Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 10 by Munaza Niaz - Revenge base - kidnapping base - Women revenge - Possessive Hero
زہرِ عشق
قسط نمبر دس
از منزہ نیاز
باتھ روم کا دروازہ دھیرے سے کھلا۔ الطاف مرزا سینہ پکڑے، لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکلے۔ کبھی سینے میں درد، کبھی پسینہ تو کبھی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا۔
وہ کمرے سے باہر نکلے اور ڈرائنگ روم میں گرتے گرتے بچے۔
" کوئی ہے؟۔۔۔۔ میری مدد کرو۔"
سرونٹ انہیں دیکھ کر ادھر ادھر اپنے کاموں میں مشغول ہوتے کھسک گئے۔
ایشل ٹیرس پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا۔ ایک سرونٹ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔
"میم! سر کی طبیعت اور زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ وہ مدد کے لیے بلا رہے ہیں۔"
ایشل نے گلاسز آنکھوں پر لگائے اور ایک گھونٹ بھرا۔
" ان کی زندگی کی طرح اب طبیعت بھی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے۔"
وہ ہنسی اور اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
" جاؤ۔"
میڈ سر جھکا کر چلی گئی۔
رات کو وہ جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو الطاف مرزا صوفے کے ساتھ گرے پڑے تھے۔
" رک۔۔۔ جاؤ۔۔۔ میری مدد۔۔۔ کرو۔۔۔ایشل"
انہوں نے زور سے سانس لینے کی کوشش کی۔
" مجھے آپ کی عادت چھوٹ چکی ہے پاپا۔۔۔اب آپ بھی چھڑوا لیں۔"
اس نے سرونٹ کو بلایا۔
" انہیں ان کے کمرے میں پہنچا دو۔"
بے نیازی سے کہتی وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔
اگلی صبح ایشل نے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ لگثری بیڈ روم، گہرا اندھیرا اور بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کی ڈم لائٹ کی زرد روشنی تھی۔
الطاف مرزا بیڈ پر پڑے تھے۔ سانسیں پھولی ہوئیں اور جسم پسینے میں شرابور۔ حالت تقریبا ختم ہو چکی تھی۔
ایشل سیاہ آؤٹ فٹ میں ایک کرسی پر ان کے سامنے آ بیٹھی۔ ٹانگ پر ٹانگ جمائے، دونوں بازو سینے پر باندھے وہ انہیں دیکھنے لگی۔ چہرہ پتھر جیسا سخت اور ٹھنڈا تھا۔
"چلائیں مت، میں آگئی ہوں۔۔۔ آپ کی پیاری بیٹی۔"
اس نے جھک کر ہلکی طنزیہ آواز میں کہا۔ الطاف مرزا نے اپنا کمزور ہاتھ اٹھایا جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں۔ مگر ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔
"اب کیا بچا ہے؟ نہ سانس ہے۔۔۔ نہ ضمیر، لیکن ڈرامہ تو دیکھو۔۔۔ زندہ ہے نا۔"
اس نے تانا مارا پھر اٹھی اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"تمہیں پتہ ہے اس ڈنر میں کیا تھا؟ سلو پوائزن۔۔۔ بالکل تمہاری طرح، جو دھیرے دھیرے اندر سے کاٹتا ہے۔"
الطاف مرزا تڑپ اٹھے۔ انہوں نے آنکھوں سے اس سے مدد کی بھیک مانگی۔
"تم نے میرے سگے باپ کو مارا تھا نا؟ صرف اسی لیے تا کہ میری ماں تمہاری ہو سکے۔ تم نے انہیں اپنی جھوٹی محبت دکھائی اور جب وہ تمہاری ہو گئیں تو تم نے انہیں بھی مار ڈالا، صرف اس لیے کیونکہ جائیداد پر صرف ان کا نام تھا۔"
ایشل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
" تم نے سوچا میں بھی ماں جیسی ہوں۔ کمزور اور بزدل، لیکن میں تو تم سے بھی بڑی شیطان نکلی۔"
وہ زور سے ہنسی پھر اس نے آنکھوں کی نمی ٹشو سے صاف کی اور سیدھا ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
" لے لو اب ۔۔۔ جائیداد، بزنس، پیسہ۔ اب مزہ لو۔۔۔ جتنا بچا ہے۔۔۔ اس زندگی کا۔"
الطاف مرزا تڑپنے لگے۔ وہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے پرس سے لپسٹک نکالی اور ہونٹوں پر لگائی۔ اس کا رنگ سرخ تھا۔ خون جیسا سرخ، پیچھے الطاف مرزا کا تڑپتا وجود ہولے ہولے ساکت ہوتا گیا۔
اس نے ہونٹوں کو آپس میں مس کیا اور گارڈز کو بلایا۔
" Clean the mess ۔۔۔!
مجھے اب ایک ایمپائر چلانا ہے۔"
اس کے ہیل کی ٹک ٹک ہال وے میں گونجتی گئی۔
☆☆☆
" مجھے حارث سے شادی نہیں کرنی۔"
پل بھر کو لاونج میں سناٹا چھا گیا۔
آمنہ نے بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ جب کہ ردا عجیب سے انداز میں مسکراتی موبائل سائیڈ پر رکھ چکی تھی۔ آمنہ اٹھیں اور اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئیں۔
رانیہ خالہ اپنے بیٹے سمیت واپس جا چکی تھیں۔ انہیں شادی کی تیاری کرنی تھی۔ ابو اس وقت کام پر تھے اور علی گیم کھیل رہا تھا۔
" کیا کہا؟"
ان کی آواز سرگوشی جیسی تھی۔ مشال نے تھوک نگلا اور جب وہ بولی تو اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ مظبوط تھا۔
"مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔"
چٹاخ کے ساتھ اس کا چہرہ دوسری طرف مڑ گیا۔
" کیوں نہیں کرنی ہاں! بتا مجھے کیوں نہیں کرنی۔"
انہوں نے کندھوں سے پکڑ کر اسے جھنجوڑا۔
"وہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔"
اس نے نم آنکھیں لیے کپکپاتی آواز میں کہا۔
"کیوں اچھا نہیں لگتا، تمہیں لگتا ہے تمہارے لیے کوئی شہزادہ آئے گا۔ آخر کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں تم میں۔ بتا مجھے ورنہ آج تو میرے ہاتھ سے ضائع ہو جائے گی۔"
"میں نے کہا نا کہ وہ مجھے اچھا نہیں لگتا تو نہیں لگتا۔ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔"
اگلے ہی پل آمنہ نے اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔
"جب اس سے عاشقی چلا رہی تھی تب وہ برا نہیں لگتا تھا۔ اب جب وہ شادی کرنا چاہتا ہے تو برا لگنے لگا ہے۔"
مشال کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
" امی۔۔۔۔"
اس نے خود کو بچانا چاہا مگر آمنہ اب اسے بری طرح پیٹ رہی تھیں۔
"میری بات سنیں امی۔"
اس نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہانپتے ہوئے اسے دور دھکیل دیا۔
" میری نظروں سے دور ہو جا ورنہ مر جائے گی میرے ہاتھوں سے۔"
ان کا سانس پھول گیا تھا۔
"امی!!!"
اس نے روتے ہوئے دوبارہ پکارا۔
" میری بات کان کھول کے سن لو۔ تمہاری شادی صرف حارث سے ہی ہوگی۔ میں اپنی بہن کو زبان دے چکی ہوں۔ اسی ہفتے تمہارا نکاح ہے۔"
مشال کے آنسو تھم گئے۔ اس نے دیکھا وہ ایک ماں نہیں، ایک بہن تھیں، جن کو زبان کی پرواہ تھی مگر بیٹی کی خوشی کی نہیں۔
وہ تیزی سے پلٹ گئی۔
☆☆☆
گاڑی ایک پارک کے سامنے رکی تھی۔ دانش باہر نکلا، اس کے موبائل پر جو لوکیشن تھی وہ یہیں کی تھی۔ اس نے خاموشی سے بھاری قدم آگے بڑھائے۔
پارک میں سناٹا چھایا تھا، موسم ٹھنڈا اور بہت خوبصورت تھا۔ مگر اس کا موڈ بلکل سیریس تھا۔ پارک میں بہت کم لوگ تھے۔ وہ دھیرے سے آگے بڑھتا گیا اور پھر اگلے ہی سیکنڈ کسی کی گردن اس کے سخت ہاتھ کی گرفت میں آئی تھی۔ دوسرے ہاتھ سے اس شخص کا منہ دبوچے وہ سائیڈ پر ایک درخت کے پیچھے گیا اور اسے زور سے درخت میں دے مارا۔
اس نے اس کی گردن پر دباؤ بڑھایا،وہ وہیں گر گیا۔ اگلے ایک منٹ میں اس کے آدمی اس اجنبی کے بے ہوش وجود کو ایک سوٹ کیس میں ڈالے غائب ہو چکے تھے۔
دانش نے اپنی گردن دائیں بائیں گھمائی اور جیسے ہی آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھایا وہیں رک گیا۔
اس سے تھوڑا فاصلے پر ایک بینچ پر لڑکی بیٹھی تھی۔ بالکل اکیلی، اس کے قدم اس لیے ساکت نہیں ہوئے تھے کہ وہ خوبصورت تھی، بلکہ وہ اس لیے چونکا تھا کیونکہ وہ کسی سے باتیں کر رہی تھی۔
اس لڑکی کی پاس نہ کوئی فون تھا اور نہ ہی کوئی اس کے آس پاس موجود تھا۔ اسے عجیب لگا۔ اسے بہت سے کام کرنے تھے۔ وہ یہاں سے چلے جانا چاہتا تھا، مگر اس کے قدم خود بخود اس لڑکی کی طرف اٹھنے لگے۔ وہ اس کے بالکل پیچھے آ کر ذرا فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا۔
"وہ کل پھر آیا تھا۔ اس نے مجھے دوبارہ چھوا۔ مجھے لگا جیسے کسی نے مجھے آگ میں پھینک دیا ہو۔ میں کمزور نہیں بننا چاہتی، مگر جب وہ میرے سامنے آتا ہے تو میری ساری طاقت ختم ہو جاتی ہے اور ہر بار مجھے اس سے زیادہ نفرت ہونے لگتی ہے۔ اگر میری اس سے شادی ہو گئی تو وہ مجھے۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ۔۔۔۔"
وہ بول رہی تھی۔ اس کی آواز میں نمی تھی یا شاید وہ رو رہی تھی۔
دانش وہیں فریز ہو گیا تھا۔
"مجھے شادی نہیں کرنی۔ مجھے ہر مرد سے نفرت ہے۔ سب جھوٹے ہیں، دوغلے ہیں۔"
پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ کسی کو بتا رہی تھی، حالانکہ وہ اکیلی تھی۔ کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں تھا۔
پھر وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔ دانش وہیں کھڑا رہا۔ اس کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ اس کا موبائل بجا اور وہ ہوش میں آیا۔
"ہاں کیا ہوا؟"
اس نے بے دھیانی میں پوچھا۔ دوسری طرف کی بات سن کر اس نے ہولے سے ماتھا چھوا۔
" آتا ہوں۔"
کہہ کر کال کاٹ دی۔
☆☆☆
یحیی کے جانے کے بعد وہ باہر لان میں چلی آئی۔ لان میں ہر طرح کے پھول کھلے تھے۔ پیچھے پورچ میں ایک اور گاڑی بھی کھڑی تھی۔ وہ چلتے چلتے گھر کی پچھلی سائیڈ پر آئی۔
وہاں پر ایک بہت بڑا سوئمنگ پول تھا۔ اس کے چاروں طرف پودے اور خوبصورت درخت تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹیں، پول پر لہراتا پانی اور ہلکی ٹھنڈی ہوا۔
اس نے سکون سے آنکھیں بند کرتے گہری سانس بھری۔ تھوڑی دیر وہی بیٹھنے کے بعد وہ کچن میں چلی آئی۔ صبح کا بنایا ہوا شیک جو اس نے فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھا تھا۔ اسے نکالا، ساتھ میں بریانی نکال کر اوون میں رکھ دی۔ جب تک بریانی گرم ہوئی اس نے کچن کا اچھی طرح جائزہ لے ڈالا۔ کچن ایک کمرے جتنا تھا۔
"خیر مجھے کیا! ہے تو کچن ہی۔"
تھوڑی دیر بعد وہ لاؤنج میں صوفے پر آلتی پالتی مارے مزے سے بریانی سے انصاف کر رہی تھی۔ سامنے ایل ای ڈی پر کوئی کورین سیریز چل رہی تھی۔ جب تک سیریز ختم نہیں ہوئی وہ وقفے وقفے سے کچن میں جا کر کبھی نوڈلز کبھی پاستہ کبھی آئس کریم تو کبھی میکرونی اٹھا لاتی۔
پہلے شام ہوئی اور پھر رات۔ اسے ہوش تب آیا جب لائٹ چلی گئی۔
" یہ کیا؟"
وہ جو جمائی لے کر سستانے کی کوشش کر رہی تھی تیزی سے سیدھی ہو گئی تھی۔ پورچ میں جا کر دیکھا تو موسم خراب ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ اندھیرا گہرا ہوتا وہ کچن میں چلی گئی۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد اسے کینڈلز مل گئیں ۔
پورا فارم ہاؤس اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ اس نے ایک کینڈل جلائی اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
"وہ تو کہہ رہا تھا کہ جلدی آ جائے گا۔ اب تو دس بجنے والے ہیں، مگر وہ آیا ہی نہیں۔"
اس نے کینڈل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی۔ وارڈروب سے ایک سوٹ نکالا اور باتھ روم چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد آئینے کے سامنے کھڑی وہ گیلے بالوں میں برش پھیر رہی تھی۔ لائٹ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ باہر بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گرنے لگی تھیں۔
"تو چھپ جا میں تجھے ڈھونڈوں گی۔"
لایان نے کہا اور روحا فورا مان گئی۔ لائٹ نہیں تھی، گھر میں اندھیرا تھا۔ روحا ایک پردے کے پیچھے جا کر چھپ گئی۔ اس کے پیچھے کھڑکی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ اس نے پردے سے ہلکا سا جھانکا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اگلے پل اسے اپنے کندھے پر کسی کی انگلیاں محسوس ہوئیں۔
وہ چیخ مار کر پلٹی۔ کھڑکی سے باہر لایان کھڑی تھی۔ ٹارچ کی روشنی سیدھا اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ تیزی سے بھاگی۔ اس کی چیخیں پورے گھر میں گونج گئی تھیں۔
جیسے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی سامنے سے لایان نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔
" ابے پاگل ہو گئی ہے کیا۔ چلا کیوں رہی ہے؟"
لایان نے ہنسی روک کر اسے گھورا۔
روحا نے زور سے تھپڑ اس کے بازو پر مارا۔
"تو سچ میں چڑیل ہے۔ میری تو جان نکال دی تھی تو نے۔"
وہ ہانپتے ہوئے بولی۔
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"
ان دونوں کی روح فنا ہوئی۔ حسن فون کی روشنی جلاتا ان کے سر پر پہنچ چکا تھا۔
"کچھ نہیں ہم بس کھیل رہے تھے۔"
روحا نے جلدی سے کہا۔
"تو اس میں اتنا چلانے کی کیا ضرورت تھی۔"
اور پھر اس کا نان اسٹاپ لیکچر شروع ہو گیا۔
تم دونوں بڑی ہو، کالج جاتی ہو، بچوں جیسی حرکتیں بند کرو۔ زیادہ نا سہی تھوڑی سی تمیز سیکھ لو۔
وہ دونوں سر جھکائے سنتی رہیں۔ حسن ان کو شرمندہ دیکھ واپس پلٹ گیا تھا۔
اس کے جاتے ہی وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر دبی دبی سی ہنسی ہنس دیں۔
روحا کا بالوں میں چلتا برش سلو ہوا۔ اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
"پتہ نہیں کیسے ہوں گے سب؟"
اس نے یاسیت سے سوچا۔ آنسو پونچھ کر اس نے کینڈل اٹھائی اور تبھی اسے اپنے پیچھے ایک سایہ دکھائی دیا۔
"یحیی۔۔"
وہ جھٹکے سے پلٹی۔
" تم کب آئے؟"
وہ حیران ہوئی۔ مگر ڈری نہیں۔
یحیی نے بالوں کو جھٹکا۔ پانی کے قطرے گرے۔ وہ بارش میں بھیگا ہوا آیا تھا۔
وہ اپنے خیالوں میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اسے یحیی کے آنے کا علم تک نہ ہو سکا۔ اندھیرے میں وہ کچھ عجیب لگ رہا تھا۔
"تم۔۔۔۔ تم مجھے ڈرا رہے ہو۔"
روحا نے کہا۔
" نہیں تو۔۔۔ میں بس تمہارے ساتھ ہوں۔"
یحیی نے نرمی سے کہا۔ اب وہ اپنی آستینوں کے بٹن کھول رہا تھا۔ روحا کے ہاتھ میں اب بھی کینڈل موجود تھی۔
"مجھے اکیلا چھوڑ دو۔"
روحا نے جانا چاہا مگر یحیی نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ کینڈل کی ہلکی روشنی ان دونوں کے چہروں پر پڑ رہی تھی۔
"میں بھی روشنی چاہتا ہوں لیکن تم اندھیرا سمجھ بیٹھی ہو مجھے۔"
اس نے نم آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ مگر بولی کچھ نہیں۔
یحیی نے اسی نرمی کے ساتھ اس کا ہاتھ چھوڑا اور وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔
اور اسی وقت اسی شہر میں ایک دوسرے علاقے میں اس بیسمنٹ کے اندر گہری تاریکی تھی۔ لایان کا سر دیوار سے لگا ہوا تھا۔
بیسمنٹ مکمل بند تھا۔ ہوا کی آمد و رفت ذرا سی بھی نہیں تھی۔ اس کا گلا خشک ہو چکا تھا۔ اس نے اندھیرے میں نظر دوڑائی۔ پانی کی بوتل کونے میں رکھی ایک میز پر پڑی تھی۔ وہ دیوار کا سہارا لیے کھڑی ہوئی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ دس سیکنڈز تک وہیں کھڑی وہ خود کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتی رہی، پھر وہ میز کی طرف بڑھی اور تب ہی رک گئی۔
اس نے اپنا ہاتھ دیکھا جس میں زنجیر بندھی تھی۔ اس نے ہاتھ کھینچا مگر۔۔۔۔
اس نے دوبارہ پانی کی طرف دیکھا جو بہت دور تھا۔ اس نے کئی بار ہاتھ جھٹکا، اسے کھولنا چاہا مگر ہر بار ناکام رہی۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھاما اور نیچے بیٹھ گئی۔
"کوئی ہے، مجھے یہاں سے باہر نکالو۔ پلیز کوئی تو آ جاؤ۔"
اس کے آنسو اس کے گلے میں پھنس چکے تھے۔
"میں سچ کہہ رہی ہوں میں نہیں جانتی کہ رایان کہاں ہے۔ مجھے نہیں پتہ وہ کس کے پاس ہے۔ میں بے قصور ہوں پلیز مجھے باہر نکالو۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔"
وہ بے بسی سے پکار رہی تھی۔ باہر تیز بارش ہو رہی تھی۔ اندر کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی۔ ایک دروازہ اور چار دیواری جیسے کوئی تہہ خانہ ہو۔ چھت کافی اونچی تھی وہ دوبارہ کھڑی ہوئی۔ اس نے پاس رکھی کرسی اٹھائی اور زور سے گرا دی۔ مگر اس کی آواز بارش کی آواز سے بھی کم تھی۔
"کوئی مجھے باہر نکالو۔"
وہ پوری قوت سے چلائی۔ زنجیر والا ہاتھ زور سے کھینچا اور بار بار کھینچتی رہی۔ مگر وہ کھلنا تو دور الٹا اس کے ہاتھ میں درد ہونے لگا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کے چیخوں کی بازگزشت بیسمنٹ میں ہی دب گئی تھی اور تبھی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور وہ ایک طرف لڑھک گئی۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Bravo 🫶❤️
ReplyDelete❤️❤️
ReplyDelete