Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 5 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Romantic novel - Dark romance - Revenge base
زہرِ عشق
قسط 5
از منزہ نیاز
جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس کا سر بھاری ہو رہا تھا۔ چند لمحے لگے اس کے حواس لوٹنے میں اور پھر سیدھی نظر سامنے گئی۔
حسن فرش پر بے ہوش پڑا تھا۔ چہرہ زخموں سے سجا ہوا۔ ہونٹوں پر خون کی لکیر اور آنکھیں بند۔
" بب۔۔۔۔ بھیا۔"
وہ جھٹ اس کے پاس گئی اور دہل کر پکارا۔
" حسن بھائی آنکھیں کھولیں۔ پلیز اٹھیں۔ یہ کیا ہو گیا ہے۔؟"
اس نے حسن کا چہرہ تھاما اور رو دی۔
" پلیز بھائی آنکھیں کھولیں نا۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ دروازے پر ہلکی سی آہٹ ہوئی اور یحیی اندر داخل ہوا۔ ٹھنڈے اور بے تاثر چہرے کے ساتھ۔
مگر اس کے اندر ایک آتش تھی جس کی تپش روحا تک بھی پہنچ رہی تھی۔
" روحا۔۔۔۔ نکاح کرو گی مجھ سے؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ روحا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
" یہ سب تم نے کیا ہے؟ تم نے میرے بھائی کو مارا ہے؟ تم پاگل ہو۔"
وہ روتے ہوئے چلائی اور پھر سے حسن کو جگانے لگی۔ یحیی اسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر، پھر وہی سوال دوہرایا۔
" روحا نکاح کرو گی مجھ سے؟"
اب کی بار روحا نے نفرت سے اس کو دیکھا۔
" میں تم سے نفرت کرتی ہوں، نہ کل، نہ آج، نہ کبھی۔۔۔۔۔ میں کبھی تم سے نکاح نہیں کروں گی۔ کبھی بھی نہیں۔"
یحیی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ ہنسی نہیں تھی وہ۔ بس ایک زہریلا اطمینان تھا۔ اسی لمحے حسن کی کراہ نکل گئی۔ وہ ہوش میں آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں مگر وہ ہل نہیں پا رہا تھا۔
" بھائی آپ ٹھیک تو ہیں نا؟"
وہ حسن کی طرف لپکی۔ یحیی نے پیچھے مڑ کر اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔ ایک خاموش اشارہ۔ اگلے ہی لمحے دو آدمی آگے بڑھے اور حسن پر لاتوں گھونسوں کی بارش شروع ہو گئی۔ روحا کی چیخ نکل گئی۔
" نہیں رکو! میرے بھائی کو مت مارو۔ خدا کا واسطہ ہے رک جاؤ۔"
یحیی نے اس کی طرف دیکھا۔
" میں نے کہا تھا روحا۔۔۔۔ سوچ لو۔ میں تکلیف تمہیں نہیں تمہارے اپنوں کو دوں گا۔"
" بند کرو یہ سب۔ میں کہہ چکی ہوں میں کبھی تم سے نکاح نہیں کروں گی۔"
وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ چلائی۔ حسن کے کراہانے کی آواز اس کا دل چیر رہی تھی۔
یحیی کچھ دیر خاموش رہا پھر اپنے آدمیوں کو دوبارہ اشارہ کیا۔
" رک جاؤ۔"
دونوں ہٹے کٹے آدمی ہانپتے ہوئے رک گئے۔ حسن کی حالت ادھ موئی ہو چکی تھی۔ وہ تڑپ کر اس کے پاس گئی۔ یحیی دھیمے قدموں سے چلتا اس کے پاس آیا۔
" آخری بار پوچھ رہا ہوں، نکاح کرو گی مجھ سے؟"
روحا روتے ہوئے کھڑی ہوئی اور انکار میں سر ہلا دیا۔
یحیی کے ہونٹوں پر وہی پراسرار، ٹھنڈی اور خطرناک مسکراہٹ ابھر گئی۔ اس نے دوبارہ اشارہ کیا۔
لیکن اب کی بار آدمیوں کے ہاتھوں میں لوہے کے ڈنڈے تھے۔ موٹے اور وزنی۔ حسن کے چہرے پر خوف لہرایا اور روحا کا رنگ اڑ گیا۔ ایک ڈنڈا حسن کی پسلی پر پڑا اور روحا کی چیخ پورے کمرے میں گونج گئی۔
" رر۔۔۔رک جاؤ۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔ تیار ہو ۔۔۔۔۔"
وہ ٹوٹے ہوئے لفظوں میں بولی۔
" اچھا فیصلہ کیا۔"
وہ مسکرایا اور پھر تھوڑی دیر بعد وہی ویران جگہ اب صاف دکھائی دے رہی تھی۔ کالین بچھا دیا گیا۔ قاری صاحب کو لایا گیا اور اس کے چہرے پر سرخ دوپٹہ ڈال دیا گیا۔ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔
حسن نقاہت کی حالت میں ایک طرف بیٹھا تھا۔ " تم روحا کے ولی ہو۔" کہہ کر اسے سمجھا دیا گیا اور پھر چند لمحوں بعد وہ روحا شاہ سے روحا یحیی میر بن گئی۔
یحیی حسن سے ملنے کے بعد روحا کے قریب آیا اور جھک کر سرگوشی کی۔
" اب تم صرف میری ہو۔۔۔ قانونا بھی اور قیدا بھی۔"
وہ چپ ہی رہی۔
" سالے صاحب! ذرا اپنی بہن کو رخصت کریں۔"
یحی نے مسکرا کر حسن کو مخاطب کیا۔ وہ کچھ بول نہیں سکا۔
جب کہ روحا کی سٹی گم ہو گئی۔
" کیا کہا رخصت؟"
یحیی اس کی ہونق شکل دیکھ کر محظوظ ہوا۔
" جی بیگم رخصتی۔ کیا آپ مزید کوئی سین دیکھنا چاہتی ہیں؟"
اس نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔
روحا ڈر گئی۔
" بب۔۔۔۔ بھیا، مجھے گھر جانا ہے۔"
وہ یک دم ہی دھاڑے مار کر رونے لگی۔ یحیی اس کو روتا دیکھ کر ہکا بکا ہو گیا۔ حسن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
" بیٹا چپ کر جاؤ۔ ایسے کون روتا ہے۔"
حسن کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ وہ اس کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا اور یحیی کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ اس کو گھر جانے دے گا۔
" کیا تم چاہتی ہو تمہارا بھائی ایمبولنس میں گھر جائے؟"
اس کے الفاظ اس قدر سفاک تھے کہ روحا کے آنسو تھم گئے۔ حسن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ یحیی کو گولی مار دے۔ حسن نے روحا کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے اپنے پیارے بھائی جان کو دیکھا۔ جس کا چہرہ درد کی وجہ سے نیلا پڑ گیا تھا۔
یحیی نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔ روحا نے نفرت سے اس کو دیکھا۔ مگر جھٹکا اسے تب لگا جب حسن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر یحیی کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ کچھ بول نہیں سکی۔ بس بے یقینی سے کبھی حسن کو دیکھتی تو کبھی یحیی کو۔
" خوش رہو۔"
حسن نے کہا۔ اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس کی شادی ہوئی بھی تو کیسے۔
اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کا نکاح ہو چکا ہے۔ یحیی نے دھیرے سے اسے اپنے قریب کیا۔
" چلیں؟"
وہ پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا وہ نہیں سمجھی۔ بس آہستہ سے چہرہ جھکا لیا۔
☆☆☆
اس کی آنکھیں دھیرے سے کھل رہی تھیں۔ پہلی نظر سیدھا آسمان پر اڑتے پرندوں پر گئی۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ ہر طرف سبزہ، گیلی مٹی کی مہک اور قدآور درخت تھے۔ اتنے لمبے کہ اس کی نظر دور تک گئی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی، درد کی کئی لہریں اس کے پورے جسم میں دوڑ گئیں۔ ہتھیلی زمین پر ٹکائے وہ بمشکل اٹھا اور ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس کا سانس اتنے میں ہی پھول گیا تھا۔ جسم پر جگہ جگہ چوٹوں کے نشان، ماتھے اور سر سے نکلنے والا خون اس کے چہرے پر جم گیا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور درخت کا سہارا لیے کھڑا ہو گیا۔
بنا سوچے سمجھے وہ ڈگمگاتے ہوئے ایک سمت چل پڑا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سورج کی ہلکی شعاعیں درختوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھیں۔ آسمان کبھی بادلوں سے ڈھک جاتا تو کبھی دھوپ نکل آتی۔ وہ جو دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہا تھا اچانک ہی اس کی رفتار میں تیزی آ گئی۔
یہ وہ کہاں تھا؟ وہ خود نہیں جانتا تھا۔ وہ جلد از جلد یہاں سے نکل کر کسی محفوظ جگہ پہنچنا چاہتا تھا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ جنگل مزید گہرا اور تاریک ہوتا جا رہا تھا۔ اس کا خوف بڑھ گیا۔ اگر کوئی خطرناک جنگلی جانور آ جاتا تو اس سے بچنا تو دور، اس کی چیخیں سننے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
ایک دم ہی سورج غائب ہوا تھا۔ سیاہ بادلوں نے نیلے آسمان کو چھپا لیا۔ چاروں طرف گہرا سکوت، جیسے ہوا نے بھی سانس روک لی ہو۔
اس کے تیز قدم اب دوڑنے لگے تھے۔ موسم کا خراب ہونا اور اس کا اکیلے جنگل میں گھومنا، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہ دے رہا ہو، اس کو پاگل کرنے لگا تھا۔
" کوئی ہے؟"
وہ پوری طاقت سے چلایا۔ اس کی چیخ پورے جنگل میں گونج گئی۔ درختوں پر دبک کر بیٹھے پرندے ایک دم سے اڑ گئے۔
" پلیز کوئی میری مدد کرو۔"
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور پھر سے بھاگنے لگا۔ آنکھوں میں چھائی دھند گہری ہوتی گئی۔ بادل زور سے گرجے۔ کیچڑ کی وجہ سے اس کے پیر پھسلنے لگے۔ کبھی وہ گرتا تو کبھی اٹھ کر دوبارہ اسی طرح بھاگنے لگتا۔
بارش کا پہلا قطرہ اس کے ماتھے پر گرا اور پھر، وہ جھٹکے سے منہ کے بل کیچڑ میں جا گرا۔ درد کی ایک شدید لہر اس کی ٹانگ میں دوڑ گئی۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔ ایک تیر اس کی پنڈلی میں گھسا ہوا تھا۔ ٹانگ پکڑ کر اس نے وحشت بھری نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔
مگر دور دور تک کوئی نہ تھا۔ درد اتنا شدید تھا کہ اس کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ چلانا چاہتا تھا، پوچھنا چاہتا تھا کہ کون ہے؟ اور اس کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ مگر اس کے الفاظ دم توڑ گئے۔ آواز گلے میں پھنس گئی۔ بارش اور بادلوں کی گرج کا شور اتنا شدید تھا کہ اسے لگا وہ اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔
چہرے پر لگا کیچڑ اور خون اس کی خوبصورتی کو نگل گیا تھا۔ اس کے ہونٹ کسی بچے کی طرح کانپ رہے تھے۔ تیر نکالے بغیر اس نے اٹھنے کی کوشش کی کہ کسی نے کوئی وزنی چیز اس کے سر میں دے ماری۔ زمین پر گرتے اس نے پاس کھڑے شخص کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر اندھیرے نے اس کی بینائی کو نگل لیا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔
☆☆☆
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی موبائل اسکرول کر رہی تھی۔ میڈ نے اس کے سامنے کافی کا مگ رکھا۔
" تھینک یو۔"
اس نے مسکرا کرمگ اٹھا لیا۔ میڈ مخصوص مسکراہٹ چہرے پر سجائے پلٹ گئی۔
تھپ۔۔۔۔
ایک فائل اس کے سامنے گری۔ اس نے چونک کر پہلے فائل پھر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔
" یہ کس چیز کی فائل ہے؟"
اس نے مگ ٹیبل پر رکھا اور فائل اٹھا لی۔ الطاف مرزا نے پین اس کی طرف بڑھایا۔
" اس پر سائن کرو۔"
" مگر پاپا۔۔!"
ایشل جیسے جیسے صفحے پلٹ رہی تھی اس کی خوبصورت آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔
فائل میں تمام بزنس، گھر اور پراپرٹیز جو ایشل کے نام تھیں وہ سب الطاف مرزا کے نام ہوں گے۔ بس ایشل نے سائین کرنے تھے۔اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ان کو دیکھا۔
" شرافت سے سائن کرو ورنہ جان نکال لوں گا تمہاری۔"
انہوں نے ہاتھ میں پکڑا پین اس کی طرف پھینک دیا۔ ان کا انداز جارحانہ اور لہجہ دھمکی آمیز تھا۔
ایشل نے فائل میز پر رکھ دی۔
" سوری پاپا میں یہ نہیں کر سکتی۔ یہ سب کچھ میرے ماں باپ کا دیا ہے۔ میں کیسے یہ سب آپ کے حوالے کر سکتی ہوں۔"
جیسے ہی وہ کھڑی ہوئی۔ الطاف مرزا نے اسے زور سے تھپڑ مارا۔ وہ اس کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے لڑکھڑا گئی۔
" بکواس کرتی ہو میرے سامنے۔ ہاں! بھولو مت کہ تمہارے باپ کے مرنے کے بعد میں نے زرتاشہ ( ایشل کی ماں ) کو سنبھالا۔ اس سے نکاح کیا اور تمہیں پالا۔ سوچو۔۔۔ اگر میں نہیں ہوتا تو اس دنیا کے بھیڑیے تم دونوں کو نگل چکے ہوتے۔ اب جب احسان اتارنے کا وقت آیا ہے تو زبان چلا رہی ہو۔ ادھر دیکھو۔"
انہوں نے اس کے بالوں کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
" میں ہی تھا جس نے اس بزنس کو آگے بڑھایا۔ ایک نام بنایا۔ مگر مجھے یقین نہیں آیا کہ زرتاشہ ایسا کر سکتی تھی۔ اس نے سب کچھ بنا میرے علم میں لائے کیسے تمہارے نام کر دیا۔ جسے نہ کوئی سمجھ ہے نہ عقل۔ اور اب تم میرے سامنے کھڑی ہوگی؟ اوقات کیا ہے تمہاری۔"
انہوں نے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔ وہ لڑکھڑائی پھر نم آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
بالکل خاموش نظر سے۔ نہ کوئی آنسو نکلا نہ کوئی تکلیف ظاہر کی۔ بس کھڑی انہیں عجیب سی نظروں سے دیکھتی رہی۔ انہیں اس کو اس طرح خود کو دیکھنے پر مزید تاؤ آگیا۔ انہوں نے دوبارہ پین اٹھایا اور اس کی طرف بڑھایا۔
میز پر رکھا کافی کا مگ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ وہ کافی جس کا اس نے ایک گھونٹ تک نہیں لیا تھا۔
" سائن کرو ورنہ مجھے اور بھی طریقے آتے ہیں۔"
ان کی آنکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔ ایشل نے ہاتھ بڑھایا اور خاموشی سے پین پکڑ لیا۔
" کہاں سائن کرنے ہیں؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔ الطاف مرزا نے تیزی سے فائل کھولی۔
" یہاں، یہاں بھی۔۔۔ اور ادھر، ادھر بھی۔"
جیسے جیسے وہ صفحے پلٹ رہے تھے۔ وہ تیزی سے سائن کرتی جا رہی تھی۔ مگر اس کی نظریں فائل پر نہیں بلکہ الطاف مرزا پر جمی تھیں۔ جن کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔
" پاپا میرے ساتھ ڈنر پر چلیں گے؟"
جیسے ہی وہ فائل اٹھا کر پلٹے پیچھے سے ایشل نے پکارا۔ وہ چونکے اور پلٹ کر اس کو دیکھا۔
" پلیز پاپا! میں بس ایک بار آپ کے ساتھ کچھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی ہوں۔"
اس کا لہجہ اس قدر نرم تھا کہ الطاف مرزا کے کندھے ڈھیلے پڑ گئے۔
" کب جانا ہے؟"
ایشل مسکرائی۔ ٹھنڈی کافی کا مگ اٹھا لیا۔
" کل۔"
" ہاں ضرور، کیوں نہیں۔"
وہ خوشی خوشی پلٹ گئے۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ایشل نے کافی کا گھونٹ بھرا۔ موبائل اٹھایا اور واپس کرسی پر بیٹھ گئی۔
وہ ریسٹورنٹ سرچ کر رہی تھی۔ کل رات کی بکنگ جو کروانی تھی۔
☆☆☆
جب وہ یونیورسٹی سے واپس لوٹی تو گھر میں معمول کے برعکس چہل پہل تھی۔ وہ تھوڑا حیران ہوئی مگر کچھ بولی نہیں۔ بس چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ امی اور اس کی بہن کچن میں مصروف تھیں۔ بابا اس وقت آفس میں ہوتے تھے اور اس کا چھوٹا بھائی سکول سے آنے کے بعد باہر دوستوں کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا تھا۔
اس نے پہلے کپڑے تبدیل کیے۔ وضو کیا، نماز پڑھی اور باہر چلی آئی۔
" کیا ہوا امی؟ سب خیریت ہے؟ کوئی آ رہا ہے کیا۔؟"
کچن میں داخل ہوتے اس نے پوچھا۔ اس کی بہن جا چکی تھی۔
" ہاں تمہاری خالہ آ رہی ہے۔"
ان کے چہرے پر خوشی چمک رہی تھی۔ رانیہ ان کی اکلوتی بہن تھی جو دوسرے شہر میں رہتی تھی۔ ان کی بات پر مشال لمحے بھر کو چپ سی ہو گئی۔
" اگر کوئی کام رہتا ہے تو مجھے بتائیں میں کر دیتی ہوں۔"
وہ مسکرا کر آگے بڑھی۔
" سب کچھ تیار ہے۔ تم بس کچن سمیٹ دو۔ اگر بھوک لگ رہی ہے تو اپنے لیے کھانا نکال لینا۔"
وہ مسکراتے ہوئے باہر چلی گئیں۔ اس نے تیز تیز ہاتھ چلاتے کچن سمیٹا۔ کھانا نکال کر وہیں بیٹھ گئی۔ آخر میں پانی پی کر جب وہ باہر نکلی تو شور سنائی دیا۔
رانیہ خالہ آگئی تھیں۔ وہ وہیں ٹھہر گئی۔ امی خالہ کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہو رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ڈرائیور بھی موجود تھا جس کے ہاتھ میں بہت سے تحائف اور سامان تھا۔
" ارے مشی، ادھر آؤ۔ کیسی ہو بیٹا؟"
رانیہ خالہ کی نظر جب اس پر پڑی تو انہوں نے خوش دلی سے اسے پکارا۔ وہ خاموشی سے چلتی ان کے پاس آئی اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے اسے خود سے لپٹا لیا۔
" ردا کہاں ہے؟"
انہوں نے آمنہ سے پوچھا۔
" وہ بیچاری آج سارا دن میرے ساتھ کچن میں لگی رہی۔ ابھی فریش ہونے گئی ہے۔ بس آتی ہی ہوگی۔"
آمنہ نے کہا۔
" تم آؤ نا، ادھر بیٹھو۔"
انہوں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ ڈرائیور سارا سامان لاونچ میں رکھ کر چلا گیا تھا۔ دونوں خواتین کو باتوں میں مصروف ہوتا دیکھ وہ چپکے سے اوپر چلی گئی۔
شام ہو چکی تھی۔ اسے اسائنمنٹ بنانی تھی۔ اس لیے وہ کافی دیر تک بیٹھی کام کرتی رہی۔ رات ہو چکی تھی۔ اسے احساس تک نہ ہوا۔ تب ہی اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکا۔
" کون ہے؟"
اس کا سارا دھیان اسائنمنٹ کی طرف تھا۔ دروازہ دوبارہ بجا۔ اس نے جھنجلا کر سر اٹھایا۔ دروازہ لاکڈ تھا۔ وہ اٹھی اور ننگے پیر چلتی دروازہ کھول دیا۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا سانس تک رک گیا۔ آنکھیں پوری کھلی اور دل اس شدت سے دھڑکنے لگا جیسے ابھی بند ہو جائے گا۔
" حا۔۔۔۔حا۔۔۔"
اس کے ہونٹ کھلے مگر وہ بول نہیں سکی۔ حارث گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا۔ وہ تیزی سے پلٹی، مگر حارث نے ایک ہی جھٹکے سے اس کی کلائی پکڑی، دروازہ بند کیا اور اسے زور سے دروازے کے ساتھ لگا دیا۔
وہ اس کی حرکت پر دنگ رہ گئی۔ اس کی سانسیں تیز اور آنکھوں میں خوف اتر آیا۔ حارث نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر پیچھے لگا دیں۔
" کیا ہوا جان۔ ڈر کیوں رہی ہو؟ میں ہوں حارث۔۔۔ تمہاری محبت۔"
خباثت سے مسکراتا وہ اس کی طرف جھکا۔
" دور رہو مجھ سے۔"
وہ چلانے لگی مگر حارث نے زور سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
" پلیز یار ایسا تو مت کرو۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ دل کٹتا ہے جب تم اس طرح کرتی ہو۔"
مشال کاپنے لگی۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر آنسو بہہ نکلے۔ حارث اسے روتا دیکھ ہلکا سا ہنسا۔
" تمہیں مجھ سے ڈرنا نہیں چاہیے میری جان! پہلے تو تم ایسی نہیں تھی۔ اب کیا ہو گیا ہے؟"
اس نے دھیرے سے مشال کے چہرے پر جھولتے بال کان کے پیچھے کیے۔ وہ سانس روکے زور سے آنکھیں میچ گئی۔ اس کے آنسو گالوں کو بھگو رہے تھے۔ حارث نے دھیرے سے ہاتھ اس کے لبوں سے ہٹایا۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
" بہت یاد کیا میں نے تمہیں۔ تم تو مجھے ایسے بھول گئی جیسے میں کوئی پرانا سبق تھا۔ مگر مجھے لگتا ہے تم مجھے تو بھول گئی مگر وہ سبق نہیں بھولی۔"
مشال نے سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ وہ اس کے گال پر انگلی پھیرتا بول رہا تھا۔ اس کے لمس سے مشال کو جھٹکا لگا۔ اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اسے پیچھے دھکا دیا۔ وہ محض دو قدم دور ہوا تھا۔
" بکواس بند کرو اپنی۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔"
اس کی سانسیں بگڑنے لگیں۔ آنکھوں میں نفرت اور خون میں ابال اٹھنے لگے تھے۔ حارث تب بھی ڈھٹائی سے مسکراتا رہا۔
مشال نے تیزی سے دروازہ کھولنا چاہا مگر حارث نے پھرتی سے ہینڈل پر ہاتھ رکھ دیا۔ دوسرے ہاتھ سے اسے واپس دروازے کے ساتھ لگا کر وہی ہاتھ دروازے پر رکھ دیا۔ مشال دنگ رہ گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی گھٹیا حرکت کرتا۔ مشال نے کھینچ کر تھپڑ دے مارا۔
تھپڑ کی آواز پورے کمرے میں گونج گئی۔ حارث کا چہرہ ایک طرف اور مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔
" ابھی اور اسی وقت دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔"
مشال نے تیزی سے دروازہ کھولا۔ حارث سیدھا ہوا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا نہ ہی اس نے گال چھوا تھا جہاں تپش تھی۔ اس نے پرسکون انداز میں، بنا کچھ کہے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
مشال اسے غصے سے لب بھینچے دیکھتی رہی۔ حارث کی نظریں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کے چہرے سے نہیں ہٹی تھیں۔ بلکہ وہ عجیب طریقے سے مسکراتا سیٹی بجاتا باہر نکل گیا تھا۔
مشال نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور بند دروازے کے ساتھ ہی بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے فرش پر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔ وہ تیزی سے اٹھی اور باتھ روم میں چلی گئی۔ بیسن پر جھکے وہ تیز تیز پانی کی چھپاکے چہرے پر مار رہی تھی۔
اس نے نل بند کر کے گیلا چہرہ اٹھا کر آئینے میں دیکھا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا اور آنکھوں میں خوف تھا۔ اس نے دوبارہ چہرہ دھویا اور لڑکھڑاتے ہوئے باہر نکل گئی۔
جاری ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment