Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

The Last Diamond - Episode 3 - Munaza Niaz - Urdu Thrilling Novel -


The Last Diamond 💎💫

By Munaza Niaz ✍🏻🖤

Episode 3


نیویارک سٹی کی ہلچل بھری دوپہر میں ایک شاندار اور قدیم عمارت سب کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھی


" The Metropolitan Museum of Art" 


سنگ مرمر کے عظیم الشان ستون، سنہری رنگ کے دروازے اور اُن کے اوپر گھومتی نیلی روشنیوں والے ہالز میں عجیب سا وقار اور ہیبت تھی  

سیڑھیوں پر چڑھتے مہمان، کیمرے اٹھائے سیاح، اور دعوت نامے تھامے مہمان خصوصی سب اس ایک شام کے منتظر تھے


اندر داخل ہو تو کمرہ شیشے کے فانوسوں اور مخملی قالینوں سے سجا نظر آئے دیواروں پر آویزاں صدیوں پرانی تصویریں، اور دائیں جانب پیتل کی تختی پر لکھی بڑی تحریر۔۔۔۔


“THE RARE GEMS OF TIME۔ Exclusive Public Viewing، One Night Only ”


ہال کے درمیان سیاہ سنگ مرمر کا فرش، اور اس کے مرکز میں لگے لمبے سیاہ پردے جن کے پیچھے پوشیدہ تھا آج کی رات کا اصل راز۔۔۔۔۔


پریس، سیکورٹی اور elite society کے لوگ، سب یہاں تھے


ہر نظر ایک ہی مقام پر جمی تھیں: 

وہ شو کیس،،،،

 جسے ابھی کھولا جانا باقی تھا


جوہن مارٹا کے ساتھ گھومتے ہر چیز کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہا تھا ان کے آنے کے تھوڑی دیر بعد لارا بھی پہنچ چکی تھی وہ دونوں ایسے ظاہر کر رہے تھے گویا ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں 


" تم یہی رکو میں اپنے دوست سے مل کر آتا ہوں"

 مارٹا کو کہتے وہ اوپر والے فلور کی طرف بڑھ گیا مارٹا نے کندھے اچکا دیے اسے فلحال چیزوں میں دلچسپی تھی جوہن میں نہیں 


" یہ پینٹنگ ہے یا کسی نے توتھ پیسٹ تھوک دیا ہے کینوس پر؟"

لارا نے ایک عجیب سی پینٹنگ کو گھورتے ناک چڑھا کر کہا


" اسے آرٹ کہتے ہیں، ایبسٹریکٹ ہے یہ۔۔۔ ویسے ہی جیسے تم ایموشنز ایکسپریس کرتی ہو۔۔۔ جو سمجھ پھر بھی نہیں آتا"

جوہن نے ہنسی دبا کر کہا


" ایٹلیسٹ میں فیک نہیں ہوں! ابھی میں نے دیکھا تھا، تم مونا لیزا کی پینٹنگ کے سامنے کھڑے تھے اور اس سے بھی کم مسکرا رہے تھے"

جوہن دھیرے سے مسکرا کر اس کی طرف گھوما


" ہاں اس وقت مجھے یاد آیا تھا کہ میری ایک عدد گرل فرینڈ بھی مونا لیزا جیسی ہے، شانت بورنگ اور فریم میں ہی اچھی لگتی ہے " 

" اوہ اچھا اس نے تمہیں بوائے فرینڈ بنایا تھا یا میوزیم کا واچ مین؟ جو روز اس کا لاسٹ سین مانیٹر کرتے ہو"

لارا نے تیکھی نظر اس پر ڈالی


" دراصل اس کے پاس " کلاس" تھی، لیکن تم تو میوزیم کی ویزیٹر جیسی ہو۔۔۔۔ہر چیز پر اوپینین اور زیرو انڈر اسٹینڈنگ "

جوہن کی آنکھوں میں شرارت تھی، لارا نے گھور کر اسے دیکھا اور پھر۔۔۔۔۔


پردے ہٹے تو پورا ہال سانس روکے دیکھنے لگا

تین شو کیسز۔۔۔


ہر ایک بلٹ پروف، شفاف مگر سخت ترین گلاس میں بند،  

نیچے platinum-plated نیلے مخمل پر رکھے تین نایاب ہیرے۔۔۔۔


پہلا

“The Queen's Whisper”  


ایک نیلے سمندر کی مانند چمکتا نیلم، جسے 17ویں صدی کی فرانسیسی شہزادی نے پہنا تھا

بازو جتنا سائز، قیمت

$72 Million


دوسرا

“The Blood Tear”  


سرخ یاقوت کا ایک آنسو جس کے اندر دھندلی سی خون جیسی لکیر دکھتی تھی، 

یہ ہیرا صرف چار بار دنیا کو دکھایا گیا تھا  

قیمت

 $108 Million


تیسرا 

“The Eclipsed Soul” 


سیاہ ہیرے کا ایسا نایاب ٹکڑا جو صرف مائیکرو سینسرز سے ہی detect کیا جا سکتا تھا، یہ ہال کی روشنیوں میں absorb ہو جاتا تھا۔۔۔ قیمت،

$150 Million


ہر شو کیس کے گرد  

infrared laser web،motion-sensitive alarms اور تین الارم گارڈز   

retina scan protected vaults لگے تھے ۔


ہر دیکھنے والا چپ چاپ قطاروں میں کھڑا، کچھ آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے تھے کچھ تصویریں لے رہے تھے اور کچھ صرف سانس روکے دائیں بائیں جھانکنے کی کوشش کر رہے تھے


میوزیم کی فضا میں جان لیوا خاموشی تھی، جیسے ہیرے صرف قیمتی نہیں ہیں، بلکہ زندہ بھی ہیں، 


" او مائی گاڈ "

لارا کے لبوں سے اختیار نکلا

جوہن نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ انہیں کچھ لوگوں کے بوٹوں کے دھمک سنائی دی وہاں دائیں طرف کچھ لوگ بہت سے گارڈز کے حصار میں انہی کی طرف آتے دکھائی دیے جوہن نے تیزی سے لارا کا بازو پکڑا اور سائیڈ پر ہو گیا گارڈ ارد گرد پھیل گئے وہ سوٹڈ بوٹی لوگ ان بے انتہا قیمتی ہیروں کو دیکھتے آپس میں گفتگو کرنے لگے، وہ کل پانچ لوگ تھے جبکہ وہاں تین ہیرے موجود تھے ان پانچوں میں سے ایک نے جب ان ہیروں کی قیمت دیکھی تو اسے تپ چڑھ گئی 


" انہیں خریدنے کی بجائے میں ان پیسوں سے شادی کروں گا بیوی کے ساتھ پوری دنیا میں ہنی مون منانے جاؤں گا بچے پیدا کروں گا اور پھر دوسری شادی کروں گا پھر سھ ہنی مون پر جاؤں گا بچے ہونے کے بعد پھر تیسری شادی کروں گا میں اس طریقے سے کنگال ہونا پسند کروں گا نہ کہ انہیں خرید کر "


تن فن کرتا ہوا وہ اپنے گارڈز کے ہمراہ وہاں سے غائب ہو گیا پھر دوسرے نے ان ہیروں کو دیکھتے اچھی طرح قیمت دیکھی 


" مجھے لگتا ہے ان لوگوں نے ان تین ہیرو کی نہیں بلکہ پورے ملک کے ہیروں کی قیمت لگا دی ہے مجھے لگتا ہے میرا بی پی لو ہو رہا ہے ارے کوئی جوس تو پلا دو بلکہ میں خود ہی جا کر ڈاکٹر کو چیک کرواتا ہوں"


 اگلے لمحے وہ بھی واک آوٹ کر گیا جوہن اور لارا غور سے ان کی حرکات و سکنات دیکھ رہے تھے باقی بچے تین آدمی، انہوں نے ان تینوں ہیرو کو دیکھا اور وہاں سے چلے گئے کچھ دیر بعد کچھ اور لوگ آئے انہوں نے وہ ہیرے ان کی مخصوص جگہوں سے نکالے اور اگلے ہی لمحے وہ جس تیزی سے آئے تھے اسی تیزی سے ہیرے لے کر واپس چلے گئے لارا اور جوہن تیزی سے ان کے پیچھے لپکے وہ آدمی ہیرے لیے ایک لفٹ میں سوار ہوا جبکہ اس کے گارڈز دوسری لفٹ میں چلے گئے وہ دونوں تیسری لفٹ میں جاگھسے لفٹ آخری فلور پر رکی وہ آدمی سیڑھیوں کے ذریعے بلڈنگ کی چھت پر پہنچا وہ دونوں دروازے کی اوٹ سے وہاں کا جائزہ لینے لگے وہاں پہلے والے تین آدمی پہلے سے ہی موجود تھے لفٹ والا آدمی جس کے پاس ہیرے  تھے ان تینوں کو باری باری دیکھتے کچھ کہہ رہا تھا وہ کسی اور زبان میں بات کر رہے تھے


" یہ کیا بکواس کر رہا ہے؟"

 جوہن جھنجھلایا لارا نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا چھت پر ایک ہیلی کاپٹر بھی کھڑا تھا اس آدمی نے بیگ سے ایک ہیرا نکالا اور اسے ایک آدمی کی طرف بڑھا دیا اس آدمی نے ہیرا پکڑا اسے غور سے دیکھا پھر اسے ایک باکس میں ڈالا آنکھ کے اشارے سے اس نے اپنے ایک آدمی کو کچھ کہا اس کا آدمی سر ہلاتا ہیلی کاپٹر کی طرف گیا دروازہ کھول کر تین عدد بیگ نکالے واپس آ کر وہ بیگ ہیرے والے آدمی کی طرف بڑھا دیے اس آدمی نے وہ بیگ لے لیے باقی دونوں کے ساتھ بھی یہی ہوا پھر ان چاروں نے ایک دوسرے کو ہاتھ ملائے ان کی ملاقات ختم ہونے والی تھی ان دنوں میں سے ایک ہیلی کاپٹر میں سوار ہوا اور پھر اڑ گیا 


" چلو یہاں سے"

 لارا نے سرگوشی کی جوہن نے اس کی کلائی پکڑی پھر تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھا ہی تھا کہ رک گیا لارا نے دانت پیس کر گھور کر اسے دیکھا


" اب کیا ہو گیا تمہیں؟"

 جوہن نے چونک کر اسے دیکھا 


" میری بات اپنے کان صاف کر کے سن لو، آئندہ مجھے میری اجازت کے بغیر چھونے کی کوشش بھی مت کرنا میں کوئی بچی نہیں ہوں۔۔۔۔ ورنہ میں۔۔۔"


 اس نے ابھی بات بھی پوری نہیں کی تھی کہ جوہن نے اسے جھٹکے سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا وہ بری طرح سیٹپٹا گئی وہ اس کے بے حد نزدیک کھڑا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جوہن کے پرفیوم کی مہک اس کے اندر تک گھس گئی اس نے سانسیں روک لیں 


" میرے لیے فی الحال بچی ہی ہو اس لیے زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے اب چلو میرے ساتھ "


" پھر تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے! خاص کر عورتوں کے بارے میں " 


مگر جوہن نے اس کی نہیں سنی بلکہ دوبارہ اس کی کلائی پکڑی اور ایک لفٹ میں جا گھسا لارا نے کلائی چھڑوا کر غصے سے  چہرہ دوسری سمت موڑ لیا پتہ نہیں کون سی منہوس گھڑی تھی جو اس سے سامنا ہو گیا تھا 


" باقی دونوں آدمی جنہوں نے ہیرے خریدے تھے وہ یہاں سے نکلنے کی کریں گے ایک کے پیچھے تم جاؤ گی دوسرے کے پیچھے میں، ان کی ساری معلومات لینے کے بعد ہم کل دوبارہ ملیں گے اور۔۔۔۔"


 ابھی جوہن بات مکمل کرتا کہ اچانک لارا گھومی، زور سے اس کا کالر دبوچا اور اسے لفٹ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا 


" تم میرے باس نہیں ہو سمجھے، اس لیے اپنے احکامات اپنے پاس سنبھال کر رکھو"


 وہ غرائی جوہن نے ایک تیز اور خاموش نظر اس پر ڈالی پھر اپنا کالر اس کے ہاتھوں سے چھڑوا لیا وہ لارا سے صرف بےعزتی کروانا چاہتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں لفٹ سے باہر نکلتے ہی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر دونوں ہی ایک دوسرے کی مخالف سمت مڑ گئے وہ دو آدمی میوزیم سے باہر جا رہے تھے جوہن نے مارٹا کو میسج کر دیا تھا کہ اسے ایک ایمرجنسی کی وجہ سے جانا پڑ رہا ہے اس کے پیغام پر وہ کڑھ کے رہ گئی تھی اس نے اسے بار بار میسجز اور کالز کیں مگر جوہن کوئی جواب نہیں دے رہا تھا اس نے زور سے موبائیل پرس میں پھینک دیا وہ اس کے ساتھ ڈنر پر جانے کا پلان بنا چکی تھی مگر۔۔۔۔


 ایک کے پیچھے جوہن اور دوسرے کے پیچھے لارا گئی تھی لیکن کل کے بجائے وہ  رات کو ہی ملاقات کرنے والے تھے


☆☆☆


جب وہ اپنے فلیٹ پر پہنچا تو اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے لب بھینچے اس نے اپنی جیکٹ اتار کر رکھی پھر ٹی شرٹ، آئینے کے سامنے کھڑا اب وہ زخم کا جائزہ لے رہا تھا بازو والا اتنا گہرا نہیں تھا جتنا کندھے والا تھا اپنے کندھے پر اسے نمی کا احساس ہوا اس کا فون سائلنٹ پر تھا جو بار بار وائبریٹ ہو رہا تھا واپسی پر اس کی کچھ لڑکوں سے لڑائی ہو گئی تھی جس کا نتیجہ وہ سامنے کھڑا دیکھ رہا تھا اس نے جلدی سے وائبریٹ ہوتا موبائل اٹھایا وہ مارٹا تھی مگر وہ کسی سے بات کرنا نہیں چاہتا تھا اس نے کال لوگ چیک کی وہاں ایک کال لارا کی بھی تھی اس نے موبائل واپس رکھ دیا فرسٹ ایڈ باکس اٹھائے وہ پھر سے آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ابھی اس نے صرف بازو پر دوائی ہی لگائی تھی کہ دروازہ بجنے لگا وہ چونکا پھر دروازے پر پہنچا


" کون ہے ؟"

" میں ہوں لارا، دروازہ کھولو!"


 اس نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا وہ تیزی سے اندر داخل ہوئی اسے دیکھ کر ناگواری سے رخ موڑا، دروازہ بند کرتے ہی وہ اس کے سامنے آیا 


" تم یہاں کیا کرنے آئی ہو؟"

 وہ حیران ہوا 

" میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ ہم کل ملاقات کریں گے!"


" تم سے ملنے تو ہرگز نہیں آئی!"

 لارا نے گھورا 


" جانتا ہوں!"

 سر جھٹ کر وہ پھر سے آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا 


" میں جس کے پیچھے گئی تھی وہ اگلے تین دنوں میں یہ ملک چھوڑ کر جانے والا ہے"


 اس کے پاس آ کر وہ پریشانی سے بولی


" میرے پاس ایک پلین ہے لیکن میں کل بتاؤں گا فی الحال تم جاؤ یہاں سے"


آئینے میں اس کے عکس کو دیکھتا وہ دھیرے سے بولا، دوائی لگاتے ہی اس کی سسکی نکلی، تکلیف سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا 


"میں صاف کر دیتی ہوں..."

وہ بولی اسے معلوم تھا کہ وہ اپنا ہاتھ پیچھے نہیں لے جا سکے گا دوائی لگانا تو دور کی بات تھی اس نے صرف ہمدردی میں آفر کی تھی ورنہ تو وہ اس کا کندھا ہی نوچ لینا چاہتی تھی 


"پچھلی بار تم نے دوائی کم، درد زیادہ دیا تھا"   

جوہن نے اس کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر کہا،  

"اب کے زخم دل پر نہیں لگاؤں گی۔۔۔ مگر چھونے سے بچ بھی نہیں پاؤ گے!"

لارا کی پلکیں جھپکیں


 جوہن اسے دیکھ کر رہ گیا، تھوڑی دیر بعد وہ کپاس پر دوائی لگائے اس کے کندھے پر لگا خون صاف کرنے لگی، اب وہ پٹی کر رہی تھی 

 

"تم خود کو کیا سمجھتے ہو، آئرن مین؟"  

  

جوہن ہلکا سا مسکرایا،

 "کاش ہوتا، تو تکلیف نہ ہوتی! اور مان جاؤ کہ میں نہیں تم میرے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو "


تپانے والی مسکراہٹ سے مڑ کر اسے دیکھا لارا نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ اچانک دروازہ زور سے کھلا اور کوئی دندناتا ہوا اندر داخل ہوا جوہن کی مسکراہٹ سمٹی لارا چونکی آنے والی نے پہلے لارا کو دیکھا جس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا پھر وہ جوہن کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اس نے آؤ دیکھا نہ تاو ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا 


" گھٹیا زلیل انسان تمہیں کیا لگا میں اتنی آسانی سے بے وقوف بن جاؤں گی؟ میں بے وقوف دکھتی ہوں مگر ہو نہیں آج کے بعد مجھے اپنی شکل بھی مت دکھانا"


قہر آلود نظر پہلے لارا پر اور پھر اس پر ڈالی، اس نے اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی اتاری اور اس کے سینے پر دے ماری اور جس سپیڈ سے آئی اسی سپیڈ سے باہر نکل گئی اس کے جاتے ہی ہنسی کا فوارہ لارا کے منہ سے پھوٹ پڑا ہنستے ہنستے وہ فرش پر ڈھیر ہو گئی تالی بجا کر جوہن کو سلیوٹ کر اشارہ کیا جون نے غصے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا پھر جھک کر انگوٹھی اٹھا لی ایک لمحہ اس انگوٹھی کو دیکھنے کے بعد اس نے انگوٹھی کھڑکی سے باہر پھینک دی


" ارے انگوٹھی کیوں پھینک دی؟"

 ہنسی روک کر وہ حیرانی سے بولی


" نقلی تھی!"

 کہہ کر کچن میں چلا گیا وہ تیزی سے اٹھی اور اس کے پیچھے پیچھے چلی آئی 


" واؤ!"

 دونوں ہاتھ گالوں پر رکھے وہ پھر سے کھلکھلائی اس کے منہ پھاڑ کر ہنسنے پر جوہن کو واقعی غصہ آگیا تھا کیسے اس کا بریک اپ کروا کر وہ اس کے منہ پر ہنس رہی تھی یعنی ہر حد ہی پار ہوگئی اسے بازو سے پکڑ کر کچن سے باہر نکالنا چاہا مگر لارا جو ہنسی سے ٹن ہو چکی تھی لڑکھڑائی، اس کا پیر مڑا دونوں ہاتھوں سے جوہن کو پکڑ کر خود کو سنبھالنا چاہا مگر دونوں ایک ساتھ ہی ٹھنڈے فرش پر گرتے چلے گئے فرش کی ٹھنڈک کے برعکس اس کے سینے کی حرارت لارا کو کچھ لمحے کے لیے خاموش کر گئی


"دل تو بہت جلدی پگھل گیا تمہارا…"  

لارا نے سرگوشی کی، اس کے دونوں ہاتھ جوہن کے سینے پر تھے،


"تمہیں چھو کر کون سالم رہ سکتا ہے؟"

جوہن نے آہستہ سے جواب دیا,  


 لارا نیچے اور وہ اس کے اوپر لارا پہلے سٹپٹائی پھر مسکرائی


" زیادہ ہنسی آ رہی ہے؟"

وہ اسے گھور رہا تھا نفی میں سر ہلاتے لارا اس بری طرح پھر سے ہنسی کے جوہن کا دل کیا اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دے لارا نے ہنسی روک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے سائڈ پر گرایا پھر تیزی سے کھڑی ہوئی وہ بھی دانت پیستے اٹھ کھڑا ہوا


" اچھا میں چلتی ہوں..."  

وہ پلٹی، پر بازو کھینچنے والے ہاتھ نے اسے روک لیا 

"اتنی آسانی سے؟"  

وہ اس کے قریب آیا، لہجہ دھیمی دھمکی جیسا، پر آنکھوں میں کوئی جنگ نہیں، بس ایک طلب سی تھی

"اب اگر تم ہنسی، تو۔۔۔"  

"تو؟"  

وہ سر جھٹک کر بولی 

"تو تمہیں اسی لمحے میری لگائی ہوئی پٹیوں کے نیچے چھپا دوں گا،"  

اس نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی لارا نے دھڑکتے دل سے گھبرا کر اس کو دیکھا

"اور؟"  

وہ دھیرے سے مسکرایا،  

"اور۔۔۔ تم پھر کبھی ہنسنا نہیں بھولو گی"


دھیرے سے اس کی کمر کے گرد بازو باندھے آنکھیں چھوٹی کیے اسے قریب کر گیا، لارا نے سانس روک لیا، اس نے اسے دور کرنا چاہا مگر۔۔۔

جوہن نے دوسرے ہاتھ سے دھیرے سے اس کے چہرے پر بکھرے سنہرے بالوں کو پیچھے  کیا پھر مسکرا کر اسے چھوڑ دیا لارا اب کی بار ہنس نہیں سکی تھی تیزی سے اس نے اپنا موبائیل اٹھایا اور دروازے کی سمت بڑھ گئی جوہن دھیرے سے مسکرایا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا، لارا کی ہنسی ابھی تک جوہن کے کمرے میں گونج رہی تھی۔

☆☆☆


دیواروں پر آویزاں سونے کی لائننگ، چھت سے لٹکتے شیشے کے فانوس، اور مہنگے ترین خوشبوؤں میں بھیگی وہ فضا…

یہ کوئی عام پارٹی نہیں تھی ، یہ طاقت کی نمایش تھی، جوہن آہستہ آہستہ اندر داخل ہوا۔۔۔

سفید شرٹ کے اوپر سیاہ ویلویٹ کا بلیزر، بال معمول سے تھوڑے بکھرے، چہرے پر ہلکی سی شیو، آنکھوں میں  گہرے سائے…

وہ کسی millionaire کی طرح نہیں، بلکہ millionaires کو کھیلنے والا لگ رہا تھا


بار کاؤنٹر تک پہنچ کر وہ خاموشی سے اسٹول پر بیٹھ گیا، اس کی انگلیوں نے بار کا سنگ مرمر چھوا جیسے کوئی پینسٹ اپنے کیز پہ آہستہ انگلیاں رکھتا ہو


اس نے نظریں ادھر اُدھر دوڑائیں، گارڈز، وائن گلاسسز، ڈانسر … لیکن آنکھیں جیسے کسی ایک "مطلوب چیز" کو تلاش رہی تھیں


تبھی، دروازہ ایک بار پھر کھلا

وہ اندر داخل ہوئی

وقت جیسے رک گیا ہو،

لال شفاف ریشمی گاؤن، جو کندھوں سے نیچے جھولتا، ہر قدم پر ایسے sway کرتا جیسے آگ اور سلک کی لڑائی ہو رہی ہو،


کندھوں پر بکھرے ہوئے سنہرے بال، گلے میں نیلم کی باریک چین، اور آنکھوں میں سموکی شیڈو کا وہ انداز، 


وہ کوئی عام لڑکی نہیں، کوئی ایکسپینسیو سیکریٹ لگ رہی تھی،


جیسے ہی لارا اندر داخل ہوئی لاؤنج کی روشنیوں نے اس کے گرد ایک سینامیٹک aura سا پیدا کیا


جوہن کی آنکھوں کا زاویہ ذرا سا بدلا، سانس جیسے درمیان میں رک گئی،


اس نے بمشکل ایک گہرا سانس اندر کھینچا، جیسے دل کو خاموشی سے کہہ رہا ہو


"Stay focused… this is not the time to fall."

مگر fall تو ہو گیا تھا،

نظر کا، لمحے کا، اور شاید… کچھ اور کا بھی


لارا نے اسے دیکھا نہیں، مگر محسوس کر لیا

اپنی ہائی ہیلز کی مخصوص ریتم کے ساتھ وہ ہجوم میں گھلتی گئی…

بمشکل نظریں ہٹائے جون دھیرے سے مسکرایا پھر کان پر ہاتھ رکھا


" تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں دس منٹ بعد میں یہاں سے نکل جاؤں گا کام ہوتے ہی تم بھی فورا یہاں سے نکلنے کی کرنا"

دور کھڑی لارا کے کان میں لگے ایئر پیس میں جوہن کی بھاری آواز گونجی 


" تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے میں ان کاموں میں پروفیشنل ہوں"

 بظاہر مسکراتے اندر ہی اندر کڑھتے اس نے ادھر ادھر اس کو تلاش کرنا چاہا اور وہ اسے بار کاؤنٹر کے قریب بیٹھا نظر آ ہی گیا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا دور سے ہی دیکھتے وہ دھیرے سے مسکرائی پھر ایک صوفے کی طرف بڑھ گئی سامنے بیٹھا آدمی مکمل طور پر نشے میں ڈوبا تھا وہ مسکرائی خود کو کمپوز کیا پھر اس کے بالکل قریب جا کر بیٹھ گئی اس آدمی نے نیم وا آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا لارا نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا 


" چلیں ؟" 

اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سرگوشی میں بولی وہ آدمی مسکرایا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی نازک کمر کے گرد ڈال کر کھڑا ہو گیا وہ ڈگمگانے لگا تھا مگر لارا نے اسے فورا سنبھال لیا کیا مصیبت گلے پڑ گئی تھی، وہ اسے لیے تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی اوپر پہنچ کر وہ اسے لیے ایک کمرے میں  داخل ہو گئی بیڈ پر بٹھا کر اس نے ٹیبل پر رکھی بہت ساری بوتلوں میں سے ایک بوتل اٹھائی مشروب گلاس میں انڈیل کر اس کی طرف بڑھا دیا وہ آدمی ایک ہی سانس میں چڑھا گیا 


" کون ہو تم؟"

 اس آدمی نے زور سے سر کو جھٹکا دیا 


" میں ان لمحوں کو حسین بنانے آئی ہوں!"

دلکشی سے مسکرا کر پھر سے گلاس بھرا وہ دوسرا بھی پی گیا اگلے ایک منٹ میں پوری بوتل خالی ہو چکی تھی گلاس پھینک کر اس نے لارا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا وہ مکمل طور پر نشے میں دھت تھا 


" ایک بات پوچھوں؟"

 بیڈ پر اس کے اوپر جھکے وہ مسکرا کر بولی


" کیا بات؟"

 اس کی آنکھیں نیم وا تھی دونوں ہاتھ اس نے لارا کی کمر کے گرد باندھ ڈالے تھے لارا کا دل کیا اس کا گلا دبا دیے 


" وہ ہیرا کہاں ہیں ؟"

دھیرے سے پوچھتے اپنا چہرہ اس کے کان کے بالکل قریب لے گئی


" وہاں اس دیوار کے پاس "

اس نے بائیں طرف ایک دیوار کی جانب اشارہ کیا لارا نے چونک کر اس طرف دیکھا اور پھر بالکل اچانک اس شخص نے اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھا اور بری طرح دبوچ لیا وہ چلانے لگی تھی مگر وہ اسے لیے دائیں طرف بیڈ پر گرا گیا اور اس پر حاوی ہوا

" تمہیں کیا لگا اپنے حسن کا جادو دکھا کر مجھے بے وقوف بنا لو گی اور میں تمہارے جال میں آ کر سب کچھ بک دوں گا، اتنی آسانی سے تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا بولو کون ہو تم؟ کیوں پوچھ رہی ہو ہیرے کے بارے میں؟"


 اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دائیں بائیں رکھ دیے لارا کا دم گھٹنے لگا وہ پوری کوشش کر رہی تھی خود وہ چھڑوانے کی مگر ناکام رہی تھی وہ آدمی اسے مزید جکڑتا گیا لارا مکمل طور پر بے بس ہو چکی تھی اور پھر۔۔۔

☆☆☆

کمرے کے دروازے پر لگی اسمارٹ سیکیورٹی سینسر پر اس کا ہاتھ رکا، چہرہ مکمل سنجیدہ، نیلی آنکھوں میں وہی جان لیوا سکون تھا،


جیب سے اُس نے باریک شفاف گلوو نکالی، جو خاص طور پر سلیکان پرنٹ کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی

 

وہ گلوو اُس نے انگلی پر چڑھائی، جو اصل مالک کے فنگر پرنٹ کی نقل تھی  

پھر دھیرے سے انگلی اسکرین پر رکھی،


ایک لمحہ...  

دوسرا لمحہ...


"Access Granted." 


اسکرین سبز ہوئی، اور دروازہ سرسراتی آواز کے ساتھ آہستہ سے پیچھے سرکا


اندر مکمل خاموشی تھی، مگر ماحول میں وہی دولت کی بےرحم خوشبو، کاغذوں کی سرسراہٹ، اور سرد سونے کی چمک گھلی ہوئی تھی


جوہن کا چہرہ بے تاثر تھا، نہ خوف، نہ فخر... بس اس کا من پسند کام۔۔

اس نے اندر قدم رکھا، جیسے وہ کسی خزانے میں نہیں، کسی جیتے جاگتے میدانِ جنگ میں داخل ہو رہا ہو، کمرے کا دروازہ آہستہ سے کِرر کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا،


ڈالرز کے گرد سجی ہوئی اُس دنیا میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا، جیسے سانس بھی رک گئی ہو


جوہن کی آنکھوں میں سائے لہرا رہے تھے 

چہرے پر پسینہ نہیں، مگر تناؤ واضح تھا،

نگاہیں اردگرد کے ہر زاویے کو ناپ رہی تھیں، دیواروں پر لٹکتے ڈالرز، فرش پر سجے نوٹوں کے گٹھے، چھت سے نیچے جھکتے نوٹوں کے پردے...  

یہ خزانہ نہیں، ایک جال تھا،


جوہن نے اپنے دائیں ہاتھ سے جیب میں موجود سینسر ڈسٹ نکالا اور ہلکے ہلکے قدموں سے اندر بڑھا


ہر قدم پر وہ فرش کو آنکھوں سے تولتا، کہ کہاں وزن ڈالنا ہے، کہاں نہیں ڈالنا،


جب وہ مرکز کے گھومتے پلیٹ فارم کے قریب پہنچا، تو اس کی سانسیں ہلکی ہلکی ہو چکی تھیں،

ایک لمحہ، اور وہ رُکا۔۔۔


اس کی آنکھیں اب صرف ہیرا دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا، جگمگاتا ستارہ، جو سیکڑوں لیزر شعاعوں میں گھرا، کسی قیدی کی طرح قید تھا، مگر پھر بھی بادشاہ لگ رہا تھا


جوہن نے دایاں ہاتھ اُٹھایا، آہستہ سے جیب سے ایک چھوٹا سا شیشہ نکالا 

 prism scanner۔۔۔ 

 جو لیزرز کی exact movement read کر سکتا تھا

اُس نے وہ شیشہ سامنے کیا، اور چند لمحے ساکت کھڑا رہا،،،

ہر لیزر کا زاویہ، ردھم اور رفتار، ایک mathematical pattern تھا، جو اس کی آنکھیں چپ چاپ یاد کر رہی تھیں


پھر اچانک...

اس کا پیر تھوڑا سا پیچھے ہٹا، جیسے کوئی classical dancer turn لینے والا ہو


ہاتھ کی انگلیاں آسمان کی طرف مڑیں، اور سانس روکی گئی،،

3... 2... 1...

جسم زمین پر جھکا، جیسے سایہ بن گیا ہو،

ایک ہاتھ نے تیزی سے اسکینر کو لیزرز کے درمیان فِٹ کیا،

دوسرا ہاتھ لائٹننگ اسپیڈ سے آگے بڑھا اور ہیرا اُٹھا لیا،


ہیرا جیسے ہاتھ میں آتے ہی سانسوں کی رفتار دوگنی ہوئی، مگر جسم اب بھی ساکت تھا


لیزر کی لائٹس ہلکی سی جنبش پر ہلیں،

مگر سکینر نے اُنہیں غلط ویو ڈیٹیکٹ نہیں ہونے دیا


جوہن نے پلک نہ جھپکی 

نہ کوئی شور، نہ الارم

اب وہ پیچھے ہٹ رہا تھا،

پورے چالیس سیکنڈ میں، وہ جس زاویے سے آیا تھا، اُسی زاویے سے لیزرز کو dodge کرتا ہوا باہر نکلا،


ایک بار بھی خود کو نہ چھوایا، نہ کوئی نشان چھوڑا


دروازے سے نکلتے ہی اُس نے وہی سلیکون فنگر گلوو اُتاری، اور اپنے ہاتھ سے اپنا ماتھا صاف کیا...

مگر وہاں پسینہ نہیں تھا،

بس وہی پرانا سکون، 

اور ہیرا...جو اس کی جیب کی ملکیت بن چکا تھا


☆☆☆


اور پھر اس نے پورا زور لگا کر اپنے ہاتھ کی انگلی کان پر رکھی 

"جوہن... کم ہئیر..."

بس اتنا ہی نکل پایا تھا لارا کے لبوں سے, کہ اچانک وہ آدمی آگے جھکا، اس کا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کیا, اگلے لمحے ایک زوردار آواز گونجی, مشروب کی بوتل سیدھی اس کے سر پر آ لگی


وہ کراہتا ہوا پیچھے ہوا اور لارا نے جھٹکے سے خود کو بیڈ سے نیچے پھینک دیا

"حرامزادے!" 

جوہن کا غصے سے بھرا چہرہ لپکا اور اگلے ہی پل اس نے اس شخص کو کالر سے دبوچ کر زمین پر گرا دیا..


گھونسے، تھپڑ، مکے، جوہن کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا, آخرکار اس نے اسے شیشے کی میز پر پٹخ دیا, ایک تیز چرچراہٹ، اور وہ آدمی بے ہوش!


"بس کرو جوہن! وہ بے ہوش ہو چکا ہے!"  

لارا نے چیختے ہوئے اس کا بازو تھاما، مگر اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی،


جوہن کی سانسیں بھاری تھیں، آنکھیں خون سے سرخ، مگر لارا کی لرزتی حالت دیکھ کر وہ دھیرے سے پیچھے ہٹ گیا،

بے آواز قدموں سے وہ اسے لیے دروازے کی طرف بڑھ گیا، مینشن سے باہر نکلتے ہوئے، دونوں کے چہرے پر ایک ہی جذبہ تھا 


خاموشی


 بائک پر اس کے پیچھے بیٹھتے وہ پتہ نہیں کیوں مگر خاموش تھی بالکل چپ جوہن بھی کچھ نہیں بولا تھا اگر لارا اسے نہ روکتی تو وہ اس کتے کا قتل کر دیتا کچھ دیر بعد بائک لارا کے فلیٹ کے سامنے رکی تھی 


" جوہن! میں کچھ نہیں اگلوا سکی، ایم سوری" 

 بائک سے اتر کر وہ اسے دیکھتے بے بسی سے بولی اس کی آواز لرز رہی تھی جوہن خاموش اسے دیکھتا رہا پھر کچھ بھی کہے بغیر اس نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا تھا اس کے ہاتھ میں موجود شے کو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھے گئے 


" یہ؟۔۔۔۔ تمہارے پاس؟ مگر کیسے ؟"


وہ اتنی بے یقین تھی کہ بول بھی نہیں پا رہی تھی 

" جب تم اسے لے کر اوپر چلی گئی تو میں بھی فورا حرکت میں آیا، میں جانتا تھا کہ اس نے ہیرا کہاں رکھا ہوگا کل ہی میں نے اس کے مینشن کی پوری معلومات حاصل کر لی تھی مگر سوری میں تمہیں بتانا بھول گیا تھا، بس اب لمبی کہانی ہے مشن مکمل ہونے کے بعد تمہیں فرصت سے بتاؤں گا،  ہاں ایک بات اور! وہاں پر اس کی بلیک منی موجود تھی پورا کمرہ ڈالروں سے بھرا ہوا تھا مگر میں اتنا شریف بچہ ہوں کہ ان کی طرف دیکھا تک نہیں بس ہیرا اٹھایا اور باہر نکل آیا، یوں سمجھو میری قسمت بہت اچھی تھی وہ ہیرا میرے سامنے تھا یقین کرو اتنی خوشی مجھے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور پھر جب میں باہر نکلا تو تم نے مجھے بلایا اور پھر۔۔۔ میں "


وہ سانس لینے کو رکا جبکہ لارا سانس روکے اسے دیکھتی گئی

" ایم سوری لارا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم پھنس جاؤ گی تو میں کبھی تمہیں یہ سب کرنے کو نہ کہتا "

وہ شرمندگی سے بولا لارا کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی،اور پھر اس کا ہاتھ اٹھا اور جوہن کے گال پر نشان چھوڑ گیا،


" اب اگر تم نے مجھے پوری بات نہ بتائی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی"

انگلی اٹھا کر اسے تیز سانسوں کے درمیان کہا اس کی انگلی جوہن کے چہرے کے سامنے لرز رہی تھی، جوہن کی نیلی آنکھیں سرخ ہوئی ایک جھٹکے سے اس نے لارا کو پکڑ کر بائک پر جھکا دیا 


" مجھے واقعی اندازہ نہیں تھا کہ تم پھنس جاؤ گی کیا میں دوبارہ معافی مانگوں ؟"


اس نے جھک کر بھینچے ہوئے جبڑوں کے ساتھ پوچھا، وہ اس کے قریب تھا۔ اتنا قریب کہ لارا کو سانس لینا مشکل ہو گیا اس کا اچانک دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا سانس مدھم پڑنے لگی تھی اس نے جوہن کو پیچھے ہٹانا چاہا مگر جوہن کی گرفت اس کے بازو پر اتنی سخت تھی کہ اس کی آنکھیں نم ہونے لگی اس کو روتا دیکھ کر جوہن نے فورا ہاتھ پیچھے کر لیے سیدھا ہوتے ہوتے وہ بری طرح کھانسنے لگی تھی اس کا سانس رک رک کر چل رہا تھا آنکھوں کے سامنے سب دھندلا ہونے لگا وہ اسے سائیڈ پر کرتی نیچے کی طرف جھکتی گئی

" لارا؟"

 جون نے پریشانی سے اس کو دیکھا کہ اچانک اسے کیا ہوا ہے، وہ گھبرا گیا تھا


" لارا کیا ہوا؟ کیا تم ٹھیک ہو؟"

 اس نے دھیرے سے اس کا بازو پکڑ کر اسے سہارا دینا چاہا مگر وہ سینے پر ہاتھ رکھے سڑک پر گر گئی 


" لارا کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو؟ کیا ہو رہا ہے تمہیں؟"


 وہ واقعی پریشان ہو گیا تھا لارا کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں اس نے اپنے بری طرح کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی پیٹھ پر جھولتے چھوٹے سے کلچ کو کھولا اندر ہاتھ مار کر کچھ باہر نکالا وہ ان ہیلر تھا اس کا سانس بند ہونے لگا اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا جوہن نے فورا وہ انہیلر اس کے لبوں میں دبا دیا لارا نے فورا گہرے گہرے سانس بھرنا شروع کر دیے کچھ لمحوں بعد وہ کھانستے ہوئے اٹھ بیٹھی جوہن شاکڈ سا پنجوں کے بل بیٹھا اس کو دیکھتا رہا


" لارا ! کیا ہوا ہے تمہیں کیا تم ٹھیک ہو؟  ہاسپٹل لے چلوں؟"

وہ بے قراری سے پوچھ بیٹھا لارا نے کوئی جواب نہیں دیا لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھی اور بنا اس کی طرف دیکھے اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی اس کے ہاتھ اب بھی بری طرح کانپ رہے تھے جوہن وہیں کھڑا اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اسے ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ اچانک لارا کو کیا ہو گیا تھا لارا نے کپکپاتے ہاتھوں سے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر سائیڈ ڈراز کھولی، ہاتھ مار کر ایک انگلی جتنی جار نکالی اندر بہت سی پلز تھیں تیزی سے ڈھکن کھول کر اس نے ایک پل نکالی اور اسے بنا پانی کے ہی نگل گئی اس کا کتا اس کے قدموں میں لوٹ رہا تھا اس نے کوئی دھیان نہیں دیا اس کا ذہن صرف ایک ہی چیز پر اٹکا ہوا تھا 


" مجھے نہیں مرنا، میں ابھی جینا چاہتی ہوں "

کچھ لمحوں بعد اس کی حالت مکمل طور پر نارمل ہو چکی تھی شاور لے کر وہ جب بیڈ پر لیٹی تو اس کا کتا چھلانگ لگا کر اس کے پاس آ بیٹھا 

" جوڈی!"

دھیرے سے مسکراتے اس نے کتے کے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اچانک اسے جوہن کا خیال آیا اس کا چلتا ہاتھ رکا 


" وہ کیا سوچ رہا ہوگا؟"

 وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی مگر پھر گہری سانس بھری اور کافی بنانے کے لیے کچن کی طرف بڑھ گئی


☆☆☆


رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ وہ اٹھ بیٹھی،کھڑکی سے ہلکی ہلکی بارش کی آواز آ رہی تھی، جیسے کائنات بھی خطرے کا اشارہ دے رہی ہو

فلیٹ میں سناٹا ایسا چھایا تھا کہ اس کے اپنے دل کی دھڑکن بھی اسے چیخ لگنے لگی تھی


 باہر کوئی اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری اس کا فلیٹ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا تھا ننگے پیر چلتی وہ دروازے کے بالکل پاس دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی 


دروازے کے پیچھے سے کسی کی سانسوں کی ہلکی آواز آ رہی تھی جیسے درندہ اپنے شکار کا انتظار کر رہا ہو،


باہر جو کوئی بھی تھا بڑی مہارت سے دروازے کا لاک کھولنے کی کوشش کر رہا تھا وہ چونکنی ہوئی کچھ تلاش کرنے کے لیے ارد گرد نظر دوڑائیں، کاوچ کے سامنے چھوٹی سی میز پر پھلوں کی ایک باسکٹ رکھی تھی جس کے ساتھ ایک چھوٹی سی چھری بھی پڑی تھی 


کلک۔۔۔۔۔

 وہ بھاگ کر میز کی طرف گئ جیسے ہی اس نے جھک کر چھری اٹھائی پیچھے کسی نے دروازہ کھولتے ہی اس پر گولی چلا دی، گولی کی آواز اتنی مدھم تھی جیسے کسی نے سانپ چھوڑ دیا ہو، گولی اس کے کھلے بالوں کو چھوتی بیڈ کے پائنتی میں جا لگی آنے والے نے گن پر سائلنسر لگا رکھا تھا اس کا وجود سیاہ لباس میں چھپا تھا اس نے دوبارہ لارا پر گولی چلانی چاہی مگر پلک جھپکتے ہی لارا نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ چھری اس کی طرف پھینک دی


چھری تاریکی میں تیر کی طرح نکلی اور فضا میں ایک لمحے کو خنجر کی چمک نے اندھیرے کو چیر ڈالا


خود کو بچانے کے لیے وہ سائیڈ پر ہوا مگر لارا نے اتنے اندھیرے میں بھی تاک کر چھری اس کی طرف پھینکی تھی جو اس کی گن پر لگی گن چھوٹ کر نیچے گری، وہ آدمی گن اٹھانے کے بجائے تیزی سے لارا کی طرف بڑھا


اس کے قدم قالین پر دھیمی چاپ کے ساتھ چلتے آ رہے تھے، جیسے وقت تھم گیا ہو، اور ہر قدم موت کے قریب لا رہا ہو


 مگر لارا اس سے پہلے ہی حرکت میں آئی اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے دائیں طرف بنے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جا گھسی دروازہ اس نے فورا لاک کر دیا وہ آدمی ہینڈل پر ہاتھ رکھے اسے زور زور سے گھمانے لگا لارا کا پھر سے سانس پھولنے لگا تھا پورے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی


" یہ کون تھا؟ جو اسے جان سے مارنے آیا تھا"


 بھاگ کر اس نے الماری کھولی اور ایک دراز کھول کر اس پر جھک گئی جب وہ دروازے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی تو اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خوف بھی تھا دروازے کے ہینڈل پر جھک کر اس نے باہر دیکھا وہ آدمی ہینڈل چھوڑ کر دروازے کو دھکے دینے لگا تھا سیدھا ہوتے ہوئے لارا نے دونوں ہاتھ دروازے کی طرف کر دیے اس کے ہاتھ میں گن تھی ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر اس نے دروازے پر گولی چلا دی پورا فلیٹ گولی کی آواز سے لرز اٹھا گولی دروازے کی لکڑی کو چیرتی ہوئی آر پار ہو گئی دوسری طرف اسے اس آدمی کے گرنے کی آواز آئی اس کے گرتے ہی فرش پر خون کا ہلکا سا چھینٹا پھیل گیا، جیسے کسی نے سرخ سیاہی انڈیلی ہو، اور پھر چاروں طرف خاموشی چھا گئی اس نے گن مزید مضبوطی سے پکڑ لی اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی سامنے وہ آدمی اوندھے منہ پڑا تھا اس کے جسم سے خون نکل رہا تھا وہ بالکل ساکت پڑا تھا لارا نے فورا فلیٹ روشن کر دیا اس آدمی کا چہرہ نقاب میں چھپا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں دھیرے سے جھکتے لارا نے اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ فورا حرکت میں آیا ایک زور کا مکا لارا کے پیٹ میں پڑا ،وہ تیورا کر پیچھے گری نقاب پوش تیزی سے اٹھا اس کے ہاتھ میں چاکو تھا پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے دوہری ہوتی وہ پیچھے کی طرف کھسکنے لگی وہ آدمی جیسے ہی آگے بڑھا لارا نے دوسری گولی چلا دی گولی چلاتے اس کا ہاتھ اس برے طریقے سے کانپا کہ گولی آدمی کے سینے کے بجائے اس کی ٹانگ میں لگی ایک مرتبہ پھر اس کا فلیٹ لرز کر رہ گیا، اس آدمی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی مگر وہ گرنے کی بجائے سیدھا کھڑے ہوتے دوبارہ اس کی طرف بڑھتا گیا لارا نے پھر سے گولی چلانی چاہی 

کلک،،،،

مگر اس بار کوئی آواز نہیں گونجی گولیاں ختم ہو چکی تھیں اس آدمی نے لارا کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور گھٹنا دوبارہ اس کے پیٹ میں مارا وہ درد سے بلبلا اٹھی، دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے درد سے چیختی وہ نیچے کی طرف جھکتی گئی 


" کک۔۔۔کون ہو تم؟  مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟"

 دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے لارا نے تڑپتے ہوئے اس سے پوچھا اس آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا لارا نے دیکھا اس کا چاقو والا ہاتھ ہوا میں بلند ہو رہا ہے لارا نے پلکیں جھپکائیں درد سے اس کا چہرہ پیلا پڑ رہا تھا جیسے ہی اسے مارنے کے لیے وہ قریب ہوا، لارا نے ہمت جمع کرتے پوری قوت سے گھٹنا اس کی ٹانگوں کے بیچ دے مارا چاقو نیچے گرا، تیزی سے گھومتی وہ اس کے قریب آئی، جیسے یہ وہ جھکا لارا نے اس کے منہ پر دوسرا گھٹنا مارا ساتھ ہی پیر مار کر اس نے چاقو دور کر دیا تھا لگاتار اور بنا رکے کئی گھونسے اس کے منہ اور پیٹ پر پڑے، پہلا وار ہی اس کے لیے اتنا بھاری پڑ گیا تھا، ورنہ وہ اتنے آرام سے پٹ نہیں رہا ہوتا 


" بول کون ہے تو شکل دکھا اپنی "


لارا نے درد کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر سے اس کا نقاب ہٹانا چاہا مگر اس آدمی نے سنبھل کر اسے پوری قوت سے پیچھے دھکا دے دیا لارا لڑکھڑاتی ہوئی شیشے کی میز میں جا لگی اس نے دیکھا وہ لنگڑاتا ہوا دروازے کی طرف بھاگا تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا مکمل طور پر بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے جو آخری منظر دیکھا تھا وہ اس آدمی کا ہاتھ تھا جس کی کلائی پر کچھ بنا ہوا تھا کچھ عجیب سا جیسے کوئی ٹیٹو ہو وہ سمجھ نہیں سکی 


کلائی پر بنا وہ نشان کوئی عام ڈیزائن نہیں تھا... کچھ تھا جو اسے کسی یاد سے جوڑ رہا تھا، مگر کون سی؟ وہ پہیلی ابھی باقی تھی


اس کے باہر نکلتے ہی وہ بھی مکمل طور پر بے ہوشی میں ڈوب گئی


To be continue 🙂🫶🏻

Comments

Popular Posts