Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

The Last Diamond - Episode 4 - Munaza Niaz - Escape, Thrilling & romantic novel

 


The Last Diamond 💎💫

By Munaza Niaz ✍🏻🖤

Episode 4


" کیا تم تیار ہو اس مشن کے لیے یا ابھی بھی کوئی سوال لے کر آئے ہو؟"


وہ اندھیرے میں ڈوبا ایک ہاتھ میں پن پکڑے ہوئے تھا اس کی آواز اتنی گہری تھی جیسے کوئی راز ہو 


" میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم ابھی بھی ان کے سسٹم پر ٹرسٹ کرتے ہو ؟"


جوہن نے سوالیہ پوچھا اس کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں تھیں 


" سسٹم لوگ نہیں ہوتے جوہن! سسٹم ایک گیم ہے جس میں ہم جیسے مہرے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہتے"


جوہن کی آنکھوں میں گلٹ تھا 


" تم کو مہرا نہیں ہو جم! تم ایک ہیکر ہو تمہارے پاس سب کچھ ہے پروف، ایکسیس، پاور، مگر تم پھر بھی چپ ہو "


جوہن غصے سے بولا 


" پاور تب کام آتی ہے جب اسے استعمال کرنے کی اجازت ہو اور یہاں صرف خاموشی کی اجازت ہے "


جم بے بسی سے مسکرایا پھر اس نے ہاتھ میں موجود پن جوہن کی طرف بڑھائی جوہن نے پریشانی سے اس کو دیکھا


" کیوں کر رہے ہو تم ایسا "


اس نے پن نئی پکڑا تھا جم نے زبردستی وہ پن ڈرائیو اس کے ہاتھ میں تھما دی پھر دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا


" تم میرے بھائی ہو جوہن! اور مجھے تمہارے علاوہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں، اگر کل کو میں نہ رہا تو تم اس کو کھول لینا اس میں میری اللیگل کمپنی کے سارے ثبوت اور راز ہے میں صرف ان کو جمع کرتا رہا ہوں مگر ان کے خلاف کبھی استعمال نہیں کر سکا میرے لوگوں کو مجھ پر شک ہو گیا ہے میں مزید اسے محفوظ نہیں رکھ سکوں گا اس لیے یہ تمہارے حوالے کر رہا ہوں، تم اسے سنبھال کر رکھنا"


 جم بولتے بولتے رک گیا وہ دونوں اس وقت ایک برج کے نیچے کھڑے تھے چاروں طرف اندھیرا تھا دور کہیں ٹریفک کی آوازیں گونج رہی تھیں 


" جب میں نے وہ سب چھوڑ دیا تھا تو تم کیوں نہیں چھوڑ سکے ؟"


جوہن نے وہ پن ڈرائیو جیکٹ کی جیب میں ڈالی جم دھیرے سے ہنسا جیسے کسی درد کو دبا رہا ہو


" کیونکہ مجھے ان بہت سے بے قصور اور معصوم لوگوں کو بچانا ہے جوہن! جو اس کمپنی اور اس کے ساتھ ملے ایک مافیا گینگ کی بھینٹ چڑھنے والے ہیں اگر میں مر گیا یا ناکام رہا تو تم وعدہ کرو جوہن! تم اسے پورا کرو گے اس کمپنی کے سارے راز اور ثبوت آرمی کو دو گے "


جم ایک قدم پیچھے ہٹا 


" جم تم۔۔۔"

 اس نے کچھ کہنا چاہا کہ بالکل اچانک ایک گولی جم کے سر کے آر پار ہوگی جم وہیں گر گیا جوہن نے شاکڈ سے جم کو دیکھا وہ وہیں ساکت ہو گیا تھا 


" ج۔۔۔جم "


جوہن کی آواز سرگوشی جیسی تھی جیسے کسی نے صور پھونک دیا ہو اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائی مگر وہاں اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔۔

☆☆☆ 


وہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی کے سامنے کھڑا اندھیروں کو دیکھ رہا تھا اسے وہ رات آج تک نہیں بھولی تھی، اپنے بھائی کے ساتھ ہوئی وہ آخری ملاقات اس کے ذہن میں نقش ہو گئی تھی اس نے الماری کھول کر وہ پن ڈرائیو باہر نکالی اتنے سالوں سے اس نے اس کو کھولنے کی بہت کوشش کی تھی مگر ہر بار ناکام رہا تھا


 ہاں وہ ان کاموں میں اناڑی تھا۔


اس کا بھائی بے موت مارا گیا تھا مگر وہ کچھ نہیں کر سکا تھا اس نے اس ڈرائیو کو دوبارہ کمپیوٹر میں ڈال کر کھولنے کی کوشش شروع کر دی مگر وہ ناکام ہوتا رہا ایک بار دو بار تین بار، بار بار، غصے سے کرسی دھکیلتے وہ جھٹکے سے اٹھا


" آخر یہ کھلتا کیوں نہیں ہے؟"


 وہ چلایا 


" کھل جا پلیز "

اس نے ایک آخری بار کوشش کی مگر۔


 ناکامی۔۔۔


 اس کا دماغ گرم، نیلی آنکھوں میں سرخ ڈوریں تیرنے لگیں گہری سانس بھر کر اس نے خود کو سنبھالا پھر باتھ روم میں چلا گیا لائٹ جلا کر اس نے شاور فل آن کر دیا پانی تیز دھار کی صورت اس کا جسم بھگونے لگا دھیرے دھیرے اس کی شرٹ اس کے خوبصورت جسم سے چپکنے لگی اس نے دہکتی ہوئی آنکھیں بند کی اور شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے لگا اگلے ہی پل وہ ماربل کے فرش پر پڑی تھی اس کی آنکھوں سے پانی بہہ نکلا 


" کیوں؟ آخر کیوں وہ اپنے بھائی کو بچا نہیں سکا تھا کیوں آج تک ان لوگوں کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا کب تک وہ ایسے ہی ناکام ہوتا رہے گا؟"


 تھوڑی دیر بعد وہ باہر نکل آیا اس کی نیلی آنکھیں اور خوبصورت چہرہ بالکل ویران تھے اگلی ہی لمحے وہ بیڈ پر اوندھے منہ جا گرا

☆☆☆

" لارا!۔۔۔ یہ کیا ؟"


وہ حیرت سے اسے دیکھتا اندر داخل ہوا لارا نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ بنا اس کی طرف دیکھے پلٹ گئی


" تم آخر مجھے کچھ بتاتی کیوں نہیں ہو؟ رات کو بھی تم نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور پھر یہ چوٹ کیسے لگی ؟"


وہ دروازہ بند کرتا اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا لارا کے ماتھے پر پٹی بندھی تھی اس نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا جوہن کا دماغ سنسنا اٹھا ایک تو پہلے ہی رات سے دماغ خراب تھا اور اوپر سے لارا مزید خراب کر رہی تھی 


" میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں، بتاو یہ چوٹ کیسے لگی؟"


کہنے سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا لارا تب بھی کچھ نہیں بولی بس اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی جہاں غصہ اور ناراضگی بیک وقت تھے 


" تمہاری خاموشی میرے صبر کا امتحان لے رہی ہے لارا!" 


وہ اس کے اتنا نزدیک تھا کہ لارا نے سانسیں روک لیں پھر دھیرے سے کہنی چھڑوا کر ایک قدم پیچھے ہٹی 


" گر گئی تھی!"


جوہن نے دوبارہ اس کا بازو پکڑ لیا


" تو پھر وہ کیا ہے؟"


 اس نے بنا دیکھے دائیں طرف دروازے کی جانب اشارہ کیا جہاں گولی کا سراخ تھا لارا نے تھوک نگلا 


" اور پوچھنے والے تم ہوتے کون ہو؟"


 وہ یک دم ہی غرائی جوہن نے فورا اسے چھوڑ دیا ماتھے کے بل مزید گہرے ہوئے 


"وہ... جو رات بھر تمہارے بغیر چین سے سو نہیں سکا۔"


جوہن نے خود سے سرگوشی کی تھی، لارا نے آنسو روک کر سر جھٹکا اور باتھ روم میں گھس گئی جوہن دھیرے سے صوفے پر بیٹھ گیا ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ اسے لارا کے رونے کی آواز آنے لگی وہ ایک جھٹکے  سے کھڑا ہوا 


" لارا کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو دروازہ کھولو "


اس نے ہینڈل گھمایا مگر وہ لاکڈ تھا اس نے دروازہ بجانا شروع کر دیا اندر لارا بدستور  روتی رہی 


"لارا! اگر تم نے ابھی دروازہ نہیں کھولا... تو سمجھ لو میں صرف تالا ہی نہیں، تمہاری یہ خاموشی بھی توڑ دوں گا!"


 تبھی لارا نے دروازہ کھول دیا اس کا چہرہ بھیگا اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھی


" کیا کہا لاک توڑو گے؟"

 وہ غصے سے بولتی اس کی طرف بڑھی 


"ہاں، کیونکہ کچھ بند دروازے صرف ہاتھوں سے نہیں... دل سے بھی کھلا کرتے ہیں۔"


وہ اپنی جگہ جما کھڑا رہا لارا نے گھور کر اس کو دیکھا


" لاک توڑنے کے لیے تمہیں صرف میرے گھر کے دروازے ملے ہیں؟"


 آنکھیں چھوٹی کیے لارا غصے سے بولی 


" میں صرف وہی دروازے توڑتا ہوں جہاں سے مجھے تم تک پہنچنا ہوتا ہے"


 جون نے اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائی تھی وہ یکدم ہی چپ ہو گئی


" آگے کا کیا پلان ہے؟"


اس کی سائیڈ سے گزر کر وہ کچن کی طرف بڑھ گئی اس نے جوہن کے ساتھ اس کی بات کو بھی نظر انداز کر دیا تھا لارا کا کتا جوہن کے گرد منڈلانے لگا اگلے ہی پل اس نے جوہن پر بھونکنا شروع کر دیا جوہن نے ناگواری سے اس کو دیکھا پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا مگر کتے نے اس کا راستہ روک لیا 


"لارا... اسے سمجھاؤ میں تمہارا کوئی ایکس نہیں ہوں، جو اس طرح بھونک رہا ہے!"


جوڈی نے اس کو کاٹنا چاہا مگر وہ پھدک کر بیڈ پر چڑھ گیا 


" کتا نہیں جوڑی کہو!"


 کافی پھینٹتے لارا نے جوہن کو دیکھا جو چھلانگ لگا کر اسی کی طرف بھاگا تھا کیونکہ جوڈی بیڈ پر بھی چڑھ گیا تھا


" اوکے اپنے کتے جوڈی کو کہو مجھے اس طرح مت دیکھے"


 لارا کو پکڑ کر اس نے اپنے سامنے کھڑا کر دیا لارا کی پیٹھ اب جوہن کی طرف تھی اور اس کے سامنے اس کا جوڈی کھڑا تھا جو واقعی جوہن کو کچا کھا جانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا لارا نے آنکھ سے جوڈی کو اشارہ کیا وہ دم ہلاتا وہیں بیٹھ گیا جوہن نے سکھ کا سانس لیا پھر لارا کا رخ اپنی طرف موڑا لارا نے پھر سے سانسیں روک لیں ایک تو پتہ نہیں کیوں وہ جب جب اس کے قریب آتا تھا لارا کا سانس رکنے لگتا تھا اس نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر جوہن نے ایسا نہیں ہونے دیا دونوں ہاتھ اس کے ارد گرد شیلف پر رکھے اس کا راستہ روک گیا لارا نے زور سے مگ کو تھام لیا جوہن کی بے چین نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں 


" اب بتاؤ کل رات کیا ہوا تھا؟"

 جوہن نے دھیرے سے پوچھا 


" کک۔۔۔۔کچھ نہیں"

 لارا مزید پیچھے کھسکی جوہن نے ایک لمحہ اس کو غور سے دیکھا پھر تھوڑا اور قریب ہوا لارا ہل نہیں سکی جوہن نے دھیرے سے اس کے چہرے پر بکھرے بال پیچھے کیے، لارا کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی، جوہن کی بھاری سانسیں اس کے ماتھے کو چھو رہیں تھیں،  پھر وہ گہری سانس بھرے ایک قدم پیچھے ہوا


" ٹھیک ہے جب تم مجھ پر اعتبار کرنے لگو تو بتا دینا کیا معلوم تب میں تمہارے کسی کام آ سکوں "


اس نے کندھے اچکائے لارا کی مگ پر گرفت ڈھیلی پڑی، ایک ٹھنڈی سانس باہر نکالی، پھر یک دم اس نے مگ شیلف پر پٹخے ایک دم غصے سے اس کو دیکھا 


" میں تم سے ناراض ہوں اور خبردار جو میرے قریب آئے "


جوہن نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس کو دیکھا


ناراض ہو یا خفا... تمہارا خیال ہر حال میں رہنا ہے مجھے۔۔۔اس نے دل میں کہا،


" کیا واقعی؟"

وہ دھیرے سے مسکرایا


" ہاں بالکل اب اگلے مشن پر جانے کے لیے تمہیں میرا پلان ماننا ہوگا کیونکہ میں تمہاری اب کوئی بھی بات نہیں سننے والی"


 اس نے کافی کا گھونٹ بھرا جوہن نے فورا مسکراہٹ دبائی 


"پلان تو تمہارا چلے گا... لیکن تمہاری ہمت پر فدا ہو گیا ہوں میں۔۔۔۔۔" 


" اور ہاں! مجھ سے فضول بات کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے"


لارا نے اس کی بات کاٹی اور کچن سے باہر نکل گئی جوہن ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا

☆☆☆

" سٹیفن ہمارے لیے آسان ٹارگٹ نہیں تھا مگر بن ضرور گیا تھا مجھے پورا یقین ہے اس کے آدمی ہر جگہ کتوں کی طرح پھیلے ہمیں ڈھونڈ رہے ہوں گے "


جوہن پہاڑ کے ڈھلانی رستے کا موڑ آہستہ سے کاٹتے ہوئے بولا ایک ہفتے بعد وہ دونوں پھر سے پوری تیاری کے ساتھ اپنی دوسری منزل پر روا دوا تھے تھوڑی دیر بعد جوہن نے گاڑی روک دی


" آگے ہمیں تھوڑا پیدل چل کر جانا ہوگا جیمز ہمارے لیے آسان نہیں ہوگا ہیرے کی چوری کی خبر باقی دونوں تک بھی پہنچ چکی ہوگی اب ہمیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے"


 دونوں نے ایک ایک بیگ پیٹھ پر باندھ رکھے تھے لارا نے اس کی سنی ان سنی کرتے ارد گرد کے مندر پر نظر ڈالی شام ہو رہی تھی دور ایک پہاڑ کی چوٹی پر سورج غروب ہو رہا تھا پہاڑ کے دائیں بائیں جنگل تھا گھنا خوبصورت اور خطرناک جنگل اور پہاڑ کے درمیان ایک بہت بڑا جھرنا تھا جنگلی پرندوں کی چہچہاٹ سے پورا جنگل گونج رہا تھا وہ ایک سحر میں جکڑی گئی وہ پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس خوبصورت منظر کو دیکھ رہی تھی 


" خوبصورتی میں بھی خطرہ چھپا ہوتا ہے!"


 اس کے ساتھ کھڑے ہو کر جوہن نے دھیرے سے تبصرہ کیا 


" بالکل صحیح کہا اس لیے مجھ سے ذرا دور رہا کرو"


 سر جھٹک کر وہ پھر سے اس چھوٹی سی سڑک پر چلنے لگی جوہن نے پہلے گہری سانس بھری پھر اس کے ہم قدم ہوا 


" تم ابھی تک ناراض ہو مجھ سے؟"


اس نے پوچھا لارا نے اسے رک کر ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ تم تو ہو ہی گدھے


" ارے یار اب کی بار پورا پلان تمہارے سامنے رکھ کر تمہارے مشورے سے بنایا ہے، پھر کیوں ناراض ہو رہی ہو پچھلے ایک ہفتے سے میں معافی مانگ مانگ کر بھول چکا ہوں کہ میں معافی مانگ کیوں رہا ہوں"


 وہ جھنجھلایا 


" زیادہ بنو مت تم ہو ہی اس قابل! میرا فی الحال تمہیں معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میں ابھی تک اسی لیے تمہارے ساتھ ہوں کیوں کے مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے ہیروں کو حاصل کرنے کے بعد ان کو بانٹ کر ہم اپنے راستے جدا کر لیں گے میں یہ ملک چھوڑ کر چلی جاؤں گی میں نے پہلے اتنا بڑا ہاتھ نہیں مارا اس سب میں جان کا بھی خطرہ ہے میں پھر بھی تمہارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئی اب میں تم سے آخری بار کہہ رہی ہوں کام کے علاوہ مجھ سے کوئی بھی فضول بات مت کرنا۔۔۔اور"


تیزی سے قدم اٹھاتے وہ اس سے ذرا فاصلے پر ہوئی


" مجھ سے دور رہا کرو!"


جوہن کے قدموں کے ساتھ اس کا سانس بھی رکا، دل یکدم ہی بھاری ہوا پتا نہیں کیوں مگر اس کا دل کیا ابھی وقت کو روک لے وہ ہیں کہیں لارا کے ساتھ گم ہو جائے، اس کے سوا کسی کو دیکھے بھی نہ،نہ کسی کو یاد کرے یہاں تک کہ خود کو بھی بھول جائے ، مگر پھر سنبھل کر وہ پھر سے چلنے لگا اس کا دماغ لارا کی آخری باتوں میں الجھ گیا، کیا وہ واقعی میں نہیں جانتی کہ وہ کیا چاہتا ہے تقریبا بیس منٹ پیدل چلنے کے بعد وہ ایک جگہ پر آن رکے وہاں دو چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کے بیچ ایک خوبصورت سا بھورا اور سفید ہاؤس تھا دور سے دیکھنے پر وہ ان پہاڑوں کا حصہ ہی معلوم ہوتا تھا وہاں پر کچھ گارڈز پہرا دے رہے تھے ان بہت سے چھوٹے بڑے پتھروں کے بیچے چھپے وہ دونوں ہر چیز کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہے تھے 


" ہم سامنے سے نہیں جا سکتے ہمیں دائیں طرف کی دیوار پر چڑھنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے "


جوہن نے دھیمی آواز میں بنا اس کی طرف دیکھے سرگوشی کی لارا نے پہلے دیوار پھر جوہن کو دیکھا اسے لگا جوہن کا دماغی توازن ہل گیا ہے وہ اسے تقریبا ستر فٹ اونچی دیوار پر چڑھنے کا کہہ رہا تھا یعنی اگر وہ بیچ میں ہی پھسل کر گر گئے تو ان کے جسم کے ٹکڑے بھی نہ بچیں لارا نے تھوک نگلا


" اگر یہ لطیفہ ہے تو بیکار ہے مجھے بالکل بھی ہنسی نہیں آئی اور اگر تم سیریس ہو تو میں بالکل بھی نہیں ہوں ارے تم پاگل تو نہیں ہو گئے"


" تم نے آنا ہے یا یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں"


 جوہن نے ترچھی نظروں سے لارا کو دیکھا، لارا کا دل کیا اسے اٹھا کر ان گارڈز کے سامنے ہی پٹخ دے اور وہ گارڈ اس کی دھلائی کر کے اسے اٹھا کر کتوں کے سامنے پھینک دیں اگر وہ وہاں سے بھی بچ گیا تو وہ خود اسے اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا کر اسے دھکا دے دے لیکن وہ یہ صرف سوچ ہی سکی گارڈز کی نظروں سے بچتے وہ دونوں اس سے بڑی اور لمبی دیوار کے پاس پہنچے ان دونوں نے ہی اپنے اپنے بیگ سے رسیاں نکالی رسی کے ساتھ ایک لوہے کا ہک جڑا تھا جوہن نے بازو لمبا کر کے اس ہک کے ساتھ لگا آلہ کا بٹن دبایا رسی گولی کی سی سپیڈ سے اوپر گئی دیکھتے ہی دیکھتے وہ دیوار کی منڈیر پر لگ گیا جوہن نے رسی کھینچ کر دیکھی تھی وہ مضبوط تھی لارا نے بھی ایسا ہی کیا، جوہن اب مہارت سے رسی کو پکڑے اوپر چڑھنے لگا ان دونوں نے ہی کمر کے گرد ایک ایک بیلٹ باندھ رکھے تھے جو ان کی رسی کے ساتھ نتھی تھے لارا بھی اسی کے انداز میں اوپر چڑھنے لگی سورج مکمل غروب ہو چکا تھا ہر طرف گہرا سناٹا چھایا تھا دور کہیں جنگل میں خطرناک جانوروں کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں چھت سے وہ صرف تھوڑا ہی دور تھے کہ اسے لارا کے پھسلنے کی آواز آئی وہ ہلکی سی چیخی پھر جلدی سے اپنا ایک ہاتھ منہ پر رکھ دیا اس کا توازن بگڑ گیا دوسرا ہاتھ اس کا ڈھیلا پڑا اس سے پہلے کہ وہ رسی چھوڑتی جوہن نے تیزی سے اس کی کلائی پکڑ لی لارا نے لب بھینچے جوہن کا وہی ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ سے پکڑ لیا 


" کیا تم ٹھیک ہو؟"


 اندھیرے میں وہ اس کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا جہاں مارے خوف کے اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے  جوہن کو محسوس ہوا اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے ہیں 


" ہاں میں ٹھیک ہوں!"

لارا کی آواز میں لرزش تھی خشک ہونٹوں پر زبان پھیرے وہ دھیمی آواز میں بولی 


" میں تمہیں اوپر کھینچنے لگا ہوں تم تیار ہو جاؤ"


 لارا کا دل دھک دھک کرنے لگا اس نے مزید مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ایسا نہیں تھا کہ وہ موت سے ڈرتی تھی مگر اسے ہائی فوبیا تھا اور دوسرا جوہن نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی اگلے ہی لمحے جوہن نے پورا زور لگا کر اسے اوپر کھینچا کچھ اس کی مدد سے کچھ اپنی مدد سے وہ اس کے بالکل برابر آگئی تیزی سے اس کی گردن کے گرد اپنے بازو حمائل کیے لارا نے گہرے گہرے سانس بھرنا شروع کر دیے اس کا تنفس بگڑنے لگا تھا وہ کچھ سمجھ بھی نہیں پا رہی تھی جوہن نے ایک ہاتھ سے رسی کو دوسرے سے اس کو کمر کے گرد تھام رکھا تھا 


وہ اس کے سینے سے لگا اس کی تیز ہوتی دھڑکن محسوس کر سکتا تھا۔


" کیا یہیں لٹکے رہنے کا ارادہ ہے!"


 جب وہ کافی دیر تک اس سے الگ نہ ہوئی تو جوہن نے شرارتی آواز میں کہا لارا نے اپنا چہرہ اس کے سامنے کر کے آنکھیں چھوٹی کیے اس کو دیکھا وہ مسکراہٹ دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کا گلا دبانے کی خواہش فلحال رد کرتے لارا نے پھرتی سے رسی کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اب وہ اس کے سہارے سے اوپر چڑھنے لگی تھی چھت پر چڑھ کے اس نے جلدی سے جوہن کی طرف جھک کر ہاتھ بڑھایا دونوں ہاتھوں سے اس کا ایک بازو پکڑ کر اس نے پورا زور لگا کر کھینچا جوہن نے رسی چھوڑ دی اس کے بری طرح کھینچنے پر وہ اس کے اوپر آ گرا اس بڑی سی چھت پر اتنا اندھیرا تھا گویا وہاں کبھی صبح ہوئی ہی نہ ہو 


جوہن نے لارا کی اندھیرے میں چمکتی سبزی مائل سنہری آنکھوں کو دیکھا وہ ایک لمحے کے لیے کسی سحر میں جکڑا گیا تھا اندھیرے میں بھی اس کی آنکھیں کسی جگنو کی مانند چمک رہی تھی وہ اس کے اوپر سے ہٹنا بھول گیا تھا لارا کا دم گھٹنے لگا اس نے اسے ہٹانا چاہا مگر وہ بھی ایسا نہیں کر پائی اس کی نیلی آنکھوں میں نا جانے ایسا کیا تھا کہ وہ ان میں ڈوب جانا چاہتی تھی


کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھنے بعد وہ خود ہی مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا وہ بھی تیزی سے سیدھی ہوئی ان دونوں نے ہی ارد گرد نظریں دوڑائیں، انہیں اندھیرے میں ایک دروازہ نظر آیا جو یقینا نیچے جانے کے لیے تھا 


" خبردار جو تم نے گن نکالی!"

 لارا نے دروازے پر پہنچ کر اسے پہلے ہی وارن کر دیا تھا پھر اس نے تیزی سے اپنی بالوں سے پن نکالی اور اسے دروازے کی سلاخ میں گھسا دیا مگر یہ کیا جوہن نے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول دیا پھر وہ مسکراتے ہوئے اندر چلا گیا لارا ہکا بکا کھڑی کی کھڑی رہ گئی اتنی بےعزتی تو آج تک کسی نے بھی نہیں کی تھی دانت پیستے اس نے ٹارچ نکالی اور اندر داخل ہو گئی دروازے سے اندر دائیں طرف سیڑھیاں تھی وہ دونوں بنا آواز کیے تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگے ان دونوں نے اپنے چہروں پر ماسک چڑھا لیے تھے دو منٹ بعد وہ ایک راہداری کے سامنے کھڑے تھے جہاں دونوں اطراف بہت سارے کمرے تھے پوری راہ داری میں اندھیرا تھا انہوں نے ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ پوری راہداری روشن ہوگی وہ تیزی سے سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپ گئے ایک شخص راہداری کے آخری کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل رہا تھا وہ حلیے سے شیف معلوم ہوتا تھا وہ مڑ کر انہی کی طرف آ رہا تھا جہاں وہ دونوں چھپے ہوئے تھے اس کے ایک ہاتھ میں پلیٹ تھی جس میں کھانے کے کچھ لوازمات بچے تھے تب ہی انہوں نے آگے ہو کر دیکھا وہ مزید سیڑھیاں اتر رہا تھا بائیں طرف مڑ کر وہ ایک کمرے میں داخل ہو گیا اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتا وہ دونوں گن پکڑے دندناتے ہوئے اندر داخل ہو گئے 


" کوئی آواز نہیں "


گن اس کی طرف کیے جوہن دھیمی آواز میں غرایا پلیٹ شیف کے ہاتھ سے گر کر چکنا چور ہو گئی جوہن غصے سے آگے بڑھا اور گن کا دستہ زور سے اس کے سر پر مارا وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑا دونوں نے ارد گرد نظریں دوڑائی، کچن کافی کشادہ تھا


" تم یہیں رکو میں آتا ہوں اور ہاں خیال رکھنا کہیں یہ واپس ہوش میں نہ آ جائے"


 لارا کو کہتا وہ تیزی سے باہر نکل گیا لارا نے گن نکالی اور اس بے ہوش شیف پر تان کر کھڑی ہو گئی بس ایک غلطی اس سے یہ ہوئی تھی کہ وہ دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازے سے کوئی دبے قدموں اس کی پیٹھ پر آ رکا اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی جیسے ہی وہ تیزی سے مڑی سامنے کھڑے دو آدمیوں میں سے ایک نے اس کے ہاتھ سے پھرتی سے گن جھپٹ لی دوسرے ہاتھ سے کھینچ کر اسے تھپڑ مارا جب کہ دوسرے آدمی نے تیزی سے جھک کر اس کے دونوں ہاتھ پیٹھ پر کر کے رسی سے مضبوطی سے باندھ لیے 


" اٹھو کون ہو تم بتاؤ اور تم اندر کیسے گھسی؟"


 پہلا آدمی اس کی گردن پکڑے غرایا، لارا کا دم گھٹنے لگا اس سے پہلے کہ وہ اس کا ماسک اتار کر اس کا چہرہ دیکھتا لارا نے زور سے گھٹنا اس کے بیچ میں دے مارا اس آدمی نے فورا اس کی گردن چھوڑ دی تکلیف سے چہرہ پیلا پڑنے لگا دوسرے تیزی سے اس کے قریب آیا اور کھینچ کے اسے دوسرا تھپڑ دے مارا وہ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ وہ اگلے ہی پل فرش پر گری اور بے ہوش ہو گئی


جاری ہے

Comments

Post a Comment

Popular Posts