Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 12 - by Munaza Niaz - Urdu Novel - Force marriage - revenge base

 


زہرِ عشق

قسط 12

از منزہ نیاز 


" جلدی سے چینج کرو بارات آنے والی ہے۔"  

ردا نے عروسی لباس بیڈ پر رکھا۔ مشال نے اسے دیکھا، عجیب سی نظروں سے۔ 


ردا مکمل تیار اس کے سر پر کھڑی تھی۔ گھر میں مہمان آنا شروع ہو چکے تھے۔


" لے جاؤ اسے، میں نہیں کر رہی۔"  

مشال نے نفرت سے کہا۔


"امی۔۔!"  

ردا اتنی زور سے چلائی کہ مشال کے آنسو تھم گئے۔ دل تیزی سے دھک دھک کرنے لگا۔


"امی۔۔!!!"  

وہ دوبارہ چیخی۔ آمنہ ہانپتی کانپتی کمرے میں داخل ہوئیں۔


" کیا ہو گیا ہے؟ کیوں چیخ رہی ہے۔"  

انہوں نے ہول کر پوچھا۔ مشال کا سانس اٹک گیا۔


" کہتی ہے لے جاو اسے، شادی نہیں کرنی۔"  

ردا نے آرام سے کہا۔ آمنہ کسی چیل کی طرح اس پر چھپٹی تھیں۔


"کیا بکواس کی تو نے؟ دوبارہ بول۔"  

بالوں سے پکڑ کر اسے کھینچا۔


"امی چھوڑیں۔۔۔درد ہو رہا ہے۔"  

وہ رو دی۔


" ابھی اٹھ، چپ چاپ تیار ہو جا ورنہ سب کے سامنے تماشہ بن جائے گا۔" 

انہوں نے جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے۔ مشال نے سہمی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔


" امی۔۔۔ میں۔۔" 

" جلدی سے تیار کرو اسے۔ اگر اب بھی نخرے دکھائے تو مجھے بلانا پھر میں خود اس کو دیکھ لوں گی۔"  

اس کے بولنے سے پہلے آمنہ نے ردا کو کہا اور باہر نکل گئیں۔


ردا نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ وہ بنا کچھ کہے کسی روبوٹ کی طرح اٹھ گئی۔ کپڑے اسے پکڑا کر باتھ روم میں بھیج دیا۔


تھوڑی دیر بعد تبدیل کر کے وہ سفید چہرہ لیے باہر نکلی تھی۔ تب تک ردا بیوٹیشن کو کمرے میں لے آئی تھی۔ 


" میری پیاری سی بہن کو اتنا خوبصورت تیار کرنا کہ حارث بھائی دیکھیں تو ہوش گنوا دیں۔"  

ردا نے مشال کو دیکھتے ہوئے بیوٹیشن کو شرارت سے کہا۔ 


"آپ بے فکر ہو جائیں۔"  

بیوٹیشن مسکرائی۔ اس نے اپنا سامان نکالنا شروع کر دیا۔


مشال کے آنسو خاموشی سے گالوں پر پھسلتے گئے۔ بیوٹیشن نے دیکھا تو ٹھٹک گئی۔ ردا نے جلدی سے اس کا چہرہ صاف کیا۔


" بس! ہم سے دور جا رہی ہے تو اس وجہ سے تھوڑی اپ سیٹ ہے۔" 

بیوٹیشن نے "اوو" والے ری ایکشن سے سر ہلایا اور اپنا کام شروع کر دیا۔


"بارات آ چکی ہے۔" 

تقریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد ایک مہمان لڑکی کمرے میں ان کو اطلاع دینے آئی۔ مشال کب کی تیار ہو چکی تھی۔ بیوٹیشن تھوڑی دیر پہلے ہی گئی تھی۔ ردا تیزی سے بیڈ سے اتری اور مشال کو دوبارہ چیک کیا۔  سب سیٹ تھا۔ 


جب مشال تیار ہوئی تھی تو بیوٹیشن اور ردا دونوں ہی سکتے میں رہ گئی تھیں۔


" آپ کے بہن تو بہت خوبصورت ہے۔ اللہ ان کے نصیب اچھے کرے۔" 

بیوٹیشن نے تعریف کے ساتھ دعا بھی دے ڈالی تھی۔


"آمین۔" 

ردا بے اختیار بولی تھی۔


مشال نے ان کی باتیں سنیں مگر خود کو آئینے میں دیکھ نہیں سکی۔ اس کا دل دھوئیں سے بھرتا جا رہا تھا۔ اس نے کوشش کی کہ نہ روئے مگر اس کے آنسو پھر سے بہہ نکلے۔


"مشال پاگل ہو گئی ہو۔ سارا میک اپ خراب ہو جائے گا۔" 

ردا نے ڈانٹا۔


" ارے کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتی ہوں، آپ بے فکر ہو جائیں، میک اپ واٹر پروف ہے۔" 

بیوٹیشن نے کہا تھا۔


" ردا! بہن کو لے کر جلدی آؤ۔" 

آمنہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ پھر مشال کو دیکھ کر ٹھٹکیں۔


" میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔"  

انہوں نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوما پھر خود ہی اسے لیے باہر چلی آئیں۔ 


نکاح کا انتظام باہر لان میں کیا گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حارث اس کے سامنے آ بیٹھا۔ اس نے نظر نہیں اٹھائی تھی۔ بس زور سے مٹھیاں بھینچے بیٹھی رہی۔


جب قاضی نے اس کی مرضی پوچھی تو اس کی زبان تالوں سے چپک گئی۔ اس نے دھیرے سے نظریں اٹھائیں۔ سامنے ذرا فاصلے پر مہمانوں کے بیچ وہ کھڑی تھی اور وہ اسے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔  


مشال کا آنسو پھسلا۔ وہ لڑکی پریشان ہو گئی۔


" مشال منع کر دو۔ تم خوش نہیں ہو۔ اپنے لیے، رک جاؤ، نہ بول دو۔" 

وہ بول رہی تھی۔ 


مشال نے نظر گھما کر اپنی ماں کو دیکھا پھر باپ کو اور پھر اس لڑکی کو۔


" ہاں قبول ہے۔"  

وہ لڑکی ساکت نگاہوں سے اسے دیکھے گئی۔ مشال نے نظریں چرا لیں۔ 


نکاح ہو چکا تھا۔ اس نے کسی روبوٹ کی طرح پیپرز پر سائن کیے تھے۔ اسے کہاں لے جایا گیا، اس کے پاس کون بیٹھا، کون اٹھ کر گیا، کس نے دعائیں دیں، کس نے اس کی تعریف کی؟


وہ نہیں جانتی تھی اور پھر اسے رخصت کر دیا گیا۔ کسی نے اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ کون پیچھے بیٹھا؟ گاڑی کون چلا رہا تھا؟ اس نے نہیں دیکھا۔ 


بس چہرہ جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔ سفر کتنا لمبا تھا اسے معلوم نہیں ہوا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ وہ چونک گئی۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ اس نے بے اختیار ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا۔ وہ حارث تھا، جو اسٹیئرنگ پر بازو ٹکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ 


مشال نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔ سیٹیں خالی تھیں۔ اسے جھٹکا لگا۔ باقی سب کہاں تھے اور یہ خالہ کا تو گھر نہیں تھا۔ نہ ہی اسے معلوم تھا کہ وہ کس جگہ پر ہے۔


" سناؤ جان! کیسی ہو؟ بڑی گہری سوچو میں گم تھی تم۔"  


مشال کا گلا خشک ہوا۔

" تت۔۔۔تم مجھے کہاں لے کر آ گئے ہو؟  باقی سب کہاں ہیں؟" 

حارث نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا پھر تیزی سے باہر نکل کر اس کی طرف آیا۔ دروازہ کھول کر کھینچ کر اسے باہر نکالا۔


وہ چلا اٹھی۔

" تم پاگل تو نہیں ہو گئے۔ بازو چھوڑو میرا۔" 

حارث نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اسے دبوچے ایک بلڈنگ کی طرف بڑھا۔ آس پاس اسی کی طرح کی بہت سی عمارتیں تھیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ 

اسے پکڑے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔


" پلیز حارث۔۔۔ رک جاؤ۔۔۔ مت کرو۔" 

وہ رونے لگی۔


حارث نے ایک اپارٹمنٹ کا لاک کھولا اور اسے اندر لے گیا مگر چھوڑا نہیں۔ دروازہ بند کر کے اس نے لاک لگا دیا تھا اور پھر اسے گھسیٹ کر صوفے پر اچھال دیا۔ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔


حارث نے اپنی شیروانی اتار کر دور پھینک دی۔ آنکھوں میں وحشت لیے اس کے پاس آیا۔ مشال کی آنکھیں  خوف سے پھیل گئیں۔


"نہیں۔۔۔" 

وہ بھاگنے لگی مگر حارث نے اسے گردن سے پکڑ کر صوفے پر گرایا اور خود اس پر جھک گیا۔


" ہاں! کیا ہوا؟  ڈر لگ رہا ہے؟" 

وہ اس کے کان میں سرسرایا۔ 


مشال کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔اس کا سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ 


"چھوڑ دوں؟ دور ہو جاؤں؟ جانے دوں؟"  

اس کی حالت پر وہ مزہ لیتے ہوئے بولا۔ مشال نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر مارا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔  حارث نے فورا گرفت اس کی گردن پر ڈھیلی کی۔


"او سوری جان! میں ذرا غصہ میں ہوں۔ کیا تم ٹھیک ہو؟"  


مشال نے روتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینا شروع کر دیے۔ اس کی گردن سرخ ہو چکی تھی۔ حارث نے افسوس سے اس کو دیکھا۔


" اگر تم میری ہر بات مان لیتی تو آج کی یہ رات ہمارے لیے بڑی حسین ہوتی۔ مگر افسوس! تم نے یہ نوبت ہی نہیں آنے دی میری جان۔" 

وہ تھوڑا اور جھکا۔ مشال نے سانس روک لی۔


" دیکھو اب، تمہیں چھونے کے لیے عزت کی مہر لگوانی پڑی مجھے، مگر فرق کچھ بھی نہیں پڑا۔ تم ویسی کی ویسی ہی ہو۔" 

مشال بلکل چپ رہی۔ آنسو نکل کر کنپٹیوں تک پھسل گئے تھے۔ 


" اب بھی ڈر لگتا ہے یا پھر وہ چہرہ یاد آتا ہے جسے محبت سمجھ بیٹھی تھی۔"  

وہ ہنسا۔


مشال کے ہونٹ کانپ گئے مگر آواز نہیں نکلی۔ اس کا گلا ابھی بھی درد کر رہا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے حارث کا ہاتھ تھا۔ حارث نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔


" کچھ کہنا چاہتی ہو؟ نہیں۔!"  

مشال کا دل رکا۔ وہ ابھی تک اس کی پکڑ میں تھی، جہاں سے وہ کب کا نکل جانا چاہتی تھی۔ 


حارث نے دھیرے سے اس کا گال انگوٹھے سے چھوا۔ باقی انگلیاں کان کے پاس سرک گئیں۔


" بھاگتی تھی نا۔۔۔ روتی تھی۔۔۔ ہر بار مجھے روکتی تھی۔ اب کیا کرو گی جان۔" 

مشال کا جسم برف کی طرح ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کی زبان جسے گونگی ہو گئی تھی۔ حارث نے اس کے کندھے پر انگلی سے لکیر کھینچی۔ وہ کانپ گئی


" آج کی رات کے بعد تم مجھے اسی طرح یاد رکھو گی جیسے کوئی زہر۔ جو دھیرے دھیرے اندر اترتا ہے اور پھر کبھی نہیں نکلتا۔" 


وہ اٹھا اور کھینچ کر اسے کمرے کی طرف لے گیا۔

☆☆☆


اس کی جیپ سڑک کو چیرتی آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں لہو رنگ اور دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ 


"سر یہ سی سی ٹی وی، جہاں رایان کو لاسٹ ٹریک کیا گیا تھا۔ رایان یہاں پر ہو سکتا ہے۔" 


اس کا آدمی ٹیب پر اسے لوکیشن دکھا رہا تھا۔ اس کا دماغ تیز تیز چل رہا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے اس نے فرحان گھوری کو ایسی مار ماری تھی کہ وہ کوما میں چلا گیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی وہ زبان کھول چکا تھا۔


اس کا آدمی جس جگہ کی لوکیشن بتا رہا تھا وہ ایک خطرناک علاقہ تھا۔ بارڈر کے پاس۔


تبھی ایک چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا۔ نم آنکھوں والا۔ 


" Why the hell you keep showing up in my head ۔" 

وہ جھنجھلایا۔


" ٹیم ریڈی ہے نا؟" 

" یس سر۔" 

" ٹھیک ہے۔ رایان کے ساتھ کسی اور کو بھی ڈھونڈنا ہے۔ وہ لڑکی جو پارک میں تنہا بیٹھی تھی اور کسی سے باتیں کر رہی تھی، مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔"  

وہ سرگوشی میں بولا۔ رفتار بڑھا دی۔ 


اس کے آدمی نے سر ہلایا اور ایک کال ملا دی۔


دو گھنٹے بعد وہ ایک سنسان علاقے میں پہنچے تھے۔ اس کے ہاتھ میں گن تھی۔اس کے آدمی نے دوبارہ ہر طریقے سے لوکیشن ٹریس کی۔ ہر کلیو یہی کا تھا۔


" اگر رایان یہاں ہے تو میں زندہ نکالوں گا اس بچے کو۔"  

اس نے گن سنبھالی اور آگے بڑھا۔


وہ سب بنا کوئی چاپ پیدا کیے ہر گھر چیک کر رہے تھے۔ جو کہ بالکل سنسان اور خالی تھے۔ دانش نے جب دوسرا دروازہ کھولا۔ سوکھے خون کی باس اس کے چہرے سے ٹکرا گئی۔


" رایان۔۔"

اس نے دھیرے سے پکارا مگر خاموشی۔ 


وہ آگے بڑھا اور پھر پکارا، اور تبھی اس کا سانس رک گیا۔ گن چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ وہ تیزی سے ایک کونے کی طرف بڑھا جہاں رایان تھا۔


پورا جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ شرٹ پھٹی ہوئی تھی۔ سکن جگہ جگہ سے کٹی ہوئی، جیسے کسی نے بے رحمی سے وار کیا ہو۔ بار بار۔۔۔


چہرے کی پہچان مشکل ہو رہی تھی۔ آنکھ کے نیچے سے لے کر گال تک ایک گہرا چاکو کا نشان تھا۔ منہ سے خون نکل کر جم چکا تھا اور دونوں ہاتھ پیٹھ پر بندھے ہوئے تھے۔ انگلیوں کے ناخن بھی ٹوٹے ہوئے تھے جیسے اس نے خود کو بچانے کے لیے زور آزمائی کی ہو۔ 


خون بہتا ہوا دروازے تک پہنچ چکا تھا۔ دانش گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا۔ اس کے کپڑے خون میں بھیگ گئے۔ اس نے دھیرے سے کسی احساس کے تحت رایان کی نبض چیک کی۔ 


رایان کا جسم ٹھنڈا اور بے جان تھا۔ اس کے آدمی تیزی سے اندر داخل ہوئے تھے۔ دانش دھیرے سے کھڑا ہوا۔ 


اس کی آنکھوں کے سامنے صرف دو چہرے گھوم رہے تھے۔


 زاویان زرقاد _ اذان شاہ ویر۔


جاری ہے

Comments

  1. Writer g rehm kijye ga thora best as always

    ReplyDelete
    Replies
    1. Reham krnaa ata tha lkn ab berhm ho gai hu thori c.....💔🔥

      Delete

Post a Comment

Popular Posts