Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

The Last Diamond - Episode 5 - Urdu Thirll romantic Novel - Suspense Novel - Escape & Revenge

 


The Last Diamond 💎💫

By Munaza Niaz ✍🏻🖤

Episode 5


کچن سے نکل کر وہ پھر سے سیڑھیاں چڑھ گیا واپس اسی راہداری میں پہنچ کر اس نے غور سے ارد گرد کا جائزہ لیا پھر وہ اپنے دائیں طرف بنے ایک کمرے میں جا گھسا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی 


پورا کمرہ اسلحے سے بھرا ہوا تھا۔  

دیواروں پر، میزوں پر، شیشے کے ریک میں,

ہر کونے میں ہتھیاروں کا ڈھیر لگا تھا۔  

بم، گنز، بارودی دستے, ہر وہ چیز جو کسی بھی بستی کو راکھ میں بدل سکتی تھی۔


کچھ دیر بعد اسے شور سنائی دیا وہ چونک کر دروازے پر پہنچا ہلکی سی درز سے اس نے باہر جھانکا وہاں ایک شخص کچھ لوگوں کے ہمراہ سیڑھیوں  کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیا، وہ شخص جیمز تھا اس کے جانے کے بعد وہ باہر نکل آیا کچھ سوچ کر وہ تیزی سے جیمز کے کمرے میں جا گھسا بس یہی موقع تھا اس کے پاس اسے پورا یقین تھا وہ ہیرا اس نے اپنے کمرے میں ہی کہیں چھپایا ہوگا جیسے ہی وہ دروازہ بند کر کے مڑا اس کی نظر سامنے بیڈ پر بیٹھی بھورے بالوں والی ایک لڑکی پر پڑی وہ حیرت اسے دیکھ رہی تھی


" کوئی ہوشیاری نہیں کرنا"

 لڑکی کا اپنے فون کی طرف بڑھتا ہاتھ  رک گیا جوہن گن اس پر تانے اس کے سر پر جا پہنچا لڑکی کے برہنہ کندھوں پر عجیب و غریب قسم کے ٹیٹو بنے ہوئے تھے 


" اٹھو"

 وہ لڑکی گھبرا کر بیڈ سے نیچے اتری اس کے سر پر گن رکھے وہ اسے چلنے کا کہہ رہا تھا تب ہی بالکل اچانک اس نے چونک کر دائیں طرف کی دیوار کو دیکھا وہ کچھ عجیب سی دکھ رہی تھی، 


" رکو، اس دیوار کے پیچھے کیا ہے؟"


 گن کی نال سے اس کے سر پر زور دیا


" مجھے نہیں معلوم"

 وہ یک دم ہی گھبرا گئی 


"ایک اور جھوٹ... اور گولی سیدھی تمہارے دماغ میں جا گھسے گی۔  

اب بٹن دباؤ , فوراً۔"


غصے سے گھورتے ہوئے اسے دیوار کی طرف دھکیل دیا لڑکی کے چہرے پر ہوائیں اڑنے لگی نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اس نے دیوار پر ٹنگی ایک پینٹنگ اتار دی وہاں ایک چھوٹا سا بورڈ لگا تھا ایک نظر جوہن کو دیکھ کر اس نے بٹن دبا دیا اگلے ہی لمحے دیوار کسی دروازے کی طرح کھل گئی اسے لیے وہ اندر چلا گیا دیوار خود بخود بند ہو گئی یہ اُس ولن کا مینشن تھا، جس کی شکل کم اور سائے زیادہ دیکھے گئے تھے۔  

اوپر سے یہ جگہ عام لگتی تھی


 پر سکون، خاموش اور مہذب۔  


لیکن نیچے؟ نیچے ایک اور دنیا چھپی ہوئی تھی۔


وہاں سیڑھیاں ظاہر ہوئیں،

سیڑھیاں کسی عام تہہ خانے کی طرف نہیں، بلکہ اُس کمرے کی طرف جاتیں جہاں دنیا کا تیسرا قیمتی ہیرا چھپا تھا۔


یہ تہہ خانہ کوئی سیف روم نہیں، بلکہ ایک زیر زمین لیبارٹری جیسا محسوس ہوتا تھا۔  


دیواروں میں embedded heat lasers، motion traps اور UV coded locks لگے تھے،


 جو صرف جیمز کے بایومیٹرک سگنل پر کھلتے۔


ہیرا ایک گلاس چیمبر کے اندر تھا، جس کی حفاظت خودکار گولی فائر کرنے والے سنسرز کرتے تھے


اس چیمبر کے نیچے زہریلی گیس کی نالی تھی، اگر کسی نے غلطی کی... تو سانس لینا بھی سزا بن جاتا۔


یہ جگہ نہ صرف ایک خزانے کا قید خانہ تھی، بلکہ  جیمز کے گناہوں کی گواہ بھی۔  

اور شاید... یہی جگہ اُس کا اختتام بھی بننے والی تھی

وہ آہستہ قدموں سے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

ہر قدم کے ساتھ تاریکی گہری ہو رہی تھی، اور فضا میں ہلکی سی سنسناہٹ تیرنے لگی تھی۔

اس کی نظر گلاس چیمبر کے بیچوں بیچ جگمگاتے ہوئے ہیروں پر جمی ہوئی تھی۔

"تیسرا ہیرا..." وہ زیر لب بڑبڑایا۔

 جبکہ وہ لڑکی خاموش کھڑی تھی


لیکن اسے معلوم تھا  یہ صرف ایک چمکتا پتھر نہیں، ایک جال تھا۔

اس نے اپنی گھڑی کی اسکرین پر UV کوڈز detect کرنے والا mode activate کیا۔

ایک لمحے میں دیواروں پر نیلی روشنیوں کے pattern ظاہر ہونے لگے، ایک labyrinth جیسا maze، جس میں ایک بھی غلط قدم اسے موت کی طرف لے جا سکتا تھا۔

وہ جھک کر زمین پر بیٹھا، اور pocket سے micro drone نکالا۔


"تم ہی بتاؤ گے، safe zone کہاں ہے۔" اس نے ڈرون ہوا میں چھوڑا، جو دھیمی آواز کے ساتھ چیمبر کے گرد گھومنے لگا۔

چند لمحوں بعد ڈرون کی لال بتی سبز میں بدلی۔

"راستہ صاف ہے... ابھی کے لیے۔"

لڑکی بغور اسے حیرت زدہ سی دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا

وہ تیز، مگر ہلکے قدموں سے چیمبر کے قریب پہنچا

اور تب، سنسرز نے حرکت پکڑی۔

تت تت تت تت۔۔۔!

سائڈ وال سے ایک automated turret نکل آیا۔

لیکن اس سے پہلے کہ گولیاں چلتی،

اس نے اپنی جیکٹ کی سلیو سے laser reflector disk نکالی اور سامنے اچھال دی۔


Turret کی گولی اُس disk سے ٹکرا کر opposite wall پر جا لگی ، اور system temporarily confused ہو گیا۔

"اب یا کبھی نہیں۔"

وہ ایک جھٹکے میں گلاس چیمبر تک پہنچا،

اپنے gloves سے چیمبر کا surface scan کیا،

پھر اپنے pendant کو scanner پر رکھا، وہ pendant جو جیمز کے DNA sample سے چھپ کر بنایا گیا تھا۔

چِررررر۔۔۔!

گلاس چیمبر دھیرے دھیرے کھلنے لگا۔

اور جیسے ہی وہ ہیرا اُس کے ہاتھ میں آیا،

کوئی سرخ بتی نہیں جلی،اس نے سکھ کا سانس لیا، 

وہ ہیرا اب اس کے بیگ میں تھا بیگ پہن کر اس نے لڑکی کو واپس چلنے کا اشارہ کیا لیکن پھر اچانک وہ ٹھٹک کر رک گیا وہاں بائیں طرف ایک کمرہ تھا تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اندر داخل ہو گیا، سامنے کا منظر دیکھ کر ایک لمحے نے اسے خوف میں جکڑا تھا پیچھے کھڑی لڑکی نے جب اندر جھانکا تو ایک خوفناک چیخ اس کے لبوں سے نکلی جوہن نے گھوم کر اس کا منہ دبوچ لیا 


" چلاو مت"

وہ لڑکی رونے لگی تھی اس بڑے سے کمرے میں دیواروں پر لڑکیاں شیشے کے تابوت میں بند تھی کچھ اس طرح کہ ان کے جسم کے حصے الگ الگ تھے وہ لڑکیاں بہت خوبصورت تھی دیواروں پر چاروں طرف شیشے میں ان کا سر اور باقی ٹکڑے ترتیب سے رکھے ہوئے تھے، ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں کمرے کے درمیان ایک بڑی میز پر بہت سے چھوٹے بڑے کلہاڑے پڑے تھے پورا کمرہ ٹھنڈا تھا برف جیسا ٹھنڈا


جیمز کا تابوت خانہ  

" The Tombs of Beauty and Death " 


اس کا دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا۔  

سانس اندر لے تو سکا، مگر باہر نکالنا مشکل ہو گیا۔  

"یہ... یہ کیسا جنون ہے؟"  

اُس نے خود سے سرگوشی کی۔ اس لڑکی کو لیے وہ تیزی سے باہر نکل گیا


"خدا کے لیے مجھے بچا لو!  

میں نہیں چاہتی کہ میری لاش بھی کسی تابوت میں سجے!  

میں تمہاری مدد کروں گی...  

بس مجھے ساتھ لے چلو، مجھے بچا لو!"  

وہ بےقابو ہو کر رو رہی تھی۔

جوہن نے گن اس کے سر سے ہٹا دی


" ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ "

وہ دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اس لڑکی نے تیزی سے میز پر رکھی بوتل اٹھائی اور اسے جوہن کے سر پر مارنا چاہا مگر وہ تیزی سے گھوم کر اس کی کلائی جکڑ چکا تھا دوسرے ہاتھ سے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے نازک گال پر مارا پھر اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا بوتل لڑکی کے ہاتھ سے چھوٹ کر کارپٹ پر گر گئی تھی


" میں چاہوں تو تمہیں ابھی ان لڑکیوں کی قطار میں کھڑا کر دوں گا مگر میں نہیں جیمز ایسا کرے گا اور وہ ضرور کرے گا اب چلو میرے ساتھ"


 ایک اور تھپڑ مار کر اسے دروازے کی طرف دھکا دے دیا گن اس کے سر پر پھر سے رکھ دی 


سیڑھیوں کے آخری دہانے پر وہ دونوں رکے

نیچے اس بڑے سے ہال کا منظر دیکھ کر جوہن کی سانس رکنے لگی اس نے سختی سے اس لڑکی کا منہ دبوچ کر دائیں طرف دیوار کے پیچھے چھپا دیا


" اس کا ماسک اتارو "


صوفے پر بیٹھے جیمز نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا اس آدمی نے تیزی سے لارا کے چہرے سے وہ ماسک اتار دیا 


" ارے یہ تو وہی لڑکی ہے جیمز، مجھے یاد ہے کہ یہ وہی ہے جو اس رات مجھ سے ہیرے کا پوچھ رہی تھی"


 اس کے ساتھ بیٹھا سٹیفن حیرت سے چیخ اٹھا لارا نے خونخواہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا 


" ارے واہ یہ تو پھر خود چل کر ہمارے پاس آگئی ہم نے فضول میں اپنے آدمی ہر طرف پھیلا رکھے تھے خیر اسے یہاں لے کر آؤ"


 ایک آدمی نے اسے پکڑ کر جیمز کے سامنے لاکھڑا کیا پھر اس نے لارا کے گھٹنے پر پیر مارا وہ تیزی سے جیمز کے سامنے گری 


" میرا ہیرا کہاں ہے ؟"


اسٹیفن چلایا 


"ہاں... میرا کتا کھا گیا تھا وہ ہیرا!"  

وہ اسٹیفن کو نفرت سے گھورتی ہوئی بولی،  

جیسے اس کے منہ پر تھوک دیا ہو۔ وہ ہیرا جوہن کے پاس تھا وہ سمجھا وہ اسے کتا کہہ رہی ہے غصے میں اس نے اپنے بازووں میں مچلتی لڑکی کی گردن پر دباو دیا وہ بے ہوش ہو کر اس کے بازووں میں جھول گئی سائیڈ پر تقریبا پھینکتے ہوئے اس نے بیک سے دو ڈبیاں نکالیں


"زبان کھول... ورنہ میں وہ دکھاؤں گا جس کا ذائقہ تم نے آج تک نہیں چکھا۔"


جیمز نے اس کے بال پکڑ کر غصہ سے اس کا چہرہ اپنے قریب کیا، لارا کے ہاتھ ابھی تک پیٹھ پر بندھے تھے 


" میں۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔بتاؤں۔۔۔۔ گی!"

وہ چبا چبا کر بولی جیمز نے اس کے بال چھوڑ دیے تیسرا تھپڑ اسی گال پر پڑا جہاں پہلے دو پڑھے تھے رخسار کی ہڈی سے خون بہہ نکلا اس کی آنکھوں میں نمی آگئی 


اس کے صبر کی آخری حد پھٹ چکی تھی۔  

وہ صرف مشن پر نہیں تھا،  

اب یہ ذاتی ہو چکا تھا۔ جوہن نے دانت پیستے اس منظر کو دیکھتے اپنی گن نکالی دونوں ڈبیاں اس نے ہال کی طرف پھینک دی فرش پر گرتے ہی دو دھماکے ہوئے کالا گاڑھا دھواں ہر طرف پھیلنے لگا 


" یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟"

جیمز چہرے کے سامنے ہاتھ مارتا کھانستے ہوئے چلایا وہاں سب ہی بری طرح کھانس رہے تھے انہوں نے بیرونی دروازے کے کھلنے کی آواز سنی


" وہ بھاگ رہی ہے پکڑو اسے"

 اسٹیفن چلا یا وہ سب اندھا دھند دروازے کی طرف بھاگے باہر نکلتے ہی وہ سب چاروں طرف پھیل گئے، مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا 


" میرا ڈائمنڈ ۔۔۔"

جیمز تیزی سے اپنے کمرے کی طرف دوڑا مطلوبہ جگہ پہنچتے ہی وہ تیش میں آ گیا، 

ہیرا غائب تھا۔


" وہ دونوں زندہ نہیں رہنے چاہئے"

جیمز گھوم کر اپنے آدمیوں پر چلایا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ لڑکی اکیلی نہیں تھی وہ سب تیزی سے اس وائٹ ہاوس سے باہر نکلے 


" ڈیوڈ! وہ دونوں مجھے زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں ضرور چاہیے"


 جیمز اپنے خاص آدمی پر چلایا، ڈیوڈ اس کی بات پر سر ہلاتا اپنے مزید آدمیوں کو لیے باہر نکل گیا دھواں  آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا تبھی اس کی نظر سیڑھیوں کی دیوار کے ساتھ فرش پر بے سدھ پڑی لینا پر پڑی وہ بھاگ کر اس کے  پاس پہنچا وہ بے ہوش تھی اسے اٹھائے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ سٹیفن اپنے آدمیوں کے ہمراہ ان کی تلاش میں نکل چکا تھا


" لینا۔۔؟ وہ اس ہیرے تک کیسے پہنچا مجھے بتاؤ "

اس کا چہرہ تھپتھپاتے وہ بے چینی سے بولا لینا نے آہستہ سے آنکھیں کھولی پھر روتے ہوئے وہ اس سے لپٹ گئی


" اس نے مجھے یرغمال بنایا جیمز! ورنہ میں کبھی اس کو نہیں بتاتی"


 وہ اس کے قریب ہوا، مگر چہرے پر افسوس نہیں ایک خاموش طنز تھا۔  


"تم نے میری مدد کی، لینا... بس آخری بار۔"


" پلیز سوری جیمز! میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا اس نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی"


" کوئی بات نہیں لینا، میں سمجھ سکتا ہوں"


 اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ دھیرے سے مسکرایا وہ پھر بھی روتی رہی


" کم آن مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے میں جانتا ہوں تم نے اسے روکا بھی ہوگا مگر خیر کوئی بات نہیں فلحال میں تھوڑا پریشان ہوں اس لیے میں چاہتا ہوں تو مجھے اس پریشانی سے دور لے جاؤ "


لینا اس کی بات پر بے اختیار مسکرائی تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ بیڈ سے اترا اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھول کر اس میں سے ایک گن نکالی لینا کا گلا خشک ہوا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے ساری گولیاں لینا میں اتار دی اس کا وجود ساکت ہو گیا


اب وہ اس کا مردہ وجود بانہوں میں لیے دیوار کی طرف بڑھ رہا تھا۔  

آنکھوں میں رحم نہیں سفاکیت تھی اور صرف ایک سوال تھا 

"کون ہے اگلا؟"


جاری ہے😁🫶🏻

Comments

Popular Posts