Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 4 - Munaza Niaz - Urdu Novel - Romantic Novel - Dark romance - Force marriage - mafia base

 



زہرِ عشق

قسط 4

از منزہ نیاز 


سڑک پر اس کے تیز قدموں کی چاپ دور تک سنائی دے رہی تھی۔ اسے پوائنٹ پر بس پکڑنی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے چہرہ گھما کر دیکھا۔ رایان جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ وہ ڈر گئی اور اگلے سیکنڈ اپنی رفتار تیز کر دی۔


" کتنا بھاگو گی؟ اب ہر دن تو راستے نہیں بدلتے نہ ہی لوگ بدلتے ہیں۔"  


اگلے پل وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ ایک دم رکی۔

" تم اپنی یہ گھٹیا حرکتیں کتنی بار دکھاؤ گے؟ تھکتے نہیں ہو۔؟"  

لایان کی آنکھوں میں سختی تھی۔ مگر لہجہ اس سے بھی زیادہ سخت تھا۔ وہ تھوڑا قریب آیا۔ آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ 


رایان زرقاد جگہ اور وقت دیکھ کر چلتا تھا۔ 


شام گہری ہو رہی تھی۔ لایان عموما دوپہر کو روحا کے ساتھ ہی چلی جاتی تھی۔ مگر آج اسے پرنسپل نے کچھ کاموں کے لیے روک لیا تھا۔ اس نے گھر کال کر کے بتا دیا تھا کہ وہ لیٹ آئے گی۔ روحا نے کہا بھی کہ وہ اس کے ساتھ ہی جائے گی، مگر اس نے منع کر دیا تھا۔ وہ خود کی وجہ سے کسی اور کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ 

" تم بورنگ نہیں ہو اس لیے مزہ آتا ہے۔"

  

لایان کا چہرہ پل بھر کو سرخ ہوا۔

"اپنی حد میں رہو۔"


اس کی آواز ہلکی سی کانپی۔ رایان ہنسا۔

" یہی مسئلہ ہے۔ تم حد میں رہتی ہو اور میں حدوں کو توڑتا ہوں۔"  

وہ ہلکا سا جھکا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ لایان ایک قدم پیچھے ہوئی۔


" تمہارے جیسے لوگ کبھی کسی کا سہارا نہیں بنتے۔ صرف سایہ بن کر پیچھا کرتے ہیں اور سائے ہمیشہ اندھیرے میں ہی رہ جاتے ہیں۔"

وہ تیزی سے پلٹ گئی۔


" میں اندھیروں میں ہی جیتا ہوں سوئیٹ ہارٹ۔" 

اس کی پشت کو دیکھتے وہ سیٹی پر کوئی دھن بجاتا پلٹ گیا تھا۔ لایان نے اس کی بات سنی اور تیزی سے بھاگی۔ مگر اگلے دن جب وہ کچھ کتابیں لیے لائبریری کی طرف جا رہی تھی۔ وہ پھر سے اس کے سامنے آگیا۔ وہ خوفزدہ ہوتی راہداری میں بھاگی۔ مگر رایان نے ہمیشہ کی طرح اس کا راستہ روک لیا۔ 


" آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ہر جگہ پہنچ جاتے ہو؟" 

وہ غصے سے بولی۔


" مسئلہ نہیں شوق کہتے ہیں اسے۔" 

وہ تھوڑا آگے آیا۔ راہداری پوری خالی تھی۔ وہ غصے سے دیکھ رہی تھی۔ 


" ویسے تمہارا غصہ سوٹ کرتا ہے تم پر۔"  

لایان نے سختی سے کتابیں پکڑ لیں۔


" تمہارے جیسے لڑکوں سے شدید نفرت ہے مجھے۔"  

رایان مسکرایا۔ 

"اور مجھے تمہارے جیسی لڑکیاں پسند ہیں۔" 

تب ہی انہیں بہت سے قدموں کی گونج سنائی دی۔ لایان نے پلٹ کر دیکھا۔ بہت سارے اسٹوڈنٹس اس کی طرف بھاگتے ہوئے آ رہے تھے۔ وہ سائیڈ پر ہونا چاہتی تھی۔ مگر اس سے پہلے ہی وہ کسی سے بری طرح ٹکرائی۔ کتابوں سمیت وہ نیچے گر گئی۔ 


رایان اپنی جگہ جما کھڑا رہا۔ اس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔ اس سے بھی بھاگتے ہوئے اسٹوڈنٹس ٹکرا رہے تھے۔ مگر وہ ہل بھی نہیں رہا تھا۔ دس سیکنڈز بعد راہداری میں سناٹا چھا گیا۔ 


لایان نے تیزی سے کتابیں اٹھائیں اور بنا اس کی طرف دیکھے پلٹ گئی۔ اس کی گال پر کھروچ پڑ گئی تھی۔ بال بھی کھل کر بکھر گئے تھے۔ رایان نے اس سے نظر ہٹا کر فرش کی طرف دیکھا۔ 


وہاں ایک کلپ پڑا تھا۔ لایان کا کلپ۔ جو کھل کر گر گیا تھا۔ اس نے اٹھایا، مسکرایا اور جیب میں ڈال دیا۔

☆☆☆

اگلے دن جب وہ کالج پہنچی تو ایک دل دہلا دینے والی خبر اس کی منتظر تھی۔ اور اس سے بھی بھیانک! وہ خبر اس سے جڑی تھی۔ 


" رایان زرقاد کل سے غائب ہے اور کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ آخری بار اسے تمہارے ساتھ راہداری میں دیکھا گیا تھا۔"  

روحا نے خوف زدہ ہو کر اسے کالج گروپ میں بھیجی گئی ایک سی سی ٹی وی کلپ دکھائی۔ جس میں وہ دونوں کھڑے تھے اور بس۔


" کک۔۔۔کیا مطلب کہ وہ غائب ہے۔ کل تک تو۔۔۔!"  

اس کا سانس خشک ہوا۔

" میں نہیں جانتی لالی۔ گروپس میں جو باتیں ہو رہی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سب کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہے۔"  

لایان نے شاکڈ ہو کر روحا کو دیکھا۔


"مم۔۔۔ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔ روحی تم۔۔۔۔ تم مجھ پر شک کر رہی ہو۔۔۔"  

روحا نے تڑپ کر اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔

" کیا بکواس کر رہی ہو۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا بلکہ جب سے میں نے یہ خبر سنی ہے میں خود پریشان ہو گئی ہوں۔" 

وہ بے چینی سے بولی۔

" روحی۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔وہ خود آتا تھا میرے پاس۔۔۔ میں۔۔۔" 


"لایان تمہیں پرنسپل آفس میں بلا رہے ہیں۔" 

ایک لڑکی تیزی سے ان کے قریب آئی۔ اس کا رنگ اڑ گیا۔


" تم پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔" 

روحا نے اسے تسلی دی۔ حالانکہ وہ خود اندر سے ڈر رہی تھی۔

☆☆☆


" میرے بھائی کی سیکیورٹی کس کے ذمے تھی؟ تم سب کیا صرف حاضریاں  لگاتے ہو۔" 

زاویان زرقاد کی دھاڑ پورے آفس روم میں گونج رہی تھی۔ وہ کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا چہرے پر سختی لیے بول رہا تھا۔ اس کے سامنے پرنسپل، دو ٹیچرز اور گارڈز موجود تھے۔


کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کچھ بول سکے۔ زاویان نے میز پر رکھی فائل اٹھائی اور اسے پوری قوت سے دیوار پر دے ماری۔ 


" کالج کا وہ کون سا کونہ ہے جہاں پر کیمرہ خراب نکلا ہے اور وہ فٹیج کہاں ہے جب رایان زرقاد غائب ہوا تھا۔۔۔۔ ہاں وہ یہیں سے غائب ہوا تھا۔" 

" سس۔۔۔ سر ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔مگر۔۔"  

پرنسپل نے لرزتی آواز میں کچھ کہنا چاہا تبھی زاویان بول پڑا۔


" کوشش؟ میرے بھائی کے ساتھ کیا ہو گیا۔ اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے کہ اگر اس کو کچھ ہو گیا تو۔۔؟"  

اس نے زور سے ان کی سنے بغیر میز پر ہاتھ مارا۔ پرنسپل اچھل پڑا۔ اسی لمحے زاویان کے فون پر کال آئی۔ اس نے فون کان سے لگایا۔ اگلے ہی لمحے وہ باہر کی طرف بھاگا۔ دروازہ بند ہوتے ہی کمرے کا تناؤ کم ہو گیا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں گیا۔ کچھ لمحوں بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور لایان جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔


" لایان ہاشمی! آخر آپ کب ہمیں بتانے والی تھی کہ آپ رایان کے ساتھ آخری بار دیکھی گئی تھی۔"  

پرنسپل نے سخت لہجے میں پوچھا۔


" کیا میں؟۔۔۔۔ مم۔۔۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ میں تو بس۔۔۔"  

وہ چونکی۔

" رہداری میں ملنا، تنہائی میں باتیں اور پھر اچانک رایان کا غائب ہو جانا۔ یہ سب " بس" کہنے سے چھپ جائے گا؟"  

ٹیچر نے سختی سے کہا۔

" نہیں سر میں خود حیران ہوں۔ مجھے بھی نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔"  

وہ روہانسی ہو گئی۔ کوئی بھی اس کی بات نہیں سن رہا تھا۔

" جب تک حقیقت سامنے نہیں آ جاتی آپ کو معطل بھی کیا جا سکتا ہے اور اگر آپ کا اس سب سے تعلق ہوا تو قانونی کاروائی بھی ہوگی۔ جائیں اب۔"  

پرنسپل نے سخت نگاہوں سے دیکھا۔ 

اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ 


کالج کے باہر زاویان نے تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ اس کی گاڑی پوری رفتار سے جا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر خطرناک سکوت تھا اور دل کی دھڑکن عجیب سی۔ جیسے کچھ برا ہونے والا ہو۔

☆☆☆

شہر سے باہر ایک پرانی ٹیکسٹائل فیکٹری کے سامنے اس کی گاڑی رکی۔ بریک لگتے ہی مٹی کا طوفان سا اٹھا۔ دروازہ کھلا اور زاویان تیزی سے باہر نکلا۔ اس کا چہرہ سخت اور بے تاثر تھا۔ اس نے اپنی جیب سے پستول نکالی اور دوسرے ہاتھ میں ٹارچ اور اندر داخل ہو گیا۔ 


اندر مکمل خاموشی تھی۔ وہ جگہ ویران اور خستہ حال، سیلن کی بو اور دیواروں پر پرانے کپڑوں کے تھان لٹک رہے تھے۔ کچھ جگہوں پر خون کے پرانے دھبے اور کچھ جلی ہوئی رسیوں کے نشان بھی موجود تھے۔ اس کی نظریں ہر کونے کو ٹٹول رہی تھیں۔ 


وہ ایک ایک کمرہ کھولتا جا رہا تھا۔ 

" رایان۔" 

اس نے مدھم آواز میں پکارا۔ مگر اس کی گونج اسے واپس لوٹا دی گئی۔ اور پھر وہ ایک دم رکا۔ 


ایک کمرے کے فرش پر گرد اور مٹی کے درمیان کچھ پڑا ہوا تھا۔ اس نے جھک کر وہ اٹھایا۔ 


ایک چھوٹا سا کلپ۔ نیلے رنگ کا۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بدلا۔ اس نے کلپ جیب میں ڈالی۔ آنکھیں بند کی اور ایک ٹھنڈی سانس لے۔ 


یہ کس کا تھا اسے اب معلوم کرنا تھا۔ 


اور دوسری طرف لایان بہت بری پھنسی تھی۔ ہر آتا جاتا سٹوڈنٹ اسے گھور رہا تھا۔  پرنسپل نے اس کا فون ضبط کر لیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور روحا بار بار اسے چپ کروا رہی تھی۔ 


" مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے۔" 

وہ بار بار یہی جملہ دہرا رہی تھی۔ اس کا کلپ جو غائب تھا اسے معلوم تک نہیں تھا۔ 


مگر اسے کیا خبر تھی کہ اس کا ایک معمولی کلپ اب اس کی گردن کا پھندہ بننے جا رہا ہے۔

☆☆☆


روحا تھکے قدموں سے کالج سے باہر نکلی۔ لایان گھر جا چکی تھی۔ ان دونوں کی کوششوں سے یہ بات ان کے گھروں تک نہیں پہنچی تھی۔ 


اس نے حسن کو دو گھنٹے پہلے کال کی تھی کہ وہ اسے لے جائے۔ مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ شام ہو چکی تھی۔ اس نے دوبارہ کال کی مگر فون بند جا رہا تھا۔اس نے میسج کر دیا۔ آس پاس کوئی رکشہ یا کوئی اور سواری بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ تھوڑی خوفزدہ بھی ہو چکی تھی۔ اس لیے اکیلے جانے سے ڈر رہی تھی۔ 


وہ وہیں کھڑے کھڑے انتظار کرنے لگی۔ کافی دیر تک وہ لایان کے بارے میں بھی سوچتی رہی۔ شام رات میں ڈھل گئی اور اس کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔ 


اس نے محسوس کیا آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ چونکی اور تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔ تب ہی ایک گاڑی اس کے قریب آ کر رکی۔ مگر وہ نہیں رکی بلکہ تیزی سے آگے بڑھتی گئی۔


" روحا رکو۔" 

اس کے قدم زنجیر ہوئے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ سامنے یحیی کھڑا تھا۔ سیاہ کپڑوں میں ملبوس، چہرہ ٹھنڈا اور پرسکون۔

" تم۔۔؟" 

وہ حیران ہوئی 

" تم پھر سے میرا پیچھا کر رہے ہو؟" 

یحیی دھیرے سے چلتا اس کے سامنے آیا۔ روحا ہنوز اسے گھورتی رہی۔


" میری بات سنو۔ بس ایک بات۔" 

وہ بھاری، بدلی ہوئی آواز میں بولا۔ روحا نے بیگ ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کیا۔

" کیا بات؟" 

 

یحیی نے سنجیدگی سے اس کو دیکھا اور پھر۔۔۔

" مجھ سے نکاح کرو گی؟"  

ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ روحا پہلے پہل تو بے یقینی سے اس کو دیکھتی رہی اور پھر وہ بولی۔

" تمہیں لگتا ہے میں تمہارے جیسے مردوں سے امپریس ہو جاؤں گی! آخر تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے یہ کہنے کی؟"  

اس کا چہرہ لال ہوا۔

" اور تم ہو کون آخر؟ مجھے سمجھ کیا رہے ہو؟" 

اس نے بدتمیزی سے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ غصے سے ہاتھ اٹھاتی یحیی نے اس کی کلائی پکڑ لی۔

 

نہ سختی سے، نہ نرمی سے۔ بس تھام لیا۔


" تم نے جو سوچا میں وہ نہیں ہوں اور جسے تم نے نظر انداز کیا ہے وہ سامنے آ چکا ہے۔"  

یحیی کا لہجہ بدل چکا تھا۔ ٹھنڈا، پرسرار اور خطرناک سا۔


روحا کے چہرے کا رنگ اڑا۔ سامنے کھڑا شخص اسے کوئی اور ہی لگ رہا تھا۔ 


" میں تمہیں پسند کرتا تھا۔ عزت سے۔ مگر تم نے جو لہجہ اپنایا ہے میں اس کا جواب اب عزت سے نہیں دوں گا۔" 

اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ نیچے کیا۔


" تم۔۔۔ تم دھمکی دے رہے ہو مجھے؟" 

اس نے تیزی سے ہاتھ کھینچا۔ غصے سے اس کی آواز کانپ گئی۔


"نہیں روحا! میں نے بس وہ راستہ چنا ہے جس کا دروازہ تم نے کھولا ہے۔" 

وہ زہر خند سا مسکرایا۔ روحا نے غصے سے اس کو دیکھا اور تیزی سے مڑ گئی۔ 


" بھاڑ میں جاؤ تم۔"  

یحیی کھڑا رہا۔ بالکل خاموش، اور تب ہی دو لوگ سامنے سے آتے دکھائی دیے۔ چہروں پر ماسک، سیاہ کپڑے اور خطرناک نگاہیں۔ وہ پاگل پن کی حد تک ڈر گئی۔ وہ پلٹنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ پیچھے پہلے ہی ایک اور سایہ کھڑا تھا۔ ایک نے آگے بڑھ کر زور سے اس کا بازو کھینچا۔


" کون ہو تم چھوڑو مجھے۔" 

وہ چلائی۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا۔ فاصلے پر یحیی کھڑا تھا۔ 


سیاہ لباس،خاموش چہرہ اور سرد نگاہیں۔


" یحیی پلیز ہیلپ می۔"  

آخر اس نے اسے پکار ہی ڈالا۔ یحیی نے پہلی مرتبہ اس کے لبوں سے اپنا نام سنا تھا۔ مگر تب بھی وہ چپ رہا۔ بس دیکھتا رہا۔ نہ قدم آگے بڑھائے نہ ہی ہاتھ۔ 

" یحیی کیا تم سن رہے ہو؟ دیکھو پلیز مجھے بچاؤ۔" 

اس کا سانس بند ہونے لگا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر وہ تب بھی نہیں ہلا۔


" پلیز مت کرو یہ۔"  

اچانک اس کے منہ پر کسی نے زور سے ہاتھ رکھا اور آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا گیا۔ اور پھر اندھیرا۔


وہ وہیں کھڑا رہا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے وہ اس کڈنیپنگ کا حصہ نہیں بلکہ اصل خالق ہو۔


جاری ہے۔

Comments

Popular Posts