زہرِ عشق
قسط 9
از منزہ نیاز
اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے کھل رہی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا اور گھٹن تھی۔ اس نے زور سے سانس لی مگر اسے کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ اس کے سر میں درد کی شدید لہریں اٹھ رہی تھیں۔ کھانستے کھانستے اس نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا۔ اس کا ہاتھ نم ہو گیا۔ اس نے غور سے انگلیاں دیکھی تو وہاں خون تھا۔ اس کی آنکھوں سے پانی بہہ نکلا۔ پنڈلی میں الگ درد اٹھ رہا تھا۔ مگر وہاں لگا تیر نکال دیا گیا تھا۔ اس نے اندھیرے میں اپنا پیر دیکھا۔ گوشت کٹ کر آدھا باہر نکلا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر خوف لہرایا۔
"آخر کون ہو تم؟ کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہو؟ سامنے کیوں نہیں آتے؟"
وہ بچوں کی طرح روتا چلانے لگا۔ اسے اپنے گال اور ایک آنکھ پر سوجن محسوس ہوئی۔
"اگر جان سے مارنا چاہتے ہو تو مار دو۔ میں مرنے سے نہیں ڈرتا، مگر اس طرح کر کے۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ میرے ساتھ کر کے۔۔۔ تم۔۔۔۔ تم آخر کس چیز کا بدلہ لے رہے ہو؟ ہمت ہے تو میرے سامنے آؤ۔"
اس نے چیخ کر کہا اور گہرے گہرے سانس بھرتا دیوار سے ٹیک لگا گیا۔
"رایان! رایان۔۔۔"
وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا۔ یہ آواز تو۔۔۔
"رایان کہاں ہو تم؟"
"زاویان بھائی۔۔؟"
اس کے لب کانپے۔
"زاویان بھائی میں یہاں ہوں۔"
اس نے چیخنا چاہا مگر اس کا گلا بیٹھ چکا تھا۔ وہ دیوار کا سہارا لیے کھڑا ہوا اور لڑکھڑاتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا۔
"زاویان بھائی میں یہاں ہوں۔ پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالیں۔۔ زاویان بھائی۔"
وہ دروازے کو دھکا دینے لگا۔ اس نے ہینڈل گھمایا، دروازہ کھل گیا۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر باہر نکل گیا۔
جیسے ہی اس نے قدم باہر زمین پر رکھے وہیں جم گیا۔
باہر ہر طرف دھواں تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ آسمان پر بھی دھواں تھا اور زمین پر بھی۔
" یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟"
وہ ہکلایا۔
"زاویان بھائی کہاں ہیں آپ؟ میں یہاں ہوں۔"
وہ درد کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھا۔ اس کے سر اور پنڈلی سے خون بہہ رہا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ بس اس خوفناک جگہ سے نکل جانا چاہتا تھا۔
زویان کی آواز جو کچھ دیر پہلے آئی تھی، اب غائب ہو چکی تھی۔ یوں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ اب اسے اندازہ ہونے لگا کہ جو کوئی بھی یہ سب کر رہا ہے وہ بس اسے ذہنی اور جسمانی اذیت دینا چاہتا ہے۔
زاویان وہاں کہیں نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر خون جم چکا تھا۔ بال بھی خون سے چپکے ہوئے تھے اور تبھی اس کو جھٹکا لگا۔ وہ وہیں رک گیا۔ اسے اپنی پیٹھ پر آگ جیسی تپش محسوس ہوئی۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ وہاں دھوئیں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے ہاتھ موڑ کر پیٹھ پر رکھا۔ وہاں اسے چاکو محسوس ہوا، جو اندر گھس چکا تھا۔ اس نے نکالنا چاہا مگر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ منہ سے خون کا فوارہ پھوٹا اور وہ زمین پر گرتا چلا گیا۔
☆☆☆
آفس روم میں مہنگے پرفیومز کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ فضا ٹھنڈی اور خوشگوار تھی۔ زاویان سیاہ سوٹ میں اپنی چیئر پر بیٹھا تھا۔ اس کے گھنے سیاہ بال ہلکے سے بکھرے اس کے چہرے کو جان لیوا حد تک خوبصورت بنا رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی لیکن چہرہ پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ رایان کو ڈھونڈنے کے لیے اس نے پورا اسلام اباد کھنگال ڈالا تھا مگر وہ نہیں ملا۔ اس کے سینے پر بوجھ ایک پتھر کی طرح جم گیا تھا۔ یحیی اس کے پاس خاموش کھڑا تھا۔ اسے اب جا کر رایان کی گمشدگی معلوم ہوئی تھی۔ اذان، زاویان کے بالکل سامنے سفید سوٹ میں آرام دہ انداز میں بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ بالکل پرسکون تھا، کچھ اس طرح کہ کسی اور کو نظر نہ آئے۔
زاویان کی بے چینی اسے اندر ہی اندر لطف دے رہی تھی۔ زاویان کی درد بھری خاموشی پہ وہ ہلکی سی مسکراہٹ میں ڈوبتا جا رہا تھا۔
"کیا حال کر دیا ہے زاویان زرقاد۔۔۔ اب کیا کریں؟ دشمن کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔ جب درد کا سبب وہ خود سمجھ بھی نہیں پا رہا۔"
اذان نے سوچا مگر کہا نہیں۔
ایشل ان سے ذرا فاصلے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی۔ اس کے خوبصورت اور معصوم چہرے پر سامنے رکھے لیپ ٹاپ سے نکلتی نیلی روشنی پڑ رہی تھی۔
کل رات الطاف مرزا کے ساتھ کیا گیا ڈنر اس کے لیے ہمیشہ یادگار رہنے والا تھا۔ صرف 48 گھنٹے اور الطاف مرزا کی کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکی تھی۔
وہ آج بھی ایک بزنس وومن تھی۔ سوئیٹ دوست، آج اس کے اندر ایک عجیب سا سکون پھیلا تھا۔ اب بس شیطان کو اس کی اصلی جگہ بھیجنا تھا۔
"یحیی کل کی ڈیل کا کیا پلان ہے؟ مجھے لگا تم مجھے اپڈیٹ کرو گے۔"
ایشل نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا۔ پارٹی والے دن کے بعد اس نے زاویان کو مخاطب کرنا چھوڑ دیا تھا۔
یحیی نے عجیب ٹھنڈی نظروں سے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا۔ وہ ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ اصل میں ایشل رحیم کا اصلی چہرہ کون سا ہے۔
"تمہارے جیسے معصوم لوگوں کو سب کچھ الریڈی معلوم ہوتا ہے۔ تمہیں اپڈیٹ کی ضرورت نہیں۔"
اس نے خشک انداز میں کہا۔
ایشل کے چہرے کا رنگ بدلا مگر اس نے فورا خود کو سنبھال لیا اور جھٹک کر دوبارہ نظر اسکرین کی طرف موڑ لی۔
" تم مجھے جانتے ہو یحیی! لیکن ابھی سب کچھ نہیں جانتے۔"
اس کے ہونٹوں پر زہر بھری مسکراہٹ اتر آئی۔
اذان نے یحیی کی بات سن کر ایک تیز نظر اس پر ڈالی تھی۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بدلا تھا۔ مگر اس نے خود پر قابو رکھا۔ یحیی نہیں جانتا تھا کہ اس نے اذان شاہ ویر کے اندر کا شیطان جگا دیا ہے۔
" تو یحیی! اب تم بھی میرا شکار بننا چاہتے ہو۔ کول۔"
وہ اندر سے زہریلی ہنسی ہنسا۔
یحیی نے غور سے اذان کو دیکھا۔ اسے عجیب لگ رہا تھا۔ کہیں اسے روحا کے بارے میں معلوم تو نہیں؟ اس کا دماغ بلینک ہوا تھا۔ مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
" سنا ہے زاویان زرقاد نے ایک لڑکی کو محض شک کی بنیاد پر اٹھوا لیا ہے۔"
اذان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
کمرے کا درجہ حرارت جیسے اس کی بات سن کر گر گیا تھا۔ یحیی نے آنکھیں سکیڑ کر اس کو دیکھا۔ زاویان نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
" تم کس لڑکی کی بات کر رہے ہو؟"
اس نے سرد آواز میں پوچھا۔
پیچھے کہیں لیپ ٹاپ کے کی-بورڈ کی کھٹکھٹ کی گونج تھی۔ ایشل پوری طرح اپنے کام میں منہمک تھی۔
" پر مجھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ تمہارے جیسا ماسٹر مائنڈ محض شک پر کسی لڑکی کو ٹارگٹ کر لے۔"
اذان نے لایان کا نام نہیں لیا۔ بس معصومیت سے کہا۔ زاویان کے جبڑے بھینچتے گئے۔ اذان ابھی بھی بول رہا تھا۔
"دیکھو زاویان! مجھے رایان کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ وہ معصوم چھوٹا بچہ تھا۔ بیچارہ۔۔"
وہ رکا پھر دوبارہ بولنا شروع کیا۔
"اور جس کو تم نے اٹھایا ہے! مجھے پورا یقین ہے وہ انہی لوگوں میں شامل ہوگی۔"
وہ ہلکا سا آگے جھکا۔
"یہ لڑکیاں۔۔۔ چہرہ معصوم۔۔۔ دماغ شیطانی۔۔۔ ایسی ہوتی ہیں تاکہ کوئی شک بھی نہ کرے۔"
اذان کے ساتھ ایشل بھی مسکرائی تھی۔
زاویان کا سانس اندر ہی اندر اٹک گیا۔ وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔ اذان نے اسے جاتے دیکھا پھر سیٹی بجائی۔ یحیی نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اذان آخر کر کیا رہا ہے۔
اذان آہستہ سے کرسی دھکیلتا کھڑا ہوا۔ مسکرا کر یحیی کو دیکھا اور باہر چلا گیا۔ یحیی نے ٹھنڈی سانس بھری پھر ایشل کو دیکھا، جو لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کر رہی تھی۔ اس نے فائلز ترتیب سے جوڑیں۔ اپنا موبائل اٹھایا اور کھڑی ہو گئی۔ پھر مسکرا کر یحیی کو دیکھا اور ہلکا سا سر کو خم دیتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
"یہاں تو سارے ہی شیطان ہیں۔"
اس نے بیزاری سے سر جھٹک دیا۔
☆☆☆
پرائیویٹ روم میں سگریٹ کے دھوئیں کی بو رچی تھی۔ دانش کی نظریں اسکرین پر چلتی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج پر جمی تھیں۔ وہ فوٹیج، جس کو دیکھ کر زاویان نے لایان کو اٹھوا لیا تھا۔
ویڈیو میں رایان اور لایان کالج کے ایک کوریڈور میں کھڑے تھے۔ وہ غور سے ان کو دیکھ رہا تھا۔ رایان کی مسکراہٹ، اس کا لایان کے پاس جانا، اور۔۔۔
وہ بری طرح چونکا۔ کیمرہ اس اینگل سے ان کو دکھا رہا تھا کہ رایان کا چہرہ آدھا اور لایان پوری دکھ رہی تھی۔ اسی سمے لایان نے چونک کر پیچھے دیکھا تھا اور ویڈیو ختم۔
" یہ کیا؟ آگے کی سی سی ٹی وی کہاں ہے۔"
اس نے بے قراری سے چیک کیا۔ سگریٹ اس نے ایش ٹرے میں رکھ دی تھی۔ اس نے ہر جگہ چیک کیا مگر آگے کی فوٹیج غائب تھی۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
" تمہیں ایک کلپ بھیج رہا ہوں، مجھے اس کی مکمل فوٹیج چاہیے۔"
اس نے دوبارہ ایک تصویر اسکرین پر زوم کی۔ وہ بلر تھی۔ البتہ اس میں رایان کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی کی دھندلی شبیہہ موجود تھی۔ اس کے دماغ کی گھنٹی بجی۔ اس نے ایک ایک کر کے باقی تصویریں دیکھنا شروع کر دیں۔ وہ شخص دھندلے چہرے کے ساتھ رایان کے ارد گرد ہر جگہ موجود تھا۔ وہ تیزی سے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔
" آخر کون ہو سکتا ہے یہ؟"
اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ سی سی ٹی وی کی دوسری فوٹیج اسے مل گئی تھی اور اب وہ اسے غور سے جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
لایان پلٹی اور اسی وقت اسٹوڈنٹس کا جمگھٹا اس سے ٹکرایا۔ وہ تیورا کر گری جبکہ رایان مسکراتے ہوئے وہیں کھڑا رہا۔ دانش کی نظریں عجیب ہو گئیں۔
" یہ کیا تھا؟"
اس نے ری پلے کیا اور پھر اسے سب سمجھ آگیا۔
وہی شخص جو ہر وقت رایان کے پاس تھا وہ یہاں اسٹوڈنٹس کے درمیان رایان سے ہلکا سا ٹکرایا تھا۔ اس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اور۔۔۔
اور اس نے ٹکراتے ہوئے رایان پر کچھ چپکا دیا تھا۔ اتنی ہوشیاری سے کہ رایان کو محسوس تک نہیں ہو سکا۔
" اوہ تو یہ بات ہے۔"
اس نے اس بندے کی تصویر اپنے ایک آدمی کو بھیجی۔
" اسے ڈھونڈو۔ مجھے یہ ہر حال میں چاہیے۔ جہاں بھی شک ہو وہیں سے اٹھا لو۔"
اس نے موبائیل اٹھایا اور باہر نکل گیا۔
"اب زیادہ وقت نہیں بچا۔ رایان کو ڈھونڈنا ہوگا اور اس گھٹیا شخص کو بھی۔ جس نے یہ ساری گیم چلی۔"
اس نے فورا گاڑی نکالی اور حویلی سے باہر نکل گیا۔
اور اسی وقت، اسی لمحے، زاویان کی گاڑی اندر آ کر رکی۔ وہ باہر نکلا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ اس کے تیز قدم بیسمنٹ کی طرف تھے۔
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا اسے گھٹن محسوس ہوئی۔ زنجیروں کی ہلکی سی آہٹ اور نمی کا احساس۔ اندر نیم اندھیرا اور موت جیسا سناٹا تھا۔ زاویان کی آنکھیں مزید سرخ ہوئیں۔
ایک کونے میں لایان ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ زنجیروں میں بندھی ہوئی۔ کلائیاں ہلکی سی سرخ، جسے نہ دن کا معلوم تھا نہ رات کا۔ زاویان کھولتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔
اس کا وہ غصہ، جس کی حد ایک انسان کو جانور بنا دیتی ہے۔
اس نے رک کر گہری نظر سے اس کو دیکھا۔ اس کا دماغ سنسنا رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اس لڑکی کے ٹکڑے کر دیتا۔
" زندہ ہو یا مر گئی ہو؟"
اس کی آواز اتنی سرسراتی ہوئی اور ٹھنڈی تھی کہ جسم میں جلن اٹھے۔
لایان نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا۔ مگر کچھ کہا نہیں۔ ایک آنسو چپکے سے گر گیا۔ زاویان اس کی طرف جھکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
" کس کے کہنے پر تم نے رایان کو ٹریپ کیا تھا؟ بولو ورنہ میں۔۔۔"
اس کی آواز ہلکی سی کانپ گئی تھی۔ آنکھوں کے کونے ہلکے سے نم ہوئے تھے۔
لایان ہنس پڑی، پاگلوں کی طرح۔
" پہلے بھی کہا تھا میں نے، نہیں جانتی۔۔۔ اب دوبارہ بھی کہوں؟ یا کسی اور طریقے سے سننا پسند کرو گے؟"
اس نے کمزور مری مری آواز میں کہا۔
زاویان کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے ایک جھٹکے سے کرسی دیوار میں دے ماری۔ کمرے میں آواز گونج گئی۔ دیواریں ہل گئی۔ لایان نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔ ہلکی سی چیخ لبوں سے نکلی۔
" چلاو مت۔۔۔ کیوں کہ یہاں تمہاری آواز سننے والا میرے سوا کوئی نہیں، اور میں کتنا درندہ ہوں تم جان جاو گی۔"
وہ غرایا۔
" مار دو۔۔۔توڑ دو سب۔۔۔ لیکن یاد رکھنا، تمہیں جس دن سچ معلوم ہوگا اس دن تم افسوس بھی نہیں کر سکو گے۔"
وہ رو دی۔ زاویان پاگل ہونے کے قریب تھا۔
" میں پاگل نہیں ہوں لایان ہاشمی۔ مجھے سب سمجھ آتا ہے۔ وہ اذان ٹھیک کہہ رہا ہے، تم ان لوگوں سے ملی ہوئی ہو۔ تم نے ان کے کہنے پر میرے بھائی کو جال میں پھنسایا۔"
وہ دھاڑا۔ لایان کا چہرہ گرم ہوا۔ وہ کچھ بول نہیں سکی۔
" تم سوچ رہی ہو میں تمہیں یہاں سڑنے دوں گا؟ نہیں ۔۔۔۔تم یہاں روز جیو گی، روز مرو گی۔"
زاویان نے اس کی ٹھوڑی انگلیوں میں پکڑ لی۔
" اگر رایان کو کچھ ہوا، تو میں تمہیں زندہ جلا دوں گا اور مرنے بھی نہیں دوں گا۔ سمجھی تم۔"
لایان کے آنسو بہے۔
" مار دو۔"
بیسمنٹ میں خاموشی چھا گئی۔
زاویان کا چہرہ بدلا۔ اندر کچھ ہلا۔ غصہ؟ تکلیف یا کچھ اور؟ جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ اس نے جھٹکے سے اس کو چھوڑا پھر سیدھا ہوا۔
" زندہ رہو تاکہ جب رایان ملے تو تم اپنے زندہ ہونے پر ماتم کر سکو۔"
وہ زہریلی ہنسی ہنسا۔
" مار دو مجھے۔۔۔مار کیوں نہیں دیتے۔ میں سچ بول رہی ہوں میں کچھ نہیں جانتی۔۔"
وہ سسکی۔ زاویان بھاری سانسوں کے بیچ پھنسا دیکھے گیا۔
" اگر یقین نہیں ہے تو مار دو نہ۔۔۔میں مرنے سے نہیں ڈرتی لیکن تمہارے الزام مجھے زندہ جلا رہے ہیں۔مت کرو یہ۔۔۔اگر مجھے مار کر تمہیں سکون ملے گا تو سن لو۔۔۔سکون تمہاری قسمت میں کبھی ہوگا ہی نہیں۔"
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولتی گئی۔
" تم مرنے لائق نہیں، تم صرف جلنے لائق ہو۔ دن رات۔ اندر سے، باہر سے۔"
اس نے دہشت بھری نظر اس کے چہرے پر ڈالی، تیزی سے مڑا اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔
پیچھے بیسمنٹ کے اندھیرے میں صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔
لایان کے رونے کی، اس کے سسکنے کی۔
جاری ہے
Wow just wow i am hooked 🤩
ReplyDeleteBhot mza ay prh kr🥰
ReplyDelete