Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

The Last Diamond - Episode 7 - Second Last Episode - Urdu Action Romantic Novel - Thrilling Novel

 

The Last Diamond 💎💫

By Munaza Niaz ✍🏻🖤

Episode 7


نیو یارک کی گلیاں بارش کے قطروں سے بھیگ رہیں تھیں جوہن اور لارا، بھیگتے ہوئے سڑک کے کنارے کھڑے ایک کافی کیوسک سے کپ لے رہے تھے

لارا نے بڑی سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا

"تمہیں پتا ہے؟ جب میرے پاس سب کچھ تھا، تب بھی میں ادھوری تھی مگر اب کچھ نہیں ہے... لیکن تم ہو۔"

جوہن مسکرایا

"جب تم ساتھ ہو، تو پورا شہر میرا لگتا ہے۔"

جوہن نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی وہ مسکرا دی


دونوں سڑک پر چل پڑے، کیپز پہنے، ہنستے، بھیگتے، ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے


دونوں ایک چھوٹے سے بک اسٹال پر رکے،لارا نے پرانی کتابوں میں سے ایک کتاب  نکالی 

 “the last dream”.

لارا نے ہنس کر کہا:

"ہماری کہانی اس سے بھی بہتر ہوگی، شرط لگا لو۔"


☆☆☆


دھوپ کا نرم گرم سا سایہ تھا، پانی کی لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں 

لارا نیلی سفید لمبی فراک میں ننگے پاؤں سمندر کے قریب کھڑی تھی

جوہن نے اس کے قریب آ کر پانی اس پر اچھال دیا، وہ چونک کر پیچھے ہٹی


"تم پاگل ہو گئے ہو؟!" 

وہ ہنستی ہوئی چلائی


"پاگل؟ تمہاری محبت میں... تو ہاں!"

وہ دونوں بچوں کی طرح پانی میں بھاگنے لگے


کچھ دیر بعد وہ دونوں تھک کر بیٹھ گئے تھے،


"جوہن، اگر کل نہ ہو... تو میں آج کو یادگار بنانا چاہتی ہوں"


لارا نے آہستہ سے کہا

جوہن نے اس کا ہاتھ تھاما اور ساحل کی ریت پر لکھا

“J+L = آزاد”


لارا نے ریت پر سر رکھ دیا پھر جوہن کی طرف دیکھ کر کہا

"یہ لمحہ کبھی نہ ختم ہو۔"


☆☆☆


وہ دونوں پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے سکائے جمپرز کی طرح تیار تھے

لارا نے نیچے دیکھا تو گھبرا گئی

"میں یہ نہیں کر سکتی... یہ بہت زیادہ ہے۔"

جوہن نے نرمی سے اس کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا، 

مظبوطی سے


"ڈر کو صرف ایک چیز شکست دے سکتی ہے وہ ہے کسی کا ہاتھ پکڑ لینا۔"

اس نے آہستہ سے لارا کا دوسرا ہاتھ تھاما


"آؤ... ایک بار اپنے خوف سے اوپر اڑتے ہیں۔"

لارا نے آنکھیں بند کیں، اور پھر چھلانگ لگا دی 

جوہن اس کے ساتھ تھا، ہوا میں تیرتے، نیچے پورا شہر ایک خواب جیسا لگ رہا تھا


نیچے اترنے کے بعد زمین پر گرتے ہی لارا کی آنکھوں میں آنسو تھے


"یہ سب... حقیقت ہے؟"

جوہن نے اس کی پیشانی چومی۔

"ہاں... اور یہ خواب تم نے جگایا ہے، لارا۔"

☆☆☆

رات گہری ہو چکی تھی، سڑکیں سناٹے میں لپٹی ہوئی تھیں بس کہیں کہیں دور سے کتے بھونکنے کی آوازیں،اور آسمان پر بادلوں کی ہلکی سی گرج چمک تھی، 

جوہن نے اپنی بائیک سٹارٹ کی،

لارا پیچھے بیٹھی اور آہستہ سے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ دیا

پہلی بار... بنا ہچکچاہٹ کے

"تیار ہو؟"

جوہن نے بنا پیچھے دیکھے پوچھا

لارا نے آہستہ سے سر ہلایا


اور وہ دونوں... چل پڑے۔

بائیک کی رفتار تیز تھی،

مگر وقت جیسے آہستہ چلنے لگا تھا

ہوا لارا کے بالوں میں الجھتی جا رہی تھی،

اور لارا کا سر اب جوہن کے کندھے سے لگ چکا تھا


اس کی آنکھیں بند تھیں، جیسے وہ ہر لمحہ محفوظ کر رہی ہو۔


سڑکیں، روشنیوں کی چمک، تیز ہوا...

اور وہ دونوں... دنیا سے الگ، دنیا سے دور،


کہیں نہ کوئی بات، نہ کوئی وعدہ،

بس ایک طویل سفر... خاموشی میں

اور جب بائیک ایک پہاڑی موڑ پر رکی تو دونوں نیچے اتر گئے 


نیچے پورا شہر جگمگا رہا تھا...


"کبھی کبھی یوں لگتا ہے، جیسے یہ سفر کبھی ختم نہ ہو..."

لارا نے آہستہ سے کہا

جوہن نے بنا کچھ کہے بس اس کا ہاتھ تھام لیا کیونکہ جہاں لفظ ختم ہو جائیں، وہاں لمس بولنے لگتے ہیں...


☆☆☆


ہال میں مدھم روشنیوں کے ساتھ دیھما کلاسک میوزک بج رہا تھا ہر طرف مہمان ڈیزائنر ماسکز اور رویل آوٹ فٹ میں چمک رہے تھے سنہری فانوسوں کی جھلک، اور کرسٹل گلاسسز کی ٹھنک،


 سب کچھ خواب جیسا لگ رہا تھا

جوہن سیاہ ماسک اور تھری پیس سوٹ میں دروازے سے داخل ہوا، نگاہیں پوری جگہ کا جائزہ لے رہی تھیں، مگر جیسے ہی سامنے سے لارا نیلے رنگ کے آف شولڈر گاون میں چلتی ہوئی دکھائی دی، اس کی دنیا خاموش ہو گئی


وہ بالوں کو ایک طرف کیے، سلور ائیر رنگز اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، اسے ہی دیکھ رہی تھی


"کیا دیکھ رہے ہو؟"

اس نے نرمی سے پوچھا


"سوچ رہا ہوں… پہلی بار ہم کسی جگہ دشمنوں کے بغیر، سکون میں موجود ہیں…"

"اور پھر بھی تمہاری آنکھوں میں وہی الرٹنیس ہے۔"

وہ ہنس پڑی


تبھی میوزک تھوڑا تبدیل ہوا، سلو والٹز  شروع ہوا


ہال کے درمیان جوڑے ایک ایک کر کے رقص کرنے لگے

"چلو، ایک ڈانس تو بنتا ہے۔"

لارا نے ہاتھ بڑھایا جوہن نے تھام کیا


"وارننگ دے دوں، مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا..."

"تمہیں صرف میرا ساتھ دینا آنا چاہیے، باقی میں سنبھال لوں گی۔"


وہ قریب آئی، اور وہ دونوں ہال کے درمیان پہنچ گئے


چند لمحے... صرف آنکھوں کی باتیں جاری تھیں 

خطرات، مشن ، زخم... سب پیچھے کہیں رہ گئے تھے


"اگر زندگی کا کوئی لمحہ محفوظ کرنا ہوتا، تو شاید یہ ہوتا..."

لارا کی آواز دھیمی مگر دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی تھی


"ہم جیسے لوگوں کو ایسے لمحے نصیب نہیں ہوتے..."

جوہن نے سرگوشی کی

"تو آج چرا لو... جیسے سب کچھ چرایا ہے۔"

لارا نے ہنستے ہوئے اس کے سینے پر سر ٹکا دیا

باقی دنیا، باقی دشمن، آخری ہیرا  سب دھندلا گیا

آج... وہ دونوں صرف "ایک" تھے ایک مسکراہٹ، ایک لمحہ، ایک شام

☆☆☆

ہال سے نکل کر وہ دونوں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپری بالکونی میں آ گئے نیچے روشنیوں کی چمک، قہقہے، اور میوزک ابھی بھی گونج رہا تھا، لیکن یہاں… صرف خاموشی تھی


لارا نے اپنا ماسک آہستہ سے اتارا اور ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگا لی، چاند کی ٹھنڈی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور ہوا اس کے سنہری بالوں کو اڑا رہی تھی


"پتا ہے، جب میں چھوٹی تھی، میں سوچتی تھی کہ چاند پر کوئی رہتا ہے… کوئی ایسا، جو نیچے والوں کی سنبھال کرتا ہے۔"


وہ دھیمی ہنسی کے ساتھ بولی

جوہن اس کے برابر آ کر کھڑا ہوا، اس کا چہرہ غور سے دیکھتا رہا


"اور اب؟"

"اب لگتا ہے… شاید ہم جیسے لوگ چاند سے دور ہوتے گئے ہیں۔"

وہ خاموش ہوا، پھر دھیرے سے بولا


"تم چاند پر یقین رکھتی ہو، میں اپنے آپ پر نہیں رکھتا..."

لارا نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا


"لیکن تم وہ ہو، جس نے بار بار مجھے بچایا جو ہر بار آخری لمحے پر میری ڈھال بن گیا۔"


جوہن نے نظریں چرا لیں

"تمہیں نہیں پتا... میں نے زندگی میں کیا کچھ کیا ہے۔ میرے ہاتھ خالی نہیں، خون سے بھرے ہوئے ہیں۔"

وہ قریب آئی، اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا

"میں نے وہ آنکھیں دیکھی ہیں جن میں پچھتاوا ہے... اور وہ دل جو پہلی بار سچ کے قریب آیا ہے۔"

چند لمحے یوں ہی گزر گئے


چاندنی، ہوا، اور ان کے بیچ ایک خاموشی ، جسے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی

پھر لارا نے سرگوشی کی

"تم بھاگ سکتے ہو پوری دنیا سے... مگر مجھ سے نہیں۔"

جوہن نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھا اور اسے قریب کھینچا


پہلے اس کی پیشانی پر ایک بوسہ دیا۔

پھر پلکوں پر...

پھر گال پر...

اور آخر میں، وہ اس کے بالکل قریب آ کر بولا


"مجھے مت توڑنا... میں پہلی بار جڑنے لگا ہوں۔"

لارا کی آنکھوں میں نمی تھی

اس نے آنکھیں بند کر کے سر اس کے سینے پر رکھ دیا


رات کی خاموشی میں چاندنی کا جادو پھیل چکا تھا بالکونی کی ریلنگ کے ساتھ وہ دونوں بلکل خاموش کھڑے تھے نیچے روشنیوں کا شہر سانس لے رہا تھا، اور اوپر... اُن کے بیچ کچھ ان کہا سا لرز رہا تھا


لارا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

جوہن نے نظریں جھکا لیں

وہ کچھ سوچ رہا تھا

"کیا ہوا؟"

لارا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا ، اس نے گہری سانس لی، پھر جیب میں ہاتھ ڈالا۔

وہ چھوٹی سی مخملی ڈبی نکال چکا تھا لیکن ابھی کھولی نہیں تھی


"لارا..."

اس کی آواز تھوڑی بھاری ہو گئی تھی


"ایک بات... کافی دنوں سے کہنا چاہ رہا تھا۔"

لارا نے چونک کر اسے دیکھا، اس کی پلکیں لرزنے لگیں


"میں جانتا ہوں کہ ہم دونوں کا ماضی... دکھ اور اذیت سے بھرا ہے، مگر شاید، شاید ہم اس سب کے باوجود ایک نئی شروعات کے قابل ہیں..."


وہ ڈبی کھولنے ہی لگا تھا... کہ اچانک لارا کا فون بجنے لگا

دونوں چونک گئے۔

لارا نے فون کی طرف دیکھا 


جوہن نے ایک لمحہ ڈبی کو دیکھا، پھر وہ واپس جیب میں رکھ لی

"بعد میں… یہ بات میں بعد میں کہوں گا۔"

اس نے خود سے سرگوشی کی، لارا نے کچھ کہنا چاہا تب ہی کچھ لوگ اوپر کی طرف آتے دکھائی دیے


اور کچھ باتیں وقت پر نہ ہوں... تو دل میں رہ جاتی ہیں، ہمیشہ کے لیے! 

☆☆☆

ہسپتال کے سفید کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، لارا کھڑکی کے پاس بیٹھ کر نیچے لان کا منظر دیکھ رہی تھی، اس کے ہاتھ میں وہی اسکیچ بک تھی، جس میں وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بناتی تھی مگر آج وہ بس خالی صفحے کو گھور رہی تھی


کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلا اور

جوہن اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا جس میں اس کی پسندیدہ کافی تھی


"آج کچھ بھی نہیں بنایا؟"

اس نے نرمی سے پوچھا


لارا نے ایک سانس لی، پھر مدھم آواز میں بولی،

"جب جسم کمزور ہو، تو دماغ بھی ہارنے لگتا ہے، جوہن..."

وہ اس کے پاس بیٹھ گیا


"میں نے ڈاکٹر سے بات کی ہے۔ نئی دوا اور تھراپی سے تمہاری ریکوری ممکن ہے، لیکن مکمل آرام، ریگولر آکسیجن سپورٹ اور فزیکل لمٹس کا خیال رکھنا ہوگا۔"

لارا کی پلکیں بھیگنے لگیں

"میں نے تمہارے ساتھ ہر وہ چیز کی جو  پے اے ایچ کے پیشنٹ کو نہیں کرنی چاہیے تھی، پہاڑوں پر بھاگی، جھیل میں کود گئی، بائیک پر فل اسپیڈ پر بیٹھی...اور شاید... اسی لیے آج میں زندہ ہوں کیونکہ میں نے آخر کار جینا شروع کر دیا ہے"

جوہن نے اس کے ہاتھ تھام لیے،

"یہ زندگی اب تمہاری ہے، پوری، مکمل، اور محفوظ۔"

اس نے لارا کو تھراپی کے لیے کیسے راضی کیا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا

اور اب۔۔۔


ہسپتال کا کوریڈور بے حد سرد تھا، جوہن ایک بینچ پر بیٹھا تھا اس کے چہرے پر کوئی عجیب سا تاثر تھا جسے کوئی سمجھ نہیں سکتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے


تبھی ڈاکٹر اس کے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں لارا کی رپورٹس تھیں

"اب ہم مین تھراپی فیز میں جا رہے ہیں۔ PAH کافی ریئر کنڈیشن ہے لیکن لارا کی ول پاور اسٹرونگ ہے، ہم intravenous vasodilators, oxygen therapy  اور ایک شارٹ سرجری کا پلان کر رہے ہیں، تاکہ لنگز  کے وسلز کا پریشر کم کیا جا سکے۔"

جوہن نے سر ہلایا


"کتنے دن لگیں گے... ریکور ہونے میں؟"

اس نے بے چینی سے پوچھا


"اگر سب اسموتھ رہا، تو تین ہفتے کے اندر وہ معمول کی زندگی جینے کے قابل ہو جائے گی۔ مگر مکمل ریکوری اور stable condition کے لیے دو مہینے کی follow up care ضروری ہوگی۔"

ڈاکٹر نے نرمی سے کہا


جوہن کا گلا خشک ہوا

"اور اگر کچھ اسموتھ نہ ہوا تو؟"

ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا،

"تو پھر... یہ لڑکی صرف آپ کے صبر پر زندہ رہے گی۔"

ڈاکٹر نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور آگے بڑھ گیا، 


چند دن بعد۔۔۔۔


لارا اب ہوش میں آچکی تھی، آکسیجن ماسک ہٹا دیا گیا تھا، بازو میں IV لگی ہوئی تھی

سامنے، شیشے کے پار، جوہن نے کئی گھنٹوں سے وہی کرسی نہیں چھوڑی تھی


"آپ اندر جا سکتے ہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہی تھی۔"

نرس نے اس کے پاس آکر کہا

وہ آہستہ قدموں سے اندر گیا، اور لارا کے قریب جا کر بیٹھا

اس نے اس کا ہاتھ تھاما

"تمہیں پتہ ہے،"

لارا نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،

"میں ہر دن تمہیں دیکھنے کے لیے جیتی رہی ہوں..."


جوہن نے اس کی آنکھوں میں دیکھا،

اور پہلی بار... وہ جو کچھ کہنا چاہتا تھا، اور۔۔۔۔ بس آنکھوں سے کہہ گیا

 

لارا ابھی بھی کچھ بول رہی تھی اس کی آنکھوں میں چمک تھی، اور جوہن سن رہا تھا مسکرا رہا تھا، کبھی ہنس بھی دیتا، کبھی خاموش نظروں سے بہت کچھ کہہ بھی دیتا

پیچھے مانیٹر کی آواز آہستہ آہستہ نارمل ہوتی جا رہی تھی 

☆☆☆

کمرے کی خاموشی میں صرف ان دونوں کی سانسوں کی آواز تھی


لائٹ مدھم تھی، اور جوہن اپنے سامنے لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا

اس کی آنکھوں میں تھکن، مگر دل میں ایک امید باقی تھی

لارا نے اُس کے قریب آ کر آہستہ سے پوچھا

"یہی وہ پن ڈرائیو ہے؟"

جوہن نے اثبات میں سر ہلا دیا


"میرے بھائی کی آخری نشانی...وہ ہیکر تھا وہ۔۔۔۔۔وہ کہتا تھا، سچ ہمیشہ محفوظ رکھا جانا چاہیے، لیکن میں... میں اسے کھول نہیں سکا۔۔۔۔۔آج تک۔"


لارا نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا پھر نرمی سے بولی

"اگر وہ ہیکر تھا... تو تم فائٹر ہو، جو اب تک ہارا نہیں، چلو... آج آخری بار کوشش کر کے دیکھتے ہیں۔"

اس نے جوہن کا حوصلہ بڑھایا تھا


جوہن نے وہ ڈرائیو لگا دی، آنکھیں بند کیں اور گہری سانس بھری 


پھر اُس نے ہاتھ لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر رکھے، ٹائپنگ شروع کی

کچھ لمحے بعد، اسکرین پر ایک پیغام آیا


"ENTER LAST ACCESS CODE"


جوہن کو وہ لمحہ چند سانسوں جتنا لمبا لگا

"میں نے سب پاسورڈز آزمائے ہیں... لیکن ایک بار اُس نے کہا تھا

'میری آخری فائل وہی کھولے گا، جو سچ کے لیے مرنے کو تیار ہو'..."

جوہن نے عجیب سے لہجے میں کہا


"تو پھر اپنا دل لکھو، شاید وہی چابی ہو۔"

لارا نے دھیرے سے کہا

جوہن نے لرزتے ہوئے ہاتھ سے کوڈ لکھا 


“TruthLives”

ایک لمحہ... پھر دوسرا...

اور پھر اسکرین بلنک کرنے لگی


Access Granted.

جوہن کے ساتھ لارا نے بھی سانس روک لی


فائلز، تصویریں، ویڈیوز، ڈوکیومینٹس، سب کچھ سامنے آ چکا تھا

جوہن اور لارا دونوں یکدم سیدھے ہو بیٹھے،


ان کی آنکھیں اسکرین سے چپکی ہوئی تھیں

"یہ... یہ تو وہی گینگ ہے... وہی نشان..."

لارا نے بے اختیار اپنی اسکیچ بک اٹھائی، اس میں بنایا ہوا  ٹیٹو اُس وقت اسکرین پر دکھائی دے رہا سیمبل سے بالکل مماثلت رکھتا تھا


"یہ سب سالوں پہلے ختم ہو چکا تھا... پھر یہ؟"

جوہن کی آواز تھرا رہی تھی

اور اس سے پہلے کہ لارا کچھ کہتی 

اسکرین پر ایک نئی encrypted file blink کرنے لگی

دونوں کی آنکھوں میں حیرت، بے یقینی اور نہ جانے کیا کچھ تھا


 ایک خطرناک سچائی جو اور قریب آ چکی تھی


جاری ہے


Comments

Popular Posts