا اور جھکی اور اس کے گال پر لب رکھ دیے آریان نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں 

" جب تم اس طرح بولتی ہو تو تمہاری لفظ سانس لینا شروع کر دیتے ہیں اور میں وہ ہر سانس محسوس کرتا ہوں" 

وشال نے مسکرا کر اس کا ہاتھ پیچھے کیا اور تیزی سے نیچے اتر گئی 

" خوابوں کی دنیا سے باہر آ جاؤ آریان ورنہ تمہاری یہ بائیک خراب ہو جائے گی" 

اس کے کان پر جھک کر سر گوشی میں بولی اس کے چہرے پر شرارت تھی 


" اگر تم ساتھ ہو تو میں خود خراب ہو جاؤں" 

اس کے معنی خیز نگاہیں، 

وشال کے گال سرخ ہوئے ابھی وہ اس کو پکڑتا وہ تیزی سے پیچھے ہوتی ساحل پر بھاگی آریان مسکرایا اور وہیں لیٹا رہا

اس نے گہری سانس لی وشال کی خوشبو اس کی سانسوں میں سما گئی 

وہ اس لمحے میں سے نکلنا نہیں چاہتا تھا اس لیے آنکھیں بند کر گیا۔

☆☆☆

گہری خاموشی تھی، ہوا میں سگریٹ کا دھواں الجھ رہا تھا فرش پر مٹی تھی جیسے ایک عرصہ ہوا یہاں کی صفائی نہیں کی گئی ہو 

اگر کوئی بولتا تو الفاظ گلے میں اٹک سکتے تھے ایک شخص اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھا 

وہ شخص جسے عدالت نے " باعزت بری" کر دیا تھا اس نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے سامنے دیکھا 

" تو کورٹ سے نکلتے ہی ہمیں یہاں بلا لیا پارٹی بھی نہیں کی تو نے ارقم"

اس کا ساتھی قیصر چٹکی لیتے ہوئے بولا 

ارقم نے سگریٹ سلگا لی 

" وہ پولیس والا۔۔۔۔ اشعر۔۔۔وہ پھر پیچھے پڑا ہے اس بار اگر اس نے کوئی گہری چال چلی تو؟"

اس کا دوسرا ساتھی نواز ملک بولا ارقم نے سگریٹ کی راکھ فلور پر گرائی پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا

" تو اس بار میں اس کی آواز نہیں اس کے سانسیں بھی روک دوں گا"

" مگر ثبوت؟ اس نے سب کچھ سبمٹ کیا تھا نیوز چینل تک گیا تھا وہ! پھر بھی تم نے خود کو بچا لیا کیسے؟" 

ابراہیم قیانی جو کرپٹ پولیٹیشن تھا حیران ہو کر پوچھ رہا تھا 

" سسٹم ایک گالی ہے جہاں ہر موڑ پر میری نگاہ بیٹھی ہے اس کے پاس ثبوت تھے میرے پاس سسٹم "

ان تینوں نے متاثر نگاہوں سے ارقم کو دیکھا 

قیصر شہباز لڑکیوں کو اغوا کرتا تھا نواز ملک ہتھیار اور ڈرگز کی سپلائی کرتا تھا جبکہ ابراہیم قیانی ایک پولیٹیشن تھا جو ثبوت چھپا رہا تھا 

" اب آگے کیا کرنا ہے؟"

 ابراہیم نے پوچھا ارقم کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ آئی 


" اپنے دشمن کو جڑ سے اکھاڑنا ہے"

فضا میں دھواں گہرا ہوتا جا رہا تھا مگر اس کی آنکھوں کی درندگی اس سے زیادہ گہری تھی


☆☆☆

اس کے جیپ ایک جھٹکے رکی تھی دروازہ کھلا اور اس کا قدم ساحل کی زمین پر پڑا اس نے گلاسز نکال کر آنکھوں پر لگائے 

سمندر کی تیز لہروں کا شور، ٹھنڈی ہوا اور دور آسمان پر اڑتے پرندوں کا غول اس نے گہری سانس بھری اور بونٹ پر چڑھ کے بیٹھ گیا


اس کے دماغ میں بہت شور تھا دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی بس اس ایک نام کی بازگزشت اس کے ذہن میں تھی 


ارقم،ارقم اور ارقم

ایک قاتل، اسمگلر اور ریپسٹ جس نے زندگی میں اتنے کانڈ کیے تھے مگر جیل کی شکل تک نہ دیکھی تھی

جسے اشعر نے دن رات ایک کر کے جان پر کھیل کر اس کے خلاف ثبوت جمع کیے اس کے سیاہ کرناموں کی لسٹ قانون کو دکھائی اسے جیل ہی نہیں بلکہ عدالت کے چکر بھی لگوائے 

مگر اتنی محنت کا کیا نتیجہ نکلا تھا وہ سفید کالر کے ساتھ جیل سے باہر تھا وہ بھی ایک ہفتے کے اندر اور اب آزاد گھوم رہا تھا، مزید شکار کرنے کے لیے!!!

اس نے گہری سانس بھری اس ک آنکھوں کے سامنے وہ لڑکا آ گیا جو بچوں کی طرح رو رہا تھا جس کی بہن کو ارقم نے اغوا کر کے قتل کر دیا تھا 

اس نے خود اس لڑکی کی لاش ایک جنگل سے ریسیو کی تھی اپنی ٹیم کے ساتھ وہ وہاں پہنچا تھا لڑکی کا پورا جسم خون میں لت پت تھا آنکھیں پوری کھلی ہوئیں 

پوسٹ ٹماٹرم سے معلوم ہوا اس کا ریپ ہوا ہے اور پھر بعد میں اس لڑکی کو چاکو سے چھلنی کر دیا گیا اور لاش اس سنسان جگہ میں پھینک دی گئی تھی

ایک لمحے کو اسے لگا تھا جیسے اس دنیا میں انسان نے صرف درندے رہتے ہیں 

اس نے گلاسز اتار کر سیدھ میں دیکھا وہاں بہت دور ایک بائیک پر لڑکا لیٹا ہوا تھا اور ایک لڑکی اس سے ذرا دور فضا میں بازو کھولے گھوم رہی تھی اس نے غور کیا وہاں ان تینوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا وہ نیچے اترا اچانک ہی کوئی اسے شدت سے یاد آنے لگا تھا 

اس نے فون نکالا اور گیلری اوپن کی پھر ایک تصویر کلک کی۔۔۔

وہ سحر تھی، اس کی سحر، 

سحر انایا، وہ مسکرا رہی تھی 

اشعر کی لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی موبائل واپس رکھتے ہوئے اس نے دوبارہ اس طرف دیکھا جہاں وہ لڑکا بائیک سے اتر کر اس لڑکی کے پاس گیا تھا مگر اس کے قریب جانے سے پہلے ہی وہ لڑکی بھاگی تھی اور وہ اسی کی طرف آ رہی تھی 

لڑکا اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا 

" وشال رکو، بچو جیسی حرکتیں کرنا بند کرو" 

اس کے پیچھے بھاگتا ہوا لڑکا چلایا تھا مگر وہ ہسنتی کھلکھلاتی اشعر کے سامنے سے گزر گئی تھی 

اشعر نے سر جھٹکا اور جیپ میں بیٹھ گیا بیک ویو مرر میں اس نے ان دونوں کو دیکھا تھا لڑکا اس سے بازوں میں اٹھائے اب واپس جا رہا تھا ساتھ ساتھ وہ کچھ بول بھی رہا تھا جب کہ وشال نامی لڑکی مسلسل ہنس رہی تھی اشعر کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی اور اس نے جیپ آگے بڑھا دی

☆☆☆

بوتیک میں اے سی کی گولنگ اور لوگوں کے چہل پہل نے الگ ہی ماحول بنا رکھا تھا سحر اپنا جوڑا اٹھانے آئی تھی 

اس کی امی بھی اس کے ساتھ تھیں جب وہ بوتیک سے باہر نکلی سامنے اونچی عمارتیں دکھائی دے رہی تھی شام ہو رہی تھی اشعر نے کہا تھا کہ وہ بس تھوڑی دیر میں پہنچ جائے گا وہ امی کو لیے ایک کیفے کی طرف بڑھ گئی

دور ایک بلڈنگ کی چھت پر کوئی موجود تھا اس کی نظریں کیفے کے گلاس ڈور پر جمی تھی جہاں سے وہ اندر داخل ہو رہی تھی اس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی جس پر لکھا تھا 


" ضروری نہیں کسی کو چھو کر پایا جائے کچھ چیزیں صرف ختم کرنے کے لیے بھی ہوتی ہیں" 

اس نے لائٹر جلایا اور تصویر کو جلانا شروع کر دیا تصویر دھیرے دھیرے راکھ میں بدلنے لگی تصویر کے پیچھے ایک نام لکھا تھا 

سحر انایا۔

اس شخص نے جلتی تصویر کو بلڈنگ سے پھینک دیا اور مسکراتے ہوئے پلٹ گیا

سحر کے موبائل پر میسج ٹون بجی اس نے اسکرین اوپن کی ایک میسج جگمگا رہا تھا 

" خوبصورت دن ہے نا!"

اس نے ناسمجھی سے دیکھا نمبر انجان تھا ابھی وہ کچھ سمجھتی گلاس ڈور دھکیل کر اشعر اندر داخل ہو رہا تھا 

اس نے میسج ڈیلیٹ کر کے نمبر بلاک کر دیا تھا اور مسکرا کر اسے دیکھا 

رات کو جب وہ تھک کر سونے کے لیے لیٹی تو پہلے سوچا کیوں نہ اشعر کو میسج کر دے، مسکراتے ہوئے جب اس نے پرس سے موبائل نکالا تو چونک گئی اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل نکالنے کے بجائے ایک گلاب نکالا تھا 

سوکھا گلاب۔۔۔

اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ یہ کب ڈالا تھا مگر اسے یاد نہیں آیا اس نے دوبارہ پرس میں جانکھا کر دیکھا اندر ایک چھوٹی سی پرچی تھی اس نے حیرت سے وہ پرچی کھولی 

" پہلی ملاقات کا تحفہ، اب ہم بہت جلد ملیں گے "

اس نے گہری سانس لی اور گھور کر سطر کو دیکھا اسے یاد آیا اس نے ایک مرتبہ اشعر کو ایک گلاب دیا تھا 

ضرور یہ اشعر کے کام ہوں گ

" اب ہم بہت جلد ملیں گے"

اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی 

ہاں شادی قریب تھی اور بہت جلد وہ اس کے پاس جانے والی تھی 

اس نے موبائل اٹھایا اور بیڈ پر لیٹ گئی

☆☆☆

وشال زرین اپنے سلیک بلیک بیگ اور آنکھوں پر سن گلاسز لگائے یونیورسٹی کے مین کوریڈور سے گزر رہی تھی 

اس کا ہر قدم پر اعتماد تھا خوبصورت چہرہ ہلکے سے میک اپ میں اور زیادہ دلکش لگ رہا تھا آج جونیئرز کا پہلا دن تھا اس وجہ سے کراؤڈ زیادہ تھا 

وہ جہاں سے بھی گزرتی ہر آنکھ کا منظر بنتی 

" میم اگر بیوٹی کا ایوارڈ ملتا تو ڈیلی آپ کو ملتا۔ ایک کافی ہو جائے!"

ایک جونیئر چوئینگم چباتا عجیب و غریب کپڑوں میں اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا 

وشال نے غور سے اس کو دیکھا پھر مسکراتے ہوئے اس کے قریب آئی 

" نام کیا ہے تمہارا؟"

" ریحان۔۔۔ ریحان عبید!"

اس نے سینہ پھلا کر کہا 

" نام کافی محفوظ ہے شکل دیکھی تو معلوم ہوا زیادہ دن نہیں رہے گا "

اس کا لہجہ ٹھنڈا تھا مگر مسکراہٹ ابھی تک برقرار تھی پھر وہ ہلکا سا اس کے پاس جھک

" تمہیں معلوم ہے کہ تم نے کس کی چاکلیٹ پر لائن ماری ہے"

وہ لڑکا اس کے قریب آیا

" چاکلیٹ شیئر بھی کی جا سکتی ہے بے بی!"

 ابھی وہ اس کو چھونے کے لیے ہاتھ اٹھاتا 

چٹاخ۔۔۔۔

ایسا زور کا چانٹا اسے پڑا کہ اس کا دماغ سن ہو گیا 

" اگلی بار کسی لڑکی کو چھیڑنے سے پہلے اپنے ڈینٹسٹ کا نمبر یاد رکھ لینا تاکہ تھپڑ کے بعد دانت محفوظ رہ سکیں"

وہ ٹھنڈے مگر گرجنے والے انداز میں بولی تھی پھر گلاسز ٹھیک کرتی آگے بڑھ گئی 

وہ لڑکا گھومتے ہوئے سر کے ساتھ اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا تھپڑ اتنا زور کا پڑا تھا کہ اسے ابھی تک چکر آ رہے تھے ایک اور لڑکا یہ سین دیکھنے کے بعد بھاگ کر آریان کے پاس پہنچا تھا 


وہ اپنے بائیک گروپ کے ساتھ بیٹھا تھا ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں کی چین گھوم رہی تھی اور گلے میں ایک چین جس پر " WZ " لکھا تھا 


" آریا۔۔۔۔ آریا۔۔۔۔ن"

وہ لڑکا ہانپتے ہوئے بولا

" ابے سالے کون آرے ہا"

 آریان کے ساتھ بیٹھا لڑکا بیزاری سے بولا اس لڑکے نے سانس درست کی پھر آریان کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا 

" آریان وہ وشال!!"

آریان کا ہونٹوں کی طرف بڑھتا سگریٹ والا ہاتھ رکا 

" کیا وشال؟"

اس نے اس لڑکے کو گریبان سے جھپٹ لیا وہ ڈر گیا پھر ہکلا کر بولا 

" وشال کا سین ہو گیا ایک جونیئر نے اسے چھیڑا اور وشال نے اس کی سب کے سامنے واٹ لگا دی "

" کیا؟"

آریان نے شاکڈ ہو کر اس کو دیکھا 

" ہاں اور اس نے فلرٹ بھی کیا"

وہ تیزی سے بولا آریان نے اس کا گریبان چھوڑ دیا

" اب کیا کرے گا؟"

اس کا ایک دوست بولا 

" نام کیا ہے اس کا؟"

آریان نے سرد لہجے میں پوچھا 

لڑکے نے نام بتایا آریان تیزی سے اسٹوڈیو کی طرف بڑھ گیا وہ جانتا تھا کہ اس وقت وشال پریکٹس کر رہی ہوگی 

کچھ دنوں بعد یونیورسٹی میں ایک کنسرٹ ہونے والا تھا 

وہ تیز قدموں سے اسٹوڈیو کے دروازے کے سامنے رکا پھر ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھول دیا وشال کانوں پر ہیڈ فون لگائے گٹار تھامے مائک سیٹ کر رہی تھی 

اس کے ساتھ تین لوگ اور تھے دو لڑکے ایک لڑکی آریان کو دیکھ کر وہیں رک گئے وشال کا چہرہ دوسری طرف تھا آریان نے ان تینوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا وہ خاموشی سے کھسک گئے وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا 

وشال نے مخصوص خوشبو محسوس کی اور پلٹ کر دیکھا وہ اس کے بالک پاس کھڑا تھا 

" کیا ہوا ؟"

وشال نے مسکراتے ہوئے ہیڈ فون گردن پر گرائے 

" تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا تھا؟"

 آریان نے غور سے اس کو دیکھا 

" او اچھا وہ!! ارے کچھ نہیں بس ایک جونیئر تھا فلیٹ کرنے کی کوشش کر۔۔۔"

آریان نے جھٹکے سے اسے بازوں سے پکڑ لیا وہ چپ ہو گئی 

آریان کی گرفت مضبوط تھی لیکن سخت نہیں 

" تم جیلس ہو رہے ہو؟"

 وشال نے کچھ پل اسے دیکھا پھر مسکراہٹ دبا کر پوچھا 

" جیلس نہیں۔۔۔ وارننگ دوں گا۔۔۔ جو چیز میری ہے اس پر کسی اور کی نظر برداشت نہیں کروں گا "

آریان نے اسے دھیرے سے چھوڑا اس کا ہاتھ وشال کے بالوں کی طرف گیا 

اس نے آہستہ سے اس کے بال چہرے سے ہٹائے وشال سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی 

" مجھے خود کو بچانا ہی نہیں ہینڈل کرنا بھی آتا ہے تم بس یہ یاد رکھنا مجھے کنٹرول کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے"

آریان تھوڑا سا اس کی طرف جھکا اس کی آواز وشال کے کان کے بالکل قریب گونجی تھی 

" کنٹرول نہیں کر رہا۔۔۔ جتا رہا ہوں زرین! کہ تم صرف اور صرف آریان مراد کی ہو اور یہ بات ہر سانس میں محسوس کروانی ہے مجھے "

پھر اس نے وشال کی آنکھوں میں دیکھا 

" اب سمجھی کہ کس طرح کا ایٹیٹیوڈ پسند ہے مجھے"

وہ سیدھا ہوا لیکن دور نہیں 

" تم کس چیز کو پسند کرتے ہو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔"

اس نے ہلکی سی تھپکی آریان کے سینے پر ماری 

" پر ہاں اگر سین کرنا ہے تو فل ڈرامہ ہونا چاہیے ورنہ تم بھی جانتے ہو مجھے بور لوگ سوٹ نہیں کرتے"

وشال کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی آریان دوبارہ جھکا۔۔۔اتنا کہ فاصلہ تھوڑا سا رہ گیا 

" پھر دیکھ لو ڈرامے میں تو ایکسپرٹ ہو مگر اصل سین تو صرف میرے ساتھ جمتا ہے "

اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی

" کانفیڈنس یا اوور کانفیڈنس؟"

وشال نے نظر نہیں جھکائی تھی 

" جو بھی ہو تم پر ڈینجرس سوٹ کرتا ہے "

دونوں کے بال ایک دوسرے کو چھو رہے تھے ایک لمحہ خاموشی چھائی رہی 

اسٹوڈیو کی مدھم پرپل روشنی دونوں کے چہروں پر پڑ رہی تھی آریان بنا کچھ اور کہے پلٹ گیا 

اسٹوڈیو کے باہر ٹرانسپیرنٹ گلاس مرر سے کچھ اسٹوڈنٹس اندر جھانک رہے تھے 

" یہ دونوں real

 ہیں یا reel۔۔Damnn "

ایک نے چلا کر کہا 

" I ship them۔۔۔AryShaal forever!"

دوسری کے گال سرخ ہو رہے تھے 

اندر وشال نے مائک اٹھایا اس کے لبوں پر ایک پلے فل مسکراہٹ تھی اس نے مائک کے سامنے دیکھا اور ایک سیکنڈ رکی 

" light, camera and fire Darling"  

جاری ہے

Comments

Popular Posts