Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 14 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Dark Romance

 


زہرِ عشق

قسط 14

از منزہ نیاز 


کچھ دنوں بعد:  


حویلی پہلے سے زیادہ ویران ہو چکی تھی۔ موسم ہر روز خراب رہنے لگا تھا۔ بیسمنٹ کا اندھیرا آج بھی ویسا ہی تھا۔ گہرا اور سرد۔ 


وہ کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔ اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ مسلسل ایک جگہ نے اس کی حالت خراب کر دی تھی۔ اسے یاد ہی نہیں تھا کہ آخری مرتبہ اس نے سورج کب دیکھا تھا۔ چہرہ ویران اور آنکھوں کے نیچے ہلکے۔ 


اور پھر دروازہ کھلا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے اس کو دیکھا۔


وہ۔۔۔ زاویان زرقاد تو نہیں تھا۔ اس کا چہرہ تھکا ہوا تھا اور آنکھیں لال۔ 


وہ ڈر کر پیچھے ہوئی۔ اسے لگا پھر کوئی سزا ہو گی۔ وہ پھر سے اس پر چلائے گا۔ 


وہ چلتا ہوا آیا اور دھیرے سے اس کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ دور کھسک گئی۔ اس نے دیکھا وہ سامنے کہیں خلا میں دیکھ رہا تھا۔


"میں اور رایان!"  

اس کی بھاری آواز گونجی۔


"ہم دونوں۔۔۔ بچپن میں۔۔۔ چھوٹی سی۔۔۔ بات پر لڑائی۔۔۔ کرتے تھے۔" 

وہ رک رک کر بولا جیسے یاد کر رہا ہو۔ لایان نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کو دیکھا۔ 


"اسے چاکلیٹ چاہیے ہوتی تھی اور میں اپنی بھی اسے دے دیتا تھا۔ میں ظاہر کرتا تھا کہ مجھے یہ پسند نہیں، پر سچ تو یہ تھا کہ اس کی خوشی ہی میری خوشی تھی۔"  

اس نے ہلکا سا چہرہ جھکایا۔ آنسو زمین پر گرے۔


"وہ ایڈیٹ! ہمیشہ ڈر کر میرے پیچھے چھپ جاتا تھا، چاہے کسی نے اسے مارا ہو یا کچھ کہا ہو اور میں کہہ دیتا تھا کہ تو کمزور ہے پر اصل میں تو میں کمزور نکلا۔۔۔۔ میں۔۔۔۔"  

وہ ہلکا سا ہنسا۔ کھوکھلی ہنسی۔


لایان کے آنسو گلے میں پھنس گئے۔ وہ ابھی بھی بول رہا تھا۔


"اور جب۔۔۔ اس دن میں نے۔۔۔ اس کو دیکھا تو۔۔۔ چہرہ کٹا ہوا۔۔۔ آنکھیں نہیں ملیں۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی لکیریں نہیں ملیں۔۔۔ اور میں بس دیکھتا رہا۔"  


وہ لڑکھڑاتے ہوئے کھڑا ہوا اور اچانک ہی کسی درندے کی طرح اس پر جھپٹا۔ 


زنجیریں کھینچ کر نکالیں اور اس کا بازو سختی سے پکڑے بیسمنٹ سے باہر نکلا۔ 


"زاویان چھوڑو مجھے۔"  

لایان لڑکھڑائی، چیخی۔


وہ کچھ نہیں بولا۔ اسے گھسیٹتے ہوئے حویلی کے پچھلے حصے کی طرف لے گیا۔ راستے میں ہر آنے والی چیز اس کے اعتاب کا نشانہ بن رہی تھی۔


ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اس نے لایان کو اندر دھکا دے دیا۔ وہ فرش پر گر گئی۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ زمین اور دیواروں پر جگہ جگہ سوکھے خون کے نشان تھے۔ خاموشی ایسی جو قتل کرتی ہے۔ 


وہ ٹارچر روم تھا۔


زاویان نے ایک طرف جا کر میز پر رکھی ایک فائل اٹھائی اور اس میں سے تصویریں نکال کر اس کی طرف پھینک دیں۔ 


ساری تصویریں زمین پر بکھر گئیں۔ لایان کی نظر پہلی تصویر پر گئی اور اس کی چیخ نکل گئی۔ 


وہ رایان۔۔۔ جو ہمیشہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس آتا تھا،  اسے چھیڑتا تھا، اب اس کا چہرہ خون میں لت پت تھا۔ 


"نہیں۔" 

وہ پیچھے ہٹنے لگی۔ زاویان اس کی طرف بڑھا۔


"بتاؤ اب کس کے کہنے پر ٹریپ کیا تھا تم نے اسے؟ بتاو کون تھا وہ شیطان جس نے میرے بھائی کو اس طرح کاٹ دیا جیسے وہ کوئی انسان نہیں تھا۔ بولو۔" 

وہ غرایا۔


" مجھے نہیں پتہ۔ میں نہیں جانتی۔ اللہ کی قسم۔" 

وہ رو دی۔


زاویان نے ایک اور تصویر اٹھائی اور اس کا چہرہ پکڑ کر اس کی آنکھوں کے سامنے کی۔ 


"دیکھو اس کو!"  

لایان نے دیکھا، رایان کا چہرہ اور گردن کٹی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹپٹا کر اسے دور کرنا چاہا۔ 


"مجھے مت دکھاؤ یہ۔۔ پلیز اسے ہٹاؤ۔"  

وہ کانپتے ہوئے چلائی۔


" کیوں؟ کیوں ڈر رہی ہو؟ دیکھو اسے، غور سے دیکھو۔ یہ میرا بھائی ہے۔ دیکھو تم نے مجھے اس کا یہ چہرہ دیا۔"  


لایان نے غصے سے اس کو دیکھا۔


"تم پاگل ہو چکے ہو۔" 

وہ بھاگنے لگی مگر زاویان نے اس کو پکڑ لیا۔


"چھوڑو مجھے پاگل انسان، جانے دو۔"  

اس کے الفاظ کانپے۔ 


"جانے دوں گا، بس ایک بار مجھے اس کا نام بتا دو۔"  

وہ جان لیوا سرگوشی میں بولا۔


لایان نے جھٹکے سے اس کو دور کیا اور گرتے سنبھلتے اٹھی۔ اس کا گلا پھٹ چکا تھا۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔


" مجھے نہیں پتہ!  تم سمجھ کیوں نہیں رہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں اس کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔۔ میں اس کے پیچھے نہیں تھی۔۔۔۔ میں نے اس کو ٹریپ نہیں کیا۔۔۔۔ میں اس کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔" 

وہ پاگلوں کی طرح چیخی۔


زاویان خاموش اس کے سامنے کھڑا رہا۔ اس کے اندر طوفان اٹھ رہے تھے۔ ایک عجیب سی جنگ چل رہی تھی اس کے اندر۔ 


وہ اس کو دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں کو، اس کے آنسووں کو۔ 


اس کے لفظوں کا اثر زاویان کے دل پر تھپڑوں کی طرح لگ رہا تھا۔


لیکن بھروسہ؟ نہیں۔ 

درد زیادہ تھا۔ بھروسہ کم۔ 


اگلے جھٹکے میں اس نے لایان کو بازو سے پکڑا اور گھما کر اسے دیوار سے پن کر دیا۔ 


اس کا چہرہ لایان کے اتنے قریب تھا کہ دونوں کے سانسیں ٹکرا رہی تھیں۔


وہ وہیں جم گئی۔ 


" جھوٹ بول رہی ہو تم۔ سب جھوٹ ہے۔ میرے بھائی کا قتل تم نے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا ہے۔" 

اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ گرجا۔ 

ایک بار پھر لایان کی آنکھیں بھر آئیں۔


" میں نہیں ہوں، میں نہیں تھی زاویان! میں بھی انسان ہوں۔ اگر تم چاہو تو مجھے مار دو لیکن مجھ پر یہ الزام مت لگاؤ۔"  


وہ جو سختی سے اس کے کندھوں کو دبائے کھڑا تھا فریز ہو گیا۔


کچھ لمحوں کے لیے اس کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں مسل ڈالا ہوا۔اس کے ہاتھ ایک دم ڈھیلے پڑے۔ 


وہ اب بھی اس کے سامنے تھی۔ روتی ہوئی۔ پاس۔۔۔ بہت ہی پاس۔۔۔


وہ لمحہ زہر جیسا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ لایان کی آنکھوں کا درد زاویان کے اندر کے زخموں کو ادھیڑ رہا تھا۔


" زاویان۔۔" 

دانش نے تیزی سے دروازہ کھولا۔ اس کی سانسیں پھولی ہوئیں اور چہرے پر گھبراہٹ تھی۔


"زاویان رک جاؤ۔۔۔ چھوڑ دو اسے۔"  

زاویان نے دھیرے سے دانش کو دیکھا۔ 


"وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔ اس نے کچھ نہیں کیا۔ اصلی دشمن اذان ہے۔ سب کچھ اسی نے پلان کیا تھا۔ رایان کو کڈنیپ، وہ کلیوز اور لایان کو پھنسانا۔ سب کچھ۔" 


زاویان کا دماغ بلینک ہو گیا۔ اس کے ہاتھ ابھی بھی لایان کو پکڑے ہوئے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا۔ 


"ابھی بھی بھروسہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے، پوری زندگی کے لیے قید کرتے رہو۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ میں بے گناہ تھی۔"  


زاویان نے دھیرے سے اس کو دیکھا۔ اس کے الفاظ زاویان کے دل پر کسی چاکوں کی طرح لگے تھے۔ 


اس نے محسوس کیا وہ کانپ رہی تھی۔خوف زدہ تھی۔ اس نے فورا اسے چھوڑا، ہولے سے پیچھے ہٹا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔


لایان دیوار سے لپٹی نیچے گری۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک چیز تھی۔ 


زاویان کے لیے نفرت۔

☆☆☆


صبح کی ہلکی روشنی نے کمرے کے اندھیرے کو نگل لیا تھا۔ مشال دھیرے سے بستر سے اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھی۔


اس کے پیروں میں سوجن، جسم بھاری اور آنکھوں میں خالی پن تھا۔ اس نے باتھ روم کا دروازہ لاک کر دیا۔ 


بیسن کا نل کھولا۔ پانی تیزی سے بہنے لگا۔ اس نے دونوں ہاتھ بیسن پر ٹکا دیے۔ پانی کے چھینٹے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔


اس نے چہرہ اٹھا کر آئینے میں دیکھا۔ آنکھیں سوجی ہوئیں اور سرخ، ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے، بال بکھرے ہوئے۔ 


وہ خود کو پہچان نہیں پا رہی تھی۔ اس نے نظریں ہٹائیں اور دوبارہ شیشے میں دیکھا۔ 


ایک کھوکھلی ہنسی اس کے ہونٹوں سے نکلی، جو دو پل میں آنسوؤں میں بدل گئی۔ اس نے چہرے پر زور سے پانی کے چھینٹے مارے۔ نل بند کر کے وہ واپس کمرے میں آئی۔ 


حارث بیڈ پر سو رہا تھا۔ مشال ٹھہر سی گئی۔ کافی دیر کھڑی اس کو دیکھتی رہی۔ آنکھیں عجیب سے اندھیرے میں ڈوبیں۔ 


اس کی نظر بے اختیار بیڈ کے پاس پڑے ایک گلاس کے پیپر ویٹ پر پڑی۔ اس نے دھیرے سے اسے اٹھایا۔ ہاتھ ہلکا سا کانپا۔


جیسے ہی اس نے حارث کے سر پر مارنا چاہا حارث کی آنکھ کھل گئی۔ 


وہ تیزی سے اٹھا اور ایک ہی جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر موڑ دیا۔ پیپر ویٹ زمین پر گر گیا۔


اس نے مشال کو خود کے پاس کھینچ کر بیڈ پر گرایا اور گردن پکڑ لی۔ مشال کی سانس اٹک گئی۔اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے نفرت سے حارث کو دیکھا۔


" قتل کا ارادہ تھا؟ ہمممم۔۔۔"  

حارث کے ہونٹوں پر شیطانی ہنسی آئی۔ جیسے اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہو۔ 


مشال کی آنکھیں نم ہوئیں۔ حارث  نے  ایک جھٹکے سے اس کو بیڈ سے نیچے گرا دیا۔


"یاد رکھنا مشال! نہ تم مجھے مار سکتی ہو، نہ مجھ سے بچ سکتی ہو۔"  

وہ سرسرایا۔


وہ زمین پر گری پڑی تھی۔ اس کا دماغ خالی ہو چکا تھا۔ اسے یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ کون تھی یا اس کے ساتھ کیا ہو چکا ہے۔ 


حارث نے زہر اس کے جسم میں نہیں، اس کی روح میں اتارا تھا۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے اور لاک ہونے کی آواز آئی۔


حارث جا چکا تھا اور اسے فلیٹ میں بند کر گیا تھا۔ مشال اٹھی اور پیٹھ دیوار سے جا لگی۔ آنکھیں ایک ہی نقطے پر جمی ہوئی تھیں۔ سانس بھاری، دل کی دھڑکن تیز اور دماغ بالکل ہی خالی۔


کچھ لمحوں بعد اس کا ہاتھ اٹھا۔ اس نے میز پر پڑا گلدان اٹھایا اور پوری طاقت سے اس کو دروازے پر دے مارا۔ 


شیشے کے ٹکڑے ہر طرف بکھر گئے۔ وہ آگے بڑھی اور بیڈ کی چادر نوچ کر زمین پر پھینک دی۔ 


ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں زور سے گرا دیں۔ فرش شیشے کے ٹکڑوں سے بھرتا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ تک توڑ دیا۔ 


وہ ہر چیز توڑتی جا رہی تھی جیسے اپنے اندر کی توڑ پھوڑ کو آواز دے رہی ہو۔


" کیوں؟ کیوں کیا میرے ساتھ؟" 

وہ ٹوٹی ہوئی آواز میں چیخی تھی۔ 


وہ دیوار سے لگی اور نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ بہتے گئے۔ اس نے دونوں ہاتھ سر پر رکھے اور بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا۔ 


وہ ہچکیوں سے روتی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ بالکل ہی چپ ہو گئی۔ آنسو بھی تھم گئے۔ وہ سامنے دیکھتی رہی۔ بالکل سامنے۔ 


وہ اب کچھ بھی محسوس نہیں کر رہی تھی۔ نہ تکلیف، نہ ڈر۔ بس ایک اندھیرا تھا، جو اس کے اندر گھر بنا چکا تھا۔ اس اندھیرے میں صرف ایک آواز گونج رہی تھی۔ 


" میں بچ کر نہیں جا سکتی تو مر کر جاؤں گی۔" 


جاری ہے

Comments

  1. 🥺🥺🥺 no words to explain my feeling 😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts