Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 13 - by Munaza Niaz - Urdu Revenge base novel - Dark Romance

 


✍️ نوٹ از مصنفہ


یہ کہانی ایک عام محبت کی کہانی نہیں ہے۔  

اس میں رومانس بھی ہے، شدت بھی ہے، لیکن ساتھ ہی اندھیرا، انتقام اور وہ کرب بھی ہے جو دل کو چیر دیتا ہے۔  


"زہرِ عشق" ان دلوں کے لیے نہیں جو صرف نرم اور خوشگوار انجام چاہتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ایک مختلف اور طاقتور کہانی پڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔  


اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک مضبوط قاری ہیں....  

تو پھر "زہرِ عشق" آپ کا امتحان ہوگا۔

🥀🔥

زہرِ عشق

قسط 13

از منزہ نیاز 


آفس روم میں گہری خاموشی تھی۔ آج یحیی تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا۔


زاویان کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں بے رنگ تھیں۔ چہرہ کسی بھی تاثر سے خالی۔ وہ دور کہیں خلا میں دیکھ رہا تھا۔ اس کا میز پر رکھا موبائل وائبریٹ ہوا۔ وہ مڑا، آہستہ سے اٹھایا اور وہیں جم گیا۔ 


دھیرے دھیرے اس کی سانسیں تیز اور آنکھیں سرخ ہوتی گئیں۔ اگلے ہی پل وہ باہر کی طرف بھاگا۔ آفس سے نکلتے، گاڑی میں بیٹھتے اور اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے وہ حویلی پہنچا تھا۔ 


موبائل ہاتھ میں اور آنکھوں میں جلن تھی۔ بیسمنٹ کا دروازہ کھولتے ہی اس نے جارحانہ اس کی طرف قدم بڑھائے۔ 


ایک جھٹکے سے اس کی گردن پکڑ کر دیوار سے چپکا دیا۔ زنجیریں ہل گئیں۔


" تمہاری وجہ سے۔۔۔"  

وہ پوری قوت سے چلایا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔


"میں کہہ رہا تھا نا۔۔۔ کہا تھا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ دیکھا تم نے۔۔۔ دیکھا تم نے اپنے کام۔"  

وہ کسی درندے کی طرح دھاڑ رہا تھا۔ 


لایان اس کے ہاتھ پر دونوں ہاتھ رکھے جھٹپٹائی۔ زاویان کے گرفت اور سخت ہو گئی۔ اس نے موبائل اس کے چہرے کے سامنے کیا۔


"دیکھو اس کو۔۔۔ دیکھو۔۔۔ اگر رایان کو کچھ ہوا تو میں تمہیں اسی دیوار میں چنوا دوں گا۔"  

وہ چلایا۔


لایان نے رکی ہوئی سانس اور آنکھوں میں پانی لیے موبائل کو دیکھا۔


وہ رایان کی ویڈیو تھی جہاں وہ زخمی حالت میں تڑپ رہا تھا۔ اس کی سانس بند ہونے لگی۔


"چھو۔۔۔ چھوڑ۔۔۔"

زاویان نے جھٹکے سے اس کو چھوڑا۔ 

وہ بری طرح کھانستی نیچے جھک گئی۔ 


"میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، بس ایک بار مجھے رایان مل جائے اور تب۔۔۔"  


" باس! رایان مل گیا۔" 

اس کا آدمی بھاگ کر دروازے پر پہنچا تھا۔ زاویان تیزی سے گھوما۔


"رایان۔۔۔ کہاں ہے وہ؟" 

وہ اس کی طرف بھاگا۔


"باس۔۔۔ وہ باہر۔۔"  

اس آدمی کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ خون خشک ہو گیا۔


لایان پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کو دیکھے گئی۔ زاویان نے تیزی سے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔


پورچ میں دانش کھڑا تھا۔ پیچھے گاڑیاں گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھیں۔ دانش نے گاڑی سے ایک سفید شیٹ باہر نکالی۔ زاویان کے قدموں سے جان نکلنے لگی۔ 


اس کی نظریں اس شیٹ پر جم گئیں تھیں۔ وہ دھیرے سے قریب گیا ایسے جیسے صدیوں کا فاصلہ طے کر آیا ہو۔ 


دانش نے اسے دیکھا پھر شیٹ کھول دی۔


زاویان کی سانسیں رک سی گئیں۔ اس کی نظریں رایان پر جم گئیں تھیں۔


اس کا رایان، اس کا چھوٹا بھائی رایان۔ 


اس کے لب ہلے مگر آواز گلے میں پھنس گئی۔ ہونٹ ہلکے سے کھلے اور سانس رک سی گئی۔ وہ نیچے بیٹھا، اس کا ہاتھ اٹھایا۔ ٹھنڈا بے جان اور سرد ہاتھ۔ 


زاویان کی انگلیاں کانپ گئیں۔ اس نے رایان کا گلا دیکھا۔ ایک گہرا چاکو کا نشان تھا۔ پھر اس کا چہرہ دیکھا۔ ایک گال اندر تک کٹا ہوا تھا۔ 


زاویان نے محسوس بھی نہیں کیا کہ اس کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ رہا ہے۔ اس کی نظر اس ٹوٹے ہوئے بریسلٹ پر گئی جو اس نے رایان کو تحفے میں دیا تھا۔


"یہ۔۔۔۔ یہ کس نے کیا؟" 

وہ مر چکی آواز میں بولا تھا۔ 


"زاویان وہ۔۔۔"  

دانش نے بولنا چاہا تب ہی زاویان کسی چیتے کی طرح اس پر جھپٹا تھا۔


"تم نے۔۔۔ تم نے میرے بھائی کو کیوں نہیں بچایا؟ کیوں اسے اس طرح مرنے دیا۔" 

وہ بری طرح چلایا۔ 


دانش نے نم نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ زاویان نے جھٹکے سے اس کو پیچھے دھکیلا اور دوبارہ رایان کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھا۔ 


اس نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔ کٹے ہوئے گال سے خون بہنے لگا۔ اس کا دل پھٹ گیا، رکنے لگا۔ ہولے ہولے سانس لیتے ہوئے اس کے آنسو تیزی سے نیچے گرتے گئے۔ 


"رایان، میری جان تجھے کس نے ہاتھ لگایا۔" 

اس نے اسے اٹھایا اور زور سے خود میں بھینچ لیا۔


"رایان مجھے معاف کر دے۔ پلیز۔۔۔۔ اپنے  بھائی کو معاف کر دے۔"  

اس کی چیخیں جیسے اندر ہی اندر پھٹ رہی تھیں۔ 


اس کے گارڈز، آدمی، ڈاکٹرز، حاتہ کہ دانش کے بھی آنسو بہہ نکلے تھے۔ 


رایان کو خود میں بھینچے وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ بیسمنٹ تک آواز گئی تھی۔


لایان نے پہلے آواز سنی پھر اس کا دل کانپ گیا۔


"یہ۔۔۔۔ یہ آواز تو۔۔۔ زاویان کی۔۔۔ کیا وہ روتا بھی ہے۔۔" 

وہ سمجھ گئی کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔ کچھ برا۔ جس کا درد زاویان کو چیر رہا تھا۔


" یا اللہ رایان ٹھیک ہو۔۔۔ کہیں رایان کو کچھ۔۔۔" 

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے ہاتھوں کو زور سے آپس میں رگڑا۔


"یا اللہ اسے کچھ نہ ہو۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ یا شاید میری وجہ سے اس کے ساتھ۔۔"  

یک دم ہی وہ پاگلوں کی طرح رونے لگی تھی۔ 


باہر زاویان، رایان کو خود سے لپٹائے کسی بچے کی طرح سسک رہا تھا۔ زخم دل پر نہیں روح میں اتر چکا تھا۔ 


"رایان تو نے مجھے مار دیا۔۔۔ مار دیا تو نے مجھے۔"  

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا اسے خود میں بھینچے جا رہا تھا۔ 


اس کا ایک ہی خونی رشتہ تھا۔ ایک ہی زندگی تھی۔ ایک ہی خوشی تھی۔ اس کا چھوٹا بھائی۔ جس سے وہ خود سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا۔ یا شاید اس نے کبھی خود سے محبت کی ہی نہیں تھی۔ اس کی پوری دنیا صرف رایان تھا۔


کافی دیر بعد اس نے رایان کو دھیرے سے واپس لٹایا اور کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارا ہو رہی تھیں۔


وہ مڑا اور قدم بیسمنٹ کی طرف بڑھا دیے۔ ساتھ ہی اس نے گن نکال لی تھی۔ آنسو تھم چکے تھے۔ اب آنکھوں میں صرف بارود تھی۔


اس نے بیسمنٹ کا دروازہ کھولا اور اس کی طرف بڑھا۔ لایان نے نم آنکھوں  سے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا اور وہیں فریز ہو گئی۔ 


"رایان مر گیا۔" 

زاویان کی آواز بیسمنٹ میں گونج گئی۔ 


"کیا؟" 

لایان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ 


وہ جھکا اور اس کا گلا پکڑ لیا۔ لایان نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ وہ دھیرے سے کھڑی ہوئی۔ زاویان کے چہرے پر کوئی غصہ نہیں تھا۔ بس درد تھا اور اسے صرف سکون چاہیے تھا۔ جو کسی کی موت سے مل سکتا تھا۔


اس نے ہاتھ اس کی گردن سے ہٹایا اور پیچھے ہوا۔ گن اٹھا کر اس نے لایان کے چہرے کی طرف کر دی۔ 


"میں نے کہا تھا نا، اگر اسے کچھ ہوا تو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔"  

اس کی انگلی ٹریگر پر گئی۔ 


لایان نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


"مار دو۔ لیکن جب سچ سامنے آئے گا تو تمہیں جلا دے گا۔" 

نہ اس کا لہجہ کانپا تھا اور نہ ہی وہ زندہ رہنے کے لیے گڑگڑائی تھی۔ 


زاویان کی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا۔ گن کی سیفٹی کھل گئی۔ گرفت مضبوط ہو گئی۔ گولی کی آواز بیسمنٹ کو ہلا گئی۔ 


لایان نے زور سے آنکھیں بند کر لیں، اور جب کھول کر دیکھا تو زاویان نے اس پر نہیں، دیوار پر گولی چلائی تھی۔ 


یا شاید اس نے اس لڑکی کو نہیں بلکہ خود کو مرنے سے بچا لیا تھا۔ 


اس کا ہاتھ کانپا اور گن چھوٹ کر زمین پر گر گئی۔ چہرہ ایک لاش کی طرح ٹھنڈا اور بے جان ہو گیا۔ لایان نے اس کو دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔ 


"تمہاری اس خاموشی نے مجھے پاگل بنا دیا ہے۔ تم بولتی کیوں نہیں ہو، کچھ تو بولو۔" 

لایان نے ابھی بھی کچھ نہیں کہا۔ بس ایک آنسو آنکھ سے چپکے سے باہر نکلا۔ 


زاویان نے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا اور پھر لڑکھڑاتے قدموں سے دھیرے سے پلٹ گیا۔


دو زخم، دو خاموشیاں اور ایک آگ۔

جو سب کچھ راکھ کر دیتی ہے۔


جاری ہے

Comments

  1. 😭😭😭😭😭😭 my hreat 😭😭😭😭💔💔💔💔💔💔 Rayan ko ni mrna chye ta 😭😭😭

    ReplyDelete
  2. Bhot bora hwa 🥲

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts