Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 8 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Romantic novel
زہرِ عشق
قسط 8
از منزہ نیاز
"مشال تمہیں خالہ اور امی بلا رہی ہیں۔"
ردا نے اس کے پاس آ کر کہا۔ وہ جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی مزید اپنا چہرہ چادر میں چھپا گئی۔
"انہیں کہو میں سو گئی ہوں۔"
وہ فلحال کسی کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی۔
"نیچے ابو بھی موجود ہیں۔ ان کا بھی حکم ہے اور سب نے ہی کہا کہ اگر تم سو رہی ہو تو تمہیں جگا کر لے آؤں۔ اب اگر اگلے دو منٹ میں تم نہیں آئی تو خالہ خود آ جائیں گیں۔"
مشال تیزی سے سیدھی ہو بیٹھی۔
"سب کو ایک ساتھ ہی میں کیوں یاد آگئی۔"
وہ چڑ کر بولی۔
"نیچے آ جاؤ۔ خود معلوم ہو جائے گا۔"
معنی خیزی سے کہتی ردا موبائل اٹھا کر بیڈ پر ٹک گئی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک ساتھ لاونج میں داخل ہوئیں تھیں۔
سب لوگ وہاں موجود تھے۔ امی، ابو خالہ، اس کا بھائی علی اور۔۔۔۔ حارث۔
اس نے تھوک نگلا اور وہیں رک گئی۔ جبکہ ردا صوفے پر جا کر ٹک گئی۔
"ادھر آؤ مشال۔ رک کیوں گئی؟"
خالہ نے محبت سے اسے پکارا۔
وہ بنا کسی کی طرف دیکھے ان کے ساتھ جا بیٹھی۔ رانیہ خالہ نے اس کا سر چوما۔ وہ بری طرح چونکی تھی۔
"میں اس ماہ ہی شادی کر دینا چاہتی ہوں آمنہ۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو ابھی بتا دو۔"
"ارے نہیں رانیہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
آمنہ نے خوش دلی سے کہا۔ مشال نے چہرہ موڑ کر ساکن نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔ جو رانیہ خالہ کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
رانیہ خالہ نے حارث کو اشارہ کیا۔ وہ اٹھا اور مشال کے بالکل قریب جا بیٹھا۔ وہ دور ہونا چاہتی تھی مگر اس کا جسم ہلنے سے انکاری ہو رہا تھا۔ حارث نے زبردستی مشال کا ہاتھ پکڑا۔ مشال کو لگا اس کی جان نکلنے لگی ہے۔ رانیہ خالہ نے ایک انگوٹھی حارث کو دی۔
وہ مشال کے ہاتھ کی پشت پر کچھ پل انگوٹھا پھیرتا رہا پھر انگوٹھی پہنا دی۔ مشال نے تیزی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس کا تنفس تیز اور آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی۔
وہاں مزید کیا باتیں ہو رہی تھیں، کون سی تاریخ رکھی گئی، کیا پلان بنائے گئے شادی کے، اسے کچھ سنائی نہ دیا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھی، مگر حارث نے اس کی کلائی زور سے پکڑ لی۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ جو گہری نگاہوں سے مسکراتا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"اب تم میری ہو۔ اس لیے خود کو اب کنٹرول میں رکھو۔"
اس نے جھک کر ہلکی مگر سرسراتی آواز میں کہا۔
مشال کو لگا اگر وہ مزید وہاں بیٹھی تو ہوش کھو دے گی۔ اس نے تیزی سے کلائی چھوڑوائی اور بھاگ کر لاونچ سے باہر نکل گئی۔
کمرے میں پہنچتے اس نے تیزی سے دروازہ لاک کر دیا۔ ہاتھ میں پہنی انگوٹھی اس نے کھینچ کر اتاری اور زور سے پھینک دی۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ بیڈ کی پائینتی کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔ اس کے آنسو اتنی تیزی سے گر رہے تھے جیسے چشمہ پھوٹ پڑا ہو۔ وہ بمشکل سانس لے پا رہی تھی۔
"کیا ہوا جان؟ اتنی کانپ کیوں رہی ہو؟ میں تمہارا حارث ہوں۔ کیا میں تمہیں چھو بھی نہیں سکتا؟"
وہ دھیرے سے انگلی اس کے چہرے پر پھیرتا ہوا گردن تک لے گیا۔
"پلیز حارث۔۔۔۔ مت کرو ایسا۔۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔"
وہ سانس روکے، کپکپاتی، بمشکل بول پا رہی تھی۔
" ارے زیادہ کچھ نہیں کروں گا، بس تھوڑا سا تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ تم محبت کرتی ہو نا مجھ سے؟ ہاں، تو پھر میری اتنی سی بھی بات نہیں مان سکتی۔"
اسے دیوار سے لگائے وہ اتنا نزدیک آگیا کہ مشال کی روح تک کانپ گئی۔
"ہہ۔۔۔ہا۔۔۔ہاں میں تم سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ مم۔۔۔ مگر میں یہ سب نہیں چاہتی۔"
سختی سے مٹھیاں بھینچے، تیز تیز سانس لیتی وہ مزید دیوار سے چپک گئی۔
حارث مسکرایا۔ اس کے دونوں ہاتھ مشال کے ہاتھوں سے سرکتے ہوئے اوپر کندھوں تک پہنچ گئے۔
مشال کا لگا اس کا دل بند ہو جائے گا۔ اگلے سیکنڈ اس کے ہاتھ مشال کے بالوں میں پھنس چکے تھے۔ وہ بری طرح کانپتی زور سے آنکھیں میچ گئی۔
اس کا دماغ زور زور سے چلا رہا تھا کہ دھکا دو اس کو، دور کرو اور بھاگ جاؤ۔ مگر اس کا جسم جیسے بے جان ہو گیا تھا۔ یوں جیسے وہ خود میں نہیں رہی تھی۔
حارث اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔ اس کی خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں اور لمبی پلکیں، جنہیں وہ سختی سے بند کیے کھڑی تھی۔ گال قدرتی سرخ اور گورا رنگ۔ اس نے بے اختیار اس کا گال انگوٹھے سے چھوا۔
مشال تھر تھر کانپ رہی تھی۔ اگر محبت ایسی تھی تو اسے نہیں چاہیے تھی۔ جس میں حرام لمس ہو۔ حارث نے اس کے کپکپاتے ہونٹوں کو دیکھا۔
"کیا ہوا جو نکاح نہیں ہوا۔ مگر محبت تو کرتے ہیں ہم۔ اسے میں کل چھوو یا آج۔ کیا فرق پڑتا ہے؟"
شیطان نے ایک اور راہ دکھائی۔ وہ ہلکا سا جھکا۔ مشال نے اس کے دہکتی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کیں۔ اگلے پل جیسے بجلی کا جھٹکا لگا تھا۔ اس نے پوری طاقت سے اسے دور دھکیل دیا۔
"بس بہت ہو گیا حارث۔ اب اگر تم میرے قریب آئے تو منہ نوچ لوں گی تمہارا۔"
وہ اتنی زور سے چیخی کہ حارث دنگ رہ گیا۔
"کیا کہا میرا منہ نوچو گی؟اوقات کیا ہے تمہاری؟ میں چاہوں تو ابھی تمہیں نوچ کر رکھ دوں۔ تم آخر جانتی ہی کتنا ہو مجھے۔ اگر مجھے تم سے محبت نہ ہوتی تو ابھی تمہیں تمہاری اوقات دکھا دیتا۔"
ایک ہی جھٹکے میں وہ اس کا منہ دبوچے غرار رہا تھا۔
"اپنی بکواس بند کرو۔ نہ تمہیں مجھ سے محبت ہے، نہ ہی کبھی تھی۔ تم صرف جسم کے پجاری ہو۔ تم جب جب میرے قریب آتے ہو بس بہانے بنا کر محبت کا نام لے کر چھوتے ہو۔"
اس نے زور سے اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے جھٹکا۔ حارث کا چہرہ سرخ ہوا۔
"آئندہ اپنی شکل بھی مت دکھانا مجھے۔ مر گئے ہو تم میرے لیے۔ نہیں کرتی میں تم سے محبت۔ اب تم میرے پاس آئے تو جان سے مار دوں گی۔"
اس نے چلا کر کہا اور نم آنکھوں کو رگڑتی دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
حارث نے زور سے مٹھیاں بھینچی۔ اس کا دماغ سلگنے لگا تھا۔
"آخر سمجھتی کیا ہے خود کو؟ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے بچے گی مجھ سے۔"
اس نے میز پر رکھا گلدان اٹھایا اور پوری قوت سے دروازے پر دے مارا۔
" تم بچو گی نہیں مشال۔۔۔ تم ابھی جانتی نہیں ہو مجھے۔ "
وہ پوری قوت سے دھاڑ رہا تھا۔
مشال روتے ہوئے رانیہ خانہ کے کمرے میں چھپ گئی۔ وہ اس وقت ان کے گھر کچھ دن رہنے آئی تھی۔ رانیہ خالہ کی کسی سہیلی کا انتقال ہو گیا تھا تو انہوں نے اسے گھر رکنے کا کہہ دیا تھا۔ حارث کے آنے کا وقت ہونے والا تھا تو وہ چاہتی تھیں کہ جب وہ آ جائے تو مشال اسے بتا دے اور رات کا کھانا بھی تیار کر دے۔ انہیں آنے میں دیر بھی ہو سکتی تھی۔ کیونکہ حارث بھوک کا کچا تھا۔
"آپ بے فکر ہو کر جائیں خالہ! میں بنا دوں گی سب۔"
اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
اس نے اتنی محنت اور دل سے کھانا بنایا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر اس کا انتظار بھی کرنے لگی تھی۔ اور جب حارث گھر آیا تو بہانے سے اسے کمرے میں لے گیا تھا۔ اور پھر یہ سب ہو گیا۔ اس دن وہ سب ختم کر آئی تھی۔ اسے حارث سے اتنی شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی کہ وہ اس دن کے بعد کبھی خالہ کے گھر نہیں گئی تھی۔ اس بات کو اب ایک سال ہونے والا تھا۔
مگر وہ رات اور وہ الفاظ جیسے اس کے دل و دماغ پر نقش ہو چکے تھے۔ اور آج؟ آج یہ سب؟
اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ اس نے سر پائنتی سے ٹکایا اور پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی۔ صبح اس کی آنکھ فجر کے وقت کھلی تھی۔ اذانیں ہو رہی تھیں۔ اس کے گالوں پر آنسوو کی لکیرے جمی تھیں۔ وہ دھیرے سے اٹھی، وضو کیا اور اللہ کے حضور کھڑی ہو گئی۔ نماز کے بعد اس نے سامان سمیٹا اور یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
یونی کا وقت نو بجے شروع ہوتا تھا۔ جبکہ وہ سات بجے سے پہلے ہی گھر سے نکل گئی تھی۔ جاتے ہوئے اس نے علی کو کہہ دیا تھا کہ اسے بہت کام ہیں جو وہ وہاں جا کر ختم کرے گی۔ علی جو آنکھیں مسلتا باتھ روم جا رہا تھا زور سے جمائی لیتا سر ہلا گیا۔
وہ پیدل ہی پوائنٹ پر پہنچی۔ مگر بس کے آنے میں ابھی بہت وقت تھا۔ وہ خاموشی سے نزدیکی پارک چلی آئی۔
پارک میں چند ایک لوگ تھے۔ وہ خاموشی سے ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ اس نے محسوس کیا کوئی اس کے ساتھ آ بیٹھا ہے۔ اس نے چہرہ موڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کون تھی۔
آسمان پر ہلکے ہلکے بادلوں کا ڈیرا تھا۔ سورج ابھی تک غائب تھا یا شاید بادلوں نے اسے اپنی اوٹ میں چھپا رکھا تھا۔ ہوا ہلکی مگر ٹھنڈی تھی۔ درخت کے سوکھے پتے اڑتے ہوئے اس کے آس پاس بکھر رہے تھے۔
"کیسی ہو مشال؟"
ساتھ بیٹھی لڑکی نے دور آسمان پر چھائے بادلوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"میں ٹھیک نہیں ہوں۔"
روکنے کے باوجود بھی آنسو پھسل کر اس کے خوبصورت گال پر بہہ گیا۔
"کچھ ہوا ہے کیا؟ مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟"
وہ لڑکی اب بھی آسمان پر کہیں دیکھ رہی تھی۔ مشال نے روتے ہوئے ایک ہچکی لی۔
"مجھے وہ نہیں چاہیے۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔"
اس نے دوسری ہچکی لی۔
"تو تم نے منع کیوں نہیں کیا؟"
مشال نے چونک کر سر اٹھایا۔
"منع؟"
"ہاں۔ رشتے سے انکار کر دو۔ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی تمہارا نکاح نہیں کر سکتا۔"
اس نے چہرہ جھکا دیا۔ آنسو اس کی گود میں گر رہے تھے۔ یہ بات اس نے پہلے کیوں نہیں سوچی۔
"وہ کل پھر آیا تھا۔ اس نے مجھے دوبارہ چھوا۔ مجھے لگا جیسے کسی نے مجھے آگ میں پھینک دیا ہو۔ میں کمزور نہیں بننا چاہتی مگر جب وہ سامنے آتا ہے تو میری ساری طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ اور ہر بار مجھے اس سے زیادہ نفرت ہونے لگتی ہے۔ اگر میری اس سے شادی ہو گئی تو۔۔۔ وہ مجھے۔۔۔وہ میرے ساتھ۔۔۔"
اس کا چہرہ سفید پڑنے لگا۔
"اس نے مجھے اس دن دھمکی دی تھی۔ وہ ایک حیوان ہے۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے اس جیسے شخص سے محبت کی تھی۔ مجھے اس سے خوف آتا ہے۔ وہ جب جب میرے پاس آتا ہے مجھے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ بلکہ میں کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے دیکھا ہے یہاں سارے مرد صرف جسم چاہتے ہیں۔ انہیں روح سے نہیں صرف جسم سے محبت ہوتی ہے۔"
اچانک کچھ چہرے اس کی آنکھوں کے سامنے آئے تھے۔ رانیہ خالہ کے شوہر، جو ہر وقت اسے گندی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اور ۔۔۔۔ اور اس کے یونیورسٹی کے اور کلاس کے لڑکے۔ جو بہانے سے کبھی ٹکرا جاتے یا کبھی گھورتے رہتے۔
وہ لڑکی خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی۔
"مجھے اس سے نفرت ہے۔ مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی۔ سب جھوٹے ہیں یہاں۔ دوغلے ہیں۔"
اس نے کوشش کی کہ نہ روئے۔ مگر آنسوو پر کس کا بس چلتا ہے۔
"ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا مشال! تمہیں اب تک جو ملے ہیں وہ سب ایک جیسے ہو سکتے ہیں مگر اس دنیا میں اچھے انسان بھی موجود ہیں۔"
وہ لڑکی نرمی سے بولی۔
"مگر مجھے اب کسی کی ضرورت نہیں ہے۔"
اس نے آنکھوں کو مسلا۔
"تم اکیلی نہیں ہو مشال۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی۔ بس تم کبھی کسی دکھ کو دل سے مت لگانا۔ دل سے لگائے گئے دکھ دل چیر تو دیتے ہیں مگر ختم نہیں ہوتے۔"
مشال نے اسے سنا اور بیگ اٹھاتی کھڑی ہو گئی۔
"میں یہ شادی نہیں کروں گی۔ آج ہی جا کر انکار کر دوں گی۔"
اس نے مضبوط لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گئی۔ جب کہ وہ لڑکی بنجر نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

We want a long episode on layan and zaviyan
ReplyDeleteinshaAllah episode 9 main
DeleteWow 😳 kia likha h writer g dil chu liya ❤️🫶😍
ReplyDelete😍😍 bhot acha ha noval
ReplyDelete