Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

The Last Diamond - 8 And Last Episode - by Munaza Niaz - Urdu thrilling romantic and Action base story

 


The Last Diamond 💎💫

By Munaza Niaz ✍🏻🖤

Episode 8 & Last episode 


جیسے ہی جوہن نے اس ڈرائیو کو لیپ ٹاپ میں لگایا اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک راز کھلتا گیا،


پہلا فولڈر کھولا 

 "Operation Shadows"


 اور بس... ایک جھٹکے میں سب کچھ بدل گیا


ویڈیوز، آڈیوز، تصویریں… ایک کے بعد ایک ثبوت بتا رہے تھے کہ جس گینگ نے لارا کے والد کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا تھا وہ کوئی اور نہیں، بلکہ جیمز کے حکم پر حرکت میں آیا تھا وہی جیمز جسے وہ صرف ایک عام آدمی سمجھتے تھے وہی سب سے زیادہ خطرناک نکلا تھا


جیمز نے ایک گینگ کو صرف ہتھیایا نہیں تھا، بلکہ اصل لیڈر والن کو زہر دے کر مارا… اور پھر پوری تنظیم کو ایک ایسی بھیانک شکل دے دی جو صرف پیسے اور طاقت کے لیے انسانیت کو نوچنے لگی


اسکرین پر آنے والی تصویروں میں وہ بچوں کی ٹریفکنگ، آرگن اسمگلنگ, ڈرگز, اور ویپن سودے کرتا دکھائی دے رہا تھا جوہن کے ہاتھ لرز گئے


"یہ سب کیا تھا؟ ہم تو صرف ایک ہیرا چرانے نکلے تھے… مگر یہ تو انسانیت کی لاش پر کھڑا ایک شیطان نکلا!"


پھر وہ فولڈر کھلا جس نے جوہن کو توڑ کر رکھ دیا 

 "Classified: Kill Orders"

پہلا نام تھا


 "Victor Reed – Terminated"


یعنی… لارا کے والد۔

اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، لیکن وہ ویڈیو جب سامنے آئی جس میں لارا کے والد کو گولی ماری جا رہی تھی۔۔۔اور یہ منظر تو اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے بھی دیکھا تھا جو اسے کبھی بھولتا ہی نہیں تھا اس کا سانس اٹکنے لگا


وہاں، سامنے کیمرا پر، جیمز کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا بے رحم، پرسکون، قاتل! 


"یہ سب... اسی نے کیا ہے…"

اور جب لارا نے وہ ٹیٹو اسکرین پر دیکھا، شیر کا کھلا جبڑا، دو تلواریں، اور لاطینی کوڈ کا دائرہ، اس کے اندر کی دہکتی ہوئی راکھ نے پھر سے شعلہ پکڑ لیا


"یہ وہی لوگ ہیں، جو میرے ڈیڈ کے قاتل ہیں…"

جوہن نے چپ چاپ لارا کی طرف دیکھا  وہ لارا جو اب صرف ایک زخمی لڑکی نہیں، بلکہ انتقام کی آگ میں جھلستی  ہوئی لڑکی بن گئی تھی


لیکن جس چیز نے جوہن کو جھنجھوڑا تھا وہ یہ تھی کہ... جیمز صرف ایک مجرم نہیں تھا، وہ

 "ہیروں کا اسمگلر" بھی تھا

اس نے صرف ایک نہیں بلکہ کئی نایاب ہیروں کو چوری کروا کے بیچا تھا اور جو ہیرا جوہن اور لارا نے چوری کیا تھا... وہ بھی جیمز آگے بیچنے والا تھا، ڈبل پیسوں میں، اسے خریدار پہلے ہی مل جاتے تھے، ایڈوانس رقم بھی لے لیتا تھا، یہ ساری ڈیل جیمز کی پلاننگ کا حصہ ہوتی تھی


جوہن نے تھک کر کرسی سے ٹیک لگا لی  جبکہ لارا؟ وہ خونی نظروں سے اسکرین کو گھور رہی تھی، 


" میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی"

وہ غرائی

جوہن تیزی سے کھڑا ہوا اور اس کے پاس آیا

" تم ایسا کچھ نہیں کرو گی جس سے تمہیں کوئی نقصان پہنچے۔۔ایک منٹ!"


وہ پلٹا سائیڈ دراز کھولی کچھ کاغذات نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے لارا نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا 

" یہ کیا ہے؟"

جوہن نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی پھر دھیرے سے کہا


" پاسپورٹ اور ٹکٹ! آج رات کی فلائٹ سے تم یہ ملک چھوڑ کر جانے والی ہو"

جوہن نے گویا بم پھوڑا تھا


" واٹ؟"

وہ شاکڈ ہوئی


" تمہارے جانے کے بعد میں ان دونوں ہیرو کو بیچ دوں گا اور ملنے والی رقم   تمہاری طرف بھجوا دوں گا"


 لارا گنگ بنی کھڑی اس کی شکل دیکھ رہی تھی 


" میرا یقین کرو لارا میں سچ کہہ رہا ہوں رقم تمہاری طرف بھجوا دوں گا ٹرسٹ می! مجھے اب کسی اور کو نہیں کھونا میرا پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے ہیروں کو بیچ کر میں بھی یہ ملک چھوڑ دوں گا، تم فکر مت کرو میں تمہیں تمہارا حصہ دے دوں گا بلکہ اپنا سب کچھ دے دوں گا۔۔۔جان بھی، میں کہیں بھی نہیں بھاگوں گا میں۔۔۔"


" بھاگ ہی تو رہے ہو!  میرے ڈیڈ کے قاتلوں کو چھوڑ کر، اپنے بھائی کے قاتلوں کو چھوڑ کر، اور اس آخری ہیرے کو چھوڑ کر"


 اس کی بات کاٹ کر وہ تلخی سے ہنسی وہ بالکل چپ ہو گیا


" مجھے لگتا ہے تم ڈر گئے ہو! مگر میں نہیں ڈری، میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گی تم اگر جانا چاہتے ہو تو چلے جو میں تمہیں رکنے پر مجبور نہیں کروں گی"  


جوہن نے جھٹکے سے اس کے دونوں بازو پکڑ لیے

" تمہیں لگتا ہے میں ڈر گیا ہوں؟ ہاں سہی کہا میں ڈر گیا ہوں! موت سے نہیں تمہیں کھونے سے۔۔۔میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا لارا! تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی۔۔۔میں تمہیں ایک محفوظ جگہ بھیجنا چاہتا ہوں، یہاں سے دور۔۔۔پلیز میری بات مانو"


لارا کی آنکھوں میں نمی آئی مگر پھر اس نے اپنے دونوں بازو چھڑوا لیے


" میں اس کھیل کو اختتام تک پہنچا کر رہوں گی چاہے میری جان۔۔۔"


جوہن نے ایک دم سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا وہ چپ ہو گئی

" ٹھیک ہے! اگر تم ایسا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ ہوں "


وہ جان گیا تھا کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹنے والی،  وہ اسے جانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا تھا

اس نے دھیرے سے ہتھیلی اس کے لبوں سے ہٹا دی


" میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گا "

☆☆☆

"جیمز ابھی مونٹاک پوائنٹ کے قریب سمندر میں ہے، ایک شپ پر"  


جوہن نے جلدی سے نقشے پر نشان لگایا

"ہمیں وہاں پہنچنے میں کم از کم چالیس منٹ لگیں گے، آج جیمز اور جوبائیڈن کی ملاقات ہے، آج جیمز جوبائیڈن سے وہ آخری ہیرا خریدنے والا ہے کیا تم تیار ہو؟"


لارا نے سر ہلا دیا مگر بولی کچھ نہیں


" گڈ "

جوہن نے کہہ کر نقشہ رول کیا اور الماری کی طرف مڑ گیا اگلے ہی پل دروازہ بجا وہ دونوں ایک دم چونکے 


" تم وہیں رکو میں دیکھتا ہوں"

 نقشہ رکھ کر اس نے پینٹ میں اڑسی گن پر ہاتھ رکھا اور دبے قدم اٹھاتا دروازے کے قریب پہنچا 


" کون ہے؟"

 اس نے دھیرے سے پوچھا 


" سر آپ کا پارسل ہے"

 باہر سے کوئی بولا تھا اس نے ہلکا سا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک آدمی نے پوری قوت سے دروازے کو لات ماری جوہن کے لیے یہ سب اچانک ہوا تھا وہ گرتا ہوا پیچھے ہوا، جبکہ وہ آدمی تیزی سے آگے بڑھا اور لارا کی جانب مڑا لارا نے بروقت چاکو نکالا اور اس کی طرف پھینک دیا وہ فورا سائیڈ پر ہوا، چاقو اسے چھوئے بنا ہی دیوار میں لگ گیا، اس شخص کے چہرے پر ماسک تھا لارا نے چونک کر اس کو دیکھا تھا


 وہ وہی شخص تھا جس نے اس رات لارا پر قاتلانہ حملہ کیا تھا 


آج بھی اس کا چہرہ نقاب کے پیچھے چھپا ہوا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھا، لارا کو بالوں سے پکڑا اور اس کا سر دیوار میں مارا وہ ایک جھٹکے سے نیچے گری مگر جیسے ہی وہ پلٹا جوہن اس پر پل پڑا اور لاتو گھونسوں کی بارش کر دی وہ شخص پیٹ پر ہاتھ رکھے دہرا ہو کر نیچے جھکا تیزی سے اسے اٹھا کر جوہن نے اس کے دونوں بازو اپنے بازووں میں پھنسا کر پیٹھ پر رکھے تبھی لارا سنبھل کر اس کے بالکل سامنے آئی اور ایک جھٹکے سے اس کا ماسک اتار دیا


 وہ شخص ہے ڈیوڈ تھا،

 جیمز کا خاص آدمی 


لارا کی آنکھوں میں خون اتر آیا، اس نے پوری قوت سے گھٹنا اس کی ناک پر مارا ڈیوڈ کی آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی لارا نے اگلے 2 منٹ میں اسے بری طرح پیٹ ڈالا تھا وہ بمشکل سانس لینے لگا تھا


 جوہن اس کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا دونوں بازو چھوڑ کر اس نے ڈیوڈ کی تھوڑی اور سر پکڑ کر ایک زوردار جھٹکا دیا 


" کڑک" کی آواز کے ساتھ ہی اس کی گردن ٹوٹ گئی اگلے ہی لمحے وہ بے جان سا زمین پر اوندھے منہ گرا لارا نے نفرت سے اس کی کلائی پر بنے ٹیٹو کو دیکھا دو منٹ بعد وہ دونوں ڈیوڈ کی لاش کو ایک سوٹ کیس میں ڈالے باہر لے جا رہے تھے انہوں نے اس سوٹ کیس کو ڈگی میں ڈال دیا پانچ منٹ بعد انہوں نے وہ سوٹ کیس باہر نکالا تھوڑے فاصلے پر ایک الاؤ دہک رہا تھا انہوں نے وہ سوٹ کیس اس آگ میں ڈال دیا


 وہ ایک فیکٹری کے بیک ایریا میں تھے جہاں فیکٹری سے نکلنے والا کچرا جلایا جا رہا تھا اتفاق سے وہاں پر کوئی بھی موجود نہیں تھا یا ان دونوں کی قسمت اچھی تھی کہ وہ دونوں کسی کی بھی نظروں میں آنے سے بچ گئے تھے

☆☆☆

ان کی بورڈ اس دیو کامت شپ کے ساتھ آن رکی شپ کے چاروں طرف چھوٹی بڑی مضبوط رسیاں لٹک رہی تھیں جن کے ساتھ سوئمنگ ٹیوب بندھے ہوئے تھے شپ کے بالکل قریب قریب چھوٹی موٹر بوٹس بھی موجود تھیں جو پانی میں جھول رہی تھیں


جوہن نے خاموشی سے بیلٹ سے آلہ نکالا، رسی کے سرے پر لگا لوہے کا ہُک مضبوطی سے تھاما،  

"تیار رہو..."

 وہ دھیرے سے بولا


ایک لمحے بعد، اُس نے ہُک فضا میں پھینکا دھات کی چمکدار آواز کے ساتھ وہ جہاز کے کنارے پر جا چمٹا


"چلو!"

 وہ سرگوشی میں بولا، اور دونوں رسی کے سہارے آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگے،  


وہ دونوں رسی سے اوپر چڑھتے ہی فوراً قریبی کنٹینرز کی اوٹ میں چھپ گئے



ان کی نظر سامنے تھی جہاں جیمز، سٹیفن اور وہ تیسرا آدمی موجود تھا جس کے پاس وہ آخری ہیرا تھا 


" اچھی بات ہے کہ تم ہیرا مجھے بیچنے کے لیے تیار ہو گئے میں اب اس آخری ہیرے کی مدد سے ان کو پکڑ لوں گا اور پھر باقی دونوں چوری شدہ ہیرے بھی حاصل کر لوں گا"


 جیمز نے سامنے کھڑے جوبائیڈن سے کہا اس کا ہیلی کاپٹر اس سے چند قدم کی دوری پر کھڑا تھا


" بالکل! میں بھی یہی چاہتا ہوں اس لیے تو میں یہاں آیا ہوں، کیا تم رقم لائے ہو؟"


 جوبائیڈن نے جیمز سے پوچھا 


" میں ادھورے کام نہیں کرتا"

 مسکرا کر اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا وہ آدمی سر ہلاتا بائیں طرف رکھے درمیانی سائز کے دو سوٹ کیس اٹھاتا جو بائیڈن کی طرف بڑھا جوبائیڈن نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا اس کا آدمی آگے بڑھا اور وہ دونوں سوٹ کیس لے لیے فرش پر رکھ کر دونوں سوٹ کیس کھولے جو ڈالرز سے بھرے ہوئے تھے جیمز گلاسز لگائے یہ ساری کاروائی دیکھتا رہا 


جوبائیڈن نے مطمئین ہو کر جیمز سے مسکرا کر ہاتھ ملایا جبکہ اسٹیفن لاپروا سا کرسی پر بیٹھا انہیں دیکھ رہا تھا اس کا ہاتھ بار بار اپنے کوٹ کی جیب تک جاتا پھر واپس آ جاتا


 جوبائیڈن اپنے ساتھیوں سمیت ہیلی کاپٹر میں بیٹھا اگلے ہی پل ہیلی کاپٹر کے پر پھڑپھڑائے اور وہ ہوا میں جھولنے لگا آہستہ سے اوپر ہوتا وہ دائیں طرف مڑا اور اوپر تک جا پہنچا


 ٹھیک دو منٹ بعد جیمز نے جب ہلی کاپٹر کو دور بہت دور دیکھا تو مسکرا کر اسٹیفن کو اشارہ کیا اسٹیفن جو پہلے ہی سے ایک ریموٹ نکال کر بیٹھا انتظار کر رہا تھا اس کے اشارہ کرتے ہی فورا بٹن دبا دیا 


دور جاتے ہیلی کاپٹر میں ایک زوردار دھماکہ ہوا دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پرخچے اڑ گئے دھماکا اتنا زوردار تھا کہ جیمز کے علاوہ سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں


 جیمز کافی لطف اندوز ہو رہا تھا اس منظر کو دیکھ کر پھر وہ مسکرایا اور اسٹیفن کے سامنے والی کرسی پر جا بیٹھا ان کے درمیان چھوٹی سی گول میز رکھی تھی جس پر شراب کی بوتلیں رکھی تھی 


" جتنا میں اسے مشکل سمجھ رہا تھا وہ اتنا ہی آسان نکلا ہے! جیمز یار تو، تو گریٹ ہے"


 اسٹیفن مشروب کا گھونٹ بھرتے چہکا جبکہ جیمز اس کی بات پر ہلکا سا مسکرایا


" کچھ بھی آسان نہیں ہوتا سٹیفن!  لیکن ہم اگر پلان کر کے کچھ بھی کریں تو مشکل بھی مشکل نہیں رہتی"


 اس نے مشروب کا گلاس لبوں سے لگایا


" لیکن ابھی تک وہ دونوں نہیں ملے مجھے بس یہی بات پریشان کر رہی ہے! کہیں وہ ملک سے فرار تو نہیں ہو گئے؟"


اسٹیفن نے مضطرب انداز میں پوچھا


" وہ اس کے لیے ضرور آئیں گے ان کا مقصد ان تینوں کو ہی حاصل کرنا تھا بس اب ہمیں اس کو ان کے سامنے پھینکنے کی دیر اور پھر وہ خود ہی ہمارے جال میں پھنس جائیں گے"


 اس نے وہ آخری ہیرا اٹھایا جو سامنے میز پر ایک باکس میں رکھا تھا سٹیفن مطمئین ہو گیا


" تم کچھ اور دیکھنا پسند کرو گے؟"

 جیمز نے اسٹیفن سے پوچھا


" کہیں تم جوبائیڈن کی طرح مجھے بھی تو نہیں اڑا دو گے "


جیمز نے ایک زوردار قہقہہ لگایا 


" اگر تمہیں اڑانا ہوتا تو اس سے بھی پہلے اڑا چکا ہوتا چلو میں تمہیں تمہاری من پسند چیزیں دکھاتا ہوں"


 دونوں اٹھے اور شپ کے اندر جانے والے دروازے کی طرف بڑھ گئے ان کے اندر جاتے ہی جوہن نے لارا کو دیکھا جو سانس رو کے ان کی باتیں سن رہی تھی


" یہ ہم نے کیا کر دیا جوہن! ہمیں یہاں پر نہیں آنا چاہیے تھا تم بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے ہمیں یہ ملک چھوڑ کر چلے جانا چاہیے تھا"


 اس نے کپکپاتے لہجے میں کہا


" اب واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب اگر ہم یہاں پر آ ہی گئے ہیں تو اس آخری ہیرے کو لے کر جائیں گے۔۔۔۔  اور جیمز کو اس کے انجام تک پہنچا کر جائیں گے"


 اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ مضبوط لہجے میں بولا اگلے ہی لمحے اس نے پینٹ کے ساتھ لگا ایک بم نکالا پن نکال کر اس نے سامنے کھڑے جیمز کے آدمیوں کی طرف پھینک دیا ایک زور دار دھماکہ ہوا آدھے تو وہی گر کر مر گئے جب کہ ان سے فاصلے پر کھڑے مخالف سمت اچھل کر گرے 


" یہ کس نے کیا؟"

 کوئی چلایا جوہن نے اپنی گن نکالی اور تابڑ توڑ ان پر گولیاں برسانی شروع کر دی جیمز کے آدمی تڑپتے ہوئے وہیں گرتے گئے یہ حملہ ان کے لیے بالکل اچانک ہوا تھا شپ پر ایک کہرام سا مچ گیا تھا آگ الگ بھڑک رہی تھی 


" آگ بجھاؤ جلدی"

 کوئی شخص چلا کر بولا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی جوہن تیزی سے بچتا لارا کے قریب پہنچا اور اسے اشارہ کیا لارا سمجھ کر تیزی سے اٹھی اور ایک لمبی نال والی بندوق اٹھائے کئی فائر کر ڈالے جوہن تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا 


" یہ کیسی آوازیں ہیں؟"

 جیمز جو سٹیفن کو ہتھیار دکھانے میں مصروف تھا چونکا، ان دونوں نے اپنی گن نکالی اور بھاگ کر سیڑھیوں کے دہانے پر پہنچے جیسے ہی وہ وہاں پہنچے کسی نے گولی چلا دی گولی آگے آتے اسٹیفن کے کندھے پر لگی وہ کراہتا ہوا پیچھے گرا مگر چیمز نے پھرتی سے سائیڈ پر ہوتے جوہن پر گولی چلا دی گولی جوہن کے ہاتھ پر لگی تھی گن چھوٹ کر نیچے گری جیمز نے اپنے گن واپس پینٹ میں اڑسی


 وہ فلحال جوہن کو زندہ رکھنا چاہتا تھا کچھ حساب کتاب جو رہتے تھے آگے بڑھ کر اس نے جون کو زور سے سیڑھیوں کی ریلنگ میں دے مارا دوبارہ اسے اٹھایا اور پوری قوت سے اس کے منہ پر مارا جوہن نیچے گرا جیمز نے اسے کالر سے پکڑ کر دوبارہ کھڑا کیا جوہن کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا


" تجھے کیا لگا تھا میں تجھے اتنی آسانی سے چھوڑ دوں گا نہیں بالکل بھی نہیں"


جوہن نے اسے نفرت سے دیکھا اور اگلے لمحے جوہن کا مکا جیمز کے جبڑے پر پڑا تھا اس نے جیمز کے سنبلھے بغیر ہی حملہ کر دیا جیمز بے حال سا تیز تیز سانس لیتا ہانپنے لگا 


کالر سے پکڑ کر جوہن نے جیمز کو اوپر کی طرف گھسیٹنا شروع کر دیا باہر اس کے آدمیوں کی لاشوں کا انبار لگا ہوا تھا دھکا دے کر اس نے جیمز کو اس ڈھیر کی طرف پھینک دیا 


ہیرے کا ڈبہ کونے میں گرا پڑا تھا کسی نے بھی اس طرف دھیان نہیں دیا جیمز نے پینٹ پر ہاتھ مارا مگر اس کی گن تو اندر ہی کہیں گر چکی تھی


 اس کا چہرہ پل بھر کو تاریک ہوا پھر اس کی نظر لارا پر پڑی جو خونی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اور تب ہی گولی چلنے کی آواز آئی جوہن جو جیمز کی طرف بڑھا تھا رک گیا اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا پیچھے سٹیفن گن پکڑے کھڑا تھا 


" جوہن!"

لارا چلائی اگلے ہی پل اس نے اسٹیفن پر فائر کر دیا سٹیفن تڑپتا ہوا وہیں ساکت ہو کر گر پڑا جب کہ جوہن گھٹنوں کے بل گرا تھا جیمز تیزی سے اٹھ کر لارا کی طرف بڑھا مگر جوہن نے اپنا چاکو نکالا اور اس کی طرف پھینک دیا لمبے پھل والا چاکو جیمز کے پیٹ میں لگا وہ وہیں رک گیا 


" لارا بھاگو!"

جوہن چلایا جبکہ لارا تیزی سے اس کے قریب آئی


" تم بھی چلو میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی"

لارا نے اسے اٹھانا چاہا مگر۔۔۔


" میں نے کہا کہ تم جاؤ! جلدی"

 اس نے جیمز کو دیکھا جو کراہتا ہوا دوبارہ کھڑا ہو رہا تھا اس نے پیٹ سے چاکو نکال کر دور پھینک دیا تھا جوہن نے اسے دیکھتے پینٹ میں لگا دوسرا اور آخری بم نکالا


لارا پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایسے دیکھے گی 


" اگر تم نہ گئی تو میں خود کو شوٹ کر دوں گا "

اس نے ساتھ پڑی گن تیزی سے اٹھائی


" جسٹ گو"

وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ وہ فورا پیچھے ہوئی پھر الٹے قدم واپس کی طرف بھاگی جوہن کی سانسیں مدھم پڑنے لگی تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ گولی اسے کہاں لگی ہے مگر اتنا اسے ضرور معلوم تھا کہ موت کی تکلیف کیسی ہوتی ہے


 سامنے جیمز کے پیچھے لگی آگ تیزی سے بھڑک رہی تھی جیمز لڑکھڑاتا ہوا جوہن کی طرح بڑھا مگر جوہن نے بم کی پین نکالی اور اسے جیمز کی طرف پھینک دیا 


تیزی سے دور ہوتی لارا کی بورڈ رکی اس نے بند ہوتی سانسوں کے ساتھ مڑ کر دیکھا اس شپ پر ایک دھماکہ ہوا تھا وہاں آگ کے شعلے بھڑکے اسے لگا وہ آگ آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف بلا رہی ہے اس نے سانس لینا چاہا مگر اس کا دم تو اس آگ کے دھوئیں میں ہی گھٹ رہا تھا جو دور تھی، بہت دور

☆☆☆

دروازہ آہستہ سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی اس کے ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے اس نے دروازہ بند کیا اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی 


شاور کے نیچے کھڑے ہو کر اس نے شاور چلا دیا پانی کی تیز بوچھاڑ اس کے سر پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگی اس نے ساکت پلکیں جھپکائیں 


 ایک بار دو بار اور پھر تیسری بار،


 مگر وہ منظر اس کی آنکھوں سے ہٹ ہی نہیں رہا تھا وہ منظر تو اس کی آنکھوں میں قید ہو گیا تھا 


اس نے چوتھی بار پلکیں جھپکائیں تو کئی آنسو اس پانی میں گم ہوئے جو اس کے چہرے پر گر رہا تھا 


 اس نے دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھے شاور بند کر کے جیسے ہی وہ باہر نکلی اس کا کتا اس کے پیروں میں لپٹنے لگا مگر وہ تو اسے دیکھ ہی نہیں رہی تھی بیڈ کے قریب وہ دھیرے سے نیچے بیٹھتی چلی گئی اور پھر 


پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

 یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا اس کی وجہ سے جوہن نے اپنی زندگی گنوا دی تھی وہ اس آخری ہیرے کو اور اپنے دشمن کو انجام تک پہنچانے گئی تھی مگر اپنی حفاظت کرنے والے ہیرے سے بھی زیادہ انمول شخص کو کھو کر آ گئی تھی 


وہ جو اسے سب سے زیادہ عزیز ہو گیا تھا 

وہ کھیل ہار گئی تھی 

 کاش کہ وہ جوہن کے بات مان لیتی کاش وہ رک جاتی


 روتے ہوئے وہ غصے میں اٹھ کھڑی ہوئی اس نے ایک جھٹکے سے الماری کھولی اور دونوں ہیرے باہر نکال لیے ایک لمحہ انہیں گھورنے کے بعد انہیں کھینچ کر دیوار میں دے مارا وہ بنا ٹوٹے ہی فرش پر دور تک گر گئے اور وہ الماری سے ٹیک لگائے روتی گئی

☆☆☆

اپنی آخری شرٹ اس نے بیگ میں ڈالی اور زوں کی آواز کے ساتھ بیگ کی زپ بند کر دی اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور چہرہ مرجھایا ہوا تھا 


پچھلے تین دن سے اسے تیز بخار تھا بخار ہلکا ہوتے ہی اس نے تیاری شروع کر دی 


وہ ملک چھوڑ کر جا رہی تھی

 اس نے جوڈی کو ساتھ لیا اور ایک نظر اپنے فلیٹ کو دیکھنے کے بعد باہر نکل گئی ٹیکسی سے جانے کے بجائے وہ پیدل چلنے لگی 


سنہری بال آج پونی ٹیل کے بجائے کھلے ہوئے تھے نیلی جینز پر سفید ٹی شرٹ اور اس کے اوپر نیلی جینز کے جیسی جیکٹ پہن رکھی تھی گلے میں وہی پرانا لاکٹ جھول رہا تھا


 جب وہ چل چل کر تھک چکی تو اس نے ٹیکسی روکی کچھ دیر بعد وہ ایئرپورٹ کے بجائے ایک فلیٹ کے سامنے کھڑی تھی آخری بار جانے سے پہلے وہ جوہن کے فلیٹ کو دیکھنے آئی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولنا چاہا مگر وہ لاک تھا وہ رک گئی سنہری آنکھوں میں نمی سی چمکی اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور بیگ سے ایک پن نکالی جیسے ہی اس نے لاک میں گھسایا اسے جوہن کی یاد آئی اسے لگا ابھی جوہن آئے گا اور اسے دھکا دے کر گن سے لاک توڑ دے گا 


وہ رک گئی اور کافی دیر تک رکی رہی لیکن وہ نہیں آیا اور وہ کیسے آتا؟


ون، ٹو، تھری۔۔۔۔فور، کلک کے ساتھ ہی دروازہ کھلا اور وہ دروازے کو دھکیلتی اندر داخل ہو گئی اس کی نظر کچن کی طرف گئی 


وہاں جوہن اور لارا کھڑے تھے دونوں کے ہاتھ میں کافی کی مگ تھے اور وہ دونوں مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے اس نے بیڈ کی طرف دیکھا وہاں جوہن لیٹا ہوا تھا اور لارا اسے کندھے پر دوائی لگا رہی تھی اس نے فرش کی دیکھا وہاں وہ دونوں گرے پڑے بری طرح ہنس رہے تھے منظر دھندلا ہو گیا


 اس سے زیادہ دیکھنے کی سکت اس میں نہیں تھی آنکھیں صاف کرتی وہ فورا باہر نکل گئی اور دروازہ پھر سے بند ہو گیا کبھی نہ کھلنے کے لیے 


وہ بھاگتے ہوئے اس بلڈنگ سے باہر نکلی تھی سوٹ کیس سڑک پر دھکیلتے وہ سیدھ میں چلتی گئی اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا تبھی اس کا کتا بھونکنے لگا وہ نہیں رکی آنسو تھے کہ رک نہیں رہے تھے، کیوں؟ کیا وہ صرف جوہن کے مرنے پر اتنے دنوں سے رو رہی تھی نہیں یقینا نہیں 


تبھی جوڈی اس کے سامنے آیا اسے رکنا پڑا 

" کیا ہے جوڈی؟ کیوں مجھے روک رہے ہو؟ پلیز مت روکو مجھے میں یہاں نہیں رک سکتی مجھے جانا ہے یہاں سے، دور بہت دور، اتنا دور کے جوہن کی یاد تک نہ آئے مجھے"


وہ روتے ہوئے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی صبح کی سنہری روشنی اس کے بالوں کو چمکا رہی تھی تیز تیز چلتے لوگ بنا رکے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے کوئی بھی اس روتی ہوئی لڑکی کا دکھ نہیں جان سکتا تھا جبکہ اس کے سامنے کھڑا جوڈی اچھلتے ہوئے مسلسل بھونکے جا رہا تھا اب کہ لارا کو غصہ آ گیا اس نے فلیٹ مس نہیں کرنی تھی اس لیے تیزی سے کھڑی ہوئی اور جیسے ہی وہ جانے کے لیے مڑی وہی ٹھہر گئی


 وقت رک گیا، ہوا تھم گئی اس کا سانس تک رک گیا آنکھوں میں بے یقینی سی تھی


 اس نے دھیرے سے پلکیں جبکھائیں مگر منظر وہی تھا بدلا نہ تھا


" جوہن!"

 اس کے لب ہلے مگر آواز نہیں نکلی جب کہ اس سے فاصلے پر کھڑے جوہن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس نے اسے ہی پکارا ہے صرف اس کا نام لیا ہے آہستہ سے چلتا ہوا وہ اس کے سامنے آ رکا

☆☆☆

بم جیمز کی طرف پھینکتے ہی وہ تیزی سے اٹھ کر بائیں سمت بھاگا بیگ اٹھاتے ہی اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی لیکن دھماکے سے ہی وہ اڑتا ہوا دور پانی میں جا گرا پانی میں گرنے کے بعد بھی اس نے بیک کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا اس کے دوسرے ہاتھ میں وہ ڈائمنڈ کا بکس تھا اس نے وہ باکس بیگ میں ڈالا اور بیگ کی زپ بند کر دی اس نے دیکھا شپ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہی ہے


 اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائی دور دور تک ایسا منظر تھا جیسے کسی نہیں پانی میں جنگ لڑی ہو اور تبھی اس نے شپ کے دوسری طرف ان بورڈز کو دیکھا جو پانی میں ہچکولے کھا رہی تھی وہ ان کی طرف تیرنے لگا بورڈ کے قریب پہنچ کر وہ اس پر چڑھا اور اسے چلا دی اس کی پیٹھ سے خون نکل رہا تھا اس نے اپنی شرٹ اتار کر پیٹ کے گرد کس کے باندھ دی اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا جب وہ کنارے پر پہنچا تو آگے بڑھنے کے بجائے وہی کنارے پر گر گیا وہاں آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا دور ایک کار کھڑی تھی جس کے پاس دو لڑکیاں کھڑی ایک دوسرے سے گفتگو میں مصروف تھیں ان دونوں نے جوہن کو دیکھ لیا تھا ان دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ کہا اور جوہن کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر اس کی طرف بڑھیں


 قریب پہنچ کر انہوں نے دیکھا وہ بے ہوش تھا انہوں نے اسے اٹھایا مگر ووہ ہل بھی نہیں رہا تھا وہ زخمی تھا 


" ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے ورنہ یہ مر جائے گا دیکھو اسے گولی لگی ہے!"


 ایک لڑکی گھبرا گئی تھی 


" مگر اگر ہم کسی مصیبت میں پھنس گئے تو؟"

" کچھ نہیں ہوتا یہ مر گیا تو ہم پھنس سکتے ہیں دیکھو ہمیں اس کی جان بچانی ہوگی"


 دوسری لڑکی نے سمجھ کر سر ہلایا اور گاڑی ان کے قریب لے آئی ان دونوں نے جوہن کو جیسے تیسے کر کے گاڑی میں ڈالا اور ہاسپٹل لے گئیں جوہن پچھلی سیٹ پر پڑا تھا جب کہ وہ دونوں آگے بیٹھی تھیں اس نے اپنے بیگ سے وہ ہیرا نکال کر گاڑی کی سیٹ میں دھنسا دیا اور آنکھیں بند کر لی ان دونوں نے اسے ہسپتال پہنچایا وہاں پر اس کا دو دن تک علاج ہوتا رہا وہ دونوں لڑکیاں تب تک اس کے ساتھ ہی تھی جب اس کی طبیعت سنبھلی تو اسے ڈسچارج کر دیا گیا اس نے ان دونوں لڑکیوں کا شکر ادا کیا اور ہاسپٹل سے باہر نکل ایا وہ دونوں لڑکیاں کافی خوش دکھائی دے رہی تھی انہوں نے پہلی مرتبہ کسی زخمی شخص کی اس طرح مدد کی تھی 


" کیا تم دونوں مجھے میرے فلیٹ تک پہنچا سکتی ہو"

 وہ دونوں کچھ زیادہ ہی خوش ہو گئی


" ہاں ہاں ضرور کیوں نہیں"

 وہ مسکرایا اور ان کی گاڑی میں جا بیٹھا وہ دونوں لڑکیاں خوشی خوشی اسے اس کے فلیٹ تک چھوڑ آئی تھیں جوہن نے دوبارہ ان دونوں کا شکریہ ادا کیا اور فلیٹ میں چلا گیا 


اس نے پولیس کیس نہیں بننے دیا تھا اس کے بیگ کی تلاشی لی گئی تھی فلیٹ میں بیٹھا وہ عجیب طریقے سے مسکرایا وہ ہیرا اس کے ہاتھ میں موجود تھا 


پولیس وہاں پر آئی تھی وہ پولیس کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لیے ان کو یہ جھوٹ بول کر مطمئن کر دیا کہ کچھ شرارتی لڑکوں سے اس کی لڑائی ہو گئی تھی اور انہوں نے اسے زخمی کر دیا تھا وہ جلد از جلد لارا کے پاس جانا چاہتا تھا وہ اس کے فلیٹ نہیں جا سکتا تھا مگر پتہ نہیں کیوں وہ نہیں جانا چاہ رہا تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر نہیں گیا تھا اسے لگا اگر وہ چلا گیا تو لارا یہ ملک چھوڑ کر چلی جائے گی اور وہ اسے جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا وہ اسے روکتا بھی تو کیا کہہ کر روکتا 


اپنے فلیٹ میں بیٹھا وہ مسلسل اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا اور تب ہی اس نے محسوس کیا کوئی اس کے فلیٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے اس نے آواز سنی 


ون۔۔ ٹو۔۔۔ تھری۔۔۔وہ پھرتی سے باتھ روم میں جا گھسا 


فور۔۔۔

اور پھر وہ دروازہ کھول کر اندر آئی تھی ہلکی سی درز سے وہ اسے دیکھ رہا تھا وہ رو رہی تھی ایک منٹ سے بھی پہلے وہ چلی گئی تھی وہ تیزی سے باہر نکل آیا 


" کیا وہ جا رہی ہے؟"

 اس نے اس کا سوٹ کس دیکھ لیا تھا اور تب اس نے فیصلہ کیا وہ اسے روکے گا اپنے لیے ہمیشہ کے لیے

☆☆☆

" جج۔۔۔جوہن تم۔۔۔ تم زندہ ہو؟"

 لارا نے بے یقینی سے اس کا چہرہ چھوا 


" ہا۔۔۔ہاں جوہن تم۔۔۔ تم زندہ ہو،جوہن تم زندہ ہو"


 یقین آنے پر وہ خوشی سے رو پڑی


" صرف تمہارے لیے"

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا پھیکا سا مسکرایا 


" مجھے لگا میں نے تمہیں کھو دیا، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم زندہ تھے وہیں پر تھے تو میں تمہارے بغیر کبھی واپس نہ آتی"


 ہاتھ کی پشت سے اس نے آنکھیں صاف کی کچھ بھی کہے بغیر جوہن نے نرمی سے اس کے گرد اپنے بازو باندھ دیے


" آئی لو یو لارا!۔۔۔ ائی لو یو"

 وہ اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا 


وہ اس کے سینے سے لگا اس کی پرجوش ہوتی دھڑکنوں کو محسوس کر سکتا تھا 


" میں جانتی ہوں"

 اس کی گردن کے گز بازو لپیٹے وہ ہنستے ہوئے بولی تھی اس کی آنکھوں میں چمک تھی سب کچھ پا لینے کی چمک


" تم جا رہی ہو؟ مجھے چھوڑ کر!"

وہ اس سے الگ نہیں ہوا تھا 


" نہیں میں کہیں بھی نہیں جا رہی مجھے یہی رہنا ہے تمہارے ساتھ ہمیشہ کے لیے"


 وہ روتے ہوئے اس سے الگ ہوئی جوہن اس کی بات پر پورے دل سے مسکرایا تھا پھر اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا

☆☆☆


چند گھنٹوں بعد


دونوں اس پرانے فلیٹ میں بیٹھے ہنس رہے تھے

"یہ سب کچھ اب خواب جیسا لگتا ہے"

لارا نے کہا

"خواب تو اب شروع ہوگا..."

جوہن مسکرایا

تب ہی دروازے پر دستک ہوئی


جوہن نے دروازہ کھولا، باہر کوئی نہیں تھا صرف ایک چھوٹا سا پارسل رکھا تھا


اس نے پارسل اٹھایا، اندر صرف ایک کالی ڈائری تھی... اور ایک نوٹ


"Return what you stole... or pay the price."

Red Serpents


لارا اور جوہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا


پردہ گر گیا اور ایک نئی کہانی کی شروعات ہو گئی


اختتام


Comments

Popular Posts