Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq- Munaza Niaz - Episode 2 - Dark Romance - intense love story
زہرِ عشق
قسط 2
از منزہ نیاز
کالج سے باہر نکلتے ہی ایک ٹھنڈے ہوا کے جھونکے نے ان دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ روحا نے آگے بڑھتے ہوئے دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلا دیے۔
" لالی دیکھ! موسم کتنا خوبصورت بن گیا ہے مجھے لگتا ہے بارش ہوگی۔ اللہ قسم اگر آج میں چھٹی کر لیتی تو یہ دن کبھی تیرے ساتھ نصیب نہیں ہوتا۔ ارے واہ بارش شروع بھی ہو گئی۔"
روحا خوشی سے چلائی اور گول گول گھومنے لگی۔
*" پاگل لڑکی بس کر۔ اگر بھیگ کر بیمار پڑ گئی تو اماں کی مار سب سے پہلے پڑے گی۔"*
لایان نے بھیگی پلکیں جھپکاتے ہوئے اسے گھورا۔
*" مار کھانے کے لیے سب سے پہلے گھر جا کر اماں کے در پر بیمار ہو کر حاضری دینی پڑے گی۔ فلحال تو میں بارش انجوائے کرنا چاہتی ہوں۔ پوری فلمی ہیروئن بن کر۔"*
اس نے لاپرواہی سے گردن جھٹکی۔ بیگ سے چاکلیٹ نکالی، لایان کو پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچا اور سڑک پر چلنے لگی۔
بارش دھیرے دھیرے تیز ہونے لگی تھی۔ روحا کو محسوس ہوا کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔
" ارے واہ ناول!"
لایان خوشی سے اچھلی۔
" آئیں! کدھر؟"
روحا نے چونک کر پوچھا۔
" کھانے کے علاوہ کچھ اور دکھتا بھی ہے یا نہیں۔"
لایان کھینچ کر اسے سٹال پر لے گئی۔
" روحا۔"
روحا چونک کر پلٹی۔ اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کو بلایا ہو۔ سامنے ایک شخص کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اسے عجیب لگا مگر پھر وہ پلٹ گئی۔
دونوں نے ایک ایک ناول خرید کر بیگ میں ڈال لیے تھے۔
" تجھے کیا ہوا؟"
لایان نے اسے چپ دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔
" پیچھے دیکھ۔ وہ بندہ ہمیں کیسے دیکھ رہا ہے۔"
روحا نے چلتے ہوئے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ لایان نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا، پھر مسکراہٹ دبا کر روحا کو۔
" ہمیں نہیں صرف تجھے۔"
اس نے دانت نکالے۔
" اللہ کی قسم، شکل سے تو بڑا شریف لگ رہا تھا۔ مگر گھور گھور کر ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اغوا کرنے آیا ہوں۔"
ناک سکیڑتے روحا نے آہستہ سے کہا۔
" تجھے اغوا کرے گا؟"
لایان ہنسی۔
" بیچارہ خود تیرے انداز سے ہی ڈر کر بھاگ جائے گا۔"
اس نے اسے کہنی ماری۔
" بس کر پاگل، میں تو بس اتنا کہہ رہی ہوں شکل سے تو کافی ہینڈسم اور شریف دکھ رہا تھا۔ بس مجھے اس کے دیکھنے کا انداز پسند نہیں آیا۔"
روحا نے کندھے اچکا کر کہا۔
" اوہ اچھا باقی سب پسند آگیا؟ ہینڈسم بھی ہے۔۔۔۔ شریف بھی ہے۔۔۔۔ ایک کام کر نمبر دے کر فارغ کر، اتنا تجزیہ تو کر ہی چکی ہے۔"
دونوں تیز تیز چلتی سڑک پار کر گئیں ۔
" شکل سے تو اچھا ہی تھا مگر مجھے شک ہے کہیں چھپا ہوا لفنگا ہی نہ ہو۔"
" تجھے ہر ہینڈسم بندے میں لفنگا ہی دکھتا ہے؟ وہ جو دو منٹ پہلے شرافت کی پوری تقریر کی وہ کیا تھا؟"
لایان نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
" تو پھر کیا کرو وہ لگ ہی اتنا اچھا رہا تھا، مجھے اپنی نظر ہی بری لگ رہی تھی، اور پھر اس کا دیکھنے کا انداز۔۔۔ اف!"
لایان نے حیرت سے اس کو دیکھا، جو پل بھر کو وہیں رک گئی تھی۔
اس کی نظروں کے سامنے یحیی کا سراپا گھوم گیا۔
*بارش کی نمی میں اس کے سیاہ بال ماتھے پر چپک رہے تھے۔ بھیگی پلکیں، گندمی رنگت اور اس کی وہ گہری آنکھیں جس میں عجیب سی کشش چھپی ہوئی تھی، جو نظر ہٹانے نہ دے۔ کھڑی ناک، صاف ستھرا تراشہ ہوا چہرہ اور خوبصورت ہونٹ، جو اس وقت نرمی سے بند تھے۔*
ایسے لگ رہا تھا جیسے ہر نقش سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔
*اس کے دیکھنے کا انداز اتنا ٹھہرا ہوا اور گہرا تھا کہ روحا کو ایک پل کے لیے کسی کا ہوش نہ رہا۔*
لایان نے کھینچ کر اسے کندھے پر مارا۔
" ہوش میں آ جا منحوس، وہ کوئی اتنا بھی پرنس چارم نہیں تھا۔"
اس نے جل کر کہا۔
" تو نے مجھے کیوں مارا۔"
روحا نے غصے سے اسے گھورا۔ جیسے کچا کھا جائے گے۔ لایان نے دانت نکالے۔
" میری مرضی۔۔۔"
اور بھاگ کھڑی ہوئی۔
" بھاڑ میں جائے وہ جو بھی تھا، اور لایان کی بچی رک جا تجھے تو میں بتاتی ہوں۔"
وہ اس کے پیچھے لپکی۔
دونوں سڑک پر آگے پیچھے بھاگتیں، بارش میں بھیگتیں، ہنستی کھلکھلاتی جا رہی تھیں۔
لوگ انہیں مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ کوئی انہیں مسکرا کر دیکھتا تو کسی کے ماتھے پر بل پڑ جاتے، مگر ان دونوں کو لوگوں کی پرواہ نہیں تھی۔
*یہ ان دونوں کی زندگی تھی اور زندگی کو خوبصورت بنانا ان کو آتا تھا۔*
☆☆☆
اسلام آباد کی ٹھنڈی میٹھی فضا میں اب ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ گلیاں اور سڑکیں مکمل گیلی ہو چکی تھیں، اور بازار کی رونق عروج پر تھی۔
*" چل ادھر چل فٹافٹ۔ میرا بھٹے کھانے کا دل کر رہا ہے۔"*
روحا نے اسے کھینچتے ہوئے کہا۔
*" تمہارا دل کب کچھ کھانے کو نہیں کرتا۔"*
لایان نے ٹھنڈی سانس بھری۔ دونوں نے ایک ایک بھٹا لیا اور مسکراتے ہوئے بازار میں داخل ہو گئیں۔
دونوں ہنستی مسکراتی، گھومتی پھرتی ہر اسٹال پر رک کر چیزیں دیکھتی، کبھی چوڑیاں، کبھی جھمکے، کبھی پرس، کبھی کھلونے۔
*ایک چھوٹے سے اسٹال سے دونوں نے ایک ایک گجرے لے کر ایک دوسرے کو پہنا دیے۔*
" دیکھ، بارش کے موسم میں گجرے پہنو تو پورا سین ہی فلمی لگتا ہے۔"
روحا نے خوش ہو کر کہا۔
" تو پوری فلم ہی ہے۔"
کچھ دیر بعد دونوں آئس کریم لے کر سڑک کے کنارے بیٹھ گئیں۔
" تجھے پتہ ہے بارش میں آئس کریم کھانا کتنا نقصان دہ ہے۔"
لایان نے آئس کریم کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
" زندگی میں ہر مزہ نقصان دہ ہی ہوتا ہے، کھا۔"
روحا نے ہنس کر کہا اور آئس کریم کا خالی کپ ڈسٹ بن میں اچھال دیا۔
" یہ تو ہے۔"
لایان نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
" ابے یار جلدی کر، آج تو میری خیر نہیں۔ بھیا گھر آنے والے ہوں گے، انہیں اگر معلوم ہو گیا میں ابھی تک باہر ہوں تو میری کالج سے چھٹی کروا دیں گے۔"
روحا جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔ جبکہ لایان پل بھر کو چپ سی رہ گئی۔
جیسے ہی وہ مڑی ایک بائیک ان کے قریب آ رکی۔ لایان تیزی سے کھڑی ہوئی۔ جبکہ روحا نے شاکڈ ہو کر اسے دیکھا۔
" بب۔۔۔۔بھیا۔"
اس کے لبوں سے بمشکل نکلا۔
حسن نے سنجیدگی اور سرد نظروں سے ان دونوں کو دیکھا۔ اس کے گھنگریالے بالوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی۔ چہرہ کسی بھی جذبات سے خالی تھا یوں جیسے موسم، شور اور باقی سب اس کے لیے بے معنی ہو۔
" چلو۔"
اس کا بس اتنا ہی کہنا کافی تھا کہ روحا تیزی سے بیگ اٹھاتی بائیک پر جا بیٹھی۔ جب کہ لایان ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے کوئی جرم کر لیا ہو۔
حسن نے ایک نظر اس کو دیکھا۔ وہ اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ اس نے کئی بار لایان کو اپنے گھر میں گھومتے پھرتے بھی دیکھا تھا۔ اکثر وہ روحا کو بھی اس کے گھر لینے اور چھوڑنے جاتا تھا۔
حسن نے ایک تیز اور سرد نظر اس پر ڈالی اور بائیک آگے بڑھا دی۔
بارش کب کی رک چکی تھی۔ چند ثانیے لایان یوں ہی خاموش کھڑی زمین کو گھورتی رہی۔ قدم جیسے زمین پر جم گئے تھے، پھر اچانک ہی آسمان پر بادل گرجے۔ ہوا بالکل رک گئی تھی اور پھر بارش شروع ہو گئی۔
اس نے گہری سانس بھری۔ بیگ کندھے پر ڈالا اور آگے کی طرف چلنے لگی۔ اس کا چہرہ بارش کے قطروں سے دوبارہ بھیگنے لگا تھا۔ بارش اچانک ہی تیز ہو گئی تھی۔ وہ جلدی جلدی قدم اٹھانے لگی۔ اچانک سامنے سے کچھ بائکس کی تیز آواز آئی اس نے چونک کر چہرہ اٹھایا۔
شور، اونچے قہقہے۔۔۔۔ رایان زرقاد اپنے امیر بگڑے دوستوں کے ساتھ بائیک تقریبا اڑاتا آ رہا تھا۔
ایک نظر ان کو دیکھنے کے بعد وہ پھر سے چلنے لگی۔ رایان نے بائیک اس کے قریب جا کر روکی۔ وہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے باقی دوست ذرا دور کھڑے ہو گئے تھے۔ ان سب کے چہروں پر شرارت تھی۔ رایان نے بائیک سے اتر کر سر کو جھٹکا۔ گیلی لٹیں پیشانی سے ہٹائیں، نظریں پوری بے باکی سے لایان پر ٹکی تھیں۔
" گھر جا رہی ہو۔؟ اتنی جلدی۔؟ ارے بارش میں تو لوگ خوبصورتی اور نخرے دکھانے نکلتے ہیں۔ تم تو سب کچھ چھوڑ کر جا رہی ہو۔"
وہ اس کے پاس آتے ہوئے بولا۔ آنکھوں اور لہجے، دونوں میں شرارت تھی۔
لایان کا چہرہ سرخ ہوا۔ وہ کچھ پل خاموشی سے اسے گھورتی رہی پھر آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا۔ رایان حیران رہ گیا۔
" تمہاری حرکتیں کسی دن سستی پڑ جائیں گی رایان زرقاد۔"
لایان نے سخت لہجے میں کہا۔ رایان کے لبوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ ابھر گئی۔
*" اتنا غصہ؟ بس ایک بات پر؟ یا دل میں کہیں اور بھی کچھ چھپا رکھا ہے۔؟"*
وہ اس سے کافی لمبا تھا۔ وہ اس کو سر اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی بات پر اس نے اس کا گریبان چھوڑا اور کھینچ کر تھپڑ مارا۔ رایان کا چہرہ لمحے بھر کو ایک طرف ہو گیا۔ اس کے دوستوں کی ہنسی کو بریک لگی۔ بارش مزید تیز ہو گئی۔
" زبان سنبھالو اور اپنی حد میں رہو۔ اگلی بار برداشت نہیں کروں گی۔"
سختی سے کہتی وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔ ساتھ میں اس کے دوستوں پر ایک قہر بھری نظر ڈالنا نہیں بھولی تھی۔
رایان چند لمحے اسی طرح کھڑا رہا، پھر چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ جو دور ہوتی جا رہی تھی، پھر یکا یک ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے کوئی مشکل کھلونا ہاتھ لگ گیا ہو۔
" واہ، اب تو مزہ آئے گا۔"
اس نے دھیرے سے خود سے کہا اور دوستوں کے ساتھ بائیک دوبارہ بھگا لے گیا۔ پوری رفتار سے۔
☆☆☆
آسمان پر ننھے ننھے بادلوں کی ٹکڑیاں تیر رہیں تھیں۔ بارش تھم چکی تھی مگر سڑکیں ابھی بھی گیلی تھیں۔ فضا میں ہلکی سی سردی بھی پھیل گئی تھی۔ رات کافی گہری تھی۔
زاویان کی گاڑی جیسے ہی مین روڈ سے کٹی اس نے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
" کام ہو جائے گا؟"
اس نے پوچھا۔ دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ایک مدھر اور بھاری آواز گونجی۔
" ہاں! میں ہوں زاویان۔۔۔۔خود کر کے دوں گا۔ فکر مت کرو۔ بس انتظار کرو۔"
اور کال کٹ گئی۔
چند گھٹنوں بعد شہر سے دور ایک سنسان سنعتی ایریا میں ایک ویران گودام کے اندر دھندلی روشنی میں کوئی کھڑا تھا۔
*سیاہ لباس، سیاہ چمکدار جوتے اور چہرے پر قاتلانہ خاموشی، جو کسی کو بھی ہلا کر رکھ دے۔ اس کے سامنے زمین پر ایک شخص بندھا ہوا پڑا تھا۔*
*اذان کے آدمیوں میں سے ایک، جسے دانش چن کر لایا تھا۔*
دانش نے اس کو دیکھتے سگریٹ نکالی، جلائی۔ دھوئیں کے ہلکے فضا میں بکھرنے لگے۔
" تم جیسے چھوٹے لوگ کھیل خراب کرتے ہیں۔۔۔ افسوس!"
اس آدمی نے بولنے کی کوشش کی مگر دانش نے جھک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ دباؤ اتنا زیادہ اور سخت تھا کہ آدمی کی سانس بند ہونے لگی۔
*" آرام سے! بولنا تو سب سیکھ لیتے ہیں، ڈر کے بغیر بولنا میں سکھاؤں گا۔"*
اس کے ہونٹوں پر سرد سی مسکراہٹ تھی۔ وہ آدمی ہانپنے لگا۔ اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ گیا تھا۔
*" بتاؤ اب کس کے آدمی ہو یا پھر میں تمہیں سکھاؤں کہ بولا کیسے جاتا ہے۔"*
دانش نے سگریٹ کی راکھ زمین پر جھاڑی۔
*وہ جانتا تو سب کچھ تھا مگر اس طرح کے کھیل اسے مزہ دیتے تھے۔*
اس آدمی نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ زبان پر تالا۔ دانش نے پرسکون انداز میں چاقو نکالا اس کا ہاتھ پکڑ کر زمین پر رکھا اور چاقو اس کی انگلی پر رکھ دیا۔ چاقو کی ٹھنڈک محسوس ہوتے ہی اس آدمی کا رنگ اڑ گیا۔
*" تم لوگ سمجھتے ہو تم چھوٹے ہو تمہیں دیکھا نہیں جائے گا۔۔۔ افسوس، میں ہر اس چیز پر نظر رکھتا ہوں جو زاویان زرقاد کے ارد گرد سانس لیتی ہے۔"*
ہلکی سی خراش سے ہی اس آدمی کی ہوا نکل گئی۔ چند لمحوں میں ہی زبان کھل گئی۔
" اذان شاہ ویر کے آدمی ہیں ہم۔"
دانش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے چاقو ہٹایا اور سگریٹ کا آخری کش لگایا۔
" مگر تمہیں کیسے پتہ؟ تم لوگ اتنے قریب۔۔۔؟"
وہ آدمی ہکلایا۔
" قریب؟ ہم تمہارے بستر میں سانس لیتے ہیں۔ اب جا کر باقیوں کو بتا دو کہ۔۔۔ یا رک جا۔۔۔۔تجھے تو ابھی جانا بھی نہیں ہے۔"
چند لمحوں بعد گودام کی فضا اس آدمی کی چیخوں سے گونج اٹھی۔
☆☆☆
*" میں چاہتی ہوں کہ کوئی مجھے رلائے۔ تاکہ کسی بہانے میرا دل ہلکا ہو جائے۔"*
ہلکی ٹھنڈی میٹھی ہوا درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ شام ڈھلنے کے قریب تھی۔ آسمان صاف اور سورج غروب ہو رہا تھا۔
یونیورسٹی کے سب سے پچھلے کارنر میں مشال فاروقی لائبریری کے پیچھے ایک بینچ پر بیٹھی تھی۔ آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا، بس ایک اور لڑکی اس کے پہلو میں بیٹھی سیدھ میں دیکھ رہی تھی۔ مشال کی بات پر اس نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
" تو پھر رو لو نا۔ میں تو تمہارے ساتھ ہی ہوں۔ میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ ہمیشہ موجود ہوں گی۔۔۔ تمہیں سننے کے لیے۔"
مشال کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ بھکر گئی۔ اس نے ساتھ بیٹھی لڑکی کو سنا ضرور مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
سامنے ایک پرانی اینٹوں کی دیوار تھی۔ جس کے اس پر ایک پرانا باغیچہ تھا۔ جہاں چڑیا کی چہچہاہٹ تھی۔ کوئل کوئی گیت گا رہی تھی۔
ایک اداس گیت۔۔۔۔جیسے اسے مشال کے دل کی حالت معلوم ہو۔ وہاں نہ کسی لیکچر کا شور تھا اور نہ اسٹوڈنٹس کا ہجوم۔ وہاں صرف وہ تھی اور سناٹا۔
شام کے سائے دھیرے دھیرے لمبے ہو رہے تھے۔ اس کی نظریں سامنے مگر دل کہیں اور تھا۔
" مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میرا دل بھر گیا ہے یا پھر خالی ہو گیا ہے۔"
" کبھی کبھی دونوں ہوتے ہیں، بھر بھی جاتا ہے اور خود کو خالی بھی کر دیتا ہے۔"
اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی نے پھر سے کہا۔
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا۔ درخت کے سوکھے پتے ٹہنیوں سے ٹوٹ کر چاروں طرف بکھر گئے۔ ایک پتہ مشال کے قدموں میں آ گرا۔ اس نے وہ پتہ اپنی انگلیوں سے اٹھایا۔
" یہاں سب کے لیے مظبوط رہنا پڑتا ہے پر خود کے لیے۔۔۔؟ خود کے لیے کون رکتا ہے۔؟"
اس نے وہ پتہ ہوا میں چھوڑ دیا۔
" میں رکتی ہوں نہ مشال! تم بس کہو تو سہی۔"
مشال نے دھیرے سے سر جھکا لیا۔
" یہاں کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ کون کتنا مسکرا کر کتنا درد چھپاتا ہے۔"
کچھ خاموش لمحے گزرے شام اور گہری ہوئی۔
" پر میں تمہیں دیکھ رہی ہوں۔ میں سب جانتی ہوں اور میں تمہیں بنا کسی ماسک کے بھی سمجھ رہی ہوں۔"
مشال نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک گہری سانس بھری اور اٹھ گئی۔
☆☆☆
کمرے کا دروازہ زور سے پٹخا گیا۔ وہ زمین پر گری پڑی تھی۔ اس کے گال پر تازہ نیل کا نشان تھا۔
*مگر جو دل کے زخم تھے وہ بہت پرانے تھے۔*
" تم میں آخر ایسا ہے کیا! ہاں؟ آخر غرور کس بات کا ہے تمہیں؟ کاغذ پر محض نام لکھوا دینے سے کوئی کسی چیز کا مالک نہیں بن جاتا سمجھی۔"
اس کا باپ اس کے سر پر کھڑا چیخ رہا تھا۔
" میں چاہوں تو ابھی تمہیں اس گھر سے نکال دوں۔"
اس نے چہرہ اٹھا کر عجیب نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا جو بول رہا تھا۔
" تم کچھ بھی نہیں ہو۔ صرف ایک کھلونا ایک ذریعہ ہو اور کچھ بھی نہیں۔ تمہاری حیثیت ایک مکھی جتنی ہے۔ میں چاہوں تو ابھی تمہیں مسل کر رکھ دوں۔"
ایشل دھیرے سے کھڑی ہوئی۔ بولی کچھ بھی نہیں۔ اس نے کپڑے کے کونے کو زور سے مٹھی میں دبا رکھا تھا اور لب سختی سے بند تھے۔
" اگر تم اتنا بڑا بزنس سنبھال رہی ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم ہر چیز کی مالک ہو۔"
وہ دوبارہ چلائے۔
ایشل خاموشی سے انہیں گھورتی رہی۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
" ایسے کیا دیکھ رہی ہو ہاں؟ میں نے کہا نظریں نیچی کرو۔"
*اس کی آنکھوں میں سفاکیت تھی یا کچھ اور؟ وہ یک دم ہی ڈرے تھے۔ مگر ظاہر نہیں کیا۔*
" میں نے کہا مجھے اس طرح دیکھنا بند کرو۔"
ان کا دوبارہ ہاتھ اٹھا اور وہ صوفے پر گر گئی۔ وہ اسے گالیاں دیتے بکتے جھکتے باہر چلے گئے۔ دروازہ زور سے بند کر دیا گیا۔
ایشل نے زور سے کشن کو مٹھی میں دبوچ لیا۔ گال پر پڑنے والے تھپڑ کی آواز ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ان کے جاتے ہی کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔
دیوار پر ٹنگی گھڑی ٹک ٹک کرتی رہی۔ کھڑکی کے پردے ہوا کے جھونکے سے ہلے۔ وہ چہرہ جھکائے بیٹھی تھی، نہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہے نہ ہی وہ چیخی چلائی، بس خاموشی سے گہرے گہرے سانس لیتی رہی۔ کچھ لمحوں بعد وہ اٹھی۔ وارڈروب سے ایک سوٹ نکالا اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔
اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔ گال پر نیلا اور سرخ نشان، ہونٹ کے کنارے پر ہلکا سا کٹ، مگر اس کی آنکھیں؟ وہ کسی اور ہی جہان میں پہنچی ہوئی تھیں۔
اس نے پہلے کنسیلر سے سارے نشان چھپائے۔ ہونٹوں کو لپ اسٹک سے گہرا کیا۔ اس نے ایک شاندار سا سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ مہنگے اور گہرے پرفیوم کی خوشبو، جس نے اسے چاروں طرف سے لپیٹ رکھا تھا۔ کھلے بال اس نے ایک طرف ڈالے پھر مسکرائی۔
*ایک خاموش مگر قاتل مسکراہٹ۔*
اس نے کلچ اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment