Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 7 - Munaza Niaz - Urdu novel - intense romance - Romantic Novel
زہرِ عشق
قسط 7
از منزہ نیاز
لایان کو دو دن ہو گئے تھے وہاں قید ہوئے۔ بیسمنٹ میں اندھیرا تھا۔ ہوا بھی رکی ہوئی اور ٹھنڈی تھی۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ آنکھوں کے نیچے ہلکے، بال بکھرے ہوئے اور چہرہ خوف میں ڈوبا ہوا۔ تبھی دروازہ کھلا۔ ہلکی سی آہٹ ہوئی۔
زاویان سیاہ سوٹ میں ملبوس ٹھنڈہ چہرہ لیے اس کے پاس آیا۔ لایان نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا۔
" پھر آگئے ہو؟ جواب دو۔۔۔ میں کون ہوں تمہارے لیے؟ مجھے یہاں کیوں قید کیا ہے؟ میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں۔"
وہ مری مری آواز میں بولی۔
زاویان نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر سائیڈ پر رکھی ایک ٹیبل کی طرف بڑھا۔ لایان کی نظر اس کے ساتھ گھومی۔ وہ پانی کی بوتل اٹھا رہا تھا۔ وہ ہنس پڑی۔
" تمہیں میری پیاس کی فکر ہے مگر میری بات کی نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کچھ ۔"
زاویان کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔
"سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ صحیح وقت کا انتظار کرو۔"
اس نے بنا دیکھے کہا۔
" وقت؟ کس کا وقت؟ کیا میں کسی سزا کی حقدار ہوں؟ بتاؤ نا۔۔!"
لایان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
زاویان نے کچھ نہیں کہا بس اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔
" رایان کہاں ہے؟"
اس نے سپاٹ انداز میں بلکل اچانک پوچھا۔ لایان کا سانس رک گیا۔
" را۔۔۔ رایان۔۔۔ مم۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ پلیز بلیو می، مجھے کچھ نہیں معلوم۔"
وہ ہکلائی۔
" کالج میں اس کی آخری ملاقات تم سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گیا۔"
زاویان کا لہجہ خطرناک ہوا۔
" میں کچھ نہیں جانتی۔ وہ ہمیشہ جان کر میرے پاس آتا تھا۔ وہ ایک عجیب لڑکا تھا۔ اور۔۔۔۔"
وہ گھبرا کر پیچھے ہوئی تھی۔
" عجیب؟"
زاویان کے ماتھے پر بل پڑے۔ اس نے پاکٹ سے ایک کلپ نکالی۔
" یہ تمہارا ہے نا!"
اس نے سرد آواز میں کہا۔ لایان کا رنگ اڑ گیا۔
" یہ۔۔۔۔ یہ تمہارے پاس۔۔۔ کیسے؟"
اس نے پھٹی نگاہوں سے اپنے ہیئر کلپ کو دیکھا۔
"رایان کے پاس سے ملا تھا۔ جہاں وہ تھا۔ مگر میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی رایان غائب کر دیا گیا۔"
وہ گھبرا گئی۔
" نہیں نہیں۔ یہ میرا ہو سکتا ہے۔ کالج میں کہیں گر گیا ہوگا یا کسی نے اٹھا لیا ہوگا، مگر میں اس کے ساتھ نہیں تھی۔ قسم سے نہیں تھی۔"
اس کے آنسو گرے۔ آواز ہلکی پڑ گئی۔
" تمہیں لگتا ہے مجھے تمہاری قسم سے فرق پڑتا ہے؟ اب میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں۔ رایان کہاں ہے؟"
زاویان نے زور سے مٹھیاں بھینچی ۔لایان کے آنسو گرتے رہے۔
" میں نہیں جانتی۔"
وہ روتے ہوئے بولی۔
"تو پھر یہ کلپ اس کے پاس کیسے آیا؟ کیا تم اس سے چھپ کر ملتی تھی؟ کیا تمہارا اس کے ساتھ کوئی کانٹیکٹ تھا؟ یا تم نے اسے کسی کے ساتھ مل کر کہیں چھپا رکھا ہے!"
وہ دھاڑا تھا۔ لایان نے انگلیاں بالوں میں پھنسا لیں۔
" نہیں نہیں۔۔۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔ میں پہلے ہی کالج میں ٹارچر ہو چکی ہوں۔ سب نے مجھے بلیم کیا اور اب تم مجھے یہاں لے آئے، بنا پوچھے، بنا سمجھے۔"
زاویان کی آنکھوں کا رنگ بدلا۔ وہ ایک لمحے کو چپ رہ گیا۔ مگر پھر دوبارہ اس نے اپنا چہرہ سخت کر لیا۔
"تمہارے ہر لفظ میں یا تو جھوٹ ہے یا تم کسی کا راز چھپا رہی ہو۔"
اس نے وہ کلپ زمین پر گرا دی اور بوٹ مار کر اس کے ٹکڑے کر دیے۔ لایان کی سانس سینے میں اٹک گئی۔
"جتنی چھوٹی یہ کلپ ہے نا! اس سے بھی چھوٹی اب عزت ہے تمہاری میری نظر میں۔"
اس نے تیزی سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔
لایان نے ان ٹکڑوں کو دیکھا، ایسے۔۔ جیسے اس کی پہچان اس کے سامنے کچل دی گئی ہو۔
☆☆☆
روحا کی جب آنکھ کھلی تو سیدھا نظر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے یحیی پر پڑی۔ وہ کچھ لمحے غائب دماغی سے دیکھتی رہی۔ کمرے میں کھڑکی سے سورج کی کرنیں گر رہی تھیں اور تب ہی ایک جھٹکے سے اسے سب کچھ یاد آگیا۔
" گڈ مارننگ بیگم! کیسی ہو؟ نیند تو بڑی اچھی آئی، اس ماحول میں بھی۔"
یحیی نے آئینے میں اس کے عکس کو دیکھا۔ وہ آستینیں موڑ رہا تھا۔
" یحیی! مجھے گھر جانا ہے۔ پلیز۔"
یحیی کے ہاتھ رکے۔ اس نے مڑ کر اس کو دیکھا۔ جو آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
" یہ گھر اب تمہارا ہے اور میں بھی تمہارا ہوں۔ تمہارا ہر جواب بھی میں ہوں۔"
وہ اس کے قریب چلا آیا، اتنا کہ وہ ہل نہیں سکی۔
میں اس کو پسند نہیں کرتی۔ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے، لیکن کیوں جب یہ ہر دفعہ میرے پاس آتا ہے، تو میرا دل بھاگتا نہیں ہے۔ رکتا کیوں ہے؟
وہ اندر ہی اندر سوچ رہی تھی۔ یحیی نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ مگر روحا نے تیزی سے چھڑا لیا۔
" ٹچ مت کرو مجھے۔"
"میں تمہارا ہوں، ٹچ بھی نہیں کر سکتا۔"
وہ مسکرایا۔ روحا چپ اس کو دیکھتی رہی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
"میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔"
یحیی دھیرے سے اس کے قریب ہوا۔
"تو کرو نفرت، لیکن میرے ساتھ رہو گی۔ سانس بھی لو گی تو صرف میری ہوا میں۔"
روحا نے کچھ نہیں کہا۔ بس لب بھینچ لیے۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیر گئے۔ یحیی نے گہری سانس بھری اور اٹھ گیا۔
" تیار ہو کر نیچے آ جاؤ۔ ناشتہ تم بناؤ گی۔ یہاں کوئی میڈ نہیں ہے تمہارے لیے۔"
وہ بے نیازی سے کہتا باہر نکل گیا۔
"ناشتہ بنائے گی میری جوتی۔"
اس نے چلا کر کہا اور باتھ روم میں گھس گئی۔
جب وہ تیار ہو کر نیچے پہنچی تو یحیی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ جس پر کوئی نیوز چل رہی تھی۔ سامنے ٹیبل پر کافی کا مگ پڑا تھا۔
"کچن اس طرف ہے۔"
یحیی نے اسکرین سے نظریں نہیں ہٹائیں۔
روحا کا خون کھول اٹھا، مگر اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ رات سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اگر اب بھی اسے کچھ نہ ملتا تو وہ بے ہوش ضرور ہو جاتی۔ وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔ یحیی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔ اس نے مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔
اندر وہ تیز تیز ہاتھ چلاتے ناشتہ بنا رہی تھی۔ کچن میں اس کی سوچ سے زیادہ سامان موجود تھا۔ بنے بنائے آئٹمز بھی موجود تھے۔ مگر اسے تازہ پکا کر کھانے کی عادت تھی۔ اس نے پراٹھا بنایا، آملیٹ، سلائس گرم کیے، چائے بنائی، اور شیک بنا کر ٹھنڈا ہونے کے لیے فریج میں رکھ دیا۔
جب وہ ٹرے اٹھا کر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تو یحیی نے ٹرے اپنی طرف کھسکا لی۔ اس کا منہ صدمے سے کھل گیا۔
" تھینک یو۔"
وہ مسکرایا
" یہ میرا ہے، واپس کرو اسے۔"
وہ چلانا چاہتی تھی مگر روہانسی ہو گئی۔
"میں بھی تو تمہارا ہوں۔"
اس نے پراٹھے کا نوالا توڑا۔ روحا نے چہرہ دوسری سمت موڑ لیا۔ آنکھوں کے ساتھ دل بھی بھر آیا تھا۔
یحیی نے اسے روتا دیکھ نوالا واپس رکھ دیا، پھر وہ خاموشی سے اٹھا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھا۔ وہ ہنوز چہرہ موڑے بس آنسو بہاتی رہی۔ یحیی نے ٹرے اپنی طرف کھسکائی۔ نوالا بنایا اور اس کے چہرے کے قریب لے گیا۔ اس نے آنسو پونچھ کر یحیی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس نے نہیں کھایا بلکہ وہ دوسرا نوالہ بنانے لگے تو یحیی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"یا تو میرے ہاتھوں سے کھاؤ گی یا خود مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی۔ چوئیس تمہاری ہے۔"
اس نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔ وہ کچھ پل اسے دیکھتی رہی اور منہ کھول دیا۔
اسے فلحال زندہ رہنا تھا۔ یحیی نے ہنسی چھپا کر دوسرا نوالا بنایا اور اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے چپ چاپ کھا لیا۔
اب وہ بنا کر صرف اسے کھلا رہا تھا۔ چائے بھی اپنے ہاتھوں سے پلا رہا تھا۔ ایک آدھ بار خود بھی گھونٹ بھر لیتا۔ روحا نے کچھ نہیں کہا بس چپ کھاتی گئی۔
"بس۔"
اس نے پانی کا گلاس اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی یحیی نے اٹھا لیا۔ روحا نے خاموشی سے پی لیا۔
اب جان میں جان آئی تھی اور صرف جان ہی نہیں اور بھی بہت کچھ یاد آگیا تھا۔
امی، حسن بھائی، اور۔۔۔۔ اور لایان۔
"کیا ہوا؟"
اسے سکتے کہ عالم میں دیکھ کر یحیی نے پوچھا۔ اس نے غصے سے یحیی کو دیکھا اور تیزی سے اٹھنا چاہا مگر یحیی نے اس کی کلائی پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔
"جب میں کہیں بھی تمہارے ساتھ بیٹھا ہوں۔ تو تم اٹھ کر کہیں نہیں جاؤ گی۔ آئی سمجھ۔"
وہ نرمی سے بول رہا تھا۔ مگر اس کے لفظوں میں نرمی نہیں تھی۔
" تم آخر چاہتے کیا ہو یحیی؟"
وہ بے بسی سے بولی۔
" میں صرف تمہیں چاہتا ہوں بس۔ تم یہ بات سمجھ لو اور میں کچھ نہیں چاہتا۔"
اس نے دھیرے سے اس کا گال انگوٹھے سے سہلایا اور بال پیچھے کرتے ماتھے پر بوسہ دیتا کھڑا ہو گیا۔
"اپنا خیال رکھنا۔ میں جلدی آ جاؤں گا۔"
اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔ روحا نے گہری سانس لی اور برتن اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Love it 😍😍😍
ReplyDeleteBhot acha noval ha is ka agy kb ay gha
ReplyDeleteMra name kiran ha ap ka noval bhot achy ha sra mna prhy ha is noval ka agy vla part kb mily gha
ReplyDeleteEpisode 8 chuka h...check krain...ep 7 k last main link h
Delete