Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 3 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Romantic Novel - Dark romance - storytelling
زہرِ عشق
قسط 3
از منزہ نیاز
اگلے دن کالج سے چھٹی تھی تو لایان سارا دن سوتی رہی۔ جب اٹھی تو سستی اتنی تھی کہ پورا گھنٹہ پڑی رہی۔ تھوڑی دیر پہلے اس کی روحا سے میسج پر بات ہوئی تھی۔ اٹھنے کے بعد رات تک وہ بور ہی ہوتی رہی۔ آج موسم پھر سے خوشگوار ہو گیا تھا۔ بارش کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ وہ کمرے میں کھڑی گیلے بال تولیے سے خشک کر رہی تھی۔ رات کے اٹھ بج رہے تھے تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔
" لایان جا کر دیکھو کون آیا ہے۔؟"
امی نے کچن سے آواز لگائی۔
" اس وقت کون آگیا۔؟"
وہ بھاگ کر دروازے پر پہنچی، اور جب دروازہ کھولا تو سامنے روحا کھڑی تھی۔
ہاتھوں میں بڑے بڑے شاپرز، چہرے پر مصنوعی سنجیدگی تھی۔ مگر اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
" سرپرائز!"
اسے پیچھے کرتی وہ اندر داخل ہوئی۔
" تم۔۔۔اس وقت؟"
لایان ہکا بکا سی دروازہ بند کر کے پلٹی اور اس کے پیچھے پیچھے چلی آئی۔ لاونچ میں پہنچ کر روحا نے شاپرز میز پر پٹخے۔
" ہاں تو کیا تمہارے گھر آنے کے لیے پہلے آئی ڈی کارڈ سبمٹ کرواؤں۔"
روحا نے جیسے ناک سے مکھی اڑائی۔
" ارے نہیں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔"
لایان نے مسکراہٹ دبائی۔ اس کے آنے سے یکدم ہی ساری بوریت ہوا ہو گئی تھی۔
" ہاں جو بھی تھا سب جانتی ہوں۔"
پھر وہ اس کی طرف مڑی۔
" دیکھو مانتی ہوں میں غلطی پر تھی۔ میں تمہیں بارش میں چھوڑ کر چلی گئی، مگر تم بھی تو کچھ بول سکتی تھی نا۔۔۔۔ بندر کی طرح گم سم کیوں کھڑی رہی۔"
وہ منہ بنا کر بول رہی تھی۔
" اچھا اور تم فرشتہ ہو کیا؟ تم نے بھی تو نہیں پوچھا تھا۔ تمہیں تو بس بھائی بھائی اور بھائی ہی نظر آتے ہیں۔"
لایان نے ناک سکیڑ کر کہا۔
" ہاں بھائی بھی ہوں۔۔۔ اور تم بھی، دونوں برابر اور ضروری ہو میرے لیے۔ اب چپ رہو سمجھی۔"
روحا نے منہ بنایا۔ لایان کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔
" ویسے تمہارے آنے کی ضرورت تو نہیں تھی مگر پھر بھی اچھا کیا جو آ گئی۔"
اس نے آنکھیں ٹپٹپائی ۔
" اور میں گئی ہی کب تھی۔۔۔ آج رات یہی قیام ہے میڈم۔۔۔۔
so be ready to tolerate me "
روحا نے آنکھ ماری لایان ہنس دی۔ مگر پھر اس نے شرارت سے پوچھا۔
" پہلے یہ بتا تمہیں چھوڑا کس نے۔؟"
" بھائی اور کون۔۔"
روحا نے لاپرواہی سے کہا۔
" اچھا۔۔۔۔"
" اب کیا یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے۔ اندر نہیں چلو گی۔؟"
اسے گم سم کھڑا دیکھ کر اس نے دونوں شاپرز اٹھائے اور لایان کو پکڑا دیے۔
" نکالو ان کو۔ مجھے تو بھئی بہت بھوک لگ رہی ہے۔"
دونوں کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ روحا نے آنٹی کو سلام کیا۔ دونوں نے کھانا نکالا اور کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
" یہ بتاؤ تمہاری آنکھیں اتنی لال کیوں ہیں؟ کہیں کسی رایان تایان کو تو نہیں سوچ رہی تھی۔"
روحا نے زور سے لایان کو کندھے پر مار کر چھیڑا۔ کھانا گرتے گرتے بچا۔
" منحوس۔۔۔۔ابھی گر جاتا تو۔"
وہ چڑ گئی۔
" ہاں تو تجھ سے صاف کرواتی اور تجھ سے ہی ان کے پیسے لیتی۔۔۔ بھئی میرے بھائی کی حق حلال کی کمائی کے ہیں کوئی مفتا تھوڑی لگا ہوا ہے۔"
پٹر پٹر بولتی وہ کمرے میں گھس گئی۔
لایان کے ہاتھ میں ڈبے نہ ہوتے تو وہ اپنا ماتھا پیٹ ڈالتی۔ کمرے میں جاتے ہی دونوں نے جوتے اتارے اور بیڈ پر چڑھ گئیں۔
چپس، برگر اور پیزا کے ڈبے کھولے اور کھانا شروع کیا۔ ایک دوسرے کو تنگ کرنے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا جہاں سے چھوٹا تھا۔ بارش کی پہلی بوند نے کھڑکی پر دستک دی۔ دونوں کی ہنسی کمرے میں گونج رہی تھی۔ دونوں کی ایسی دوستی جس کا رشتہ لفظوں سے زیادہ گہرا تھا۔
☆☆☆
پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ روشنیوں کا سیلاب اور نرم موسیقی کی مدھم سرگوشیاں۔ مہنگے لباس اور قیمتی پرفیومز کی خوشبو۔ ہر طرف مصنوعی مسکراہٹوں کا ہجوم تھا۔
زاویان زرقاد کالی تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔ اندرونی شرٹ کے دو اپری بٹن کھلے ہوئے اور کلائی پر مہنگی گھڑی۔ آدھی چڑھی سفید آستینیں۔ چہرے پر ہلکی بیر، کچھ خاموش کچھ کہتی نظریں۔
وہ ایک ٹیبل کے قریب کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گلاس تھا۔ سوفٹ ڈرنک کا۔
تب ہی ایشل رحیم اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ سیاہ لباس، خوبصورت چہرہ، لمبے بال اور سرخ لپسٹک۔ چہرے پر وہی مخصوص قاتلانہ مسکراہٹ۔
" تم اتنے سنجیدہ کیوں رہتے ہو زاویان؟"
اس نے ہلکے سے پوچھا۔ زاویان نے ایک نظر اس کو دیکھا۔ سرد اور بے تاثر سی۔
" میرے پاس جذبات لٹانے کا وقت نہیں۔"
اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ ایشل کی پلکیں لرزیں مگر وہ ہمت کر کے بولی۔
" کبھی کبھی لگتا ہے۔۔۔۔ اگر تھوڑی دیر۔۔۔ ایک پل کے لیے۔۔۔۔ تم ذرا سا مسکرا دیتے۔۔۔ تو شاید۔۔۔۔ تم سے کوئی محبت کر بیٹھتا۔"
زاویان نے گلاس میز پر رکھا اور نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔
" مجھے کسی کی محبت نہیں چاہیے ایشل رحیم۔۔۔۔ میں کسی کے لیے نہیں رکتا، اور جو رکتے ہیں وہ میری دنیا میں زندہ نہیں رہتے۔"
ایشل ہلکا سا ہنسی، کچھ اس طرح کہ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
" تمہارے جیسے لوگ محبت نہیں کرتے زاویان۔۔۔۔صرف حکومت کرتے ہیں۔"
" حکومت کے لیے دل سے نکلنا پڑتا ہے اور وہ میں بہت پہلے کر چکا ہوں۔"
زاویان نے ایک قدم پیچھے لیا۔ پلٹا اور خاموشی سے چلا گیا۔ ایشل وہیں کھڑی رہی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پارٹی چمک رہی تھی۔ مگر اس کے اندر اندھیرا چھا چکا تھا۔
یہاں سے کچھ دور ایک طرف لاونچ کے ایک کونے میں دو لوگ آمنے سامنے کھڑے تھے۔
اذان شاہ ویر سلیقے سے تیار اور چہرے پر ازلی پرسکون سا غرور۔ یحیی دھیرے سے اس کے قریب آیا۔
" میں نے سنا ہے، اکثر جو لوگ اندھیرے میں بہت آگے نکل جاتے ہیں وہ روشنی میں کھڑے ہو کر ہمیشہ شرمندہ ہوتے ہیں۔"
اذان کے چہرے پر اس کی بات سن کر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ مگر نظریں ٹھنڈے فرش پر ہی ٹکی تھیں۔
" روشنی میں سب کچھ نظر آتا ہے، مگر کچھ لوگ ہوتے ہیں ایسے۔۔۔۔ جو آنکھیں بند رکھتے ہیں اور صرف آوازیں سنتے رہتے ہیں۔"
" مگر میں وہ نہیں ہوں اذان، جو صرف آوازیں سنتا ہے۔ میں وہ ہوں جو ثبوت جمع کرتا ہے اور وقت پر سامنے رکھ دیتا ہے۔"
دونوں کے درمیان پل بھر کو خاموشی چھا گئی۔ پھر اذان نے دھیرے سے کہا۔
" کبھی کبھی زیادہ جاننا بھی خطرناک ہوتا ہے، خاص طور پر تب جب سوال زندگی اور جواب موت ہو۔"
" تو تم دھمکی دے رہے ہو؟"
یحیی نے گہری نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ اذان کی ہنسی بے ساختہ تھی۔
" بالکل بھی نہیں۔ میں تو بس تمہیں یاد دلا رہا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ جان پہچان خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔"
وہ مسکرایا پھر پلٹ گیا۔ یحی نے گھور کر اس کی پیٹھ دیکھی پھر سر جھٹک کر مڑ گیا۔
☆☆☆
پارٹی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ جا چکے تھے۔ ویٹرز میزیں سمیٹ رہے تھے۔ وہاں پر دو وجود ایسے تھے جن کے اندر کچھ بھڑک رہا تھا۔ کچھ ایسا جو زہر جیسا تھا۔ دونوں ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اذان کے ہاتھ میں اس کا موبائل تھا۔ جس کی سیاہ اسکرین کو وہ بس گھور رہا تھا۔
ایشل دھیرے دھیرے میز کی سطح پر انگلی پھیر رہی تھی، جیسے کوئی بے آواز دھن ہو جو صرف اس کا دل سن سکتا تھا۔
" دل کا کیا کریں اذان؟"
ایشل کی نظریں نیچی تھیں۔ آواز دھیمی مگر کانپتی ہوئی۔
"جب سب کچھ چھن جائے تو صرف انتقام باقی رہتا ہے۔"
اسکرین سے نظر ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔
" اور جب انتقام بھی ختم ہو جائے تو؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔ اذان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ زہر جیسی۔
" پھر کچھ بھی نہیں بچتا، بس خاموشی رہ جاتی ہے۔"
اس نے کندھے اچکائے۔
" لیکن اس خاموشی سے پہلے کچھ جلانا ہے مجھے۔"
اذان نے اب کی بار غور سے اس کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں نہ نم تھیں نہ ہی خالی۔
" مجھے بھی کچھ جلانا ہے، کچھ چہرے، کچھ نام، کچھ مسکراہٹیں۔"
ایک لمحے کو دونوں کی نگاہیں ملیں۔ جن میں نہ جھجک تھی نہ کوئی شرم۔ بس دو جلے ہوئے وجود تھے، جو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔ ایشل نے دھیرے سے میز پر انگلی سے ایک اور لکیر کھینچی اور پھر وہی لائین پھر سے کہی۔
" میں ہوں ایشل رحیم۔ سب لوگ مجھے معصوم سمجھتے ہیں اور یہی میری سب سے بڑی طاقت ہے۔ بس۔۔۔۔ کچھ دن اور۔۔۔۔۔ اور پھر سب کچھ ختم۔"
اذان دھیما سا ہنسا۔
" تو پھر شراکت دار۔۔۔۔ ہاں؟"
ایشل نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ نہ دونوں دوست تھے نہ دشمن۔ بس ساتھ تھے۔ دونوں نے گلاس اٹھایا۔
نہ کسی خوشی کے لیے۔
نہ کسی شروعات کے لیے۔
بس، سب کچھ ختم کرنے کے لیے۔
☆☆☆
[ Join my WhatsApp channel and Facebook page for more information ]
WhatsApp channel link
https://whatsapp.com/channel/0029VawyCM0GehEGCClagj1A
Facebook page link
https://www.facebook.com/share/14HhdXi1WJp/
شام کا وقت تھا۔ آسمان پر سنہری دھوپ چمک رہی تھی۔ پارک کے باہر اور اندر لوگوں کی چہل پہل تھی۔ فٹ پاتھ پر لوگ آ جا رہے تھے۔ روحا حسن کے ساتھ باہر نکلی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں جوس کی بوتل تھی۔ حسن کا فون بجا اور وہ کان سے لگاتا تھوڑا آگے نکل گیا۔ وہ اپنی سوچوں میں مگن، دھیما سا گنگناتی آگے بڑھ رہی تھی۔ جب اچانک اس کا کندھا کسی سے ٹکرایا۔ جوس کی بوتل ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا اور وہیں جم گئی۔ سامنے وہی شخص کھڑا تھا۔ سفید قمیص کی آستینیں ہلکی سی مڑی ہوئیں۔ چہرہ مکمل سنجیدہ اور آنکھیں؟؟؟
وہ تو جیسے سیدھا دل میں اتر رہی تھیں۔ روحا نے فورا ایک قدم پیچھے لے لیا۔ اس کے دل کی دھڑکن لمحے بھر کو رکی تھی۔
" معاف کیجیے گا میں نے دیکھا نہیں۔"
یحیی نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر زمین پر گری بوتل کو اور پھر واپس اس کو۔ نظریں گویا روحا کے چہرے پر جم سی گئی تھیں۔ روحا نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا۔ وہ جتنا خوبصورت دکھ رہا تھا اتنا ہی ڈرا دینے والا بھی۔
" آپ۔۔۔۔ ہیں کون۔؟"
اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی۔ یحیی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی جسے اس نے فورا ہی دبا لیا۔ مگر اس کی نظریں ابھی بھی سرد تھیں۔
" آپ کو جاننے کی ضرورت نہیں، ابھی نہیں۔"
روحا نے جھنجلا کر اس کو دیکھا۔
" کتنے عجیب ہو۔ ایک آنکھ نہیں بھائے مجھے۔"
وہ تیزی سے مڑ گئی۔ یحیی کی چھپی مسکراہٹ باہر آئی پھر وہ پلٹ گیا۔
وہ جو بغیر رکے آگے بڑھ رہی تھی لمحے بھر کو رکی۔ اس کے دل کی حالت عجیب ہو گئی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ چند قدم دور وہی شخص سڑک کے کنارے ایک دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کی گاڑی ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔ اس کے ارد گرد بہت سے بچوں کا ہجوم تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچے۔۔۔ کچھ کے جوتے پھٹے ہوئے تھے، کچھ ننگے پیر کھڑے تھے۔ ان کے کپڑے پرانے اور بوسیدہ تھے۔ ہاتھوں میں شاپرز، جن میں سامان تھا۔ کھانا، کپڑے، بسکٹ، دودھ کے ڈبے اور باقی ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں۔
ایک بچی یحیی کے سامنے کھڑی کھلکھلا رہی تھی۔
" بھائی آج تو جوس بھی ہے، وہ والا۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ والا۔"
اس کے انداز پر یحیی کے لب مسکرائے۔
" ہاں آج سردی تھوڑی کم ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔"
پھر اس نے اپنے ساتھ بیٹھے بچے کا ہاتھ تھاما۔
" تم سکول کیوں نہیں گئے آج۔"
" وہ میرے جوتے پھٹ گئے تھے۔"
بچے نے چہرہ جھکا کر شرمندگی سے کہا۔ یحیی نے بیگ سے ایک ڈبہ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
" اب کل جانا ہے ٹھیک ہے۔"
بچے نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔ سامنے دو نوجوان لڑکے کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں اور کپڑوں پر گریس اور مٹی لگی تھی۔ چہرے پر خوشی اور تھکن دونوں تھی۔
" کار ورک شاپ میں کوئی پریشانی۔؟"
یحیی نے ان سے پوچھا۔
" نہیں یحیی بھائی! آپ کی وجہ سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ اماں آپ کو ہر وقت دعائیں دیتی ہیں اور اب ہمیں خالی پیٹ بھی نہیں سونا پڑتا۔"
یحیی نے دھیرے سے سر جھکا لیا۔
"میں کسی کی دعا کے لائق نہیں بس تم لوگ وقت پر کھانا کھایا کرو اور اپنی بہنوں کو سکول بھیجا کرو۔"
اس نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا پھر کھڑا ہو گیا۔
روحا ساکت کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے دل کی دیوار پر جیسے کسی نے ہتھوڑا مارا تھا۔
وہ شخص۔۔۔۔ جسے وہ سرد، مغرور، خطرناک اور عجیب سمجھے بیٹھی تھی وہ ایک دن میں کئی پیٹ بھر رہا تھا۔ کئی چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ کوئی جانتا بھی نہیں تھا اس کو نہ کوئی واہ واہ ہوئی تھی اور نہ ہی اس نے کوئی نام کمایا تھا۔ بس خاموشی سے ہر روز تھوڑا تھوڑا بانٹتا جا رہا تھا۔ اپنا وقت، اپنے پیسے اور شاید اپنی تنہائی بھی۔
روحا کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے جو خالی تھے۔ دل میں ایک درد سا جاگ اٹھا۔ آسمان پر ڈھلتا سورج کل کو آفتاب ہونے کے لیے بے تاب ہوا۔ روحا نے دھیرے سے آنکھیں بند کیں اور پھر گہری سانس فضا میں چھوڑ دی۔
" یحیی۔"
وہ ہولے سے بولی۔
" روحا وہاں کیا کر رہی ہو؟ ادھر آؤ جلدی۔"
حسن نے اسے دور سے پکارا۔ یحیی کے قدم پل بھر کو رکے۔
"آ رہی ہوں بھائی۔"
وہ حسن کی طرف بڑھ گئی۔
یحیی نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ بس دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔ جیسے کوئی راز ہو جو اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ یا کسی کی کوئی کمزوری پا چکا ہو یا پھر شاید کسی کے نام کی پہلی کنجی اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔
☆☆☆
" تم نے میری بات نہیں مانی تھی۔ تم نے میری انسلٹ کی۔ اب تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہو گی۔"
" نہیں تم۔۔۔۔ تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ تم نے کہا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔"
اس کے ہونٹ لرزے۔ پلکیں بھیگ گئیں ۔
" بکواس بند کرو اپنی۔ غلطی ہو گئی تھی مجھ سے جو تمہارے جیسی لڑکی کو منہ لگایا۔"
وہ چلایا۔
" ٹھیک ہے۔ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو۔ میں کچھ نہیں کہوں گی۔ نہ ہی کبھی تمہارے راستے میں آؤں گی۔ بس میری ایک بات مان لو۔"
اس نے آنکھوں کو زور سے رگڑا۔
سامنے کھڑا شخص نفرت سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
" تم۔۔۔۔ تم ہمارے میسجز ڈلیٹ کر دو۔ میری پکچرز اور ۔۔۔"
وہ بول رہی تھی کہ سامنے والے نے زور سے قہقہہ لگایا۔
" واہ مشال فاروقی کیا کہنے ہیں آپ کے۔ مجھے بے وقوف سمجھتی ہو کیا؟ اب تم یہ بھی دیکھنا کہ میں ان تصویروں کے ساتھ کرتا کیا ہوں۔"
مشال کی روح تک کانپ گئی۔ اسے لگا جیسے کسی نے اسے چیر کر رکھ دیا ہو۔ وہ مڑا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
" نہیں حارث رک جاؤ۔۔۔ مت کرو ایسا۔ خدارا یہ تو مت کرو۔"
وہ چلائی، روئی۔ مگر اس نے نہیں سنا اور آگے بڑھ گیا۔
مشال نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ وہ سو نہیں رہی تھی۔ بند آنکھوں کے پیچھے ماضی کسی بھیانک خواب جیسا لگ رہا تھا۔ فجر کی نماز پڑھ کر وہ دوبارہ لیٹ گئی تھی۔ مگر سو نہیں سکی۔ تھوڑی دیر بعد وہ بستر سے نیچے اتری۔ اسے ناشتہ بنانا تھا۔ یونی ورسٹی جانے سے پہلے وہ سب گھر والوں کا ناشتہ بناتی تھی۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے امی کھڑی تھیں۔
" اٹھ گئی تم؟ ابھی میں تمہیں ہی جگانے آ رہی تھی۔ جلدی کرو ناشتہ بناؤ سب انتظار کر رہے ہیں۔"
کہتے ساتھ وہ فورا پلٹ گئیں۔ مشال بالکل چپ رہی اور اسی خاموشی کے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گئی۔
سب ایک ایک کر کے اٹھنے لگے اور جو جو اٹھتا گیا وہ سب کو الگ الگ ناشتہ بنا کر دیتی گئی۔ کسی کو چائے چاہیے تھی تو کسی کو املیٹ، کسی کو پراٹھا تو کوئی لسی کی فرمائش کر دیتا۔ وہ چپ چاپ تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی۔ اسے یونیورسٹی بھی جانا تھا۔
سب کو ناشتہ کروانے کے بعد اس نے اپنے لیے چائے نکالی اور پراٹھا توے سے اتار کر چولہا بند کر دیا۔
" مشال ایک اور پراٹھا بنا دو۔ تمہارے بھائی کو دینا ہے۔ وہ اور مانگ رہا ہے۔"
مشال نے ایک خاموش نظر اپنی ماں پر ڈالی اور اپنا حصہ ان کی طرف بڑھا دیا۔
" تم اپنے لیے ایک اور بنا لو۔"
کہتے ساتھ وہ کچن سے باہر چلی گئیں۔ اس نے ہاتھ میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔ ٹائم ختم ہونے والا تھا۔ وہ یک ٹک چائے کے کپ کو گھورتی رہی پھر بڑے بڑے گھونٹ بھر کر خالی ٹھنڈی چائے حلق میں انڈیل دی۔ دو منٹ بعد وہ بیگ سنبھالتی گھر سے باہر نکل گئی۔
پہلے اس نے رکشہ کروایا اور بس اسٹاپ پر پہنچی۔ وہاں سے وہ سیدھا یونیورسٹی جانے والی بس میں سوار ہوئی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے خالی نگاہوں سے باہر دیکھنا شروع کر دیا۔ ماضی دوبارہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔
" اچھا میں چلتی ہوں مجھے نماز کے لیے دیر ہو رہی ہے۔"
وہ چھت پر کھڑی نیچے جھانک رہی تھی۔ جہاں حارث کھڑا تھا۔ اس کی بات پر حارث کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات مشال نے نہیں کہی تھی جس سے اس کو غصہ آتا۔
" ٹھیک ہے پھر نکلو۔"
دونوں نے موبائل کان سے لگا رکھا تھا۔ حارث کے کہنے پر وہ چھت پر آئی تھی۔ وہ بس اسے ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد جب مشال نے جانے کا کہا کہ کوئی دیکھ نہ لے اور پھر اسے دیر ہو رہی تھی۔ حارث کی بات پر اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
" یہ تم کس طرح بات کر رہے ہو مجھ سے۔؟"
" ویسے جیسے بہت پہلے کر لینی چاہیے تھی۔"
اور یہ بہت پہلے بھی وہ کئی بار کر چکا تھا۔
مشال نے فون کان سے ہٹایا اور تیزی سے پلٹ گئی۔ اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔
اگر محبت میں عزت نہ ہو تو اسے ختم ہو جانا چاہیے۔
بس دوسرے پوائنٹ پر رکی تھی۔ مشال نے محسوس کیا کوئی اس کے پہلو میں آ بیٹھا ہے۔
" رونا آ رہا ہے۔؟"
مشال نے نم آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ وہ سیدھ میں دیکھ رہی تھی۔
" ہاں بہت زیادہ۔"
اس کے لب ہلے مگر آواز نہیں نکلی۔
" تو پھر میرا کندھا حاضر ہے۔ میں تمہارے پاس ہوں۔۔۔ ہمیشہ۔ تم نے جتنے آنسو بہانے ہیں بہا ڈالو۔ انہیں روکو مت۔ ورنہ یہ تمہارا دل سخت کر دیں گے۔ آنسو بہنے کے لیے ہوتے ہیں۔ تم رو لو کیونکہ رونا کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تم ایک مضبوط لڑکی ہو۔ میں کبھی تمہیں جج نہیں کروں گی۔ میں تمہیں جانتی ہوں کہ تمہارا دل کیسا ہے۔ تم نے کتنا درد سہا ہے۔"
مشال نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس نے سینے سے نکلتی آہ اندر ہی دبا لی۔ اس کی آنکھیں نم ہی رہیں۔ مگر اس نے ایک قطرہ بھی نہیں بہایا۔
یونیورسٹی میں وقت کیسے گزرا کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ جب وہ گھر پہنچی تو اس کی بہن اس کے سر پر پہنچ گئی۔
" امی گھر پر نہیں ہیں۔ وہ کہہ کر گئی ہیں کہ تم جب آؤ تو تمہیں کہہ دوں کہ تم کھانا بناؤ گی۔"
مشال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی بہن موبائل اسکرول کرتے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
جب وہ کھانا بنا کر باہر نکلی تو اس کی بہن دوبارہ آ گئی۔
" روٹیاں بھی بنا دو۔"
" نوکر نہیں ہوں میں، خود جا کر بنا لو۔"
مشال ایک دم بھڑک اٹھی۔ غصے سے اس کا سانس پھول گیا۔ وہ تن فن کرتی بھاگ کر کمرے میں بند ہو گئی۔ آٹا گوندھ کر وہ رکھ آئی تھی۔ شام کو وہ کمرے سے باہر نکلی تو ہر طرف خاموشی تھی۔ وہ چپ چاپ کچن میں گئی۔ بھوک سے اس کی جان نکلنے کو تھی۔ اس نے دیکھا خالی برتن سنک میں، سالن فرج میں اور ہاٹ پاٹ خالی۔
وہ مڑی اور لڑکھڑاتے قدموں سے واپس پلٹ گئی۔ اس کی عادت بنتی جا رہی تھی۔ رات کو اس نے چائے کا مگ بنایا اور چھت پر چلی گئی۔ خوبصورت ٹھنڈی ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا۔ آسمان ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔ وہ منڈیر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اس نے محسوس کیا کوئی اس کے پیچھے دیوار پھلانگ کر اس کے قریب آ بیٹھا ہے۔وہ چپ چاپ چائے حلق میں انڈیلتی رہی۔
" بھوک مار رہی ہو۔؟"
اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی نے دھیرے سے پوچھا۔ مشال نے کوئی جواب نہیں دیا۔
" کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہو؟ کچھ تو رحم کرو خود پر۔"
مشال کو لگا اس کے انتڑیاں سکڑ گئی ہیں۔ سینے میں جلن محسوس ہونے لگی تھی۔
" تم کیوں بار بار میرے پاس آ جاتی ہو؟"
مشال نے اسے غصے سے دیکھا۔
" کیونکہ تم تنہا ہو۔ تمہیں کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے۔"
" مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھی تم۔"
مشال نے تلخی سے اس کی بات کاٹی۔
" تمہارے اندر بہت زہر بھر گیا ہے مشال! اسے کسی طرح باہر نکالو۔ رو لو۔۔۔ بس ایک بار۔"
مشال زور سے ہنسی۔
" میں بزدل نہیں ہوں، نہ ہی کمزور ہوں۔"
" ہاں تم نہیں ہو۔ تم بہت پیاری اور خوبصورت دل کی لڑکی ہو۔ تم بہت بہادر ہو میں جانتی ہوں۔ تمہیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اکیلی خود کو سنبھال سکتی ہو۔ تم ایک محبت کرنے والی نرم دل کی لڑکی ہو۔"
" نہیں ہوں میں کچھ بھی ان میں سے۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوں۔ نفرت ہے مجھے سب سے۔ میرا دل کرتا ہے ابھی مر جاؤں۔"
اس نے دونوں ہاتھوں سے بال مٹھیوں میں جکڑ لیے۔
" اللہ کو کیوں ناراض کر رہی ہو۔ مایوس ہونا کفر ہے۔ تم تو ہر چیز چھوڑ کر بیٹھی ہو۔ خود کے لیے دعا کیوں نہیں کرتی۔ اللہ سے اپنے لیے سکون مانگو۔ وہ تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔"
" مجھے کوئی دعا نہیں کرنی۔ تم جانتی بھی نہیں ہو کہ میں نے کتنی دعائیں کی ہیں خود کے لیے۔ میں نے اللہ سے اس کو مانگا تھا۔ اگر وہ میرے لیے بہتر نہیں تھا تو نہ دیتے وہ مجھے۔ کیوں اس کی محبت میرے دل میں ڈال دی جس کی نظروں میں، میں ہزار بار گری ہوں۔وہ کبھی مجھے چاہتا ہی نہیں تھا۔ میں نے اس کو راتوں میں اٹھ کر مانگا تھا۔ مگر اس نے کیا کیا؟ میری راتوں کی نیندیں چرا کر لے گیا۔ میری آنکھوں کو سمندر بنا گیا۔ میرے دل کو نفرتوں سے بھر گیا۔ جب وہ میرے قابل نہیں تھا تو اللہ اسے مجھے نہ دیتے نا۔۔۔ کیوں وہ چند سال میری زندگی برباد کر رہے ہیں۔"
وہ یک دم غصے سے بولتی چپ ہوئی تھی۔
" اللہ نے تمہاری شدت دیکھ کر اسے تمہیں سونپا تھا۔ تمہارا رونا، تمہارا تڑپنا اللہ دیکھ رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ تم مزید بکھر جاؤ۔ تمہاری اس کے لیے طلب اتنی بڑھ گئی تھی کہ تم نے خود کو بھی فراموش کر ڈالا تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ وہ کیسا شخص ہے۔ وہ تمہارے قابل نہیں تھا۔ اللہ نے اسے تمہیں اس لیے سونپا تھا تاکہ تم اس کی اصلیت جان کر خود کے قدم روک لو اور واپس پلٹ جاؤ۔ جہاں اللہ تمہارا منتظر ہے۔ تم نہیں جانتی تھی کہ اس وقت تمہیں محبت تھی یا عشق۔ تم بس چاہتی تھی کہ وہ تمہیں مل جائے۔ بس تمہارا ہو کر رہ جائے۔
تمہیں پتہ ہے محبت اور عشق میں کیا فرق ہے۔؟"
مشال ساکت نظروں سے اس کو سن رہی تھی۔
" محبت میں لوگ ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ عشق میں لوگ سجدے میں گر جاتے ہیں۔ اور تم گر گئی تھی مشال۔"
گرم سیال مشال کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔
" تمہاری یہ حالت محبت یا نفرت نے نہیں بلکہ عشق نے کی ہے۔ وہ عشق۔۔۔جو اب زہر بن چکا ہے۔"
مشال نے تڑپ کر اس کو دیکھا۔
" ایسا کچھ نہیں ہے۔ تم پلیز چپ کر جاؤ۔" وہ سسکی۔
" تو پھر اتنا درد اتنی تکلیف کیوں؟ اتنی تڑپ اتنے آنسو کیوں۔؟"
وہ پوچھ رہی تھی۔
" یہ میرے گناہوں کی سزا ہے۔ میں نے اس کو پانے کے بعد اللہ کو بھلا دیا تھا۔ اس کی یاد سے غافل ہو گئی تھی۔ میرا گناہ بہت بڑا ہے۔"
اس نے زور سے ہتھیلیوں کو رگڑا تھا۔
رات کی سیاہی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ آسمان جو کچھ دیر پہلے ستاروں سے بھرا تھا اب یک دم ہی بادل چھا گئے تھے۔
" ہاں تمہارا گناہ بڑا ہے لیکن اللہ کی رحمت اس سے بھی بڑی ہے۔"
آسمان اتنی زور سے گرجا کہ اس کا دل تک رک گیا۔
" تم نے ایک انسان سے عشق کیا اور فنا ہو گئی۔ اب اللہ سے عشق کر کے دیکھو وہ تمہیں فناہ نہیں ہونے دے گا۔ تمہیں کبھی ٹوٹنے، کبھی بکھرنے نہیں دے گا۔ اب صرف اپنے لیے دعا کرو۔ آج ہاتھ اٹھا لو۔ دیکھو وہ انتظار کر رہا ہے۔ تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا۔"
وہ مسکرائی تھی۔
مشال بالکل چپ تھی۔ اس کے اندر باہر سناٹا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی جو اسے بکھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ جو اس کی پل پل فکر کرتی تھی۔ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی تھی۔
مشال نے چہرہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش کا پہلا قطرہ اس کے گال پر گرا۔
" اللہ کو راضی کر لو مشال! وہ بہت مہربان ہے۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔"
مشال جھکی اور جھکتی چلی گئی۔ فرش پر ماتھا ٹکائے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی۔ اس کی سسکیاں بارش کے شور میں گم ہوتی جا رہیں تھیں۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment