Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 11 - By Munaza Niaz - Romantic Novel - Revenge base
زہرِ عشق
قسط 11
از منزہ نیاز
کمرے میں سرخ بلب جل رہا تھا۔ ایک کونے میں چھوٹے بڑے ٹینک اور چھت سے ٹپکتا بارش کا پانی۔ دانش کمرے کے وسط میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی سفاکیت تھی جو موت یاد دلائے۔
اس کے بالکل سامنے وہی شخص الٹا لٹکا ہوا تھا۔ منہ سوجا ہوا، آنکھیں بند اور سر سے نکلتا خون نیچے رکھے ٹب میں گر رہا تھا، جس میں کھولتا ہوا پانی تھا۔
دانش کہنیاں گھٹنوں پر جمائے ذرا آگے ہوا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
"آخری بار پوچھ رہا ہوں، رایان زرقاد کہاں ہے؟ اگر اب بھی نہیں بولا تو میں اپنے طریقے سے سب بلواؤں گا۔"
اس آدمی نے ہلکا سا سر اٹھایا۔
" مار دے۔"
دانش اٹھا اور وہ رسی پکڑ لی جس سے وہ بندھا تھا۔
"میں سچ بول رہا ہوں مجھے نہیں پتہ۔"
دانش نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔
اس نے آہستہ آہستہ رسی ڈھیلی کر دی۔ اس آدمی کا زخمی سر دھیرے دھیرے کھولتے ہوئے پانی کے ٹب میں گیا۔
چھینٹیں اڑنے لگیں۔ زخم گرم پانی کو چھو گیا۔ آدمی نے چلانا چاہا مگر زور سے منہ بند کر دیا۔ اس کا جسم جھٹکے کھانے لگا تھا۔
"بتا دے۔"
دانش نے بس اتنا کہا۔
"تو زیادہ دیر تک یہ جھیل نہیں پائے گا۔"
اس آدمی کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔اس نے آنکھیں کھولیں اور کانپتے ہوئے بولا۔
"مجھے رایان کا نہیں پتہ، بس کسی نے مجھے کام دیا تھا۔ ایک نام بتایا تھا جس کے تھرو سب ہوا۔"
دانش نے اس کی گردن پکڑ لی۔
" نام بتا۔"
"فرحان۔۔۔۔ فرحان گھوری۔"
اس نے تیزی سے موبائل نکالا۔
" پتہ کرو فرحان گھوری کون ہے۔"
کافی دیر بعد جواب آیا تھا۔
فرحان گھوری اذان شاہ ویر کا آدمی تھا۔
☆☆☆
بیسمنٹ کا دروازہ ہلکی سی چرر کے ساتھ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔ سیدھا چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور زنجیروں کو چیک کیا۔
اسی طرح سرد چہرہ لیے وہ میز تک گیا اور پانی لے کر اس کے پاس جھکا۔ مگر نہ اسے پکارا نہ ہی اسے دیا، بلکہ وہ مسکرایا۔
" ایسے ہی مارتے ہو تم لوگ۔ تڑپا تڑپا کر، مگر افسوس لایان ہاشمی! میں تم جیسے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔"
اس نے پانی دور پھینک دیا۔
"مجھے صرف میرا بھائی چاہیے اور جیسے ہی وہ ملے گا تمہارا کام ختم۔ مگر تب تک زندہ رہنا لیکن جینا نہیں۔"
اس نے برفیلی نظروں سے اسے دیکھا۔
"زندہ رہنا چاہتی ہو تو بتا دو۔ رایان کہاں ہے؟"
اس نے زنجیر کو ہلایا کچھ اس طرح جیسے یاد دلا رہا ہو کہ وہ قید ہے۔ اس کی مرضی سے۔
لایان کا وجود ساکت تھا۔ وہ ضبط کرتا تیزی سے مڑا اور چلا گیا۔ بیسمنٹ پھر سے اندھیرے میں ڈوب گیا۔
جب صبح ہوئی تو حویلی میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ بارش کے بعد کی ٹھنڈی ہوا تھی۔ زاویان اسٹڈی روم میں بیٹھا تھا۔ سامنے ٹیبل پر کافی کا مگ اور ہاتھ میں رایان کی مسکراتی ہوئی تصویر تھی۔
اس نے وہ تصویر آہستہ سے میز پر رکھ دی۔ تبھی دروازہ کھلا اور اس کا آدمی اندر داخل ہوا۔
" باس وہ لڑکی۔۔۔وہ بے ہوش ہے۔ نہیں اٹھ رہی۔"
زاویان نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس کو دیکھا۔
" ابھی تک۔۔؟"
وہ بڑبڑایا۔ کچھ پل خاموش رہا پھر اچانک کھڑا ہوا۔ ٹیبل پر رکھا گلاس لڑھک کر نیچے گر گیا۔
"زندہ رہنے کے لیے بندے میں دم ہونا چاہیے۔ اتنی کمزور ہے کیا؟"
اس آدمی نے کچھ بھی نہیں کہا۔ زاویان سٹڈی سے باہر نکلا۔ تیز قدموں سے سیڑھیاں اترتے وہ نیچے گیا اور بیسمنٹ کا دروازہ کھول دیا۔
پہلی نظر ہی لایان پر پڑی تھی۔ وہ رات والی حالت میں تھی۔ زاویان کا چہرہ بدلا۔ وہ اس کے پاس گیا اور جھک کر اس کا گال آہستہ سے چھوا۔ جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ اس نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔
"یہ کیا ایکٹنگ کر رہی ہے؟ یا پھر سچ میں۔۔۔"
اس کے اندر سے کوئی بولا تھا۔
"تم مرو گی لیکن رایان کی وجہ سے اور مجھے اس سے فرق بھی نہیں پڑتا۔"
زاویان نے دانت پیستے بے اختیار اس کی نبض چیک کی اور وہیں اس کا ہاتھ ہلکا سا کانپ گیا۔وہ جھٹکے سے اٹھا۔
"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا سمجھی۔"
وہ چلایا پھر اس نے گارڈ کو بلایا۔
"ڈاکٹر کو بلاؤ، لیکن یاد رہے، یہ لڑکی تب تک زندہ رہنی چاہیے جب تک رایان نہیں مل جاتا اور اگر یہ مر گئی تو تم سب بھی زندہ نہیں رہو گے۔"
وہ دھاڑا۔ گارڈز اور اس کے آدمی تیزی سے پلٹ گئے۔
ایک گھنٹے بعد؛
ڈاکٹر جا چکا تھا۔ اس کی آواز ابھی تک زاویان کے کان میں گونج رہی تھی۔
"لڑکی نے کچھ دنوں سے کچھ نہیں کھایا۔ سٹریس اور ویکنس سے unconscious ہوئی ہے۔ اگر ایسے چلتا رہا تو فزیکل ڈیمج ہو سکتا ہے۔"
زاویان نے کچھ نہیں کہا تھا۔
"اس کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟"
وہ اپنے آدمیوں پر گرجا۔ ایک شخص سامنے آیا۔
" سس۔۔۔ سوری باس۔"
آدمی سر جھکائے بولا۔ وہ آگے بڑھا اور اس کا طاقت ور تھپڑ اس آدمی کے گال پر پڑا۔ آدمی پورا ہلا کر رہ گیا۔
"اگر وہ مر جاتی تو میں تم میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑتا۔"
گریبان سے پکڑ کر اس نے زور سے جھٹکا دیا اور اسے دور دھکیل دیا۔
"زندہ رہنا اس کی ذمہ داری ہے میری نہیں۔"
اس نے لایان کو اٹھوایا اور واپس بیسمنٹ میں ڈال دیا۔
بہت دیر بعد لایان کی آنکھیں کھلی تھیں۔اس نے لرزتیں پلکیں اٹھائیں اور سیدھا نظر سامنے گئی۔
زاویان زرقاد ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھا مگر جلا ہوا نہیں۔ اندھیرا اس کے چہرے کو اور بھی زیادہ خطرناک بنا رہا تھا۔
" زندہ ہو تم۔ افسوس!"
لایان نے پہلے نا سمجھی سے پھر یاد آنے پر نفرت سے اس کو دیکھا۔
"تم انسان نہیں ہو۔ تم کچھ بھی نہیں ہو۔"
وہ پھنکاری لیکن اس کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔
"اور تم کون ہو؟ایک جھوٹی، ایک چالاک لڑکی، جسے میں توڑ کے رکھ دوں۔"
وہ طنزیہ بولا پھر سگریٹ مسل کر پھینک دی۔
"رایان کہاں ہے؟"
اس نے تیز لہجے میں پوچھا۔
"میں نہیں جانتی۔ سو دفعہ کہا ہے۔"
وہ چیخی۔
زاویان جھٹکے سے اٹھا۔ کرسی گر گئی۔ وہ اس کے قریب آیا، چہرے کے بالکل قریب۔
"تو سنو! جب تک تم سچ نہیں بولتی، تم جیو گی بھی میری مرضی سے اور مرو گی بھی، لیکن تب تک تمہیں جینا ہوگا جب تک رایان نہیں مل جاتا اور جب وہ ملے گا تب میں خود تمہاری سانسیں گن گن کر بند کروں گا۔"
لایان کی پلکیں بھیگ گئیں۔ وہ نفرت سے اس کو گھورتی رہی۔ زاویان نے ہلکا سا چہرہ دوسری طرف جھکا کر اس کو دیکھا۔
"درد دینا تو آتا ہی ہے مجھے، لیکن تمہارے چہرے پر یہ بے بسی دیکھ کر الگ ہی مزہ آتا ہے۔"
وہ مسکراتے ہوئے اٹھا، پلٹا اور بیسمنٹ سے باہر نکل گیا۔ اور لایان کے لیے اندھیرا اور گہرا ہو گیا۔
☆☆☆
فارم ہاؤس کی صبح دھیمی روشنی سے جگمگا رہی تھی۔ ہوا میں خوشگوار سی تازگی تھی۔ روحا آج فرصت سے ہر چیز کا جائزہ لے رہی تھی۔ چلتے چلتے وہ ایک دروازے کے سامنے رکی جہاں تختی پر لکھا تھا۔
"صرف یحیی کے لیے۔"
اس نے آنکھیں سکیڑ کر پڑھا۔
"ایسا بھی کون سا خزانہ چھپا رکھا ہے۔"
اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا اور اندر جھانکا۔ شیشے کی چار دیواری، اونچی چھت اور بیچ میں یحیی میر۔ کالے جوگرز، ننگی چھاتی، دستانے پہنے ہوئے۔
وہ پنچنگ بیگ پر زور زور سے مکے برسا رہا تھا۔ ہر مکے کے ساتھ اس کے مسلز تن جاتے۔ جبڑا سخت ہوتا اور پسینے کے قطرے کندھوں سے پھسلتے ہوئے نیچے گر جاتے۔
روحا ساکت کھڑی اس کو دیکھتی رہی۔ اسے لگا وہ کسی فلم کا سلو موشن سین دیکھ رہی ہے۔
" یا اللہ! یہ بندہ ہے یا کوئی یونانی مجسمہ۔"
اس نے ہلکا سا آنکھوں کو مسلا اور دوبارہ دیکھا۔
"ہیں! یہ کہاں گیا؟"
سامنے صرف پنچ بیگ ہل رہا تھا مگر یحیی غائب تھا۔
اس نے تجسس سے آگے ہو کر جھانکنا چاہا اور تب بلکل اچانک ہی کسی نے اس کی کلائی پکڑی اور پورا اندر کھینچ لیا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
"دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟ چھوڑو مجھے۔"
روحا نے سر جھٹکا۔
"ہاں تم سے ملنے کے بعد۔"
وہ شرارت سے مسکرایا۔ روحا نے کچھ نہیں کہا۔
"کبھی کبھی دل کرتا ہے تم سے ایک لفظ نہ سنوں۔ بس تمہیں دیکھتا رہوں۔"
یحیی نے سر جھکا کر مدھم لہجے میں کہا۔
"تو پھر آنکھوں سے ہی شادی کر لو۔ زبان سے تو میرا کوئی خاص تعلق نہیں رہا ویسے بھی۔"
وہ طنزیہ بولی۔
"میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ویسے بھی زبان سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔ دل سے جو تعلق ہو وہی اصل ہوتا ہے۔"
وہ ابھی بھی مسکراتا، نرم لہجے میں بول رہا تھا۔
" میں یہاں جم کرنے آئی ہوں، لیکچر سننے نہیں۔"
وہ الجھ کر تھوڑا پیچھے ہٹی۔
" اوکے میڈم! تم جم کرو۔ میں ٹرینر بن جاتا ہوں، پر وارننگ دے دوں، میں بہت سٹرکٹ ہوں۔"
وہ آہستہ سے اس کے پیچھے آیا اور اس کے بازوں سیدھے کروائے۔
"ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں۔"
وہ سر جھٹک کر بولی۔
" تمہیں چھونے کا نہیں، سمجھنے کا شوق ہے اور وہ تو تم خود بھی نہیں چاہتی کہ کوئی کرے۔"
اس نے آہستہ پراسرار لہجے میں کہا۔
روحا کا دل دھڑک اٹھا لیکن اس نے کچھ کہا نہیں بلکہ ایک دمبل اٹھا لیا۔
اپنی ناراضگی دکھانے کے لیے اس نے زیادہ وزنی ڈمبل اٹھا لیا تھا۔ اگلے پل وہ چھوٹ کر نیچے گرا۔ وہ اچھل کر پیچھے ہوئی۔ یحیی تیزی سے اس کے قریب آیا۔
" تم ٹھیک ہو؟ لگی تو نہیں؟"
وہ پریشانی سے بولا۔ روحا نے بال جھٹکے پھر ٹہلتے ہوئے دور ہو گئی۔
" کمزوری ہو گئی ہے، اس وجہ سے نہیں اٹھا سکی۔ ورنہ یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔"
یحیی نے مسکراہٹ چھپائی پھر وہ پش اپس کے لیے خود کو ریڈی کرنے لگا۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے یوگا میٹ پر بیٹھ گئی۔
اب وہ پش اپس لگا رہا تھا اور وہ بور ہو کر اس کو دیکھ رہی تھی۔
"باہر جاؤ تو سب سنسان۔ یہاں آؤ تو اس نے منہ نہیں لگانا۔ سالا ڈمبل مجھے زیادہ فرینڈلی لگ رہا تھا۔"
اس نے ٹانگیں لمبی کر کے ایک دوسرے پر رکھ لیں۔ ایک پاوں زور زور سے ہل رہا تھا۔
"آہممم۔۔۔۔۔تو مسٹر سائلنس! بتائیں آپ کو کب سے والز سے پیار ہوا؟"
یحیی نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا۔
پش اپ نمبر چھ۔۔ سات۔۔۔آٹھ۔۔۔
روحا نے آنکھیں سکیڑ کر اس کو دیکھا۔
"کیا تہمارے جم کا نام ' اگنور روحا فٹنس کلب' ہے۔"
یحیی کا ماتھا سکڑا لیکن اس نے کچھ کہا نہیں۔ روحا نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے بولنا جاری رکھا۔
"میں سوچ رہی ہوں کہ اگر تمہارے جیسے انسان کو چھوٹی سی بلی پیار سے میاؤں کرے نا تو تم اسے بھی گھور کر کہو گے کہ میاؤں کیوں کیا۔"
پش اپ نمبر انیس۔۔۔۔
" تمہارے ساتھ نہ۔۔۔۔ ہارر فلم بھی سیف لگے۔ قاتل بھی سوچے کہ اسے ماروں یا یہ مجھے مارے گا۔"
اس نے کھی کھی کی۔ یحیی نے ٹاول اٹھا کر پسینہ پونچھا۔
"ویسے تمہارے Abs گنتے ہوئے میں کنفیوز ہو گئی تھی۔ دو بار گنتی بھولی ہوں۔ مجھے میتھس سے نفرت تھی مگر تم نے تو مجھے جیومیٹری تک سکھا دی۔"
یحیی نے گھور کر اس کو دیکھا۔
"روحا۔۔۔"
" ohh my God! you spoke۔۔۔۔
سنو سنو۔۔۔ سب لوگ سنو۔۔۔ یہاں ایک زندہ انسان ملا ہے۔"
وہ رکی۔
"اوکے فائن! زندہ تھوڑا اوور تھا نہ۔"
یحیی نے گہری سانس لی اور گردن دائیں بائیں گھمائی۔
"مجھے ایک بات بتاؤ۔ اگر کوئی دن بھر نا بولے تو اسے کس کے پاس بھیجنا چاہیے؟ پولیس یا پھر یحیی میر۔؟"
یحیی نے ابرو اٹھا کر اس کو دیکھا، دوبارہ اگنور کیا۔ سر جھٹکا اور پھر پش اپس لگانے شروع کر دیے۔ روحا نے آنکھیں پھاڑ کر اس کو دیکھا۔
" Oh God! he's back to earth push up again! someone stop him before he drills a hole to chaina۔"
یحیی اس کی چیخ سن کر آخر کار گر پڑا۔
"میں تمہاری بک بک سے نہیں، آکسیجن کی کمی سے تھک رہا ہوں۔"
وہ تالی مار کر زور سے ہنسی۔
" کیا ڈائیلاگ ہے۔"
وہ رکی پھر شرارت سے بولی۔
"ویسے تمہارا فیس زیادہ کیوٹ لگتا ہے جب تم frustrated ہوتے ہو۔"
کیا لڑکی تھی وہ۔ چپ ہی نہیں ہو رہی تھی۔
یحیی کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔ اس کو پھر نظر انداز کیا اور پھر، پش اپس شروع۔
"بھئی واہ! ایک۔۔ دو۔۔ تین۔۔۔ ارے یہ دوبارہ گر کیوں نہیں رہا۔ ایسے تو اس کی چیسٹ پھٹ جائے گی۔"
اس نے آلتی پالتی ماری۔
"یار سیریسلی! اتنا انٹینس ورک آؤٹ کون کرتا ہے۔ اور جم میں ایسے کون سے لوگ ہوتے ہیں جو اتنے اسٹائلش دکھتے ہیں۔ میں تو جب بھی جاتی ہوں شیمپو کا ایڈ یا کارٹون لگتی ہوں۔"
یحیی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ روحا نے گھور کر اس کو دیکھا۔ وہ باہر نہیں جانا چاہتی تھی۔ اسے بولنے کی بیماری تھی اور یحیی کے علاوہ کوئی نہیں تھا جس کے سامنے وہ بولتی۔ اس نے اپنا بولنا جاری رکھا۔
"تمہیں پتہ ہے میں جب بھی پش اپ لگاؤں میری ناک فلور پر یا میرے مسلز پھٹ جائیں۔"
یحیی نے بھاری سی سانس لی پھر چل کر یوگا میٹ کے پاس آیا۔
اچانک ایک ہاتھ اس کے کندھے پر، دوسرا کمر پر آیا۔ روحا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ یحیی نے اسے میٹ پر لٹا دیا۔
"ہا۔۔۔۔یحیی۔۔۔ تم۔۔ پاگل ہو گئے ہو کیا؟"
"میں تو ورک آؤٹ کر رہا ہوں۔ distraction تو تم ہو۔"
اب وہ میٹ پر لیٹی تھی اور یحیی اس کے اوپر دونوں ہاتھ اس کی دونوں سائیڈز پر رکھ کر پش اپس کر رہا تھا۔
اور روحا کی حالت ایسی تھی۔ سانس رک گئی، کبھی تیز ہو گئی، آنکھیں اس کے چہرے پر، کبھی چھت پر اور کبھی اپنی قسمت پر۔
"بولتی کیوں بند ہو گئی؟ بولو نا۔ ابھی تو بڑی شوخیاں مار رہی تھی کہ یہ کر سکتی ہوں وہ کر لوں گی۔ اب میں مدد کر تو رہا ہوں۔"
پش اپ کے دوران وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
"یہ تم مدد کر رہے ہو یا مینٹل ٹارچر۔"
اس نے گھور کر کہا۔
"دل پہ نہیں چھاتی پہ لو۔ یہ پش اپس ہیں پروپوزل نہیں۔"
روحا کے گال سرخ ہوئے۔
"میں جانتا ہوں، تم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو۔ دور رہو۔ لیکن اگر تم مجھے برداشت کر سکتی ہو تو شاید کبھی پیار بھی کر لو۔"
اس نے ہلکی آواز میں سرگوشی کی۔
'پہلے مجھے کرش ہونے دو، ورنہ میں کبھی اس میٹ سے اٹھ نہیں پاؤں گی۔'
اس نے دل میں سوچا تھا اور پھر ہوش میں آئی تھی۔ اور جیسے تیسے کر کے اس کے نیچے سے نکل آئی۔ اس کی سانس پھولی ہوئی اور چہرے پر غصہ تھا۔
" تم ایک پاگل ہو۔ میں مر جاتی تو۔"
وہ دانت پیس کر بولی۔
یحیی کو بہت ہنسی آ رہی تھی مگر وہ چپ ہی رہا۔ روحا نے آنکھیں گھمائیں اور ناراض ہو کر اس کی بیک سائیڈ دیکھی۔ تھوڑی دیر سوچتی رہی اور پھر اس کے دماغ کی شیطانی بتی جلی۔
"اوکے مسٹر Macho۔۔۔۔ اب پش اپس تو تم بنا رہے ہو۔۔۔۔
lets see how strong you really are ۔۔۔"
اچانک وہ اٹھی اور یحیی کی پیٹھ پر چڑھ گئی۔ یحیی ایک سیکنڈ کے لیے رک سا گیا۔ پھر نیچے فرش کو دیکھا۔
ایک تو تھی اوپر سے بک بک، اب لیٹرلی بھی اوپر۔
روحا نے اپنے بازو اس کی گردن کے گرد باندھ لیے۔
"اب اپنی طاقت دکھاؤ۔"
یحیی نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی اور پھر۔۔۔ایک۔۔۔دو۔۔۔۔ تین۔۔۔۔چار۔۔۔
روحا کا منہ کھل گیا پھر وہ ہنس پڑی۔
" ارے واہ! تم تو واقعی کریزی ہو۔"
" تمہارے جیسی وائف کے لیے تو ڈیلی ڈم لگانا پڑتا ہے۔"
وہ ہنس کر بولا۔
پش اپ نمبر پانچ۔
روحا نے ہنسی روکی۔
پش اپ نمبر چھ۔
اس کا توازن ہل گیا۔
پش اپ نمبر سات۔
وہ دھڑام سے کمر کے بل فرش پر گری۔
" ہائے میں مر گئی۔"
وہ چیخی۔ ہاتھ کمر پر گیا۔
یحیی جھٹ سے اٹھا اور اسے سیدھا کیا۔
" ہے کیا تم ٹھیک ہو؟"
روحا کے چہرے پر ہلکا سا درد لہرایا۔ مگر وہ اپنی ہنسی روک نہیں پا رہی تھی۔
کمر گئی۔ عزت گئی۔ سب کچھ گیا۔
یحیی نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔
"عجیب ہو تم بھی، غصے میں بھی ہنسی آتی ہے تمہیں۔"
یحیی نے گہری سانس لی۔
" اور تمہیں ہر وقت فلرٹ ہی کرنا ہوتا ہے کیا۔"
یحیی نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا پھر دھیرے سے اس کے بال چہرے سے ہٹائے۔
"تمہارے ساتھ ہر وقت کچھ فیل ہوتا ہے۔ فلرٹ نہیں، عشق ہے۔"
روحا نے نظریں چرا لیں۔
" اٹھاؤ مجھے، والکنگ نہیں ہو رہی۔"
یحیی نے مسکراتے ہوئے اسے اٹھایا اور جم سے باہر چلا گیا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

❤️😍🫶
ReplyDelete