Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 6 - Munaza Niaz - Urdu Novel - Romantic novel - Dark romance - Kidnapping base
زہرِ عشق
قسط 6
از منزہ نیاز
گاڑی ایک ویران عمارت کے سامنے رکی تھی۔ روحا نے جب دیکھا تو اس کے ہوش اڑنے لگے۔ آس پاس کوئی گھر نہیں تھا بلکہ اس خوفناک عمارت کے سوا وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔
" یہ۔۔۔ یہ تم مجھے کہاں لے کر آگئے؟"
اس نے خوف زدہ ہو کر یحیی کو دیکھا۔ یحیی نے کچھ نہیں کہا بلکہ گاڑی سے باہر نکلا اور اس کی طرف کا آ کر دروازہ کھول دیا۔
اس نے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ کلائی پکڑ کر اسے باہر نکالا۔
" ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔"
اس نے تیزی سے کلائی چھڑوائی اور گیٹ کی طرف بھاگی۔
یحیی غصہ ضبط کرتا وہیں کھڑا اسے دیکھنے لگا۔ روحا نے گیٹ کھولنا چاہا مگر وہ بند تھا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی مگر گیٹ نہیں کھلا۔
" بھول جاؤ کہ اب تمہارا واسطہ باہر کی دنیا سے پڑے گا۔ میں ہی اب تمہاری دنیا ہوں۔"
روحا نے اس کی بات سنی مگر پلٹی نہیں۔ وہ ابھی بھی پوری کوشش کر رہی تھی گیٹ کھولنے کی۔
یحیی کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ فضول میں اس کا وقت ضائع کر رہی تھی۔ وہ اس کی طرف بڑھا۔ تیزی سے گھما کر اسے کندھے پر اٹھا لیا۔ روحا کے چیخ نکل گئی۔
" بے شرم انسان نیچے اتارو مجھے۔"
یحیی نے اسے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اسے کندھے پر اٹھائے وہ پورچ کی طرف بڑھ گیا۔
" میں نے کہا چھوڑو مجھے، نیچے اتارو۔ تم نے کس سے پوچھ کر مجھے اٹھایا؟ نیچے اتارو ورنہ میں تمہارا خون پی جاؤں گی۔"
وہ اس کی پیٹھ پر چلا رہی تھی۔ یحیی خاموشی سے اس کو سنتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ روحا کا دماغ گھومنے لگا۔ اس نے بمشکل خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا، ورنہ وہ ایسا سناتی کہ یحیی کے ہوش اڑ جاتے۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ یحیی اب اس کے ہوش اڑانے والا ہے۔
چھت پر پہنچ کر اس نے روحا کو نیچے اتارنے کے بجائے لکڑی کی موٹی ریلنگ پر بٹھا دیا۔ روحا نے جب گردن موڑ کر نیچے دیکھا تو اس کے ہاتھ پیر کانپ گئے۔ نیچے ان کی گاڑی کھڑی تھی۔ تاحد نگاہ پھیلا لان اندھیرے میں اس قدر ڈراؤنا لگ رہا تھا کہ اسے لگا ابھی کوئی الٹے پیروں والی چڑیل نکل آئے گی۔ جو کونے میں کھڑی ہو کر اسے گھورنے لگے گی۔
اس نے گھبرا کر یحیی کو کندھوں سے پکڑ لیا۔ وہ نیچے نہیں اتر سکتی تھی، کیونکہ یحیی اس کے دونوں طرف ہاتھ رکھے اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔
" ہاں تو اب بتاؤ بیگم۔۔ کیا کہہ رہی تھیں آپ؟ میرا خون پی جائیں گیں؟"
وہ تھوڑا آگے ہوا۔ اس کی نگاہوں میں عجیب سی چمک تھی۔ روحا پیچھے نہیں ہوئی۔ اگر ہوتی تو پھسل جاتی۔
" نہیں، میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔"
روحا نے گھبرا کر کہا۔ بے اختیار ہی اس نے یحیی کے کندھوں کو چھوڑ کر اس کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچ لی۔
" میں نے یہ بھی سنا تھا کہ کوئی مجھے بے شرم کہہ رہا تھا۔"
یحیی کا چہرہ سپاٹ تھا۔ نہ کوئی مسکراہٹ تھی، نہ کوئی شرارت کی جھلک۔ جس سے روحا کو معلوم ہوتا کہ وہ بس مذاق کر رہا ہے ۔وہ کچھ بول نہیں سکی۔
" کیا ہوا بیگم؟ چپ کیوں ہو گئی؟ پہلے تو بہت زبان چل رہی تھی۔"
ہر لفظ کے ساتھ وہ آگے ہوتا جا رہا تھا۔
روحا کا دل دو ایکس کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا۔ وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی مگر وہ اسے ہلا بھی نہیں سکتی تھی۔ بلکہ وہ خود گر نہ جائے اس لیے خود آگے ہونے لگی تھی۔
اسے رونا آنے لگا کیونکہ اب وہ آگے بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ یحیی اس کے اتنا نزدیک تھا کہ وہ سانس بھی لیتی تو اس کی مہک آتی۔
" آئندہ۔۔۔ ایسا نہیں کروں گی۔ پلیز اب۔۔۔ نیچے اتارو مجھے۔"
وہ اٹک اٹک کر بولی۔ مگر یحیی پر الٹا ہی اثر ہوا۔ ابھی وہ اور جھکنے لگا کہ روحا نے پھرتی سے اس کو خود سے لگا لیا۔
یحیی کو لگا وقت وہی ٹھہر گیا ہے۔ اس کے سینے سے لگا وہ کسی اور ہی جہان میں پہنچ گیا تھا۔
اس نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اس کی کمر پر رکھے مزید خود سے لگا لیا۔ روحا کو لگا اگر وہ اسے چھوڑ بھی دے تب بھی وہ نیچے نہیں گر سکتی۔ اس نے بالکل اچانک، بنا سوچے سمجھے یہ حرکت کی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ اب گری یا تب گری۔
" اگر تم ایسے ہی میرے سینے سے لگی رہی تو میں پوری رات یہیں کھڑا رہوں گا۔"
روحا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگر وہ بولتی تو کچھ الٹا ہی بول دیتی۔ یحیی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا، وہ اسے چھوڑ دیتا تو؟؟؟
اس نے محسوس کیا یحیی نے اس کے کندھے کے ایک طرف کے گردن پر بکھرے بال ہٹا کر دوسری طرف کر دیے ہیں۔ اس نے زور سے آنکھیں میچیں۔
مگر اس کی سانس تب رکی جب وہ اس کی گردن پر جھک گیا تھا۔وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی مگر اس کے ہاتھ پیر ہی نہیں وہ خود ہی فریز ہو گئی تھی۔
یحیی نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ جو سرخ گال لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے ہنسی آ رہی تھی مگر وہ ہنس کر اپنا گیم خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ روحا نے چاہا وہ پیچھے ہٹ جائے مگر یحیی کی بانہوں کا گھیرا اتنا تنگ تھا کہ وہ اس کی سانسیں بھی گن سکتی تھی۔
" ایسے مت دیکھو بیگم! ورنہ اس رات کا رخ بدل جائے گا۔"
اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
" میں۔۔۔ میں کچھ نہیں کہہ رہی۔۔۔ پلیز مجھے واپس لے چلو۔"
روحا کی آواز ہلکی سی تھرتھراتی ہوئی تھی۔ اس کی گھبراہٹ میں ڈر ہی نہیں کچھ اور بھی تھا۔۔۔
کچھ ایسا۔۔۔ جو اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا۔ کسی مرد کے اتنا قریب آ کر۔ یحیی نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اپنے لبوں سے لگایا اور اپنے سینے پر رکھ دیا۔
" یہ سن رہی ہو؟ یہاں پر ہر دھڑکن میں تم بسی ہو۔ اب تم بھاگ نہیں سکتی مجھ سے۔"
روحا کی آنکھوں میں نمی آئی۔ اس نے چاہا وہ زور سے چلائے۔ مگر اس کا گلا سوکھ چکا تھا۔ وہ بول بھی نہ پائی۔ بس چپ اسے دیکھتی رہی۔
" تم نے مجھے بے شرم کہا تھا نا؟ اب خود بتاؤ۔ اس وقت جو تم محسوس کر رہی ہو اس کو کیا نام دوں؟"
وہ اور قریب ہوا۔
" پلیز مجھے۔۔۔ بس۔۔۔۔ نیچے اتار دو۔ میں زیادہ دیر یہاں نہیں رہ سکتی۔"
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ دھیرے سے بولی۔
یحیی مسکرایا۔ مگر جب وہ بولا تو اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔
" تمہارے ہونٹوں نے "پلیز" کہا۔ مگر تم تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہو بیگم۔"
اچانک ہی اس نے اس کو اتنی زور سے سینے سے لگایا کہ وہ جم سی گئی۔
" یحیی۔۔۔پلیز!"
وہ کسمسائی۔
" چپ ہو جاؤ ورنہ کس کے بجائے کچھ اور محسوس ہوگا تمہیں۔"
یحیی نے سرگوشی کی۔
روحا نے آنکھیں بند کر دیں۔ اس کے دل کی دھڑکن آؤٹ آف کنٹرول ہو چکی تھی۔ اور پھر اچانک ہی یحیی نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
" کک۔۔۔۔کہاں لے کر جا رہے ہو؟"
وہ گھبرا گئی۔
" واپس اندر۔ ورنہ یہ رات چاند کے نیچے نہیں کسی اور رنگ میں بیتے گی۔"
وہ مسکرایا۔ جب کہ روحا کے ہوش اڑ گئے۔وہ کچھ بول نہیں سکی۔ جب یحیی اسے کمرے میں لے جا کر دروازہ لاک کر گیا تو اب کی بار سہی معنوں میں اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔
وہ بیڈ کے قریب ہوا اور اسے بڑی محبت سے بیڈ پر " پھینک" دیا۔ اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
کمرے میں مدھم روشنی اور یحیی کے دلفریب پرفیوم کی مہک تھی۔ وہ اس کے اوپر جھکا اور دونوں ہاتھوں سے بیڈ پہ اس کے دونوں طرف ٹکائے کا سہارا لیا۔وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ وہ جم کر پڑی رہی۔
" تو تم یہ سوچ رہی ہو کہ میں کچھ غلط کروں گا؟ کیا میں تمہیں زبردستی کرنے والا لگتا ہوں۔"
وہ تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ وہ تب بھی چپ ہی رہی۔ بس اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔ یحیی نے دھیرے سے بال اس کے کان کے پیچھے کیے اور جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
" ڈرانا ضروری تھا ورنہ تم کہاں مجھے سمجھتی۔"
وہ مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔
وہ ابھی تک فریز پڑی تھی۔ آنکھیں تھوڑی کھلی، ہونٹ آدھے کھلے، چہرہ تھوڑا سا لال۔
یحیی کے لمس نے اسے روح تک جھٹکا دیا تھا۔ اس نے بنا یحیی کی طرف دیکھے بلینکٹ اٹھایا اور غڑاپ سے اندر گھس گئی۔
☆☆☆
ایک ایکسیلیسو ہائی اینڈ ریسٹورنٹ۔ جس کا مکمل فلور ایشل نے بک کروایا تھا۔ ٹیبل پر ڈم انبرلائٹس، گولڈن کٹلری، کرسٹل گلاسز میں وائن، باہر گارڈز موجود تھے اور اندر صرف دو لوگ تھے۔
ایشل رحیم۔
الطاف مرزا۔
ایشل کی نظریں ان پر ٹکی تھیں۔ الطاف مرزا کافی خوشگوار انداز میں سارا سیٹ اپ دیکھ رہے تھے۔
ایشل سلیک بلیک سائن گاؤن، سافٹ میک اپ اور سرخ لپ اسٹک میں کوئی قاتل حسینہ لگ رہی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایک آگ تھی جو بھڑک رہی تھی۔ البتہ اس کا چہرہ نرم اور انداز پرسکون تھا۔
" تم واقعی سمجھدار ہو گئی ہو ایشل۔ تم نے تو میری زندگی بدل دی ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے لگتا تھا کہ تم میرے راستے کی دیوار ہو، پر اب لگتا ہے تم ہی راستہ ہو۔"
الطاف مرزا نے مسکرا کر گلاس اٹھاتے ہوئے کہا۔
" جی، اب تو سب کچھ آپ کا ہی ہے۔ پراپرٹی، بزنس، نام۔۔۔۔ زندگی کا مزہ لیجیے۔ اب کوئی روکنے والا نہیں۔"
اس کے چہرے پر معصوم مسکراہٹ تھی۔
وہ ہنسے۔
"زندگی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔"
ایشل نے مسکرا کر گلاس ہونٹوں سے لگایا۔
"اور ختم بھی۔"
ڈنر تقریبا ختم ہو چکا تھا۔ ڈیزرٹ ٹیبل پر سرو کر دیا گیا۔ ڈارک چاکلیٹ، ماؤس بیریز کے ساتھ۔
ایشل نے خاموشی سے ایک بائٹ لی۔ جب الطاف مرزا نے کھانا شروع کیا تو اچانک ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ انہوں نے چمچ واپس رکھ دیا۔
" ایشل۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟"
انہوں نے سینہ مسئلہ۔
" مجھے ۔۔۔۔۔ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔"
وہ گھبرا گئے۔ایشل نے آرام سے نیپکین ٹیبل پر واپس رکھا۔
"لگتا ہے ڈنر ہیوی ہو گیا ہے۔"
اس نے گلاس اٹھایا اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔ پھر اس نے اپنے گارڈز کو انگلی سے اشارہ کیا۔
"انہیں گھر چھوڑ دو، اور ensure کرو ریسٹ پراپرلی ملے۔"
اس نے چہرہ اپنے باپ کی طرف موڑا۔
" اب آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن وقت نہیں۔"
گارڈز ان کو اٹھا کر لے گئے۔
ایشل کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ گلاس اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے دھیرے سے گلاس پر انگلی سے لکھا۔
" End ۔"
☆☆☆
زاویان بار بار وہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ، جبڑے بھینچے ہوئے اور انگلیوں کے گرفت ریموٹ پر سخت ہوتی گئی۔
دروازہ ہلکا سا کھٹکا اور دانش اندر داخل ہوا۔ اس کا چہرہ کافی حد تک سخت تھا۔ اس کی نگاہیں زاویان کے ایکسپریشن کو جیسے اسکین کر رہی تھیں۔
" اسے ڈھونڈو دانش۔ اس لڑکی کو۔ جو رایان کے ساتھ آخری ملاقات میں تھی۔ مجھے یہ چاہیے، ہر حال میں۔"
اس نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔
" رایان اس لڑکی کے ساتھ تھا۔؟"
دانش نے ویڈیو میں اس لڑکی کو دیکھا۔
" رایان نہیں، یہ لڑکی اس کے پیچھے تھی۔ اسی کی وجہ سے رایان غائب ہے۔ کیونکہ آخری بار رایان کو اسی لڑکی کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔"
اس کا لہجہ خطرناک حد تک تیز ہو گیا۔
" سمجھ گیا، بس تھوڑا وقت دو مجھے۔"
دانش نے سپاٹ انداز میں کہا۔
" مجھے وہ زندہ چاہیے لیکن ہوش میں نہیں۔"
زاویان نے دانت بھینچے۔
دانش تیزی سے باہر نکل گیا۔ اس نے فون نکالا اور اپنا نیٹ ورک ایکٹو کر لیا۔
" ایک لڑکی ہے، رایان کے کالج کی اسٹوڈنٹ۔ نام نکالنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے۔ ہر جگہ کیمراز چیک کرو۔ جہاں پہلے ملے زندہ پکڑو۔ یہ زاویان چاہتا ہے۔۔۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں کہ میں اسے فیل نہ کروں۔"
اس نے فوٹیج والی تصویر بھیجی اور کال کاٹ دی۔
☆☆☆
شام گہری ہوتی جا رہی تھی۔ آسمان پر بادلوں کا راج تھا۔ ہر طرف گہرا سناٹا۔ لایان روحا کے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔ دو دن ہو گئے تھے نہ روحا کالج آئی تھی نہ ہی اس کا فون لگ رہا تھا۔ وہ پریشان ہو گئی تھی۔ مگر آج جب تیسرے دن بھی روحا کے گھر کسی نے اس کا فون نہیں اٹھایا تو وہ ملنے چلی آئی۔ اس نے کئی مرتبہ دروازہ بجایا۔ مگر کسی نے نہیں کھولا۔
" روحی یار پلیز دروازہ کھول۔"
وہ انتظار کرتی اور دوبارہ بجانا شروع کر دیتی۔ مگر کوئی آ کے نہیں دے رہا تھا۔
اس نے محسوس کیا موسم خراب ہونے لگا ہے۔ اس نے گہری سانس بھری اور آنکھوں میں پریشانی لیے پلٹ گئی۔
" کہاں ہو یار تم؟"
وہ ہولے ہولے چلتی گئی۔ راستہ لمبا تھا۔ بارش ہونے والی تھی۔ اس نے تیز تیز قدم اٹھانے شروع کر دیے۔ تب ہی ایک سیاہ وین کے ٹائر اس کے قریب چرچرائے۔
دو آدمی تیزی سے باہر نکلے۔ ایک نے اس کے ہاتھ پکڑ کر باندھ دیے۔ دوسرے نے منہ پر ٹیپ چپکا دی۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے سوچنے تک کا موقع نہ ملا۔ بارش کی موٹی بوندیں اس پر گرنے لگیں۔
وین کے اندر دانش بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سگریٹ سلگ رہا تھا۔وین کے اندر کا ماحول سرد جیسا خاموش تھا۔ بس انجن کی گڑگڑاہٹ اور بجلیوں کی گونج تھی۔
جیسے ہی انہوں نے لایان کو اندر پھینکا۔ دانش نے آنکھوں سے اشارہ دیا۔
" ڈرائیو۔"
دوسری طرف زاویان کال پہ تھا۔
" ڈن؟" زاویان نے سرسراتی آواز میں پوچھا۔
" ڈن۔"
دانش نے دھواں فضا میں چھوڑا۔
" اب اسے میری دنیا دکھانا دانش۔"
اور کال کٹ گئی۔
وین پوری سپیڈ سے روڈ پر بھاگ رہی تھی۔ بارش کی موٹی بوندیں ونڈ اسکرین پر ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھیں۔
لایان کی آنکھیں خوف سی پھٹی ہوئی تھیں۔ پانی کی بوندیں اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھیں ۔ مگر اندر سے وہ ٹھنڈ سے نہیں بلکہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ کبھی اس کا سر وین کی دیوار سے ٹکرا جاتا تو کبھی وہ لڑھک کر دوسری طرف ہو جاتی۔
اس نے بہت کوشش کی ہاتھ کھولنے کی مگر بے سود۔ وہ رونے لگی۔ کافی دیر بعد اسے دو لوگوں نے پکڑ کر باہر نکالا اور ایک حویلی جیسے محل کے بیسمنٹ میں لے گئے۔ اسے ایک اندھیرے کمرے میں پھینک دیا گیا۔
دانش زاویان کے پاس چلا گیا تھا۔ جو اسی حویلی میں اپنے پرائیویٹ روم میں موجود تھا۔ اس کے پاس پہنچ کر اس نے صرف اشارہ دیا۔ وہ تیزی سے کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔
اس کا خون کنپٹیوں میں ٹھوکریں مار رہا تھا۔ دانش اس کے پیچھے تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا۔ دانش نے لائٹ جلا دی۔ وہ خونی نگاہوں سے اس کی طرف بڑھا اور ایک جھٹکے سے ٹیپ اس کے ہونٹوں سے اتار دی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
" کون ہو تم؟ مجھے یہاں کیوں بند کیا ہے؟"
زاویان نے دانت پیسے۔
"جتنا جاننا ضروری ہوگا، بتا دیا جائے گا۔"
"میں کسی سے نہیں ڈرتی۔ بتاؤ مجھے کون ہو تم۔"
"ڈر تو تب لگے گا جب میں تمہیں دکھاؤں گا۔"
"تمیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔"
زاویان نے کچھ نہیں کہا، بس دانش کو اشارہ کیا۔ دانش نے آگے بڑھ کر لایان کے ہاتھ کھول دیے۔
"اگر کوئی ہوشیاری کرے تو گولی مار دینا۔"
وہ فورا باہر نکل گیا۔ دانش نے دروازہ لاک کر دیا تھا۔ پیچھے اندھیرے کمرے میں لایان دروازے کو پیٹتی جا رہی تھی۔ مگر وہ دونوں ہی وہاں سے نکل گئے تھے۔ دانش باہر، جب کہ زاویان اپنے پرائیویٹ روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
جاری ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Best ❤️🫶 novel keep writing and jldi
ReplyDelete