Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
The Last Diamond - Episode 1 - Munaza Niaz -
The Last Diamond 💎💫
By Munaza Niaz ✍️🖤
Episode.1🔥
نیو یارک کی سڑکوں پر کافی گہما گہمی تھی اتنی رات میں بھی پورا شہر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا اسی اثناء میں اس بھیڑ میں وہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے تیز تیز چل رہی تھی اسٹریٹ پول پر لگا بلب جل بجھ رہا تھا تھوڑی دیر پہلے ہونے والی بارش کی وجہ سے پورا شہر گیلا ہو چکا تھا لوگ تیزی سے آ جا رہے تھے تیز تیز چلنے کی وجہ سے اس کے سنہری بالوں کی پونی ٹیل جھول رہی تھی اچانک ہی اس کا کندھا کسی بزرگ سے ٹکرایا وہ ایک جھٹکے سے مڑی اس بوڑھے آدمی کا تھیلا گر گیا سارا سامان ادھر ادھر بکھر گیا
" ایم سو سوری سر! میں نے دیکھا نہیں"
اندر ہی اندر وہ ہنس دی پھر۔۔۔
معذرت کرتے تیزی سے جھک کر وہ بکھرا سامان اٹھانے لگی دو منٹ بعد اس کی رفتار میں تیزی آگئی بوڑھا اس کے مخالف سمت دور ہوتا گیا تیز تیز چلتی وہ ایک سنسان گلی میں مڑ گئی اس نے جیکٹ کی جیب سے وہ بٹوا نکالا جو کچھ دیر قبل اس بوڑھے کے پاس تھا تیزی سے بٹوا کھول کر اس نے ڈالرز نکالے اور بٹوا ڈسٹ بین میں اچھال دیا اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے بھی غائب ہوگی اسی جگہ سے کچھ میل دور ایک بار میں طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا لڑکے اور لڑکیاں نشے میں ٹن ریک پر ناچ رہے تھے وہ کاونٹر پر بیٹھا ادھر ادھر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا اس کی نیلی آنکھوں میں برف جیسی ٹھنڈک تھی کاؤنٹر بوائے نے ایک گلاس اس کے سامنے رکھا گلاس لبوں سے لگاتے اس نے گہری جانچتی نظروں سے اپنے سامنے دیکھا وہاں کچھ لڑکیاں ڈانس کرتے ہوئے باتیں کر رہی تھیں ساتھ ساتھ اسے بھی دیکھ رہی تھیں ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کے اس نے کاؤنٹر پر رکھا اور ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ویٹر نے دوسرا گلاس اس کے سامنے رکھا ان لڑکیوں میں ایک لڑکی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اس کے پاس آئی، بنا کچھ کہے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دلکشی سے مسکرائی وہ لڑکا سنجیدگی سے بنا کچھ کہے اس کی حرکات و سکنات دیکھتا رہا اس لڑکی نے اپنی انگلی سے اس کا گال چھوا اور پھر وہ انگلی سرکتی ہوئی اس کی گردن سے ہوتی سینے تک آئی کاونٹر بوائے مسکراہٹ دباتا دوسرے کسٹمر کی طرف بڑھ گیا ابھی وہ لڑکی اس پر جھکتی اس لڑکے نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے پرے دھکیل دیا
" میں صرف چراتا ہوں! سستے شوق نہیں پالتا"
اتنی بےعزتی؟؟ اس لڑکی کا چہرہ سرخ ہوا اس لڑکی کے بولنے سے پہلے ہی وہ تیزی سے اٹھا اور کلب سے باہر نکل گیا اس کے نکلتے ہی کچھ لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا اور اس کے پیچھے کلب سے باہر نکل گئے وہ چار تھے کسی احساس کے تحت اس نے مڑ کر دیکھا وہ چاروں اس کے پیچھے آ رہے تھے گہری سانس بھر کے تیز قدم اٹھاتا وہ ایک پارکنگ میں گھس گیا وہ چاروں بھی بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے پارکنگ میں گھس گئے وہاں گہرا اندھیرا تھا ان میں سے ایک نے موبائل نکال کر ٹارچ روشن کی تبھی کسی نے زور سے لوہے کا ڈنڈا اس کے پیٹھ پر دے مار موبائل چھوٹ کر دور جا گرا اور وہ خود اڑتا ہوا ٹھنڈے فرش پر گرتا چلا گیا باقی تینوں بیک وقت اس کی طرف پلٹے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے وہ سلاخ دوسرے کے سر میں ماری وہ کرہاتا ہوا سائیڈ میں گرا جھک کر اس نے گرے ہوئے لڑکے کی ایک ٹانگ پکڑی اور گھما کر اسے ان دو لڑکوں کی طرف پھینکا وہ تینوں ایک ساتھ ٹھنڈے فرش پر گرتے چلے گئے گن نکال کر اس نے ان چاروں کی طرف کی وہ چاروں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگے
" Money "
ایک ہاتھ سے گن ان پر تانے دوسرے ہاتھ سے ایک لڑکے کے بال دبوچے وہ غرایا چاروں نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ اپنے اپنے پرس نکالے اور اس کی طرف بڑھائے
" پرس نہیں پیسے نکالو"
ایک کے منہ پر تھپڑ مار کے وہ درشتی سے بولا وہ جلدی سے یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا وہاں کوئی بھی آ سکتا تھا انہوں نے فورا سارے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے ایک جھٹکے سے پیسے کھینچتا وہ اگلے ہی منٹ میں وہاں سے غائب ہو گیا
وہ چور تھا مگر قاتل بننے میں دیر نہیں لگاتا تھا
اور وہ چاروں ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرتے اٹھ کھڑے ہوئے
☆☆☆
باہر ہلکی ہلکی بارش رک چکی تھی وہ اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھی کافی کے گھونٹ بھرتی گلاس وال سے باہر ایک بینک گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے کسی خاص لمحے کا انتظار ہو سفید جینز پر بھوری ٹی شرٹ پہنے اس نے رات کی طرح اونچی پونی باندھ رکھی تھی اس کی آنکھیں سبزی مائل سنہری تھیں کپ رکھ کے وہ یکدم سیدھی ہوئی آنکھیں سکیڑے وہ اب اس عورت کو دیکھ رہی تھی جو بینک سے باہر نکل رہی تھی ویٹر کو بلا کر اس نے پیمنٹ کی اور باہر نکل گئی دس قدم کے فاصلے پر وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی وہ عورت ایک گاڑی میں بیٹھ چکی تھی اس نے دائیں طرف دیکھا وہاں ایک لڑکا اپنی بائیک کھڑی کر کے ایک دکان میں داخل ہو گیا چابی وہ نکالنا بھول گیا تھا ہلکا سا مسکرا کر وہ بنا کچھ ظاہر کیے بائک پر بیٹھی اس سے پہلے کہ وہ لڑکا آتا بائک ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گئی آہستہ آہستہ شام پر تاریکی چھانے لگے بائیک ذرا فاصلے پر چھوڑ کر وہ اس عورت کو دیکھنے لگی جو ایک بلڈنگ میں داخل ہو چکی تھی وہ تیزی سے اس طرف بھاگی پوری بلڈنگ تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی عورت لفٹ میں سوار ہوئی ایک لڑکا بھی اچانک اس عورت کے ساتھ آ کھڑا ہوا لفٹ کے بند ہوتے ہی وہ سیڑوں کی طرف بھاگی تیز تیز بھاگتے مطلوبہ فلور تک پہنچتے اس کا سانس پھول چکا تھا، لفٹ کا دروازہ کھلا اور وہ عورت باہر نکلی اس کا رخ اپنے اپارٹمنٹ کی طرف تھا جبکہ وہ لڑکا دوسری جانب مڑ گیا جیسے ہی اس عورت نے دروازہ بند کرنا چاہا وہ تیزی سے دروازے کو دھکا دیتی اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوئی
" کک۔۔۔۔کون ہو تم؟ کیا چاہیے تمہیں؟ دیکھو میں پولیس کو بلا لوں گی"
وہ عورت اپنا پرس دبوچے سہمی ہوئی آواز میں بولی اس لڑکی نے مسکرا کر پنڈلی سے بندھا چاکو نکال کر اس کے سامنے کیا
" اس پرس میں جو کچھ ہے وہ مجھے دے دو"
اس کے قریب آ کر وہ غرائی اور چاکو اس کی گردن پر رکھ دیا
" ٹھیک ہے، جو تم چاہتی ہو لے لو۔۔۔۔بس اس چاکو کو ہٹاؤ یہاں سے۔۔۔پلیز!"
اس عورت نے تھوک نگلا لڑکی نے چاکو تھوڑا سا پیچھے کر دیا لیکن پورا نہیں اس عورت نے پرس کھولا اور اس میں سے ڈالر نکال کر اس کی طرف بڑھائے
" یہ ڈالرز تم خود رکھو، وہ بریسلٹ دو جو لاکر سے نکالا ہے، یا پھر میں خود نکالوں؟ "
چاکو اس کے پیٹ پر رکھے اس نے خونخوار لہجے میں کہا، عورت کا سانس بند ہوا
" میرے پاس کچھ نہیں ہے "
ایک زوردار تھپڑ اس عورت کے منہ پر پڑا اور وہ نیچے جا گری ایک جھٹکے سے پرس کھینچ کر اس نے وہ ہیرے کا بریسلیٹ نکالا اس کی آنکھیں چمکی مسکرا کر بریسلیٹ جیکٹ کی جیب میں ڈالا اور دروازے کی طرف بڑھی مگر اس کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی کسی نے گولی چلا کر دروازے کا لاک توڑا وہ تیزی سے دائیں طرف گھومی اور پھر اس نے دیکھا وہ لفٹ والا لڑکا اندر داخل ہو رہا ہے
" وہ بریسلیٹ مجھے دے دو"
گن کا رخ اس کی طرف کیے وہ سرسراتی آواز میں بولا اس لڑکی نے پھرتی سے دائیں طرف رکھی ایک باسکٹ اٹھائی اور اس کی طرف پھینکی لوہے کی وزنی باسکٹ اس کے سر پر لگی وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ہلکا سا جھکتا دو قدم پیچھے ہوا اتنی چالاکی کی اسے امید نہیں تھی دوسری گولی وہ چلانا نہیں چاہتا تھا کچھ بعید نہیں تھی کہ پچھلی گولی کی آواز سے لوگ اپنے اپارٹمنٹ سے باہر نکل آتے گن پینٹ میں اڑس کر وہ جارحانہ اس لڑکی کی طرف بڑھا مگر وہ لڑکی اس کی رفتار کو ڈبل کرتی اس کی طرف بھاگی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا چاکو جھک کر اس کی ٹانگ میں گھسا کر ایک جھٹکے سے باہر نکالا اس لڑکے کی چیخ نکل گئی زخم پر ہاتھ رکھے وہ کراہتا ہوا فرش پر بیٹھا وہ عورت ان کو دیکھ کر چلانے لگی ایک لمہ ضائع کیے بغیر وہ باہر کی طرف بھاگی وہ تیزی سے اٹھا اور اس عورت کی گردن دبوچ لی
" چلا مت ورنہ گولی تیرے بھیجے میں اتار دوں گا "
جھپٹ کر اس کا پرس چھینا اور لنگڑاتے ہوئے باہر نکل گیا
☆☆☆
بیڈ پر وہ نیم دراز لڑکی ایک ہاتھ میں بریسلٹ تھامے گہری نظر سے دیکھ رہی تھی تین دن اس نے اپنے اپارٹمنٹ میں گزارے تھے اس کا جرمن شیفرڈ کتا اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا کبھی اسے کبھی اس بریسلٹ کو دیکھتا
" ہم امیر ہونے والے ہیں جوڈی! بس ایک آخری ہٹ مارنی ہے پھر گیم چینج! "
وہ مسکرائی، کتے کے سر پر ہاتھ پھیرا، کروٹ کے بل تیزی سے اٹھ کر اوپن کچن کی طرف جاتے ہوئے بریسلٹ شیلف پر رکھ دیا اور کافی بنانے لگی، وہ چھوٹا سا مگر خوبصورت فلیٹ تھا
ٹھااااخ۔۔۔!!!!
اچانک اسے گولی چلنے کی آواز آئی مگ پکڑے وہ تیزی سے نیچے بیٹھی کوئی اس کے فلیٹ کا لاک توڑ کر اندر داخل ہوا تھا جھک کر اس نے آگے ہوتے اوٹ سے کمرے میں کھڑے اس شخص کو دیکھا جس پر اس کا کتا بھونک رہا تھا اس لڑکے کے چہرے پر ناگواری پھیلی کتے کو نظر انداز کرتے اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی گن اس کے ہاتھ میں تھی
" یہ یہاں بھی پہنچ گیا؟"
اس نے حیرت سے سوچا تب ہی وہ کچن کی طرف آیا، اس کی نظر شیلف پر رکھے بریسلٹ پر پڑی اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کے اسے اٹھاتا اس لڑکی نے تیزی سے اٹھ کر ہاتھ میں پکڑا مگ اس کے سر میں دے مارا
پھڑاک۔۔۔۔
سر پر ہاتھ رکھے وہ تیزی سے پیچھے ہوا ہلکا سا خون اس کے سفید ماتھے سے بہہ نکلا
" تم یہاں بھی پہنچ گئے؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ "
غصے سے چھری اٹھاتے وہ پھنکاری اس لڑکے کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس لڑکی کا کتا ابھی تک اس پر بھونک رہا تھا لڑکے کی کنپٹیاں سلگ اٹھی سر میں درد ہونے لگا
" اے جنگلی بلی اپنے کتے کو بول مجھ پر بھونکنا بند کرے، اور وہ بریسلٹ مجھے دے دے"
ناگواری سے کتے کی بک بک سنتے نیلی آنکھوں میں سرخی لیے وہ درشتی سے بولا
" یہ میرا ہے"
اس نے کتے کو آنکھوں سے کوئی اشارہ کیا وہ تیزی سے چھلانگ لگاتا اس لڑکے کی پیٹھ پر چڑھ گیا اس سے پہلے کہ وہ کاٹتا لڑکے نے زوردار جھٹکا دے کر اسے دور پھینکا لڑکی پھرتی سے چھری لیے اس کی طرف بھاگی مگر وہ اس بار تیار ہو کر آیا تھا اس کے قریب آتے ہی پھرتی سے اس نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر پیٹھ پر کیے چاکو والے ہاتھ کو زوردار جھٹکا دیا اس لڑکی کا بازو ہل کر رہ گیا چاکو نیچے گرا تیزی سے گھما کر اس کی پیٹھ اپنے سینے سے لگائی وہ بوکھلا گئی اس کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی اس لڑکی کا دم گھٹنے لگا
" دیکھو میں ایک شریف زادہ ہوں بس اپنی چیز لینے آیا ہوں تمہارے منہ لگنے کا مجھے کوئی شوق نہیں مگر تم سمجھتی کہاں ہو!"
دانت پیس کر اس نے اپنا رومال نکالا اور اس کے منہ میں ٹھونس دیا بالوں سے پکڑ کر اسے بیڈ کے طرف پھینکا تیزی سے مڑ کر اس نے کچن سے بریسلیٹ اٹھا کر جینز کی جیب میں ڈال دیا لڑکی نے جلدی سے منہ سے رومال نکالا اور کھانسنے لگی پھر ہاتھ جھاڑ کر مسکرائی اور ہنسنے لگی وہ ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگا
"بےوقوف! یہ نکلی ہے، اصلی تو میرے پاس ہے"
مسکرا کر اس کی طرف بڑھی
" اگر ایسا ہے تو تم مجھے کیوں بتا رہی ہو"
آنکھیں چھوٹی کیے اس کی چالاکی پر وہ بھی مسکرایا
" میں چاہتی ہوں کہ ہم پارٹنر بن جائیں "
اس کے بے حد نزدیک آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سرگوشی میں بولی وہ پیچھے نہیں ہوا وہیں کھڑا اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا
" تم ایسا کیوں چاہتی ہو ؟"
کچھ لمحے بعد وہ بولا چہرے پر سوچ کے آثار تھے
" تمہیں دیکھ کر مجھے لگا ہمیں پارٹنر بن جانا چاہیے!"
ایک ہاتھ اس کے کندھے پر دوسرا سینے پر رکھ دیا
" اور تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میں بھی ایسا چاہتا ہوں"
مسکرا کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچ لیا اس لڑکی کی سانس رکی مگر وہ سنبھل گئی اس کا سینے والا ہاتھ پھسلتا ہوا اس کی گردن تک گیا ایک جھٹکے سے لڑکی نے اپنا گھٹنا اس کے پیٹ کے نیچے مارا لڑکا اسے چھوڑ کر دوہرا ہوتا نیچے بیٹھ گیا سفید چہرہ سرخ ہونے لگا
" تو تمہیں کیا لگا میں تمہیں اتنی آسانی سے یہاں سے جانے دوں گی؟"
جھک کر اس کے بال دونوں ہاتھوں سے پکڑے اور زور سے اس کا سر دیوار میں دے مارا مگر لڑکا سنبھل کر تیزی سے اٹھا اس کے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں پکڑے اور دوسرے ہاتھ کا گھونسا بنا کر اس کے جبڑے پر مارا وہ چیختی ہوئی پیچھے جا گری تیزی سے اٹھ کر اس کی پونی ٹیل پکڑی دوسرے ہاتھ سے کھینچ کر تھپڑ مارا اس لڑکی کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے سامنے کھڑا لڑکا پہلے دو ہوا پھر چار اس نے سر کو جھٹکا دیا سب کچھ دھندلا دکھ رہا تھا جیب سے رومال نکال کر اس کے دونوں ہاتھ پھرتی سے پیٹھ پر باندھے وہ وہیں بیٹھ گئی ایک سٹول گھسیٹ کر وہ اس کے سامنے بیٹھا غور سے اس کو دیکھنے لگا
" دفع ہو جاؤ یہاں سے"
وہ غرائی
" نہ نہ نہ پہلے یہ بتاؤ تم ہو کون؟"
دلچسپی سے اس کو دیکھا
" تمہیں جو چیز چاہیے تھی وہ تمہیں مل چکی ہے پھر کیوں پوچھ رہے ہو؟"
اسے شدید غصہ آیا مگر وہ مسکرا دیا
" ابھی کہاں ملی ہے ویسے میں نے تمہاری آفر پر غور کیا ہے میں تمہارا پارٹنر بننے کے لیے تیار ہوں، میں کافی عرصے سے کسی کو پارٹنرشپ کے لیے ڈھونڈ رہا تھا لیکن جو بھی ملے وہ کمینے نکلے سالے مجھے ہی لوٹ کر نکل گئے پر تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تم اچھی ساتھی ثابت ہوگی "
ٹھوڑی سے اس کا چہرہ پکڑ کر اونچا کیا وہ کچھ نہیں بولی بس اسے گھورتی رہی
" کوئی چلاکی نہیں !"
تنبیہہ کرتے جھک کر وہ اس کی پیٹھ پر بندھے ہاتھ کھولنے لگا اس کے اتنا نزدیک آنے پر لڑکی کے ہونٹ خشک ہوئے جب وہ پیچھے ہٹا تو اس نے اپنی کلائیوں کو دکھا جو سرخ ہو چکی تھی
" میرا نام جوہن ہے اور تمہارا؟"
اس نے پوچھا
" لارا "
اس نے اپنا ایک ہاتھ گال پر رکھا جہاں جگہ سرخ ہو چکی تھی
" ففٹی، ففٹی کی پارٹنرشپ ہوگی! ہممم "
بریسلٹ نکال کر اس کے سامنے کیا
" تو سنو میاوں! ہم پارٹنر نے اس میں ہم دونوں کا ہی فائدہ ہے"
وہ دوبارہ اس پر جھکا وہ تیزی سے اٹھی اور بیڈ پر جا کے بیٹھ گئی
" کل ایک آدمی بینک سے ایک موٹی رقم نکلوائے گا اور وہ رقم مجھے ہر حال میں چاہیے "
جوہن نے گردن موڑ کر اسے دیکھا پھر کھڑا ہو گیا،
" ٹھیک ہے کل میں یہاں نہیں آؤں گا بلکہ تم میرے پاس اس جگہ آ جانا، میں انتظار کروں گا"
ایک چٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی پھر دروازے کی طرف مڑ گیا
" اور یاد رکھنا !"
رکا اور مڑ کر اسے پھر سے دیکھا
" مجھے دھوکہ دینے کی ہرگز کوشش مت کرنا"
انگلی اٹھا کر کہتا وہ باہر نکل گیا وہ تیزی سے اٹھی اور دروازہ بند کیا لاک ٹوٹا ہوا تھا
" کمینہ کہی کا لاک توڑ دیا!"
دل ہی دل میں اسے اعلی قسم کی گالیاں دیتی بیڈ پہ ڈھیر ہو گئی اس کا کتا پھر سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا اس نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لیں ۔
To be Continue.....🫡🖤
Ap sb ki raye mere liye bohot keemti h! Comment mai zaroor btaye ga k ep kesa laga...inshaAllah roz episode share kru gi...agr feedback axha mila...🎀🤍 pasand nhi aya to bhi zaroor btaiye ga🤧🙃🕯
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Next episode when ? 👀👉🏻👈🏻
ReplyDelete